Showing posts with label بدعت. Show all posts
Showing posts with label بدعت. Show all posts

Sunday, August 26, 2018

٧٦٢-عبادات ميں زبان سے نيت كرنے كا حكم


سوال-كيا مسلمان عبادات كرتے وقت زبان سے نيت كرے مثلا ميں وضوء كى نيت كرتا ہوں، اور ميں نماز كى نيت كرتا ہوں اور ميں روزے كى نيت كرتا ہوں ؟

الحمد للہ:

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا نماز وغيرہ دوسرى عبادات شروع كرنا زبان سے نيت كى محتاج ہيں، مثلا كوئى كہے: ميں نے نماز كى نيت كى، اور ميں نے روزے ركھنے كى نيت كى ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

الحمد للہ:

طہارت يعنى غسل يا وضوء يا تيمم اور نماز روزہ اور زكاۃ اور كفارات وغيرہ دوسرى عبادات ميں بالاتفاق انسان زبان سے نيت كرنے كا محتاج نہيں، بلكہ نيت دل سے ہوتى ہے اس پر سب آئمہ كا اتفاق ہے، اس ليے اگر اس نے اپنى زبان سے دل كے مخالف الفاظ نكالے تو اعتبار دل كا ہو گا نہ كہ جو اس نے زبان سے الفاظ نكالے ہيں.

اس ميں كسى نے بھى اختلاف نہيں كيا، ليكن متاخرين اصحاب شافعى رحمہ اللہ نے اس ميں ايك وجہ سے اسے كو غلط قرار ديا ہے، علماء كرام كا اس ميں تنازع ہے كہ آيا نيت كے الفاظ زبان سے ادا كرنے مستحب ہيں يا نہيں ؟

اس ميں دو قول پائے جاتے ہيں:

پہلا قول:

اصحاب ابو حنيفہ اور شافعى اور احمد زبان سے نيت كے الفاظ ادا كرنے كو مستحب كہتے ہيں كيونكہ يہ زيادہ تاكيدى ہے.

دوسرا قول:

اصحاب مالك اور احمد وغيرہ كہتے ہيں زبان سے نيت كے الفاظ ادا كرنےمستحب نہيں؛ كيونكہ يہ بدعت ہے اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كا ثبوت نہيں ملتا، اور نہ ہى صحابہ كرام سے ايسا كرنا منقول ہے، اور نہ ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت ميں سے كسى كو زبان سے نيت كے الفاظ ادا كرنے كا حكم ديا ہے، اور نہ كسى مسلمان كو اس كى تعليم دى.

اگر يہ مشروع ہوتا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں سستى نہ كرتے، اور نہ ہى صحابہ كرام اس ميں اہمال سے كام ليتے، باوجود اس كے كہ امت كو اس كى ہر روز صبح و شام ضرورت تھى.

يہ دوسرا قول زيادہ صحيح ہے، بلكہ زبان سے نيت كى ادائيگى تو عقلى اور دينى دونوں طرح سے نقص معلوم ہوتا ہے دينى نقص اس ليے كہ يہ بدعت ہے، اور عقلى نقص اس طرح كہ يہ بالكل كھانے كھانے كى جگہ ہے جيسے كوئى كھانا چاہے تو كہے: ميں برتن ميں ہاتھ ڈالنے اور اس سے لقمہ لينے كى نيت كرتا ہوں اور وہ لقمہ اپنے منہ ميں ڈال كر چباؤنگا، پھر اسے نگل لونگا تا كہ پيٹ بھر سكوں، اگر كوئى ايسا كرے تو يہ حماقت اور جہالت ہے.

اس ليے كہ نيت علم كے تابع ہے، لہذا جب بندے كو اپنے فعل كا علم ہو جائے تو ضرورتا اس نے نيت كر لى، اس ليے علم كى موجودگى ميں نيت نہيں ہو سكتى، اور پھر علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ بلند آواز اور تكرار سے نيت كرنا مشروع نہيں ہے بلكہ جو ايسا كرنے كا عادى ہو اسے ادب سكھايا جائے اور ايسى سزا دى جائے جو عبادات ميں بدعت كى ايجاد ميں مانع ہو، اور بلند آواز كر كے لوگوں كو اذيت دينے سے باز ركھے.

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 1 / 214 - 215 )

Friday, August 17, 2018

٥٣٣-نماز جمعہ كے بعد اجتماعى دعا مانگنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم دو ركعت نماز جمعہ ادا كرتے ہيں اور امام سلام پھيرنے كے بعد مقتديوں كى جانب منہ كر كے دعا مانگتا ہے اور ہم سب آمين كہتے ہيں، كيا ہمارا يہ فعل صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

مومن كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اقتدا اور پيروى كرنى چاہيے اس ليے جس سے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے روكا ہے اس سے رك جائے اور جس كا حكم ديا ہے اسے كيا جائے اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تمہارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميں بہترين نمونہ جو اللہ سے ملاقات اور يوم آخرت كى اميد ركھتا ہے }الاحزاب ( 21 ).

فرضى نماز ـ جمعہ وغيرہ ـ كے بعد امام كا دعا مانگنا اور مقتديوں كا آمين كہنا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام ميں سے كسى نے يہ عمل كيا ہے اگر يہ خير و بھلائى ہوتى تو صحابہ اس ميں ہم سے سبقت لے جاتے.

اس بنا پر يہ فعل مذموم اور بدعت ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى ميرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف ديكھےگا، اس ليے تم ميرى اور ميرے خلفاء راشدين كى سنت كو لازم پكڑنا، اور اس پر سختى سے عمل كرنا اور نئے نئے كاموں سے اجتناب كرنا، كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4607 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ كا يہ بھى فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا كام كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ) يہ الفاظ مسلم كے ہيں.

شاطبى رحمہ اللہ اپنى كتاب " الاعتصام " ميں بيان كرتے ہيں:

" فرضى نمازوں كے بعد اجتماعى دعا كرنا بدعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا نہيں كيا، اور نہ ہى صحابہ كرام نے اور ان كے بعد آئمہ نے بھى ايسا نہيں كيا "

ديكھيں: الاعتصام ( 1 / 349 - 355 ).

لہذا اس بدعت كو ترك كرنا ضرورى و واجب ہے، اور ان شرعى اذكار اور دعاؤں كا خيال ركھنا چاہيے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرضى نماز كے بعد كيا كرتے تھے اور جو كوئى دعا كرنا چاہتا ہے تو وہ خفيہ طور پر كرے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 532 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

Wednesday, August 15, 2018

٤٦١-على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كو كرم اللہ و جھہ كہنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كو " كرم اللہ وجھہ " كہنے كا حكم كيا ہے ؟
كيا اس ميں انہيں باقى صحابہ كرام سے كوئى فضيلت حاصل ہے، اور اگر ہم " كرم اللہ وجوہ الصحابۃ اجمعين " كہيں تو كيا اس ميں كوئى حرج ہے ؟

الحمد للہ:

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كے ليے " كرم اللہ وجھہ " كى تخصيص غالى قسم كے رافضى اور شيعہ حضرات كا كام ہے، اس ليے اہل سنت حضرات پر واجب ہے كہ كہ وہ ان لوگوں كى مشابہت اختيار كرنے سے دور رہيں، اور باقى صحابہ كرام جن ميں ابو بكر و عمر اور عثمان رضى اللہ تعالى عنہم شامل ہيں كو چھوڑ كر صرف على رضى اللہ تعالى عنہ كے ليے اس دعا كى تخصيص مت كريں.

ليكن يہ دعا سب صحابہ كرام كے ليے استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن يہ ياد ركھيں كہ يہ دعا ان دعاؤں ميں شامل نہيں جو ماثور يعنى احاديث سے ثابت ہيں اور مسلمانوں ميں صحابہ كرام كے ليے عام و جارى و سارى ہيں، جو عام دعا ہے وہ رضى اللہ تعالى عنہم ہے.

اس دعا كا ذكر قرآن مجيد ميں بھى ہوا ہے اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جو مہاجرين و انصار سابق اور مقدم ہيں اور جتنے لوگ اخلاص كے ساتھ ان كے پيروكار ہيں اللہ تعالى ان سب سے راضى ہوا اور وہ سب اس سے راضى ہوئے، اور اللہ نے ان كے ليے ايسے باغ تيار كر ركھے ہيں جن كے نيچے سے نہريں جارى ہونگى جن ميں ہميشہ ہميشہ رہينگے يہ بڑى كاميابى ہے }التوبۃ ( 100 ).

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ آل الشيخ

الشيخ عبد اللہ بن غديان

الشيخ صالح الفوزان

الشيخ بكر ابو زيد .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 26 / 43 ).

٤٤٣-کھانا کھانے سے قبل سورہ فاتحہ اور دعا کرنے کی عادت ہے، اسکا کیا حکم ہے؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہندوستان میں کچھ مسلم جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کھانا کھانے سے قبل سورہ فاتحہ اور دیگر دعائیں پڑھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا ہے، اور اسکے لئے اس حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہیں جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا گیا اور کہا گیا اس کھانے کیلئے برکت کی دعا کردیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے قبل یہ دعائیں کیں، وہ لوگ اس دعا کو "دعائے فاتحہ" کا نام دیتے ہیں۔
تو کیا یہ درست ہے؟

الحمد للہ:

کھانا کھانے کے بعد میزبان کیلئے دعا کرنا مسنون ہے، جیسے کہ صحیح مسلم میں (2042) ہے کہ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کی طرف تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا اور وطبہ (کھجور، پنیر، اور گھی سے بنا ہوا حلوہ) پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر کھجوریں لائی گئیں تو آپ نے وہ بھی کھائیں،اور کھجوروں کی گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں یعنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے پھینکنے لگے پھر آپکو مشروب پیش کیا گیا، تو آپ نے نوش فرمایا، اور پھر اپنے دائیں طرف بیٹھے ہوئے شخص کو دے دیا، عبداللہ کہتے ہیں: پھر میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے لئے دعا فرمائیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی (یا اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اس حدیث سے پتہ چلا کہ مہمان کی طرف سے وسیع رزق، مغفرت، اور رحمت کی دعا کرنا مستحب ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں جمع فرما دیں" انتہی

اور ابو داود (3854) نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے تو وہ آپ کیلئے روٹی اور زیتون کا تیل لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے پاس روزہ دار افطار کریں اور تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تمہارے لئے رحمت کی دعا کریں)

مذکورہ بالا تمام احادیث میں دعا کھانا کھانے سے پہلے یا بعد میں یا کسی اور حالت میں ہر کسی نے خود کی ہے، سوال میں مذکور اجتماعی شکل میں نہیں ۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:

ایک شخص کی عادت تھی کہ ہر جمعہ کو اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا، اور کھانا کھانے کے بعد کوئی بھی شخص اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا تھا، بلکہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر دعا کا انتظار کرتے، جو میزبان کی طرف سے مقرر ایک شخص کرواتا تھا، جس میں دعا یہ کی جاتی تھی کہ اے اللہ! اس کھانے کا ثواب انکے فوت شدگان رشتہ داروں کو پہنچا دے، اور دعا کے دوران سائل بھی حاضرین کے ساتھ ہاتھ اٹھاتا اور سب اُسکی دعا پر"آمین"کہتے، تو کیا کھانے کے بعد اجتماعی دعا کیلئے ہاتھ اٹھانا اور دعا کرنا جائز ہےیا نہیں؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"شریعت مطہرہ میں کھانے کے بعد مذکورہ کیفیت کے ساتھ اجتماعی دعا کرنے کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، اس لئے اسکو چھوڑنا ضروری ہے، کیونکہ یہ بدعت ہے۔

اور سنت کے مطابق میزبان کیلئے برکت کی دعا کردی جائے ، ہر شخص خود سے یہ دعا کردے؛کافی ہے،حدیث مبارکہ میں جو دعا ذکر ہوئی ہے وہ یہ ہے:

اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم

یا اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔

( أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة )

تمہارے پاس روزہ دار افطار کریں اور تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تمہارے لئے رحمت کی دعا کریں "

"فتاوى اللجنة الدائمة" (24 /189-190)

دوسری بات:

کھانے سے پہلے سورہ فاتحہ کی تلاوت اور خاص دعائیں پڑھنا اور اسکے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے قبل یہ دعائیں مانگی تھیں، بدعت ہے، ہمیں اسکی کوئی دلیل نہیں ملی، اور نہ ہی کہیں یہ ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کھانا کھانے سے پہلے یا بعد میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھا لیں اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کریں۔

اس لئے ضروری ہے کہ اس بدعت کو ترک کر دیا جائے، اور صحیح احادیث میں وارد دعاؤں پر اکتفاء کیا جائے، اور صحیح و ضعیف احادیث اور سنت و بدعت کے متعلق علم رکھنے والے اہل علم کی کتابوں پر اعتماد کیا جائے۔

اسی طرح لوگوں کی بھی اسی بات کی طرف راہنمائی کی جائے، اور انہیں بدعات سے باخبر کیا جائے اور انہیں اِن سے بچنے کی تلقین کی جائے۔

کھانے پینے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار اور آداب جاننے کیلئے سوال نمبر (442) اور (249)کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

٣٩٧-غیر ثابت شدہ حدیث کے ذریعے وعظ کرنے کیلیے عید کی تکبیرات چھوڑ دیتا ہے۔

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: عید گا ہ میں ہماری موجودگی کے وقت ایک بھائی اسپیکر میں پڑھی جانے والی عید کی تکبیرات درمیان میں کاٹ کر ایک حدیث بیان کرتا ہے (آج کا دن زندہ لوگوں کا دن ہے۔۔۔۔ جس نے ابھی تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا وہ فطرانہ نماز سے پہلے اپنے آگے رکھ لے۔۔۔ آج اللہ تعالی ان لوگوں کو نہیں بخشے گا جن کے دلوں میں کینہ ہے، ۔۔۔ صلہ رحمی ۔۔۔) اس کے بعد دوبارہ پھر تکبیرات پڑھنا شروع کر دیں؟

الحمد للہ:

اول:

نماز عید سے پہلے اجتماعی تکبیرات پڑھنے کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ یہ شرعی عمل نہیں ہے-

ابن الحاج رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"سنت یہی ہے کہ تکبیرات اتنی بلند آواز سے پڑھے کہ ساتھ والے شخص کو سنائی دے، اس سے زیادہ  آواز بلند کرنا یا گلا پھاڑ کر چلانا بدعت ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی ثابت ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔۔۔ بیک زبان ہو کر تکبیرات کہنا بھی بدعت ہے؛ کیونکہ شرعی عمل کے مطابق ہر شخص کا اپنے لیے تکبیر کہنا شرعی عمل ہے، لہذا ایک آواز میں اکٹھے تکبیرات مت پڑھیں" انتہی
"المدخل" (2 /285)

دوم:

تاہم اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک شخص اسپیکر میں تکبیرات پڑھے اور لوگ پہلے بیان شدہ صورت میں ایک آواز کے ساتھ تکبیرات نہ پڑھیں بلکہ ہر ایک الگ الگ تکبیرات پڑھے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر تکبیرات کی وجہ سے کوئی اور خرابی پیدا نہ ہو ، نیز لوگوں کو یہ بتلا دیا جائے کہ ہم مؤذن یا کسی اور شخص کو اسپیکر میں تکبیرات پڑھنے کی ذمہ داری لگا دیتے ہیں کہ لوگ اجتماعی طور پر ان کی آواز کے ساتھ تکبیرات نہ پڑھیں تو اس میں میرے مطابق کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ تکبیرات بلند آواز سے پڑھنے کے زمرے میں آئے گا، نیز اس سے دیگر لوگوں کو تکبیرات پڑھنے کی یاد دہانی بھی ہوتی رہے گی۔
ویسے بھی یہ بات معروف ہے کہ اگر کوئی شخص اسپیکر کے بغیر بلند آواز سے تکبیرات پڑھے تو کوئی بھی اسے معیوب نہیں سمجھتا، تو بالکل اسی طرح اسپیکر پر تکبیرات پڑھنے کا حکم ہے، البتہ اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ سب لوگ ایک آواز میں تکبیرات مت پڑھیں  کہ وہ اسپیکر میں تکبیر کہے اور سامعین اس کے بعد تکبیر کہیں پھر وہ اگلا لفظ بولے اور سامعین پھر اسے دہرائیں، تو ایسا کرنا احادیث سے ثابت نہیں ہے" انتہی
"مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین" (13 /987)

سوم:

تکبیرات روک کر لوگوں کو نماز سے پہلے فطرانے کی ادائیگی سے متعلق یاد دہانی کروانے میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے؛ اس طرح سے ان لوگوں کو تنبیہ ہو جائے گی جنہوں نے ابھی تک فطرہ ادا نہیں کیا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس شخص نے نماز سے قبل فطرانہ ادا کیا تو وہ مقبول ہے، اور جس نے فطرانہ نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے صدقہ ہے)
ابو داود (1609) و ابن ماجہ (1827) اسے البانی نے " صحیح ابو داود " میں حسن قرار دیا ہے۔

لیکن لوگوں کو وعظ و نصیحت کیلیے من گھڑت یا بے بنیاد روایات ذکر کرنا گناہ ہے ، جائز نہیں ہے، صحیح مسلم  کے مقدمہ میں صفحہ: ( 7) پر ہے کہ:  مغیرہ بن شعبہ  اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما دونوں صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو شخص میری جانب منسوب کوئی حدیث بیان کرے اور اس پر جھوٹ کے آثار محسوس ہوں تو  وہ کذاب لوگوں میں سے ایک ہے)

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے یا جھوٹ بولنے کی کوشش کرنے کی مذمت ہے، اور جو شخص کسی روایت کے جھوٹے ہونے کا خدشہ ہونے کے با وجود بیان کر دے تو وہ شخص بھی جھوٹا اور کذاب ہے" انتہی

یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا کسی اور پر جھوٹ بولنے کے برابر نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص مجھ پر جان بوجھ کے جھوٹ بولے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے) بخاری: (110) مسلم: (3)

مزید کیلیے سوال نمبر: (396) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

Tuesday, August 14, 2018

٣٧٦- عید کا خطبہ منبر پر دینا بدعت ہے؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: عید کا خطبہ منبر پر دینے کا کیا حکم ہے؟ میں نے کچھ دوستوں سے سنا ہے کہ یہ واضح بدعت ہے، تو کیا ان کی بات صحیح ہے؟

الحمد للہ:

اول:

صحیح اور راجح موقف کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم  عید کا خطبہ منبر پر نہیں دیتے تھے۔

امام بخاری  رحمہ اللہ صحیح بخاری: (2/17) میں عنوان قائم کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"باب ہے: عید گاہ کی جانب منبر کے بغیر جانے کے بیان میں" انتہی

پھر اس کے بعد یہ حدیث : (956)ذکر کی:
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  عید  الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ جاتے اور سب سے پہلے عید نماز پڑھاتے  اور سلام پھیرنے کے بعد  لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے، لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  وعظ و نصیحت فرماتے اور نیکی کا حکم دیتے، پھر اس کے بعد اگر کسی مہم پر صحابہ کرام کو روانہ کرنا ہوتا تو افراد چن کر روانہ کر دیتے، یا کسی کام کا حکم دینا ہوتا تو حکم دے کر گھروں کی جانب واپس روانہ ہوتے" ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : لوگوں کا اسی پر عمل جاری و ساری رہا ، یہاں تک کہ میں مدینہ کے گورنر مروان کے ساتھ عید الاضحی یا عید الفطر کے موقع پر عید گاہ گیا  ، جب ہم عید گاہ پہنچے تو وہاں کثیر بن صلت نے منبر بنایا ہوا تھا، تو مروان نے نماز سے قبل منبر پر چڑھنا چاہا  تو میں نے اس کے کپڑے سے کھینچا، تو مروان اپنا کپڑا چھڑوا کر منبر پر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا، اس  پر میں [ابو سعید] نے کہا: "اللہ کی قسم ! تم نے دین بدل دیا ہے"
تو مروان نے کہا: "ابو سعید! جو باتیں تم جانتے ہو [ان کا دور ]اب نہیں رہا"
ابو سعید نے جواب دیا: "اللہ کی قسم ! جو باتیں میرے علم میں ہیں وہ ان سے کہیں بہتر ہیں جو میرے علم میں نہیں ہیں!"
مروان نے کہا: "لوگ نماز کے بعد ہمارے خطاب کیلیے بیٹھتے  نہیں تھے، اس لیے میں نے اپنے خطاب کو ہی نماز سے پہلے کر دیا"

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عید گاہ میں منبر نہیں ہوتا تھا، اور نہ ہی مدینہ میں [مسجد نبوی کا ] منبر عید گاہ لایا جاتا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین پر کھڑے ہو کر خطاب کرتے تھے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ  میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی ، پھر بلال کا سہارا لیکر خطاب کیلیے کھڑے ہوئے  اور لوگوں کو تقوی الہی کا حکم دیا ، اطاعت گزاری کی ترغیب دلائی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمائی، پھر آپ خواتین کی جانب تشریف لے آئے، اور انہیں بھی وعظ و نصیحت  فرمائی" متفق علیہ" انتہی
"زاد المعاد" (1/ 429)

ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" عیدین ، حج اور دیگر خطبوں کے علاوہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی میں اکثر خطاب منبر پر ہوتے تھے۔" انتہی
"فتح الباری" (3/ 403)

مزید کیلیے سوال نمبر: (375)

دوم:

ایسے جزوی مسائل  کو اختلافات ، تصادم، اور مسلمانوں میں پھوٹ کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے، اور نہ ہی جلد بازی کرتے ہوئے ان پر بدعت کا فتوی لگانا چاہیے، اگر یہ عمل بدعت ہوتا تو ابو سعید رضی اللہ عنہ اس پر ضرور قدغن لگاتے جیسے کہ انہوں نے مروان کے نماز سے پہلے خطبہ دینے پر قدغن لگایا۔

یہ بات درست اور ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر عید گاہ لے جانے کا حکم نہیں دیا، تاہم امید ہے کہ اس میں گنجائش ہو گی، خصوصاً اگر  عید گاہ میں منبر کی ضرورت ہو تو وہاں گنجائش کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔

ابن بطال رحمہ اللہ "شرح البخاری" (2/ 554) میں کہتے ہیں:
"اشہب  مجموعہ میں کہتے ہیں: عیدین کے دن منبر عید گاہ لے جانے کی گنجائش موجود ہے، چاہے تو منبر عید گاہ لے جائیں اور اگر چاہے تو نہ لے کر جائیں" انتہی

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"عید کی نماز میں امام کیلیے منبر پر خطاب کرنا مسنون ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"کچھ علمائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ یہ سنت ہے؛ کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید کے دن خطاب کیا اور پھر نیچے اتر کر خواتین کے پاس گئے، اب ان اہل علم کا کہنا ہے کہ: نیچے اترنے کا عمل کسی اونچی جگہ سے ہی ہوتا ہے، چنانچہ اسی پر عمل جاری و ساری ہے۔
جبکہ دیگر اہل علم  کہتے ہیں کہ عید گاہ میں منبر نہ لیکر جانا زیادہ بہتر ہے۔
تاہم عید گاہ میں منبر لے جانے یا نہ لے جانے ہر دو صورت کی گنجائش ہے، ان شاء اللہ" انتہی
" مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین" (16 /350)

واللہ اعلم

٣٦٩-نماز عيد سے قبل اجتماعى تكبير كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

نماز عيد سے قبل لوگ اجتماعى طور پر تكبيريں كہتےہيں كيا يہ بدعت ہے يا نماز عيد ميں مشروع ہے ؟
اور اگر بدعت شمار ہوتى ہے تو كيا نمازى نماز شروع ہونے تك عيد گاہ سے نكل جائے ؟

الحمد للہ:

عيد ميں تكبيريں كہنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مسنون و مشروع ہيں، اور يہ بھى باقى عبادات كى طرح ايك عبادت ہے، اس ليے اس كے متعلق سنت ميں وارد شدہ پر ہى انحصار و اقتصار كرنا ضرورى ہے، اور اس كى كيفيت ميں كسى بھى قسم كا نيا طريقہ ايجاد كرنا جائز نہيں، بلكہ جو سنت نبويہ اور آثار سے ثابت و وارد ہے وہى كافى ہے.

آج كل اجتماعى طور پر جو تكبيريں كہى جاتى ہيں اس كے متعلق ہمارے فقھاء نے غور و فكر كيا ہے ليكن انہيں اس كى تائيد ميں كوئى دليل نہيں ملى چنانچہ انہوں نے اس كے بدعت ہونے كا فتوى جارى كيا ہے، كيونكہ اصل عبادت ميں كوئى چيز نئى ايجاد كى جائے چاہے وہ اس كى كيفيت ميں ہو يا صفت و طريقہ ميں تو وہ مذموم بدعت ميں شمار ہوتى ہے، اور وہ درج ذيل فرمان نبوى ميں شامل ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا نيا كام نكالا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ).

شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عيد كے روز مسجد حرام ميں جو تكبيريں كہى جاتى ہيں كہ ايك يا اس سے زائد شخص زمزم كى چھت پر بيٹھ كر تكبيريں كہتے ہيں اور لوگ ان كا جواب ديتے ہيں، شيخ عبد العزيز بن باز نے كھڑے ہو كر اس كيفيت كا انكار كيا اور انہيں روكا اور كہا كہ يہ بدعت ہے.

شيخ كا مقصد يہ تھا كہ اس خاص شكل كے ساتھ منسوب ہونے كے اعتبار سے يہ بدعت ہے، ان كا مقصد يہ نہيں كہ يہ تكبير ہى بدعت ہے، چنانچہ مكہ كے كچھ لوگوں كو يہ بات اچھى نہ لگى كيونكہ وہ اس سے مانوس ہو چكے ہيں، اور اس ٹيلى گرام كے ارسال كرنے كى يہى حد ہے، اس طرح تكبيريں كہنے كى كيفيت كے متعلق تو مجھے بھى كوئى علم نہيں كہ يہ صحيح ہو، اس ليے اس كے شرعى ہونے كے ليے كوئى دليل و برہان ہونى چاہيے، اور اس كے ساتھ يہ بھى ہے كہ يہ مسئلہ جزئى ہے اس كو اتنا نہيں اچھالنا چاہيے اور وہاں تك نہيں پہنچنا چاہيے جہاں تك پہنچ چكا ہے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى العلامۃ محمد بن ابراہيم ( 3 / 127 - 128 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الحمد للہ رب العالمين و الصلاۃ والسلام على نبينا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعين و بعد:

سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہيں اور درود و سلام ہوں ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر.

اما بعد:

كچھ مقامى اخبارات ميں محترم بھائى جناب شيخ احمد بن محمد جمال ـ وفقہ اللہ ـ كا نشر كردہ مضمون ميں نے پڑھا ہے جس ميں انہوں نے نماز عيد سے قبل مساجد ميں اجتماعى طور پر تكبيريں كہنے سے منع كرنے اور اس كے بدعت ہونے كے فتوى پر بہت تعجب كا اظہار كيا ہے، جناب نے مذكورہ كالم ميں يہ ثابت كرنے كى كوشش كى ہے كہ يہ بدعت نہيں اور اس سے روكنا جائز نہيں، اور بعض دوسرے كالم نگاروں نے بھى اس كى تائيد كى ہے؛ اس خدشہ كے پيش نظر كہ كے جسے حقيقت معلوم نہيں اس پر كہيں يہ مسئلہ خلط ملط ہى نہ ہو جائے ہم يہ وضاحت كرنا چاہتے ہيں كہ:

عيد الفطر ميں عيد كى رات اور نماز عيد سے قبل اور عشرہ ذوالحجہ اور ايام تشريق كے ان عظيم اوقات ميں تكبيريں كہنا اصلاً مشروع ہيں، اور اس ميں بہت زيادہ فضيلت پائى جاتى ہے كيونكہ عيد الفطر كى تكبيرات ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تا كہ تم گنتى پورى كرلو اور اس كى دى ہوئى ہدايت پر اس كى بڑائياں بيان كرو اور تا كہ اس كا شكر كرو }البقرۃ ( 185 ).

اور عشرہ ذوالحجہ اور ايام تشريق كے بارہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تا كہ اپنے فائدے حاصل كريں اور ان مقررہ دنوں ميں اللہ كا نام ياد كريں ان چوپايوں پر جو پالتو ہيں }الحج ( 28 ).

اور اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

{ اور تم گنے چنے چند ايام ميں اللہ كا ذكر كرو }البقرۃ ( 203 ).

ان معلوم و معدود ايام ميں مشروع ذكر ميں مطلق اور مقيد تكبيرات بھى شامل ہيں جيسا كہ سنت مطہرہ اور سلف كے عمل سے ثابت ہے، اور تكبير كہنے كا طريقہ يہ ہے كہ ہر مسلمان شخص اكيلا بلند آواز سے تكبير كہے حتى كہ لوگ بھى سنيں اور اس كى اقتدا كريں اور وہ انہيں تكبيريں كہنا ياد دلائے، ليكن اجتماعى طور پر تكبيريں كہنا بدعت ہے وہ اس طرح كہ دو يا دو سے زيادہ افراد بلند آواز سے اكٹھے تكبيريں كہيں سب اكٹھے ہى تكبير كہنا شروع ہوں اور اكٹھے ہي بيك آواز ميں ختم كريں يہ بدعت ہے اور خاص طريقہ ہے.

اور اس عمل كى كوئى اصل نہيں اور نہ ہى كوئى دليل ملتى ہے، اور يہ تكبير كے طريقہ اور صفت ميں بدعت ہے اللہ نے اس كى كوئى دليل نہيں اتارى، لہذا جو كوئى بھى اس طريقہ سے تكبيريں كہنے سے روكتا ہے وہ حق پر ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ رد ہے " صحيح مسلم.

يعنى وہ عمل مردود اور غير مشروع ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:

" اور تم نئے نئے امور ايجاد كرنے سے بچو كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہى ہے "

اور اجتماعى طور پر تكبيريں كہنا دين ميں نيا كام چنانچہ يہ بدعت ہوا، اور جب لوگوں كا عمل شريعت مطہرہ كے مخالف ہو تو اس سے منع كرنا واجب ہے؛ كيونكہ عبادات توقيفى ہيں يعنى جس طرح ثابت ہيں اسى طرح سرانجام دى جائينگى اور اس ميں وہى مشروع ہو گا جو كتاب و سنت سے ثابت ہے.

رہے لوگوں كے اقوال اور آراء جب شرعى دلائل كے خلاف ہوں تو ان ميں كوئى دليل نہيں، اور اسى طرح مصالح المرسلہ سے بھى عبادات ثابت نہيں ہو سكتى، بلكہ عبادت تو صرف كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم يا قطعى اجماع سے ثابت ہو گى.

اور مشروع تو يہى ہے كہ ہر مسلمان شخص مشروع طريقہ سے كہے جو شرعى دلائل كے ساتھ ثابت ہيں، اور وہ انفرادى طور پر تكبير كہنا ہے.

سعودى عرب كے مفتى اعظم جناب شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ نے بھى اجتماعى طور پر تكبيريں كہنے كا انكار كرتے ہوئے اس ميں ايك فتوى بھى جارى كيا ہے، اور ميں نے بھى اس كى ممانعت ميں ايك سے زائد فتوے جارى كيے ہيں، اور اسى طرح مستقل فتوى كميٹى سعودى عرب سے بھى اس كى ممانعت ميں فتوى جارى ہو چكا ہے.

اور شيخ حمود بن عبد اللہ التويجرى رحمہ اللہ نے اس ميں ايك قيمتى رسالہ بھى تاليف كيا ہے جس ميں انہوں نے اس سے منع كيا اور روكا ہے، يہ رسالہ طبع ہو چكا ہے اور ماركيٹ ميں موجود ہے، اس ميں اجتماعى طور پر تكبيريں منع ہونے كے كافى و شافى دلائل ہيں.

اور محترم بھائى شيخ احمد نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كے فعل سے جو انہوں نے منى ميں لوگوں كى موجودگى ميں كيا سے جو دليل پكڑى ہے اس ميں دليل نہيں پائى جاتى كيونكہ ان كا اور لوگوں كا منى ميں يہ عمل كرنا اجتماعى تكبير ميں شامل نہيں ہوتا، بلكہ يہ تو مشروع تكبير تھا؛ كيونكہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سنت پر عمل كرتے ہوئے اور لوگوں كو ياد دلانے كے ليے بلند آواز سے تكبير كہہ رہے تھے، اور ہر شخص اپنے طور پر تكبير كہہ رہا تھا، اور ابن عمر اور لوگوں ميں كوئى اتفاق نہ تھا كہ وہ شروع سے لے كر آخر تك بيك آواز ميں تكبير كہيں، جيسا كہ آج كل اجتماعى طور پر تكبيريں كہنے والے كرتے ہيں.

اور اسى طرح سلف رحمہ اللہ سے جو بھى تكبير كے متعلق مروى ہے وہ سب شرعى طريقہ پر ہے، اور جو كوئى بھى اس كے خلاف گمان كرتا ہے اسے اس كى دليل دينى چاہيے، اور اسى طرح نماز عيد يا نماز تراويح يا قيام الليل يا وتر كى آواز لگانا يہ سب بدعت ہے اس كى كوئى اصل نہيں ملتى، اور صحيح احاديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نماز عيد بغير آذان اور اقامت كے ادا فرمايا كرتے تھے، اور ہمارے علم كے مطابق تو كسى بھى اہل علم نے يہ نہيں كہا كہ آواز لگانا ( سنت ميں وارد ہے ) يا كوئى اور الفاظ كہنے.

اور جو كوئى بھى يہ خيال كرے اس كى اسے دليل دينا ہو گى، اور اصل ميں يہى ہے كہ يہ موجود نہيں، اس ليے كتاب و سنت صحيح يا اہل علم كے اجماع كى دليل كے بغير كسى كے ليے بھى كوئى عبادت مشروع كرنا جائز نہيں، كيونكہ بدعات سے بچنے والے عمومى دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں.

اور ان ميں يہ فرمان بارى تعالى بھى شامل ہوتا ہے:

{ كيا ان لوگوں نے ايسے شريك مقرر كر ركھے ہيں جو ان كے ليے ايسے احكام دين مقرر كرتے ہيں جو اللہ كے فرمائے ہوئے نہيں }الشورى ( 21 ).

اور ان دلائل ميں سابقہ دو احاديث بھى شامل ہيں جو يہاں شروع ميں بيان كى گئى ہے، اور اس ميں يہ فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم بھى شامل ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے " متفق عليہ.

اور خطبہ جمعہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم يہ ارشاد فرمايا كرتے تھے:

" اما بعد: يقينا سب سے اچھى بات اللہ كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ ہے، اور سب سے برے امور اس دين ميں نئے ايجاد كردہ ہيں اور ہر بدعت گمراہى ہے "

اسے صحيح مسلم نے روايت كيا ہے، اور اس موضوع ميں احاديث بہت زيادہ پائى جاتى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں اور جناب محترم فضيلۃ الشيخ احمد اور ہمارے سب بھائيوں كى دين كى سمجھ اور دين پر ثابت قدم ركھے، اور ہميں اور سب دين كے داعيوں كو ہدايت و راہنمائى اور حق كے معاون و مددگار بنائے، اور ہميں اور سب مسلمانوں كو ہر اس كام سے اجتناب كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو شريعت كے مخالف ہيں، يقينا اللہ سبحانہ و تعالى بڑا ہى كرم و الا اور جود والا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 13 / 20 - 23 ).

اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" ہر ايك شخص اكيلا بلند آواز سے تكبير كہے، كيونكہ اجتماعى طور پر تكبيريں كہنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا كام كيا جس پر ہمارا حكم نہيں ہے تو وہ مردود ہے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 310 ).

اور يہ فتوى بھى ہے:

" اجتماعى طور پر بيك آواز ميں تكبيريں كہنا مشروع نہيں، بلكہ يہ بدعت ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا نيا كام نكالا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے "

اور پھر سلف صالح ميں سے بھى كسى نہ يہ عمل نہيں كيا نہ تو صحابہ كرام ميں سے كسى نے اور نہ ہى تابعين اور تبع تابعين ميں سے كسى نے، حالانكہ وہ لوگ قدوہ ہيں، اور اتباع واجب ہے نہ كہ ابتداع يعنى بدعات كى ايجاد " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 311 ).

اور يہ فتوى بھى ہے:

" اجتماعى طور پر تكبيريں كہنا بدعت ہے؛ كيونكہ اس كى كوئى دليل نہيں ملتى، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے "

اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے جو عمل كيا اس ميں اجتماعى تكبيريں كہنے كى كوئى دليل نہيں، بلكہ اس ميں تو يہ ہے كہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ اكيلے خود تكبيريں كہتے تھے اور جب لوگ انہيں تكبيريں كہتے ہوئے سنتے تو وہ بھى تكبيريں كہنے لگتے، اور ہر ايك اكيلا ہى تكبير كہتا تھا، اس ميں يہ نہيں ہے كہ وہ سب بيك زبان ايك ہى آواز ميں اجتماعى طور پر تكبيريں كہتے تھے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 24 / 269 ).

اور يہ فتوى بھى ہے:

" نماز كے بعد يا نماز كے وقت كے علاوہ بيك آواز ميں اجتماعى طور پر تكبيريں كہنا مشروع نہيں، بلكہ يہ بدعت اور دين ميں نئى ايجاد كردہ ہے، بلكہ مشروع تو يہ ہے كہ اللہ كا ذكر كثرت سے كيا جائے اور اجتماعى آواز كے بغير سبحان اللہ اللہ اكبر الحمد للہ كہا جائے، اور قرآن مجيد كى تلاوت كى جائے، اور كثرت سے استغفار كيا جائے تا كہ اللہ سبحانہ تعالى كے اس فرمان پر عمل ہو:

 اے ايمان والو اللہ كا ذكر كثرت سے كرو، اور صبح و شام اس كى تسبيح بيان كرو .

اور يہ فرمان بارى تعالى بھى ہے:

 تم مجھے ياد كرو ميں تمہيں ياد كرونگا .

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جس ميں انہوں نے رغبت دلاتے ہوئے فرمايا:

" ميرے ليے سبحان اللہ اور الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اكبر كہنا دنيا ميں سورج طلوع ہونے سے زيادہ محبوب ہے " رواہ مسلم.

اور آپ كا يہ بھى فرمان ہے:

" جس نے سو بار سبحان اللہ و بحمدہ كہا اس كے گناہ بخش ديے جائنگے چاہے وہ سمندر كى جھاگ كے برابر ہوں " اسے مسلم اور ترمذى نے روايت كيا ہے اور يہ لفظ ترمذى كے ہيں.

اور اس امت كے سلف كى اتباع كرتے ہوئے كيونكہ ان سے يہ ثابت نہيں كہ انہوں نے اجتماعى طور پر تكبيريں كہى ہوں بلكہ يہ تو بدعتى لوگ اور خواہش كے پيچھے چلنے والوں كا عمل ہے.

اور اس ليے بھى كہ ذكر ايك عبادت ہے، اور عبادات ميں اصل توقيف ہے اسى طرح كى جائيگى جس طرح شارع نے حكم ديا ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دين ميں بدعات كى ايجاد سے بچنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام نكالا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 236 ) المجموعۃ الثانيۃ.

مزيد آپ سوال نمبر ( 368 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...