Showing posts with label طلاق. Show all posts
Showing posts with label طلاق. Show all posts

Wednesday, September 26, 2018

1018- عدت کے مسائل


س: عدت کا کیا حکم ہے اور بیوی کتنے دنوں تک عدت کرے گی.؟ اسکے مسائل واضح کریں
الحمدللہ
راوی:
مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ عدت کا بیان۔ ۔ حدیث 525
وعن أم حبيبة وزينب بنت جحش عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا "
(2/256)
3331 – [ 8 ] ( متفق عليه )
وعن أم عطية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " لا تحد امرأة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت نبذة من قسط أو أظفار " . متفق عليه . وزاد أبو داود : " ولا تختضب "

اور حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ہاں اپنے شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن تک کیا کرے ( بخاری ومسلم)
تشریح :
سوگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بناؤ سنگھار ترک کر دے اور خوشبو وسرمہ وغیرہ لگانے سے پرہیز کرے چنانچہ یہ سوگ کرنا کسی دوسری میت پر تو تین دن سے زیادہ جائز نہیں ہے ۔ لیکن اپنے شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن تک یعنی ایام عدت میں سوگ کرنا واجب ہے۔
اب رہی یہ بات کہ چار مہینہ دس دن یعنی عدت کی مدت کی ابتداء کب سے ہوگی تو جمہور علماء کے نزدیک اس مدت کی ابتداء خاوند کی موت کے بعد سے ہوگی لیکن حضرت علی اس کے قائل تھے کہ عدت کی ابتداء اس وقت سے ہو گی جس وقت کہ عورت کو خاوند کے انتقال کی خبر ہوئی ہے لہذا اگر کسی عورت کا خاوند کہیں باہر سفر وغیرہ میں مر گیا اور اس عورت کو اس کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر گئے تو جمہور علماء کے نزدیک عدت پوری ہوگئی جب کہ حضرت علی کے قول کے مطابق اس کی عدت پوری نہیں ہوگی بلکہ اس کو خبر ہونے کے وقت سے چار مہینے دس دن تک عدت میں بیٹھنا ہوگا۔
اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے ہاں اپنے شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور ان ایام یعنی زمانہ عدت میں عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے نہ سرمہ لگائے اور نہ خوشبو لگائے البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کرے تو قباحت نہیں ( بخاری ومسلم)
تشریح :
رنگین کپڑے سے مراد وہ کپڑا ہے جو کسم ، زعفران اور گیرو وغرہ کے تیز اور شوخ رنگ میں رنگا گیا ہو اور عام طور پر زینت و آرائش کے طور پر پہنا جاتا ہو اور کتاب کافی میں لکھا ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس رنگین کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ ہو تو وہ رنگین کپڑا بھی پہن سکتی ہے کیونکہ اس کی سترپوشی بہرحال زیادہ ضروری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ان رنگین کپڑوں کو زیب و زینت کے مقصد سے استعمال نہ کرے۔
عصب اس زمانہ میں ایک خاص قسم کی چادر کو کہتے تھے جو اس طور پر بنی ہوتی تھی کہ پہلے سوت کو جمع کر کے ایک جگہ باندھ لیتے تھے پھر اس کو کسم میں رنگتے تھے اور اس کے بعد اس کو بنتے تھے چنانچہ وہ سرخ رنگ کی ایک چادر ہو جاتی تھی جس میں سفید دھاریاں بھی ہوتی تھیں کیونکہ سوت کو باندھ کر رنگنے کی وجہ سے سوت کا وہ حصہ سفید رہ جاتا تھا جو بندھا ہوا ہوتا تھا ۔
اس سے بھی معلوم ہوا کہ عدت والی عورت کو رنگین کپڑا پہننے کی جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس کپڑے سے ہے جو بننے کے بعد رنگا گیا ہو تو اس کا پہننا بھی درست ہے۔
علامہ ابن ہمام حنفی یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء حنفیہ کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب کا پہننا بھی درست نہیں ہے حضرت امام شافعی کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب پہننا جائز ہے خواہ وہ موٹا ہو یا مہین ہو جب کہ حضرت امام مالک مہین عصب کو پہننے سے منع کرتے ہیں موٹے عصب کو منع نہیں کرتے۔
سرمہ لگانے کے سلسلہ میں ائمہ کے جو اختلافی اقوال ہیں وہ پیچھے حضرت ام سلمہ کی روایت کے ضمن میں بیان کئے جا چکے ہیں علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حنفی مسلک کے مطابق عدت والی عورت کو مجبوری کی حالت میں سرمہ لگانا جائز ہے ویسے جائز نہیں ہے۔
قسط اور اظفار یہ دونوں ایک قسم کی خوشبو ہیں قسط تو عود کو کہتے ہیں جس عام طور پر عورتیں یا بچے دھونی لیتے ہیں کرمانی نے کہا ہے کہ قسط عود ہندی کو کہتے ہیں جسے اگر یا کوٹ کہا جاتا ہے۔
اظفار ایک قسم کا عطر ہوتا تھا یہ دونوں خوشبوئیں اس زمانہ میں عام طور پر عرب کی عورتیں حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے شرمگاہ میں استعمال کرتی تھیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدت والی عورت کو خوشبو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن حائضہ کو حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے ان دونوں خوشبوؤں کے استعمال کی اجازت دے دی۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر گیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے چنانچہ اس پر تمام علماء کا اجماع واتفاق ہے البتہ سوگ کی تفصیل میں اختلافی اقوال ہیں۔
حضرت امام شافعی اور جمہور علماء تو یہ کہتے ہیں کہ خاوند کی وفات کے بعد ہر عدت والی عورت پر سوگ کرنا واجب ہے خواہ وہ مدخول بہا ہو یعنی جس کے ساتھ جماع ہو چکا ہو یا غیر مدخول بہا ہو ( یعنی جس کے ساتھ جماع نہ ہوا ہو) خواہ چھوٹی ہو یا بڑی خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ خواہ آزاد ہو یا لونڈی اور خواہ مسلمہ ہو یا کافرہ۔
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک سات قسم کی عورتوں پر سوگ واجب نہیں ہے جس کی تفصیل درمختار کے مطابق یہ ہے کہ
(١) کافرہ (٢) مجنونہ (٣) صغیرہ (٤) معتدہ عتق یعنی وہ ام ولد جو اپنے مولیٰ کی طرف سے آزاد کئے جانے یا اپنے مولیٰ کے مر جانے کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٥) وہ عورت جو نکاح فاسد کی عدت میں بیٹھی ہو (٦) وہ عورت جو وطی بالشبہ کی عدت میں بیٹھی ہو یعنی جس سے کسی غیر مرد نے غلط فہمی میں جماع کر لیا ہو اور اس کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٧) وہ عورت جو طلاق رجعی کی عدت میں بیٹھی ہو ۔
جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ خاوند کے علاوہ کسی کے مرنے پر عورت کو تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور تین دن تک بھی صرف مباح ہے واجب نہیں ہے چنانچہ اگر تین دنوں میں بھی خاوند سوگ کرنے سے منع کرے تو اس کو اس کا حق ہے کیونکہ بیوی کے بناؤ سنگار کا تعلق خاوند کے حق سے ہے اگر تین دنوں میں خاوند کی خواہش یہ ہو کہ وہ سوگ ترک کر کے بناؤ سنگار کرے اور بیوی خاوند کا کہنا نہ مانے تو اس بات پر بیوی کو مارنا خاوند کے لئے جائز ہے کیونکہ سوگ کرنے میں خاوند کا حق فوت ہو جاتا ہے۔
سوگ کے احکام و مسائل
جس عورت کو طلاق رجعی ملی ہو اس کی عدت تو فقط اتنی ہی ہے کہ وہ مقررہ مدت تک گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اس کے لئے بناؤ سنگھار وغیرہ درست ہے اور جس عورت کو جو مکلفہ مسلمہ یعنی بالغ و عاقل اور مسلمان ہو تین طلاقیں مل گئیں یا ایک طلاق بائن یا اور کسی طرح سے نکاح ٹوٹ گیا یاخاوند مر گیا تو ان سب صورتوں میں اس کے لئے یہ حکم ہے کہ جب تک عدت میں رہے تب تک نہ تو گھر سے باہر نکلے نہ اپنا دوسرا نکاح کرے اور نہ بناؤ سنگھار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں۔ اس سنگھار نہ کرنے اور میلے کچیلے رہنے کو سوگ کہتے ہیں۔
جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا کپڑے بسانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا سرمہ لگانا پان کھا کر منہ لال کرنا مسی مسلنا سر میں تیل ڈالنا کنگھی کرنا مہندی لگانا اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہار دار کپڑے پہننا یہ سب باتیں ممنوع ہیں۔ ہاں مجبوری کی حالت میں اگر ان میں سے کوئی چیز اختیار کی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں مثلا سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو بغیر خوشبو کا تیل ڈالنا درست ہے اسی طرح دوا کے لئے سرمہ لگانا بھی ضرورت کے وقت درست ہے۔
جس عورت کا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا بلکہ بے قاعدہ ہو گیا تھا اور وہ فسخ کرا دیا گیا یا خاوند مر یا تو ایسی عورت پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔ اسی طرح جو عورت عتق یعنی آزادی کی عدت میں ہو جیسے ام ولد کو اس کا مولیٰ آزاد کر دے اور وہ اس کیوجہ سے عدت میں بیٹھی ہو تو اس پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔
جو عورت عدت میں بیٹھی ہو اس کے پاس نکاح کا پیغام بھیجنا جائز نہیں ہے ہاں نکاح کا کنایۃ یعنی یہ کہنا کہ میں اس عورت سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتا ہوں یا اس سے نکاح کرنے کا میں ارادہ رکھتا ہوں جائز ہے، مگر یہ بھی اس صورت میں جائز ہے کہ جب کہ وہ عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو اگر طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔
جو عورت طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو اس کو تو کسی بھی وقت گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے ہاں جو عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو وہ دن میں نکل سکتی ہے اور کچھ رات تک نکل سکتی ہے مگر رات اپنے گھر سے علاوہ دوسری جگہ بسر نہ کرے لونڈی اپنے آقا کے کام سے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔
معتدہ (عدت والی عورت) کو اپنی عدت کے دن اسی مکان میں گزارنے چاہئیں جس میں وہ فسخ وطلاق یا خاوند کی موت کے وقت سکونت پذیر ہو ہاں اگر اس مکان سے زبردستی نکالا جائے اس مکان میں اپنے مال واسباب کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس مکان کے گر پڑنے کا خطرہ ہو اور یا اس مکان کا کرایہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ان صورتوں میں کسی دوسرے مکان میں عدت بیٹھنا جائز ہے۔
اسی طرح اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ میاں بیوی ایک ہی مکان میں رہیں اگرچہ وہ طلاق بائن کی عدت میں بیٹھی ہو بشرطیکہ دونوں کے درمیان پردہ حائل رہے ہاں اگر خاوند فاسق اور ناقابل اعتماد ہو یا مکان تنگ ہو تو عورت اس گھر سے منتقل ہو جائے اگرچہ خاوند کا منتقل ہونا اولی ہے اور اگر میاں بیوی کے ایک ہی مکان میں رہنے کی صورت میں وہ دونوں اپنے ساتھ کسی ایسی معتمد عورت کو رکھ لیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے پر قادر ہو تو بہت ہی اچھا ہے۔
اگر مرد عورت کو اپنے ساتھ سفر میں لے گیا اور پھر سفر کے دوران اس کو طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں یا مرد مر گیا اور عورت کا شہر یعنی اس کا وطن اس جگہ سے کہ جہاں طلاق یا وفات واقع ہوئی ہے سفر شرعی یعنی تین دن کے سفر سے کم مسافت پر واقع ہو تو وہ اپنے شہر واپس آ جائے اور اگر اس مقام سے جہاں طلاق یا وفات ہوئی ہے اس کا شہر سفر شرعی ( یعنی تین دن کی مسافت) کے بقدر یا اس سے زائد فاصلہ پر واقع ہے اور وہ منزل مقصود (جہاں کے لئے سفر اختیار کیا تھا) اس مسافت سے کم فاصلہ پر واقع ہے تو اپنے شہر واپس آنے کی بجائے منزل مقصود چلی جائے اور ان دونوں صورتوں میں خواہ اس کا ولی اس کے ساتھ ہو یا ساتھ نہ ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ عورت طلاق یا وفات کے وقت کسی شہر میں ہو تو وہاں سے عدت گزارے بغیر نہ نکلے تو کسی محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد یہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو تو پھر عدت سے پہلے بھی اس شہر سے نکل سکتی ہے۔

واللہ اعلم 

Monday, September 10, 2018

1017-طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

س-طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

الحمد للہ 

اس مسئلہ میں کافی اختلاف کیا جاتا ہے - لیکن اختلاف کرنا نہیں چاہیے ، تاہم اگر اختلاف ہو جائے تو اس کا حل کہاں سے لینا ہے ؟؟؟
اس کا جواب بھی الله نے قرآن میں دیا ہے الحمد لله -
الله تعالیٰ فرماتا ہے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 

اے اہل ایمان ! اطاعت کرو الله کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے ، تو اسے لوٹا دو الله اور رسول کی طرف ، اگر تم واقعی الله پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ‘ ہو یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفید ہے
(النساء -59)

قارئین کرام ! یہاں یہ بات بہت قابل غور ہے کہ الله تعالیٰ نے فرمایا (تو اسے لوٹا دو الله اور رسول کی طرف ، اگر تم واقعی الله پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ‘ ہو) یعنی الله او رسول کی طرف سے جو فیصلہ آئے اسے قبول کرنا ہے اور الله اور اس کے رسول کی طرف صرف وہی لوٹائیں گے جو اہل ایمان ہیں -
یہ الفاظ (اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ) اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ایمان والے وہی ہیں جو صرف الله اور اس کے رسول کی پیروی کرتے ہیں -
اور جو ایمان والے نہیں ہیں وہ اختلاف کو اپنے آباؤ اجداد کی طرف لوٹاتے ہیں اور جو بھی وہاں سے بات ملتی ہے بس اسی کی تقلید کرنے لگ جاتے ہیں -یہ روش بالکل غلط ہے - جو کوئی ایسا کرتا ہے ، اس آیت کو پڑھ کر اسے اپنے ایمان کے متعلق سوچنا چاہیے -
بہر حال قارئین ! مضمون کو طول دینا تو نہیں چاہتے , لیکن یہ موضوع ہے ہی ایسا کہ اس پر مکمل تفصیل سے بات کی جائے -
ہم آپ کے سامنے صرف قرآن اور حدیث نبوی کی روشنی میں مسئلہ کا حل رکھ دیتا ہوں ان شاء الله ، 
پھر آپ ان دلائل کا مطالعہ کیجیے اور پھر اپنا محاسبہ کیجیے کہ آپ کس طرف چل رہے ہیں -
طلاق دینے اور رجوع کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟؟؟

الله تعالیٰ فرماتا ہے :
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّايُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ

طلاق(رجعی) دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے ‘ تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے یہ اللہ کی حدود ہیں ‘ پس ان سے تجاوز مت کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں
(البقرہ -229)

قارئین ! دور جاہلیت میں عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ مرد کو اپنی بیوی کو لاتعداد طلاقیں دینے کا حق حاصل تھا۔ ایک دفعہ اگر مرد بگڑ بیٹھتا، اور اپنی بیوی کو تنگ اور پریشان کرنے پر تل جاتا تو اس کی صورت یہ تھی کہ طلاق دی اور عدت کے اندر رجوع کرلیا پھر طلاق دی پھر رجوع کرلیا اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا، نہ وہ عورت کو اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے۔ 
چنانچہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا، دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کرلیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاریٰ) مرد نے اپنی بیوی سے کہا : اللہ کی قسم! میں نہ تجھ کو طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی تجھے بساؤں گا۔'' اس عورت نے پوچھا : وہ کیسے؟ وہ کہنے لگا، میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا۔'' یہ جواب سن کر وہ عورت حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔ حضرت عائشہ (رض) خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آپ کو یہ ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ ( اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّايُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَاتَعْتَدُوْھَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ٢٢٩۔) 2۔ البقرة :229) (ترمذی۔ ابو اب الطلاق٫ اللعان(
اس آیت سے اسی معاشرتی برائی کا سدباب کیا گیا اور مرد کے لیے صرف دو بار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا۔ 
قارئین ! طلاق دینے کا مسنون اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد حالت طہر میں عورت کو ایک طلاق دے اور پوری عدت گزر جانے دے۔
فائدہ یہ ہے کہ میاں بیوی اگرعدت کے اندر صلح کرنا چاہیں تو کر لیں لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر عدت گزر جانے کے بعد بھی آپس میں مل بیٹھنے پر رضامند ہوں تو تجدید نکاح سے یہ صورت ممکن ہے۔
یہ تو ہے سنّت طریقہ کار -
لیکن ایک(بدعتی ) طریقہ جو آج کل بھی کافی معروف ہے وہ ہے ایک ہی بار تین طلاقیں دینا -یعنی کوئی کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی -
قارئین ! یہ طریقہ خلاف سنّت ہے - یعنی بدعت ہے -اگرچہ بعض فرقوں کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ مگر سنت کی رو سے یہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
(١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر (رض) کے زمانہ میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمر نے کہا : لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کردیا جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کردیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ایسا قانون نافذ کردیا۔ (مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث) 
(٢) ابو الصہباء نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر صدیق (رض) کی خلافت میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا ؟ تو حضرت عباس نے فرمایا۔ ہاں۔'' (بحوالہ، ایضاً) 
(٣) ابو الصہباء نے حضرت عباس سے کہا : ایک مسئلہ تو بتلائیے کہ رسول اور حضرت ابو بکر صدیق (رض) کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا، ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمر (رض) کا زمانہ آیا تو اکٹھی تین طلاق دینے کا رواج عام ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے ان پر تین ہی نافذ کردیں۔ (حوالہ ایضاً) 
مندرجہ بالا تین احادیث اگرچہ الگ الگ ہیں۔ مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے۔
دور نبوی، دور صدیقی اور دور فاروقی کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بدعات میں مبتلا تھے اور یہی عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آ رہی تھی جو دور نبوی میں بھی کلیتہً ختم نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ
"رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی آدمی سے متعلق یہ خبر دی گئی کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دے ڈالی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور غصہ میں فرمانے لگے کہ کیا کتاب اللہ سے کھیل ہو رہا ہے۔ حالانکہ میں ابھی تم لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کو قتل کر ڈالوں؟"
( سنن نسائی كتاب الطلاق بَابُ: الثَّلاَثِ الْمَجْمُوعَةِ وَمَا فِيهِ مِنَ التَّغْلِيظِ) ​
مگر آج المیہ یہ ہے کہ مقلد حضرات ہوں یا بقیہ فرقے کوئی بھی اکٹھی تین طلاق دینے کو جرم سمجھتا ہی نہیں۔
جہالت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام تو درکنار، خواص بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جدائی کے لیے تین طلاق دینا ضروری ہیں۔ حالانکہ طلاق کی بہترین اور مسنون صورت یہی ہے کہ حالت طہر میں صرف ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے۔ تاکہ عدت گزر جانے کے بعد بھی اگر دونوں مل بیٹھنا چاہیں اور الله کی مقرر کردہ حدود کو قائم رکھ سکیں تو تجدید نکاح سے مسئلہ حل ہوجائے۔ 
اگر معاملہ ایسا ہو کہ پہلی طلاق کے بعد عدت کے اندر رجوع کر لیں یا پھر عدت کے بعد تجدید نکاح سے وہ دوبارہ مل جائیں ، لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ حالات کشیدہ ہو جائیں اور مرد دوسری مرتبہ طلاق دے دے ،تو بھی پہلے طریقہ کی طرح دوبارہ وہ مل سکتے ہیں 
لیکن اگر پھر سے اختلاف ہو جائے اور مرد تیسری دفعہ طلاق دے دے تو تیسری طلاق کے بعد ان کے آئندہ ملاپ کی(حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ)(البقرہ -230)کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔
الله تعالیٰ فرماتا ہے :
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُھَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ

پھراگر وہ طلاق دے اسے (تیسری بار)تو وہ حلال نہیں اس کے لیے اس کے بعد یہاں تک کہ وہ نکاح کرے کسی اور سے اس کے سوا پھراگروہ (دوسرا خاوند) اسے طلاق دے دے توکوئی گناہ نہیں ان دونوں پر کہ وہ رجوع کرلیں اگردونوں یہ خیال کریں کہ وہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی حدیں اوریہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں وہ کھول کھول کربیان کرتاہے ا نہیں اس قوم کے لیے (جو) علم رکھتے ہیںَ 
(البقرہ -230)

قارئین ! سورة البقرہ آیت ٢٣٠ کے مطابق تیسری طلاق کے بعد ان کے آئندہ ملاپ کی(حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ)(البقرہ -230)کے علاوہ کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔
خاوند نے جب تیسری بار طلاق دے دی۔ تو اب وہ اس کے لیے حرام ہوگئی۔ عورت پر عدت تو ہوگی، مگر مرد اس عدت میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اب ان دونوں کے ملاپ کی صرف یہ صورت ہے کہ عدت گزرنے کے بعد عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے- نکاح مستقل رہنے کی نیت سے ہو گا ، تمام نکاح کے کام سر انجام دیے جائیں گے ، یعنی ولیمہ بھی ہو گا اور نکاح کا اعلان بھی کیا جائے گا -لیکن پھر کسی وقت وہ مرد از خود اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ مرد فوت ہوجائے تو پھر عدت گزرنے کے بعد یہ عورت پہلے مرد سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔
یہاں حلالہ کے نام پر زنا جو ہوتا ہے اس کی مختصراً وضاحت کر دی جائے -
اگر کوئی سابقہ شوہر کے لئے حلال ہونے کے لئے محض ایک یا دو راتوں کے معاہدے کے تحت نکاح کرے تو ایسا نکاح ہر گز نہ ہو گا - 
بلکہ اگر وہ ہمبستری کریں گے تو وہ زنا ہو گا -
اور وہ عورت پہلے شوہر کے لئے ہر گز حلال نہ ہو گی -
نکاح کے وقت عورت کو مستقل نکاح میں رکھنے کی نیت ہو -
الله تعالیٰ فرماتا ہے :
مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ

بشرطیکہ اس سے تمہارا مقصد نکاح میں لانا ہو، نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لیے۔ 
(النساء -24)

قارئین کرام ! لہذا یہ بات واضح ہوئی کہ جب بھی کسی عورت سے نکاح کیا جائے تو نیت یہ ہو کہ اس عورت کو نکاح میں مستقل رکھنا ہے -نہ کہ یہ نیت ہو کہ ایک رات یا دو رات رکھ کر شہوت رانی کر کے پھر طلاق دے دوں گا -
کسی فرقے نے نکاح متعہ کے نام پر زنا کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بالکل اسی طرح کچھ باطل فرقوں نے حلالہ کے نام پر زنا کا بازار گرم کر رکھا ہے -جس میں عورت کو پہلے شخص کے لیے حلال کرنے کے لئے کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ایک دو راتوں رات کے لئے نکاح کر دیا جاتا ہے -
یعنی 
تیسری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اس عورت کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کروایا جاتا ہے اور پھر ایک یا دو دنوں کے بعد وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو بقول فرقوں کے یہ سابقہ شوہر کے لئے حلال ہو جاتی ہے اور اس طریقہ کو حلالہ کہا جاتا ہے۔ حلالہ کے نام سے ہمارے ہاں جو حرام پیشہ مروّج ہے کہ ایک معاہدے کے تحت عورت کا نکاح کسی مرد سے کیا جاتا ہے کہ تم پھر اسے طلاق دے دینا ‘ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت فرمائی ہے۔
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ 
رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے
(جامع ترمذیكتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب مَا جَاءَ فِي الْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ )

باطل فرقے لعنت تو اپنے اوپر ڈلوا رہے ہیں لیکن اس بےحیائی ، فحاشی کے کام کو بند نہیں کر رہے -
انہیں شیطان نے ایسا پھنسا دیا ہے تقلید کے جال میں کہ اب یہ گمراہی میں بہت دور نکل چکے ہیں -
لیکن انہیں فرقوں میں سے جنہوں نے الله سے ہدایت طلب کی اور کوشش بھی کی ، تو ما شاء الله وہ ان فرقوں کو چھوڑ کر الگ ہو گئے ان سے -
اور الله تعالیٰ کا بھی یہی حکم ہے کہ فرقوں سے مسلم کا کوئی تعلق نہیں -

الله تعالیٰ فرماتا ہے :
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 

جن لوگوں نے اپنے دین کے ٹکڑے کردیے اور وہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ‘ پھر وہ انہیں جتلا دے گا جو کچھ کہ وہ کرتے رہے تھے
(الانعام -159)

قارئین کرام ! نیز آج کل جو یہ دستور چل نکلا ہے کہ پہلے بیوی کو میکے بھیج دیتے ہیں بعد میں کسی وقت بذریعہ چٹھی تین طلاق تحریری لکھ کر ڈاک میں بھیج دیتے ہیں یہ نہایت ہی غلط طریقہ ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں۔
١۔ ایک وقت کی تین طلاق کار معصیت گناہ ہے۔ بدعت ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا دلائل سے واضح ہے۔
٢۔ دوران عدت مطلقہ کا نان نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتی ہے اور مطلقہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے جس سے وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جسے وہ ضائع کردیتا ہے۔ اس دوران وہ نان نفقہ کے اس بار سے بھی محفوظ رہنا چاہتا ہے جو شرعاً 
اس پر لازم ہے۔
٣۔ عدت کے دوران عورت کو اپنے پاس رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شاید حالات میں ساز گاری پیدا ہوجائے۔ منشائے الٰہی یہ ہے کہ رشتہ ازدواج میں پائیداری بدستور قائم رہے۔ اگرچہ ناگزیر حالات میں طلاق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :'' اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلاَقُ'' (ابو داؤد، کتاب الطلاق) یعنی تمام حلال چیزوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔
٤۔ عدت گزر جانے کے بعد عورت کی رخصتی کے وقت دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے (الطلاق کی آیت ٢ ملاحضہ ہو ) اور بذریعہ خط طلاقیں بھیج دینے سے اس حکم پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔
قارئین ! عدت ختم ہونے کے قریب ہو اور رجوع نہ کیا گیا ہو تو رخصتی کے وقت عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے، خالی ہاتھ یا دھکے دے کر گھر سے ہرگز نہ نکالا جائے۔
یعنی حق مہر بھی اور اس کے علاوہ دوسری اشیاء (مثلاً زیور کپڑے وغیرہ) جو خاوند اپنی بیوی کو بطور ہدیہ دے چکا ہو۔ کسی کو ہدیہ دے کر واپس لینا عام حالات میں بھی جائز نہیں ، ہدیہ واپس لینے والے کے اس فعل کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کتے سے تشبیہ دی ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ لے۔ (بخاری، کتاب الھبۃ، باب ھبہ الرجل لامراتہ) طلاق دینے والے شوہر کے لیے یہ اور بھی شرمناک بات ہے کہ کسی زمانہ میں اس نے جو اپنی بیوی کو ہدیہ دیا تھا۔ رخصت کرتے وقت بجائے مزید کچھ دینے کے اس سے پہلے تحائف کی بھی واپسی کا مطالبہ کرے۔اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دلا کر رخصت کیا جائے، خالی ہاتھ یا دھکے دے کر گھر سے ہرگز نہ نکالا جائے۔
اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ :
عدت کے اندر اگر کوئی میاں بیوی رجوع کر لیں تو یہ کام بھی دو عادل گواہوں کی موجودگی میں ہو گا -

الله تعالیٰ فرماتا ہے ؛
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ۭ ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ڛ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا

پھر جب وہ اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو (اپنے نکاح میں) روک رکھو معروف طریقے سے ‘ یا جدا کردو معروف طریقے سے “ ” اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو “ ’ اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔ ‘ یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراُس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یومِ آخر پر۔ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘ اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔
(الطلاق -2)

یعنی ایک یادو طلاق دینے کی صورت میں عدت پوری ہوجانے سے پہلے مرد کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر تو وہ رجوع کرنا چاہتا ہے تو شریعت کے طے کردہ طریقے سے رجوع کرلے اور اگر اس نے طلاق ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر بھلے طریقے سے عورت کو گھر سے رخصت کر دے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسے ستانے کی غرض سے روکے رکھے ۔
{ وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ} ” اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو “
یعنی اگر کوئی طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہے تو وہ اپنے لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر اشخاص کی موجودگی میں ایسا کرے۔
اور اگا رخصت کرنا ہے تب بھی دو عادل گواہوں کی موجودگی میں اچھے طریقے سے رخصت کرے -
{ وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ} ” اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔ “
{ ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ} ” یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراُس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یومِ آخر پر۔ “

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق بات کو پڑھنے ، سمجھنے ، اسے دل سے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ! اور ہمیں صراط مستقیم پر چلائے !
اور ہمیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ فرمائے !
اور اپنے نیک مقرب بندوں میں شامل کر کے جنّت الفردوس میں داخل فرمائے !
آمین یا رب العالمین 
والحمد لله رب العالمین

Friday, August 10, 2018

٩٧-گرل فرينڈ كے ساتھ حرام طور پر رہا اور توبہ كر لي اور وہ بھى مسلمان ہو گئى تو اس سے شادى كرلى اب گھر والے اسے طلاق دينے كا كہتے ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال-برائے مہربانى ميرا ليٹر پڑھ كر جتنى جلدى ہو سكے اس كا جواب ارسال كريں؛ كيونكہ ميں فتوى كى ويب سائٹس تلاش كر كے اور ليٹر ارسال كر كے جواب كا انتظار كر كے تھك چكا ہوں، جس ويب سائٹ پر بھى ليٹر ارسال كيا اس نے جواب نہيں ديا، تو ان ويب سائٹس كے بارہ ميں ميرا نظريہ تبديل ہوگيا.
اور جب ميں نے آپ كى اس ويب سائٹ پر كچھ فتوى جات كا مطالعہ كيا تو مجھے بہت راحت ملى اور ميں روزانہ ہى آپ كے فتاوى جات پڑھنے لگا، كيونكہ يہ ميرے ليے راحت كا باعث ہيں، ميں نے اپنے كچھ سوالات كے واضح اور شافى جوابات پائے.
برائے مہربانى ميرے سارے سوالات كا حل پيش كريں كيونكہ مجھے يہ سوال سونے بھى نہيں ديتے مجھے شافى جواب كى بہت زيادہ ضرورت ہے؛ كيونكہ ميں بہت تھك چكا ہوں اور بہت زيادہ پريشان ہوں ذہن منتشر ہے اور مجھے خدشہ ہے كہيں ميں وہى غلطى نہ كر بيٹھوں جس سے دور بھاگتا ہوں.
ميرا قصہ يہ ہے كہ: ميں اپنے كى بجائے كسى دوسرے ملك ميں زير تعليم تھا اور آپ جانتے ہيں كہ يورپى معاشرہ كيسا ہے ميں قصہ لمبا نہيں كرنا چاہتا: ميں نے شراب نوشى اور زنا جيسے فحش كام بھى كيے، اور رمضان المبارك ميں روزے بھى نہ ركھتا، بلكہ رمضان المبارك ميں زنا بھى كرتا رہا، ميرے غلطياں و كوتاہياں تو بہت ہيں.
اس اللہ كا شكر ہے جس نے مجھے ہدايت سے نوزا اور ميں نے توبہ كر لى اور مجھے اللہ نے ايك نئى زندگى كى توفيق دى اور مجھے اندھيروں سے نور كى طرف لےآيا، ميں نے رمضان المبارك ميں توبہ كى تھى، ميرے ساتھ ايك عيسائى لڑكى رہتى تھى، جب اس لڑكى نے مجھے توبہ كر كے قرآن مجيد كى تلاوت كرتے اور نماز روزہ كى پابندى كرتے ہوئے ديكھا تو يہ لڑكى اسلام كے قريب ہونے لگى، اور دس رمضان المبارك كے روز يہ لڑكى بھى مسلمان ہوگئى، اور شرعى لباس زيب تن كر كے پردہ كرنا شروع كر ديا، اور قرآن مجيد كى تعليم حاصل كرنے لگى، اور فرض نمازيں اور سنتوں كے ساتھ ساتھ روزے بھى ركھنا شروع كر ديے، اور سيرت نبويہ كا مطالعہ كر كے بہت سارے اسلامى درس بھى سننے لگى.
جس دن اس نے اسلام كا اعلان كيا ميں نے اس سے شادى كر لى، اور ہم اپنى زندگى كے بہترين ايام بسر كر رہے تھے كہ ايك دن ميں نے كڑوى حقيقت جانى جس نے ميرى زندگى كو ہى تبديل كر ديا، اور ميں ہر وقت پريشان و غمزدہ رہنا لگا، ميں نے اس لڑكى كى تاريخ معلوم كر لى، اس كا ماضى بالكل ايك اجنبى ( آزاد اور خائن ) لڑكى جيسا تھا، مجھے معلوم ہوا كہ اس نے مجھ سے كئى ايك بار خيانت كى ہے، ليكن اس نے يہ خيانت اسلام قبول كرنے اور ميرى اس كے ساتھ شادى كرنے سے قبل كى تھى، ليكن اس ليے كہ وہ ميرى بيوى بن چكى ہے اور پھر ميں عربى النسل ہوں ميں ماضى نہيں بھول سكتا، ميں نے اپنے دين اور اپنے پرودگار كى بھى خيانت كى اور اسلام سے دور رہا ميں پيدائشى مسلمان ہوں، وہ اسلام كے بارہ ميں كچھ نہيں جانتى تھى، ليكن ميں اسلام كے بارہ ميں بہت كچھ جانتا تھا وہ مجھ سے بہت بہتر ہے كيا واقعتا ايسا ہى نہيں ؟
اسلام اپنے سے قبل ہر گناہ كو ختم كر ديتا ہے، اور توبہ كرنے والا بھى ايسا ہى ہے جيسے كسى كے پہلے كوئى گناہ نہ ہو ميں اس كى قدر و احترام كرتا ہوں كيونكہ اس نے يقين كے ساتھ اسلام قبول كيا ہے، وہ بہت روتى رہتى ہے، خاص كر جب قرآن مجيد كى تلاوت كرے، اور احاديث نبويہ كا مطالعہ كرتے وقت بھى، اس نے بھى غلطياں كى تھيں، ليكن اسے اسلام كا علم نہ تھا اور ميں نے غلطياں اور گناہ كيے اور مجھے علم تھا كہ زنا گناہ كبيرہ ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى شديد العقاب ہے، ليكن انسان خطا كار ہے، اور اس كى سوچ محدود ہے.
مجھے جو تنگى محسوس ہوتى ہے وہ يہ كہ جب مجھے ماضى كا علم ہوا تو ميں بہت شديد غصہ ميں آ گيا اور ناراض ہوا، اور اسے ايك بار طلاق بھى دے دى، اور دو روز كے بعد ميں پھر غصہ ميں ہوا اور اسے زدكوب بھى كيا اور بہت زيادہ ناراض ہوا، اور اسے دوبارہ طلاق دے دى، ہمارے درميان مشكلات بڑھ گئيں، اور ميرا غصہ زيادہ ہونے لگا، جب ميں غصہ ميں ہوتا ہوں تو پاگل كى طرح ہو جاتا ہوں، نہ تو كچھ سوچتا ہوں، اور نہ ہى سمجھ ہوتى ہے كہ زبان سے كيا نكال رہا ہوں، زبان سے جو كچھ نكلتا ہے وہ نكلتا ہى جاتا ہے مجھے كچھ علم نہيں ہوتا.
ميں نے دونوں بار سوال اور استفسار كے بعد اس سے رجوع كر ليا، كچھ ايام ہى گزرے كہ ہمارے درميان پھر جھگڑا ہوا اور ميں نے اسے زدكوب كيا، اس نے ميرى توہين كى تھى ليكن شروع ميں كرنے والا تھا، ميں نے اسے تيسرى بار طلاق دے دى اور جتنى بار بھى طلاق ہوئى ميں نادم ہوتا اور روتا اور اس پر شفقت كرتا كيونكہ يہ لڑكى اسلام قبول كرنے كے بعد بہت ہى نيك و صالح بن گئى ہے، مجھے اس كے ضائع ہونے كا خدشہ رہتا ہے، ليكن غصے اور شيطان نے مجھے غلطياں كرنے پر مجبور كر ديا ہے، تيسرى بار طلاق دينے كے بعد ميں نے دو ركعت نماز ادا كى اور اللہ كے سامنے رويا بھى، اور اللہ سے دعا كى كہ اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو مجھے فورى طور پر اس سے دور كر دے اور اگر طلاق نہيں ہوئى تو پھر جتنى جلدى ہو سكے ميں اس سے رجوع كر لوں، اور يہى ہوا، ميں نے اللہ كى توفيق سے اسى رات اس سے رجوع كر ليا، ميں نے پڑھا ہے كہ غصہ ميں طلاق واقع نہيں ہوتى.
اور جب ميرى تعليم مكمل ہوئى تو ميں اپنے ملك واپس آ گيا اور ميں نے اس سے وعدہ كيا تھا كہ ميں اپنے خاندان والوں سے بات كرونگا تا كہ تم بھى ميرے پاس آ سكو، ليكن يہاں معاملہ ہى مختلف ہے، ميں نے ايك عرب لڑكى جسے كبھى كسى نے ہاتھ بھى نہيں لگايا كو بہت مختلف پايا، اور ايك اجنبى لڑكى جو مجھ سے قبل بہت سارے مردوں كے ساتھ سوتى رہى ميں بہت فرق پايا، يہى چيز مجھے بہت غضبناك كر ديتى ہے اور بعض اوقات تو ميں اسے چھوڑنے كا سوچنا شروع كر ديتا ہوں، ليكن اللہ سے ڈرتا ہوں كہ ميں بھى تو اس جيسا ہى تھا، اور اب وہ مجھ سے بہتر اور افضل ہو چكى ہے، اب ميرى عقل اور سوچ ايك عرب لڑكى اور ايك اجنبى لڑكى ميں موازنہ كرنے ميں مشغول رہتى ہے، اور ميرے گھر والے بھى ميرى شادى كو قبول نہيں كرتے، اور وہ مجھ سے سوال كرنے لگے ہيں:
وہ كون ہے ؟ كيا شادى سے قبل وہ لڑكى تھى ؟ تو ميں نے انہيں كہا جى ہاں وہ ايسى نہ تھى، ميں نے اس سے شادى اس ليے كى كہ اس نے اسلام قبول كر ليا تھا، اور بہت اچھى مسلمان بن گئى، ميں نے اس سے شادى اللہ كى رضا و خوشنودى كے ليے كى ہے، اور تا كہ ميں اپنے گناہوں كا كفارہ ادا كر سكوں، اور اب وہ ميرا انتظار كر رہى ہے، اور مسلمان ملك ميں رمضان كے روزے ركھنے كى تمنا ركھتى ہے، ليكن ميرے گھر والے اس سے انكار كرتے ہيں، ميں چاہتا ہوں كہ و ہ ميرے پاس آ جائے تا كہ وہاں رہ كر ضائع نہ ہو جائے، وہ بہت اچھے اخلاق كى مالك ہے اور خاص كر اسلام لانے كے بعد تو اس كا اخلاق اور بھى اچھا ہو چكا ہے، ميرى نظر ميں تو وہ پہلے دور كى ايك اسلامى عورت بن چكى ہے، ميں اب بہت ہى عذاب سے دوچار ہوں، جب ميں اپنى اور اس كى تاريخ اور ماضى ياد كرتا ہوں تو اپنے دل ميں كہتا ہوں اللہ نے اس لڑكى كو ميرے ليے گناہوں كا كفارہ بنا كر بھيجا ہے.
كيا طلاق واقع ہو چكى ہے يا نہيں ؟، اور اگر طلاق واقع ہو گئى ہے تو كيا مجھے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے تاكہ وہ ايك كفريہ ملك ميں اكيلى رہ كر ضائع نہ ہو جائے ؟
مجھ پر كيا واجب ہوتا ہے، كيا ميں ايك نيا اسلام قبول كرنے والى بيوى كے ساتھ رہوں، يا كہ ايك عرب مسلمان لڑكى سے شادى كر لوں ؟
ميں اپنے گھر والوں كے ساتھ كيا معاملہ كروں، وہ چاہتے ہيں كہ ميں اسے طلاق دے دوں، اور اگر ميں انہيں راضى كرنے كے ليے بيوى كو طلاق دے دوں تو كيا يہ حرام ہوگا ؟
كيا زنا ميرى گردن ميں قرض ہے كہ ايك دن مجھے اس كى قيمت ادا كرنا پڑيگى ؟ اور ميں اس كا ماضى كيسے بھول سكتا ہوں كہ وہ ميرے ساتھ كھاتى پيتى اور سوتى جاگتى تھى اور ميں اس كے ساتھ مسلمان خاوند بيوى كى طرح رہتا تھا ؟
برائے مہربانى ايسے دلائل ارسال كريں جو اس سلسلہ ميں ميرى معاونت كريں، ميں آپ سے شديد گزارش كرتا ہوں كہ آپ مجھے شافى جواب ديں جس كا مجھے بہت عرصہ اور شدت سے انتظار ہے، اور اس ليے بھى كہ جو ويب سائٹس مسلمانوں كى معاونت كے ليے كھولى گئى ہيں ان كے بارہ ميں ميرا گمان برا نہ ہو جائے، اور خاص كر ان كى معاونت كے ليے جو تباہ ہو كر برے راستے پر چل نكلے ہيں اور ميرى طرح ضائع ہو رہے ہيں وہ مدد كے محتاج ہيں، چاہے كوئى نصيحت كر كے ہى مدد كريں، ( ڈوبنے والے كو تنكے كا سہارا ہى سہى ) اے مسلمانوں كے علماء كرام جب تم ميرى مدد نہيں كرو گے تو ميں كہاں جاؤں ؟

الحمد للہ:

اول:

ہم اميد ركھتے ہيں كہ ہمارے بارہ ميں آپ كا گمان اچھا ہى ہوگا، ليكن ہم اس پر خوش نہيں كہ اہل سنت كى دوسرى ويب سائٹس كے بارہ ميں آپ كا نظريہ سلبى ہو، ہم آپ سے يہى چاہتے ہيں كہ آپ ان ويب سائٹس كو قائم كرنے والوں كے بارہ ميں اچھا گمان ركھيں، اور انہيں معذور سمجھيں، اگر آپ ہمارے اور ان كے پاس آنے والوں سوالات كى تعداد ديكھيں تو ضرور ہم سب كو معذور سمجھنے لگيں گے.

آپ اكيلے نہيں جو جلد جواب حاصل كرنا چاہتے ہيں، اور پھر اس كے متعلق ہر سائل كى رغبت كو پورا كرنا ممكن نہيں ہے، اس ليے ہمارے اور دوسرى ويب سائٹس والوں كے ليے عذر موجود ہے، اور كريم وہى شخص ہوتا ہے جو دوسرے كو معذور سجھے يعنى اس كے ليے كوئى عذر تلاش كر لے.

دوم:

اس اجنبى اور كفريہ ملك ميں آپ كے ساتھ جو كچھ ہوا وہ ہمارے اس قول كى تائيد و تاكيد كرتا ہے جو ہم ہميشہ كہتے رہتے ہيں كہ ان ممالك كى طرف سفر كرنا جائز نہيں، اور خاص كر جب سفر كرنے والا شخص نوجوان لڑكا يا لڑكى ہو اور ابھى جوانى كى ابتداء ہو، اور شہوت بھى پورى تر ابھر كر آئى ہو.

اس ليے ماں باپ كو ان ممالك ميں اپنى اولاد كے حالات كا علم ہونا چاہيے كہ وہاں غالبا افسوس ناك حالت ہى ہوتى ہے، اور وہ دين سے درو رہتے ہيں، اور فحش كام ميں پڑ كر صحيح اور مستقيم سلوك سے ہٹ جاتے ہيں، اور شرعى مخالفات كى يہى سزا ہے جو مل كر رہتى ہے.

اس ليے ماں اور باپ پر واجب ہے كہ وہ اپنى اولاد كا خيال كريں، اور ان كے دين اور سلوك كے عوض اپنے بچوں كو تعليم دلانے كى حرص نہ ركھيں.

سوم:

ہم آپ كو توبہ كرنے پر مباركباد ديتے ہيں، اور اللہ كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اس نے آپ كو كفر و فسوق اور نافرمانى كى راہ سے نكال كر ہدايت كى راہ پر ڈال ديا، آپ كى بجائے كتنے ہى ايسے دوسرے افراد ہيں جو جہالت و گمراہى اور نافرمانى كے اندھيروں ميں ڈبكياں كھا رہے ہيں، اور آپ كى بجائے كتنے ہى ايسے افراد ہيں جو اخلاق كى چوٹيوں فضائل كى بلنديوں سے نيچے گرے ہوئے ہيں، اس ليے آپ كو چاہيے كہ آپ توبہ كے شجرہ كو مضبوطى سے تھام كر ركھيں، اور تقوى و پرہيزگارى كى رسيوں كو مضبوطى سے پكڑ ليں.

اور آپ واپس پہلى حالت پر پلٹنے سے اجتناب كرتے ہوئے ايسے كام مت كريں جو آپ كو پہلے حال ميں واپس لے جائے كيونكہ آپ ايسى نعمت ميں ہيں جس سے اكثر لوگ محروم ہيں، اس ليے آپ توبہ ترك كر كے اس نعمت كى ناشكرى مت كريں.

چہارم:

ہم اپنى بہن كو بھى اسلام قبول كرنے پر مباركباد پيش كرتے ہيں، اور اللہ كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اس نے اسے توفيق دى اور اسلام كى راہ دكھائى، بلاشك و شبہ وہ اب اپنى پہلى اور اسلام كے بعد والى حالت ميں خوب فرق معلوم كر رہى ہوگى، اور اسے كافر اور مسلمان انسان ميں عظيم فرق بھى معلوم ہوگيا ہو گا.

اور اسے اس فرق كا بھى علم ہوگيا ہو گا كہ اسلام قبول كرنے سے قبل اس كا دل كتنا تنگ اور خراب تھا، اور اسلام كے بعد اس كے دل ميں كيا وسعت و شرح صدر پيدا ہوا ہے، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ اسے مزيد ہدايت و توفيق سے نوازے، اور اسے ہدايت يافتہ اور ہدايت كى راہنمائى كرنے والى بنائے.

پنجم:

يقينا جو شخص ہدايت و راہنمائى سے دور رہتا ہے وہ قول و فعل اور سوچ ميں خبط كا شكار رہتا ہے، اور ايسا منہج اور راہ اختيار كرتا ہے جو جن و انس ميں سے شيطان كو ہى پسند ہے اور وہ ايسى مباديات پر زندگى بسر كرتا ہے جو كسى صحيح نص كے موافق نہيں، اور نہ ہى اسے عقل صريح قبول كرتى ہے، آپ اس كى مثال " خيانت " كى اصطلاح سے لے سكتے ہيں!

ان كے نزديك اس كا معنى يہ ہے كہ عاشق اپنى معشوق كى خيانت كرے يا پھر معشوق اپنے عاشق كى خيانت كرتى ہو! ہو سكتا ہے عورت خاوند والى ہو، اور اپنے عاشق كے ساتھ اپنے خاوند كى خيانت كرتى ہو، پھر جب وہ عورت جب اپنے عاشق كو كسى دوسرى عورت كے ساتھ ديكھے تو رونے لگے، اور نوحہ كرے اور اس كى توہين كرے، ہو سكتا ہے اسے مارے بھى! كيوں اس ليے كہ اس نے اس عورت كے ساتھ خيانت كى ہے!! گويا كہ اس عورت نے اپنے خاوند كى خيانت نہيں كى، اور ايسے ہے جيسے اس نے كوئى گناہ ہى نہيں كيا، بلكہ وہ سارا عتاب اور عيب اپنے خائن عاشق پر تھوپ رہى ہے!

تو يہ لوگ كون سى مباديات پر جى رہے ہيں؟ اور كس منطق پر چل رہے ہيں ؟.

اور اگر آپ افسوس كرنا ہى چاہتے ہيں تو اس مسلمان شخص پر افسوس كريں جو اپنے پروردگار كے ساتھ خيانت كا مرتكب ہو رہا ہے، اور نہ تو وہ اللہ كے ساتھ خيانت كو جانتا ہے اور نہ ہى اسے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ خيانت كى پہچان ہے، اور نہ ہى اپنے دين كے ساتھ خيانت كو سمجھ رہا ہے، ليكن وہ اپنى محبوبہ اور معشوق كى خيانت كو شمار كرنا كر كے پيٹ رہا ہے، حالانكہ وہ خود اس كے ساتھ كبيرہ گناہ كا مرتكب ہوتا ہے، حالانكہ پہلے تو وہ خود اللہ اور اس كے رسول اور دين اسلام كا خائن ہے.

ميرے سائل بھائى:

آپ اس عورت كو ملامت كر رہے ہيں جو آپ كے اور كسى دوسرے كے ساتھ سوتى رہى اور وہ كافرہ تھى! ليكن آپ اپنے آپ كو كيوں ملامت نہيں كرتے كہ آپ نے وہ كچھ كيا جو آپ كے ليے حلال نہ تھا اور آپ اسلام كے دعويدار اور اسلام كى طرف منسوب ہيں ؟!.

آپ اس عورت كو ملامت كر رہے ہيں جو اسلام قبول كر كے ايك اچھى مسلمان ہو چكى ہے، جو كفر كى حالت ميں فسق و قجور كى مرتكب تھى؟!.

آپ كا موقف تو بہت ہى كمزور ہے، اور آپ كوم لامت و عيب لگانے كا كوئى حق حاصل نہيں، نہ تو اس كے كافرہ ہوتے ہوئے، اور نہ ہى اس كے مسلمان ہوتے ہوئے، كيونكہ جب وہ كافرہ تھى تو اس كا كفر اس كے ہر گناہ سے بڑا گناہ تھا، اور جب وہ كافرہ تھى تو اسے فحش كاموں سے روكنے والا كوئى چيز نہ تھى.

اور جب وہ اسلام لے آئى تو اس كے اسلام نے اس كے پچھلے سارے گناہ اور غلطياں مٹا ڈاليں، جب اس نے اسلام قبول كر ليا تو اللہ سبحانہ و تعالى نے اس كى سارى برائياں اور گناہ نيكيوں ميں بدل ڈاليں! تو پھر آپ كس وجہ سے اس كے كافرہ ہونے يا مسلمان ہونے پر عيب لگاتے اور ملامت كرتے ہيں ؟!

امام مسلم رحمہ اللہ نے عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" جب اللہ تعالى نے ميرے دل ميں اسلام ڈال ديا تو ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كيا:

" اپنا داياں ہاتھ بڑھائيں تا كہ ميں آپ كى بيعت كروں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا داياں ہاتھ بڑھايا عمرو بن عاص بيان كرتے ہيں ميں نے اپنا ہاتھ روك ليا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اے عمرو كيا ہوا ؟

وہ بيان كرتے ہيں ميں نے عرض كيا: ميں ايك شرط لگانا چاہتا ہوں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا شرط لگانا چاہتے ہو ؟

ميں نے عرض كيا:

يہ كہ مجھے بخش ديا جائے.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

كيا تمہيں معلوم نہيں كہ اسلام اپنے سے ماقبل سب گناہوں كو ختم كر ديتا ہے، اور ہجرت اپنے سے قبل سب گناہ دھو ڈالتى ہے، اور حج اپنے سے قبل سب غلطياں صاف كر ديتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 121 ).

اور امام بخارى اور مسلم رحمہ اللہ نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

كچھ مشرك لوگوں نے بہت زيادہ قتل كيے اور بہت زيادہ زنا كا مرتكب ہوئے اور وہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور عرض كرنے لگے:

آپ جو كہتے اور جس كى دعوت ديتے ہيں وہ بہت اچھى چيز ہے، ليكن اگر آپ ہميں يہ بتائيں كہ ہم نے جو كچھ كيا ہے اس كا كوئى كفارہ بھى ہے ؟

تو يہ آيت نازل ہوئى:

{ اور وہ لوگ جو اللہ كے ساتھ كسى اور كى عبادت نہيں كرتے، اور نہ ہى اللہ كى جانب سے حرام كردہ جان كو ناحق كرتے ہيں، اور نہ ہى زنا كے مرتكب ہوتے ہيں }.

اور يہ آيت نازل ہوئى:

{ آپ كہہ ديجئے اے ميرے وہ بندو جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم و زيادتى كى ہے وہ اللہ كى رحمت سے نااميد نہ ہوں }.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4436 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 174 ).

چنانچہ ان مشرك لوگوں نے بہت زيادہ قتل بھى كيے اور بہت زنا بھى، تو ديكھيں اللہ سبحانہ و تعالى نے ان كے ليے كيا نازل فرمايا، اللہ سبحانہ و تعالى نے ان كے ليے نازل فرمايا كہ ان كى سارى برائياں نيكيوں ميں تبديل كر دى جائينگى.

اور سابقہ حديث ميں ہے كہ اسلام قبول كرنا اپنے سے قبل سب گناہوں كو دھو ڈالتا ہے، تو اس كے بعد آپ كے ليے كيا عذر رہ جاتا ہے ك اس عورت نے جاہليت ميں جو كچھ كيا اس پر آپ اس كا محاسبہ كرتے پھريں؟!

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" جب انسان اپنے گناہ سے توبہ ميں سچا ہو چاہے وہ گناہ كتنا ہى بڑا اور شرك يا زنا يا قتل يا حرام مال كھانا ہى كيوں نہ ہو، اور وہ شخص اپنے گناہ پر نادم ہو اور حقوق حقداروں كو واپس كر دے يا پھر وہ اسے معاف كر ديں، اور پھر توبہ كے بعد وہ نيك و صالح اعمال كرے تو اللہ تعالى اس كى توبہ قبول فرماتا ہے، اور اس كے گناہ معاف كر ديتا ہے، بلكہ اس كے سارے گناہوں كو نيكيوں ميں تبديل فرما ديتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور وہ لوگ جو اللہ كے ساتھ كسى دوسرے معبود كو نہيں پكارتے اور كسى ايسے شخص كو جسے قتل كرنا اللہ نے حرام كيا ہے وہ اسے ناحق قتل نہيں كرتے، اور نہ ہى وہ زنا كا ارتكاب كرتے ہيں، اور جو كوئى يہ كام كرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائيگا }.

{ اسے قيامت كے دن دوہرا عذاب كيا جائيگا، اور وہ ذلت و رسوائى كے ساتھ ہميشہ اسى ميں رہےگا }.

{ سوائے ان لوگوں كے جو توبہ كريں اور ايمان لائيں اور نيك و صالح اعمال كريں، ايسے لوگوں كے گناہوں كو اللہ تعالى نيكيوں ميں بدل ديتا ہے، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربانى كرنے والا ہے }.

{ اور جو شخص توبہ كرے اور نيك و صالح عمل كرے وہ تو ( حقيقتا ) اللہ كى طرف سچا رجوع كرتا ہے }الفرقان ( 68 - 71 ).

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{ ان لوگوں كو كہہ ديجئے جنہوں نے كفر كيا اگر وہ اپنے كفر سے رك جائيں تو ان كے پچھلے سب گناہ معاف كر ديے جائيں گے }الانفال ( 38 ).

اور ايك اور مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

{ كہہ ديجئے كہ اے ميرے بندو! جنہوں نے اپنى جانوں پر زيادتى كى ہے تم اللہ كى رحمت سے نااميد نہ ہو جاؤ، يقينا اللہ تعالى سارے گناہوں كو بخش ديتا ہے، واقعى وہ بڑى بخشش و رحمت والا ہے }الزمر ( 53 ).

اور يعقوب عليہ السلام نے اپنے بيٹوں كو فرمايا تھا:

{ اور تم اللہ كى رحمت سے نااميد نہ ہو جاؤ، كيونكہ اللہ كى رحمت سے تو كافر لوگ ہى نااميد ہوتے ہيں }يوسف ( 87 ).

اس كے علاوہ اس موضوع كے متعلق اور بھى بہت سارى آيات ہيں، اور احاديث نبويہ ميں بھى توبہ كى ترغيب دى گئى ہے، اور اللہ كى رحمت اور اس كى بخشش كى اميد كى رغبت دلائى گئى ہے، اور پھر توبہ كا دروازہ تو مغرب كى جانب سے سورج طلوع ہونے تك يا پھر موت آنے تك كھلا ہے.

اس ليے جو شخص بھى گناہ كا ارتكاب كر بيٹھے اسے اللہ كے ہاں توبہ كرنى چاہيے، اور اپنے كيے پر نادم ہو، اور حقداروں كو ان كے حقوق واپس كرے، يا پھر ان سے معافى مانگ لے، اور اللہ سبحانہ و تعالى كے ساتھ حسن ظن ركھتے ہوئے اس كى رحمت كى اميد كرے، چاہے اس كا گناہ كتنا بھى بڑا ہو، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كى رحمت تو بہت زيادہ وسيع ہے، اور اس كى بخشش بہت زيادہ ہے، اس شخص كو چاہيے كہ وہ اللہ كى ستر پوشى كى اميد ركھتے ہوئے ستر پوشى اختيار كرے، اور اسے ختم مت كرے، اور اللہ تعالى سے ممد و معاون ہے.

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ و الافتاء ( 24 / 296 - 297 ).

اس ليے آپ كو اس كے بارہ ميں كچھ علم ہوا اس كے بعد آپ كے جذبات بھڑكنے اور غضبناك ہونے كى كوئى وجہ نہيں، اور نہ ہى آپ اسے زدكوب كر سكتے ہيں، كيونكہ وہ اسلام قبول كر چكى ہے، اوراپنے سابقہ دين اور اپنى تاريك تاريخ كو طلاق دے چكى ہے، پھر اس كى جاہليت پر كس ليے اس كا محاسبہ ہو سكتا ہے.

اور خاص كر جب آپ خود بھى اس كى تاريخ كا ايك حصہ اور ورق بن چكے ہيں؟! اور آپ نے خود اس كے ساتھ قبيح و شنيع فعل بھى كيا، حالانكہ آپ خود كو مسلمان كہتے ہوئے اسلام كى طرف منسوب تھے جو آپ كے ليے ايسے افعال كو حرام كرتا ہے، اور وہ عورت تو آپ كے اس دين كى طرف منسوب نہ تھى جو اسے ان افعال سے منع كرتا، بلكہ آپ خود ان كفار كى نقالى اور ان كے رسم و رواج اور عادات پر راضى ہو كر ان جيسے افعال كرنے لگے، اور اس نے تو اس ميں كوئى مخالفت نہيں كى!.

ششم:

ہميں تو آپ كى كلام سے يہى ظاہر ہوتا ہے كہ وہ عورت اسلام قبول كر چكى ہے، اور اس نے اسلام كو اچھى طرح قبول كر كے اس پر عمل بھى كرنا شروع كر ديا ہے، لگتا ہے كہ كئى ايك جانب سے وہ عورت آپ سے بہتر اوراچھى ہے، اس ليے جب وہ آپ كى بيوى بننے پر راضى ہو چكى ہے تو آپ كے ليے ضرورى ہے كہ آپ اس كے ساتھ حسن معاشرت سے پيش آئيں، اور اس كے عزم كو قوى بنائيں، اور آپ ہر طرح سے اس كا ساتھ ديں اور اس كى مدد و تعاون كريں.

ہفتم:

خاص كر اسے طلاق دينے كے متعلق گزارش يہ ہے كہ:

آپ كسى ايسے اہل علم سے رابطہ كريں جس كو آپ ثقہ سمجھتے ہوں اسے اپنا موقف بيان كريں اور طلاق ديتے وقت جو حقيقت حال تھى وہ واضح كريں، كيونكہ غصہ كے كئى ايك درجات ہيں ہر غصہ ميں طلاق واقع ہو جاتى ہے، اور نہ ہى ہر غصہ كى حالت ميں طلاق كے عدم وقوع كاحكم لگايا جا سكتا ہے، بلكہ غصہ والے اس شخص كى طلاق واقع نہيں ہوتى جو غصہ كى حالت ميں اپنے ہوش و حواس پر مكمل كنٹرول كھو بيٹھے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہوش و حواس كھو جانے كى صورت ميں نہ تو طلاق ہے اور نہ ہى غلام كى آزادى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2193 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2046 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اغلاق" كا معنى يہ ہے كہ: انسان كى عقل پر پردہ پڑ جائے حتى كہ وہ بغير ارادہ ہى كوئى كام كر بيٹھے.

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 130 ) سوال نمبر ( 20 ).

اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" جو شخص غصہ كى حالت ميں اپنے قول كا تصور كر سكتا ہو اس كى طلاق واقع ہو جائيگى، ليكن وہ شخص جسے غصہ كى حالت ميں پتہ نہ چلے كہ وہ كيا كہہ رہا ہے تو اس كى طلاق واقع نہيں ہو گى "

ديكھيں: الملخص الفقھى ( 2 / 308 ).

غصہ كى حالت ميں طلاق كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ كريں:

سوال نمبر ( 92 ) اور ( 96 ) اور ( 95 ) اور ( 94 ).

اگر تو سابقہ تينوں حالات ميں آپ كى طلاق واقع ہوچكى ہے تو پھر وہ عورت آپ كے ليے حرام ہے، اور آپ كے ليے اسے اپنى عصمت ميں واپس لانا حلال نہيں، ہاں يہ ہے كہ اگر وہ كسى اور شخص سے رغبت كے ساتھ نكاح كرے اور وہ شخص اس سے دخول بھى كر لے، پھر بعد ميں وہ شخص يا تو فوت ہو جائے، يا پھر كبھى اپنى مرضى سے اسے طلاق دے دے، اور اگر تين طلاقوں ميں سے كوئى ايك واقع نہيں ہوئى تو پھر آپ كے ليے وہ باقى رہے گى جو بقايا بچى ہوں، چنانچہ اس طرح آپ كو اس سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے، اس كو جاننے كے ليے آپ كسى قابل اور ثقہ عالم دين سے ملاقات كريں، تا كہ آپ نے جو كچھ كيا ہے وہ اس كى تفصيل معلوم كر كے آپ كو بتائے.

ہشتم:

اس بيوى ـ اگر تو وہ اب تك آپ كى بيوى ہے ـ كے بارہ ميں ہم آپ كو يہ نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اسے اپنے پاس لانے كى كوشش كريں؛ تا كہ وہ كافر معاشرے سے چھٹكارا حاصل كر سكے جس ميں فتنہ و فساد پايا جاتا ہے جہاں وہ ابھى تك رہ رہى ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ آپ اپنے ساتھ يہ عہد كريں كہ آپ اس كے ساتھ حسن معاشرت كريں گے، اور اچھے طريقہ سے پيش آ كر بہتر سلوك كريں گے، اور اسے اسلام سے قبل اس كے ماضى كى عار نہيں دلائيں گے اور نہ ہى غلط ماضى كا طعنہ ديں گے، اور اس كے متعلق آپ كو جو كچھ علم ہو چكا ہے اس كا آپ پر كوئى اثر نہيں ہوگا.

اس ليے اگر آپ ايسا كرنے كى استطاعت ركھتے ہيں تو پھر آپ اسے اپنے پاس بلائيں اور ايك اسلامى گھرانہ اور خاندان تعمير كريں، اور اگر آپ ايسا نہيں كر سكتے تو پھر اسے اپنے ملك ميں ہى رہنے ديں، ہو سكتا ہے اللہ تعالى اسے كوئى آپ سے بہتر شخص عطا فرما دے، اور ہو سكتا ہے آپ كو اس سے كوئى بہتر عورت مل جائے.

اور آپ كا يہ كہنا: " ميں اس كا ماضى كيسے بھول سكتا ہوں كہ وہ ميرے ساتھ سوتى اور جاگتى اور كھاتى پيتى اور ميں اس كے ساتھ ايك مسلمان خاوند اور بيوى كى طرح رہتا تھا ؟

ہميں اجازت ديں كہ ہم ـ ہمارے عزيز مسلمان بھائى ـ آپ كے كان ميں راز والى بات كہيں كہ آپ اپنا ماضى كيسے بھول سكتے ہيں ؟!

بلكہ آپ اپنے پروردگار سے اپنے ماضى كى كس طرح معافى و بخشش مانگ سكتے ہيں، اور آپ خود تو اللہ كے بندوں كو معاف نہيں كر رہے، اور ان كے ماضى كو معاف نہيں كرتے بلكہ اسے كريد رہے ہيں ؟!

اس بنا پر اگر آپ حقيقتا يہ ماضى اپنے ساتھ ركھ رہے ہيں اور يہى آپ كى مراد ہے تو پھر ہم آپ كو يہ نصيحت بالكل نہيں كرتے كہ آپ اسے اس كے ملك سے لا كر اپنے پاس بسائيں، بلكہ آپ اس كى جان چھوڑ ديں اور آزاد كر ديں، اور اس كے سارے حقوق ادا كريں.

اور اگر آپ اس ماضى كو بھولنے كے ليے تيار ہيں اور اس كے اسلام قبول كرنے اور اس كى توبہ كے بعد اس كے ساتھ زندگى گزارنا چاہتے ہيں تو پھر كسى اور عورت كى بجائے يہ عورت ہى آپ كے ليے بہتر اور اچھى ہے.

نہم:

رہا مسئلہ آپ كے خاندان والوں كا مطالبہ كہ اسے طلاق دو تو اس سلسلہ ميں گزارش ہے كہ اس مسئلہ ميں آپ كے ليے ان كى اطاعت واجب نہيں، اور آپ كے خاندان اور گھر والوں كو اللہ كا ڈر اور تقوى اختيار كرنا چاہيے كہ وہ آپ اور آپ كى بيوى كے مابين عليحدگى كرنا چاہتے ہيں.

اور اگر آپ اسے اپنى بيوى بنا كر ركھنا چاہيں تو اس ميں آپ والدين كے نافرمان نہيں ٹھريں گے، بلكہ آپ اور آپ كى بيوى كے مابين قطع رحمى اور عليحدگى كرانے كى كوشش كا گناہ تو آپ كے والدين كو ہوگا، اگر آپ بيوى كو نہ چھوڑيں.

مزيد آپ سوال نمبر ( 95 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دہم:

رہا آپ كا يہ سوال:

" كيا زنا ميرى گردن پر قرض ہے كہ ايك دن مجھے اس كى قيمت چكانا ہو گى ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ: اگر تو آپ صدق دل سے اللہ كے ہاں توبہ كريں جيسا كہ آپ اپنے متعلق كہہ رہے ہيں تو اميد ہے كہ قرض نہيں ہوگا، اور آپ كا اس پر مؤاخذہ نہيں كيا جائيگا؛ توبہ كرنے والوں كے ليے بخشش اور اسے نيكيوں سے بدل دينے كے وعدہ كا اوپر بيان ہو چكا ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے گناہوں كو بخش دے، اور جہاں كہيں بھى خير و بھلائى ہو وہ آپ كے مقدر ميں كرے، اور آپ كو وہ كچھ كرنے كى توفيق دے جس ميں آپ كى حالت كى اصلاح ہو.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...