Showing posts with label زیب وزینت. Show all posts
Showing posts with label زیب وزینت. Show all posts

Wednesday, August 29, 2018

٩٦٠-بال اتارنے كے ليے بال صفا پاؤڈر استعمال كرنا


س-بال صفا پاؤڈر ( النورۃ ) كيا ہے، اور كيا رسول كريم صلى اللہ عليہ يہ استعمال كيا كرتے تھے، اور سنت نبويہ ميں اس كے كيا دلائل پائے جاتے ہيں؟

الحمد للہ:

اول:

النورۃ ( بال صفا پاؤڈر ) كيلسيم اور ہڑتال كا مركب ہے جو بال صاف كرنے كے ليے استعمال كيا جاتا تھا، يہ پاؤڈر بالوں والى جگہ پر ليپ كر كے كچھ دير تك رہنے ديا جاتا اور پھر دھونے سے بال صاف ہوجاتے ہيں.

ديكھيں: القاموس الفقھى ( 1 / 363 ) اور زاد المعاد ( 4 / 364 ).

دوم:

بعض احاديث ميں آيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كا اس كا استعمال كرتے تھے، ليكن اس كے متعلق جتنى بھى احاديث آتى ہيں وہ سب ضعيف ہيں، اور كوئى بھى حديث صحيح نہيں.

ابن ماجہ رحمہ اللہ نے ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم النورہ ( بال صفا پاؤڈر ) كا ليپ كرتے تھے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3751 ) البوصيرى رحمہ اللہ نے مصباح الزجاجۃ ميں، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف سنن ابن ماجہ ميں اور شعيب ارناؤوط نے تحقيق زاد المعاد ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور ابن عساكر نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ نورہ ( بال صفا پاؤڈر ) استعمال كرتے، اور ہر پندرہ يوم ميں اپنے ناخن تراشتے تھے "

علامہ البانى رحمہ اللہ نے الجامع الصغير حديث نمبر ( 4536 ) ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

حاصل يہ ہوا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا اس پاؤڈر كے استعمال كرنے ميں كوئى بھى حديث صحيح نہيں ملتى، ليكن اس كے استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں، يا بال اتارنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور چيز استمعال كرنے ميں بھى كوئى حرج نہيں ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ اس كے استعمال ميں كوئى ضرر اور نقصان نہ پہنچے، ليكن زيرناف بال مونڈنے بہتر اور افضل ہيں، كيونكہ سنت سے اسى كا ثبوت ملتا ہے، اور جمہور فقھاء كرام بال مونڈنے كى افضليت كے قائل ہيں.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 14 / 83 ).

واللہ اعلم

Saturday, August 25, 2018

٧٤٤-مرد كے ليے بال لمبے ركھنا اور چٹيا بنانے كا حكم


سوال-ميرا خاوند كہتا ہے كہ ميں اس كے سر كے بالوں كى چٹيا بناؤں ميں نے اس سے اس كے متعلق شرعى حكم معلوم كيا تو اس نے مردوں كے بالوں كى چٹيا كے متعلق بعض علماء كرام كے اقوال بيان كيے تو كيا يہ صحيح ہے ؟
ميں يہ سوال اس ليے كر رہى ہوں ميں اسے نہيں مانتى، ليكن ميں يہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ آيا اس ميں كوئى دوسرى رائے بھى پائى جاتى ہے، كيونكہ ميرے ليے يہ معاملہ بہت ہى عجيب ہے ؟

الحمد للہ:

بال لمبے كرنا ايسى سنت نہيں كہ اس پر مسلمان شخص كو اجر و ثواب حاصل ہو؛ كيونكہ يہ عادات ميں شامل ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بال لمبے بھى ركھے، اور انہيں مونڈا بھى، اور اسے لمبے كرنے ميں كوئى اجروثواب نہيں ركھا، اور نہ ہى اسے مونڈنے ميں كوئى گناہ، ليكن صرف اتنا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بالوں كا خيال ركھنے اور انہيں سنبھالنے كا حكم ديا ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كے بال ہوں تو وہ ان كى تكريم كرے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4163 ) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح البارى ( 10 / 368 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ميں حيض كى حالت ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سر كے بالوں كو كنگھى كيا كرتى تھى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 291 ).

ترجيل بالوں كو كنگھى كر كے كھولنے كو كہا جاتا ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كانوں كى لو تك پہنچ رہے ہوتے تھے، اور بعض اوقات كانوں اور گردن كے درميان، اور بعض اوقات كندھوں كے ساتھ لگ رہے ہوتے تھے، اور جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بال لمبے ركھتے تو ان كى چار چٹيا بناتے تھے.

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كندھوں پر پڑ رہے ہوتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5563 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2338 ).

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال آپ كے كانوں اور گردن كے درميان ہوا كرتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5565 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2338 ).

اور مسلم كى ايك روايت ميں ہے:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كانوں كے نصف تك تھے "

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال وفرہ سے بڑے اور جمۃ سے چھوٹے تھے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1755 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4187 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الوفرۃ: جب سر كے بال كانوں كےنچلے حصہ تك پہنچ جائيں تو انہيں وفرہ كہا جاتا ہے.

الجمۃ: جب سر كے بال كندھوں پر گرنے لگيں ت وانہيں جمہ كہا جاتا ہے.

ام ہانى رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مكہ تشريف لائے تو آپ بالوں كى چار ميڈياں ( چٹيا ) بنى ہوئى تھيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1781 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4191 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3631 ) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح البارى ميں اسے حسن اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے " مختصر الشمائل " ( 23 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الغدائر: ضفائر يعنى چٹيا كو كہتے ہيں.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حديث جس پر دلالت كرتى ہےكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال كندھوں كے قريب ہوا كرتے تھے يہ غالب حالات ميں تھے، اور بعض اوقات اس سے بھى لمبے ہو جاتے حتى كہ اس كى چٹيا بنائى جاتيں، جيسا كہ ابو داود اور ترمذى نے حسن سند كے ساتھ ام ہانى رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مكہ تشريف لائے تو آپ كے بالوں كى چار چٹيا تھيں "

اور ايك روايت ميں ضفائر كے الفاظ ہيں.

اور ابن ماجہ كى روايت ميں اربع غدائر يعنى ضفائر كے الفاظ ہيں.

اور يہ اس حالت پر محمول ہے جس ميں سفر وغيرہ كى بنا پر بالوں كا دھيان نہيں ركھا جاتا " انتہى مختصرا.

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 360 ).

يہ معاملہ اس دور ميں معروف اور مقبول تھا، اور لوگ اس سے متعارف تھے، اس ليے جب عرف مختلف ہو اور مسلمان شخص كسى ايسى جگہ ہو جہاں كے رہنے والے لوگ اس پر زيادتى نہ كريں، يا پھر وہ اس ايسا كرنے والے كو فاسق قسم كے لوگوں كے ساتھ مشابہت كرنے والا سمجھيں تو پھر يہ عمل نہيں كرنا چاہيے.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" سر كے بالوں كو لمبا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بال بعض اوقات كندھوں تك لمبے ہو جاتے تھے، تو يہ اپنى اصل پر ہى ہے، اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اس كے باوجود يہ عادات اور عرف كے تابع ہے، اس ليے اگر كسى معاشرے اور عرف ميں يہ عادت ہو كہ وہاں لمبے بال صرف ايك مخصوص غلط قسم كا گروہ ركھتا ہو، تو پھر اہل مروؤت كے ليے ايسا نہيں كرنا چاہيے، اس ليے كہ لوگوں كى عادات اور عرف نچلے اور گرے پڑے افراد سے آتى ہيں!

اس ليے بال لمبے ركھنے كا مسئلہ ان مباح اشياء ميں شامل ہوتا ہے جو لوگوں كى عادات اور عرف كے تابع ہے، لہذا جب لوگوں كى عادت اور عرف ميں ہو كہ ہر شخص شريف اور غير شريف افراد سب ايسا كرتے ہوں تو پھر اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر ايسا صرف گرے پڑے لوگ ہى كرتے ہوں تو پھر شرف و مقام اور مرتبہ ركھنے والے شريف افراد كو ايسا نہيں كرنا چاہيے، اور اس پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جو كہ سب سے افضل اور اعلى مقام و مرتبہ ركھتے ہيں ان كے بال لمبے تھے، كيونكہ اس مسئلہ ميں ہمارى رائے يہ ہے كہ بال ركھنا سنت اور عبادت ميں شامل نہيں، بلكہ يہ عادات اور عرف كے تابع ہے "

فتاوى نور على الدرب.

اس ليے آپ كے خاوند كا كہنا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بالوں كى چار چٹيا تھيں صحيح ہے، ليكن اس كا يہ معنى نہيں كہ يہ ايسى سنت ہے جس پر اسے اجروثواب حاصل ہوگا، بلكہ اس ميں لوگوں كى عادات اور عرف كا خيال كيا جائيگا، اكثر علاقوں اور ملكوں ميں اب عادات اور عرف بدل چكى ہيں، جو كہ قديم دور ميں تھيں.

ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہمارے دور كے لوگوں ميں صرف فوجى ہى لمبے بال ركھتے ہيں، ان كے كانوں اور گردن تك بال ہيں، اہل اصلاح اور اہل علم و عمل ايسا نہيں كرتے، حتى كہ يہ ان كى علامت بن كر رہ گئى ہے، اور كانوں تك بال ركھنا ہمارے ہاں بےوقوفوں كى علامت بن چكى ہے! اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مروى ہے كہ آپ نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ انہى ميں سے ہے ـ يا ان كے ساتھ اٹھايا جائيگا ـ "

اس ميں ايك قول يہ ہے كہ: جس نے بھى ان كے افعال ميں ان كى مشابہت كى.

اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: جس نے بھى شكل و شباہت ميں مشابہت كى.

آپ كے ليے يہى كافى ہے، تو يہ صالحين اور نيك لوگوں كى راہ پر چلنے كا اجمال ہے، چاہے وہ كسى بھى حالت ميں ہوں، اور بال ركھنا يا منڈوانا روز قيامت كچھ فائدہ نہيں دينگے، بلكہ نيت اور اعمال كے مطابق اجروثواب اور سزا دى جائيگى، اس ليے بہت سے بغير بالوں والے لوگ بہت اور اچھے ہيں، اور ہو سكتا ہے بالوں والا شخص بھى نيك و صالح ہو "

التمہيد ( 6 / 80 ).

خلاصہ يہ ہوا كہ:

اس ميں عادت اور عرف كى پيروى كرنى چاہيے، حتى كہ مسلمان شخص ہنسى و مذاق كا شكار نہ ہو جائے، اور لوگوں كى غيبت كا باعث نہ بنے.

واللہ اعلم

Wednesday, August 15, 2018

٤٩٠-سر منڈوانے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا سر منڈوانا سنت ہے ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كى كلام سے اخذ يہ ہوتا ہے كہ سر منڈانے كى چھ انواع و اقسام ہيں:

پہلى قسم:

اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى اور اللہ كا قرب حاصل كرنے كے ليے سر منڈانا، اس ميں انسان كو اجروثواب حاصل ہوتا ہے، اور يہ صرف چار موقعوں پر ہے اس كے علاوہ پانچويں بھى نہيں وہ پانچ مقام درج ہيں:

1 - حج كے موقع پر.

2 - عمرہ كرنے كے بعد:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ يقينا اللہ تعالى نے اپنے رسول كے خواب كو سچا كر دكھايا كہ ان شاء اللہ تم يقينا پورے امن و امان كے ساتھ مسجد حرام ميں داخل ہو گے سرمنڈاتے ہوئے اور سر كے بال كترواتے ہوئے چين كے ساتھ نڈر ہو كر ﴾الفتح ( 27 ).

3 - بچے كى ولادت كے ساتويں روز بچے كا سرمنڈانا، اس كى دليل ترمذى شريف كى درج ذيل حديث ہے:

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حسن رضى اللہ تعالى عنہ كى جانب سے ايك بكرى ذبح كى اور فرمايا:

" اے فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہا ا سكا سر مونڈو، اور سر كے بالوں كے برابر چاندى صدقہ كرو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1439 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 1226 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے، اور مزيد تفصيل كے ليے ابن قيم رحمہ اللہ كى كتاب: تحفۃ المودود صفحہ نمبر ( 217 ) بھى ديكھيں.

4 - جب كافر شخص مسلمان ہو تو اپنا سر منڈائے، اس كى دليل ابو داود كى درج ذيل حديث ہے:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك مسلمان ہونے والے كافر شخص كو فرمايا:

" تم اپنے آپ سے كفر كے بال اتارو اورختنہ كراو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 356 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے، اور مزيد تفصيل كے ليے المغنى ابن قدامہ ( 1 / 276 ) اور شيخ الاسلام كى شرح العمدۃ ( 1 / 350 ) بھى ديكھيں.

علماء رحمہ اللہ اس پر متفق ہيں كہ ان چار مواقع كے علاوہ سر منڈانا مستحب نہيں.

ديكھيں: الاستقامۃ للشيخ الاسلام ابن تيميۃ ( 1 / 256 ).

دوسرى قسم:

شرك، سرمنڈانا اللہ تعالى كے ساتھ شرك ہوگا.

اور يہ اس وقت ہے جب غير اللہ كے ليے عاجزى و تذلل كى غرض سے سر منڈايا جائے.

ابن قيم رحمہ اللہ زاد المعاد ميں كہتے ہيں:

" جيسا كہ مريد اپنے پيروں كے ليے قسم اور حلف اٹھاتے ہوئے كہتے ہيں: ميں فلان كے ليے سر منڈاؤنگا، اور آپ نے فلاں كے ليے سر منڈايا ہے، تو يہ بالكل اسى طرح ہے جيسے كہيں كہ: ميں فلاں كے ليے سجدہ كرونگا، اس ليے كہ سر منڈانا خضوع و عاجزى و انكسارى اور عبوديت اور ذل ميں شامل ہے اسى ليے يہ حج كى تكميل ميں شامل ہوا....

كيونكہ اپنے پروردگار كے سامنے عاجزى و انكسارى اور اس كى عزت كے سامنے پيشانى كو ركھنا بليغ ترين عبوديت ميں سے ہے، اسى ليے جب عرب كسى قيدى كو ذليل كرنا چاہتے تو وہ اس كا سر مونڈ كر چھوڑ ديتے... الخ

تيسرى قسم:

بدعت مكروہہ:

يعنى سر منڈانا مكروہ بدعت ہے، اور اس كى كئى ايك صورتيں ہيں:

ان چار مواقع كے علاوہ تعبد اور تدين كے طور پر سر منڈانا، مثلا اگر سر منڈانا صالحين كى نشانى بنا دى جائے، يا پھر زہد كے اتمام ميں شامل ہو، اور يہ بالكل ايسے ہى جيسے خوارج كيا كرتے تھے، اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نشانيوں كے بارہ وارد ہے كہ آپ نے فرمايا:

" ان كى علامت سر منڈانا ہو گى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7007 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1763 ).

امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قولہ صلى اللہ عليہ وسلم:

" ان كى علامت سر منڈانا ہو گى "

يعنى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دنيا كى زينت اور بناؤ سنگھار ترك كرنے كى بنا پر ان كى يہ علامت قرار دى، اور ان كا شعار قرار ديا تا كہ وہ اس كے ساتھ پہچانے جائيں، اور يہ ان كى جہالت ہے.... اور اللہ كے دين ميں نئى چيز اور بدعت ہے جو نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور نہ ہى خلفاء راشدين اور ان كے اتباع ميں پائى جاتى تھى "

ديكھيں: شرح العمدۃ ( 1 / 231 ) اور مجموع الفتاوى ( 21 / 118 ).

اور يہ بھى اس ميں شامل ہے كہ: بعض لوگ توبہ كرنے والے كے معاملہ ميں اس سر منڈانا بھى شامل كرتے ہيں، جو كہ بدعت ہے، نہ تو صحابہ كرام ميں سے كسى نے ايسا كيا، اور نہ ہى تابعين عظام ميں سے كسى نے كيا، اور نہ ہى مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى أيك نے "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 118 ).

چوتھى قسم:

يہ حرام ہے، اور اس كى كئى ايك صورتيں ہيں:

1 - كسى قريبى رشتہ دار وغيرہ كى موت كى مصيبت كےوقت سر منڈانا.

ابو موسى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" بلا شبہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مصيبت كے وقت آہ و بكا كرنے والى، اور مصيبت كے وقت سر منڈانے والى، اور مصيبت كے وقت كپڑے پھاڑنے والى سے برى ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 149 ).

الحالقۃ وہ عورت ہے جو مصيبت كے وقت اپنے بال منڈوائے.

الصالقۃ: وہ عورت جو مصيبت كے وقت مختلف قسم كى آوازيں بلند كرے.

اور الشاقۃ: وہ عورت جو مصيبت كے وقت اپنے كپڑے پھاڑے.

ابن حجر رحمہ اللہ نے " الزواجر عن اقتراف الكبائر " ميں ذكر كيا ہے كہ:

" ايك سو سترواں ( 117 ) كبيرہ گناہ يہ ہے كہ: مصيبت كے وقت بال منڈائے جائيں.

ان كا كہنا ہے: كيونكہ يہ ناراضگى كى علامت اور شعار ظاہر كر رہا ہے، اور تقدير پر عدم رضا كى علامت ہے . اھـ

2 - كفار يا فاسق قسم كے افراد جو اپنا سر منڈانے ميں مشہور ہيں كے ساتھ مشابہت كرتے ہوئے سر منڈايا جائے، اور بعض اوقات وہ اس پر كوئى معين تيل لگاتا ہے تا كہ وہ بھى ان كى طرح لگے، يا پھر سر كے دونوں جانبوں سے بال چھوٹے، اور درميان سے لمبے كروائے، تو يہ سب مشابہت حرام ہے، اور سيدھى راہ سے انحراف ہے، اللہ تعالى سے ہم سلامتى و عافيت طلب كرتے ہيں.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان تو يہ ہے:

" جو كوئى بھى كسى قوم سے مشابہت اختيار كرتا ہے تو وہ انہي ميں سے ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4031 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 3401 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

القارى رحمہ اللہ كہتےہيں:

" يعنى جس نے بھى اپنے آپ كو كفار يا فاسق يا فاجر لوگوں كے مشابہ بنايا تو وہ انہى ميں سے ہے " يعنى گناہ ميں ان كى طرح ہے.اھـ

پانچويں قسم:

مباح ہے، وہ يہ كہ كسى ضرورت كے پيش نظر سر منڈايا جائے، مثلا بيمارى سے علاج كے ليے، يا پھر جوئيں وغيرہ ختم كرنے كے ليے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كتاب و سنت اور اجماع كے ساتھ يہ جائز ہے " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 12 / 117 ).

چھٹى قسم:

بغير كسى ضرورت و حاجت اور مندرجہ بالا اسباب كے بغير سر منڈايا جائے.

اس كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، بعض علماء كرام تو اسےمكروہ سمجھتے ہيں، يعنى امام مالك رحمہ اللہ ان كى دليل يہ ہے كہ يہ اہل بدعت يعنى خوارج كى علامت ہے جيسا كہ مندرجہ بالا حديث ميں بيان ہوا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان بھى ہے:

" جس كسى نے كسى قوم سے مشابہت اختيار كى تو وہ انہى ميں سے ہے "

اور بعض علماء كرام اسے مباح قرار ديتے ہيں، انہوں نے درج ذيل احاديث سے استدلال كيا ہے:

ابو داود رحمہ اللہ نے روايت كيا ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جعفر رضى اللہ تعالى عنہ كى موت كے تين روز بعد آل جعفر بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس تشريف لائے، اور نائى كو بلا كر حكم ديا كہ وہ جعفر كے بيٹوں كے سر مونڈ دے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4192 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو حديث نمبر ( 3532 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك بچے كو ديكھا كہ اس كے سر كا كچھ حصہ مونڈا ہوا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سارا سر مونڈو يا پھر سارا چھوڑ دو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4195 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ا بو داود حديث نمبر ( 3535 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، ليكن ان دونوں احاديث سے بغير كسى ضرورت كے سر مونڈنے كے جواز پر استدلال كرنا محل نظر ہے:

اول:

كيونكہ يہاں كسى ضرورت كى بنا پر سر مونڈا گيا ہے، تو اس طرح يہ مباح ہو گا، اور يہاں ضرورت و حاجت يہ ہے كہ بچوں كے سر ميں بڑوں كى بنسبت جوئيں پڑنے كا زيادہ احتمال ہوتا ہے، كيونكہ ان كے سروں ميں رطوبت و مٹى اور گرد زيادہ پڑتى ہے.

ديكھيں: زاد المعاد ( 4 / 159 ).

دوم:

يہ چھوٹے بچے كے حق ميں ہے، اور بچے كے ليے اس كى اجازت ہے جو بڑے كے ليے اجازت نہيں.

ديكھيں: حاشيۃ السندى على النسائى. اور مجموع الفتاوى ( 21 / 119 ) اور شرح العمدۃ ( 1 / 230 ).

اس پانچويں قسم ميں يہ اختلاف اس ليے ہے كہ آيا سر منڈانا مكروہ ہے يا كہ مباح، يا كہ افضل ؟

تو افضل يہ ہے كہ سر نہ منڈايا جائے، الفاوى رحمہ اللہ كہتے ہيں: افضل يہ ہے كہ عمرہ اور حج كے علاوہ سر نہ منڈايا جائے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كيا كرتے تھے. اھـ

ماخوذ از: عون العبود ( 11 / 248 ).

واللہ اعلم

Saturday, August 11, 2018

٢٤٢-انگوٹھى پر لفظ جلالہ ( اللہ ) كنندہ كروانا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا انگوٹھى پر لفظ جلالہ ( اللہ ) كنندہ كروانا جائز ہے ؟


الحمد للہ:

مرد كے ليے چاندى كى انگوٹھى بنوا كر پہننے ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس پر لفظ جلالہ وغيرہ كنندہ كروانے ميں كوئى حرج ہے.

بخارى اور مسلم نے انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاندى كى انگوٹھى بنوائى اور اس پر محمد رسول اللہ كنندہ كروايا، اور فرمايا:

" ميں نے چاندى كى انگوٹھى بنوائى ہے، اور اس ميں محمد رسول اللہ نقش كروايا ہے، تو كوئى اور اس نقش جيسا نقش كنندہ نہ كروائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5877 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2092 ).

يہ حديث اس بات كى دليل ہے كہ انگوٹھى ميں لفظ جلالہ كنندہ كروانا جائز ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وہ نقش كنندہ كروانے سے منع اس ليے فرمايا تھا كہ اس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نام اور آپ كى صفت تھى، اور يہ اس ليے بنوائى گئى تھى تا كہ بطور مہر استعمال كى جا سكے، اور يہ ايك علامت اور نشانى بن جائے جس سے دوسروں سے تميز ہو، تو اگر كسى اور كے ليے وہ نقش اور الفاظ كنندہ كروانے جائز ہوتے تو پھر مقصد ہى فوت ہو جاتا " حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كى كلام ختم ہوئى. ماخوذ از: فتح البارى.

بہت سارے سلف رحمہ اللہ سے منقول ہے كہ انہوں نے اپنى انگوٹھيوں پر ايسى عبارتك نندہ كروائى جس ميں لفظ جلالہ بھى تھا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بعض كا ذكر فتح البارى ميں كرتے ہوئے كہا ہے:

" ابن ابى شيبہ نے " المصنف ابن ابى شيبہ " ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے نقل كيا ہے كہ انہوں نے اپنى انگوٹھى ميں عبد اللہ بن عمر كنندہ كروايا تھا.

اور ابن ابى شيبہ نے حذيفہ اور ابو عبيدہ سے روايت كيا ہے كہ ان دونوں نے اپنى انگوٹھيوں پر الحمد للہ كےالفاظ كنندہ كروائے تھے.

اور على رضى اللہ تعالى عنہ نے " اللہ الملك " كے الفاظ كنندہ كروائے تھے.

اور ابراہيم النخعى رحمہ اللہ نے " باللہ " كے الفاظ كنندہ كروائے تھے.

اور مسروق رحمہ اللہ نے " بسم اللہ " كے الفاظ كنندہ كروائے تھے.

اور ابو جعفر الباقر نے " العزۃ للہ " كے الفاظ كنندہ كروائے.

اور حسن اور حسين رضى اللہ عنہما سے مروى ہے كہ: انگوٹھى پر اللہ كا نام كنندہ كروانےميں كوئى حرج نہيں.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جمہور كا قول يہى ہے.

اور ابن سيرين اور بعض اہل علم سے اس كى كراہت منقول ہے. انتہى.

ابن ابى شيبہ نے صحيح سند كے ساتھ ابن سيرين رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے كہ:

" وہ انگوٹھى ميں " حسبى اللہ " وغيرہ الفاظ كنندہ كروانے ميں كوئى حرج نہيں سمجھتے تھے.

تو يہ اس بات كى دليل ہے كہ كراہت والا قول ان سے ثابت نہيں ہے.

اور اس ميں جمع كرنا بھى ممكن ہے كہ: كراہت اس وقت ہے جب اسے جنبى اور حائضہ پہن كر ركھينگے، اور اس ہاتھ ميں پہننے كا خدشہ ہو جس سےاستنجاء كيا جاتا ہے.

اور جواز اس طرح كہ اس سے ايسا ممكن نہ ہو، تو اس كى كراہت اس بنا پر ہو گى. واللہ تعالى اعلم. انتہى.

واللہ اعلم

Friday, August 10, 2018

٢٩-بال اتارنے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا انسان كے ليے اپنے جسم كے بال مونڈنے جائز ہيں، كيونكہ جب شديد گرمى يا پھر كوئى ورزش وغيرہ كر رہا ہو تو پسينہ سے شرابور ہو جاتا ہے، ميرى مراد يہ ہے كہ سينہ اور پشت اور ٹانگوں كے بال وغيرہ ؟

الحمد للہ:

شريعت ميں بال تين قسم كے ہيں:

پہلى قسم:

وہ بال جنہيں باقى ركھنے كا حكم ہے، اور وہ مرد كى داڑھى كے بال ہيں.

دوسرى قسم:

وہ بال جنہيں اتارنے اور ختم كرنے كا حكم ہے، يہ بغلوں، اور زير ناف بال، اور مونچھوں كے ہونٹوں سے لمبے ہونے والے بال ہيں.

تيسرى قسم:

وہ بال جن كے متعلق شريعت ساكت ہے، مثلا ہاتھ، پاؤں اور سينہ اور پيٹھ كے بال، تو ان كا زائل كرنا جائز ہے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...