Showing posts with label توبہ کرنا. Show all posts
Showing posts with label توبہ کرنا. Show all posts

Sunday, September 9, 2018

1007-عاشورا کے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، کبیرہ گناہ کیلئے توبہ ضروری ہے


سوال: اگر میں شرابی ہوں ،پھر میں نیت کر لوں کہ 9 اور 10 محرم کے روزے رکھوں گا ،کیا مجھے ان روزوں کا ثواب ملے گا ،اور اگر ملے گا تو کیا میرے سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالی دو سال کے گناہ عرفہ کے روزے سے معاف فرماتا ہے   صیام عاشورا سے  نہیں، عاشورا  کے روزوں سے ایک سال کے گنا ہ معاف ہوتے ہیں ۔

عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کے لئے سوال نمبر:(340)اور عاشورا کے روزوں کی فضیلت کے لئے سوال نمبر: (998) کے  جوابات دیکھیں۔

دوم:

شراب نوشی کبیرہ گناہ ہے ،اگر اس کی عادت ہو تو یہ مزید سنگین اور بڑا جرم ہے ؛ کیونکہ  شراب نوشی تمام خباثتوں کی جڑ اور برائیوں کا دروازہ  ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب سے تعلق رکھنے والے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے ، چنانچہ ترمذی (1295)  میں جناب انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی :  اس کو تیار کرنے والے پر ، جس کے لئے تیار کی گئی،  پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی گئی، پلانے والے پر ، بیچنے والے پر،  اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور جس کے لئے خریدی گئی"
اسے البانی نے "صحیح ترمذی " میں صحیح کہا ہے ۔
لہذا اسے چھوڑنا اور اس کی عادت سے توبہ تائب ہونا اور اللہ کی طرف متوجہ ہونا واجب ہے ۔

نیز عرفہ اور عاشورا کے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے پکی توبہ ضروری ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ یوم عرفہ کے روزے سے دو سال اور عاشورا کے روزے سے ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں ، لیکن آپ کے یہ فرمانے سے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں یہ لازم نہیں آتا کہ کبیرہ گناہ بھی بلا توبہ معاف ہو جاتے ہیں ؛کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے کہ: (ایک جمعہ سے اگلے جمعہ اور ایک رمضان سے  اگلے  رمضان تک کے گناہ اس  جمعہ اور روزے سے معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے)
اور یہ بات معلوم ہے کہ نماز ،روزوں سے افضل ہے اور رمضان کے روزے ،عرفہ کے دن کے روزوں سے افضل ہیں ،اور یہ روزے اور نماز بھی اس وقت گناہوں کی معافی کا سبب بنتے ہیں جبکہ کبائر سے اجتناب کیا جائے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ شرط لگائی ہے ؛تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے  کہ ایک یا دو نفلی روزے ،زنا ،چوری ،شراب نوشی، جوا اور جادو وغیرہ جیسے کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جائیں ؟لہذا ایسا ممکن نہیں ہے" انتہی
"مختصر الفتاوی المصریہ" (1/254)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بعض کہتے ہیں عاشورا کا روزہ سال کے سارے گناہ مٹا دیتا ہے ،اور عرفہ کے روزے سے اجر میں اضافہ ہو جاتا ہے ،اس  غافل کو یہ علم نہیں کہ رمضان کے روزے ،اور نماز پنجگانہ، عرفہ اور عاشورا کے روزے سے افضل اور برتر ہیں ،اور یہ اپنے درمیان کے گناہ کی معافی کا اس وقت سبب بنتے ہیں جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے، چنانچہ ایک رمضان سے لیکر دوسرے رمضان تک اور ایک جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا یہ اس وقت تک سبب نہیں بن سکتے جب تک  کہ ان کے ساتھ کبائر سے اجتناب کے عمل کو شامل نہ کیا جائے ،چنانچہ دونوں امور[صوم و صلوۃ اور اجتناب کبائر]کا مجموعہ مل کر ہی صغیرہ گناہوں کی بخشش کا سبب بنے  کے قابل ہوتے ہیں۔
لہذا ایک دن کا نفلی روزہ کیسے بندے کے سارے کبیرہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ وہ اس کبیرہ پر مصر بھی ہے اور اس سے توبہ بھی نہیں کی ؟ایسا ناممکن ہے ۔
البتہ یہ ممکن ہے کہ عرفہ اور عاشورا کا روزہ عمومی طور پر سال کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو، اور یہ حدیث ان وعدے والی نصوص میں سے ہو جس کے لئے کچھ شرائط اور موانع ہیں ،اور سائل آدمی کا گناہ پر دوام اور اڑے رہنا گناہوں کی معافی کے لئے رکاوٹ ہوگا، چنانچہ اگر کبیرہ پر مصر نہیں ہے تو روزہ اور عدم اصرار مل کر ایک دوسرے کے تعاون سے صغیرہ و کبیرہ تمام گناہوں کو مٹا دیں ،جیسا کہ رمضان اور نماز پنجگانہ، کبائر سے  اجتناب کیساتھ مل کر اور ایک دوسرے کی معاونت  سے صغائر کو مٹا دیتے ہیں؛ کیونکہ  اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ}
ترجمہ: اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو  تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ مٹا دیں گے [النساء : 31]
اب یہ بات واضح رہے کہ کسی چیز کو گناہوں کی معافی کا سبب بنانا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ وہ کسی اور سبب سے مل کر گناہوں کی معافی کا سبب بنے ،اور گناہوں کی معافی کے دو اسباب سے ملنے والی معافی تنہا سبب کی بہ نسبت زیادہ قوی اور کامل ہو گی ، جس قدر  گناہوں کی معافی کے اسباب قوی ہوں گے گناہ اتنے ہی زیادہ گناہ معاف ہوں گے اور اچھی طرح گناہوں کی صفائی ہو گی" انتہی
"الجواب الکافی" صفحہ:(13)

اور امام ترمذی (1862) نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:( اللہ تعالی شراب پینے والے کی چالیس دن  کی   نماز قبول نہیں فرماتا، تاہم اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  ،اور اگر وہ دوبارہ شراب نوشی کرے تو اس کی چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ،پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  ،پھر اگر تیسری بار پیے تو چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ، لیکن اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ،اگر وہ چوتھی مرتبہ بھی شراب  پیے تو اللہ تعالی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا، اگر وہ  توبہ نہ کرے تو اللہ اسے نہر خبال( ہلاکت وبربادی کی نہر) سے پلائے گا)
اسے البانی نے "صحیح ترمذی" میں صحیح کہا ہے ۔

مبارکپوری رحمہ اللہ "تحفۃ الاحوذی" میں کہتے ہیں:
"اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ : صرف نماز کو اس لئے ذکر کیا ہے  کیونکہ یہ تمام بدنی عبادات میں سے افضل ترین ہے ،جب یہ قبول نہیں تو دیگر عبادات تو بالاولی قبول نہیں ہوں گی "
" تحفۃ الأحوذی "(5/ 488)  کچھ اختصار کیساتھ

عراقی اور مناوی رحمہما اللہ نے بھی یہی کہا ہے ۔

اس بارے میں مزید کیلئے سوال نمبر (1005) کے جواب کا مطالعہ کریں۔

اگر شراب نوشی کی عادت سے  فرض عبادات قبول نہیں تو عاشورا کا روزہ کیسے قبول ہو سکتا ہے؟ نیز سال کے گناہوں کا کفارہ کیسے بن سکتا ہے ؟

چنانچہ آپ پر ضروری ہے کہ جلدی سے پکی اور سچی توبہ کریں  ،اور شراب نوشی کی عادت سے باز آ جائیں ،اور اپنی  کوتاہی کا تدارک کر کے ،نیک اعمال کثرت سے کریں ،اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی توبہ قبول فرمائے گا اور آپ کی کوتاہی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے  کے سنگین گناہ سے درگزر فرمائے گا ۔

سوم:

یہاں  ہماری گفتگو عرفہ اور عاشورا کے روزے اور دیگر نفل نماز ،روزہ ،صدقہ اور قربانی وغیرہ پر مشتمل نیکی کے اعمال جو آپ کرنا چاہیں کریں، اس کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے؛ کیونکہ شراب نوشی، نیکی کے اعمال سے منع نہیں کرتی ۔

اور کبیرہ گناہ کے ارتکاب کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نیکی اور بھلائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بالکل دور ہی کر لیں ؛ کیونکہ  اس طرح آپ  معاملے کو مزید سنگین کر دیں گے ، اس لیے آپ توبہ کریں اور قبیح  عادت کو جلدی سے ترک کر دیں، بھلائی کے کام کثرت سے کریں ،اگرچہ آپ نفس کے سامنے مغلوب ہو بھی جائیں اور آپ  سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے ۔

اس لیے کہ عمل کا درست ہونا اور اس کا قبول ہونا الگ بات ہے اور سال یا دو سال کے گناہوں کی معافی کی خصوصی فضیلت الگ چیز ہے ۔

جعفر بن یونس کہتے ہیں : ہم شام  کے قافلے میں تھے ،راستے میں بدو ملے تو قافلے والوں کو انہوں نے پکڑ لیا ،اور قافلے کو امیر کے سامنے پیش کر دیا، انہیں ایک تھیلی قافلے والوں کے پاس سے ملی جس میں چینی اور بادام تھے ،لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کر دیا لیکن امیر نے اس میں سے کچھ نہ لیا !!  میں نے پوچھا:
آپ  کیوں نہیں کھاتے ؟
اس نے جواب دیا: میں روزے سے ہوں !
میں نے کہا: آپ رہزنی کرتے ہیں ،لوگوں کے مال چھینتے ہیں ،اور ناحق لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہو؟
اس نے جواب دیا: جناب! میں رب سے  صلح کے لئے راستہ باقی رکھتا ہوں!!
پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں نے اسے احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ،میں نے پوچھا :آپ وہی ہیں ؟
اس نے کہا: [ہاں میں وہی ہوں اور]یہ روزہ ہی تھا جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا !!

" تاریخ دمشق "(66/52)

مزید کیلئے سوال نمبر : (1006)کے جواب کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

1006-توبہ


س-میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے، اب میں کیا کروں کہ اللہ تعالی میری توبہ قبول فرمائے؟

الحمد للہ:

جب  ایمان کمزور ہو ، شہوت کا غلبہ ہو  اور شیطان برائیاں  مزین کر کےدکھاتا ہوتو ایک مسلمان  اپنی جان پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور حرام کردہ امور میں ملوث ہو جاتا ہے، دوسری جانب اللہ تعالی کی ذات ہے کہ  اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی نرمی والا معاملہ فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ظلم و زیادتی کرنے کے بعد توبہ کر لے تو اللہ  تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}  پھر جو شخص ایسا ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے وہ یقیناً بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [المائدة: 39]

اللہ تعالی معاف کرنے والا اور نہایت کرم کرنے والا ہے اسی لیے تو اپنے تمام بندوں کو سچی توبہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے تا کہ رحمت الہی  اور اللہ کی جنت حاصل کر کے کامیاب ہو جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو یقینی بات ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ [التحريم: 8]

نیز توبہ کا دروازہ تمام بندوں کیلیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک سورج  مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (بیشک اللہ عزوجل اپنے ہاتھ رات کے وقت پھیلاتا ہے تا کہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور دن میں اللہ تعالی اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے، [یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا] جب تک سورج مغرب کی سمت سے طلوع نہ ہو جائے) مسلم : (2759)

سچی توبہ محض زبانی جمع خرچ کا نام نہیں ہے ، بلکہ سچی توبہ کی قبولیت کیلیے شرط یہ ہے کہ انسان گناہ سے فوری طور پر باز آ جائے اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرے اور توبہ کردہ گناہ دوبارہ نہ کرنے کا پورا عزم کرے، نیز اگر کسی کے حقوق سلب کئے ہیں تو مستحقین کو ان کے حقوق لوٹا دے، نیز توبہ کیلیے یہ بھی شرط ہے کہ موت نظر آنے سے پہلے انسان توبہ کرے؛ اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (17) وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا}  اللہ تعالی پر قبولیت توبہ کا حق صرف ایسے لوگوں کے لیے ہے جو نا دانستہ جب کوئی برا کام کر بیٹھتے ہیں پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ اللہ ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے [17] توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کرتے رہتے ہیں حتی کہ ان میں سے کسی کی موت جب آ جاتی ہے تو کہنے لگتا ہے کہ " میں اب توبہ کرتا ہوں "  اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے ہے جو کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے [النساء: 17، 18]

اللہ تعالی نہایت  رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے؛ اسی لیے گناہ گاروں کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تا کہ ان کی توبہ قبول کر کے انہیں معاف فرما دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ کہ تم میں سے کوئی شخص  لاعلمی سے کوئی برا کام کر بیٹھے پھر اس کے بعد وہ توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے تو یقیناً وہ معاف کر دینے والا اور رحم کرنے والا ہے [الأنعام: 54]

اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ نہایت نرمی والا معاملہ فرماتا ہے ، اسی لیے توبہ کرنے والوں کو پسند بھی کرتا ہے، اور ان کی توبہ قبول بھی فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور وہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو ہر چیز سے با خبر ہے۔[الشورى: 25]

ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ} بیشک اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ [البقرة: 222]

بلکہ اگر کوئی کافر مسلمان ہو جائے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے ، اس کے سابقہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ }کفر کرنے والوں سے کہہ دو: اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ [الأنفال: 38]

اللہ تعالی اتنا غفور و رحیم ہے کہ اپنے بندوں سے توبہ کے عمل کو پسند فرماتا ہے اور انہیں توبہ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے تا کہ اللہ تعالی انہیں بخش دے، جبکہ انسانی اور جناتی شکل میں شیطان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ حق سے بیزار ہو کر باطل کی طرف چلے جائیں ، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا}اور اللہ تعالی تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے جبکہ شہوانیت کے رسیا یہ چاہتے ہیں کہ تم دور کی گمراہی میں چلے جاؤ۔ [النساء: 27]

اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، انسان کے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں، انسان نے اپنی جان پر کتنا ہی ظلم ڈھایا ہو، کتنے ہی پاپ کئے ہوں، لیکن بعد میں توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ تعالی اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے چاہے ان کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کے بارے میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا: {قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} آپ لوگوں سے کہہ دیجیے : اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں [٧١] پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے  [الزمر: 53]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی حدیث مبارکہ میں فرمایا: (ہر رات جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے تو ہمارا پروردگار آسمان دنیا تک نازل ہو کر فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟  کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟) بخاری: (1077) مسلم: (758)

انسانی جان بسا اوقات گناہوں کے آگے بہت کمزور ثابت ہوتی ہے ، تاہم اگر گناہ ہو بھی جائے تو اسے چاہیے کہ فوری توبہ کر لے اور ہر وقت اللہ تعالی سے بخشش مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی  نہایت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے، اللہ تعالی کا ہی فرمان ہے: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} اور جو بھی برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہے تو وہ اللہ کو نہایت بخشنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا پائے گا۔[النساء: 110]

مسلمان سے غلطی کوتاہی ہوتی رہتی ہے، اس سے گناہ بھی ہو جاتے ہیں، اس لیے انسان کو ہر دم توبہ استغفار کرتے رہنا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (اللہ کی قسم! میں اللہ تعالی سے ایک دن میں توبہ اور استغفار ستر بار سے بھی زیادہ مرتبہ مانگتا ہوں) بخاری: (6309)

اللہ تعالی توبہ پسند فرماتا ہے اور اسے شرف قبولیت سے بھی نوازتا ہے، بلکہ اللہ تعالی کو اپنے بندے کی توبہ کرنے پر خوشی بھی ہوتی ہے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث مبارکہ میں بتلایا کہ: (اللہ تعالی کو اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا اونٹ ویران اور بیابان علاقے میں گم ہو نے کے بعد دوبارہ مل جائے) متفق علیہ ، بخاری: (6309)

واللہ اعلم.

ماخوذ از کتاب: أصول الدين الإسلامي، از محمد بن ابراہیم تویجری

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...