Showing posts with label آداب. Show all posts
Showing posts with label آداب. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

٨٥٧-پاؤں کے قبلہ رخ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ

پاؤں کے قبلہ رخ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ
ماخوذ از​
مقالات راشدیہ ( جلد 1 ص 293 تا 296 )​
مؤلف : ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ​
( ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں ایک مضمون مولانا عبد القیوم صاحب کا شائع ہوا جنہوں نے ایک دو احادیث سے ثابت کرنے کی سعی کی کہ قبلہ رخ پاؤں کرنا صحیح نہیں ہے تو شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس مضمون کا جواب لکھا تھا ۔ الأزہری )​
'' الاعتصام '' مورخہ 23 نومبر 1990 ء میں مولانا عبد اللہ صاحب قصوری کا مضمون بعنوان بالا نظر سے گزرا ۔​
افسوس ہوا کہ مولانا نے اس مضمون میں تحقیق سے کام نہیں لیا ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر عنوان کو پڑھ کر یہ خیال ہوا کہ دیکھیں کیا کچھ اس میں ہوگا لیکن دلائل کو دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی ۔​
تفصیل ملاحظہ ہو :​
(اول )
1۔۔۔ سنن دارقطنی جلد 2 سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع روایت ذکر کی گئی ہے سنن دارقطنی اور سنن کبریٰ بیھقی میں جو روایت ملی وہ یہ ہے : 
”حدثنا إبراهيم بن محمد بن علي بن بطحا ثنا الحسين بن زيد بن الحكم الجبري ثنا حسن بن حسين العرني حدثنا حسين بن زيد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن حسين عن الحسين بن علي عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يصلي المريض قائما إن استطاع فإن لم يستطع صلى قاعدا فإن لم يستطع أن يسجد أومأ وجعل سجوده أخفض من ركوعه فإن لم يستطع أن يصلي قاعدا صلى على جنبه الأيمن مستقبل القبلة فإن لم يستطع أن يصلي على جنبه الأيمن صلى مستلقيا ورجلاه مما يلي القبلة “ (سنن دارقطنی کتاب الوتر، باب صلاة المريض ومن رعف في صلاته كيف يستخلف )
مگر اس روایت میں وجہ استدلال موصوف کی کیا تھی، یہ واضح نہیں ، اور قبلہ رخ ہونے کی نہیں اس سے قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ جبکہ سند کا مرحلہ اگلا ہے ۔

مولانا نے اس حدیث کا ترجمہ کردیا اور اور سند کے متعلق ایک حرف بھی تحریر نہیں فرمایا حالانکہ سند کی تحقیق اور اس کی صحت و حسن کے یقین کے بغیر کسی حدیث کو معرض استدلال میں پیش کرنا علماء کی شان سے بعید ہے ۔​
حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث بالکل ضعیف ہے ۔ مولانا صاحب سنن دارقطنی کی اس روایت کے متعلق صرف صاحب '' التعلیق المغنی '' کی عبارت کو دیکھنے کی زحمت گوارا فرماتے تو اس طرح اس حدیث کو بلا سند کی تحقیق کے تحریر فرما کر چلے نہ جاتے اگر خدانخواستہ انہوں نے مولانا عظیم آبادی کی تحقیق ملاحظہ فرمائی پھر بھی دانستہ اس علت سے تغافل برت کر چلے گئے تو​
فإن كنت لا تدري فتلك مصيبة ، و إن كنت تدري فالمصيبة أعظم​
معاملہ اور بھی سنگین بن جاتا ہے ۔​
گو مولانا کی ذات سےحسن ظن ( کیوجہ سے ) ہمیں اس شق کے ماننے میں تامل ہے ۔​
بہر حال صاحب '' التعلیق المغنی '' فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی تو حسین بن زید ہے جس کو امام علی بن المدینی نے ضعیف کہا ہے ۔ حافظ ابن حجر لسان المیزان میں ''حسن بن حسین عرنی '' کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ : ''حسین بن زید لین أیضا '' یعنی حسین بن زید بھی کمزور ہے ۔ دوسرا راوی اس کی سند میں '' حسن بن حسین العرنی '' ہے اس کا ترجمہ بھی حافظ ابن حجر کی کتاب لسان المیزان میں موجود ہے جس معلوم ہوتا ہے کہ وہ متروک ہے ۔​
حافظ صاحب نے چند ائمہ حدیث مثلا ابو حاتم ، ابن عدی ، ابن حبان وغیرہم سے ان کو غیر صدوق اور غیر ثقہ کہا اور اسی اللسان میں اس راوی کی چند منکر احادیث ذکر کی گئی ہیں اور ان میں اس حدیث کو بھی ذکر کیا ہے جو مولانا نے دلیل کے طور پر ذکر فرمائی ہے ۔​
حدیث کے اختتام پر حافظ صاحب فرماتے ہیں :​
و هو حديث منكر اور یہ حدیث منکر ہے ۔ اور پھر حسین بن زید کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ وقال ابن عدي : منكر الحديث عن الثقات و يقلب الأسانيد یعنی حسین بن زید ثقات راویوں سے منکر روایات لاتا ہے اور اسانید کو بدل دیتا ہے ۔​
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں ایک تیسرا راوی '' حسین بن الحکم الحیری '' ہے اور وہ بھی غیر معروف ہے ملاحظہ ہو '' لسان المیزان للحافظ ابن حجر ''​
بہر حال یہ روایت شدید الضعف ہے اس لیے کہ اس کی سند میں تین راوی ہیں : ایک ضعیف ہے دوسرا متروک ہے اور تیسرا غیر معروف ہے ۔​
اصول حدیث سے ممارست رکھنے والے جانتے ہیں کہ متروک راوی کی روایت کو نہ تو شواہد و متابعات تقویت پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی ایسے راوی کی روایت کسی دوسری تھوڑے سے ضعف کی حامل کو ہی تقویت دے سکتی ہے ۔ یعنی ایسے راوی کی روایت نہ تو جابر بن سکتی ہے نہ مجبور ۔ اس روایت میں تو متروک راوی کے علاوہ بھی دو راوی ضعیف ہیں لہذا اس کے ضعف میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو امام نووی نے بھی ضعیف قراردیا ہے جیساکہ مولانا عظیم آبادی نے '' التعلیق المغنی '' میں تحریر فرمایا ہے اور حافظ ابن حجر نے منکر قرار دیا ہے جیساکہ لسان المیزان کے حوالہ سے گزر چکا ہے ۔​
امام بیہقی نے بھی اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ '' السنن الکبری '' کے جلد 2 ص 307 میں اس حدیث کے اوپر اس طرح عنوان منعقد فرماتے ہیں :​
(( باب ما روي في كيفية الصلوة على الجنب أو الاستلقاء وفيه نظر ))​
خط کشیدہ الفاظ میں اس روایت کی تضعیف کی طرف اشارہ ہے ۔​
جب ائمہ حدیث نے اس حدیث کو ضعیف اور منکر قرار دیا ہے تو ایسی ناکارہ روایت کو لے کر دلیل کے طور پر پیش کرنا مولانا کو زیب نہیں دیتا ۔​
(دوم )
دوسرے نمبر پر مولانا نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک اثر سنن دارقطنی سے نقل فرمایا ہے یہ اثر سنن کبری للامام البیہقی وغیرہ میں بھی ہے ۔ لیکن اس کی سند میں یہی ایک راوی ابو بکر بن عبید اللہ بن عمر ہے جو اپنے والد عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے اور اس راوی ( ابو بکر بن عبید اللہ بن عمر ) کا ترجمہ ہمیں کہیں نہیں ملا ۔​
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم ، كتاب الثقات للعجلي ، كتاب الثقات لابن حبان ، تقريب التهذيب و تهذيب التهذيب لابن حجر وغيرها کو دیکھا لیکن یہ نام ہی نہیں ملتا ۔​
جب اس اثر کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے تو اس کو معرض استدلال میں کیسے پیش کیا جاسکتا ہے ۔​
(سوم )
تیسرے نمبر پر مولانا نے متن کے الفاظ درج کیے ہیں نہ یہ لکھا کہ مرفوع ہے یا موقوف ہے ۔​
مرفوع ہونے کی صورت میں اس کو روایت کرنے والا کونسا صحابی ہے اور موقوف ہونے کی حالت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس صحابی کا قول ہے ۔ یعنی ان باتوں کے متعلق کچھ بھی تحریر نہیں فرمایا گیا پھر نیچے تحریر فرماتے ہیں '' کتاب بالا ، باب صلوۃ المریض ص 33 '' ۔​
اوپر سنن دارقطنی کا ذکر ہے لیکن اس کے اس صفحہ یا اثر ابن عمر والے صفحہ پر تو اس قسم کی کوئی روایت نہیں لہذا اس کے متعلق ہم کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ آگے پھر ہدایہ ، کنز الدقائق ، غنیۃ الطالبین اور '' در مختار '' کی عبارات نقل کی ہیں ۔ لیکن کتب کوئی حجت نہیں ہیں حجت تو صرف کتاب اللہ اور سنت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اسی طرح بعض تابعین یا تبع تابعین کے آثار بھی کوئی حجت نہیں ہیں ۔​
خلاصہ کلام
مسئلہ زیر بحث پر مولانا نے کتاب وسنت سے کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں فرمائی جس سے تشفی و تسلی ہو ۔​
آخر میں گذارش ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ کتاب وسنت میں ایسی کوئی صریح دلیل نہیں جس سے پاؤں کا قبلہ رخ ہونا یا قبلہ رخ پاؤں کرکے سونا ناجائز قراردیاجائے ۔ ادھر جواز کے دلائل جو مولانا عبد اللہ صاحب قصوری نے پیش فرمائے ان کا حال بھی معلوم ہوچکا ۔​
لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ شریعت مطہرہ نے بیت اللہ العظیم کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا ہے ۔ سورہ حج کی وہ آیت جو مولانا نے نقل فرمائی ہے :​
ذلك و من يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب ( الحج : 32 )​
یہ بھی اس پر دال ہے اگرچہ مولانا نے جلالین و ابن کثیر کےحوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ یہاں شعائر اللہ سے مراد قربانی کے جانور ہیں لیکن جیسا کہ اصول فقہ میں یہ مسئلہ طے شدہ ہے کہ '' العبرة لعموم اللفظ لا بخصوص السبب '' ''اعتبار لفظ کے عموم کو ہوتا ہے نہ کہ سبب کے خصوص کو '' اور پھر سیاق و سباق سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بیت اللہ ، مسجد حرام ، مناسک حج ، قربانی کے جانور اور دوسری عبادات سب شعائر اللہ میں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے بہت سے مفسروں نے بھی اس جگہ '' شعائر اللہ '' کو عام ہی رکھا ہے ، بلا وجہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ۔ اگر ان حقائق کے باوجود مولانا کو اصرار ہےکہ یہاں شعائر اللہ سے مراد قربانی کے جانور ہی ہیں تو اس آیت کریمہ سے پیشتر یہ آیت کریمہ گزر چکی ہے کہ :​
ذلك و من يعظم حرمت الله فهو خير له عند ربه ... الآية ( الحج : 30 )​
یہ آیت کریمہ '' و ليطوفوا بالبيت العتيق '' کے بعد آئی ہے اور مضمون کے لحاظ سے اس جگہ حرمات اللہ میں بیت اللہ و مسجد حرام یقینا داخل ہیں ۔ لہذا حقیقت سے فرار مناسب نہیں ۔​

والله تعالى أعلم و علمه أتم و أحكم ، و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين ، وصلى الله على سيدنا محمد و آله و أصحابه و بارك وسلم .​

وأنا أحقر العباد​
محب الله شاه 1990/ 12 / 3​

Monday, August 13, 2018

٣٣٢-عید کے دن خوشی کیسے منائیں؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: میں چاہتا ہوں کہ آپ فیملی کیساتھ عید گزارنے کے متعلق مکمل رہنمائی کریں، (اور انتہائی مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس رہنمائی میں ممنوعہ کاموں کا ذکر مت کریں کہ مرد و زن سے مخلوط جگہوں پر مت جائیں، سینما ہال میں نہ جائیں۔۔۔ الخ، کیونکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوگا) اور کیا آپ ایسی عملی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جن پر مؤمنین عمل کریں؟ اور عید کے دن کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے، اور کیا میاں بیوی اکٹھے کسی جگہ جا کر بہترین سا کھانا کھا سکتے ہیں؟ اور عید کے دن علمائے کرام کس طرح اپنی خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں؟

الحمد للہ:

عیدین کے دن خوشی و مسرت کے دن ہیں، اور ان ایام کیلئے کچھ عبادات، آداب اور عادات مختص بھی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1-             غسل کرنا
یہ عمل صحابہ کرام سے ثابت ہے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے غسل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "اگر  چاہو تو روزانہ غسل کرو" تو آدمی نے کہا: "نہیں!  جسے غسل کہا جاتا ہے اس کے بارے میں سوال ہے" تو علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا:  "وہ غسل جمعہ کے دن، یوم عرفہ کے دن، عید الاضحی، اور عید الفطر کے دن ہوتا ہے"
اسے امام شافعی نے اپنی "مسند الشافعی" صفحہ: (385) میں ذکر کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل (1/176) میں اسے صحیح کہا ہے۔

2-              نئے کپڑے زیب تن کرنا

چنانچہ اس بارے میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ :  عمر رضی اللہ عنہ نے بازار سے ریشمی جبہ  خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ بھی اس کے ساتھ کا جبہ عیدین اور وفود سے ملاقات کیلئے خرید لیں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (یہ ایسے شخص کا لباس ہے جس کا [آخرت میں ]کوئی حصہ نہیں ہے)
بخاری: (906) مسلم: (2068)، امام بخاری نے اس حدیث پر عنوان قائم کرتے ہوئے لکھا ہے: "باب ہے عیدین  پر زیب و زینت اختیار کرنے کے بارے میں"

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں زیب و زینت اختیار کرنا ان کے ہاں بھی مشہور و معروف تھا" انتہی
" المغنی " ( 2 / 370 )

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کیلئے زیب و زینت اختیار کرنے کا علم ہوتا ہے، اور یہ  بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنا ان کے ہاں عام اور مشہور تھا" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب ( 6 / 67 )

شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے  عید کے موقع پر زیب و زینت اختیار کرنے کی دلیل اس طرح لی جاتی ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو عید کے دن خوبصورت لباس پہننے  سے منع نہیں فرمایا بلکہ  ممانعت کی تو صرف ریشمی لباس سے  کی" انتہی
" نيل الأوطار " ( 3 / 284 )

اس بات پر عمل صحابہ کرام کے زمانے سے لیکر اب تک  چلا آ رہا ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بیہقی نے صحیح سند کیساتھ نافع سے بیان کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرتے تھے"

نیز انہوں نے ایک جگہ یہ بھی کہا ہے کہ:
"عیدین کے موقع پر خوبصورت لباس زیب تن  کرنے میں عید نماز کے لئے جانے والے، یا گھر میں بیٹھے رہنے والے، حتی کہ خواتین و بچے سبھی  شامل ہیں" انتہی
" فتح الباری " لابن رجب (6/68 ، 72)

جبکہ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ : اگر اعتکاف کیا ہو تو پھر عید کیلئے اعتکاف والے کپڑوں میں  ہی جائے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید کیلئے سنت یہی ہے کہ  خوبصورت لباس زیب تن کرے، چاہے کسی نے اعتکاف کیا ہو یا نہ کیا ہو"
" أسئلة وأجوبة في صلاة العيدين " (صفحہ: 10)

3-             اچھی خوشبو لگانا

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہے کہ وہ عید الفطر کے دن خوشبو لگایا کرتے تھے، جیسے کہ فریابی کی کتاب: "احکام العیدین" صفحہ: 83 میں موجود ہے۔

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : میں نے اہل علم کو  عیدین کے دن  زیب و زینت  اور خوشبو لگانے کو مستحب کہتے ہوئے سنا ہے" ، اسی طرح امام شافعی نے بھی اسے مستحب کہا ہے۔
" فتح الباری" از: ابن رجب ( 6 / 68 )

مذکورہ زیب و زینت  اور خوشبو کا استعمال  خواتین کی طرف سے گھر کی چار دیواری میں خاوند،  محرم اور گھر کی خواتین کے سامنے ہوگا۔

چنانچہ موسوعہ فقہیہ (31/116) میں ہے کہ:
"خوبصورت لباس، بیرونی و اندرونی صفائی ستھرائی،  جسمانی بد بو سے چھٹکارا، وغیرہ دیگر امور میں عید نماز کیلئے جانے والے اور [مجبوری کی بنا پر]گھر میں  رہنے والے تمام افراد کیلئے ہے؛ کیونکہ یہ دن زیب و زینت کا دن ہے، اس لئے تمام کا حکم برابر ہوگا، لیکن خواتین اس میں شامل نہیں ہیں۔

چنانچہ خواتین  عید نماز کیلئے جاتے ہوئے خوبصورت لباس زیب تن نہیں کرینگی، بلکہ عام سادہ لباس میں  عید نماز کیلئے جائیں، خوبصورت لباس اور خوشبو استعمال نہ کریں؛ کیونکہ ان کی وجہ سے فتنے کا خدشہ رہتا ہے، حتی کہ بوڑھی ، اور غیر دلکش خواتین   بھی اسی حکم میں شامل ہیں، چنانچہ خواتین مردوں سے بالکل الگ تھلگ رہیں گی" انتہی

4-             تکبیرات کہنا

عید الفطر کے موقع پر عید کا چاند نظر آتے ہی تکبیرات کہنا مسنون ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
{ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ}
ترجمہ: تا کہ تم گنتی پوری کرو، اور اللہ تعالی کی کبریائی اسی طرح بیان کرو جیسے اس نے تمہاری رہنمائی کی ہے۔[البقرة : 185]

اس آیت کے مطابق گنتی روزوں کی تعداد پوری ہونے سے مکمل ہوگی ، اور تکبیرات  کا آخری وقت  یہ ہے کہ  جب امام خطبہ کیلئے  آ جائے۔

جبکہ عید الاضحی کے موقع پر تکبیرات  یوم عرفہ کی صبح سے لیکر  ایام تشریق کے آخر تک  جاری رہیں گی جو کہ ذو الحجہ کی 13 تاریخ کو  ہوتا ہے۔

5-             رشتہ داروں سے ملاقاتیں

عید کے دن رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں  کیساتھ  ملاقات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لوگوں میں اس کا اہتمام عام پایا جاتا ہے۔

بلکہ یہ  بھی کہا گیا ہے کہ عید نماز کیلئے آتے جاتے راستہ تبدیل کرنے کا حکم بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ  زیادہ سے زیادہ  لوگوں سے ملاقات ہو۔

بہت سے اہل علم عید نماز کیلئے آتے جاتے  وقت راستہ تبدیل کرنے کو مستحب کہتے ہیں، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن آتے جاتے راستہ تبدیل کرتے تھے" بخاری: (943)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"یہ بھی کہا گیا ہے کہ: تا کہ آپ زندہ اور فوت شدہ رشتہ داروں کے اہل خانہ سے ملیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: صلہ رحمی کیلئے راستہ تبدیل کرتے تھے" انتہی
" فتح الباری " ( 2 / 473 )

6-             مبارکباد دینا

اس کیلئے کوئی بھی اچھے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں، اس کیلئے افضل ترین الفاظ " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ" ہیں؛ کیونکہ یہ الفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔
چنانچہ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  عید کے موقع پر جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ"۔
حافظ ابن حجر نے " فتح الباری " ( 2 / 517 ) میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
"عید کی نماز سے واپس آنے کے بعد اگر کوئی  اپنے بھائی سے کہہ دے کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ، وَغَفَرَ اللهُ لَنَا وَلَكَ " اور آگے سے جواب میں بھی اسی طرح کے الفاظ کہے تو کیا یہ مکروہ ہے؟ " تو انہوں نے کہا: "یہ مکروہ نہیں ہے" انتہی
" المنتقى شرح الموطأ " ( 1 / 322 )

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید کے دن مبارک باد دیتے ہوئے نماز عید کے بعد ایک دوسرے کو یہ کہنا کہ: " تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ " یا "اللہ تعالی آپکو بار بار عیدیں نصیب کرے" اس طرح کے دیگر دعائیہ کلمات کہنا ، متعدد صحابہ کرام سے  مروی ہے کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے،  ائمہ کرام نے اس بارے میں رخصت ہی دی ہے، جیسے کہ امام احمد کہتے ہیں کہ: "میں کسی کو عید کی مبارکباد یتے ہوئے پہل نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی مجھے مبارکباد دے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں، کیونکہ جواب دینا واجب ہے"
مبارکباد دینے سے متعلق احادیث میں کہیں بھی حکم نہیں ہے، اور نا ہی اس سے کہیں ممانعت  موجود ہے، اس لئے مبارکباد ینااور نہ دینا دونوں طرح درست ہے"
" مجموع الفتاوى " ( 24 / 253 )

7-             کھانے پینے کا اہتمام

کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہ اہتمام گھر میں یا گھر سے باہر  کسی ہوٹل وغیرہ میں بھی ہو سکتا ہے، تاہم کسی ایسے ہوٹل میں کھانے کا اہتمام نہ کریں جہاں پر شراب نوشی  ہو، یا وہاں  موسیقی کی آواز آ رہی ہو، یا پھر مرد و زن کا مخلوط ماحول ہو۔

کچھ علاقوں میں ایسا بھی ممکن ہے کہ  مرد و زن کے مخلوط ماحول ، اور دیگر شرعی مخالفات سے  بچنے کیلئے زمینی یا سمندری  سفر بھی کر سکتے ہیں۔

نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایام تشریق کھانے پینے، اور ذکر الہی کے دن ہیں) مسلم: (1141)

8-             جائز تفریح

فیملی کے ساتھ ساحل بری، بحری سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح  قدرتی  طور پر خوبصورت علاقوں   اور تفریحی پارک وغیرہ  میں بھی جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہاں کوئی غیر شرعی امور نہ ہو ں، اسی طرح موسیقی سے خالی ملی نغمے اور ترانے بھی سنے جا سکتے ہیں۔

چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی  ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اس وقت دو چھوٹی بچیاں  جنگ بعاث کے ترانے گا رہیں تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری جانب کر لیا، پھر اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے مجھے ڈانٹ پلائی اور کہا: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطان کی بانسریاں؟" اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا: (انہیں ترانے پڑھنے دو) ، چنانچہ جب آپ کی توجہ  دوسری جانب ہوئی  تو میں نے انہیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ دونوں وہاں سے چلتی بنیں۔

اسی طرح عید کا دن  تھا اور سیاہ فام  لوگ  نیزوں اور ڈھالوں سے کھیل رہے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی مجھ سے پوچھا تھا: (کیا تم انہیں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہو؟) تو میں نے کہا : "ہاں" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا گال آپ کے رخسار پر تھا، اور  آپ نے انہیں فرمایا: (بنی ارفدہ [یعنی حبشہ کے لوگو!] اپنے کام میں لگے رہو) تو جب میں تھک گئی تو آپ نے پوچھا: (کافی ہے؟) میں نے کہا: "جی ہاں" تو آپ نے فرمایا: (چلو اب چلی جاؤ) ۔
بخاری: (907) مسلم: (829)

اور ایک روایت میں ہے کہ: عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا تھا: (تاکہ یہودیوں کو علم ہو جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے، بیشک مجھے وسیع ظرف  دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہے)
مسند احمد: (50/366) مسند احمد کے محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ: (4/443) میں "جید" کہا ہے۔

اور نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے :
"باب ہے اس بیان میں کہ: عید کے دنوں  میں معصیت سے خالی کھیل کود میں رخصت ہے"

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں متعدد فوائد ہیں:

عید کے دنوں میں  اہل خانہ  کیلئے ہر قسم کی فراوانی  کریں تا کہ اس کا  دل خوشگوار ہو جائے، بدن کو عبادت سے کچھ راحت دیں، اور آج کے دن [نفلی]عبادت سے دوری بہتر ہے، نیز اس میں یہ بھی ہے کہ: عید کے دنوں میں اظہار مسرت دینی شعائر میں سے ہے"
" فتح الباری " ( 2 / 514 )

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید کے دنوں میں یہ کام بھی کیا جاسکتا ہے کہ  لوگ آپس میں تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں، اکٹھے ہو کر اظہار مسرت بھی کرتے ہیں، اس عادت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عید کے دن ہیں، بلکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر داخل ہوئے تو ۔۔۔۔-آگے انہوں نے مکمل حدیث بیان کی-۔

اس میں یہ بھی ہے کہ -الحمد للہ- شریعت میں لوگوں کی آسانی و سہولت کے پیش نظر ایسی چیزیں موجود ہیں جو عید کے دنوں میں مسرت و شادمانی کا سامان پیدا کرتی ہیں "
" مجموع فتاوى شیخ ابن عثیمین" ( 16 / 276 )

اسی طرح  " الموسوعة الفقهية " ( 14 / 166 ) میں ہے کہ:
" عید کے دنوں میں اہل خانہ  پر ہر قسم کی فراوانی  کرنا لازمی امر ہے، جس سے دل خوشگوار ہو جائے، بدن کو عبادت سے کچھ راحت دیں، اسی طرح  عید کے دنوں میں اظہار مسرت اس دین  کے شعائر میں سے ہے، عید کے دنوں میں کھیل کود کرنا مسجد یا کسی اور جگہ جائز ہے، بشرطیکہ کھیل کود کا انداز وہی ہو جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے جس میں حبشی لوگوں کی نیزہ بازی کا ذکر ہے" انتہی

پہلے سوال نمبر: (331) میں ہم نے عید کے دن ہونے والی غلطیوں کا ذکر کیا ہے، اس لئے اسے لازمی پڑھیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے، اور ہم سب کو دین و دنیا  کی خیر سے نوازے۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...