Showing posts with label تیمم. Show all posts
Showing posts with label تیمم. Show all posts

Monday, August 27, 2018

٨٣٢-اگر تاخير سے بيدار ہو اور پانى ٹھنڈا ہو تو كيا تيمم كر لے ؟


سوال-ايك شخص كو رات احتلام ہوا اور صبح جب بيدار ہوا تو ڈيوٹى سے ليٹ ہوگيا اور موسم بھى ٹھنڈا اور بارش والا تھا تو اس نے پاكيزہ مٹى كے ساتھ تيمم كر ليا تو كيا ايسا كرنا اس كے ليے جائز تھا، يہ علم ميں رہے كہ اسے ڈيوٹى سے ليٹ ہونے كے ساتھ ساتھ بيمار اور ہلاك ہونے كا خدشہ تھا ؟

الحمد للہ:

جسے احتلام ہو اور منى خارج ہو جائے نماز كے ليے اس پرغسل جنابت كرنا واجب ہے، اس كے ليے غسل چھوڑ كر تيمم كرنا جائز نہيں، ليكن اگر اسے پانى نہ ملے، يا پھر پانى كے استعمال ميں اسے ضرر اور نقصان ہونے كا انديشہ ہو تو وہ غسل چھوڑ كر تيمم كر سكتا ہے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو! جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور اپنے پاؤں ٹخنوں تك دھوؤ، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو غسل كرو، اور اگر تم بيمار ہو يا مسافر، يا تم ميں كوئى شخص قضائے حاجت كر كے آئے، يا تم نے بيوى سے ہم بسترى كى ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو تم پاكيزہ مٹى كے ساتھ تيمم كرو، اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھ پر مسح كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مٹى مسلمان شخص كے وضوء ہے، چاہے اسے دس برس بھى پانى نہ ملے، اور جب اسے پانى ملے تو وہ اللہ سے ڈرے اور پانى كو اپنى جلد پر ڈالے كيونكہ يہ اس كے ليے بہتر ہے "

اسے بزار نے روايت كيا ہے اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 3861 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

تو جو شخص بھى جنابت كى حالت ميں بيدار ہو اور اسے موسم ٹھنڈا ہونے كى بنا پر ضرر اور نقصان پہنچنے كا خدشہ ہو اور وہ پانى گرم كر سكتا ہو تو اس كے ليے ايسا كرنا لازم ہے، چاہے نماز كا وقت بھى نكل جائے؛ كيونكہ سوايا ہوا شخص معذور ہے، اور اس كے حق ميں نماز كا وقت وہى ہے جب وہ بيدار ہوا ہو، تو اس كے ليے نماز ادا كرنى اور نماز كے ليے طہارت و پاكيزگى كى سب شروط پورى كرنى لازم ہيں.

اور اگر اسے پانى گرم كرنے كے ليے كچھ نہ ملے تو اس وقت اس كے ليے تيمم كرنا جائز ہے.

اور ڈيوٹى سے تاخير ہونے كا خوف كوئى ايسا عذر شمار نہيں ہوتا جس كى بنا پر غسل ترك كر كے اس كے ليے تيمم كرنا جائز ہوتا ہو.

اور جو شخص بھى بغير كسى جائز عذر كے تيمم كرے اسے اس تيمم كے ساتھ ادا كردہ نماز دوبارہ ادا كرنى ہوگى، تا كہ وہ برى الذمہ ہوسكے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر بہت شديد سردى ہو اور برتن ميں پانى جما ہوا ہو اور لوٹے ميں برف كى طرح اور انسان كو وضوء كرنا ہو، اور پانى اس پر اثرانداز ہو كر اسے بيمار كر ديتا ہو تو كيا كرنا چاہيے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اگر تو معاملہ ايسا ہى ہو جيسا بيان ہوا ہے تو وہ تيمم كر لے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں كوئى شخص قضائے حاجت كر كے آيا ہو، يا تم نے بيوى سے ہم بسترى كى ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو تم پاكيزہ مٹى سے تيمم كرلو، اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح كرو ﴾.

ليكن اگر اس كے ليے آگ پر پانى گرم كرنا ممكن ہو تو اس كے ليے ايسا كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے غسل كرنا واجب ہوگا كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى كا تقوى اپنى استطاعت كے مطابق اختيار كرو ﴾. انتہى.

واللہ اعلم

٨١٢-عذر كى حالت جنابت سے تيمم كرنا جائز ہے


سوال-كيا تيمم كر كے جنابت ختم كرنى جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اگر پانى استعمال نہ كرنے كا كوئى شرعى عذر مثلا پانى نہ ملے، يا بيمارى وغيرہ كى بنا پر پانى استعمال كرنا مشكل ہو تو پھر تيمم پانى اور غسل كے قائم مقام ہو گا، چنانچہ جنبى شخص اس حالت ميں تيمم كر كے نماز ادا كرلے، اور جب اسے پانى ملے يا عذر زائل ہو جائے تو غسل كرنا ہوگا.

اس كے دلائل قرآن و مجيد ميں موجود ہيں:

1 - اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہو تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور اپنے پاؤں ٹخنوں تك دھوؤ اور اگر تم جنبى ہو تو غسل كرو، اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں سے كوئى قضائے حاجت كر كے آئے يا تم نے بيويوں سے جماع كيا ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو، اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھ كا مسح كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالى نے ان سب اسباب كى بنا پر ہميں طہارت صغرى اور طہارت كبرى اور تيمم كرنے كا حكم ديا ہے. اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن تيميۃ ( 21 / 396 ).

طہارت صغرى سے مراد وضوء، اور طہارت كبرى سے مراد غسل كرنا ہے.

2 - امام بخارى رحمہ اللہ نے دو مقام پر درج ذيل روايت بيان كى ہے:

عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كو لوگوں سے دور عليحدہ بيٹھے ہوئے ديكھا جس نے نماز ادا نہ كى تھى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے: يا فلاں تمہيں لوگوں كے ساتھ نماز ادا كرنے سے كس چيز نے منع كيا ؟

تو اس نے جواب ديا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں جنبى ہوں اور پانى نہيں ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

آپ كو مٹى استعمال كرنى چاہيے، كيونكہ تمہيں يہ كفائت كرتى ہے "

اور ايك روايت ميں ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو پانى مل گيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جبنى شخص كو پانى كا ايك برتن دے كر فرمايا: جاؤ اپنے اوپر انڈيل لو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 344 ) اور ( 348 ).

يہ اس بات كى دليل ہے كہ تيمم سے بھى طہارت ہوتى ہے، اور اگر پانى نہ ملے تو پھر تيمم كرنا واجب ہے، اور جيسے ہى پانى مل جائے تو پانى استعمال كرنا واجب ہوگا اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس شخص كو اپنے اوپر پانى انڈيلنے كا حكم ديا تھا، حالانكہ اسے دوسرى بار جنابت نہيں ہوئى تھى "

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 239 ).

3 - امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے روايت كيا ہے كہ ايك شخص عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس آيا اور كہنے لگا: ميں جنبى ہوں اور پانى نہيں مل رہا، تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ فرمانے لگے: تم نماز ادا نہ كرو، تو عمار رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:

يا امير المؤمنين كيا آپ كو ياد نہيں كہ ميں اور آپ دونوں ہى ايك لشكر ميں تھے اور جنبى ہو گئے اور ہميں پانى نہ ملا تو آپ نے تو نماز ادا نہ كى، ليكن ميں نے مٹى ميں الٹ پلٹ ہونے كے بعد نماز ادا كر لى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" بلكہ آپ كو صرف اتنا ہى كافى تھا، كہ آپ اپنے دونوں ہاتھ زمين پر مارتے اور پھر ان ميں پھونك كر اپنے چہرے پر پھير ليتے "

تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: عمار اللہ تعالى سے ڈرو! تو عمار رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: اگر آپ چاہتے ہيں تو ميں يہ حديث بيان نہيں كرتا، تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: ہم تجھے اسى پر ركھتے ہيں جس پر تم ہو.

اور ايك روايت ميں ہے: عمار رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: اے امير المومنين آپ كو اللہ تعالى نے جو مجھ پر حق ديا ہے اگر آپ اس كى بنا پر چاہتے ہيں تو ميں يہ حديث كسى كو بيان نہيں كرتا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 368 ).

چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ يہ واقعہ بھول چكے تھے، اسى ليے عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:

" اے عمار اللہ تعالى سے ڈرو! "

اس كا معنى يہ ہے كہ: عمر رضى اللہ تعالى عنہ عمار رضى اللہ تعالى عنہ كو يہ كہ رہے ہيں كہ: عمار جو كچھ تم بيان كر رہے ہو اور جو ثابت كرنا چاہتے ہو اس ميں اللہ تعالى سے ڈرو، شائد تم بھول رہے ہو يا معاملہ ميں شبہ پيدا ہو گيا ہے.

اور عمار رضى اللہ تعالى عنہ كا يہ قول كہ:

" اگر آپ چاہتے ہيں كہ ميں اس حديث كو بيان نہ كروں "

واللہ اعلم اس كا معنى يہ ہے كہ: اگر آپ ميرى اس حديث بيان نہ كرنے ميں كوئى مصلحت سمجھتے ہيں تو ميں حديث بيان نہيں كرتا، كيونكہ معصيت كے علاوہ ہر معاملہ ميں آپ كى اطاعت و فرمانبردارى مجھ پر واجب ہے، اور اس مسئلہ ميں جو سنت طريقہ تھا اس كى تبليغ اور علم ميں لانا يہ تو ہو چكا ہے، اور جب عمار رضى اللہ تعالى عنہ اس كے بعد حديث بيان نہ كريں تو علم چھپانے ميں وہ شامل نہيں ہوتے، كيونكہ انہوں نے ايك بار حديث بياني كر دى ہے.

اور يہ بھى احتمال ہے كہ اگر آپ اس حديث كو لوگوں ميں مشہور نہيں كرنا چاہتے تو ميں ايسا نہيں كرتا بلكہ اس حديث كو نادر ہى بيان كيا كرونگا " اھـ.

شرح مسلم للنووى.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: ہم تجھے اسى پر ركھتے ہيں جس پر تم ہو "

" يعنى مجھے اس واقعہ كا ياد نہ رہنے كا مطلب يہ نہيں كہ يہ مسئلہ واقعى حقيقت نہيں، اس ليے مجھے كوئى حق حاصل نہيں كہ ميں آپ كو يہ حديث بيان كرنے سے منع كروں "

ديكھيں: فتح البارى لابن حجر.

4 - عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ غزوہ ذات السلاسل ميں ايك شديد سرد رات مجھے احتلام ہوگيا اور مجھے يہ خدشہ پيدا ہوا كہ اگر غسل كيا تو ہلاك ہو جاؤنگا، چنانچہ ميں نے تيمم كر كے اپنے ساتھيوں كو فجر كى نماز پڑھا دى.

انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے اس كا ذكر كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" اے عمرو كيا تم نے اپنے ساتھيوں كو جنابت كى حالت ميں ہى نماز پڑھا دى ؟ !

چنانچہ ميں نے آپ كے سامنے غسل ميں مانع سبب ركھا، اور كہنےلگا: ميں نے اللہ تعالى كا يہ فرمان سن ركھا تھا:

﴿ اور تم اپنے آپ كو قتل مت كرو، يقينا اللہ تعالى تمہارے ساتھ رحم كرنے والا ہے ﴾.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مسكرانے لگے اور مجھے كچھ بھى نہ كہا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 334 ) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح البارى ( 1 / 589 ) ميں اس كى سند كو قوى اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور امام بخارى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر جنبى شخص كو اپنى بيمار يا مرنے كا خدشہ ہو، يا پھر پياس لگنے كا ڈر ہو تو وہ تيمم كر لے، اور عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہ كے متعلق بيان كيا جاتا ہے كہ انہيں ايك شديد سرد رات ميں احتلام ہو گيا تو انہوں نے تيمم كر ليا اور يہ آيت تلاوت كى:

﴿ اور اپنے آپ كو قتل مت كرو، يقينا اللہ تعالى تمہارے ساتھ رحم كرنے والا ہے ﴾.

چنانچہ اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے ذكر كيا گيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں جھڑكا نہيں، اور نہ ہى ان پر سختى كى " اھـ.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر كسى شخص كو احتلام، يا حلال يا حرام جماع كرنے كى بنا پر جنابت ہو جائے تو اسے غسل كر كے نماز ادا كرنا ہوگى، ليكن اگر پانى نہ ملنے يا پھر پانى استعمال كرنے كى بنا پر ضرر اور نقصان كا انديشہ ہو مثلا بيمارى بڑھ جائے، يا ہوا بہت زيادہ ٹھنڈى ہو، اور اگر غسل كرے تو اسے بيمار ہونے يا نزلہ و زكام كى شدت ہونے كا خدشہ ہو تو وہ تيمم كر كے نماز ادا كر لے، چاہے مرد ہو يا عورت اس ميں كوئى فرق نہيں، اسے نماز وقت سے تاخير كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں ہے " اھـ

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميۃ ( 21 / 451 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا تيمم كرنا جنبى شخص سے غسل مكمل طور پر ساقط كر ديتا ہے، اور اس تيمم كے ساتھ ميں كتنى نمازيں ادا كر سكتا ہوں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" تيمم پانى كے قائم مقام ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالى نے مسلمانوں كے ليے زمين مسجد اور پاكيزگى كا باعث بنائى ہے، اس ليے جب پانى نہ ملے، يا پھر كسى بيمارى وغيرہ كى بنا پر پانى استعمال كرنے سے عاجز ہو تو تيمم پانى كے قائم مقام ہو گا، اور تيمم اس وقت تك كافى ہے جب تك پانى نہيں ملتا چنانچہ جب بھى اسے پانى ملے تو اسے سابقہ غسل جنابت كرنا واجب ہے، اور اسى طرح جب مريض شفاياب ہو جائے، اور اللہ تعالى اسے عافيت سے نوازے تو وہ اس سابقہ جنابت سے غسل كرے گا جس سے اس نے تيمم كيا تھا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اگر كسى مسلمان شخص كو دس برس تك بھى پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى اس كے ليے طہارت ہے، پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: چنانچہ جب آپ كو پانى ملے تو اسے اپنى جلد سے لگاؤ "

اسے امام ترمذى رحمہ اللہ نے ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ سے، روايت كيا ہے، اور بزار نے بھى روايت كيا ہے، اور ابن قطان نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا اور اسے صحيح قرار ديا ہے.

چنانچہ جب اسے پانى ملے تو وہ اپنى جلد كو تر كرے "

اس كا معنى يہ ہے كہ: جو كچھ ہو چكا ہے اس كے بعد وہ غسل كرے، اور پانى نہ ملنے كى بنا پر، يا پانى استعمال كرنے سے عاجز ہونے يا بيمارى كى بنا پر پانى استعمال نہ كر سكنے كى وجہ سے تيمم كر كے ادا كردہ پچھلى تمام نمازيں صحيح ہيں، حتى كہ وہ بيمارى ختم ہو جائے اور اسے شفا مل جائے، يا پھر پانى نہ ملنے كى صورت ميں جب پانى مل جائے تو اسے غسل كرنا ہوگا چاہے كتنى ہى دير بعد ملے.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 10 / 201 ).

واللہ اعلم

٨١١-آپريش كى وجہ سے حيض كا غسل نہيں كر سكتى كيا تيمم كر لے ؟


سوال-ميرا آپريشن ہوا ہے اور مجھے ماہوارى آئى ہوئى ہے، ماہوارى كے بعد ميں نماز ادا كرنا چاہتى ہوں مجھے كيا كرنا ہوگا، كيا ميں تيمم كر لوں اور حيض سے تيمم كرنے كا طريقہ كيا ہے، اور كيا مجھے ہر نماز كے ليے تيمم كرنا ہوگا ؟

الحمد للہ:

حائضہ عورت كے ليے طہر آنے كے بعد نماز ادا كرنے كے ليے حيض سے غسل كرنا لازم ہے، اور اگر پانى استعمال كرنے كى قدرت نہ ركھنے كى بنا پر وہ غسل نہ كر سكے يعنى اگر وہ چارپائى سے نہ اٹھ سكے، يا پھر اسے پانى نقصان ديتا ہو تو وہ تيمم كر لے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب شريعت اسلاميہ كى اساس اور بنياد آسانى اور سہولت ہے تو اللہ سبحانہ وتعالى نے معذور لوگوں پر ان كى عبادات ميں ان كے عذر كے حساب سے تخفيف فرمائى ہے تا كہ وہ اللہ تعالى كى عبادت بغير كسى حرج اور مشقت كے ادا كر سكيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس نے تم پر دين ميں كوئى تنگى نہيں ركھى ﴾.

اور ايك مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:

﴿ اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى چاہتا ہے، اور تمہارے ساتھ تنگى اور مشكل نہيں چاہتا ﴾.

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اللہ تعالى كا تقوى اپنى استطاعت كے مطابق اختيار كرو ﴾.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كسى چيز كا حكم دوں تو تم اپنى استطاعت كے مطابق اس پر عمل كرو "

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا دين آسان ہے "

تو اگر مريض اور بيمار شخص پانى كے ساتھ طہارت يعنى بے وضوء ہونے كى صورت ميں پانى سے وضوء اور جنابت يا حيض وغيرہ كى بنا پر غسل كرنے كى استطاعت نہ ركھے اور وہ پانى استعمال كرنے سے عاجز ہو يا پھر اسے خدشہ ہو كہ پانى استعمال كرنے شفايابى ميں تاخير ہوگى يا زخم خراب ہو جائيگا يا بيمارى بڑھ جائيگى، تو وہ تيمم كر سكتا ہے.

تيمم كا طريقہ يہ ہے كہ:

اپنے دونوں ہاتھ پاكيزہ مٹى پر ايك بار مارے اور اپنى انگليوں سے چہرے پر مسح كرے، اور دونوں ہتھيليوں پر، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں كوئى ايك قضائے حاجت كر كے آيا ہو، يا تم نے بيوى كے ساتھ ہم بسترى كى ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو تم پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو، اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرو ﴾.

اور پانى استعمال كرنے سے عاجز شخص بھى اس شخص كے حكم ميں ہى آتا ہے جسے پانى نہ ملے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو تم اللہ تعالى كا تقوى اور ڈر اپنى استطاعت كے مطابق اختيار كرو ﴾.

اور اس ليے بھى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كسى چيز كا حكم دوں تو تم اس پر اپنى استطاعت كے مطابق عمل كرو "

اور ان كا مزيد كہنا ہے كہ:

مريض كے ليے طہارت كى كئى ايك حالتيں ہيں:

1 - اگر اس كى بيمارى ہلكى اور كم ہو كہ پانى كے استعمال سے كوئى خدشہ نہ ہو نہ تو اس كے تلف ہونے كا اور نہ ہى بيمارى زيادہ ہونے كا خوف ہو، اور نہ ہى شفايابى ميں تاخير ہونے اور درد زيادہ ہونے كا، يا پھر وہ گرم پانى استعمال كرنے والوں ميں شامل ہوتا ہو كہ گرم پانى اسے كوئى نقصان اور ضرر نہيں ديتا تو اس شخص كےليے تيمم كرنا جائز نہيں كيونكہ اس كى اباحت ضرر كى نفى كے ليے ہے، اور اس كو كوئى ضرر اور نقصان نہيں؛ اور اس ليے بھى كہ اس كے پاس پانى ہے اس ليے اس كے ليے پانى استعمال كرنا واجب ہے.

2 - اور اگر اسے ايسى بيمارى ہو كہ پانى كے استعمال سے ہلاكت نفس كا خدشہ ہو، يا پھر كسى عضو كے تلف ہونے كا خدشہ، يا كوئى ايسى بيمارى پيدا ہونے كا جس سے نفس كى ہلاكت كا خدشہ ہو، يا كسى عضو كے تلف ہونے كا، يا كوئى منفعت اور فائدہ ختم ہونے كا تو ايسے شخص كے ليے تيمم كرنا جائز ہے، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم اپنى جانوں كو ہلاكت ميں نہ ڈالو، يقينا اللہ تعالى تمہارے ساتھ بہت رحم كرنے والا ہے ﴾.

3 - اور اگر اسے ايسى بيمارى لاحق ہو جس كى بنا پر وہ حركت نہ كر سكے، اور نہ ہى كوئى ايسا شخص ہو جو اسے پانى پكڑا سكے تو اس كے ليے بھى تيمم كرنا جائز ہے.

4 - جس شخص كو زخم ہوں، يا پھر پھنسى اور پھوڑے، يا اس كى ہڈى ٹوٹى ہوئى ہو، يا ايسى بيمارى ہو جس كى بنا پر پانى استعمال كرنا مضر اور نقصان دہ ہو اور وہ شخص جنبى ہو جائے تو اس كے ليے بھى مندرجہ بالا دلائل كى بنا پر تيمم كرنا جائز ہے، اور اگر صحيح جسم كو دھونا ممكن ہو تو اس كے ايسا كرنا ضرورى ہے، اور باقى باقى كے ليے تيمم كر لے.

5 - اگر مريض كسى ايسى جگہ ہو جہاں نہ تو پانى ملے اور نہ ہى مٹى، اور نہ ہى كوئى ايسا شخص ہو جو يہ اشياء لا كر دے، تو يہ شخص اپنى حسب حالت ہى نماز ادا كريگا، اور اسے نماز ميں تاخير كرنے كا كوئى حق نہيں، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تو تم اللہ تعالى كا تقوى اور ڈر اپنى استطاعت كے مطابق اختيار كرو ﴾. انتہى.

ماخوذ از: الفتاوى المتعلقۃ بالطب و احكام المرضى صفحہ ( 26 ).

دوم:

حيض سے تيمم كا طريقہ بھى حدث اصغر سے تيمم كے طريقہ سے كوئى مختلف نہيں، بلكہ وہى طريقہ ہے.

شيخ ابن باز كى كلام ميں تيمم كرنے كا طريقہ بيان ہو چكا ہے، اور اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 684 ) كے جواب ميں ہو چكا ہے اس كا مطالعہ كر ليں.

سوم:

تيمم وضوء كى طرح ہى ہے اور وہ پليدى كو ختم كر ديتا ہے، راجح قول يہى ہے، تو اس طرح اس سے ايك نماز سے زائد نمازيں ادا كى جا سكتى ہيں، اور آپ كے ليے ہر نماز كے وقت تيمم كرنا لازم نہيں، اگر آپ كا تيمم ٹوٹا نہ ہو.

مثلا اگر آپ نے ظہر كى نماز كے ليے تيمم كيا اور آپ كا وضوء نہيں ٹوٹا تو آپ كے ليے اسى تيمم كے ساتھ عصر كى نماز ادا كرنى جائز ہے، اور اسى طرح باقى نمازوں ميں بھى.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر انسان نے نفلى نماز كے ليے تيمم كيا ہو تو كيا وہ اس تيمم سے فرضى نماز ادا كر سكتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" تيمم حدث اور پليدى كو ختم كر ديتا ہے، تو اس وقت اگر اس نے نفلى نماز كے ليے تيمم كيا ہو تو اس سے فرضى نماز ادا كر سكتا ہے، جيسا كہ اگر كسى نے نفلى نماز كے ليے وضوء كيا ہو تو اس كے ليے اسى وضوء كے ساتھ فرضى نماز ادا كرنا جائز ہے، اور اس كے ليے اگر اس كا وضوء اور تيمم نہيں ٹوٹا تو وقت نكل جانے پر دوبارہ تيمم كرنا واجب نہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 11 / 240 ).

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...