Showing posts with label خاوند اور بیوی کے درمیان معاشرت. Show all posts
Showing posts with label خاوند اور بیوی کے درمیان معاشرت. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

٨٦٧-حيض كى حالت ميں خاوند كا بيوى كے ساتھ مشت زنى كرنا


سوال-كيا حيض كى حالت ميں بيوى اپنے خاوند كے ہاتھ سے مشت زنى كروا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

خاوند اور بيوى دونوں ايك دوسرے سے جس طرح چاہيں استمتاع كر سكتے ہيں، ليكن حيض اور نفاس والى جگہ اور دبر سے اجتناب كريں، اور خاوند كے ہاتھ سے بيوى كا لطف اندوز ہونا يا اس كے برعكس بيوى كے ہاتھ سے بيوى كى لطف اندوز ہونے ميں كوئى حرج نہيں.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور وہ جو اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كرتے ہيں، مگر اپنى بيويوں پر يا پھر لونڈيوں پر تو ان پر كوئى ملامت نہيں }المومنون ( 5 - 6 ) .

اور اگر بيوى حيض كى حالت ميں ہو اس حالت ميں بيوى كو خاوند كے ہاتھ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مشت زنى نہيں كروانى چاہيے كيونكہ ايسا كرنے ميں گندگى اور نجاست ميں پڑنا ہے كيونكہ حيض كا خون لگےگا، ہاں يہ اور بات ہے كہ كوئى حائل ( آڑ ) وغيرہ استعمال كى جائے.

حائضہ عورت سے استمتاع كرنے كے بارہ ميں تفصيلى معلومات حاصل كرنے كے ليے سوال نمبر ( 863 ) اور ( 866 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم

٨٦٦-حائضہ عورت سے استمتاع


سوال-میں نے یہ پڑھا ہے کہ ماہواری کے دوران عورت سے جماع اوردرمیانی نچلے حصہ کوچھونا جائز نہيں ، لیکن درمیان سے اوپر والے حصہ میں عورت کے ساتھ مباشرت جائز ہے توکیا یہ صحیح ہے دلائل کے ساتھ ذکر کریں ؟

الحمدللہ

آّپ نے جوکچھ پڑھا ہے وہ صحیح نہیں بلکہ مرد کے لیے حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کے علاوہ باقی سب کچھ جائز ہے جس میں ہرقسم کی مباشرت شامل ہے ۔

اس کے دلائل اورتفصیل سوال نمبر ( 863 ) کےجواب میں بیان ہوچکے ہيں آپ اس کا مراجعہ کریں ۔

بہت سے علماء کا مسلک ہے کہ حالت حیض میں بیوی سے ناف اورگھٹنوں کے مابین استمتاع اورمباشرت حرام ہے ، اوراس پر دلائل بھی دیے ہیں لیکن وہ دلائل اعتراضات سے خالی نہیں ۔

ان کے دلائل یہ ہیں :

1 - معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

( میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اس عورت کے حائضہ ہونے کی صورت میں مرد کے لیے اس سے کیا حلال ہے ؟

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جوچادر سے اوپر ہے ، اوراس سے بھی بچنا افصل ہے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 213 ) ۔

لیکن یہ حدیث ضعیف ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاکوئي ثبوت نہیں ملتا ۔

ابوداود رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں لیس بقوی یہ حدیث قوی نہیں ا ھـ ، اور ابوداود کی شرح عون المعبود میں ہے کہ العراقی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

اورمحدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسے ضعیف سنن ابوداود حدیث نمبر ( 36 ) میں ضعیف قرار دیا ہے ۔

2 - عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :

جب مرد کی بیوی حالت حيض میں ہو تو وہ بیوی کے ساتھ کیا کچھ کرسکتا ہے ؟

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

چادر سے اوپر اوپر ۔ مسند احمد حدیث نمبر ( 87 ) ۔

احمد شاکر رحمہ اللہ تعالی نے مسنداحمد کی تحقیق میں کہا ہے کہ یہ انقطاع سند کی وجہ سے ضعیف ہے دیکھیں تحقیق مسند امام احمد حدیث نمبر ( 86 ) ۔ ا ھـ ۔

3 - حرام بن حکیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حالت حیض میں میرے لیے بیوی سے کیا کچھ کرنا حلال ہے ؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا :

آپ کے لیے چادر سے اوپر اوپرحلال ہے ۔ سنن ابو داود حدیث نمبر ( 212 ) اس حدیث کی صحت میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے تھذیب السنن میں کچھ حفاظ حدیث سے اس کی تضعیف ذکر کی ہے ، اورابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اس کی تضعیف ہی برقراررکھی ہے ۔

اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود حدیث نمبر ( 197 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

پھراگریہ حدیث صحیح بھی ہو تویہ ناف اورگھٹنوں کے مابین استمتاع کی تحریم پر دلالت نہیں کرتی اس لیے کہ اس اوراس کے جواز کے دلائل کے مابین مندرجہ ذیل نقاط سے جمع ممکن ہے :

1 - اس لیے کہ یہ توحیض والی جگہ سے دور رہنے اورتنزہ کے استحباب پر دلالت کرتی ہے نہ کہ وجوب پر ۔

2- یہ تواس پر محمول کی جائے گی کہ جوشخص اپنے آپ پر کنٹرول اورقابو نہیں رکھ سکتا کہ اگر وہ بیوی کی رانوں کے مابین استمتاع کرے توہوسکتا ہے وہ اپنے آپ پر قابو نہ پائے اور جماع شروع کردے اورقلت دین یا پھر شھوت کی شدت کی بنا پر وہ حرام کا ارتکاب کربیٹھے ۔

تواس طرح جواز والی احادیث اس کے بارہ میں ہونگی جواپنے آپ پر قابورکھ سکتا ہو ، اورجن احاديث میں ممانعت پائي جاتی ہے وہ اس کے بارہ میں ہوں گی جس کے بارہ میں خدشہ ہوکہ وہ حرام کام نہ کربیٹھے ۔ ا ھـ ۔

دیھکیں شرح الممتع تالیف شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ( 1 / 416 - 417 ) کچھ کمی بیشی کے ساتھ ۔

واللہ اعلم

٨٦٢-حائضہ اورنفاس والی عورت سے مباشرت


سوال-کیا حیض اورنفاس کی مدت میں بیوی سے مباشرت جائز ہے ؟

الحمدللہ

حیض اورنفاس کی حالت میں بیوی سے مباشرت اور لذت وتفریح کی تین قسمیں ہیں :

پہلی قسم :

بیوی سے جماع کے ساتھ مباشرت کی جائے ، یہ قسم تو قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو } البقرۃ ( 222 ) ۔

دوسری قسم :

ناف سے اوپر اورگھٹنے سے نيچے مباشرت کرنا یعنی بوس وکنار ، اورمعانقہ وغیرہ ، اس کے حلال ہونے پر سب علماء کرام کا اتفاق ہے ۔

دیکھیں شرح مسلم للنووی ۔ اورالمغنی ابن قدامہ ( 1 / 414 ) ۔

تیسری قسم :

ناف اورگھٹنوں کے مابین قبل اوردبر کے علاوہ مباشرت کرنا ۔

اس قسم کے جواز میں علماء کرام کا اختلاف ہے ، امام مالک ، امام شافعی ، امام ابوحنیفہ ، رحمہم اللہ اس کی تحریم کے قائل ہیں ، اورامام احمدرحمہ اللہ تعالی اس کے جواز کےقائل ہے اوربعض مالکیہ ، شافعیہ ، اوراحناف بھی اس کے قائل ہیں ، امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں ، دلائل کے اعتبار سے قوی قول یہی اوراختیاربھی یہی کیا گيا ہے ۔ ا ھـ ۔

جائز قرار دینے والوں نےمندرجہ مندرجہ ذيل دلائل دیے ہیں :

قرآنی دلائل :

فرمان باری تعالی ہے :

{ حالت حيض میں عورتوں سے الگ رہو ، پاک ہونے سے قبل ان کے قریب نہ جاؤ } البقرۃ ( 222 ) ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی شرح الممتع میں کہتے ہیں :

محیض سے مراد حیض والی جگہ اورمدت مراد ہے ، اوراس کی جگہ شرمگاہ ہے لھذا جب تک وہ حالت حیض میں ہے جماع کرنا حرام ہوگا ۔ ا ھـ دیکھیں شرح الممتع ( 1 / 413 ) ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

خون والی جگہ سے علیدہ رہنے کی تخصیص اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے علاوہ جائز ہے ۔ ا ھـ ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 1 / 415 )

سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دلائل :

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یھودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :

{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک } ۔

تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔

جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 302 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں :

حدیث میں جویہ لفظ آئے ہیں کہ ( لم یجامعوھن فی البیوت ) کا معنی یہ ہے کہ وہ گھروں میں ان سےملتے جلتےاورایک ہی گھرمیں نہیں رکھتے تھے ۔

عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حيض کی حالت میں کچھ کرنا چاہتے تو بیوی کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیتے ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 272 )۔

حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد قوی ہے ا ھـ ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی عنہ نے صحیح ابوداود ( 242 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) نے یہ فتوی دیا ہے :

حیض کی حالت میں خاوند پر اپنی بیوی سے جماع حرام ہے ، لیکن اسے یہ حق ہے کہ جماع کے علاوہ میں وہ مباشرت کرسکتا ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 5 / 359 ) ۔

اورمرد کےلیے بہتر ہے کہ اگر وہ بیوی سے حیض کی حالت میں استمتاع کرنا چاہے تواسے کہے کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کوئي چيز پہن لے پھراس کے علاوہ حصہ میں مباشرت کرلے ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :

ام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئي ایک حیض کی حالت میں ہوتی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم مباشرت کرنا چاہتے تواسے کہتے کہ وہ چادر باندھ لے اس کے بعد اس سے مباشرت کرتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 302 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2293 ) ۔

ام المومنین میمونہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں چادرکے اوپر مباشرت کیا کرتے تھے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 294 ) ۔

خطابی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ : حدیث میں فور حیضتھا کے معنی ہے کہ حیض کے شروع یا پھر اس کی اکثر مدت میں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔عون المعبود حدیث نمبر ( 2167 )

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی عنہ تھذیب السنن میں اس حدیث کی شرع کرتے ہوئے کہتے ہیں :

اس سے ظاہر ہے کہ تحریم توصرف حیض والی جگہ کے بارہ میں ہے جوکہ جماع ہے ، اس کے علاوہ باقی مباح ہے ، اورجن احادیث میں چادر کا ذکر ہے وہ اس سے تعارض نہیں رکھتیں ، اس لیے کہ وہ اس گندگی سے بچنے کےلیے زيادہ بہتر طریقہ ہے ا ھـ کچھ کمی بیشی کے ساتھ ۔

اوریہ بھی احتمال ہے کہ حيض کے ابتدائي اور آخری ايام میں فرق کردیا جائے ، اورخون کے زيادہ آنے کے وقت ناف سے لیکر گھٹنے تک چادر سے ڈھانپنا مستحب ہو جوکہ حیض کے ابتدائی ایام میں ہے ۔

حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس کی تائید مندرجہ ذيل حدیث کرتی ہے جسے ابن ماجہ رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک خون کی تیزی سے بچتے اوراس کے بعد مباشرت کرتے ۔ ا ھـ کچھ کمی بیشی کے ساتھ ۔

تنبیہ :

اوپر جوبھی احکام بیان کیے گئے ہیں ان میں حيض اورنفاس والی عورتیں سب برابر ہیں ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے حیض کی حالت میں بیوی سے مباشرت کرنے کی اقسام بیان کرنے کے بعد کہا ہے :

اور نفاس والی عورتیں بھی اس میں حيض والیوں کی طرح ہی ہيں ۔ ا ھـ دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 1 / 419 ) ۔

واللہ اعلم

Wednesday, August 22, 2018

٦٥٦-دلہا كے ليے حالت جنابت ميں مباركباد دينے والوں كا استقبال كرنا جائز ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہمارے علاقے ميں سہاگ رات ميں دخول كے بعد دلہن كا انتظار كرتے ہيں تا كہ اسے بركت كى دعا ديں، اور اس كے ساتھ بيٹھتے ہيں، اور اسى طرح مرد حضرات بھى دولہا كے ساتھ بيٹھتے ہيں، اور غسل جنابت سے قبل باہر آتے ہيں، كيا ايسا كرنا جائز ہے، يا كہ انہيں مباركباد دينے والوں كا استقبال كرنے سے قبل غسل جنابت كرنا واجب ہے.
معاملہ يہ ہے كہ انہيں تيار ہونے كے ليے بہت وقت لگتا ہے، اور خاص كر دلہن كے ليے، اس سلسلہ ميں آپ كى كيا رائے ہے ؟

الحمد للہ:

جنبى شخص كا مباركباد دينے والوں كے استقبال كے ليے باہر آنے اور ان كے ساتھ بيٹھنے ميں كوئى حرج نہيں، اس كى دليل بخارى اور مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ مدينہ كے ايك راستہ ميں انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم مل گئے اور ميں جنبى حالت ميں تھا، لہذا ميں وہاں سے كھسك گيا اور جا كر غسل جنابت كيا تو پھر واپس آيا، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دريافت كيا:

ابو ہريرہ تم كہاں تھے تو ميں نے عرض كيا: ميں جنبى تھا اس ليے ميں نے آپ كے ساتھ بيٹھنا ناپسند كيا كہ آپ كے ساتھ حالت جنابت ميں بيٹھوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سبحان اللہ بلاشبہ مسلمان شخص نجس نہيں ہوتا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 283 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 372 ).

ليكن اس كے ليے افضل اور بہتر ہے كہ وہ وضوء كر لے كيونكہ امام مسلم رحمہ اللہ نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كي ہے كہ:

" جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم جنبى ہوتے اور كھانا تناول كرنا چاہتے يا سونا چاہتے تو نماز جيسا وضوء كر ليتے تھے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 305 ).

اور اس ليے بھى كہ فرشتے جنبى شخص كے قريب نہيں آتے، جيسا كہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے:

" تين شخص ايسے ہيں جن كے قريب فرشتے نہيں آتے كافر كى لاش، اور خلوق خوشبو ميں لتھڑا ہوا شخص، اور جنبى جب تك وضوء نہ كر لے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4180 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 3522 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

خلوق خوشبو سے لتھڑا ہوا شخص: يعنى وہ شخص جس نے ايسى خوشبو استعمال كر ركھى ہو جس ميں زعفران ملا ہوا ہوتا ہے، كيونكہ اس ميں رعونت اور عورتوں سے مشابہت ہوتى ہے "

ديكھيں: فيض القدير ( 3 / 325 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 445 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

ليكن يہ ہے كہ اس طرح كى قديم اور پرانى عادات كے بارہ ميں لوگو كى راہنمائى كرنى چاہيے اور انہيں اسے چھوڑنے كا عادى بنا جائے كہ وہ اس سے چھٹكارا اور خلاصى حاصل كريں اس طرح كے عمدا اجتماع ميں دولہا اور دلہن كى شرم و حياء كو ٹھيس پہنچتى ہے.

بلكہ اس سے بڑھ كر اس طرح كى حالت ميں نفسياتى بوجھ سا پڑتا ہے: كہ آدمى اور اس كى بيوى محسوس كرتے ہيں كہ رشتہ دار اور لوگ اس انتظار ميں ہيں كہ وہ اپنے اس كام سے فارغ ہوں تا كہ لوگ انہيں مباركباد ديں؟!!

كيونكہ مباركباد دينے كا وقت اتنا تنگ نہيں كہ ضرور اسى حرج والے وقت ميں مباركباد دى جائے؛ كيونكہ يہ مباركباد تو رخصتى كے وقت بھى دى جا سكتى ہے، اور يا پھر وليمہ ميں يا سہاگ رات كے بعد، يا كسى دوسرے وقت، بلكہ اس وقت كو عمدا مقرر كرنے كى كوئى وجہ سمجھ ميں نہيں آتى كہ خاوند اور بيوى كو اس بوسيدہ قديم عادت كے مطابق ہى مباركباد دى جائے، جس كى شريعت اسلاميہ ميں كوئى دليل تك نہيں ملتى، اور عقل سليم ميں بھى اس كى كوئى وجہ نہيں يا پھر محاسن اور آداب و اخلاق بھى اس طرح كى عادت سمجھنے سے قاصر ہيں.

واللہ اعلم

Friday, August 10, 2018

١١٤-بیوی اپنا مہرخرچ کرلے توکیا خاوند کومحاسبہ کا حق ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

کیا خاوند کویہ حق حاصل ہے کہ وہ بیوی سے پوچھے کہ اس نے مہر کہاں خرچ کیا ہے ؟
میرا خاوند مہر کے بارہ میں ہر چھوٹی بڑی چيز کا حساب مانگتا ہے ، وہ اس طرح کہ مہر دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ایک حصہ توخاص طور پرمیرا اوردوسرا شادی کی تیاری اورکپڑے وغیرہ خریدنے کے لیے مخصوص تھا ۔

الحمد للہ
خاوند کے لیے حلال نہیں کہ وہ بیوی کودیے گئے مہر کا حساب لے ، اس لیے کہ یہ خاص طور پر بیوی کا حق ہے ، اوراس پر قرض ہے جوبیوی کودینا واجب ہے ۔
اوراس قلیل سے مال کی بدولت جو کہ اللہ تعالی نے اسے دیا ہے اس کی وجہ سے عورت سے قوامہ اورحکمرانی اس سے لیکر اس کے خاوند کودے دی گئي ہے ، اوربیوی پر بہت ہی قیمتی چيز کے بدلہ میں اس کا نان ونفقہ خاوند کے ذمہ رکھا گيا ہے ، تو اس طرح نفقہ اور مہر یہ دونوں چیزیں انتظام اورنگرانی کے بالمقابل رکھی گئي ہيں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ مرد عورتوں پر منتظم اورحکمران ہیں ، اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کودوسرے پر فضیلت دی ہے ، اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہيں } النساء ( 34 ) ۔

امام طبری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

مرد اپنی عورتوں پر منتظم ہيں اورانہیں ادب سکھانے کے ذمہ دار ہیں ، اوراللہ تعالی اوران کے لیے جوبھی ان پر واجبات ہيں اس پر عمل کروانے والے ہيں ۔

{ اس لیے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر ‌فضیلت دی ہے } یعنی اللہ تعالی نے مردوں کوان کی بیویوں پر جوفضلیت عطا کی ہے کہ ان کے مہرادا کریں ، اوران کا نان ونفقہ بھی برداشت کریں ، اوراسی طرح ان کی باقی ضروریات بھی اپنے مال سے پوری کرتے رہیں ، یہی وہ فضیلت ہے جواللہ تعالی نے مردوں کوعورتوں پر دی ہے ، اور اسی وجہ سے وہ ان کے منتظم اورحکمران ٹھرے ہيں کہ ان پر اللہ تعالی کے احکامات کونافذ کریں ۔

دیکھیں تفسیر طبری ( 5 / 57 ) ۔

اورمہر عورت کا خاص حق ہے جس طرح کہ مرد کے لیے حکمرانی اورمنتظم ہونے کا حق ہے ، اورپھر جس طرح خاوند یہ پسند کرتا ہےکہ اس کے حق میں وہ کسی بھی طرح کی نافرمانی نہ کرے ، توخاوند پر بھی واجب ہے کہ وہ بیوی کے حقوق کوادا کرے ۔

اس لیے مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے مہر کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈریں اوراس کا خوف کھاتے ہوئے ان کے مہر کومکمل طور پر ادا کریں ، کیونکہ عورت تو کمزور ہے ، لھذا اس کا واجب کردہ حق ادا کرنا چاہیے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اے ایمان والو ! اپنے معاھدوں کوپورا کرو ۔۔۔۔ } المائدۃ ( 1 ) ۔

بلکہ عقد زواج تو وہ عھد ہے جو مسلمانوں پر سب سے زيادہ پورا کرنا واجب اورضروری ہے ۔

عقبہ بن عامر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جن شرطوں کوتمہیں سب سے زيادہ پوری کرنا چاہیے وہ شرطیں ہیں جن کےساتھ تم شرمگاہوں کوحلال کرتے ہو ) یعنی شادی کی شرطیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2520 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2542 ) ۔

جب عورت اس طریقہ سے مال کی حقدار بنی ہے تو خاوند کے لیے کسی بھی طرح یہ جائز نہيں کہ وہ اسے کسی معین طریقہ پر خرچ کرنے پر مجبور کرے ، لیکن اگر وہ کسی حرام کام میں خرچ کررہی ہو توپھر اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسے منع کرے کہ حرام کام میں صرف نہ کرو ۔

ہم سوال کرنے والی بہن کو نصیحت کرتے ہيں کہ خاوند کے حساب کتاب والے معاملہ خاوند سے نرمی کے ساتھ طے کرے اوراس سے بات چيت میں بھی ایسا رویہ اختیار کرے جونرم ہو ، تا کہ اس معاملہ میں نزاع اور جھگڑا آپ دونوں کے مابین شیطان کے داخل ہونے کا سبب نہ بن جائے ، اورجبکہ آپ ابھی ازدواجی زندگي کے ابتدائي ایام میں ہی ہیں جس میں محبت ومودت بہت ہی ضروری ہے ۔

اورآپ کوایک دوسرے کے بارہ میں صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے کہ اگرکوئي ایک کمی و کوتاہی کا شکار ہو تو دوسرا اس سے درگزر کرے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ آپ کو صحیح اورسعادت کی زندگي گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ، اوراپنی اطاعت اورشریعت کی اتباع کی توفیق دے ۔

واللہ اعلم

١١٣-میکے جانے کے بارے میں اختلافات

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ایک عورت کواللہ تعالی نے اچھا اورنیک خاوند دیا ہے جس میں بہت ہی خیر ہے ، اوراس میں غیرت بھی بہت زيادہ پائي جاتی ہے ، لیکن عورت بعض اوراقات پرزيادتی ہوتی ہے ، عورت کی بہن کی شادی ہونے کے بعد اس کا خاوند میکے جانے کی اجازت نہیں دیتا سبب یہ ہے کہ اس کی بہن اوربہنوئي والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔
باوجود اس کے کہ جب وہ اپنے میکے جاتی ہے تووہ ایسی جگہ پر بیٹھتی ہے کہ اگربہنوئي گھر میں موجود بھی ہوتووہاں اس کا آنا ہی ممکن نہیں ، خاوند دلیل یہ دیتا ہے کہ تیرا بہنوئی تجھے دیکھ لے گا ، اور پھراگروہ اجازت دیتا بھی ہے توبہت ہی کم وقت کےلیے جس میں وہ برقع بھی اتارنے نہیں دیتا کیونکہ اس کا گمان ہے کہ کہیں بہنوئی اسے نہ دیکھ لے باوجود اس کے کہ گھر والے اس پر بہت ہی سختی سے کاربند ہیں اوراس کا خیال رکھتے ہیں ان شاء اللہ ۔
توسوال یہ ہے کہ :
خاوند کی غیرت اپنی جگہ پر کیا اس کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے ، یا کہ یہ وسوسہ اورگمان کی ایک قسم ہے ؟
اورکیا اس کی کوئي شرعی حد ہے کہ خاوند اتنی دیر تک میکے جانے سے روک سکتا ہے یا کوئي حد نہیں ؟
اورکیا یہ ممکن ہے کہ اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ بیوی کے لیے ہفتہ میں ایک یا دوبار میکے جاسکتی ہے ؟
آّپ ہمیں معلومات سے نوازیں اللہ تعالی آپ کواجرعظیم دے ۔

الحمد للہ

1 - اگریہ ممکن ہوسکے کہ میکے اس وقت جايا جائے جب بہنوئي گھر میں نہ ہوتو مشکل کوحل کرنے میں بہت مدد گار ہوگا ۔
2 - اوریہ بھی ہوسکتا کہ زيارت برعکس ہو یعنی میکے والے خود یہاں آجایا کریں ۔

3 - یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خاوند کے ذہن میں کوئي شک پڑھ گيا ہو اوریہ بھی ہوسکتا کہ شیطانی وسوسہ ہو ۔

4 - اورمیکے والوں سے ملنے کی مدت اورعرصہ کے بارہ میں عرف اورمعاشرہ کے ماحول اورخاوند اوربیوی کا آپس میں تفاہم اوراتفاق کے مطابق ہوگا ، ہم بیوی کونصیحت کرتےہیں کہ وہ اپنے خاوند کے بارہ میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرے اوراس کی اطاعت کرنے کی کوشش اورحرص رکھے ۔

اوراسے یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ خاندان کی فضا محفوظ رہے اوراس میں بغض و کینہ اورعداوت جوکہ دونوں فریقوں کےملنے کی مدت کے بارہ میں اپنے موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے کی بنا پر کہيں خاندان بکھر نہ جائے ۔

واللہ اعلم

١١٢-لوگوں میں خاوند یا بیوی کانام لینا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

بہت سے معاشروں میں ایک دوسرے کوابوفلاں یا ام فلاں کے نام سے پکارا جاتا ہے ، اورعادتا عورتیں اپنے خاوند کوان کے نام سے نہیں پکارتیں ، لیکن کوئي ایک عورت اپنے خاوند کواپنے بڑے بیٹے کے نام سے اس کی کنیت لے کر پکارتی ہے ، توکیا اس عمل پر کوئي کتاب و سنت میں دلیل ملتی ہے ؟
اوراگراس کا جواب نفی میں ہو توپھر یہ عادت کس طرح شروع ہوئی ؟
کیا عورت اپنے خاوند کا ذکر کرتے وقت اس کا نام لے سکتی ہے ، اوراسی طرح خاوند اپنی بیوی کا ذکر کرتے وقت بیوی کا نام لے سکتا ہے یہ اسلامی لحاظ سے غلط تو نہیں ؟

الحمد للہ
اول :
جی ہاں کچھ صحابیات سے ثابت ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کوکنیت سے بلاتی تھیں ، اس کی چند ایک مثالیں ذيل میں دی جاتی ہیں :

عون ابو جحیفۃ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اورابودرداء رضي اللہ تعالی عنہما کی آپس میں اخوت قائم کی ، توایک بار سلمان رضي اللہ تعالی عنہ ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ سے ملنے آئے توام درداء رضي اللہ تعالی عنہا کوپراگندہ اورکام کاج والے لباس میں دیکھا توکہنے لگا یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ؟

وہ کہنے لگيں : آپ کے بھائي ابودرداء کودنیا کی حاجت اورضرورت ہی نہیں ، اتنی دیر میں ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ بھی آگئے اوران کے لیے کھانا رکھا توسلمان رضي اللہ تعالی کہنے لگے بھئي کھاؤ ابودرداء کہنے لگے میں روزہ سے ہوں ، سلمان رضي اللہ تعالی کہنے لگے تم کھاؤ گے تو میں بھی کھاؤں گا ، وہ بیان کرتے ہیں کہ ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ نے کھایا ۔

اورجب رات ہوئي توابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ قیام کرنے لگے ، سلمان رضي اللہ تعالی عنہ نے کہا سوجاؤ ، تو وہ سوگئے ، تھوڑی دیر بعد پھر اٹھے اورقیام کرنے لگے ، توسلمان رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا بھئي سوجاؤ ، جب رات کا آخری پہر ہوا تو سلمان رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے اب اٹھو اورقیام کرلو ، توپھر دونوں نے نماز پڑھی ۔

اوربعد میں سلمان رضي اللہ تعالی کہنے لگے : بلاشبہ تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے ، اورتیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے ، اورتیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے ، توہر حقدار کواس کا حق ادا کرو ، ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورسب کچھ آپ سے ذکر کیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : سلمان رضي اللہ تعالی عنہ نے سچ کہا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1832 ) ۔

اورایک مثال یہ بھی ہے :

فاطمۃ بنت قیس رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے عیاش بن ابی ربعیہ کومیری طلاق دے کر بھیجا اوراس کےساتھ پانچ صاع کھجوریں اورپانچ صاع جو بھی بھیجے ، تومیں نے اسے کہا کہ کیا میرے لیے صرف یہی نفقہ ہے ، میں تمہارے گھرمیں اپنی عدت بھی نہ گزاروں ؟ تو اس نے جواب میں کہا نہيں ۔

وہ کہتی ہیں میں نے اپنے کپڑے جمع کیے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئي توانہوں نے پوچھا کتنی طلاقیں دی ہیں میں نےجواب دیا تین ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2721 ) ۔

دوم :

اوربیوی اپنے خاوند کانام بھی لے سکتی ہے اوراس میں بھی کوئي حرج نہیں اس کی بھی مثالیں موجود ہیں :

عبداللہ یعنی عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما کی بیوی زینب رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں مسجد میں تھی تومیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے عورتو تم بھی صدقہ کیا کرو چاہے اپنے زيور میں سے ہی ، زینب رضي اللہ تعالی عنہا عبداللہ اوراپنی گود میں پلنے والے یتیموں کا خرچہ برداشت کیا کرتی تھیں ۔

راوی کہتے ہیں : وہ عبداللہ رضي اللہ تعالی عہنا سےکہنے لگيں : آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ کیا میرا آپ اورمیری گود میں پلنے والے یتیموں پر خرچ کرنا صدقہ سے کفائت کرجائے گا ؟ توعبداللہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود ہی پوچھ لو ، تووہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑیں جب دروازے پر پہنچی توایک انصاری عورت کوپایا جومیری طرح کا سوال ہی پوچھنا چاہتی تھی ۔

اسی اثنامیں ہمارے پاس سے بلال رضي اللہ تعالی عنہ گزرے توہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھو کہ کیا میرا خاونداورمیری گود میں پلنے والے یتیم بچوں پرخرچ کرنا کافی ہوگا ؟ ہم نے انہیں یہ بھی کہا کہ ہمارے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کونہ بتانا ، توبلال رضي اللہ تعالی اندر داخل ہوئے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا توآّپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں ؟

بلال رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے : زينب ( رضي اللہ تعالی عنہا ) ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کونسی زینب ؟ وہ کہنے لگے عبداللہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جی ہاں اسے ڈبل اجر ملےگا ، ایک اجرتو قرابت ورشتہ داری کا اوردوسرا صدقہ کا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1373 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1667 ) ۔

اورایک مثال یہ بھی ہے :

خولۃ بنت مالک بن ثعلبہ رضي اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میرے خاوند اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کرلیا ،تومیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آئي اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اس کے بارہ میں جھگڑا کرنے لگے اورکہنے لگے اللہ تعالی سے ڈرو وہ توتمہارے چچا کہ بیٹا ہے ، میں وہیں رہی حتی کہ قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئيں :

{ یقینا اللہ تعالی نے اس عورت کی بات سن لی جو تیرے ساتھ اپنے خاوند کے بارہ میں جھگڑ رہی تھی ۔۔۔۔ } سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1893 ) اسے ابن حبان اورامام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے ۔

دیکھیں کتاب : خلاصۃ البدر المنیر ( 2 / 229 ) ۔

سوم :

رہا مسئلہ خاوند یا پھر بیوی کا لوگوں میں نام لینا تواس میں ہم یہ گزارش کریں گے کہ اس کے متعلق معاشرہ میں لوگوں کی عادت اورعرف کودیکھا جائے گا ، بعض معاشروں میں تواسے ناپسند کیا جاتا ہے ، بلکہ بعض لوگ تو اسے قلت غیرت میں شمار کرتے ہیں ۔

عبداللہ بن مسعود والی سابقہ حدیث میں یہ موجود ہے کہ بلال رضي اللہ تعالی عنہ نے عبداللہ بن مسعود کی بیوی کا نام ذکر کیا تھا کہ اس کا نام زينب ہے ، اس لیے اگر عورت اپنے نام سے معروف اورمشہور ہے توخاوند کے علاوہ دوسرے مرد کے لیےبھی اس کانام لینے میں کوئي حرج نہیں تو پھر خاوند اس کانام لے لے توکونسا حرج ہوگا ؟

اورافضل تویہ ہے کہ بعض معاشروں میں نام کی بجائے کنیت ذکر کی جائے یا پھر بعض لوگوں کے سامنے کنیت کا ذکرکرنا افضل ہے ، اس طرح کے کام میں سستی اورکاہلی کی بنا پر بہت سی مشکلات پیش آچکی ہیں ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...