Showing posts with label سود خوری. Show all posts
Showing posts with label سود خوری. Show all posts

Tuesday, November 13, 2018

1028: کیا کیش بیک لینا حلال ہے.؟

س-حضرت آجکل آن لائن خریداری کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اس میں سے چند مشہور ویبسائٹ جو اپنے گاہک کو کیشبیک (cashback(کی خدمت مہیا کرتی ہے (کیش بیک اگر ہم نے پانچ سو روپیہ کی کوئی چیز خیدی تو اس پر ٪۵۰یا پہر ٪۷۵ فیصد تک پچاس یا پچہتر روپیہ واپس ملتا ہے ) تو کیا کیشبیک کے طور پر ملنے والے روپیہ لینا جائز ہے ؟

الحمدللہ

آن لائن خریداری کی صورت میں جو رقم کیش بیک کے طور پر بائع کی جانب سے واپس ملتی ہے وہ چھوٹ اور رعایت ہے اس کو لینے میں مضائقہ نہیں جائز ہے، لیکن آن لائن خریداری میں اس کا خیال رکھیں کہ بیع وشراء کا معاملہ شرعی اصول کی روشنی میں صحیح ہونا چاہیے کیوں کہ اکثر دھوکہ ہوتا ہے کبھی مبیع معدوم ہوتی ہے کبھی حقیقت برعکسہوتی ہے اور اکثر مبیع پر قبضہ نہیں ہوتا اس کے بغیر ہی ایک دوسرے کو بیچنے خریدنے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اس لیے شرعی طریقے پر معاملہ کرنا چاہیے۔

واللہ اعلم

Tuesday, August 21, 2018

٦٥٠-بینک سے لون لینا.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال - قرض کی ادائیگی کی مجبوری ہو تو کیا گھر کے کاغذات بنیک مت رکھ کر لون لے سکتے ہیں؟

الحمدللہ

اول

اسلام میں جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے، احادیث میں سود لینے والے اور سود دینے والے دونوں پر لعنت آئی ہے؛ اس لیے کاروبار کی ترقی یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے بینک سے سودی قرض لینا ہرگز جائز نہیں، سخت حرام ہے؛ البتہ اگر کسی شخص کے پاس کاروبار کی ترقی یا کوئی نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے دیگر اخراجات سے خالی مطلوبہ رقم موجود ہے ؛ لیکن وہ انکم ٹیکس ادا کردہ نہیں ہے ، یعنی: حکومت کی نظر میں غیر قانونی ہے، جس کی بنا پر کاروبار کی ترقی یا کوئی نیا کوئی کاروبار شروع کرنے کے لیے اگر بینک سے لون نہ لیا جائے تو انکم ٹیکس کے حوالے سے مختلف پریشانیوں کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں محض انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنے کے لیے ظاہری طور پر بینک سے لون لینے کی گنجائش ہوگی؛؛ کیوں کہ یہاں بینک سے سودی قرض کسی فائدے کی غرض سے نہیں لیا جارہا ہے؛ بلکہ صرف انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنے کے لیے ، یعنی: دفع ظلم کے لیے ؛ اس لیے اس صورت میں انشاء اللہ گناہ نہ ہوگا(دیکھئے: فتاوی نظامیہ اوندرویہ ۱: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: تھانوی آفسیٹ پرنٹرس ، دیوبند، مسائل سود، مرتبہ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی دامت برکاتہم العالیہ ص ۲۴۴، ۲۴۵، مطبوعہ: حراء بک ڈپو، دیوبند)؛ لیکن اس صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ لون کی رقم کہیں اٹھاکر رکھدی جائے، کاروبار میں استعمال نہ کی جائے اور پہلے سے موجود اپنی حلال رقم ہی کاروبار میں لگائی جائے ۔

عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کی دینی ودنیوی ہر طرح کی ترقی صرف دین وشریعت پر عمل کرنے سے ہوسکتی ہے، دین وشریعت کو نظر انداز کرکے اور سودی لین دین اور معاملات میں پڑکر ہرگز نہیں ہوسکتی ؛ جب کہ غیر مسلموں کے لیے یہ کچھ شرط نہیں ؛ کیوں کہ وہ فروعات کے مکلف ہی نہیں ہیں؛ اس لیے مسلمانوں کو غیروں کی دیکھا دیکھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، انھیں اپنے تمام کام شریعت کے مطابق ہی کرنے چاہیے، اسی سے ان کی ہر طرح کی ترقی ہوگی ، بینک کی سودی اسکیموں یا ناجائز وحرام لین دین اور کاروبار سے مسلمانوں کی کچھ ترقی نہیں ہوسکتی ، یہ محض ہماری خام خیالی ہے، قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ولو أنھم آمنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکٰت من السماء والأرض الخ (سورة الأعراف،رقم الآیة:۹۶)۔

دوم

فائنانس پر گاڑی لینے کا حکم وہی ہے جو اوپر کاروبار کی ترقی یا کوئی نیا کاروباسر شروع کرنے کے لیے بینک سے سودی قرض لینے کا ذکر کیا گیا، یعنی: اگر کسی کے پاس گاڑی خریدنے کے بہ قدر پیسہ ہے؛ لیکن انکم ٹیکس کے مسائل کی وجہ سے وہ اپنے پاس موجود اتی وحلال رقم سے نہیں خرید سکتا تو اس صورت میں گاڑی فائنانس پر لینا جائز ہے؛ کیوں کہ اس صورت میں سودی قرض کا مقصد کوئی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے؛ بلکہ انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنا ہے جو دفع ظلم کی شکل ہے۔ اور اس صورت میں گاڑی خریدنے والے کو چاہیے کہ اگر قسطوں کے انتظار کے بغیر جلد از جلد بینک کا لون ادا کیا جاسکتا ہو تو ادا کردے، اس میں تاخیر نہ کرے۔ اور اگر کسی کے پاس گاڑی خریدنے کے بہ قدر پیسہ نہیں ہے تو فائنانس پر گاڑی خریدنا جائز نہیں ؛ کیوں کہ اس میں بینک سے سودی قرض کا معاملہ پایا جاتا ہے جو اسلام میں سخت حرام ہے ، ایسا شخص اپنی ضروریات کرایہ کی گاڑیوں سے پوری کرے، اس کے لیے فائنانس پر گاڑی لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اور آپ نے مطلق جواز کا جو مسئلہ سنا، وہ صحیح نہیں۔

سوم

جہاں تک بات رہی گھر کے کاغذات وغیرہ جمع کر کے لون لینے کی تو اس میں علماء کا اختلاف پایا جاتا ہے، راجح یہی ہیکہ نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اگر آپ نے وقت مقررہ ہر بینک کو رقم واپس نہیں کیے تو بینک سود چڑھانا شروع کر دیگا حتی کہ گھر کی نیلامی بھی ہو سکتی ہے، چنانچہ ایسا کرنا جائز نہیں -

واللہ اعلم

٦٤٩-باپ کے دباؤ میں گھر کی خریداری کے لئے سودی قرضہ لینا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: میں ہر قسم کے سودی قرضے لینے سے توبہ کر چکا ہوں، لیکن کچھ عرصہ بعد ہی میرے والدین نے دباؤ ڈال کر مطالبہ کیا کہ میں مکان کی خریداری کیلئے سودی قرض لے لوں؛ کیونکہ جس مکان میں ہم رہ رہے ہیں یہ ہماری ملکیت نہیں ہے، اور مالک مکان اپنا مکان واپس لینے پر اصرار کر رہا ہے ، اور مالی طور پر ہماری حالت ایسی نہیں ہے کہ ہم کوئی اور مکان خرید سکیں، تو میں نے ان سےاصرار کیا کہ حرام کا ارتکاب کرنے سے بہتر ہے کہ ہم کوئی اور مکان کرائے پر لے لیں، لیکن وہ مجھ پر سخت برہم ہوئے۔ مجھےبھی غصہ میں آگیا کہ میں مکان کی خریداری کیلئے سودی قرض لینے میں شریک نہیں بننا چاھتا تھا، میں قرض نہیں لینا چا ہتا تھا اور اس سے بری ہوں، لیکن قرض میرے اور ہماری فیملی کے ایک اور فرد کے نام پرہے، تو کیا اس وجہ سے مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ حالانکہ میں اس وقت بھی سودی قرض کے خلاف تھا، اور آج بھی خلاف ہوں۔

الحمد للہ:

سودی قرض لینا جائز نہیں ہے، چاہے بینک سے لیا جائے یا کہیں اور سے، اور چاہے یہ مکان کی خریداری کیلئے ہو یا کسی اور کام کیلئے؛ کیونکہ سود کی حرمت  کیلئے بہت ہی شدید  وعید  بتلائی گئی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ . فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ )
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم مؤمن ہو تو باقیماندہ سود چھوڑ دو،   اگر نہیں چھوڑو گے تو اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ، چنانچہ اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے تمہارا رأس المال  ہی ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو،  پھر تم پر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔[البقرة: 278- 279]

مسلم : (1598) نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے، اور اسکے گواہان پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا: (یہ سب [گناہ میں]برابر ہیں)"

ابن قدامہ رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"ہر ایسا قرض جس میں زیادتی کی شرط ہو تو وہ بغیر اختلاف کے حرام ہے، ابن منذر رحمہ اللہ  کہتے ہیں: سب کا اجماع ہے کہ اگر قرضہ دینے والا قرضہ لینے والے پر اضافی رقم یا تحفہ دینے کی شرط لگائے ، اور وہ اسی شرط پر قرضہ فراہم کرے تو  قرضہ پر زیادتی وصول کرنا  سود ہے"انتہی
"المغنی" (6/436)

چنانچہ مکان کی خریداری  اس عظیم اور سنگین جرم کے ارتکاب کیلئے کوئی قابل قبول عذر نہیں ہے، کیونکہ آپ  کرائے پر مکان لینے  پر بھی اکتفا کر سکتے ہیں ، جیسے کہ آپ نے بھی یہ چیز بیان کی ہے۔

آپ نے سودی قرض لینے کے معاملے میں شرکت کر کے غلطی کی ہے، آپ کیلئے ضروری یہ تھا کہ آپ اپنے موقف ہر ڈٹے رہتے ، چاہے اسکی وجہ سے آپکے والدین اور آپکی پوری فیملی ناراض  ہی کیوں نہ ہو جاتی ؛ کیونکہ مخلوق کی اطاعت کرتے ہوئے خالق کی نافرمانی نہیں کی جاسکتی۔آپ جزوی یا مکمل سودی قرض کیلئے دستخط کرنے کے بعد  اختلاف رائے رکھیں !! یہ کافی نہیں ہے۔

اس لئے آپ اور جس نے بھی سودی قرض لیا ہے،اللہ تعالی سے توبہ کریں، اور جو کچھ ہوا ہے اس پر نادم ہوں، اور دوبارہ ایسے سنگین جرم میں ملوّث  نہ ہونے کا پختہ عزم کریں، کیونکہ اس کے بارے  ایسی وعید آئی ہے جو کسی اور گناہ کے بارے میں نہیں آئی۔ اللہ تعالی ہمیں محفوظ رکھے[آمین]

اور سودی قرض سے لئے ہوئے مکان  میں رہنے  پر کوئی حرج نہیں ہے،  دائمی فتوی کمیٹی  سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سودی قرضے  سے گھر بنایا، تو کیا  اس گھر کو گرا دے؟ یا کیا کرے؟

تو فتوی کمیٹی کا جواب تھا:
"اگر ایسی بات ہے تو آپ نے جو قرضہ   سودی  انداز سے  لیا ہے یہ سود کی وجہ سے حرام  ہے ،  اور آپ اپنے اس عمل سے توبہ اور استغفار کریں، جو کچھ ہوا اس پر ندامت کا اظہار کریں، اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کریں، جہاں تک گھر کی بات ہے تو   مت گرائیں، بلکہ آپ اس سے رہائش  یا کسی اور انداز سے  فائدہ اٹھائیں، اور اللہ تعالی سے امید ہے کہ اس کوتاہی پر  اللہ تعالی آپ کومعاف فرمائے" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" ( 13 / 411 )

اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ ہم سب کو معاف فرمائےاور  ہمارے  گناہ بخش دے۔

واللہ اعلم

٦٤٨-بنک سے ملنے والی سودی رقم کے مصارف؟

✍🏻مولانا مقبول احمد سلفی

سوال-بینک یا کسی بھی سود کا پیسہ اگر لینا مجبوری ہو تو اسکے مصارف کیا ہیں.؟

الحمدللہ

یہ سوال بہٹ اٹھایا جاتا ہے کہ بنک سے ملنے والے سود کو ہم کہاں صرف کریں ؟
قبل اس کے کہ میں اصل سوال کا جواب دوں پہلے یہ بات جان لیں کہ سود کا لین دین محرمات میں سے ہے نبی ﷺ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر ، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں‘‘۔(مسلم:1598)
اس لئے ہر اس کام سے بچا جائے جس میں سود کا عنصر ملا ہوا ہے ۔
برصغیر میں بنک کا نظام سودی کاروبار پہ چلتا اور ہم ان بنکون کا استعمال مجبوری میں کرتے ہیں ۔ تو ان سے حاصل شدہ سودی رقم کہاں صرف کی جائے ؟
اس میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ، ان اقوال کی روشنی میں جو مناسب آراء سامنے آتے ہیں میں صرف انہیں ہی ذکر کرنے پہ اکتفا کرتا ہوں ۔

(1) ایسے بھوکے غریب و نادار پہ خرچ کیا جائے جو نان شبینہ کے محتاج ہوں ۔

(2) ایسے غریب مریض کا علاج کرایا جائے جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو۔

(3)وہ مقروض جس کے لئے قرض کی ادائیگی بہت دشوار ہو اس کے قرض میں استعمال کیا جائے۔

(4) غیرمسلم تعلیمی ادارے پہ خرچ کیا جائے جس میں مسلم بچے زیرتعلیم نہ ہوں اور وہ ادارہ اسلام کے خلاف تعلیم نہ دیتا ہو۔
(5) ایسے غریب غیرمسلم کو دیا جائے جو مسلمانوں کا دشمن نہ ہو۔

(6) حکومت کی طرف سے عائد شرعا ظالمانہ ٹیکس بھی ادا کرسکتے ہیں جیسے انکم ٹیکس,سیل ٹیکس ویٹ ٹیکس,کسٹم ڈیوٹی ٹیکس وغیرہ لیکن نجی مفاد والے ٹیکس ادا نہیں کرسکتے جیسے ہاؤس ٹیکس, واٹر ٹیکس,سیور ٹیکس وغیرہ

(7) رفاہی کاموں میں صرف کیا جائے مثلا سڑک ، کنواں، مسافرخانہ ، نل ، نہر وغیرہ

علماء نے ان سب کاموں میں سود کی رقم استعال کرنے کو جائز قرار دیا ہے ، جس کے پاس سود کی رقم ہو اور ان مصارف میں سے جو مصرف آپ کے سامنے ہو اس میں سودی رقم لگا سکتے ہیں ۔ میں ان تمام مصارف میں سب سے بہتر مصرف آخر الذکر کو سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ میری نظر میں سود کو اپنے نجی مفاد سے بچانا ہے اوراسلام یا مسلمان کے کسی کام میں صرف کرنے سے بھی بچانا ہے اور ایسا کام کرنا ہے جس سے سب کا بھلا ہو اس میں ہندو مسلم کا کوئی امتیاز باقی نہ رہے ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...