Showing posts with label حیض و نفاس. Show all posts
Showing posts with label حیض و نفاس. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

٩٢٤-حائضہ عورت کےلیے روزے کی حرمت میں کیا حکمت ہے ؟


س-ہم عورت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی حکمت معلوم کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ روزے کا نجاست میں کوئي دخل نہیں ؟

الحمد للہ
اول :
مومن پرواجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکام کومانتے ہوئے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے اگرچہ اسے ان کی حکمت نہ بھی معلوم ہوبلکہ اسے توصرف یہی کافی ہے کہ یہ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ہے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اور( دیکھو ) کسی مومن مرد وعورت کو اللہ تعالی اوراس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے فیصلے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئي اختیارباقی نہيں رہتا ، ( یاد رکھو ) اللہ تعالی اوراس کے رسول کی جوبھی نافرمانی کرےگا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا } الاحزاب ( 51 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

{ ایمان والوں کا قول تویہ ہوتا ہے کہ جب انہیں اس لیے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اوراس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان میں فیصلہ کردے تووہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اورمان لیا ، یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں } النور ( 51 ) ۔

دوم :

مومن کاپختہ ایمان اوریقین ہے کہ اللہ تعالی حکیم اوراس کا کوئي کام بھی حکمت سے خالی نہیں ، اس نے جو بھی کام مشروع کیا ہے اس میں کوئي نہ کوئي حکمت بالغہ ہے ، اللہ تعالی اسی چيز کا حکم دیتے ہیں جس میں کوئي نہ کوئي مصلحت اورحکمت ہوتی ہے ۔

اورجس چيزسے بھی منع کرتا ہے اس میں کوئي نہ کوئی فساد ہوتا ہے یا پھر اس میں فساد غالب ہوتا ہے ، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے البدایۃ والنھايۃ میں کیا ہی خوب کہا ہے :

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کامل اوراکمل شریعت ہے ، عقلیں جس چيز کو بھی معروف اوراچھا سمجھتی ہيں شریعت اسلامیہ نے اس کا حکم دیا ہے ، اورجس چيز کوبھی عقل منکر اوربرائي سمجھتی ہے اس سے شریعت اسلامیہ نے روکا اور منع کردیا ، کوئي بھی ایسا حکم نہیں دیا جس کے بارہ میں یہ کہاجائے اس کا حکم کیوں دیا گيا ہے ، اوراورکسی بھی ایسی چيز سے منع نہیں کیا گیا کہ اس کے بارہ میں کہا جائے کہ اس سے منع کیوں نہیں کیا گیا ۔ ا ھـ

دیکھیں البدايـۃ والنھایۃ ( 6 / 79 ) ۔

لیکن بعض اوقات توہمیں اس کی حکمت کا علم ہوجاتا ہے اوربعض اوقات اس کی حکمت ہم پرمخفی ہی رہتی ہے ، اوربعض اوقات تواکثر یا غالبا حکمتیں تو مخفی ہی رہتی ہیں ۔

سوم :

علماء کرام کا اجماع ہے کہ حائضہ عورت پر روزے رکھنے حرام ہیں ، اور اگر اس پر روزے واجب ہوں مثلا رمضان کے روزوں کی طرح تووہ حالت میں حيض میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء لازما کرے گی ۔

علماء کرام کا اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر وہ حالت حيض میں روزے رکھ بھی لے تو اس کا روزہ صحیح نہيں ہوگا ، آپ اس کی تفصیل کےلیے سوال نمبر ( 923 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

حائضہ عورت کا روزہ صحیح نہ ہونے کی حکمت میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔

بعض علماء کا کہنا ہے : ہمیں اس کی حکمت معلوم نہيں ۔

امام الحرمین کا کہنا ہے : اس کا روزہ صحیح نہ ہونے کے معنی کا ادراک نہيں کیا جاسکتا ، اس لیے کہ روزے کے لیے طہارت وپاکيزگي شرط نہيں ۔ اھـ دیکھیں : المجموع ( 2 / 386 ) ۔

اورکچھ دوسرے علماء کرام کا کہنا ہے : بلکہ اس میں حکمت یہ ہے کہ : اللہ تعالی نے حائضہ عورت پر رحم کرتے ہوئے اسے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ، اس لیے کہ خون کے اخراج سے کمزوری ہوجاتی ہے ، اوراگر وہ روزہ بھی رکھے تواس میں اورزيادہ کمزوری ہوگی کیونکہ حیض اورروزہ دونوں کی کمزوری جمع ہوجائے گی جس کی بنا پر روزہ اسے اعتدال پرقائم نہيں رہنے دے گا ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اس سے نقصان پہنچے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی مجموع الفتاوی میں کہتے ہيں :

ہم حیض کی حکمت اوراس کا قیاس کے مطابق ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :

یقینا شریعت اسلامیہ ہر چيز میں عدل وانصاف لائي ہے اورعبادات میں اسراف ظلم وزيادتی ہے جس سے شریعت نے منع فرمایا ہے اورعبادات میں میانہ روی کا حکم دیا ہے ، اسی لیے شارع نے افطاری میں جلدی اورسحری میں تاخیر کا حکم دیا اوروصال ( یعنی بغیر افطاری کیے دوسرا روزہ رکھنا ) منع کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( افضل اورعادلانہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اورایک دن نہيں رکھتے تھے ) ۔

لھذا عبادات میں عدل مقاصد شریعت کا سب سےبڑا مقصدہے ، اوراسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اے ایمان والو ! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکيزہ چيزیں حلال کی ہیں ان کوحرام مت کرو ، اورحد سے تجاوز نہ کرو ، بے شک اللہ تعالی حد سے تجاوز کرنے والوں سے محبت نہيں کرتا } المائدۃ ( 87 ) ۔

تو اللہ تعالی نے اس آيت میں حلال اشیاء حرام کرنے زیادتی قرار دیا ہے جوعدل کے بھی مخالف ہے ۔

اورایک مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :

{ یھودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پرحلال کردہ پاکيزہ اشیاء کوحرام کردیا اوران کے اللہ تعالی کے راستے سے بہت زيادہ روکنے کے سبب ، اوران کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ کہ انہیں اس سے منع کیا گيا تھا } ۔

جب وہ لوگ ظالم تھے تواس وجہ سے ان پر بطور سزا پاکیزہ اشیاء بھی حرام کردی گئيں ، لیکن اسے برعکس امت وسط اورامت عدل کے لیے پاکيزہ اشیاء کوحلال کیا گیا اوران پر گندی اورخبیث اشیاء حرام قرار دی گئيں ۔

اورجب معاملہ یہی ہے توروزہ دار کوبھی مقوی اشیاء یعنی کھانے پینے سے منع کردیا گيا ، اوراسے ان اشیاء کے اخراج سے بھی منع کردیا گيا جس کے خارج ہونے سے کمزوری لاحق ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔

اورخارج ہونے والی اشیاء کی دوقسمیں ہیں :

ایک قسم توایسی ہے جس کے خروج سے بچنے کی قدرت ہی نہیں اوریا پھروہ نقصان نہیں دیتی تواس سے منع نہيں کياگيا ، مثلادوگندی چيزیعنی بول وبراز ، کیونکہ اس کے خروج سے اسےکوئي ضرر اورنقصان نہيں ، اورنہ ہی اس سے بچا جاسکتا ہے ، اگراس کے خروج کی ضرورت ہو تواس میں کوئي نقصان نہيں بلکہ اس کے خروج میں ہی فائدہ ہے ۔

اوراسی طرح اگر کسی کوخودبخود قییء آجائے تواس سے بچنا مشکل ہے ، اوراسی طرح نیند کی حالت میں احتلام سے بھی بچنا ممکن نہيں ہے ، لیکن اگر قيیء عمدا اورجان بوجھ کرکرے کیونکہ قیيء ایسا مادے کو خارج کرتی ہے جس سے غذا حاصل ہوتی ہے جوکھانا پینا ہے ۔۔۔

اوراسی طرح مشت زنی جس میں شھوت شامل ہوتی ہے ۔۔۔ اورحیض میں آنے والے خون میں خون کا اخراج ہے ، اور پھر حائضہ عورت کے لیے ممکن ہے کہ وہ حیض کے علاوہ کسی اوروقت جب اسے خون نہ آتا ہو توروزہ رکھ لے کیونکہ ایسی حالت میں اس کے لیے روزہ رکھنا اعتدال پسندی ہوگي کیونکہ اس حالت میں خون نہيں نکلتا جوبدن کوقوت دینے والا مادہ ہے ۔

اورحالت حیض میں روزہ رکھنے میں کہ اس کا خون خارج ہوتا ہے جوبدن کوتقویت دینے کا باعث ہے ، جس کے اخراج سے بدن کو نقصان اورکمزوری ہوتی ہے جس کی وجہ سے روزہ اعتدال کی حالت سے نکل ہوجائے گا لھذا عورت کویہ حکم دیا گیا کہ وہ حالت حیض کےعلاوہ دوسرے اوقات میں روزہ رکھے ۔ اھـ مختصر

دیکھیں : مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ( 25 / 234 ) ۔

واللہ اعلم

٩٢٣-اگرغروب شمس سے ایک لحمہ قبل بھی حیض آجائے توروزہ باطل ہوجاتا ہے اوراس کی قضاء واجب ہوگي


َس-اگر روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجائے توکیا اس دن کا روزہ مکمل کرے گی یا نہیں ؟

الحمد للہ
جب عورت کو روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجائے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے ، اگرچہ غروب شمس سے چندلمحہ قبل ہی ماہواری کاخون آنا شروع ہوجائے ، اگراس کا روزہ واجب ہوتواس پر قضاء واجب ہوگي ، حالت حیض میں عورت کا روزہ جاری رکھنا حرام ہے ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

حائضہ اورنفاس والی عورت کے روزہ کی حرمت میں امت کا اجماع ہے ، لھذا اس بنا پر اس کا روزہ صحیح نہیں ۔۔۔۔ امت کا اس پربھی اجماع ہے کہ اسے اس روزہ کی قضاء میں روزہ رکھنا ہوگا ، امام ترمذی ، ابن مندر ، اورابن جریر اورہماے اصحاب وغیرہ نے یہ اجماع نقل کیا ہے ۔ باختصار

دیکھیں المجموع للنووی ( 2 / 386 )

اور ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

اہل علم کا اجماع ہے کہ حائضہ اورنفاس والی عورت کا روزہ رکھنا حلال نہیں ، بلکہ وہ رمضان کے روزے نہیں رکھیں گي بلکہ وہ بعد میں اس کی قضاء کریں گی ، اوراگر وہ روزہ رکھ بھی لیں تو ان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا ۔

عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں حیض آتا توہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم روزے قضاء کریں اورنماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ) متفق علیہ ۔

اس میں حکم تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے ، ابو سعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( کیا تم میں سے جب کسی ایک حیض آتا ہے وہ نہ تو نماز ادا کرتی ہے اورنہ ہی روزہ رکھتی ہے ، یہ اس کے دین میں کمی ہے ) صحیح بخاری ۔

حائضہ اورنفاس والی عورت برابر ہے کیونکہ نفاس کا خون ہی حیض کا خون ہے اوراس کا حکم بھی وہی ہے ، جب دن کے کسی بھی حصہ میں حیض آجائے تو اس دن کا روزہ فاسد ہوجائےگا ، چاہے دن کی ابتداء میں حیض آئے یا پھر شام کے وقت ، اورحائضہ عورت نے جب حالت حیض میں روزہ رکھنے کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود روزہ کی نیت کی اورکچھ نہ کھایا پیا تووہ گنہگار ہوگی ، اوراس کا یہ روزہ رکھنا کافی نہیں ہوگا ۔ اھـ

شیخ ابن عثیمین اللہ تعالی کا کہنا ہے :

روزہ کی حالت میں حیض آنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ، چاہے غروب شمس سے ایک لمحہ قبل ہی کیوں نہ آئے ، اگر توفرضی روزہ ہوتواس دن کی قضاء واجب ہوگي ۔

لیکن اگر اس نے مغرب سے قبل حیض کے خون کے انتقال کومحسوس کیا اورخون آنا شروع نہیں ہوا بلکہ مغرب کے بعد خون آنا شروع ہوا تواس کا روزہ صحیح اورمکمل ہے اورصحیح قول یہی ہے کہ باطل نہيں ہوگا ۔ ا ھـ

دیکھیں : الدماء الطبیعیۃ للنساء صفحہ نمبر ( 28 ) ۔

مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) سے مندرجہ ذیل سوال کیاگيا :

ایک عورت نے روزہ رکھا لیکن غروب شمس اور اذان سے کچھ دیر قبل حیض آنا شروع ہوجائے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا ؟

کمیٹی کا جواب تھا :

اگرتو حیض مغرب سے قبل آئے توروزہ باطل ہوگا اوراس کی قضاء کرے گي لیکن اگر مغرب سے بعد حیض آنے کی صورت میں اس کا روزہ صحیح اورمکمل ہے اس پر کوئي قضاء نہيں ۔ ا ھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 155 ) ۔

واللہ اعلم

٩٢٢-حالت حیض اورنفاس میں بیوی سے جماع کی حرمت میں حکمت


س-نفاس اورحیض کی حالت میں بیوی سے ہم بستری کی حرمت میں کیا حکمت ہے ؟
اوراگرحرمت کا سبب خون ہے کیونکہ وہ خون پلید اورنجس ہے توپھر کیا کنڈوم ( غبارہ ) استعمال کرکے ہم بستری کرنا جائز ہوگا کہ نہیں ؟

الحمدللہ

اللہ سبحانہ وتعالی نے مردوں پر بیویوں سے حالت حیض میں ہم بستری کرنا حرام کی ہے ، قرآن مجید نے حرمت کی علت بھی بیان کی ہے اورحیض کوگندگی کہا ہے فرمان باری تعالی ہے :

{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو } البقرۃ ( 222 ) ۔

اوراس کے بارہ میں علمی ریسرچ بھی ہمارے لیے اس میں سے کچھ گندگي کا انکشاف کرتی ہے جس کا آیت کریمہ میں اشارہ کیا گيا ہے ، لیکن وہ بھی پوری طرح اس گندگی تک نہیں پہنچ سکے جوآيت قرآنی بیان کرتی ہے ۔

ڈاکٹر محیی الدین العلبی کا کہنا ہے :

حیض والی عورت سے حالت حيض میں جماع کرنے سے رکنا واجب اور ضروری ہے ، اس لیے کہ اس سے جماع اورہم بستری کرنے کی بنا پرحيض کے خون مین شدت اورتیزي پیدا ہوتی ہے ، کیونکہ رحم کی رگیں دباؤ کا شکاراوررکیں ہوئي ہوتی ہیں ان کا پھٹنا آسان اورجلدی خراب ہوجاتی ہیں ۔

اوراسی طرح اندرونی پردے میں خراشیں پیدا ہونا بھی آسان ہوتی ہيں جس کی بنا پر جلن اورخارش کے پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جو رحم کے اندر بھی سوجن اورجلن پیدا کرنے کا با‏عث بنتے ہیں ، اوراسی طرح مرد کے عضو تناسل میں بھی جلن اورخارش پیدا ہوتی ہے جس کا سبب عورت سے اثناء جماع خراش وغیرہ کا پیدا ہونا ہے ۔

اوراسی طرح حا‏ئضہ عورت سے جماع کرنا خاوند اوربیوی کے مابین نفرت کا باعث بنتا ہے جس کا سبب گندے خون کی موجودگی اوراس کی بدبو ہے ، جوہوسکتا ہے مرد پر اثرانداز ہواور اسے روک ( جنسی کام نہ کرنے کی ) کی بیمار لگ جائے ۔

ڈاکٹر محمد البار حیض کی گندگی کے بارہ میں بات کرتے ہوئے کچھ اس طرح کہتے ہیں :

رحم کے اندر کا پردہ مکمل طور پر حیض کے دوران الٹ دیا جاتا ہے ۔۔۔ اوراس کے نتیجہ میں پورا رحم مکمل طور پرخارش زدہ ہوجاتا ہے جس طرح کہ جلد اتری ہوئي ہو اوراس میں آسانی سے بے حسی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے حملہ کے لیے تیار ہوجاتا ہے ، اوراس صورت میں مرد کے عضو تناسل پر موجود جراثیم آسانی سے رحم میں داخل ہوجاتے ہیں جوکہ رحم کے لیے بہت ہی خطرناک ہيں ۔

اس لیے حيض کی حالت ميں عورت سے ہم بستری توصرف ایسے جراثیم اورمیکروباٹ کوایسے وقت میں داخل کرنا ہے جبکہ اندرونی دفاعی نظام ان سے دفاع کی طاقت نہیں رکھتا ۔

اورڈاکٹر بار کا یہ بھی خیال ہے کہ : یہ اذیت اورگندگی یہاں تک ہی نہیں رہتی کہ رحم اورشرمگاہ سے لیکر رحم تک کی نالی میں بھی وہ جراثیم داخل ہوتے ہيں جن کا علاج کرنا بھی مشکل ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت ساری بمیاریاں لگتی ہيں :

1 – التھابات اورجلن اورسوجن رحم کے منہ تک پہنچ کراسے بند کردیتی ہے ، جوکہ بعض اوقات بانجھ پن تک لے جاتی ہے اوریا پھر رحم کے باہر ہی حمل ہوجاتا ہے ، ایسا حمل مطلق طور پر سب میں سے خطرناک حمل ہے ۔

2 - پیشاب کی نالی تک جلن اورسوزش جاپہنچتی ہے اورپھر اس سے بھی آگے مثانہ اورگردوں میں بھی چلی جاتی ہے ، اور پیشاب کے نظام میں امراض کا پیدا ہونا بہت ہی خطرناک اورپرانی بیمای بن جاتی ہے ۔

3 - حیض کے خون میں جراثیم کی کثرت اورخاص کر سیلان کے مرض کے جراثيم بہت زيادہ پیدا ہوجاتے ہيں ۔

اورپھر عورت بھی حالت حیض میں جسمانی اورنفسیاتی طور پر ایسی حالت میں ہوتی جوہم بستری کی اجازت نہیں دیتی ، اوراگرایسا ہوجائے تویہ اسے بہت ہی زيادہ اذیت دیتا ہے ، اوراس کے ساتھ ساتھ اسے دوران حیض بہت سے دردوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔

ڈاکٹر بار کا کہنا ہے :

1 - حیض کی حالت میں بہت قسم کی دردیں ہوتی ہیں جس کی شدت بھی عورتوں میں مخلف ہوتی ہے ، اوراکثر عورتیں تو حالت حيض میں کمراور پیٹ کے نچلے حصہ میں درد محسوس کرتی ہیں ، اورکچھ عورتوں کوتو اتنی شدت کی درد ہوتی ہے کہ انہيں اس تکلیف کی کمی کے لیے ادویات اورسکون والی اشیاء استعمال کرنی پڑتی ہیں ۔

2 - اکثرعورتیں حیض کے ابتدائي ایام میں توبہت کی شدید قسم کی تنگی اورتکلیف محسوس کرتی ہیں ، اور اسی طرح اس کی عقلی اورفکری حالت بھی بہت ہی زيادہ پتلی ہوچکی ہوتی ہے ۔

3 - بعض عورتوں کو تو آدھے سر کی درد ہوتی ہے ، اوریہ دردیں تھکا دینے والی ہوتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ پانی کا اخراج اورقئی بھی ہوتی ہے ۔

4 - عورت میں جنسی رغبت کی کمی واقع ہوجاتی ہے ، بلکہ اکثر عورتیں تو دوران حيض مکمل طور پر ہم بستری سے بے رغبت ہوتی ہیں ، اورسارے کے سارے تناسلی اجزاء تقریبا بیماری کی حالت کے مشابہ ہوتے ہیں ، توان حالات میں ہم بستری ( جماع ) کوئي طبعی چيز نہیں اورنہ ہی اس کا کوئي فائدہ ہی ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس بہت سی بیماریاں لگنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔

5 - دوران حیض عورت کا درجہ حرارت سوفیصدی نیچے گرجاتا ہے ، اوردرجہ حرارت گرنے کی بنا پر نبض بھی آہستہ ہوجاتی ہے ، اورپھر خون کا دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سستی و کاہلی اورسردرد اورچکر سے آنے لگتے ہیں ۔

ڈاکٹر بار کا یہ بھی کہنا ہے کہ :

حائضہ عورت سے ہم بستری کرنے کی بنا پر صرف تکلیف اورگندگی اوربیماری اس عورت تک ہی محدود نہيں رہتی بلکہ اس سے جماع کی وجہ سے آدمی میں بھی منتقل ہوتی ہے ، جس کی بنا پر تناسلی اجزا میں سوزش اورجلن وغیرہ پیدا ہو کر بعض اوقات بانجھ پن پیدا کردیتا ہے ۔

اوراسی طرح وہ تھکا دینے والی دردیں مریض جن کا اس سوزش اورجلن کی بنا پر سامنا کرتا ہے وہ اس سوزش اورجلن سےبھی بڑھ کر بانجھ پن تک لے جاتی ہیں ۔

اوراس کے علاوہ بھی بہت ہی زیادہ نقصانات ہیں جن کا ابھی تک انکشاف نہیں ہوسکا ، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں صرف گندگی سے تعبیر کیا ہے جوکہ اس فرمان باری تعالی میں ہے :

{ آپ کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے توحالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ، اورپاک صاف ہونے سے قبل ان کے قریب نہ جاؤ } ۔

تواللہ تعالی نے یہاں پر اسے گندگي کا وصف دیا ہے کہ یہ بیوی کے لیے گندگی اوراذیت ہے ، اوراسی طرح خاوند کے لیے بھی وہ ایک گندگي اوراذيت کے علاوہ اوربھی بہت سے نقصانات ہیں جنہیں صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے ۔

تواس طرح یہ پتہ چلا کہ عورت سے حالت حيض میں ہم بستری کرنا صرف اس کے خون کی وجہ سے نہیں بلکہ اوربھی بہت سے اسباب کی بنا پر ہے جو کہ اوپر کی سطور میں بیان ہو چکے ہیں ۔

اوراسی طرح مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی اطاعت کرے کیونکہ وہ خالق ہے اوراسے یہ علم ہے کہ اس کے بندوں کے لیے کون سی چيز اچھی ہے اوراس میں ان کی مصلحت ہے اوران کے لیے کیا نقصان دہ ہے ، اسی نے یہ فرمایا ہے :

{ حالت حيض میں عورتوں سے الگ رہو } البقرۃ ( 222 ) ۔

حتی کہ اگر کسی شخص کو اس کی حرمت کی کوئي حکمت نہ بھی معلوم ہو پھر بھی اس پرضروری اورواجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم کو تسلیم کرے اوراس کی اطاعت کرتا ہوا اپنی بیوی سے اس مدت میں ہم بستری کوچھوڑ دے ۔

دیکھیں کتاب : الحیض والنفاس والحمل بین الفقہ والطب ۔ تالیف ڈاکٹر عمر الاشقر ۔

اورکتاب توضیح الاحکام ۔ تالیف البسام ( 1 / 362 ) ۔

لیکن اس کے باوجو مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی سے شرمگاہ کے علاوہ مباشرت اورکھیل سکتا ہے ۔

واللہ اعلم

٩٢١-عورت كو ايك ماہ ميں دو بار ماہوارى آئے تو كيا وہ نماز اور روزہ ترك كر دے ؟


س-ميں بيمارى كى حالت كى بنا پر مشكل سے دوچار ہوں، مجھے ايك ماہ ميں دو بار ماہوارى آتى ہے، اور ہر بار سات سے دس روز تك ماہوارى كا خون آتا ہے، اس ليے ميں رمضان المبارك ميں روزے كس طرح ركھوں، اور نماز كيسے ادا كروں ؟

الحمد للہ:

حكم علت كے موجودگى اور عدم موجودگى كے ساتھ ہى گھومتا ہے اس ليے اگر ماہوارى كا معروف خون آئے تو عورت پر حيض كے احكام لاگو ہونگے اور وہ نماز روزہ اور جماع كے قريب نہيں جا سكتى يہ سب كچھ اس كے ليے حرام ہے، چاہے ايك ماہ ميں كئى بار آجائے، اور چاہے ہر ماہ عام عادت سے بھى زيادہ دن آتا ہو.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

اگر كسى عورت كو ماہوارى آئے اور ماہوارى ختم ہونے كے بعد پاك صاف ہو كر غسل كرلے پھر نو روز تك نماز ادا كرنے كے بعد دوبارہ ماہوارى كا خون آئے اور تين روز تك يہ خون جارى رہنے كى بنا پر نماز ترك كى اور پھر گيارہ يوم تك پاك صاف رہى اور نماز بھى ادا كى اور اس كے بعد عادت كے مطابق ماہوارى شروع ہو گئى تو كيا ان تين روز كى نمازيں لوٹائے گى يا كہ يہ تين روز بھى ماہوارى كے ہى شمار ہونگے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

حيض كا خون جب بھى آئے تو وہ حيض ہى شمار ہوتا ہے، چاہے پہلے اور دوسرے حيض كے مابين مدت زيادہ ہو يا كم، اس ليے اگر كسى عورت كو ماہوارى آئے اور پاك صاف ہونے كے پانچ يا چھ يا دس روز كے بعد دوبارہ ماہوارى آ جائے تو وہ نماز روزہ ترك كر دےگى، كيونكہ يہ حيض كا خون ہے اور ہميشہ اسى طرح جب بھى ماہوارى آئے تو اس كے ليے نماز روزہ ترك كرنا واجب ہے.

ليكن اگر مستقل طور پر ہميشہ خون جارى رہتا ہو، يا پھر بہت ہى كم مدت ركے تو پھر يہ عورت استحاضہ كا شكار ہے، اس صورت ميں وہ صرف عام ماہوارى كے ايام ہى نماز روزہ ترك كرےگى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 11 ) سوال نمبر ( 230 ).

واللہ اعلم

٩٢٠-ماہوارى بروقت آكر ايك يا آدھ دن كے ليے خون رك جاتا ہے


س-ميرى بيوى كو ماہوارى تو بروقت آتى ہے، ليكن بعض اوقات شروع ہو كر ايك يا آدھ دن كے ليے خون رك جاتا ہے، اور اسى طرح ماہوارى ختم ہونے كے وقت بھى ايسا ہوتا ہے، چنانچہ وہ كب نماز روزہ ترك كرے، اور كب شروع كرے ؟

الحمد للہ:

جب عورت حيض كا خون ديكھے تو وہ نماز روزہ ترك كر دے، اور اگر دوران حيض خون آنا بند ہو جائے تو پھر اس ميں ديكھا جائيگا كہ:

1 - اگر تو خون كا اثر باقى ہے، وہ اسطرح كہ اگر وہ روئى وغيرہ ركھے اور اس پر خون كا اثر ہو تو پھر ماہوارى ختم ہونے كا حكم نہيں لگايا جائيگا، بلكہ وہ نماز روزہ ترك كيے ركھےگى، چاہے يہ ماہوارى شروع ہوتے وقت ہو يا ماہوارى كے آخرى ايام ميں.

2 - اور اگر بالكل خون خشك ہو جائے، اور مكمل صاف ہو، اس طرح كہ اگر روئى ركھ كر نكالى جائے تو اس پر كسى بھى قسم كے خون كا اثر نہ ہو تو يہ ماہوارى ختم ہونے كى علامت ہے، اس طرح عورت پاك ہو گى اور وہ غسل كر كے نماز روزہ شروع كر دے، اور جس طرح دوسرى پاك عورتيں كرتى ہيں وہ بھى ان جيسے اعمال كرے، اور اگر پھر دوبارہ حيض آئے تو وہ نماز روزہ سے رك جائے.

حيض كى مدت ميں صاف شفاف ہونے سے طہر كا حكم مالكيہ اور شافعيہ كا مسلك ہے.

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 1 / 260 ).

سوال نمبر ( 919 ) كے جواب ميں مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا قول بيان ہو چكا ہے كہ:

" جب دوران حيض ايك دن يا رات خون رك جائے تو عورت كو غسل كر كے نماز ادا كرنى چاہيے، كيونكہ وہ پاك ہے، اس ليے كہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كا قول ہے:

" جب عورت خون غليظ اور گاڑھا خون ديكھے تو وہ نماز ادا نہيں كرےگى، اور جب كچھ وقت پاكى اور طہر ديكھے تو وہ غسل كرے " انتہى.

ديكھيں: مجلۃ البحوث العلميۃ ( 12 / 102 ).

الدم البحرانى: غليظ، اور ايك قول كے مطابق زيادہ خون كو كہتے ہيں.

ديكھيں: لسان العرب ( 4 / 46 ).

واللہ اعلم

٩١٩-ماہواری میں پیدا ہونے والی رکاوٹ


س-حیض آنے کے بعد رک جانے پراگر کوئي عورت روزہ رکھے اورایک دن بعد پھر حیض آجائے تواس کا حکم کیا ہوگا آيا اس دن کی قضاء کرے گي یا نہیں ؟

الحمد للہ
دوران حیض اگر ایک دن یا ایک رات حیض نہ آئے تو اسے غسل کرکے پاکی کی حالت میں جتنی نمازیں ہوں پڑھنی چاہییں ، کیونکہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے :
جب عورت زيادہ اورگاڑھا خون دیکھے تووہ نماز نہ پڑھے ، اورجب اسے ایک گھنٹہ طہر حاصل ہوتو غسل کرلے ۔

دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( مجلۃ البحوث العلمیۃ ( 12 / 102 ) ۔

دم البحرانی غلیظ اورزیادہ خون کو کہتے ہيں ۔ دیکھیں لسان العرب ( 4 / 64 ) ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...