Wednesday, August 22, 2018

٦٨٧- اگر مجھے گیارہ، بارہ، یا تیرہ ذی الحجہ کو قربانی کرنی ہو تو میں ناخن یا بال کب کٹواؤنگا.؟


سوال - اگر مجھے گیارہ، بارہ، یا تیرہ ذی الحجہ کو قربانی کرنی ہو تو میں ناخن یا بال کب کٹواؤنگا.؟ آیا قربانی سے پہلے یعنی بعد عید نماز یا قربانی کے بعد.؟
الحمدللہ
جس شخص کے پاس جانور ہو وہ اسے قربان کرنا چاہتا ہو اور ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اس کے لیے قربانی کرنے تک بال یا ناخن کاٹنا جائز نہیں کیوں آپۖ نے فرمایا: ''مَنْ کَانَ لَہُ ذِبْح یَّذْبَحُہُ، فَاِذَا أُہِلَّ ہِلَال ذِی الْحَجَّةِ، فَلاَ یَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِہِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِہِ شَیْئاً'' (صحیح مسلم/١٩٧٧)
'' جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے جانور موجود ہواور وہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے لے کر قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹے''۔
اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بال یا ناخن قربانی کرنے کے بعد کاٹنا ہے نا کہ نماز عید کے بعد، اب چاہے قربانی دس کو کی جائے یا گیارہ، بارہ، تیرہ کو، جب قربانی کر لے اس کے بعد ہی ناخن یا بال وغير کاٹے جائیں گے، البتہ جو شخص دو یا تین یا اس سے زائد قربانیاں کر رہا ہو تو اس کیلیے یہ حکم ہیکہ وہ پہلی قربانی کے بعد بال وغیرہ کٹوا سکتا ہے -
اب اگر کوئی شخص اس حکم کی مخالفت کرتے ہوئے بال یا ناخن کاٹ لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، لیکن اس پر کوئی فدیہ(جرمانہ) وغیرہ نہیں ہے خواہ اس نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا ہو۔ (فتاویٰ اسلامیہ /فتویٰ کمیٹی ٤١٩)
اس متعلق مزید تفصیلات کیلیے ہمارے ویب سائٹ پر موجود جواب نمبر (204). ( 205) ، اور (206) کا مطالعہ کریں
واللہ اعلم

No comments:

Post a Comment

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...