Showing posts with label نکاح کوباطل کرنے والی اشیاء. Show all posts
Showing posts with label نکاح کوباطل کرنے والی اشیاء. Show all posts

Monday, August 20, 2018

٦٠٩-دين ميں شك ہونے پر عقد نكاح كى تجديد

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ايك وقت ايسا بھى آيا كہ اعوذ باللہ اس مدت ميں مجھے اپنے دين پر شك ہونے لگا، ليكن يہ چيز ميرے اندر احساسات سے تجاوز نہ كر سكى، اس مدت كے دوران ہى ميں نے اپنى ايك رشتہ دار لڑكى سے عقد نكاح كيا، اور شرعى طور پر جو امور لازم ہوتے ہيں مثلا نكاح مہر اور منگنى وغيرہ سب امور سرانجام ديے اور نكاح بھى نكاح رجسٹرار كے پاس درج كرايا اور باقى سب شروط نكاح بھى موجود تھيں.
مجھے خدشہ تھا كہ كہيں ميرا نكاح باطل نہ ہو يا پھر اس كے باطل ہونے كا يقين تھا، ليكن بالآخر مجھے اميد ہوئى كہ ميرا ايمان كسى نہ كسى دن واپس ضرور آئيگا، اور الحمد للہ ايمان واپس آ گيا، تو كيا اب مجھے نكاح كى تجديد كرنا ہو گى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اگر تو آپ كو پيدا ہونے والا شك صرف ايك وسوسہ تھا جس پر آپ كا نفس مطمئن نہ ہوا اور نہ ہى اس پر دل راضى تھا اور آپ اس مغلوب كى طرح تھے جس پر غالب ہوا گيا ہو اور آپ اس كا انكار كرتے اور اسے دل سے نكالتے تھے ليكن وسوسہ نہيں نكلا تو يہ آپ كو كوئى ضرر و نقصان نہيں ديگا.

بلكہ آپ كا اسے ناپسند سمجھنا ہى صدق ايمان كى نشانى ہے، جيسا كہ صحيح مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" كچھ صحابہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور دريافت كرنے لگے كہ: ہم اپنے دل ميں كچھ ايسى بات پاتے ہيں جن كو ہم زبان پر لانا بہت بڑا گناہ سمجھتے ہيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كيا واقعتا تم اسے پاتے ہو ؟

تو انہوں نے عرض كيا: جى ہاں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہى تو صريح ايمان ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 132 ).

اور صحيح مسلم ميں عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وسوسہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو آپ نے فرمايا:

" يہ خالص ايمان ہے "

يعنى اسے ناپسند كرتے اور اس كو زبان پر لانا بہت بڑا گناہ سمجھتے ہيں.

امام نووى رحمہ اللہ شرح مسلم ميں كہتے ہيں:

" اس حديث كى شرح اور فقہ يہ ہے كہ:

" قولہ صلى اللہ عليہ وسلم: " يہ صريح اور خالص ايمان ہے "

اس كى كلام كرنے كو بڑا سمجھنا ہى صريح ايمان ہے، كيونكہ اسے بڑا سمجھنا اور اس سے شديد خوف ركھنا اور اس كا عقيدہ ركھنے كى بجائے اس كو زبان پر بھى نہ لانا يہ اسى شخص كو ہو سكتا ہے جس كا ايمان كامل ہو اور اس سے شك و شبہ ختم ہو " انتہى

اور بخارى و مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ميں سے كسى ايك كے پاس شيطان آ كر كہتا ہے: اسے كسى نے پيدا كيا ہے ؟ اسے كس نے پيدا كيا ہے ؟ حتى كہ كہتا ہے: تيرے رب كو كس نے پيدا كيا ؟ جب وہ اس حد تك پہنچ جائے تو اسے اعوذ با اللہ پڑھنى چاہيے اور اس سے رك جانا چاہيے "

اور مسلم كى روايت ميں ہے:

ہميشہ لوگ ايك دوسرے سے سوال كرتے رہيں گے حتى كہ كہ كہا جائيگا: يہ اللہ كى مخلوق ہے جسے اللہ نے پيدا كيا ہے، تو اللہ كو كس نے پيدا كيا ؟ لہذا جو بھى ايسى كوئى چيز پائے تو اسے " آمنت باللہ " كہنا چاہيے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 3276 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 134 ).

لہذا يہ پيدا ہونے والے وسوسے اس كے دين پر اثرانداز نہيں ہوتے، اور نہ ہى عقد نكاح كے وجود كو نقصان ديتے ہيں.

ليكن اگر يہ شك مستقل ہو اور آپ اس كو ناپسند نہ كرتے ہوں، اور نہ ہى اپنے سے دور بھگانے كى كوشش كريں، بلكہ آپ حيرت و گمراہى ميں ہوں تو يہ شك كفر ہو گا اور ملت سے خارج كرنے كا باعث ہوگا، اور اس شك كى موجودگى ميں مسلمان لڑكى كے ساتھ نكاح كرنا صحيح نہيں، كيونكہ كسى مسلمان عورت كا كافر مرد سے نكاح صحيح نہيں.

اور توبہ و استغفار اور اسلام كى طرف رجوع كے بعد تجديد نكاح لازم ہے.

ہم اللہ كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اس نے آپ سے اس برائى كو دور كيا، اور آپ پر احسان كرتے ہوئے آپ كو آپ كے دين اور ايمان كى طرف پلٹا ديا.

آپ كو چاہيے تھا كہ آپ اپنے سوال ميں تفصيلا اس شك كے متعلق دريافت كرتے جو آپ كو پيدا ہوا تھا.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے ايمان و ہدايت اور ثابت قدمى ميں زيادتى فرمائے.

واللہ اعلم

Friday, August 10, 2018

١٦-اللہ اور رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے والے خاوند كے ساتھ رہنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں سات برس سے شادى شدہ ہوں اور ميرا ايك بچہ مريض ہے، اس بچے كى بنا پر ميرا خاوند مجھے ناپسند كرتا اور ہر وقت مذمت كرتا رہتا ہے، اور اللہ اور رسول پر سب و شتم كرتا ہے، اس سبب كى بنا پر مجھے دو بار طلاق بھى ہو چكى ہے ميں اپنے بچے كے باعث تيسرى طلاق نہيں چاہتى.
ميرا ايك بچہ اپاہج اور معذور ہے، اور مير گھر والے بھى مجھ كو بوجھ سمجھتے ہيں، يہ علم ميں رہے كہ كچھ لوگوں نے اسے سمجھايا كہ يہ سب و شتم دين اسلام سے مرتد ہونے كا باعث بنتا ہے، اور پھر وہ نماز پنجگانہ پابندى كے ساتھ ادا كرتا ہے، ليكن اس كا مزاج تعصب والا ہے، لہذا وہ اللہ اور رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرتا ہے، مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
يہ علم ميں رہے كہ ميں اپنى اولاد نہيں چھوڑ سكتى، اور جب ميں نے اپنے والد كے ساتھ رہنے كى كوشش كى تو اولاد كى بنا پر انہوں نے اپنے ساتھ ركھنے سے انكار كر ديا، ميں بہت پريشان ہوں مجھے كوئى حل بتائيں.
وہ كچھ مدت تو نماز ادا كرتا ہے اور كچھ عرصہ نماز ادا نہيں كرتا، ہم نے اسے بہت سمجھايا ہے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، مجھے كيا كرنا چاہيے كيا ميرا اس كے ساتھ رہنا جائز ہے، اور ميرا حكم كيا ہے ؟
اور كيا مجھے اس سے طلاق ہو چكى ہے، اور كيا ميں اس كے ساتھ اس كے گھر ميں رہ سكتى ہوں، برائے مہربانى مجھے اس حالت كے متعلق ہر چيز بتائيں.

الحمد للہ:

اول:

اللہ سبحانہ و تعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنا كفر اور دين اسلام سے ارتداد كا باعث ہے، مسلمانوں كا اجماع ہے كہ ايسا كرنے والا شخص قتل كا مستحق ہے، اور ايسے شخص كى نہ تو نماز جنازہ ادا كى جائيگى اور نہ ہى اسے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن كيا جائيگا.

رہا مسئلہ ارتداد كا نكاح پر اثرانداز ہونے كا تو اس كے متعلق عرض ہے كہ: مرتد شخص كى بيوى خاوند كے مرتد ہونے كے وقت سے ہى عدت شروع كر دےگى، اگر تو وہ عدت ختم ہونے سے قبل دين اسلام ميں واپس آ جاتا ہے تو ان كے مابين نكاح باقى رہےگا، اور عورت اس كى بيوى رہےگى.

ليكن اگر عدت ختم ہونے كے بعد دين اسلام ميں واپس آتا ہے تو پھر معاملہ عورت كے ہاتھ ميں ہے اگر وہ چاہے تو پہلے نكاح سے ہى واپس آ سكتى ہے، اور تجديد نكاح كى ضرورت نہيں يہ اسے حق حاصل ہے.

اور اگر چاہے تو وہ اس كے پاس واپس نہ جائے تو يہ بھى اسے حق حاصل ہے، اور خاوند كے مرتد ہونے كے وقت سے ہى اس كا نكاح فسخ ہو جائيگا، اور طلاق لينے كى كوئى ضرورت نہيں، بلكہ اگر طلاق نہ بھى دے تو نكاح فسخ ہو جائيگا.

يہاں ايك تنبيہ كرنا ضرورى ہے كہ اگر خاوند مرتد ہو جائے تو بيوى كے ليے جائز نہيں كہ وہ خاوند كو اپنے قريب آنے دے حتى كہ وہ توبہ كر كے دين اسلام ميں واپس آ جائے.

اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 15 ) كے جواب ميں ہو چكا ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

دوم:

ہمارى رائے كہ ـ جيسا كہ آپ كہتى ہيں ـ جب آپ كا خاوند نماز كا پابند ہے، يا بعض اوقات نماز ادا كرتا ہے، تو اس ميں خير و بھلائى اور دين كى محبت پائى جاتى ہے، ليكن اسے ايمان قوى كرنے كى ضرورت ہے، اس ميں آپ اس كى معاونت كريں، اور اس كا ہاتھ پكڑيں، اس كے ليے وسائل يہ ہيں:

جب وہ گھر ميں ہو تو اس موقع كو غنيمت جانتے ہوئے كوئى اسلامى چينل لگا ديا كريں ہو سكتا ہے وہ كوئى ايسى بات سن لے جو اس كى ہدايت و استقامت كا سبب بن جائے.

اور آپ ہر اس كام سے اجتناب كريں جو اس كے ليے غضب كا باعث بنے اور اسے نارمل پن سے نكال دے، ہو سكتا ہے آپ ہى اس كے ليے اس عظيم برائى كا سبب ہوں.

اگر آپ اس كے ساتھ ہر قسم كى كوشش كر بيٹھيں اور اس كا كوئى فائدہ نہ ہو اور وہ اپنے اس عمل پر مصر رہے جو كر رہا ہے تو پھر اس كے ساتھ رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں، اور آپ كے والد كو اپنا فرض ادا كرنا چاہيے، وہ آپ اور آپ كے بچے كا خرچ برداشت كرے، اور اس كے ليے آپ كى ذمہ دارى سے دست بردار ہونا جائز نہيں.

اگر آپ كا والد اپنا فرض ادا كرنے سے انكار كرے تو ہم آپ كو صبر و تحمل كى وصيت كرتے ہيں كہ صبر كرتے ہوئے آپ اللہ سبحانہ و تعالى سے مدد طلب كريں حتى كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ كے ليے كوئى نكلنے كى راہ بنا دے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور جو كوئى بھى اللہ كا تقوى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے روزى بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے گمان نہيں ہوتا الطلاق ( 2 - 3 ).

ہم اللہ تعالى سے سلامى و عافيت اور بخشش كے طلبگار ہيں.

واللہ اعلم

١٥-خاوند سے دو ہفتے قبل مسلمان ہوئى كيا نكاح فسخ ہو جائيگا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم دونوں نئے مسلمان ہيں، ہميں كہا گيا كہ اسلام قبول كرنے كے بعد ہمارى شادى باطل ہو چكى ہے، ميں سولہ فرورى كو مسلمان ہوئى ليكن اس وقت ميرے خاوند نے مسلمان ہونے سے انكار كر ديا تھا، ميں نے اسے چھوڑ ديا اور اپنى ايك سہيلى كے ہاں جا كر رہنے لگى.
دو مارچ كو ميرا خاوند بھى مسلمان ہو گيا تو ميں واپس خاوند كے پاس آ گئى، مجھے كہا گيا كہ شريعت اسلاميہ كے مطابق خاوند مسلمان نہ ہو تو ہمارى شادى ختم ہو گئى، اب ہمارے ليے ضرورى ہے كہ جب تك شريعت اسلاميہ كے مطابق نيا نكاح نہ ہو جائے ہم ايك گھر ميں نہيں رہ سكتے.
كيا اس كلام كى كوئى حقيقت ہے، برائے مہربانى جواب جلد ديں كيونكہ ميں گناہ اور اللہ كى معصيت ميں نہيں رہنا چاہتى ؟

الحمد للہ:

آپ كو جو كچھ كہا گيا ہے وہ صحيح نہيں، كيونكہ جب خاوند اور بيوى ميں سے كوئى ايك پہلے مسلمان ہو جائے اور پھر عورت كى عدت ختم ہونے سے قبل دوسرا بھى مسلمان ہو جائے تو وہ اپنے پہلے نكاح پر ہى ہيں ( عورت كى عدت تين حيض ہے، اگر اسے حيض آتا ہے، اور اگر حيض نہيں آتا تو تين ماہ ہو گى، اور اگر وہ حاملہ ہے تو اس كى عدت وضح حمل ہو گى )، امام شافعى امام احمد كا مسلك يہى ہے، اور سوال ميں جو صورت بيان ہوئى ہے اس ميں امام مالك رحمہ اللہ كا بھى مسلك يہى ہے كہ عورت خاوند سے قبل مسلمان ہوئى ہے اس طرح كے شريعت اسلاميہ ميں بہت سارے واقعات ملتے ہيں.

ان واقعات ميں صفوان بن اميہ كى بيوى كا قصہ بھى شامل ہے جو فتح مكہ كے موقع پر مسلمان ہو گئى تھى، اور پھر اس كے ايك ماہ بعد صفوان بھى مسلمان ہو گئے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان ميں عليحدگى نہيں كرائى تھى، اور نہ ہى انہيں تجديد نكاح كا حكم ديا تھا، بلكہ وہ صفوان كے پاس پہلے نكاح ميں ہى رہى، ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں اس حديث كى شہرت اس كى سند سے زيادہ قوى ہے " اھـ

ليكن اگر ان ميں دوسرا عورت كى عدت ختم ہونے كے بعد اسلام قبول كرے تو اس ميں اہل علم كا اختلاف پايا جاتا ہے اور صحيح يہى ہے كہ اگر وہ آپس ميں اكٹھا رہنے پر متفق ہوں تو پہلا عقد نكاح ہى كافى ہے ليكن شرط يہ ہے كہ عورت نے ابھى دوسرے مرد سے شادى نہ كر لى ہو، تو اس صورت ميں ان كا پہلے نكاح ميں ہى اكٹھا رہنا جائز ہے اور تجديد نكاح كى ضرورت نہيں ہو گى.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اور ان كے شاگرد ابن قيم رحمہ اللہ كا اختيار يہى ہے، اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے بھى اسے ہى راجح قرار ديا ہے، انہوں نے ابو داود كى درج ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى بيٹى زينب رضى اللہ تعالى عنہا كو ان كے خاوند ابو العاص كے پہلے نكاح ميں ہى واپس كر ديا تھا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2240 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1143 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2019 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابو العاص رضى اللہ تعالى نے سورۃ الممتحنۃ كى آيات نازل ہونے كے دو برس بعد اسلم قبول كيا تھا جن ميں بيان كيا گيا ہے كہ مسلمان عورتيں مشركوں كے ليے حرام ہيں، اور ظاہر ہے كہ اس مدت ميں تو زينب رضى اللہ تعالى عنہا كى عدت ختم ہو چكى تھى، ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پہلے نكاح ميں ہى انہيں واپس كر ديا تھا.

حاصل يہ ہوا كہ آپ دونوں اپنے پہلے نكاح پر ہى ہيں اور تجديد نكاح كى كوئى ضرورت نہيں. واللہ تعالى اعلم.

مزيد آپ زاد المعاد ( 5 / 133 - 140 ) اور المغنى ( 10 / 8 - 10 ) اور الشرح الممتع ( 10 / 288 - 291 ) كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...