Showing posts with label نفلی نماز. Show all posts
Showing posts with label نفلی نماز. Show all posts

Thursday, August 23, 2018

٧٢٩-تحیۃ الوضوء اور ان کے مسائل

✍🏻مولانا مقبول احمد سلفی

سوال :   ہمارے گاؤں میں ایک عورت نے سوال کیا ہے کہ کیا تحیۃ المسجد کے علاوہ تحیۃ الوضو بھی  ہے وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا اگر چہ گھر میں ہوں..؟

الحمدللہ

تحیۃ الوضوء جسے صلاۃ سنۃ الوضوء بھی کہتے ہیں مستقل نمازنہیں بلکہ یہ ایک نفل نماز ہے جو وضو کرنے کی وجہ سے پڑھی جاتی ہے۔

تحیۃ الوضوء کی حدیث:
(1) من توضأَ نحو وُضوئِي هذا ، ثم صلى ركعتين لا يُحدِّثُ فيهما نفسَه غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه.(صحيح البخاري:159)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص میرے اس طریقہ کے مطابق وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور دورانِ نماز سوچ بچار نہ کرے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

(2) أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال لبلالٍ عندَ صلاةِ الفجرِ : يا بلالُ ، حدِّثْنِي بأَرْجَى عملٍ عَمِلْتَهُ في الإسلامِ ، فإنِّي سمعتُ دُفَّ نعليْكَ بينَ يديَّ في الجنةِ . قال : ما عملتُ عملًا أَرْجَى عندي : أنِّي لم أَتَطَهَّرَ طَهورًا ، في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ ، إلا صلَّيتُ بذلكَ الطَّهورِ ما كُتِبَ لي أن أُصلِّي .(صحيح البخاري:1149)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فجر کی نماز کے وقت فرمایا کہ اے بلال! تم مجھے امید کا کام بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہوکیونکہ میں نے رات جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اسلام میں جو عمل بھی میں نے کئے ہیں اُن میں سب سے زیادہ جس عمل سے مجھے نفع کی توقع ہے وہ یہ کے جب بھی میں نے دن یا رات میں پوری پاکی حاصل کی تو جتنے نوافل میرے لئے مقدر تھے وہ میں نے ادا کئے ۔

(3) مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِل بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ(صحیح مسلم:234)
ترجمہ: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہوکر (دل لگا کر) دو رکعت پڑھے اس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

مسائل

٭ یہ نماز مردوعورت دونوں کے لئے ہے یکساں ہے ۔
٭ یہ نمازکسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں خواہ نماز کے ممنوعہ اوقات ہی کیوں نہ ہوں ۔
٭ تحیۃ المسجد پڑھ لینے سے یہ نماز بھی ادا ہوجائے گی۔
٭ فجر کی اذان کے بعد صرف فجر کی سنت پڑھے جیساکہ احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔
٭ فجر کی نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں یہ نفل ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم جب مسجد پہنچے اور اذان ہوگئی ہو توسنت مؤکدہ کی ادائیگی کے ساتھ تحیۃ المجسد اور تحیۃ الوضوء کی نیت کرلینے سے تینوں کے لئے کفایت کرجائے گی ۔
٭ یہ نماز وضو کے فورا بعد پڑھی جائے جیساکہ حدیث سے ظاہرہوتا ہے ، تاخیر کی صورت میں نمازسنت الوضوء کا وقت فوت ہوجائے گا۔
٭ مسجد میں داخل ہوتے وقت اذان ہورہی تو اذان کا جواب دے پھر تحیۃ الوضوء پڑھے۔

عام لوگوں کو اس نماز کا علم نہیں ہے لہذا نبی ﷺ کی بے پناہ ثواب والی نمازتحیۃ الوضوء کے متعلق خبردی جائے اور انہیں بھی اس عمل عظیم پہ ابھارا جائے ۔

Tuesday, August 14, 2018

٣٨٥-نماز مغرب كى كيفيت ميں وتر پڑھنے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

تراويح كى مناسبت سے سوال ہے كہ بعض امام تين اكٹھے تين وتر دو تشھد اور ايك سلام كے ساتھ ( بالكل مغرب كى طرح ) پڑھاتے ہيں، تو كيا يسا كرنا صحيح ہے ؟

الحمد للہ :

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وتروں كى ادائيگى كئى ايك طريقوں سے ثابت ہے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك ركعت بھى ادا كى، تين اور پانچ ركعت بھى، اور سات اور نو ركعت بھى ادا كيں.

اور تين وتروں كو دو طريقوں كے ساتھ ادا فرمايا: يا تو تينوں كو ايك ہى تشھد كے ساتھ ادا كيا جائے ( يعنى دوسرى ركعت ميں تشھد نہ بيٹھا جائے بلكہ آخرى اور تيسرى ركعت ميں ہى تشھد بيٹھيں اور سلام پھيير ديں )، يا پھر دو ركعت پڑھ كر سلام پھير دى جائے اور پھر ايك ركعت پڑھ كر سلام پھيرى جائے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے مغرب كى طرح ـ دو تشھد اور ايك سلام كے ساتھ ـ ادا نہيں فرماتے تھے، بلكہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

" تم تين وتر مغرب كے مشابھت كرتے ہوئے ادا نہ كرو"

اسے حاكم نے ( 1 / 304 ) اور بيھقى ( 3 / 31 ) اور دارقطنى صفحہ ( 172 ) ميں روايت كيا ہے، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ميں كہتے ہيں:

اس كى سند شيخين كى شرط پر ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 4 / 301 ).

شيخ محمد صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

لہذا تين وتر بھى جائز ہيں، اور پانچ بھى اور سات بھى جائز ہيں، اور نو وتر بھى جائز ہيں.

اگر تين وتر ادا كيے جائيں تو يہ دو طريقوں كے ساتھ ادا ہونگے اور يہ دونوں طريقے ہى مشروع ہيں:

پہلا طريقہ:

ايك ہى تشھد كے ساتھ تينوں وتر ادا كيے جائيں.

دوسرا طريقہ:

دو ركعت ادا كر كے سلام پھير ديا جائے اور پھر ايك ايك وتر ادا كيا جائے.

يہ دونوں طريقے سنت سے ثابت ہيں، اور اگر كوئى شخص ايك بار وہ طريقہ اختيار كر لے اور دوسرى بار دوسرا طريقہ تو اس نے اچھا اور بہتر كام كيا.

اور ايك سلام كے ساتھ بھى ادا كرنے جائز ہيں، ليكن ايك ايك تشھد كے ساتھ ہو نہ كہ اس ميں دو بار تشھد بيٹھا جائے؛ كيونكہ اگر وہ اكٹھى تين ركعتوں ميں دو تشھد بيٹھتا ہے تو يہ مغرب كى نماز كے مشابہ ہو گا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے نماز مغرب كے مشابہ پڑھنے سے منع فرمايا ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 14 - 16 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 378 ) اور ( 384 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں، ان جوابات ميں وتر كى ادائيگى كے متعلق بڑى لمبى تفصيل كے ساتھ كلام كى گئى ہے.

واللہ اعلم

٣٧٩-وتر ميں دعاء قنوت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

گزارش ہے كہ آپ وتر ميں پڑھى جانے والى دعاء قنوت ذكر كر ديں ؟

الحمد للہ :

اول:

دعاء قنوت وتر كى آخرى ركعت ميں ركوع كے بعد ہوگى، اور اگر ركوع سے قبل بھى پڑھ لى جائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن ركوع سے پہلے افضل ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ فتاوى ميں كہتے ہيں:

اور رہى قنوت: تو لوگ اس ميں دو فريق اور ايك وسط طبقہ ہے، ان ميں سے كچھ تو كہتے ہيں كہ قنوت صرف ركوع سے قبل ہے، اور كچھ يہ كہتے ہيں كہ: ركوع كے بعد ہے.

اور اہل حديث كے فقھاء مثلا امام احمد وغيرہ دونوں كو جائز قرار ديتے ہيں، كيونكہ سنت ميں يہ دونوں وارد ہيں، اگرچہ انہوں نے ركوع سے پہلے قنوت كواختيار كيا ہے؛ كيونكہ يہ اكثر اور اقيس ہے. اھـ

ديكھيں مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 23 / 100 ).

اور اس ميں وہ ہاتھ اٹھائے، عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے يہ ثابت ہے، جيسا كہ بيھقى رحمہ اللہ تعالى نے روايت كى اور اسے صحيح كہا ہے.

ديكھيں: سنن بيھقى ( 2 / 210 ).

اور دعاء كے ليے سينہ كے برابر ہاتھ اٹھائے اس سے زيادہ نہيں، كيونكہ يہ دعاء ابتھال يعنى مباہلہ والى نہيں كہ انسان اس ميں ہاتھ اٹھانے ميں مبالغہ سے كام لے، بلكہ يہ تو رغبت كى دعاء ہے، اور وہ اپنے ہاتھوں كو اس طرح پھيلائے كہ اس كى ہتھيلياں آسمان كى جانب ہوں...

اور اہل علم كے كلام سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ اپنے ہاتھوں كو ملا كر ركھے جس طرح كہ كوئى شخص دوسرے سے كچھ دينے كا كہہ رہا ہو.

اور بہتر يہ ہے كہ وتر ميں قنوت مسقتل نہ كى جائے، بلكہ بعض اوقات كرے كيونكہ يہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، بلكہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما كو قنوت وتر ميں دعاء كرنے كے ليے سكھائى تھى، جيسا كہ آگے بيان ہو گا.

دوم:

اور دعاء قنوت يہ ہے:

حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قنوت وتر ميں كہنے كے ليے كچھ كلمات سكھائے:

" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، فإِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، وَلا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ، ولا منجا منك إلا إليك "

اے مجھے ہدايت والوں ميں ہدايت نصيب فرما، اور مجھے عافيت دے، اور ميرا كارساز بن، اور تو نے جو مجھے ديا ہے اس ميں بركت عطا فرما، اور جو تو نے فيصلہ كيا ہے اس كے شر سے مجھے محفوظ ركھ، كيونكہ تو ہى فيصلہ كرنے والا ہے تيرے خلاف كوئى فيصلہ نہيں كر سكتا، اور جس كا تو ولى بن جائے اسے كوئى ذليل نہيں كرسكتا، اور جس كے ساتھ تو دشمنى كرے اسے كوئى عزت نہيں دے سكتا، اے ہمارے رب تو بابركت اور بلند ہے، اور تيرے علاوہ كہيں جائے پناہ نہيں "

اور آخرى جملہ " ولا منجا منك الا اليك " ابن مندہ نے " التوحيد" ميں روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے حسن قرار ديا ہے، ديكھيں: ارواء الغليل حديث نمبر ( 426 ) اور ( 429 ).

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1425 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 464 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1746 ).

پھر اس دعاء كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھے.

ديكھيں: الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 14 - 52 ).

سوم:

وتر ميں سلام پھيرنے كے بعد اس كے ليے " سبحان الملك القدوس " تين بار كہنا مستحب ہے، اور تيسرى بار اس كى آواز بلند اور لمبى كرے.

ديكھيں: سنن نسائى حديث نمبر ( 1699 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور دار قطنى كى روايت ميں يہ الفاظ زائد ہيں:

" رب الملائكۃ والرح "

ان دونوں روايتوں كى سند صحيح ہے.

ديكھيں: زاد العماد لابن قيم ( 1 / 337 ).

واللہ اعلم

٣٧٨-وتر كى مغرب سے مشابہت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

" رمضان ميں قيام اليل " كے موضع ميں آپ نے لكھا ہے كہ:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تين ركعات كى طرح تين وتر پڑھنے حرام كيے ہيں، اور اس كى وضاحت كرتے ہوئے كہتا ہے:
اسے مغرب كى نماز كے مشابہ ادا نہ كرو، اس بنا پر جو شخص تين وتر ادا كرنا چاہے اسے نماز مغرب سے مختلف طريقہ اختيار كرنا چاہيے، اور اس كے دو طريقے ہيں:
يا تو دو ركعت ادا كر كے سلام پھير ليا جائے اور يہى افضل ہے، يا دوسرى ركعت كے بعد تشھد نہ بيٹھا جائے.
ميں بھى تين ركعات وتر ادا كرتا ہوں، ليكن ميں اسے نماز مغرب سے عليحدہ اس طرح كرتا ہوں كہ دعاء قنوت سے قبل رفع يدين كرتا ہوں، تو كيا يہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اس سوال كا جواب دينے سے قبل ہم آپ كا شكريہ ادا كرتے ہيں كہ آپ كو سنت پر عمل كرنے كى حرص ركھتے ہيں، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں اور آپ كو ان لوگوں ميں سے بنائے جو بات كو سنتے ہيں، اور احسن طريقہ سے اس كى اتباع كرتے ہيں.

اللہ تعالى آپ كو توفيق دے آپ نے اپنا جو ارادہ بيان كيا ہے كہ وتر كون ماز مغرب سے مشابہ نہ كرتے ہوئے آپ دعاء قنوت سے قبل تكبير كہہ كر رفع اليدين كرتے ہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو حديث ميں منع فرمايا ہے اس سے مراد يہ نہيں جو آپ كرتے ہيں، اس حديث كو حاكم ( 1 / 304 ) اور بيھقى ( 3 / 31 ) اور دار قطنى صفحہ ( 172 ) نے روايت كيا ہے، اور اسے امام حاكم نے صحيح كہا اور اسے صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى شرط پر قرار ديا ہے وہ حديث يہ ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم تين وتر اس طرح ادا نہ كرو كہ مغرب كے مشابہ ہوں "

اس سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى مراد يہ ہے ـ جيسا كہ اہل علم نے بيان كيا ہے ـ ان تين ركعات ميں پہلى تشھد بيٹھنا ممنوع ہے كيونكہ اس طرح مغرب كى نماز سے مشابہت ہوتى ہے.

ديكھيں: فتح البارى ابن حجر ( 4 / 301 ) حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس حديث كى سند شيخين كى شرط پر ہے.

اور ديكھيں: عون المعبود حديث نمبر ( 1423 ) كى شرح، اور صلاۃ التراويح للالبانى ( 97 ).

دعاء قنوت سے قبل تكبير كہہ كر رفع اليدين كرنا حقيقى فرق نہيں؛ كيونكہ نماز ميں رفع اليدين چار مقام پر كيا جاتا ہے:

1 - تكبير تحريمہ كے وقت.

2 - ركوع كرتے وقت.

3 - ركوع سے سر اٹھاتے ہوئے.

4 - پہلى تشھد سے اٹھ كر.

تو نمازى كے ليے ان چار مقام كے علاوہ كسى اور جگہ رفع اليدين كرنا مشروع نہيں ہے.

ديكھيں: فتاوى اركان اسلام للشيخ محمد بن عثيمين صفحہ ( 312 ).

واللہ اعلم

٣٧٧-نماز وتر كى وارد شدہ كيفيات

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

نماز وتر كى ادائيگى ميں افضل كيفيت كيا ہے ؟

الحمد للہ :

نماز وتر اللہ تعالى كے قرب كے ليے سب سے افضل اور عظيم عبادات ميں شامل ہوتى ہے، حتى كہ بعض علماء كرام ـ يعنى احناف ـ تو اسے واجبات ميں شمار كرتے ہيں، ليكن صحيح يہى ہے كہ يہ سنت مؤكدہ ميں شامل ہوتى ہے جس كى مسلمان شخص كو ضرور محافظت كرنى چاہيے، اور اسے ترك نہيں كرنا چاہيے.

امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" نماز وتر چھوڑنے والا شخص برا آدمى ہے، اس كى گواہى قبول نہيں كرنى چاہيے"

جو كہ نماز وتر كى ادائيگى كى تاكيد پر دلالت كرتى ہے.

نماز وتر كى ادائيگى كى كيفيات كا خلاصہ ہم مندرجہ ذيل نقاط ميں بيان كر سكتے ہيں:

نماز وتر كى ادائيگى كا وقت:

اس كا وقت نماز عشاء كى ادائيگى سے شروع ہوتا، يعنى جب انسان نماز عشاء ادا كر لے چاہے وہ مغرب اور عشاء كو جمع تقديم كى شكل ميں ادا كرے تو عشاء كى نماز ادا كرنے سے ليكر طلوع فجر تك نماز وتر كا وقت رہے گا.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى نے تمہيں ايك نماز زيادہ دى ہے اور وہ نماز وتر ہے جو اللہ تعالى نے تمہارے ليے عشاء اور طلوع فجر كے درميان بنائى ہے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 425 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح ترمذى ميں صحيح كہا ہے.

اور كيا نماز وتر كو اول وقت ميں ادا كرنا افضل ہے يا كہ تاخير كے ساتھ ادا كرنا افضل ہے ؟

سنت نبويہ اس پر دلالت كرتى ہے كہ جو شخص رات كے آخر ميں بيدار ہونے كا طمع ركھتا ہو اس كے ليے نماز وتر ميں تاخير كرنا افضل ہے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں نماز پڑھنى افضل ہے، اور اس ميں فرشتے حاضر ہو تے ہيں، اور جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكتا تو اس كے ليے سونے سے قبل نماز وتر ادا كرنا افضل ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جسے خدشہ ہو كہ وہ رات كے آخر ميں بيدار نہيں ہو سكے گا تو وہ رات كے اول حصہ ميں وتر ادا كر لے، اور جسے يہ طمع ہو كہ وہ رات كے آخرى حصہ ميں بيدار ہو گا تو وہ وتر رات كےآخرى حصہ ميں ادا كرے، كيونكہ رات كے آخرى حصہ ميں ادا كردہ نماز مشھودۃ اور يہ افضل ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 755 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اور يہى صحيح ہے، اور باقى مطلق احاديث كو اس صحيح اورصريح افضليت پر محمول كيا جائے گا، ان ميں يہ حديث بھى ہے:

" ميرى دلى دوست نے مجھے وصيت كى كہ ميں وتر ادا كر سويا كروں"

يہ اس شخص پر محمول ہو گى جو بيدار نہيں ہو سكتا. اھـ

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 277 ).

وتر ميں ركعات كى تعداد:

كم از كم وتر ايك ركعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" رات كے آخر ميں ايك ركعت وتر ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 752 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" رات كى نماز دو دو ہے، لہذا جب تم ميں سے كسى ايك كو صبح ہونے كا خدشہ ہو تو وہ ايك ركعت ادا كر لے جو اس كى پہلى ادا كردہ نماز كو وتر كر دے گى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 911 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 749 )

لہذا جب انسان ايك ركعت ادا كرنے پر ہى اكتفا كرے تو اس نے سنت پر عمل كر ليا...

اور اس كے ليے تين اور پانچ اور سات اور نو ركعت وتر بھى ادا كرنے جائز ہيں.

اگر وہ تين وتر ادا كرے تو اس كے ليے دو طريقوں سے تين وتر ادا كرنے مشروع ہيں:

پہلا طريقہ:

وہ تين ركعت ايك ہى تشھد كے ساتھ ادا كرے. اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ميں پائى جاتى ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر كى دو ركعتوں ميں سلام نہيں پھيرتے تھے"

اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تين وتر ادا كرتے تو اس كى آخر كے علاوہ نہيں بيٹھتے تھے"

سنن نسائى ( 3 / 234 ) سنن بيھقى ( 3 / 31 ) امام نووى رحمہ اللہ تعالى المجموع ميں لكھتےہيں: امام نسائى نے حسن سند كے ساتھ اور بيھقى نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے. اھـ

ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 7 ).

دوسرا طريقہ:

وہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھير دے اور پھر ايك ركعت واتر ادا كرے اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما دو ركعت اور اپنے وتر كے درميان سلام پھيرتے تھے، اور انہوں نے بتايا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايسا ہى كيا كرتے تھے"

رواہ ابن حبان حديث نمبر ( 2435 ) ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ( 2 / 482 ) ميں كہتے ہيں اس كى سند قوى ہے. اھـ

ليكن اگر وہ پانچ يا سات وتر اكٹھے ادا كرے تو صرف اس كے آخر ميں ايك ہى تشھد بيٹھے اور سلام پھير دے، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات كو گيارہ ركعت نماز ادا كرتے اس ميں پانچ ركعت وتر ادا كرتے اور ان ميں آخرى ركعت كے علاوہ كہيں نہ بيٹھتے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 737 ).

اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانچ اور سات وتر ادا كرتے اور ان كے درميان سلام اور كلام كے ساتھ عليدگى نہيں كرتے تھے"

مسند احمد ( 6 / 290 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1714 ) نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں اس كى سند جيد ہے.

ديكھيں: الفتح الربانى ( 2 / 297 ) اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور جب اكٹھى نو ركعت وتر ادا كرنى ہوں تو تو آٹھويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر پھر نويں ركعت كے ليے كھڑا ہو اور سلام نہ پھيرے اور نويں ركعت ميں تشھد بيٹھ كر سلام پھيرے گا، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نو ركعات ادا كرتے اور ان ميں آٹھويں ركعت ميں بيٹھ كر اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كرتے اور دعاء كرتے اور سلام پھيرے بغير اٹھ جاتے پھر اٹھ كر نويں ركعت ادا كر كے بيٹھتے اور اللہ تعالى كا ذكر اور اس كى حمد بيان كر كے دعاء كرتے اور پھر ہميں سنا كر سلام پھيرتے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 746 ).

اور اگر وہ گيارہ ركعت ادا كرے تو پھر ہر دو ركعت ميں سلام پھيرے اور آخر ميں ايك وتر ادا كرے.

وتر ميں كم از كم اور اس ميں قرآت كيا ہو گى:

وتر ميں كم از كم كمال يہ ہے كہ دو ركعت ادا كر كے سلام پھيرى جائے اور پھر ايك ركعت ادا كر كے سلام پھيرے، اور تينوں كوايك سلام اور ايك تشھد كے ساتھ ادا كرنا بھى جائز ہے، اس ميں دو تشھد نہ كرے جيسا كہ بيان ہو چكا ہے.

اور پہلى ركعت ميں سبح اسم ربك الاعلى پورى سورۃ پڑھے، اور دوسرى ركعت ميں سورۃ الكافرون اور تيسرى ركعت ميں سورۃ الاخلاص پڑھے.

ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر ميں سبح اسم ربك الاعلى اور قل يا ايھالكافرون اور قل ہو اللہ احد پڑھا كرتے تھے"

سنن نسائى حديث نمبر ( 1729 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

نماز وتر كى مندرجہ بالا سب صورتيں اور كيفيات سنت ميں وارد ہيں اور اكمل يہ ہے كہ مسلمان شخص ايك ہى كيفيت ميں نماز وتر ادا نہ كرتا رہے بلكہ اسے كبھى ايك اور كبھى دوسرى كيفيت ميں نماز وتر ادا كرنى چاہيے تا كہ وہ سنت كے سب طريقوں پر عمل كر سكے.

واللہ اعلم

Saturday, August 11, 2018

١٣٨-ممنوعہ اوقات ميں تحيۃ المسجد كى ركعات ادا كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب كوئى شخص نماز كے ممنوعہ اوقات مسجد ميں داخل ہو تو كيا وہ تحيۃ المسجد كى دو ركعات ادا كرے گا ؟

الحمد للہ :

اس مسئلہ ميں اہل علم كے درميان اختلاف پايا جاتا ہے، ليكن صحيح يہ ہے كہ سب اوقات ميں تحيۃ المسجد كى ادائيگى مشروع ہے، حتى كہ فجر اور عصر كى نماز كے بعد بھى اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث كا عموم ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں كوئى مسجد ميں جائے تو دو ركعت ادا كرنے سے قبل نہ بيٹھے"

متفق عليہ

اور اس ليے بھى كہ اسباب كى بنا پر ادا كى جانے والى نماز مثلا طواف كى دو ركعات، اور صلاۃ خسوف جو سورج گرہن كے وقت ادا كى جاتى ہے، اس ميں صحيح يہى ہے كہ ممنوعہ اوقات ميں يہ نمازيں ادا كى جائينگى، جس طرح كہ فرضى فوت شدہ نماز كى قضاء ادا كى جاتى ہے.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طواف كى دو ركعتوں كے متعلق فرمان ہے:

" اے بنى عبد مناف اس گھر كا طواف كرنے والے كو نہ روكو، وہ جس وقت چاہے طواف كرے اور دن يا رات ميں جب چاہے نماز ادا كرے"

اسے امام احمد نے اور اصحاب سنن نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سورج گرہن كى نماز كے متعلق فرمايا:

" بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالى كى نشانيوں ميں سے دو نشانياں ہيں يہ كسى كى موت يا پيدا ہونے سے گرہن زدہ نہيں ہوتے"

( 1 / 332 ).

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...