Showing posts with label تعدد زوجات اوران کے درمیان عدل. Show all posts
Showing posts with label تعدد زوجات اوران کے درمیان عدل. Show all posts

Friday, August 10, 2018

١٢٧-تعدد زوجات کا حکم اوراس کی حکمت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

حقیقی طورمیں پر میں اسلام کی رغبت رکھتی تھی ، اوراس ویب سائٹ پرآئي تا کہ مزيد اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرسکوں ، میں ویب سائٹ کے صفحات کودیکھ رہی کہ جس سے میں نے دین اسلام کے بارہ میں بہت کچھ جانا جوکہ پہلے نہیں جانتی تھی ۔
اوران امور نے تو مجھے پریشان کرکے رکھ دیا اورمیرے ذہن کوبکھیر دیا ہے ، اورہوسکتا ہے کہ مجھے اسلام سے داخل ہونے سے بھی دور لے گئي ہوں ، مجھے افسوس ہے کہ میں اس طرح کا سوچنے لگی ہوں ، لیکن یہ حقیقت ہے ، جن امور نے مجھے پریشان کیا ہے ان میں سے ایک توتعدد زوجات ( ایک سے زيادہ عورتوں سے شادی کرنا ہے ) ہے ۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے بتائيں کہ قرآن مجید میں اس کا بیان کس جگہ کیا گيا ہے ؟
میری یہ بھی گزارش ہے کہ آپ میرے لیے چندایک ھدایات بھی ارسال کریں جوکہ میری صحیح زندگي گزارنے میں معاون بن سکیں تا کہ میں صحیح راستے سے بھٹک نہ جاؤں ۔

الحمد للہ

اللہ سبحانہ وتعالی نے رسالت کودین اسلام کے ساتھ ختم کیا ہے اوریہ وہی دین اسلام ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالی نے یہ بتایا کہ اس کے علاوہ کوئي اوردین قابل قبول نہيں ہوگا ۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کچھ اس طرح فرمایا :

{ بلاشبہ اللہ تعالی ہاں دین تو اسلام ہی ہے اورجوکوئي بھی دین اسلام کے علاوہ کوئي اوردین تلاش کرے گا اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اوروہ آخرت میں بھی خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا } آل عمران ( 85 ) ۔

لھذا آپ کا دین اسلام کوقبول نہ کرنا اوراس سے دورہوجانا آپ کے لیے بہت ہی بڑا خسارہ شمار ہوگا ، اورپھر آپ سے سعادت مندی کی زندگي بھی آپ سے چھن جائے گی جوکہ آپ کے انتظار میں تھی کہ اگر آپ اسلام میں داخل ہوں توآپ کووہ سعادت بھی حاصل ہو۔

تواس لیے ہم یہی کہيں گے آپ جتنی جلدی ہوسکے اسلام قبول کرلیں ، اوراس میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہ کریں کیونکہ اسلا م قبول کرنے میں تاخیر کا انجام اچھا نہيں ۔

اورآپ نے جو یہ کہا ہے کہ آپ کا اسلام سے دورہٹنے کا سبب تعدد زوجات ہے ، تواس کے بارہ میں ہم سب سے پہلے توحکم بیان کریں گے ، پھر اس کی حکمت اوراچھی غرض وغایت بھی آپ کے سامنے رکھیں گے ۔۔۔

اول :

دین اسلام میں تعدد زوجات کاحکم :

تعدد کی اباحت اوراس کے جواز میں شرعی نصوص :

اللہ تبارک وتعالی نے اپنی کتاب عزیز قرآن مجید میں فرمایا ہے :

{ اوراگرتمہیں یہ خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہیں کرسکوں گے تو اورعورتوں میں سے جوبھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو ، دو دو ، تین تین ، چار چارسے ، لیکن اگر تمہیں برابری اورعدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈي ، یہ زيادہ قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ } النساء ( 3 ) ۔

توتعدد کے جواز میں یہ نص ہے اوراس آیت سے اس کے جواز پر دلیل ملتی ہے ، لھذا شریعت اسلامیہ میں یہ جائز ہے کہ وہ ایک عورت یا پھر دو یا تین یا چار عورتوں سے بیک وقت شادی کرلے ، یعنی ایک ہی وقت میں اس کے پاس ایک سے زیادہ بیویاں رہ سکتی ہيں ۔

لیکن وہ ایک ہی وقت میں چار بیویوں سے زيادہ نہیں رکھ سکتا اورنہ ہی اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ، مفسرون ، فقھاء عظام اورسب مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کسی نے بھی اس میں کوئي اختلاف نہيں کیا ۔

اوریہ بھی علم میں ہونا چاہیےکہ تعدد زوجات کے لیے کچھ شروط بھی ہیں : ان میں سے سب سے پہلی شرط عدل ہے :

اول :

عدل :

اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالی کا مندرجہ ذيل فرمان ہے :

{ تواگرتمہيں یہ خدشہ ہوکہ تم ان کے درمیان برابر اورعدل نہیں کرسکتے توپھر ایک ہی کافی ہے } النساء ( 3 ) ۔

تواس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تعدد زوجات کے لیے عدل شرط ہے ، اوراگرآدمی کویہ خدشہ ہو کہ وہ ایک سےزیادہ شادی کرنے کی صورت میں عدل وانصاف نہیں کرسکے گا توپھر اس کےلیے ایک سے زيادہ شادی کرنا منع ہے ۔

اورتعدد کے جواز کے لیے جوعدل اوربرابری مقصود اورمطلوب ہے وہ یہ ہے کہ اسے اپنی بیویوں کے مابین نفقہ ، لباس ، اوررات بسر کرنے وغیرہ اورمادی امور جن پر اس کی قدرت اوراستطاعت ہے میں عدل کرنا مراد ہے ۔

اورمحبت میں عدل کرنے کے بارہ میں وہ مکلف نہیں اور نہ ہی اس چيز کا اس سے مطالبہ ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت رکھتا ہے اورپھر اللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان کا بھی یہی معنی ہے :

{ اورتم ہرگز عورتوں کے مابین عدل نہیں کرسکتے اگرچہ تم اس کی کوشش بھی کرو } النساء ( 129 ) ۔

دوم : دوسری شرط :

بیویوں پرنفقہ کی قدرت ( خرچہ کرنے کی استطاعت ) :

اس شرط کی دلیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی کتاب عزيز میں کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اوران لوگوں کوپاکدامن رہنا چاہیے جواپنا نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے حتی کہ اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کردے } النور ( 33 )

اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آیت کریمہ میں یہ حکم دیا ہے کہ جوبھی نکاح کرنے کی استطاعت اورطاقت رکھتا ہواور اسے کسی قسم کا مانع نہ ہوتووہ پاکبازی اختیار کرے ، اورنکاح کے مانع اشياء میں یہ چيزيں داخل ہيں :

جس کے پاس نکاح کرنے کے لیے مہر کی رقم نہ ہو ، اورنہ ہی اس کے پاس اتنی قدرت ہو کہ وہ شادی کے بعد اپنی بیوی کا خرچہ برداشت کرسکے ۔

دیکھیں المفصل فی احکام المراۃ ( 6 / 286 ) ۔

دوم :

تعدد نکاح کی اباحت میں حکمت :

1 – تعدد اس لیے مباح کیا گیا ہے کہ امت مسلمہ کی کثرت ہوسکے ، اوریہ تومعلوم ہی ہے کہ کثرت شادی کے بغیر نہیں ہوسکتی ، اورایک بیوی کی بنسبت اگر زيادہ بیویاں ہوں تو پھر کثرت نسل میں بھی زيادتی ہوگي ۔

اور عقلمندوں کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ افراد کی کثرت امت کے لیے تقویت کا باعث ہوتی ہے ، اورپھر افرادی قوت کی زيادتی سے کام کرنے کی رفتار بھی بڑھے گی جس کے سبب سے اقتصادیات بھی مضبوط ہوں گي – لیکن اس کےلیے شرط یہ ہے کہ حکمران ملک میں اگرتدبیری امور صحیح جاری کریں اورموارد سے صحیح طور پر نفع اٹھائيں توپھر- ۔

آپ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آئيں کہ جویہ کہتے پھرتےہیں کہ افراد کی کثرت سے زمین کے موارد کو خطرہ ہے اوروہ انہیں کافی نہیں رہيں گے ، یہ ان کے بات غلط ہے اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی حکیم و علیم ہے جس نے تعدد کومشروع کیا اوراپنے بندوں کے رزق کی ذمہ داری بھی خود ہی اٹھائي ، اورزمین میں وہ کچھ پیدا فرمایا جوان سب کے لیے کافی ہے بلکہ اس سے بھی زيادہ ہے ، اوراگرکچھ کمی ہوتی ہے تو وہ حکومتوں اور اداروں کے ظلم وزیادتی اورغلط قسم کی پلاننگ کی وجہ سے ہے ۔

مثال کے طورپر آپ سکان اورافرادی قوت کے اعتبار سے سب سے بڑے ملک چین کو ہی دیکھیں جوکہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے قوی ملک شمار کیا جاتا ہے ، بلکہ کئي ہزار گناہ شمار ہوتا ہے ، اور اسی طرح دنیا کا سب سے بڑا صنعتی ملک بھی چین ہی شمار ہوتا ہے ، توکون ہے جوچین پر چڑھائي کرنے کا سوچے اوراس کی جرات کرے کاش ؟ اورپھر کیوں ؟

2 - سروے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کہيں زيادہ ہے ، تواس طرح اگر ہر مرد صرف ایک عورت سے ہی شادی کرے تواس کا معنی یہ ہوا کہ کتنی ہی عورتوں شادی کے بغیر بچ جائيں گے جوکہ معاشرے اوربذات خود عورت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا ۔

عورت ذات کوجو نقصان پہنچے گا وہ یہ کہ اس کے پاس ایسا خاوند نہیں ہوگا جواس کی ضروریات پوری کرے اوراس کے معاش اوررہائش وغیرہ کا بندوبست کرے اورحرام قسم کی شھوات سے اسے روک کررکھے ، اوراس سے ایسی اولاد پید کرے جوکہ اس کی آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہو ، جس کی بنا پر وہ غلط راہ پر چل نکلے گی اورضائع ہوجائے گی سوائے اس کے جس پر آپ کے رب کی رحمت ہو ۔

اورجوکچھ معاشرے کونقصان اورضرر ہوگا وہ یہ ہے کہ سب کو علم ہے کہ خاوند کے بغیر بیٹھی رہنے والی عورت سیدھے راستے سے منحرف ہوجائے گی اورغلط اورگندے ترین راستے پر چل نکلے گی ، جس سے وہ عورت زنا اورفحش کام میں پڑ جائے گی – اللہ تعالی اس سے بچا کررکھے – اورمعاشرے میں فحاشی اورگندے ترین ایڈزاور اس جیسے دوسرے متعدی امراض پھیلیں گے جن کا کوئي علاج نہیں ، اورپھر خاندان تباہ ہوں گے اورحرام کی اولاد بہت زيادہ پیدا ہونے لگے گی جسے یہ علم ہی نہیں ہوگا کہ ان کا باپ کون ہے ؟

تواس طرح انہیں نہ توکوئي مہربانی اورنرمی کرنے والا ہاتھ ہی میسر ہوگا ، اور نہ ہی کوئي ایسی عقل ملے گی جوان کی حسن تربیت کرسکے ، اورجب وہ اپنی زندگی کا آغاز کریں اوراپنی حقیقت حال کا انہیں علم ہوگا کہ وہ زنا سے پیدا شدہ ہیں توان کے سلوک پر برا اثر پڑے گا اوروہ الٹ جائيں اورپھر انحراف اورضائع ہونا شروع ہوجائيں گے ۔

بلکہ وہ اپنے معاشرے پر وبال بن جائيں گے اوراسے سزا دیں گے ، اورکسے معلوم ہوسکتا کہ وہ اپنے معاشرے کی تباہی کے لیے کدال بن کراسے تباہ کرکے رکھ دیں ، اورمنحرف قسم کے گروہوں کے لیڈر جن جائيں ، جیسا کہ آج دنیا کے اکثرممالک کی حالت بن چکی ہے ۔

3 - مرد حضرات ہر وقت خطرات سے کھیلتے رہتے ہیں جوکہ ہوسکتا ہے ان کی زندگی ہی ختم کردے ، اس لیے کہ وہ بہت زيادہ محنت ومشقت کےکام کرتے ہیں ، کہیں تووہ لڑائيوں میں لشکر میں فوجی ہیں ، تومردوں کی صفوں میں وفات کا احتمال عورتوں کی صفوں سے زيادہ ہے ، جوکہ عورتوں میں بلاشادی رہنے کی شرح زیادہ کرنے کا باعث اورسبب ہے ، اوراس کا صرف ایک ہی حل تعدد ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کی جائيں ۔

4 – مردوں میں کچھ ایسے مرد بھی پائے جاتے ہيں جن کی شھوت قوی ہوتی ہے اورانہیں ایک عورت کافی نہیں رہتی ، تواگر ایک سے زيادہ شادی کرنے کا دروازہ بند کردیا جائے اوراس سے یہ کہا جائے کہ آپ کو صرف ایک بیوی کی ہی اجازت ہے تووہ بہت ہی زيادہ مشقت میں پڑ جائے گا ، اورہوسکتا ہے کہ وہ اپنی شھوت کسی حرام طریقے سے پوری کرنے لگے ۔

آپ اس میں یہ بھی اضافہ کرتے چلیں کہ عورت کوہرماہ حیض بھی آتا ہے اورجب ولادت ہوتی ہے توپھر چالیس روز تک وہ نفاس کی حالت میں رہتی ہے جس کی بنا پر مرد اپنی بیوی سے ہم بستری نہیں کرسکتا ، کیونکہ شریعت اسلامیہ میں حيض اورنفاس کی حالت میں ہم بستری یعنی جماع کرنا حرام ہے ، اورپھر اس کا طبی طور پر بھی نقصان ثابت ہوچکا ہے ، تو اس لیے جب عدل کرنے کی قدرت ہوتو تعدد مباح کردیا گیا ۔

5 - یہ تعدد صرف دین اسلامی میں ہی مباح نہیں کیا گيا بلکہ پہلی امتوں میں بھی یہ معروف تھا ، اوربعض انبیاء علیھم السلام کئي عورتوں سے شادی شدہ تھے ، دیکھیں اللہ تعالی کے یہ نبی سلیمان علیہ السلام ہیں جن کی نوے بیویاں تھیں ، اورعھد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کئي ایک مردوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس آٹھ بیویاں تھیں اوربعض کی پانچ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کورکھیں اورباقی کوطلاق دے دیں ۔

6 – ہوسکتا ہے ایک بیوی بانجھ ہو یا پھر خاوند کی ضرورت پوری نہ کرسکے ، یا اس کی بیماری کی وجہ سے خاوند اس سے مباشرت نہ کرسکے ، اورخاوند کوئي ایسا ذریعہ تلاش کرتا رہے جوکہ مشروع ہو اور وہ اپنی ازواجی زندگی میں اپنی خواہش پوری کرنا چاہے جوکہ اس کے لیے مباح ہے تواس کے لیے اس کے پاس اورکوئي چارہ نہیں کہ وہ دوسرے شادی کرے ۔

تواس لیے عدل و انصاف اوربیوی کے بھلائي یہی ہے کہ وہ بیوی بن کر ہی رہے اوراپنے خاوند کودوسری شادی کرنے کی اجازت دے دے ۔

7 - اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت آدمی کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوجس کا کوئي اعالت کرنے والا نہ ہو اوروہ شادی شدہ بھی نہیں یا پھر بیوہ ہو اوریہ شخص خیال کرتا ہوکہ اس کے ساتھ سب سے بڑا احسان یہی ہے کہ وہ اسے اپنی بیوی بنا کر اپنے ساتھ اپنی پہلی بیوی کےساتھ گھر میں رکھے تا کہ اس کے لیے عفت وانفاق دونوں جمع کردے جوکہ اسے اکیلا چھوڑنے اوراس پر خرچ کرنے سے زيادہ بہتر ہے ۔

8 - کچھ مشروع مصلحتیں جو تعدد کی دعوت دیتی ہيں :

مثلا دوخاندانوں کے مابین روابط کی توثیق ، یا پھر کسی جماعت اورکچھ افراد کے رئیس اوران کے مابین راوبط کی توثیق ، اوروہ یہ دیکھے کہ یہ غرض شادی سے پوری ہوسکتی ہے اگرچہ اس پرتعدد ہی مرتب ہو یعنی اسے ایک سے زيادہ شادیاں کرنی پڑیں ۔

اعتراض :

ہوسکتا ہے کوئی اعتراض کرتاہوا یہ کہے :

تعدد یعنی ایک سے زائد بیویاں کرنے میں ایک ہی گھر میں کئي ایک سوکنوں کا وجود پیدا ہوگا ، اوراس بنا پر سوکنوں میں دشمنی و عداوت اورفخر ومقابلہ پیدا ہوجائے گا جس کا اثر گھر میں موجود افراد یعنی اولاد اورخاوند پربھی ہوگا ، جوکہ ایک نقصان دہ چيز ہے ، اورضرر ختم ہوسکتا ہے اوراسے ختم کرنے کے لیے تعدد زوجات کی ممانعت ضروری ہے ۔

اعتراض کا رد :

اس کا جواب یہ ہے کہ :

خاندان میں ایک بیوی کی موجودگی میں بھی نزاع اورجھگڑا پیدا ہوسکتا ہے ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک سے زيادہ بیویاں ہونے کی صورت میں نزاع اورجھگڑا پیدا نہ ہو ، جیسا کہ اس کا مشاہدہ بھی کیاگيا ہے ۔

اوراگرہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ ایک بیوی کی بنسبت زیادہ بیویوں کی صورت میں نزاع اورجھگڑا زيادہ پیدا ہوتا ہے ، تواگرہم اس جھگڑے کوضرر اورنقصان اورشر بھی شمار کرلیں تویہ سب کچھ بہت سی خير کے پہلو میں ڈوبا ہوا ہے ، اورپھر زندگی میں نہ توصرف خير ہی خير ہے اورنہ ہی صرف شر ہی شر ، مطلب یہ ہے کہ مقصود و مطلوب وہ چيز ہے جو کہ غالب ہو تو جس کے شر پر خیر اوربھلائی غالب ہوگی اسے راجح قرار دیا جائے گا ، اورتعدد میں بھی اسی قانون کومد نظر رکھا گيا ہے ۔

اورپھر ہر ایک بیوی کا مستقل اورعلیحدہ رہنے کا شرعی حق ہے ، اورخاوند کے لیے جائز نہيں کہ وہ اپنی بیویوں کو ایک ہی مشترکہ گھرمیں رہنے پر مجبور کرے ۔

ایک اوراعتراض :

جب تم مرد کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا مباح کرتے ہو توپھر عورت کے لیے تعدد کیوں نہیں ، یعنی عورت کویہ حق کیوں نہیں کہ ایک سے زیادہ آدمیوں سے شادی کرسکے ؟

اس اعتراض کا جواب :

عورت کواس کا کوئي فائدہ نہيں کہ اسے تعدد کا حق دیا جائے ، بلکہ اس سے تو اس کی قدر اورعزت میں کمی واقع ہوگی ، اوراس کی اولاد کا نسب بھی ضائع ہوگا ، اس لیے کہ عورت نسل بننے کا مستودع ہے ، اورنسل کا ایک سے زيادہ مردوں سے بننا جائز نہیں اورپھر اس میں بچے کے نسب کا بھی ضياع ہے ۔

اوراسی طرح اس کی تربیت کی ذمہ داری بھی ضائع ہوگی اورخاندان بکھر جائے گا اولاد کے لیے باپ کے روابط ختم ہوجائيں گے جوکہ اسلام میں جائز نہیں ، اوراسی طرح یہ چيز عورت کی مصلحت میں بھی شامل نہيں اورنہ ہی بچے اورمعاشرے کی مصلحت میں ہے ۔

دیکھیں المفصل فی احکام المراۃ ( 6 / 290 ) ۔

واللہ اعلم

١٢٦- تعدد کی شروط کیا ہیں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

وہ کون سی شروط ہیں جن کی موجودگی میں مرد کے لیے ایک سے زيادہ شادیاں کرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ
ایک سےزیادہ شادیاں کرنا مطلوب ہے لیکن اس کے لیے مندرجہ ذيل شرط ہے کہ :
انسان کے پاس مالی ، بدنی ، اوربیویوں کے مابین عدل وانصاف کرنے کی طاقت وقدرت ہو توپھر وہ دوسری شادی کرسکتا ہے ۔

اس لیے کہ تعدد زوجات سے ان عورتوں کی حفاظت ہوگی جن سے شادی کی جائے ، اورپھر اس میں لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق بھی بڑھے گا ، اورکثرت اولاد بھی ہوگي جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے فرمان میں اشارہ کیا ہے کہ :

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( تم زيادہ محبت کرنے والی اورزيادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادی کرو ) ۔

اوراس کے علاوہ بھی بہت سی مصلحتیں اورحکمتیں ہیں ، لیکن اگر انسان ایک سے زيادہ شادیاں فخر اورپھر چیلنج کی بنا پر کرے تویہ اسراف میں شامل ہوتا ہے جس سے منع کیا گيا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوراسراف و زيادتی سے کام نہ لو یقینا اللہ تعالی اسراف اورفضول خرچی کرنے والوں سے محبت نہيں کرتا } ۔ .

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا فتوی ۔
دیکھیں کتاب : فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 205 )

١٢٥- تعدد کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کے بارہ میں کوئي حدیث واد نہیں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

کیا کوئي ایسی حدیث ہے جس میں یہ ہو کہ مرد جب دوسری شادی کرنا چاہے تواس پر پہلی بیوی سے اجازت لینی واجب ہے ؟

الحمد للہ
ایسی کوئي حدیث نہیں جس میں یہ ذکر ہو ۔
اوردوشری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا شرط بھی نہيں ، لیکن مصلحت اسی میں ہے کہ وہ یہ کوشش کرے کہ پہلی بیوی اس پر راضي ہوجائے اوراسے اجازت دے دے ، کیونکہ اگرایسا ممکن ہوسکے توازدواجی زندگی میں اس سے بہت ہی کم مشکلات پیدا ہونگي ۔

واللہ اعلم

١٢٤-عورت کےلیےایک سے زيادہ خاوند رکھنے کیوں حرام ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

عورت کے لیے تین یا چارخاوندوں سے شادی کرنا کیوں جائز نہیں ، حالانکہ مرد کے لیے تین یا چار عورتوں سے بیک وقت شادی کرنی جائز ہے ؟

الحمد للہ
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا تعلق اللہ تعالی پر ایمان کے ساتھ ہے اوراسی ایمان پر مربوط ہے، اور پھرسب ادیان بھی اس پر متفق ہیں کہ بیوی کےساتھ خاوند کے علاوہ کوئي اور ہم بستری نہیں کرسکتا ، اوران ادیان میں بلاشک سب آسمانی ادیان شامل ہيں ۔
جن میں اسلام ، اوراصل یھودیت و نصرانیت بھی بھی شامل ہے ، تواللہ تعالی پر ایمان اس بات کا متقاضي ہے کہ اس کے شرعی احکام کو تسلیم کیا جائے چاہے ہمیں اس کی حکمت سمجھ میں آئے یا وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہو ، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی جو کچھ بھی بشر کی مصلحت والی چيز ہے اسے جانتا اوروہ حکمت والا ہے ۔

مرد کے لیے ایک سے زيادہ بیویاں رکھنے اورعورت کے حق میں ایک سے زيادہ خاوند کی ممانعت کی مشروعیت کے بارہ میں گزارش ہے اس کے بارہ میں کچھ امور ایسے ہیں جو کسی بھی ذی شعور اورعقل مند پر مخفی نہيں ۔

اللہ تبارک وتعالی نے عورت کوایک برتن بنایا ہے لیکن مرد کی حیثيت برتن جیسی نہیں ، اس لیے اگر وہ عورت جس سے ایک سے زيادہ مردوں نے ہم بستری کی ہو حاملہ ہوجائے تواس کے پیدا ہونے والے بچے کا علم ہی نہیں ہوسکے گا کہ بچے کا باپ کسے قرار دیا جائے ۔

اس طرح لوگوں کے نسب اورنسلوں میں اختلاط پیدا ہوجائے گا جس کی وجہ سے گھروں کے گھر تباہ ہوجائيں گے اور بچےدھتکار دیے جائيں گے ، اورعورت پر وہ بچے بوجھ بن جائيں گے نہ تو وہ ان کی تربیت اورنہ ہی ان کے کھانے پینے کا بوجھ برداشت کرسکے گي کیونکہ والد کا علم نہیں کہ کون ہے ۔

اورہوسکتا ہے کہ عورت اپنے آپ کو بانجھ کرنے پر مجبور ہوجائے ، جو کہ نسل انسانی کی تباہی کا باعث بنے گا ، پھر اپ تو میڈیکلی طور پر بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایک عورت کو ایک سے زيادہ مرد کے استعمال کرنے کی بنا پر ایڈز جیسے مرض پیدا ہوچکے ہيں ۔

تو اس طرح عورت کے رحم میں ایک سے زيادہ مردوں کے نطفے کے اختلاط سے اس قسم کے خطرناک مرض پیدا ہوتے ہیں ، اوراسی لیے اللہ تعالی نے مطلقہ یا پھر جس کا خاوند فوت ہوجائے کے لیے عدت مشروع کی ہے کہ اس مدت سے اس کا رحم وغیرہ سابقہ شوہر کے مادہ اوراس گندگی سے پاک صاف ہوجائے جواس میں نقصان کا با‏عث بنتا ہے ۔

امید ہے کہ اتنا بیان کرنا ہی کافی ہے ہم زيادہ لمبا نہیں کرتے ، اوراگر سوال کرنے کا مقصد کوئي علمی ریسرچ یا گریجویشن کا کوئي مقالہ وغیرہ ہے تو ہم سائل سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ تعدد زوجات اوراس کی حکمت کے موضوع میں تالیف شدہ کتب کا مطالعہ کرے ۔

اللہ تبارک وتعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے

١٢٣- بيويوں كى شكايت كرنے والے كو پندونصائح

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جناب مولانا صاحب ميرا سوال بيويوں كے ساتھ تعامل كے متعلق ہے كيونكہ ميري دو بيوياں ہيں پہلى بيوى سے ميرے تين بچے ہيں اور وہ چوتھے بچے كى ماں بننے والى ہے، اور دوسرى بيوى سے ميں تقريبا سات ماہ قبل شادى كى ہے، جناب مولانا صاحب ميرا سوال يہ ہے كہ:
ايك دن مجھے دوسرى بيوى كہنے لگى: مجھے آپ كى پہلى بيوى نے بطور نصيحت يہ بات كہى كہ: عنقريب تم اپنى شادى پر نادم ہوگى، يعنى ميں نے اتنى مدت سے اپنے بچوں كى وجہ سے صبر و شكر كر رہى ہوں.
دوسرى بيوى كہنے لگے: اس نے مجھے آپ كے متعلق بہت باتيں كيں ليكن ميں نے اسے خاموش كرا ديا، اور اسے كہا كيا تمہيں علم ہے كہ يہ غيبت اور چغلى شمار ہوتى ہے؟ اور اسے نصيحت كى اور اللہ كا خوف دلايا، اس طرح كى حالت اور موقف ميں كيا كرنا چاہيے ؟
يہ علم ميں رہے كہ ميں نے دونوں ميں سے كسى ايك كے ساتھ بھى كوئى كمى و كوتاہى نہ برتى، اور انہيں آپس ميں بہنيں بن كر رہنا ديكھنا پسند كرتا ہوں، اور ميں ان دونوں كے ساتھ اسى بنياد پر سلوك كرتا ہوں، اور استطاعت كے مطابق كوشش كرتا ہوں كہ ايك كى جانب سے نكلى بات كو دوسرے سے چھپاؤں اور اسے پردہ ميں ركھوں، اور استطاعت كے مطابق كوشش كرتا ہوں كہ ان دونوں كے ذاتى اخراجات ميں بھى عدل سے كام لوں اور رات بسر كرنے ميں بھى، اور باقى حياۃ زوجيت ميں بھى برابرى كى كوشش كرتا ہوں.
اور ميں پسند كرتا ہوں كہ ہم ايك ہى خاندان كى طرح اكٹھے جائيں اور گھوميں، برائے مہربانى كوئى نصيحت فرمائيں ؟

الحمد للہ:

اول:

ايك سے زائد بيويوں والے شخص كے ساتھ گھر ميں اس كى بيويوں كے مابين جو كچھ ہوتا ہے وہ ايك طبعى چيز ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى نے عورتوں كو سوكنوں كى غيرت پر پيدا كيا ہے، اس سے تو وہ عظيم عورتيں جو مومنوں كى مائيں تھى يعنى امہات المومنين بھى نہ بچ سكيں، ذيل ميں ہم ان كے متعلق چند ايك قصے اور واقعات ذكر كرتے ہيں:

1  ـ  انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنى ايك بيوى كے پاس تھے كہ امہات المومنين ميں سے كسى ايك نے آپ كو ايك پليٹ ميں كچھ كھانے كى چيز بھيجى تو جس كے گھر ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تھے اس بيوى نے خادم كے ہاتھ پر مارا تو وہ پليٹ نيچےگر كر ٹوٹ گئى اور كھانا بكھر گيا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے اس كھانے كو پليٹ ميں جمع كرنا شروع كر ديا اور فرمانے لگے:

" تمہارى ماں كو غيرت آ گئى " پھر خادم كو روك ديا اور جس گھر ميں آپ تھے وہاں سے اسے صحيح پليٹ دى اور ٹوٹى ہوئى پليٹ اس گھر ميں ركھ دى جہاں ٹوٹى تھى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4927 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان يعنى اكثر شارحين حديث كا كہنا ہے: اس حديث ميں اشارہ ہے كہ غيرت كى وجہ سے اگر كسى سے كچھ صادر ہو جائے تو اس كا مؤاخذہ نہيں كرنا چاہيے؛ كيونكہ اس حالت ميں شدت غضب كى بنا پر اس كى عقل پر پردہ پڑا ہوتا ہے جو غيرت كى بنا پر ہے، اور ابو يعلى نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے سندا مرفوع بيان كيا ہے جس ميں كوئى حرج نہيں كہ:

" غيرت والى عورت اوپر سے نيچے كى طرف نہيں ديكھ سكتى "

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 325 ).

ـ  انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ ہى سے روايت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نو بيوياں تھى، جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان ميں بارى تقسيم كرتے تو پہلى بيوى كے پاس نو دن كے بعد ہى جاتے، وہ سب بيوياں ہر رات اس بيوى كے گھر جمع ہوتيں جس كى بارى ہوتى تھى، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كےگھر ميں تھے تو وہاں زينب رضى اللہ تعالى عنہا آئيں تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے ان كى جانب اپنا ہاتھ بڑھا كر كہا يہ زينب ہے " تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا ہاتھ روك ديا، چنانچہ وہ ايك دوسرے كو كچھ كہنے لگيں حتى كہ ان كى آواز بلند ہو گئى اور آپس ميں خلط ملط ہو گئى اور نماز اقامت ہو گئى تو وہاں سے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كو گزر ہوا تو انہوں نے دونوں كى آواز سنى اور كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نماز كے ليے تشريف لے چليں اور ان كے منہ ميں مٹى ڈاليں، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم چلے گئے تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں: اب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنى نماز پورى كريں گے اور ابو بكر آ كر ميرے ساتھ يہ يہ كريں گے، جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز مكمل كر لى تو ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ آئے اور عائشہ كو سخت باتيں كيں اور كہنے لگے: تم ايسا كرتى ہو ؟ "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1462 ).

استخبتا يہ سخب سے ہے اور آوازوں كا آپس ميں ملنے اور بلند ہونے كو سخب كہا جاتا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا زينب كى طرف ہاتھ پھيلانا اور يہ كہنا كہ: يہ زينب ہے، اس كے متعلق كہا گيا ہے كہ يہ عمدا اور جان بوجھ كر نہيں تھا، بلكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے اسے بارى والى گمان كيا تھا؛ كيونكہ يہ رات كا وقت تھا اور گھروں ميں چراغ نہيں تھے، اور ايك قول يہ بھى ہے كہ: يہ ان كى رضامندى سے تھا....

اور اس حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حسن معاملہ اور نرمى اور سب كے ساتھ حسن اخلاق كے ساتھ پيش آنے كا ثبوت پايا جاتا ہے"

ديكھيں: شرح مسلم نووى ( 10 / 47 - 48 ).

يہ سوكنوں كے آپس ميں كچھ حالات تھے، اور وہ بھى امہات المومنين اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيويوں كے اس ليے جو بھى ايك سے زيادہ شادياں كرنا چاہتا ہے اس كے ذہن ميں يہ ہونا چاہيے كہ اس كى بيويوں كے مابين غيرت اور بہت سارا كمپيٹيشن ہو سكتا ہے، ليكن ان مواقف اور حالات سے نپٹنے كے ليے اس كے سامنے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بطور نمونہ ہوں، وگرنہ اس كى زندگى ان كے ساتھ اجيرن ہو سكتى ہے.

اس ليے ميرے سائل بھائى يہ معاملہ صبر و تحمل اور سوكنوں كے حال كا اندازہ لگانے سے ہى حل ہو سكتا ہے، اور اس كو مدنظر ركھ كر ہى طے كيا جائے كہ ان ميں فطرتى طور پر اللہ نے غيرت ركھى ہے.

امام ذہبى رحمہ اللہ نے مغيرہ بن شعبہ كا قول نقل كيا ہے كہ:

" ايك بيوى والے شخص كى حالت يہ ہے كہ اگر بيوى بيمارى ہوئى تو وہ بھى بيمار، اور اگر بيوى كو حيض آگيا تو اسے بھى حيض آ گيا، اور دو بيويوں والا شخص تو دو آگ كے شعلوں كے درميان ہے "

ديكھيں: سير اعلام النبلاء ( 3 / 31 ).

دوم:

تو چيز تو ضرور متوقع ہے كہ ايك بيوى دوسرى كے مقابلہ ميں دوسرى پر طعن كر كے خاوند كا قرب حاصل كرنے كى كوشش كرے، اور اس پر خاوند كو ناراض كرنے كى كوشش كرے اور يہ بھى متوقع ہے كہ ايك بيوى دوسرى پر جھوٹ بولے؛ تا كہ وہ اپنے خاوند كے سامنے ظاہر كر سكے تا كہ خاوند اسے دوسرے سے زيادہ محبت كرے اور زيادہ چاہے، يا پھر اس كى بارى ميں دوسرى سے زيادہ سعادت و خوشى اختيار كرے.

اسماء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ايك عورت نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا:

" ميرى ايك سوكن ہے تو كيا ميرے ليے جائز ہے كہ ميں اس كے سامنے خاوند جو مجھے ديتا ہے اس سے زيادہ جھوٹ موٹ زيادہ رجى ہوئى اور سير ہوئى بن كر دكھاؤں؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو اسے نہ ديا گيا ہو اس سے بڑھ كر دكھانا ايسے ہى ہے جيسے كسى نے جھوٹا لباس زيب تن كيا ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4921 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2130 ).

امام بخارى رحمہ اللہ نے اس حديث پر باب باندھتے ہوئے كہا ہے:

" ايسے شخص كے متعلق جو اس سے بڑھ كر دكھانے كى كوشش كرے جو اسے نہيں ملا، اور سوكن پر فخر كرنے كى ممانعت "

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قولہ: " المتشبّع " يعنى وہ شخص جو ايسى زينت اختيار كرے جو اس كے پاس موجود نہ ہو، اور وہ اس سے زيادہ دكھانا چاہتا ہو، اور باطل كے ساتھ مزين ہو، مثلا اس عورت كى طرح جو كسى شخص كى بيوى ہے اور اس كى سوكن بھى ہو تو اس كے پاس جو كچھ ہے اس سے زيادہ ہونے كا دعوى كرے؛ اس سے اس كا مقصد سوكن كو ستانا اور غصہ دلانا ہو.....

اور " ثوبى زور " ميں تثنيہ كا حكم يہ ہے كہ: يہاں اس طرف اشارہ كيا گيا ہے كہ اس نے دو قسم كا جھوٹ بولا ہے؛ كيونكہ ايك تو اس نے اپنے ساتھ جھوٹ بولا جو چيز اس نے لى ہى نہيں اور دوسرے شخص كے ساتھ بھى جھوٹ بولا جو اسے ديا ہى نہيں گيا، اور اسى طرح جھوٹى گواہى دينے والا بھى اپنے ساتھ بھى ظلم كر رہا ہے اور جس كے بارہ ميں گواہى دے رہا ہے اس كے ساتھ بھى ظلم كر رہا ہے....

اس سے مراد يہ ہے كہ جو ذكر كيا گيا ہے اس سے عورت كو نفرت دلائى جائے؛ اس خدشہ كے پيش نظر كہ خاوند اور اس كى سوكن كے مابين فساد اور خرابى پيدا نہ ہو، اور ان ميں بغض و عناد پيدا نہ ہو، تو يہ اس جادوگر كى طرح ہو گى جو خاوند اور بيوى كے مابين جدائى ڈالنے كى كوشش كرتا ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 317 - 318 ).

سوم:

ہمارے سائل بھائى: آپ جو يہ چاہتے اور رغبت ركھتے ہيں كہ دونوں بيويوں كو جمع كريں اور انہيں دو بہنوں كى طرح بنا ديں يہ اچھى چيز ہے، اور ہو سكتا ہے ہر خاوند كى رغبت بھى يہى ہو جو ايك سے زيادہ بيوي ركھتا ہے، ليكن سوكنوں كا ايك دوسرے كے ساتھ بغض ركھنا آپ كو ان كے ساتھ ايسے معاملات كرنے كى دعوت ديگا جو آپ كو ان كى غيرت اور ايك دوسرے سے آگے بڑھنے كى كوشش كو مد نظر ركھ اس كا علاج كرنا ہو گا.

ہم ذيل ميں چند ايك نصيحتيں كرتے ہيں جن پر عمل كر كے آپ كے ليے ان ازدواجى مشكلات كا علاج كر سكتے ہيں:

1  ـ  آپ ان ميں سے دوسرى كى بارہ ميں ايك كى كلام پر كان مت دھريں، اور اس كا قلع قمع كرنے كے ليے آپ انہيں بالكل اس بات كى اجازت نہ ديں كہ وہ ايك دوسرے كى بات آپ كے ساتھ كريں.

2  ـ  جب دونوں بيويوں ميں كوئى مشكل پيدا ہو جائے تو آپ كو يہ نصيحت ہے كہ آپ انہيں ايك ہى جگہ جمع كريں اور دونوں كى باتيں سن كر ہر ايك كى دليل ليں، اس طرح ايك دوسرى كے بارہ ميں بہت سارا جھوٹ اور بہتان اور مبالغہ ختم ہو جائيگا.

3   ـ  دونوں بيويوں ميں سے كسى ايك كے سامنے آپ دوسرى كى برائى ظاہر مت كريں، اور آپ اور دوسرى كى سوكن ميں جو بات چيت ہوئى ہے وہ كسى كے سامنے مت كريں، نا كہ كوئى خير و بھلائى كى كلام تا كہ دوسرى اس سے حسد اور غيرت ميں مبتلا نہ ہو جائے، اور نہ ہى كوئى برائى اور شر كى كلام تا كہ وہ دوسرى كو برا نہ كہے.

4  ـ  آپ دونوں بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرنے كى پورى كوشش كريں، اور اس سلسلہ ميں كوتاہى سے كام مت ليں حتى كہ ان اشياء ميں بھى جسے آپ واجب نہيں سمجھتے.

جابر بن زيد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ميرى دو بيوياں تھيں تو ميں ان ميں عدل و انصاف سے كام ليتا حتى كہ ان كا بوسہ لينے ميں بھى "

اور مجاہد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" وہ بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرنا مستحب قرار ديتے تھے حتى كہ خوشبو ميں بھى، وہ ايك كو خوشبو لگاتے تو دوسرى كو بھى اسى طرح كى خوشبو لگاتے "

اور محمد بن سيرين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" خاوند كے ليے مكروہ ہے كہ وہ ايك بيوى كے گھر ميں وضوء كرے اور دوسرى كے گھر ميں نہ كرے "

اور يہ علم ميں ركھيں كہ جب يہ پورا عدل و انصاف ہو گا تو اس سے سوكنوں كى اكثر مشكلات ختم ہو جائينگى.

5  ـ  بعض ان امور ميں جنہيں آپ مناسب سمجھتے ہيں كہ ان كى حد مقرر ہونى چاہيے اس ميں سختى اور شدت اختيار كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ہم اس كا اعتراف كرتے ہيں كہ كمال نرمى اور آسانى و رحمدلى ميں ہى ہے، ليكن بعض اوقات يہ نرمى اور رحمدلى كسى كو اچھى نہيں لگتى جو اس كى قدر نہ كرتا ہو، اور جس ميں ايجابى اثر ہو.

اس ليے خاوند كو بعض اوقات اپنى بيويوں كے ساتھ شدت اور سختى سے بھى كام لينا چاہيے جب ديكھے كہ ان كے ليے سختى ميں اصلاح ہے، جس طرح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى بيويوں كے ساتھ نرمى و شفقت برتى اسى طرح بعض اوقات سختى بھى كى، جيسا كہ صحيح حديث سے ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى بيويوں سے ايك ماہ تك گھروں سے باہر چھوڑے ركھا، اور بلاشك يہ ان كے ليے بہت شديد اور سختى تھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس نہ جائيں اور ان سے عليحدہ رہيں، يہى وہ حكمت ہے جو ہم نے جواب كے شروع ميں بيان كي ہے، چنانچہ مطلقا نرمى و شفقت اور رحمدلى ہى حكمت نہيں، بلكہ چيز كو اس كى مناسب جگہ ركھنا، اور نفع مند دوائى كو اس كے مناسب موقف كے مطابق استعمال كرنا ہى نرمى اور شفقت و رحمدلى ہے.

6 ـ  يہ ضرورى ہے كہ آپ اپنى بيويوں كو وعظ و نصيحت خيال سے كيا كريں، اور ان كى راہنمائى اور نصيحت كرتے رہيں؛ كيونكہ وہ اس كى زيادہ محتاج اور ضرورتمند ہيں، كيونكہ وہ اللہ كے قرب والے كاموں سے بہت زيادہ غفلت برتتى ہيں، اور دنيا اور اس كى زينت ميں ايك دوسرے سے آگے نكلنا اور فخر نہ كرنا بھى ان ميں بہت ہى كم پايا جاتا ہے، اور اس بنا پر ان ميں كذب بيانى اور جھوٹ و غيبت اور چغلى پائى جاتى ہے، اور ايك دوسرے كے بارہ ميں خرابياں پيدا كرتى ہيں، اس ليے آپ كو اس كا ادراك اور علم ہونا چاہيے، اس سلسلہ ميں كوئى كمى اور كوتاہى مت كريں، ان شاء اللہ آپ اس كا اثرضرور ديكھيں گے اور آپ كو ازدواجى زندگى ميں سعادت حاصل ہو گى.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ سب كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جس ميں اللہ كى رضا ہے اور وہ آپ كو اپنى عنائت ميں ركھے اور آپ كا حامى  وناصر ہو.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...