Showing posts with label قربانی. Show all posts
Showing posts with label قربانی. Show all posts

Wednesday, August 22, 2018

٦٨٧- اگر مجھے گیارہ، بارہ، یا تیرہ ذی الحجہ کو قربانی کرنی ہو تو میں ناخن یا بال کب کٹواؤنگا.؟


سوال - اگر مجھے گیارہ، بارہ، یا تیرہ ذی الحجہ کو قربانی کرنی ہو تو میں ناخن یا بال کب کٹواؤنگا.؟ آیا قربانی سے پہلے یعنی بعد عید نماز یا قربانی کے بعد.؟
الحمدللہ
جس شخص کے پاس جانور ہو وہ اسے قربان کرنا چاہتا ہو اور ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اس کے لیے قربانی کرنے تک بال یا ناخن کاٹنا جائز نہیں کیوں آپۖ نے فرمایا: ''مَنْ کَانَ لَہُ ذِبْح یَّذْبَحُہُ، فَاِذَا أُہِلَّ ہِلَال ذِی الْحَجَّةِ، فَلاَ یَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِہِ شَیْئاً'' (صحیح مسلم/١٩٧٧)
'' جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے جانور موجود ہواور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے لے کر قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے''۔
اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بال یا ناخن قربانی کرنے کے بعد کاٹنا ہے نا کہ نماز عید کے بعد، اب چاہے قربانی دس کو کی جائے یا گیارہ، بارہ، تیرہ کو، جب قربانی کر لے اس کے بعد ہی ناخن یا بال وغير کاٹے جائیں گے، البتہ جو شخص دو یا تین یا اس سے زائد قربانیاں کر رہا ہو تو اس کیلیے یہ حکم ہیکہ وہ پہلی قربانی کے بعد بال وغیرہ کٹوا سکتا ہے -
اب اگر کوئی شخص اس حکم کی مخالفت کرتے ہوئے بال یا ناخن کاٹ لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، لیکن اس پر کوئی فدیہ(جرمانہ) وغیرہ نہیں ہے خواہ اس نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا ہو۔ (فتاویٰ اسلامیہ /فتویٰ کمیٹی ٤١٩)
اس متعلق مزید تفصیلات کیلیے ہمارے ویب سائٹ پر موجود جواب نمبر (204). ( 205) ، اور (206) کا مطالعہ کریں
واللہ اعلم

Tuesday, August 21, 2018

٦٤٣-بھینس کی قربانی کا حکم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال- بھینس کی قربانی کرنے کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے.؟

الحمدللہ

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا فتوی​
اونٹ،گائے،بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ
بھینس گائے کی ایک قسم ہے،اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے​
امام ابن المنذر فرماتے ہیں:’’ واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر‘‘ اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔(الاجماع کتاب الزکاۃ ص۴۳حوالہ:۹۱)
ابنِ قدامہ لکھتے ہیں:’’ لا خلاف فی ھذا نعلمہ‘‘ اس مسئلے میں ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں۔(المغنی ج۲ص۲۴۰مسئلہ:۱۷۱۱)
زکوۃ کے سلسلے میں،اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھینس گائے کی ہی ایک قسم ہے۔ تا ہم چونکہ نبی کریمﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے صراحتا بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں لہذٰا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ صرف گائے،اونٹ،بھیڑ اور بکری کی ہی قربانی کی جائے اور اسی میں احتیاط ہے۔

واللہ اعلم​

( فتاوی علمیہ المعروف توضیح الاحکام جلد دوم ص181)

مزید تفصیلات کیلیے بھینس کی قربانی ایک علمی جائزہ کا مطالعہ کریں

Wednesday, August 15, 2018

٤٣٩- کیا شریعت نے قربانی کا کوئی نصاب مقرر کیا ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: کسی عورت کے پاس اگر سات تولہ زیور ہو تو کیا اس عورت پر قربانی فرض ہوگی.؟ برائے مہربانی اطمینان بخش جواب دیجیے

الحمدللہ

راجح موقف یہی ہیکہ قربانی کرنا فرض نہیں ہے، جس کو اللہ نے استطاعت دی ہے اسے چاہیے کہ وہ قربانی کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، لیکن اگر وہ قربانی نہیں کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، قربانی کا مسئلہ زکوٰۃ کی طرح نہیں ہے اور نا ہی قربانی کیلیے شریعت مطہرہ نے کوئی نصاب مقرر کیا ہے، جس طرح زکوٰۃ ہر صاحب نصاب پر فرض کیا گیا ہے اور نہ دینے پر وعید بھی سنائی گئی ہے، ایسا قربانی کے ساتھ نہیں ہے، قربانی کیلیے بس اتنا ہی کہا گیا ہیکہ جو استطاعت مند ہو اسے چاہیے کہ وہ قربانی کرے-

تفصیلات کے لیے جواب نمبر 154، 180 اور 184 کا مطالعہ کریں-

واللہ اعلم

Saturday, August 11, 2018

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور ان میں سے بعض لوگ بقرہ عید کو مرغ کی قربانی کرتے ہیں۔اور اس میں احیاء سنت کا ثواب جانتے ہیں۔اور کہتے ہیں کے امام ابن حزم جو بڑے عظیم الشان محدث فقیہ مجدد وقت فخر الندلس تھے۔اس کے مجوز تھے۔کیا یہ بات صحیح ہے یا غلط ہے؟اگر صحیح ہے تو قرآن وسنت میں اس کا ثبوت کیاہے۔اورجماعت اہل حدیث کا اس پر عمل کیوں نہیں ہے۔بلکہ بعض اہل حدیث علماء اُس کو منع کرتے ہیں۔

1،۔عموم سے مراد یہ آیت ہے۔قرآن

اس عہد کی تمام سواریوں کا ذکر کر کے فرمایا پیدا کرے گا وہ سواریاں جو تم نہیں جانتے۔

الحمد للہ

واضح ہو کہ قرآن کریم، سورۃ حج میں ہے کہ قرآن
اس عہد کی تمام سواریوں کا ذکر کر کے فرمایا پیدا کرے گا وہ سواریاں جو تم نہیں جانتے، کا ذکر فرمایا ہے۔بهيمة الانعام اطلاق قرآن وحدیث کی زبان میں بھیڑ۔بکری گائے بھینس اونٹ اور دنبہ پر آیا ہے۔اور یہ ازواج ثمانیہ ہیں۔جن کا ذکر سورہ انعام میں ہے۔بروئے قرآن وحدیث قربانی انھیں جانوروں سے مخصوص ہے۔عہد نبویﷺ او ر قرن سلف و خلف اہل اسلام میں بالاجماع تعامل انہی جانوروں کی قربانی پر چلا آیا ہے۔اور یہی سنت ابراہیمی ہے۔)زاد المعادجز اول ص 328 افضل رفی ہدیہ )میں ہے۔
یعنی حرم کی قربانیاں اور خانگی قربانیاں اور عقیقہ یہ سب ان چوپایوں کے ساتھ مخصوص ہیں جو سورہ انعام میں مذکور ہیں۔نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے عہد میں ان جانوروں کے سوا کسی جانور کی قربانی ثابت نہیں ہے۔درایہ تخریج ہدایہ ص 326 میں ہے۔
یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے قربانی اُونٹ گائے بکری کے بغیر منقول نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے جواب نمبر (230) کے جواب کا مطالعہ کریں

ان کی قربانی جامع صحیح بخاری کی احادیث سے ثابت ہے۔اور ان کے علاوہ غیر جنس کے جانوروں کی قربانی صحیح بخاری یا کتب صحاح کی حدیثوں سے ثابت نہیں ہے۔بلکہ ممانعت آئی ہے۔چنانچہ ارشاد ہے۔
لا تزبحواالامسنة الا ان يعسر عليكم فتزبحو جذعة من الضان
یعنی دو دانت جانور کے بغیر کسی کو ذبح نہ کرو اگر دو دانت والامیسر نہ ہو تو آٹھ دس ماہ کا میڈھا قربانی کر دو۔
پس پرندے مرٖغ وغیرہ نہ مسنہ ہیں نہ جزع ہیں اس لئے منع ہیں مرغ کی قربانی کا ثبوت نہ کسی نص قطعی الثبوت اورقطعی الاثبات سے نہیں اور نہ قرون ثلاثہ میں اس پر تعامل پایا گیا ہے۔اس کو سنت قرار دینا جہالت ہے۔جس سے بچنا واجب ہے۔کیونکہ سنت وہ کام ہے جس پر نبی کریمﷺ اور خلفاءراشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین کا تعامل پایا گیا ہے۔

جیسا کہ حدیث فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين سے ظاہر ہے۔جن جانوروں کی قربانی شعائر اللہ میں شعار ہے وہ ازواج ثمانیہ ہیں جن کا زکر ہوچکا ہے۔مرغ کی قربانی شعائر اللہ میں داخل نہیں نہ یہ ہدی میں ذبح ہوا اور نہ اضحیہ اور نہ عقیقہ میں یہ بعد رائے سے ایجاد کیا گیا ہے۔کہ اس کی قربانی مشروع ہے۔حالانکہ یہ قرآن کا مصداق ہے۔قرآن مجید میں حاجی کیلئے جو قرآن کا حکم وارد ہے۔اس کی تفسیر بھی اونٹ ۔گائے۔بکری۔سے کی گئی ہے۔(جامع البیان)

مجوزین کا استدلال اور اس پر تنقید​
جو مدعیان عمل بالحدیث مرغ کی قربانی کے مجوزہیں۔وہ اپنے دعویٰ کے اثبات میں تلخیص کے والہ سے حضرت ابو ہریرہ کا اثر پیش کرتے ہیں جس سے یہ دعوٰی ثابت نہیں ہے۔کیونکہ یہ اثر بے سند ہے۔جوحجت نہیں ہے۔تلخیص میں تو اس کا ابوہریرہ کی طرف نسبت کرنا ہی مخدوس ہے الفاظ اس کے یہ ہیں۔
وعن ابي هرهرة انه ضحي بذالك و في نسخة بديك
(تلخیص الجیر جلد 2 ص 384)
یعنی اس اثر ابی ہریرہ کے الفاظ ضحي آگے دو نسخے ہیں ایک میں بذالک اوردوسرے میں بدیک ہے۔جس مشار الیہ لفظ ۔خیل ہے جو اس سے پہلے سہیلی کی ایک غیر معروف روایت میں وارد ہے۔اگردیک کانسخہ درست ہے۔تو اس میں مرغ کا ذکر ہے۔مگر یہ تصحیف ہوگا جو بذالک کا بدیک بن گیا۔جب یہ شبہ پر گیا تو استدلال ساقط ہوا۔
اذا الاحتمال بطل الاستدلال
دوسرا ثبوت اسی اثر کا سبل السلام سے پیش کیا جاتا ہے۔کہ وہاں عبارت یوں ہے۔
وما روي عن ابي هريرة انه ضحي بديك
یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ انہوں نے مرغ قربانی دیا سبل السلام کوئی حدیث کی کتاب نہیں ہے۔صرف بلوغ المرام حدیث کی کتاب کی شرح ہے۔جس کے شارح علامہ اسماعیل امیر ہیں انہوں نے یہ الفاظ تلخیص ہی سے غالباً نقل کیے ہیں۔کیونکہ سوائے تلخیص کے کسی معتبر کتاب میں روایت نہیں پائی گئی۔لہذا اس میں لفظ بدیک مخدوش ہے۔پھر اگر اس لفظ کو بدیک ہی تسلیم کیاجائے تو بھی یہ اثر قبول نہیں کیونکہ بلا اسناد نقل کیا گیا ہے۔

1۔آٹھ دس ماہ کا میڈھا قول مرجوح ہے اور ایک سال کا میڈھا قول صحیح ہے۔جیس کہ شروح حدیث میں ہے۔(سعیدی)

یہ ضابطہ محدثین میں مسلم ہے کہ کوئی حدیث با اثر صحابی بلا اسناد مقبول نہیں۔اہل بدعت میں کئی آثار مشہور ہیں۔اوربعض روایات کتب فقہ میں اور شروح اور حواشی میں بصیغہ مجہول لفظ روی سے منقول ہیں۔ جن کی کوئی سند نہیں ہے۔اس لئے وہ قابل التفات ہیں جو لوگ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اثر کو حجت سمجھتے ہیں۔ان کو چاہیئے کہ اس کی اسناد پیش کریں۔دونہ خرط التفات نہیں جب سند پیش ہوگی تو پھر غور کیا جائے گا۔کہ وہ صحیح ہے۔یا ضعیف ہے۔اسی طرح سہیلی کی روایت ناقابل اعتبار ہے۔ جو بغیر سند ہے لہذا امام رافعی کا یہ فرمان سولہ آنہ درست ہے۔
تلخیص بحوالہ مذکور ۔یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے اونٹ ۔گائے۔بکری کے بغیر کسی جانور کی قربانی ثابت نہیں۔
پس یہ کہہ کر حافظ ابن حجر نے جو اس اجماع پرقابل نظر ہے جلد نمبر 10 ش نمبر3 وہ ناکام رہا۔اور یہ مضبوط قلعہ تعامل اجماعی کا بدستور قائم ہے یہی وجہ کہ درایہ میں حافظ نے اس قلعہ میں پناہ لیکر اتفاق کر لیا ہے۔کما تقدم اکر بالغرض یہ اثر درست ہو تو حجت نہیں کیونکہ اثر ہے۔جو قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث میںبهيمة الانعام کی قربانی وارد ہے۔مرغ کا قربانی یا عقیقہ میں ذبح کرنا ثابت نہیں۔اول اثر ہے ۔۔۔دوم بلاسندہے۔۔۔۔سوم کسی مستند کتاب میں صحیح الفاظ سے ثابت نہیں۔۔۔تو پھر یہ قابل استدلال کس طرح ہوسکتا ہے۔اوراس پر سنیۃ کا دارومدار کس طرح رکھا جاسکتا ہے۔؟

دوسری دلیل​

محلی ابن حزم سے یہ منقول ہے کہ(محلی جلد 7 ص 358)​

یعنی بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں مرغ قربانی کردوں تو کوئی پروا نہیں اور اگر قربانی کے جانور کی قیمت لے کر کسی مفلس تنگ دست پر صدقہ کردوں تو یہ مجھے قربانی زبح کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔
دوسری دلیل پر جرح​

یہ قول بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مثبت دعویٰ نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں نہ تومرغ قربانی میں زبح کرنے کا زکر ہے۔اور نہ حکم ہے کہ مرغ قربانی کر دو۔بلکہ اس میں لفظ لو کے ساتھ کلام کی گئی ہے۔جس کو تمنا کے معنی میں استعال کیا گیا ہے۔تمنا کے معنی میں لو کا ستعمال آجاتا ہے جس سے تمنا کا مفہوم سمجھا جاتا ہے۔فعل تمنا زکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔پس۔مقصد حضرت بلال کاقربانی کا عدم وجوب ظاہر کرنا ہے۔کہ قربانی معروف مخص تطوع ہے فرض نہیں اگر مرغ قربانی کر دیتا تو پروانہ تھی۔اورقیمت قربانی کی صدقہ کر دیتا تو کیا پرواہ تھی۔یہ بھی اچھا ہوتا۔چنانچہ اس پر حضرت بلال کا آخری کلام دلالت کر رہا ہے

حضرت ابن عباس کا اثر​

اورحضرت ابن عباس کا یہ اثر دال ہے۔کہ
یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام کودودرہم دیئے کہ ان کے ساتھ گوشت بازار سے خرید لائو او ر جو شخص تم کو ملے ا س کو یہ کہہ دو کہ یہ ابن عباس کی قربانی ہے۔
اس کا مطلب بھی یہی ہے۔کہ قربانی معروف فرض نہیں تطوع ہے۔عید کے دنگوزت خرید کرنا اور اس کو صدقہ کر دینا ثواب ہے جیسے کوئی تنگ دست حجامت بنوالے اور عید کے بعد حجامت بنوائے تو قربانی کا ثواب ہے۔ لیکن اصل قربانی نہیں ہے۔یہ ایسے ہے جیسے کہا جائے ماں باپ کی طرف دیکھنا حج کرنا یہ اصل حج نہیں ہے۔با لو شرطیہ ہے یہ جب ماضی داخل ہوتاہے۔تو تعلیق فی الماضی کے لئے آتا ہے۔جہاں صرف جزاء کے وجود کو پختہ کرنا مقصود ہے خواہ۔شرط موجود ہویا مفقود ہو تو یہاں بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قربانی سے لاپراوائی ظاہر کرنا ہے کہ یہ فرض نہیں ہے۔اگر میں مرغ قربانی میں زبح کر دیتا یا اس قربانی کی قیمت ہی کسی غریب کو دے دیتا تو کوئی مضائقہ نہ ہوتا یہ تعلیق ہے جس پر نہ عمل ملال نے کیا اور نہ کسی اور نےکیا جیسے حدیث میں ہے کہ
تصدقو ا ولو بظلف محرق
یعنی صدقہ دو اگرجہ جلا ہوا پایہ بکری ہو۔الغرض ما کنت اُبالی کہہ کر مرغ قربانی کرنے اور قیمت قربانی دینے کویکساں بنانے کی تمنا ظاہر کی ہے۔جیسے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ
ما ابالي شربت الخم او عبدت هذه السارية دون الله
یعنی میں پروا نہیں کرتا کہ شراب نوش کروں یا اس ستون کی پوجاکروں یکساں گناہ ہے۔اس سے گناہ میں یکساں ظاہر کرنا ہے۔نہ کہ اصل حکم کہ ایک فسق ہے اور دوم شرک ہے ۔مقصد دونوں سےبچنا ہے اسی طرح حضرت بلال کا مطلب نہ مرغ کوقربانی کرنا ہے اورنہ قیمت دینا ہے اس سے اصل مقصد قربانی کی فرضیت سے انکار ہے۔اگر اس سے تعلیق فی الماضی سے سنیت کا ھکم ثابت کیاجئے توقربانی نہ کرنا اور اکی قیمت دینابھی مسنون اورمشروع ہوگا اورگوشت خرید کر دینا بھی سنت ہوگا۔ جس سے ملحدین کی بات صحیح ثابت ہوگی۔ جو کہتے ہیں کہ قربانیاں نہ کرو اہراق دم ضروری نہیں قیمتیں صدقہ کردو کہ مہاجرین بہت حاجت مند ہیں۔

چڑیا کی قربانی​

نیز عقیقہ میں چڑیا کرنا بھی جائز ہوگا۔کیونکہ موطا امام مالک باب استحباب عقیقہ میں ہے۔کہ ابراہیم بن حارث تیمی نے کہا۔
مستحب العقيقة ولو بعصفور
یعنی عقیقہ مستحب ہے۔اگرچہ چڑیا زبح کردو۔تو کیا چڑیا بھی عقیقہ یا قربانی میں زبح کی جاسکتی ہے۔؟

آخری دلیل​

ایک دلیل فضیلت جمعہ میں حدیث ساعات پیش کرتے ہیں۔کہ اس میں
كانما قرب دجاجة
وارد ہے کہ جو چہارم ساعت میں آئے اس کو مرغی قربانی دینے کا ثواب ہے۔ اس حدیث میں مرٖغی قربانی دینے کا مطلب مرغی صدقہ کرنے کاہے۔نیل الاوطار میں ہے۔
اي تصدق بها
کہ اس کو صدقہ کیا اگر قربانی مشہور مراد ہے تو پھر بکروں بھیڑوں کی جگہ انڈے قربانی ہونے لگیں گے۔ کیونکہ اس حدیث میں یہ ہے کہ
فكا نما قرب بيضة
پانچویں ساعت میں انڈا قربانی کرنے کاثواب پائے گا۔مرغ کی قربانی ثابت نہیں۔اور نہ اس پر سلف کاتعامل ثابت ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہےکہ ابن حزم گو بہت بڑے عالم ہیں۔مگر ان کی کوئی بھی بات نصوص قطعیہ کے خلاف اجماع کے خلاف مانی نہیں جا سکتی ان عاملین بالرائے کو جان لینا چاہیے کہ علامہ ابن حزم نے قریش کی ثابت کر کےغیر قریش کی امارت کو باطل قرار دیا۔اگر اس کو ہم نے مان لیا تو پھر مرغی والوں کی عمارت کا کارخانہ ہی منہدم ہوجائے گا۔ اسی طرح ابن حزم نے مدرک رکوع کو رکعات کے اعادہ کا وجوباً ورنہ نماز باطل ہے۔یہ بھی ماننی ہوگی اگر نہیں توقربانی مرغ میں ان کی بے دلیل بات کیسےمانی جاسکتی ہے۔؟
اور آجکل موسیقی کےجواز میں ابن حزم کو بڑے شدومد سے عیاش اور بے دین لوگ پیش کررہے ہیں۔کہا یہ حضرات موسیقی کے جواز کا بھی فتویٰ دے دیں گے۔؟
(الاعتصام جلد 10 ش 20)​
فتاویٰ علمائے حدیث​
جلد 13 ص 74-80​

واللہ اعلم

٢٣٤-قربانی خریدی تواس نے بچہ جن دیا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے قربانی کے لیے بکری خریدی توذبح کرنے سے کچھ دیر قبل اس نے بچہ جن دیا اب میں اس کے بچے کا کیا کروں ؟

الحمد للہ

کسی جانورکا قربانی کی نیت سے خریدنا یا اس کی تعیین کرنے سےہی قربانی کے لیےجانور متعین ہوجاتا ہے ، لھذا جب اس کی تعیین ہوجائے اورذبح کرنے سے قبل وہ بچہ جن دے توبچے کوبھی اس کے تابع ہوتے ہوئے ذبح کردیا جائے گا ۔
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے

٢٣٣-اگر قربانى كا جانور متعين كر دينے كے بعد عيب دار ہو جائے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں نے قربانى كا جانور خريدا اور جب ذبح كرنے لگے تو وہ چھلانگ لگا كر چھت سے نيچے كود گيا تو ہم نے اسے مرنے سے قبل ہى جا كر ذبح كر ديا، تو كيا اس طرح قربانى ادا ہو گئى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

جب انسان قربانى كا جانور متعين كر دے اور پھر اس ميں بغير كوتاہى كيے خود بخود ہى كوئى عيب پيدا ہو جائے اور قربانى كے وقت اسے ذبح كر ديا جائے تو اس كى قربانى ادا ہو جاتى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب قربانى ہر قسم كے عيوب سے سليم حاصل كر لى جائے اور پھر اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے جو اس كے مانع عيوب ميں شامل ہوتا ہو تو وہ اسے ذبح كرے تو اس كى قربانى ہو جائيگى، عطاء، حسن، نخعى، زھرى، ثورى، مالك، شافعى، اسحاق رحمہم اللہ سے يہى مروى ہے" انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 13 / 373 ).

اس كى دليل بيھقى كى درج ذيل حديث ہے:

ابن زبير رضى اللہ تعالى عنہما كى قربانيوں ميں ايك كانى اونٹنى آئى تو انہوں نے فرمايا:

" اگر تو اسے يہ عيب تمہارے خريدنے كے بعد پيدا ہوا ہے تو پھر اسے قربانى كے جانوروں ميں ہى رہنے دو، اور اگر خريدنے سے قبل تھا تو اس كو تبديل كر دو "

امام نووى رحمہ اللہ نے المجموع ( 8 / 328 ) ميں اس كى سند كو صحيح كہا ہے.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " احكا الاضحيۃ " ميں قربانى كا جانور متعين كرنے كے بعد اس پر مرتب ہونے والے احكام كا ذكر كرتے ہوئے لكھتے ہيں:

" جب اس ميں كوئى ايسا عيب پيدا ہو جائے جو قربانى كرنے ميں مانع ہو تواس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

يہ عيب اس كے فعل يا پھر كوتاہى كى بنا پر پيدا ہوا ہو تو اس صورت ميں اس جانور كو تبديل كرنا واجب ہے، اور مكمل اسى طرح كى صفات كا حامل جانور حاصل كرنا ضرورى ہے يا اس سے بہتر؛ كيونكہ وہ عيب اس كى وجہ سے پيدا ہوا ہے اس ليے اسے اس كے بدلے اسى طرح كا جانور ذبح كر كے نقصان پورا كرنا ہوگا، اور صحيح قول كے مطابق وہ عيب دار جانور اس كى ملكيت ہو گا وہ اسميں جو چاہے تصرف كر سكتا ہے چاہے اسے فروخت كرے يا نہ كرے.

دوسرى حالت:

اس ميں عيب اس كى وجہ سے پيدا نہ ہوا ہے اور نہ ہى اس كى كوتاہى كى بنا پر ہو تو وہ اسے ذبح كردے تو قربانى ہو جائيگى، كيونكہ وہ اس كے پاس امانت تھى اور اس ميں اس كى كوتاہى كے بغير ہى عيب پيدا ہوا ہے تو اس ميں كوئى حرج اور ضمان نہيں ہوگى " انتہى.

دوم:

قربانى كے جانور كى تعيين كيسے ہو گى ؟

قول كے ساتھ ہى قربانى كے جانور كى تعيين ہو جائيگى مثلا كوئى شخص كہے كہ يہ قربانى كا جانور ہے.

اور قربانى كى نيت سے جانور خريدنے كے متعلق بعض علماء كہتے ہيں كہ اس طرح بھى تعيين ہو جاتى ہے، ان ميں امام ابو حنيفہ اور امام مالك شامل ہيں، اور امام شافعى كہتے ہيں كہ اس طرح تعيين نہيں ہو گى.

اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے كہ قربانى كرنے كى نيت سے جانور خريدنا بھى تعيين ہے.

كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

" قربانى كرنے كى نيت سے جانور خريدنے يا پھر اس كى تعيين كرنے سے بھى قربانى كى تعيين ہو جاتى ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 402 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" اور جب قربانى كا جانور خريدے اور ذبح كرنے سے قبل اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے تو علماء كرام كے ايك قول كے مطابق وہ اسے ذبح كر لے " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 26 / 304 ).

تو اس بنا پر جب آپ نے قربانى كا جانور قربانى كرنے كى نيت سے خريدا اور آپ كى كسى كمى و كوتاہى كے بغير عيب دار ہو گيا تو اس كى قربانى ہو جائيگى، ان شاء اللہ.

واللہ اعلم

٢٣٢-چاند نظرآنے کےبعد جب کوئي اپنے بال مونڈے تواس کایہ کام غلط ہے لیکن اس کی قربانی صحیح ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب اس نے ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہونے کےبعد اپنے بال مونڈ لیے توکیا اس کی قربانی صحیح اورقبول ہوگي اس نے قربانی کی بھی نیت کررکھی تھی ؟

الحمدللہ

شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

جی ہاں اس کی قربانی مقبول ہوگي لیکن وہ گنہگار ہوگا ، لیکن عام لوگوں میں جویہ مشہور ہوچکا ہے کہ جس نے بھی عشرہ ذی الحجہ میں اپنے بال یا ناخن وغیرہ کاٹ لیے اس کی قربانی ہی نہيں ہوتی یہ بات صحیح نہیں ، کیونکہ ان تینوں اورقربانی کے صحیح ہونے میں کوئي تعلق ہی نہيں پایا جاتا ۔ اھـ دیکھیں الشرح الممتع لابن عثیمین رحمہ اللہ ( 7 / 533 ) ۔

واللہ اعلم

٢٣١-قربانی کرنے والے کے اہل وعیال عشرہ ذی الحجہ میں اپنے بال اورناخن وغیرہ کاٹ سکتے ہیں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب مرد نے قربانی کرنی ہوتوکیا اس کی بیوی اوربچوں کے لیے ذی الحجۃ کا چاند نظر آنے کےبعد اپنےبال اورناخن وغیرہ کاٹنے جائز ہیں ؟

الحمد للہ
جی ہاں ایسا کرنا جائز ہے ، اورسوال نمبر ( 206 ) کے جواب میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ قربانی کرنے والے شخص کےلیے اپنے بال اورناخن یا جسم کے کسی بھی حصہ سےکچھ کاٹنا حرام ہے ، اوریہ حکم صرف قربانی کرنے والے کے ساتھ خاص ہے جس نے قربانی کرنی ہو، آپ اس کی تفصیل وہاں دیکھ سکتے ہیں۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

اورقربانی کرنے والے کے اہل وعیال پرکچھ نہیں ، اورعلماء کرام کے صحیح قول کے مطابق انہیں بال اورناخن کاٹنے سے منع نہيں کیا جائيگا ، بلکہ یہ حکم توصرف قربانی کرنے والے کے ساتھ خاص ہے جس نے اپنے مال میں سے قربانی خریدی ہے ۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی اسلامیۃ ( 2 / 316 ) ۔

اوراللجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) کے فتوی میں ہے کہ :

جوشخص قربانی کرنا چاہے اس کے حق میں یہ مشروع ہے کہ وہ ذی الحجۃ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اورناخن اپنے جسم کےکسی بھی حصہ سے کوئي بھی چيز نہ لے ، اس کی دلیل امام بخاری کے علاوہ محدثین کی ایک جماعت کی روایت کردہ مندرجہ ذیل حدیث ہے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اورتم میں سے کوئي ایک قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتووہ اپنے بالوں اورناخن ( کے کاٹنے ) سے رک جائے ) ۔

اورابوداود اورمسلم کے الفاظ یہ ہیں :

( جس کے پاس ذبح کرنے کے لیے کوئي قربانی ہو توجب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تووہ قربانی ذبح کرنے تک وہ اپنے بال اورناخن نہ کاٹے )

سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2791 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1977 )

چاہے وہ قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے یا پھر اسے ذبح کرنے میں کسی اورکووکیل بنائے ، لیکن جس کی جانب سے ذبح کی جارہی ہے اس کےحق میں مشروع نہيں ، کیونکہ اس میں کوئي چيز وارد نہيں ۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 397 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " الشرح الممتع میں کہتےہیں :

جس کی جانب سے قربانی کی جارہی ہے اس کےلیے ( بال وغیرہ ) کاٹنے میں کوئي حرج نہيں ، اس کی دلیل مندرجہ ذيل ہے :

1 - حدیث کا ظاہر یہی ہے کہ یہ حرمت صرف قربانی کرنے والے کے ساتھ خاص ہے ، تواس بنا پرتحریم گھر کے سربراہ کے ساتھ مختص ہوگی ، لیکن اہل وعیال پریہ حرام نہيں ہوگا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم قربانی کرنے والے کےساتھ معلق کیا ہے ، لھذا اس کا مفھوم یہ ہوا کہ جس کی جانب سے قربانی کی جارہی ہے اس کےلیے یہ حکم ثابت نہيں ہوتا ۔

2 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے اہل وعیال کی جانب سے قربانی کیا کرتے تھے لیکن ان سے یہ یہ منقول نہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کوبھی یہ فرمایا ہو ، تم اپنے بال اورناخن اورجسم کےکسی بھی حصہ سے کچھ بھی نہ کاٹو ، اگران پریہ حرام ہوتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم انہيں اس سے منع کرتے ، اور راجح قول یہی ہے ۔ اھـ

دیکھیں : الشرح الممتع لابن عثیمین رحمہ اللہ ( 7 / 530 )

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...