Showing posts with label برتن. Show all posts
Showing posts with label برتن. Show all posts

Thursday, August 23, 2018

٧١٨-كيا سونے كى سرمہ دانى استعمال كرنى جائز ہے ؟


سوال-كہتے ہيں كہ سونے كى سلائى سے سرمہ لگانے سے آنكھوں كى بينائى تيز ہوتى ہے.
اس كلام كى حقيقت كيا ہے، اور كيا سونے كى سلائى استعمال كرنا جائز ہے، يا كہ حرمت ميں داخل ہوتى ہے ؟
ہم يہ كلام ابن قيم جوزيہ كى كتاب " الطب النوي " ميں پڑھى ہے.

الحمد للہ:

صحيح نص ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سونے اور چاندى كے برتن ميں كھانے پينے كى حرمت ثابت ہے، اور فقھاء كرام كا اس كى حرمت پر اتفاق ہے.

حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سونے اور چاندى كے برتنوں ميں نہ پيؤ، اور نہ ہى اس كى پليٹوں ميں كھاؤ، كيونكہ ان كے ليے يہ دنيا ميں اور تمہارے ليے آخرت ميں ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5110 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2067 ).

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص سونے اور چاندى كے برتنوں ميں كھاتا پيتا ہے، وہ اپنے پيٹ ميں جہنم كى آگ ڈال رہا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5311 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2065 ) يہ الفاظ مسلم شريف كے ہيں.

يہ تو سونے اور چاندى كے برتنوں كے متعلق ہے.

سونے كا سلائى استعمال كرنے كے مسئلہ كے متعلق ابن قيم نے زاد المعاد اور ابن مفلح نے الآداب الشرعيۃ ميں لكھا ہے:

" يہ سلائى آنكھ كے ليے نفع مند ہے "

ديكھيں: زاد المعاد لابن قيم ( 4 / 310 ) الآداب الشرعيۃ ( 3 / 23 ).

ان دونوں كى كلام سے اباحت ظاہر ہوتى ہے، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے بھى اسے بيان كرتے ہوئے كہا ہے:

" سونے اور چاندى كى سلائى سے سرمہ لگانا مباح ہے، كيونكہ يہ ضرورت ہے، اور ضرورت كى بنا پر يہ دونوں مباح ہيں " اھـ

ديكھيں: الاختيارات ( 8 ).

سونے كى سلائى سے سرمہ لگانے كا فائدہ بيان كرتے ہوئے ابن قيم رحمہ اللہ زاد المعاد ميں كہتے ہيں:

" يہ آنكھ كو صاف كرتا اور بيانى قوى كرتا ہے، بہت سى آنكھ كى بيماريوں كے ليے بھى مفيد ہے. اھـ

اور ابن مفلح نے بھى الآداب الشرعيۃ ميں يہى بيان كيا ہے، ليكن اس كے متعلق اس ميں ماہر لوگوں كى طرف رجوع كيا جائيگا.

واللہ اعلم

٧١٧-كتا پالنا اور كتے كو چھونا اور بوسہ لينا


سوال-كتا ركھنا نجاست شمار ہوتا ہے، ليكن اگر انسان گھر كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھے اور اسے گھر سے باہر ہى باندھے، يا پھر كسى اور جگہ وركشاپ وغيرہ ميں باندھے تو وہ اپنے آپ كو كس طرح پاك ركھ سكتا ہے ؟
اور اگر اسے اپنا آپ پاك كرنے كے ليے مٹى وغيرہ نہ ملے تو پھر كيا حكم ہو گا ؟
اور كيا مسلمان كو اپنا آپ پاك صاف ركھنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور طريقہ پايا جاتا ہے، بعض اوقات مذكورہ شخص دوڑ كے وقت كتا اپنے ساتھ لے جاتا اور اسے تھپكياں ديتا اور اس كو چومتا ہے ... الخ ؟

الحمد للہ:

اول:

شريعت مطہرہ نے مسلمان شخص كے ليے كتا ركھنا حرام قرار ديا ہے اور اس كى مخالفت كرنے والے كو بطور نقصان روزانہ ايك يا دو قيراط نيكيوں كى كمى اٹھانا پڑتى ہے، ليكن شكار، يا جانوروں اور كھيت كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى جانوروں كى ركھوالى، يا شكار كرنے، يا كھيت كى ركھوالى كے علاوہ كتا ركھا اس كا روزانہ ايك قيراط اجر كم ہوتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1575 ).

اور عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى جانوروں كى ركھوالى يا شكار كے علاوہ كتا ركھا اس كے اعمال سے روزانہ ايك قيراط كمى ہوتى ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5163 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1574)

كيا گھروں كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز ہے ؟

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ان تين امور كے علاوہ كسى اور كام مثلا گھروں اور راستوں وغيرہ كى حفاظت اور چوكيدارى كے ليے كتا ركھنے ميں اختلاف ہے، راجح يہى ہے كہ ان تينوں پر قياس اور حديث سے سمجھ آنے والى علت " ضرورت " كى بنا پر كتا ركھنا جائز ہے " انتہى.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 10 / 236 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس بنا پر جو گھر شھر كے وسط ( آبادى ) ميں ہو اس كى چوكيدارى كے ليے كتا ركھنا جائز نہيں، چنانچہ اس حالت ميں اس طرح كى غرض كے ليے كتا ركھنا حرام اور ناجائز ہو گا، اس كى بنا پر كتا ركھنے والے كا روزانہ ايك يا دو قيراط عمل اجر كم ہوتا رہے گا.

اس ليے انہيں كتے كو بھگا دينا چاہيے اور وہ كتا نہ پاليں، ليكن اگر وہ گھر خالى اور بيابان جگہ ميں ہو اور اس كے ارد گرد كوئى اور مكان نہ ہو تو پھر اس گھر اور اس ميں رہنے والوں كى حفاظت كے ليے كتا ركھنا جائز ہے، اور پھر گھر والوں كى حفاظت تو جانوروں مواشى اور كھيت كى حفاظت سے زيادہ اہم ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 4 / 246 ).

ايك قيراط اور دو قيراط كى دونوں روايتوں ميں موافقت كے متعلق كئى ايك اقوال بيان كيے جاتے ہيں:

حافظ عينى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ا - ہو سكتا ہے يہ كتوں كى دو قسموں ميں ہو، ان ميں ايك زيادہ اذيت كا باعث ہو.

ب - بستيوں اور شہروں ميں دو قيراط اور ديہاتوں ميں ايك قيراط.

ج ـ يہ دو وعليحدہ وقتوں ميں بيان ہوا، پہلے تو ايك قيراط بيان كيا گيا، پھر سختى كرتے ہوئے دو قيراط كر ديے گئے.

ديكھيں: عمدۃ القارى ( 12 / 158 ).

دوم:

سائل كا يہ كہنا كہ:

" كتا ركھنا نجاست شمار ہوتا ہے "

اس كى يہ كلام مطلقا صحيح نہيں، كيونكہ نجاست فى نفسہ كتے ميں نہيں بلكہ جب وہ برتن ميں سے پيے تو اس كے لعاب اورتھوك ميں نجاست ہے اس ليے جو شخص كتے كو چھوئے يا كتا اس كے ساتھ لگ جائے تو اسے اپنے آپ كو نہ تو مٹى سے پاك كرنا ہو گا اور نہ ہى پانى كے ساتھ.

ليكن اگر كتا برتن ميں سے پيتا ہے تو اس پر برتن ميں موجود پانى وغيرہ انڈيلنا اور اسے سات بار پانى اور آٹھويں بار مٹى سے دھونا ضرورى ہے، اگر وہ اس برتن كو خود استعمال ميں لانا چاہے، ليكن اگر وہ برتن كتے كے ليے خاص ہے تو پھر اسے پاك صاف كرنا لازم نہيں.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب كتا تمہارے كسى برتن ميں مونہہ ڈال دے تو اس كى پاكى اور صفائى يہ ہے كہ اسے سات بار دھويا جائے، پہلى يا آخرى بار مٹى سے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 279 ).

اور مسلم كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" جب كتا برتن ميں مونہہ ڈال جائے تو اسے سات بار دھوؤ، اور آٹھويں بار مٹى سے مانجھو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 280 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" كتے كے متعلق علماء كرام كے تين اقوال ہيں:

پہلا قول:

اس كى تھوك طاہر ہے. امام مالك رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے.

دوسرا قول:

نجس ہے، حتى كہ اس كے بال بھى نجس ہيں.

يہ امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك اور امام احمد كى ايك روايت ہے.

تيسرا قول:

اس كے بال طاہر ہيں، اور اس كى تھوك نجس ہے.

يہ مسلك امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا ہے، اور امام احمد كى دوسرى روايت ہے.

ان اقوال ميں صحيح ترين قول بھى يہى ہے، چنانچہ جب بدن يا كپڑے كو اس كے بالوں كى رطوبت لگ جائے تو وہ نجس نہيں ہو گا " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 530 ).

اور ايك دوسرے مقام پر رقمطراز ہيں:

" يہ اس ليے كہ بعينہ اشياء ميں اصل تو طہارت ہے، اس ليے كسى بھى چيز كو اس وقت حرام يا نجس نہيں كہا جا سكتا جب تك اس كى كوئى دليل نہ ملے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اللہ تعالى نے تمہارے ليے جو حرام كيا ہے اسے تفصيل سے بيان كر ديا ہے، مگر يہ كہ جس كى طرف تم مضطر ہو جاؤ ﴾الانعام ( 119 ).

اور ايك مقام پرارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اور اللہ تعالى كسى قوم كو ہدايت دينے كے بعد گمراہ نہيں كرتا، حتى كہ ان كے ليے وہ كچھ بيان كردے جس سے وہ بچيں ﴾التوبۃ ( 115 ).

اور جب معاملہ ايسے ہى ہے تو پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب كتا تمہارے برتن ميں مونہہ ڈال دے تو اس كى صفائى يہ ہے كہ وہ اسے سات بار دھوئے پہلى بار مٹى سے "

اور ايك دوسرى حديث ميں ہے:

" جب كتا برتن ميں مونہہ ڈال دے .... الخ "

چنانچہ ان سب احاديث ميں صرف كتے كے مونہہ ڈالنے كا ذكر ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے سارے اجزاء كا ذكر نہيں كيا، اس ليے اسے نجس كہا بطور قياس ہے ....

اور يہ بھى كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شكار، اور مواشى اور كيھتوں كى ركھوالى كے ليے كتا ركھنا جائز قرار ديا ہے، اس ليے جو بھى اس غرض كے ليے كتا ركھے گا اس كے بالوں كى رطوبت اور پيسينہ لگنا لازمى ہے، جس طرح خچر اور گدھے كا پسينہ لگ جاتا ہے، چنانچہ اس كے بالوں كو نجس كہنا امت مسلمہ كو حرج اور تنگى ميں ڈالنا ہے، حالانكہ امت مسلمہ سے اسے ختم كيا گيا ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 617 - 619 ).

احتياط يہى ہے كہ جو شخص كتے كو چھوئے اور اس كے ہاتھ پر رطوبت اور پسينہ لگے، يا پھر كتے كو پسينہ آيا ہو تو وہ ہاتھ كو سات بار دھوئے، ان ميں ايك بار مٹى سے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اور رہا اس كتے كو چھونے كا مسئلہ اگر وہ بغير پسينہ اور رطوبت كے اسے چھوتا ہے تو اس كا ہاتھ نجس نہيں ہو گا، اور اگر رطوبت اور پسنہ كى حالت ميں چھوئے تو اكثراہل علم كى رائے ميں اس كا ہاتھ نجس ہو جائيگا، اس كے بعد اسے اپنا ہاتھ سات بار دھونا لازمى ہے،ان ميں ايك بار مٹى سے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 246 ).

سوم:

كتے كى نجاست كى طہارت اور پاكيزگى كى كيفيت سوال نمبر ( 715 ) اور ( 716 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے، اس كا مطالعہ كريں.

كتے كى نجاست كو سات بار دھونا لازمى ہے، اس ميں ايك بار مٹى كے ساتھ، مٹى موجود ہونے كى صورت ميں اس كا استعمال واجب ہے، اس كے علاوہ كوئى چيز كفائت نہيں كرےگى، ليكن اگر مٹى نہ ملے تو صفائى كے ليےاستعمال كى جانے والى باقى اشياء مثلا صابن وغيرہ كے استعمال ميں كوئى حرج نہيں.

چہارم:

اور سائل نے كتے كو چومنے اور اس كا بوسہ لينے كا ذكر كيا ہے، اس كے متعلق گزارش ہے كہ يہ كئى ايك امراض كا باعث بنتا ہے، شريعت مطہرہ كى مخالفت كرتے ہوئے كتے كو چومنے، يا پھر بغير دھوئے كتے كے برتنوں كواستعمال كرنے سے انسان كو جو امراض اور بيمارياں لاحق ہوتى ہيں وہ بہت زيادہ ہيں جن ميں (pasturella ) مرض پايا جاتا ہے، يہ ايك بيكٹري مرض ہے، انسان اور حيوان كے سانس والے نظام ميں اس مرض كا سبب طبعى پايا جاتا ہے، اور خاص ظروف كے تحت يہ جرثومہ جسم ميں بيمارى پيدا كرنے كا باعث بنتا ہے.

اور ان بيماريوں ميں (parasitic disease ) كى بيمارى بھى شامل ہے يہ ايك طفيلى بيمارى ہے جو انسان اور حيوان كے اندرونى اعضاء كو لگتى ہے، اور سب سے بڑى پھپھڑوں اور جگر ميں خرابى پيدا كرتى ہے، اور اس كے ساتھ پيٹ اور جسم كے باقى اعضاء ميں كھوكھلا پن پيدا كر ديتا ہے.

اس بيمارى كى بنا پر ايك كيڑا پيدا ہوتا ہے جسے ( ايكائنكس كرانيلسس) كا نام ديا جاتا ہے، يہ ايك چھوٹا سا كيڑا ہے جس كى لمبائى دو سے نو ملى ميٹر ہوتى ہے، جو تين اجزاء اور سر اور گردن پر مشتمل ہوتا ہے، اور سر چار مونہوں پر مشتمل ہوتا ہے.

يہ كيڑے جو كتوں بليوں اور لومڑيوں اور بھيڑيوں جيسے ہوتے ہيں بالآخر انتڑيوں ميں نشو و نما پاتے ہيں.

ديكھيں: كتاب امراض الحيوانات الاليفۃ التى تصيب الانسان تاليف ڈاكٹر اسماعيل عبيد السنانى.

خلاصہ:

شكار يا مواشى اور كھيت كى ركھوالى كے علاوہ كسى بھى غرض سے كتے ركھنے جائز نہيں، اور گھروں كى ركھوالى كے ليے كتے اس شرط پر ركھنے جائز ہيں كہ گھر شہر سے باہر خالى جگہ ميں ہو،اور كتے كے علاوہ ركھوالى كا كوئى اور وسيلہ نہ ہو.

مسلمان شخص كو كفار كى تقليد كرتے ہوئے كتوں كے ساتھ نہيں دوڑنا چاہيے، اور نہ ہى انہيں چھوئے اور انہيں چومے كيونكہ ايسا كرنے سے بہت سى بيمارياں لاحق ہوتى ہيں.

اللہ كا شكر ہے جس نے ہميں ايسى شريعت مطہرہ سے نوازا جو كامل ہے، اور جس نے لوگوں كے دين و دنيا كى اصلاح كے اصول و قواعد لاگو كيے، ليكن اكثر لوگ انہيں جانتے ہى نہيں.

واللہ اعلم

٧١٤-كفار كا ذبح كردہ كھانے اور ان كے برتن استعمال كرنے كا حكم


سوال-ميں نے ـ چائنہ آنے سے قبل ـ يہ سن ركھا تھا كہ ملحد اور غير مسلم لوگوں كا ذبح كردہ يا جسے انہوں نے قتل كيا ہو مسلمان شخص كے ليے كھانا جائز نہيں، ہمارى يونيورسٹى ميں مسلمانوں كے ليے ايك چھوٹا سا ہوٹل ہے جہاں گوشت بھى ہے، ليكن مجھے يقين نہيں كہ يہ اسلامى طريقہ كے مطابق ذبح كيا گيا ہو مجھے اس ميں شك سا رہتا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميرى سہيليوں كو ميرى طرح شك نہيں، بلكہ وہ كھاتے ہيں، كيا وہ حق پر ہيں يا كہ حرام كھا رہے ہيں ؟
اسى طرح كھانے پينے كے برتنوں كے متعلق بھى بتائيں كيونكہ مسلمانوں اور غير مسلموں كے برتنوں ميں كوئى تميز نہيں، ان حالت ميں مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اہل كتاب يہودى اور عيسائى كے علاوہ باقى كسى بھى غير مسلم كا ذبح كردہ گوشت كھانا جائز نہيں، چاہے وہ مجوسى ہوں، يا پھر بت پرست، يا كيمونسٹ، يا دوسرے كفار، اور نہ ہى وہ گوشت كھانا جائز ہے جن ميں ان كے ذبح كردہ كا شوربہ وغيرہ ملا ہوا ہو؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اہل كتاب كے علاوہ كسى بھى كافر كا كھانا مباح نہيں كيا:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ آج تمہارے ليے پاكيزہ چيزيں حلال كر دي گئى ہيں، اور اہل كتاب كا كھانا تمہارے ليے حلال ہے، اور تمہارا كھانا ان كے ليے حلال ہے ﴾. الآيۃ

و طعامھم : ان كا كھانا سے مراد ان كى ذبح كردہ ہے، جيسا كہ ابن عباس رضى اللہ عنہ وغيرہ كا كہنا ہے.

ليكن پھل وغيرہ كھانے ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ يہ حرام كھانے ميں شامل نہيں ہوتے، اور مسلمانوں كے كھانے يہ مسلمانوں اور غير مسلم سب كے ليے حلال ہيں، جبكہ وہ حقيقى مسلمان ہوں اور اللہ تعالى كے علاوہ كسى كى عبادت نہ كرتے ہوں، اور نہ ہى اللہ كے علاوہ كسى نبى ولى كو پكارتے ہوں، قبر پرست اور دوسرے جو اللہ كو علاوہ كسى اور كى عبادت كرتے ہيں وہ كافر ہيں.

رہا برتنوں كا مسئلہ تو اس كے متعلق گزارش ہے كہ:

مسلمانوں كو چاہيے كہ وہ اپنے ليے عليحدہ برتن ركھيں، جن برتنوں ميں كفار شراب نوشى اور خنزير كا گوشت كھاتے ہيں وہ استعمال نہ كريں، ليكن اگر مسلمانوں كو ان كے علاوہ كوئى اور برتن نہيں ملتے تو پھر مسلمان باورچى كو چاہيے كہ وہ كفار كے استعمال كردہ برتنوں كو اچھى طرح دھوئے اور پھر مسلمانوں كے ليے اس ميں كھانا ركھے.

كيونكہ صحيحين ميں ابو ثعلبہ خشنى رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مشركين كے برتنوں ميں كھانے پينے كے متعلق دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ان ميں مت كھاؤ، ليكن اگر تمہيں كوئى اور برتن نہ مليں تو انہيں دھو كر ان ميں كھا ليا كرو "

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ديكھيں كتاب: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ علامہ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 4 / 435 ).

واللہ اعلم

٧١٣-سونے اور چاندى كے برتنوں كى حرمت


سوال-ان ايام ميں سونے اور چاندى كے برتنوں كا استعمال عام ہو رہا ہے، خاص كر امير طبقہ ميں، بلكہ معاملہ اس حد تك جا پہنچا ہے كہ بعض لوگ تو غسل خانے ميں لگانے كے ليے ٹونٹياں وغيرہ بھى خالص سونے كى خريدنے لگے ہيں نہ تو وہ اس كى قيمت كى طرف دھيان ديتے ہيں، اور نہ ہى اس كى زكاۃ ادا كرتے ہيں، يہ تو معلوم ہے كہ يہ منع ہے، اس سلسلے ميں آپ كى رائے كيا ہے ؟
اور كيا اس كے حكم سے جاہل مسلمانوں كو يہ اشياء فروخت كرنے سے روك دينا چاہيے، بارك اللہ فيكم ؟

الحمد للہ:

نصوص شرعيہ اور اجماع سے سونے اور چاندى كے برتنوں كے استعمال كى حرمت ثابت ہے، ابو حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم سونے اور چاندى كے برتنوں ميں نہ پيؤ، اور اس كى پليٹوں ميں نہ كھايا كرو، كيونكہ ان كے ليے يہ دنيا ميں ہيں، اور تمہارے ليے آخرت ميں "

متفق عليہ.

اور ايك دوسرى حديث ميں ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص سونے اور چاندى كے برتنوں ميں كھاتا پيتا ہے وہ اپنے پيٹ ميں جہنم كى آگ ڈال رہا ہے "

متفق عليہ، يہ الفاظ مسلم شريف كے ہيں.

چنانچہ سونے اور چاندى كے برتن بنانا جائز نہيں، اور نہ ہى ان برتنوں ميں كھانا پينا جائز ہے، اور اسى طرح ان ميں وضوء كرنا بھى جائز نہيں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت شدہ فرمان كى نص سے يہ سب حرام ہے، چنانچہ اسے فروخت نہيں كرنا چاہيے تا كہ مسلمان شخص اسے استعمال نہ كر سكے.

اللہ سبحانہ وتعالى نے ان برتنوں كا استعمال حرام كيا ہے، چنانچہ نہ تو يہ كھانے پينے ميں استعمال ہو سكتے ہيں، اور نہ ہى كسى اور غرض كے ليے، اور نہ ہى سونے اور چاندى كے چمچ اور چائے يا قہوہ كے كپ بنائے جا سكتے ہيں يہ سب ممنوع ہيں كيونكہ يہ بھى برتنوں كى ايك قسم ہے.

اس ليے مسلمان شخص كو ہر اس چيز سے اجتناب كرنے كى كوشش كرنى چاہيے جو اللہ تعالى نے حرام كي ہے، اور اسے اسراف و فضول خرچى اور مال و دولت كے ساتھ كھيلنے سے دور رہنا چاہيے، اگر اللہ تعالى نے اسے مال و دولت كى فراوانى سے نوازا ہے تو اس كے پاس فقراء بہت ہيں، ان پر صدقہ و خيرات كرے، اور پھر اس كے پاس مجاہدين بھى ہيں جو اللہ تعالى كى راہ ميں اپنى جانيں نچھاور كر رہے ہيں، وہ ان پر اپنا مال خرچ كرے، اور مال كے ساتھ مت كھيلے.

مال اس كى ضرورت ہے، اور اس كے پاس ضرورتمند بھى بہت ہيں، اس ليے مومن شخص كو خير و بھلائى كے كاموں مثلا فقراء و مساكين اور مساجد و مدارس كى تعمير اور راستے بنانے اور پلوں كى اصلاح اور مجاہدين و مہاجرين اور فقراء و مساكين كى مدد ميں مال صرف كرنا چاہيے.

اس كے علاوہ بھى بہت سے بھلائى كے كاموں ميں صرف ہو سكتا ہے مثلا كسى مقروض شخص كا قرض ادا كرنا، يا پھر شادى كى استطاعت نہ ركھنے والے كى شادى ميں مال خرچ كرنا، يہ سب خيراتى كام ہيں، ان ميں خرچ كرنا مشروع ہے.

ليكن سونے اور چاندى كے برتنوں يا چمچ يا كپ يا پائپ وغيرہ بنوا كر لگانے ميں مال سے كھيلنا يہ سب عظيم منكر اور برائى ہے، اس سے اجتناب اور اسے ترك كرنا ضرورى ہے، جس علاقے اور شہر ميں ايسا كام ہو رہا ہو وہاں كے علماء اور حكام كو اس سے منع كرنا چاہيے، اور وہ اسراف كرنے والوں كے اس كھيل كو روكيں، اور انہيں ايسا نہ كرنے ديں.

اللہ تعالى ہى مدد گار ہے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ شيخ ابن باز ( 6 / 378 ).

٧١٢-چاندى كى پالش والے برتن اور ہديے كرنے كا حكم


سوال-ميرى رخصتى كے موقع پر مجھے بعض ايسے تحفے بھى ملے جو سنت نبويہ كے مطابق نہ تھے، مثلا ذى روح كى تصاوير، اور بعض مجسمے، اور چاندى كى پالش كردہ برتن وغيرہ .... الخ.
كيا ميں يہ اشياء غير مسلموں كو دے سكتا ہوں، يا كہ مجھے ان سے صرف خلاصى حاصل كرنا ضرورى ہے ؟
اور كيا ہم كسى كى طرف سے ديا گيا تحفہ آگے كسى اور كو تحفہ دے سكتے ہيں ؟
مثال كے طور پر ميرے بہت سے دوستوں ميں ايك ہى طرح كے كئى برتن ديے ہيں، مجھے ان سب كى ضرورت نہيں، تو كيا ميں ان ميں كچھ برتن كسى اور كو تحفہ دے سكتا ہوں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

الحمد للہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور راہنمائى يہ ہے كہ تصاوير كو مٹا ديا جائے، اور مجسمے توڑ ديے جائيں.

اس كى دليل ابو الھياج اسدى رحمہ اللہ كى درج ذيل حديث ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ نے مجھے كہا:

" كيا ميں تجھے اس كام پر مامور نہ كروں جس پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے مامور كيا تھا، جو مجسمہ ملے اسے مٹا ڈالو، اور جو قبر بھى اونچى ہو اسے برابر كر دو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1609 ).

اس ليے يہ بات متعين شدہ ہے كہ ذى روح كى تصاوير سے خلاصى حاصل كرنا ضرورى ہے، رہا مسئلہ چاندى كى پالش كردہ برتنوں كا تو يہ بھى استعمال كرنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" چاندى كے برتنوں ميں پينے والے اپنے پيٹ ميں جہنم كى آگ ڈال رہا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 3846 ).

سونے اور چاندى كى پالش كردہ اشياء كا حكم بھى سونے اور چاندى سے بنى ہوئى چيز كا ہے.

اور آپ كو تحفے اور ہديہ جات ملے ہيں ان كے متعلق گزارش ہے كہ اسے آگے ہديہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ ہديہ قبول كرنے سے انسان مالك بن جاتا ہے، چنانچہ اسے فروخت كركے، يا پھر كسى كو ہبہ يا وقف كر كے تصرف كرنے كا حق حاصل ہے، اور ايسا كرنا جائز ہے.

واللہ اعلم

٧١١-كيا غير مسلموں كے استعال كردہ برتن دھونے لازمى ہيں ؟


سوال-ميں ايك غير اسلامى ملك ميں رہتا ہوں، جہاں مجھے ايسا باورچى خانہ استعمال كرنا پڑتا ہے جو غير مسلم اشخاص استعمال كرتے ہيں، كھانے كے بعد ہمارے غير مسلم دوست برتن دھوتے ہيں، كيا ہمارے ليے يہ برتن استعمال كرنے جائز ہيں، يا كہ انہيں پاك كرنے كے ليے تين بار دھونا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

اصل ميں برتن پاك ہيں، چاہے اسے مسلما شخص نے استعمال كيا ہو يا كسى كتابى وغيرہ غير مسلم نے، ليكن اگر اس كى نجاست كا يقين ہو جائے تو وہ پاك نہيں.

اسى ليے جمہور علماء كرام نے كفار كے برتن استعمال كرنے جائز قرار ديے ہيں، اور اس كے ليے كئى ايك دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - اللہ سبحانہ وتعالى نے ہمارے ليے اہل كتاب كا كھانا يعنى ان كا ذبح كردہ گوشت كھانا مباح قرار ديا ہے، اور يہ تو معلوم ہے كہ بعض اوقات وہ يہ كھانا اپنے برتنوں ميں پكا كر لاتے ہيں، چنانچہ يہ چيز ان كے برتن استعمال كرنے كے جواز كى دليل ہے.

2 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ايك يہودى بچے نے جو كى روٹى اور پگلى ہوئى چربى جس كا ذائقہ تبديل تھى كى دعوت دى "

مسند احمد ، سنن ترمذى حديث نمبر ( 1136 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اراوء الغليل ( 1 / 71 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

3 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام نے ايك مشركہ عورت كے مشكيزہ سے وضوء كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 337 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 682 ).

مشكيزہ چمڑے كا ہوتا ہے جس ميں پانى ركھا جاتا ہے.

مندرجہ بالا دلائل كفار كے برتن استعمال كرنے كے جواز پردلالت كرتے ہيں.

ليكن جب ہميں يہ علم ہو كہ وہ ان برتنوں ميں خنزير كا گوشت يا مردار پكاتے ہيں، يا ان برتنوں ميں شراب نوشى كرتے ہيں، تو پھر ان برتنوں كو استعمال كرنے سے اجتناب كرنا بہتر ہے، ليكن اگر ہميں ان برتنوں كے علاوہ اور برتن نہ مليں تو ضرورت پڑنے پر ہم انہيں استعمال كر سكتے ہيں.

اور اگر وہ ان برتنوں كو دھو ديں تو پھر ہميں دوبارہ دھونے لازم نہيں، اور نہ ہى دھونے ميں تين بار كى شرط ہے، بلكہ اتنا دھويا جائے كہ برتنوں ميں ان كے كھانے پينے اثرات ختم ہو جائيں.

اس كى دليل بخارى اور مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

ابو ثعلبہ خشنى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم ہم اہل كتاب كے علاقے ميں رہتے ہيں كيا ہم ان كے برتنوں ميں كھا ليا كريں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تو نے جو برتنوں كا ذكر كيا ہے اگر ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن مل جائيں تو تم ان برتنوں ميں نہ كھاؤ، اور اگر ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن نہ مليں تو انہيں دھو كر ان ميں كھا ليا كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5478 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 3567 ).

اسے ان كے حرام اشياء ميں استعمال كردہ برتنوں پر محمول كيا جائيگا، كيونكہ ابو داود كى روايت ميں ہے:

" ہم اہل كتاب كے پڑوس ميں رہتے ہيں، اور وہ اپنى ہنڈيوں ميں خنزير كا گوشت پكاتے، اور اپنے برتنوں ميں شراب نوشى كرتے ہيں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اگر تم ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن پاؤ تو ان ميں كھاؤ اور پيؤ ليكن اگر تمہيں ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن نہيں ملتے تو پھر انہيں پانى كے ساتھ دھو كر كھاؤ پيؤ "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3839 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

خطابى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

الرحض: حديث ميں استعمال كردہ لفظ الرحض دھونے كو كہتے ہيں.

اس ميں دليل يہ ہے كہ مشركوں كے متعلق معلوم ہے وہ اپنى ہنڈيوں ميں خنزير كا گوشت پكاتےاور اپنے برتنوں ميں شراب نوشى كرتے ہيں، اس ليے انہيں دھوئے بغير استعمال كرنا جائز نہيں " انتہى

ماخوذ از عون المعبود شرح ابو داود.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان:

" اگر تمہيں اور برتن مل جائيں تو تم ان برتنوں ميں كھاؤ پيؤ "

يعنى ان دوسرے برتنوں ميں كھاؤ پيؤ، جمہور فقھاء كے ہاں يہاں امر استحباب كے ليے ہے، يعنى غير مسلم كے برتنوں ميں كھانے پينے سے بچنا مستحب ہے، اور اس كو دھو كر بھى استعمال كرنا مكروہ ہے، ليكن اگر ان برتنوں كے علاوہ دوسرے برتن نہ مليں تو پھر يہ كراہت ختم ہو جاتى ہے.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى مسلم كى شرح ميں لكھتے ہيں:

" گندگى كى بنا پر ان برتنوں ميں كھانے سے منع كيا گيا ہے، كيونكہ يہ برتن نجاست كے عادى ہيں " انتہى.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 13 / 80 ).

اور الشرح الممتع ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ابو ثعلبہ خشنى رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ان ميں نہ كھاؤ ليكن اگر ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور نہ مليں تو انہيں دھو كر ان ميں كھالو "

يہ اس بات كى دليل ہے كہ ان برتنوں سے بچنا اولى اور بہتر ہے، ليكن بہت سے اہل علم حضرات نے اس حديث كو ان لوگوں پر محمول كيا ہے جنہيں علم ہو كہ ان برتنوں ميں خنزير وغيرہ كا گوشت كھايا جاتا ہے، جس كى بنا پر وہ نجس ہيں، علماء كا كہنا ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے برتنوں ميں كھانے پينے سے منع فرمايا ہے، ليكن اگر ان كے برتنوں كے علاوہ دوسرے برتن نہ مليں تو پھر ہم ان كے برتنوں كو دھو كر ان ميں كھا پى سكتے ہيں، اس پر محمول كرنا بہت اچھا اور شرعى قواعد و اصول كے تقاضا كے مطابق ہے " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 69 ).

جواب كا خلاصہ يہ ہوا كہ:

اگر كفار ان برتنوں ميں شراب نوشى نہ كرتے ہوں، اور ان ميں خنزير يا مردار كا گوشت نہ كھاتے ہوں، تو پھر آپ كے ليے ان برتنوں كو دھو كر استعمال كرنا جائز ہے.

ليكن اگر وہ ان برتنوں كو حرام كھانے پينے، يا پھر نجس كھانوں ميں استعمال كرتے ہوں اور آپ كو ان برتنوں كے علاوہ دوسرے برتن مل سكتے ہوں تو پھر آپ كا غير مسلموں كے ان برتنوں سے بچنا افضل ہے.

ليكن اگر آپ كو ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن نہيں ملتا تو پھر اسے دھو كر استعمال كرنا جائز ہے، چاہے آپ دھو ليں يا پھر انہوں نے خود دھوئے ہوں.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...