Showing posts with label نماز جمعہ. Show all posts
Showing posts with label نماز جمعہ. Show all posts

Friday, August 17, 2018

٥٣٦-نماز كى تيار كے ليے جمعہ كا غسل كرنا سنت ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا جمعہ كے ليے نماز فجر سے قبل واجب غسل كرنا ہى كافى ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

جمعہ كے دن نماز جمعہ كى تيارى كے وقت غسل كرنا سنت ہے، اور افضل يہ ہے كہ يہ مسجد جانے كے وقت كيا جائے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب تم ميں سے كوئى جمعہ كے ليے جائے تو غسل كرے "

صحيح بخارى الجمعۃ حديث نمبر ( 882 ) يہ الفاظ بخارى كے ہيں، صحيح مسلم الجمعۃ حديث نمبر ( 845 ).

اور اگر اس نے دن كى ابتدا ميں غسل كر ليا ہو تو كافى ہے، كيونكہ جمعہ كے روز غسل كرنا سنت مؤكدہ ہے، اور بعض اہل علم اسے واجب كہتے ہيں، اس ليے جمعہ كے روز غسل كرنے كا اہتمام كرنا چاہيے، اورافضل يہ ہے كہ جب جمعہ كے ليے جانے لگے تو غسل كرے، جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

كيونكہ ايسا كرنا صفائى كے ليے زيادہ بہتر ہے، اور كريہہ قسم كى بدبو كو ختم كرنے كے ليے زيادہ صحيح ہے، اس كے ساتھ ساتھ خوشبو اور بہتر لباس كا اہتمام كيا جائے، اسى طرح اسے چاہيے كہ وہ جب جمعہ كے ليے جائے تو خشوع كا خيال ركھے، اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے، اس ليے كہ قدموں كے ساتھ خطائيں معاف ہوتيں اور اللہ تعالى درجات بلند فرماتا ہے.

لہذا اسے خشوع كا خيال ركھنا چاہيے، اورجب مسجد پہنچے تو داياں پاؤں اندر ركھ كر نبى كريم صلى اللہ عليہ پر درود پڑھ اور بسم اللہ كہہ كر يہ دعا پڑھے:

اعوذ باللہ العظيم و بوجھہ الكريم و سلطانہ القديم من الشيطان الرجيم، اللہم افتح لى ابواب رحمتك.

پھر اس كے مقدر ميں جتنى نماز ہو وہ ادا كرے، اور دو اشخاص كے مابين تفريق نہ كرے، اس كے بعد بيٹھ كر تلاوت كرے يا پھر ذكرو استغفار كرتے ہوئے يا پھر خاموشى كے ساتھ امام كا انتظار كرے، اور جب امام خطبہ دے تو بالكل خاموشى سے سنے، اور پھر امام كے ساتھ نماز ادا كرے.

اگر وہ ايسا كرتا ہے تو اس نے خير عظيم كا عمل كيا.

صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے غسل كيا اور جمعہ كے ليے آيا اور اللہ تعالى نے اس كے مقدر ميں جتنى نماز ركھى تھى وہ ادا كى پھر خاموشى سے امام كا خطبہ سنا حتى كہ خطبہ سے فارغ ہوا اور پھر اس كے ساتھ نماز ادا كى تو اس جمعہ اور اس سے قبل جمعہ كے مابين اس كے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں، اور اس سے تين يوم كے زيادہ "

صحيح مسلم الجمعۃ حديث نمبر ( 1418 ).

يہ اس ليے كہ ايك نيكى دس نيكيوں كى مثل ہے.

واللہ اعلم .

ديكھيں كتاب: مجموع فتاوى ومقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ علامہ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 12 / 404 ).

٥٣٥- يوم الجمعہ كى فضيلت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

آپ كونسے دن كو مقدس شمار كرتے ہيں، اور آپ كے ليے وہ ہفتہ وار چھٹى اور آرام اور عبادت كا دن ہے ؟

الحمد للہ :

يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ مسلمان كى سارى زندگى اللہ تعالى كى عبادت ہے، اور اس كے ليے كوئى ايسا دن نہيں جو عبادت كے ليے خاص ہو، مسلمان شخص ہر وقت اللہ تعالى كى عبادت ميں مشغول رہتا ہے، ليكن اللہ عزوجل نے اس امت ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى امت محمديہ كے ليے ايك دن مخصوص كيا ہے، اور وہ ہفتہ كے ساتوں ميں افضل ترين دن ہے جسے جمعہ كا دن كہا جاتا ہے، اس كى فضيلت ميں كئى ايك احاديث آئى ہيں:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہم سب سے آخرى ہيں، اور روز قيامت سے آگے ہونگے، انہيں ہم سے قبل كتاب دى گئى اور ہم ان كے بعد، يہ وہ دن دن ہے جس ميں انہوں نے اختلاف كيا، اللہ تعالى نے اس ميں ہميں ہدايت دى، كل يہوديوں كا ہے، اور اس كے بعد والا عيسائيوں كے ليے "

صحيح بخارى الجمعۃ حديث نمبر ( 487 ).

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ ہى بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سب سے بہترين دن جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ كا دن ہے، اس ميں آدم عليہ السلام پيدا كيے گئے، اور اسى دن جنت ميں داخل گئے، اور اسى دن اس سے نكالے گئے "

صحيح مسلم الجمعۃ حديث نمبر ( 1410 ).

طارق بن شھاب بيان كرتے ہيں كہ ايك يہود نے عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے كہا: اے امير المومنين اگر ہم پر يہ آيت نازل ہوتى:

﴿اليوم اكلمت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا﴾.

آج كے دن ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين كو مكمل كر ديا اور تم پر اپنى نعمت كو پورا كر ديا، اور تمہارے ليے اسلام كو دين ہونے پر راضى ہو گيا.

ہم اس دن كو عيد كا تہوار بنا ليتے، تو عمر رضى اللہ تعالى كہنے لگے:

ميں جانتا ہوں كہ يہ كس دن نازل ہوئى، يہ آيت يوم عرفہ ميں جمعہ والے دن نازل ہوئى تھى"

صحيح بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب والسنۃ حديث نمبر ( 6726 ).

اس دن كے اجروثواب كے بيان كے متعلق يہ حديث جسے مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نماز پنجگانہ اور جمعہ دوسرے جمعہ تك ان دونوں كے مابين گناہوں كا كفار ہے جب تك كبيرہ گناہ كا ارتكاب نہ كيا جائے "

صحيح مسلم كتاب الطہارۃ حديث نمبر ( 342 ).

اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب جمعہ كا دن ہوتا ہے تو مسجد كے ہر دروزاے پر فرشتے كھڑے ہو كر پہلے آنے والے كو پہلے لكھتے ہيں، اور جب امام بيٹھ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپيٹ كر ذكر سننے آ جاتے ہيں، سب سے پہلے آنے والا شخص اس كى طرح ہے جس نے اونٹ قربان كيا ہو، اوراس كے بعد اس كى طرح جس نے گائے قربان كى اور اس كے بعد جس نے مينڈھا قربان كيا ہے، پھر وہ جس نے مرغى قربان كى ہو پھر وہ جس نے انڈا قربان كيا ہو "

صحيح بخارى الجمعۃ حديث نمبر ( 1416 ).

ايك حديث ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تمہارا سب سے افضل ترين دن جمعہ كا دن ہے، اس ميں آدم عليہ السلام پيدا كيے گئے، اسى ميں فوت ہوئے، اور اس دن صور پھونكا جائےگا، اور اسى ميں بے ہوشى طارى ہو گى، لہذا مجھ پر اس دن درود كثرت سے پڑھو، كيونكہ تمہارا درود مجھ پر پيش كيا جاتا ہے "

صحابہ نے عرض كيا: ہمارا درود آپ پر كيسے پيش كيا جائيگا حالانكہ آپ تو مٹى ہو چكے ہونگے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يقينا اللہ عزوجل نے زمين پر انبياء كا جسم كھانا حرام كر ركھا ہے "

سن ابو دواد سنن نسائى، علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 659 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے جمعہ كے روز غسل كيا اور غسل كروايا، اور صبح جلد آ كر آگے بيٹھا، اور چل كر آيا سوار نہ ہوا، اور امام كے قريب ہو كر خاموشى سے سنا اور لغو كام نہ كيا تو اسے ہر قدم كے بدلے اس كے مسنون روزے اور قيام كا اجروثواب حاصل ہوتا ہے "

مسند احمد، جامع ترمذى، علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب والترھيب حديث نمبر ( 687 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس دن ميں ايك ايسا وقت ہے جس ميں انسان نماز ادا كر رہا ہو اور اللہ تعالى سے جو بھى مانگے تو اللہ تعالى اسے ضرور ديتا ہے، اور ہاتھ سے اس كے كم ہونے كا اشارہ كيا"

صحيح بخارى الجمعہ حديث نمبر ( 883 ).

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جمعہ كے روز اس گھڑى كو تلاش كرو جس كى اميد كى جاتى ہے كہ وہ جمعہ كے روز عصر سے ليكر غروب شمس كے درميان ہو "

اسے ترمذى نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 700 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

واللہ اعلم

٥٣٤-اگر خطبہ كى سمجھ نہ آئے تو كيا كرنا چاہيے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں اس وقت افريقا ميں رہائش پذير ہوں، يہاں كى مقامى زبان نہيں بول سكتا، اور نماز جمعہ كا خطبہ بھى مجھے سمجھ نہيں آتا، مجھے دوران خطبہ كيا كرنا ہو گا ؟
كيا ميں قرآن مجيد كى تلاوت كروں، يا اللہ تعالى كا ذكر، يا ايسى چيز سننے كے ليے بيٹھ رہوں جس كى مجھے سمجھ ہى نہيں آتى ؟

الحمد للہ :

اگر آپ خطبہ سنيں چاہيں آپ كو سمجھ نہ بھى آئے تو ان شاء اللہ آپ خيروبھلائى پر ہيں، اور بعض اہل علم نے رخصت دى ہے كہ اگر كوئى شخص خطبہ كى زبان نہيں سمجھتا تو وہ اللہ تعالى كا ذكر يا قرآن مجيد كى تلاوت ميں مشغول رہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ دوسروں كے ليے تشويش كا باعث نہ بنے جو خطبہ سن رہے ہيں، ليكن ميں جس طرف مائل وہ يہى ہے كہ: اسے خطبہ سننا چاہيے چاہے اسے سمجھ نہ ہى آئے

٥٣٣-نماز جمعہ كے بعد اجتماعى دعا مانگنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم دو ركعت نماز جمعہ ادا كرتے ہيں اور امام سلام پھيرنے كے بعد مقتديوں كى جانب منہ كر كے دعا مانگتا ہے اور ہم سب آمين كہتے ہيں، كيا ہمارا يہ فعل صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

مومن كو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اقتدا اور پيروى كرنى چاہيے اس ليے جس سے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے روكا ہے اس سے رك جائے اور جس كا حكم ديا ہے اسے كيا جائے اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تمہارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميں بہترين نمونہ جو اللہ سے ملاقات اور يوم آخرت كى اميد ركھتا ہے }الاحزاب ( 21 ).

فرضى نماز ـ جمعہ وغيرہ ـ كے بعد امام كا دعا مانگنا اور مقتديوں كا آمين كہنا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام ميں سے كسى نے يہ عمل كيا ہے اگر يہ خير و بھلائى ہوتى تو صحابہ اس ميں ہم سے سبقت لے جاتے.

اس بنا پر يہ فعل مذموم اور بدعت ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى ميرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف ديكھےگا، اس ليے تم ميرى اور ميرے خلفاء راشدين كى سنت كو لازم پكڑنا، اور اس پر سختى سے عمل كرنا اور نئے نئے كاموں سے اجتناب كرنا، كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4607 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ كا يہ بھى فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا كام كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 ) يہ الفاظ مسلم كے ہيں.

شاطبى رحمہ اللہ اپنى كتاب " الاعتصام " ميں بيان كرتے ہيں:

" فرضى نمازوں كے بعد اجتماعى دعا كرنا بدعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا نہيں كيا، اور نہ ہى صحابہ كرام نے اور ان كے بعد آئمہ نے بھى ايسا نہيں كيا "

ديكھيں: الاعتصام ( 1 / 349 - 355 ).

لہذا اس بدعت كو ترك كرنا ضرورى و واجب ہے، اور ان شرعى اذكار اور دعاؤں كا خيال ركھنا چاہيے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرضى نماز كے بعد كيا كرتے تھے اور جو كوئى دعا كرنا چاہتا ہے تو وہ خفيہ طور پر كرے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 532 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٥٣٢-جمعہ كے دن خطيب آنے سے پہلے قارى كا تلاوت كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا جمعہ كے دن خطيب كے آنے سے قبل قارى كے ليے مسجد ميں قرآن كى تلاوت كرنا جائز ہے، كيا يہ جمعہ كے آداب اور سنت ميں شامل ہوتا ہے يا كہ بدعات ميں ؟

الحمد للہ:

ہمارے علم كے مطابق تو اس كى كوئى دليل نہيں كہ جمعہ كے دن امام كے آنے سے قبل كوئى قارى تلاوت كرے اور لوگ سنيں، اور جب امام صاحب آئيں تو قارى خاموش ہو جائے.

اصل ميں عبادات توقيف پر مبنى ہيں يعنى جس طرح وارد ہيں اسى طرح سرانجام دى جائينگى، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

اسے امام مسلم نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور آپ كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

اللجنۃ الدائمۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 3 / 172 )

٥٣١- ڈيوٹى والے كمرہ ميں نماز جمعہ كى ادائيگى

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كام كے مالك نے ہمارے ليے ملازمت والى جگہ پر ايك چھوٹى سى جگہ نماز كے ليے مقرر كر دى ہے، ہم چار اشخاص وہاں نماز ظہر اور عصر پابندى كے ساتھ ادا كرتے ہيں، كيا شرعى طور پر ہمارے ليے اس كمرہ ميں نماز جمعہ ادا كرنا جائز ہے؟
اس اعتبار سے ہمارے پاس كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس كمرہ ميں كوئى نماز جمعہ ادا كرتا ہے ؟

الحمد للہ :

جہاں آپ رہتے ہيں اگر تو اس شہر ميں كسى مسجد كے اندر نماز جمعہ ادا كى جاتى ہے، تو ان كے ساتھ آپ كا نماز جمعہ ادا كرنا واجب ہے، اور تمہارے ليے دوسرا جمعہ جائز نہيں، ليكن اگر جس شہر ميں آپ رہتے ہيں وہاں نماز جمعہ نہيں ہوتى تو آپ پر نماز جمعہ كى ادائيگى واجب ہے، اور جمعہ كى بجائے نماز ظہر ادا كرنا جائز نہيں، كيونكہ:

( مسلمانوں پر اپنى بستيوں ميں جمعہ كى نماز ادا كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے جماعت شرط ہے، نماز جمعہ كے صحيح ہونے كے ليے معين تعداد كى حد كى شريعت ميں كوئى دليل نہيں ملتى، لہذا تين افراد يا اس سے زائد پر نماز جمعہ ادا كرنے كے ليے كافى ہيں، اور علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق جس پر نماز جمعہ واجب ہو اس كے اس كى جگہ نماز ظہر ادا كرنا جائز نہيں كہ چاليس اشخاص كى تعداد پورى نہيں ہے ).

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 178 ) فتوى نمبر ( 1794 ).

اور مستقل فتوى كميٹى كے فتوى نمبر ( 957 ) ميں بيان كيا گيا ہے كہ:

( نماز جمعہ ادا كرنے كے ليے جو تعداد كى شرط لگائى جاتى ہے، ہمارے علم ميں تو اس كى تحديد كے ليے كوئى دليل نہيں، اور كوئى ايسى نص نہ ملنے كى بنا پر جس سے تعداد كى تعيين ہوتى ہو علماء كرام ميں نماز جمعہ كى ادائيگى ميں اشخاص كى تعداد كا اختلاف ہے:

اس سلسلے ميں درج ذيل اقوال ہيں:

تين رہائشى اشخاص كى موجودگى ميں نماز جمعہ ادا كيا جائيگا، يہ امام احمد سے روايت ہے، اور اسے اوزاعى اور شيخ ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے اختيار كيا ہے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اللہ تعالى كے ذكر كى طرف دوڑو﴾.

يہ جماعت ہے اور اس كى كم از كم تعداد تين ہے.

( 8 / 210 ).

واللہ اعلم

٥٣٠-نماز جمعہ كے فضائل

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں بعض وہ احاديث معلوم كرنا چاہتا ہوں جن ميں نماز جمعہ كے فضائل بيان ہوئے ہيں.

الحمد للہ :

نماز جمعہ كى فضيلت ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بہت سارى احاديث مروى ہيں، جن ميں سے چند ايك يہ ہيں:

1 - امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نماز پنجگانہ، اور جمعہ دوسرے جمعہ تك جب تك كبيرہ گناہ سے اجتناب كيا جائے تو يہ كفارہ بن جاتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 233 ).

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے جمعہ كے روز غسل كيا اور جمعہ كے ليے آيا اور اس كے مقدر ميں جتنى نماز لكھى تھى ادا كى اور خطبہ جمعہ كے ختم ہونے تك خاموشى اختيار كى اور پھر امام كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ اور اس سے تين روز زيادہ كے گناہ بخش ديے جاتے ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 857 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

علماء كرام كا كہنا ہے: دونوں جمعوں اور تين يوم زيادہ كے گناہ بخش دينے كا معنى يہ ہے كہ ايك نيكى دس نيكيوں كى مثل ہے، تو جمعہ كا روز جس ميں يہ بہترين افعال كيے گئے ايك نيكى كے معنى ميں ہوئے جو اسے دس نيكيوں ميں بنا ديتى ہے.

اور ہمارے بعض اصحاب كا كہنا ہے كہ: مراد يہ ہے كہ دونوں جمعوں ميں نماز جمعہ اور خطبہ كے ساتھ دوسرے جمعہ تك يہ سات يوم بغير كسى زيادتى اورنقصان كے ہوئے، اوران كے ساتھ تين ملائيں تو يہ دس بن جاتے ہيں. اھـ

2 - نماز جمعہ كے ليے جلد جانے ميں اجرعظيم ہے:

بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے جمعہ كے روز غسل جنابت كيا اور پھر جمعہ كے ليے گيا تو گويا اس نے اونٹ قربان كيا، اور جو دوسرى گھڑى ميں گيا گويا اس نے گائے قربان كى، اور جو تيسرى گھڑى ميں گيا گويا اس نے سينگوں والا مينڈھا قربان كيا، اور جو چوتھى گھڑى ميں گيا گويا اس نے مرغى قربان كى، اور جو پانچويں گھڑى ميں گيا گويا اس نے انڈا قربان كيا، اور جب امام آئے تو فرشتے ذكر سننے كے ليے حاضر ہو جاتے ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 841 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 850 ).

3 - نماز جمعہ كے ليے چل كر جانے والے كے ليے ہر قدم كے بدلے مسنون روزے اور قيام كا اجروثواب ہے:

اوس بن اوس ثقفى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے جمعہ كے روز خود غسل كيا اور غسل كروايا، اور صبح جلدى گيا اور آگے جا كر بيٹھا، اور قريب ہو كر خاموشى سے خطبہ سنا، اس كے ليے ہر قدم كے بدلے مسنون روزے اور قيام كا ثواب ہے "

جامع ترمذى حديث نمبر ( 496 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 410 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى زاد المعاد ميں لكھتے ہيں:

امام احمد كا كہنا ہے: غسل كروانے كا معنى ہے كہ اس نے اپنى بيوى سے جماع كيا، وكيع رحمہ اللہ نے اس كى شرح يہى كى ہے اھـ

ديكھيں: زاد المعاد ( 1 / 385 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نماز جمعہ كے فضائل ميں احاديث ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:

مجموعى طور پر ہم نے جو ذكر كيا ہے اس سے واضح ہوا كہ ايك جمعہ سے دوسرے جمعہ تك گناہوں كا كفارہ بننا جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى موجودگى كے ساتھ مشروط ہے، يعنى غسل، صفائى، خوشبو يا تيل، بہترين اور اچھا لباس، سكون اور وقار سے چل كر جانا، اور گردنيں نہ پھلانگنا، اور دو آدميوں كے مابين عليدگى نہ كرنا، اور اذيت نہ دينا، ادھر ادھر نہ ہونا، خاموشى اختيار كرنا، اور لغو سے پرہيز كرناوغيرہ. اھـ

واللہ اعلم

٥٢٩-خطبہ جمعہ كے دوران نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مجھے ايك مشكل درپيش ہے، جس ميں پريشان ہوں، مجھے علم ہے كہ جب ہم نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا نام سنيں تو ہميں صلى اللہ عليہ وسلم كہنا چاہيے، ليكن اسى طرح مجھے يہ بھى علم ہے كہ خطبہ جمعہ كے دوران خاموشى اختيار كرنى ہے اور كلام ممنوع ہے، وگرنہ ہمارا اجروثواب ضائع ہو جائيگا، اس ليے جب امام نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نام لے تو ہم پر كيا واجب ہوتا ہے، كہ ہم مسلمان كيا كريں، كيا ہم اسى وقت نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھيں يا پھر اپنے دل ميں پوشيدہ طريقہ سے كريں ؟

الحمد للہ :

امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اپنے دل ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں.

ديكھيں: المغنى ( 2 / 165 ) اور اس كے بعد كے صفحات.

اور مستقل فتوى كميٹى كا كہنا ہے:

( جب خطيب نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھے تو سامع بھى بغير آواز بلند كيے نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھے ).

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 217 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

جب خطيب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ذكر كرے تو سامع كو سرى طور پر درود پڑھنا چاہيے، تا كہ اس كے ارد گرد والوں كو تشويش لاحق نہ ہو. اھـ

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 16 / 166 ).

واللہ اعلم

٥٢٨-نماز جمعہ كے ساتھ نماز عصر جمع كرنا صحيح نہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں دوران سفر ايك بستى ميں ركا اور بستى والوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى، اور نماز جمعہ كے بعد اٹھ كر عصر كى نماز ادا كرلى، يعنى ميں نے جمعہ اور عصر كو جمع كيا، ميرے ساتھ كچھ دوست تھے جنہوں نے مجھ پر اعتراض كيا اور كہنے لگے جمعہ كے ساتھ عصر كى نماز جمعہ كرنا جائز نہيں، اس كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

آپ كے دوست كا كہنا صحيح ہے كہ نماز جمعہ كے ساتھ عصر جمع نہيں ہو سكتى، بلكہ شريعت ميں نماز ظہر كو نماز عصر اور نماز مغرب كو نماز عشاء كے ساتھ جمع كرنا ثابت ہے.

اس بنا پر آپ جمعہ كے ساتھ جمع كردہ عصر كى نماز لوٹائيں، كيونكہ آپ نے نماز وقت سے قبل ادا كى تھى، اور وقت سے قبل نماز ادا كرنا باطل ہے صحيح نہيں.

اس مسئلہ ميں شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى تفصيل بيان كرتے ہوئے كہا ہے:

" جس حالت ميں نماز ظہر كو عصر كے ساتھ جمع كرنا جائز ہے، اس حالت ميں نماز جمعہ كے ساتھ عصر جمع كرنا جائز نہيں.

اگر كوئى مسافر كسى علاقے سے گزرے اور ان كے ساتھ نماز جمعہ ادا كرے تو اس سے كے جمعہ كے ساتھ عصر كى نماز جمع كرنى جائز نہيں.

اور اگر بارش ہو تو نمازيں جمع كرنا مباح ہيں ـ بارش كى بنا پر ظہر اور عصر كى نماز جمع كرنا جائز ہے ـ ليكن عصر كو جمعہ كے ساتھ جمع كرنا جائز نہيں.

اور اگر وہ مريض جس كے ليے نمازيں جمع كرنا جائز ہوں نماز جمعہ ميں حاضر ہو تو نماز جمعہ كے ساتھ عصر كى نماز جمع كرنا جائز نہيں.

اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

﴿يقينا مؤمنوں كے ليے وقت مقررہ پر نماز كى ادائيگى فرض كى گئى ہے﴾ النساء ( 103 ).

يعنى: نماز وقت مقررہ كے ليے فرض ہے، اور اس اجمالى وقت ميں مندرجہ ذيل فرمان ميں بيان كيا ہے:

﴿آفتاب كے ڈھلنے سے ليكر رات كى تاريكى تك نماز قائم كريں، اور فجر كا قرآن پڑھنا بھى، يقينا فجر كے وقت كا قرآن پڑھنا حاضر كيا گيا ہے ﴾الاسراء( 78 ).

لہذا آفتاب كا ڈھلنا، سورج كا زوال ہے، اور رات كى تاريكى، رات كا اندھيرا چھا جانا ہے، اور يہ آدھى رات ہے، يہ وقت چار نمازوں كو مشتمل ہے، ظہر، عصر، مغرب، اور عشاء، ان سب كو ايك ہى وقت ميں جمع كيا گيا ہے؛ كيونكہ ان كے اوقات ميں كوئى انفصال نہيں، اس ليے جب بھى ايك نماز كا وقت ختم ہوا اس كے بعد والى نماز كا وقت شروع ہو جائيگا، اور نماز فجر كے وقت ميں انفصال ہے، كيونكہ يہ نماز عشاء كے ساتھ نہيں ملتى اور نہ ہى نماز ظہر كے ساتھ متصل ہے.

سنت نبويہ ميں ان اوقات كى تفصيل مندرجہ ذيل حديث ميں كچھ اسطرح بيان ہوئى ہے:

عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور جابر رضى اللہ تعالى عنہما وغيرہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ظہر كى نماز كا وقت زوال آفتاب سے ليكر ہر چيز كا سايہ اس كى مثل ہونے تك ہے، اور نماز عصر كا وقت ہر چيز كا سايہ اس كى مثل ہونے سے ليكر غروب آفتاب تك ہے، ليكن سورج زرد ہو جانے كے بعد ضرورت كى بنا پر نماز ادا كرنے كا وقت ہے، اور نماز مغرب كا وقت غروب آفتاب سے ليكر سرخى غائب ہونے تك ہے، اور نماز عشاء كا وقت سرخى غائب ہونے سے ليكر آدھى رات تك ہے، اور نماز فجر كا وقت طلوع فجر سے ليكر طلوع آفتاب تك ہے.

كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ ميں نمازوں كے اوقات كى حدود يہ ہيں جو بيان ہوئى ہے.

لہذا جس نے بھى كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ميں محدود كردہ وقت سے قبل نماز ادا كى وہ گنہگار ہے، اوراسكى نماز واپس كردى جائيگى كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كى حدود سے تجاوز كريگا وہى ظالم ہيں﴾ البقرۃ ( 229 ).

اور اس ليے بھى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

اور اسى طرح جس نے بغير كسى شرعى عذر كے وقت گزر جانے كے بعد نماز ادا كى وہ بھى مردود ہے.

لہذا جس شخص نے زوال آفتاب سے قبل ہى ظہر كى نماز ادا كر لى تو اس كى نماز باطل اور مردود ہے، اسے وہ نماز دوبارہ ادا كرنا ہو گى، اور جس شخص نے نماز عصر وقت ہر چيز كا سايہ ايك مثل ہونے سے قبل ادا كرلى اس كى نماز بھى باطل اور مردود ہے، اسے بھى نماز دوبارہ ادا كرنا ہو گى، ليكن اگر كوئى شرعى عذر ہے تو اسكے ليے جمع جائز ہے اور وہ اسے نماز ظہر كے ساتھ مقدم كرتے ہوئے جمع كر سكتا ہے.

اور جس شخص نے مغرب كى نماز غروب آفتاب سے قبل ادا كر لى تو اس كى نماز باطل اور مردود ہو گى، وہ نماز دوبارہ ادا كرے گا.

اور جس نے نماز عشاء سرخى غائب ہونے سے قبل ادا كى تو اس كى نماز بھى باطل اور مردود ہے، اسے وہ نماز دوبارہ ادا كرنى چاہئے، ليكن اگر كوئى شرعى عذر ہے جس كى بنا پر نمازيں جمع ہو سكتى ہيں تو وہ نماز عشاء كو مقدم كر كے مغرب كے ساتھ ادا كرسكتا ہے.

اور جس شخص نے نماز فجر طلوع فجر سے قبل ادا كى تو اس كى نماز باطل اور مردود ہے، اسے وہ نماز دوبارہ ادا كرنا ہو گى.

كتاب اللہ اور سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم كا تقاضا يہى ہے.

اس بنا پر جس نے عصر كى نماز جمعہ كے ساتھ جمع كى اس نے وقت شروع ہونے سے قبل نماز ادا كى، جو كہ ہر چيز كا سايہ ايك مثل ہے، تو اس كى نماز باطل اور مردود ہے.

اگر كوئى قائل يہ كہے كہ:

كيا جمعہ كے ساتھ عصر كو جمع كرنے كے ليے ظہر كے ساتھ عصر كو جمع كرنے پر قياس نہيں كيا جا سكتا ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

يہ كئى ايك وجوہات كى بنا پر جائز نہيں:

اول: يہ عبادات ميں قياس ہے.

دوم:

نماز جمعہ ايك مستقل اور منفرد نماز ہے، اس كے احكام ظہر كى نماز سے مختلف ہيں جن كى تعداد تقريبا بيس سے بھى زيادہ ہے، اس طرح كے فرق ہونے كى صورت ميں دونوں نمازوں كو ايك دوسرى كے ساتھ ملحق كرنے اور ملانے ميں مانع ہيں.

سوم:

يہ قياس ظاہر سنت كے خلاف ہے، كيونكہ صحيح مسلم ميں عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے حديث مروى ہے كہ:

" مدينہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء بغير كسى خوف اور بارش كے جمع كيں"

تو جب ان سے اس كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاہا كہ امت حرج اور مشكل ميں نہ پڑے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں بارش ہوئى جس ميں مشقت بھى تھى ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز جمعہ اور عصر كو جمع نہيں كيا، جيسا كہ صحيح بخارى وغيرہ ميں انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہما سے حديث مروى ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جمعہ كے روز منبر پر بارش كے ليے دعا فرمائى اور جب منبر سے نيچے اترے تو آپ كى داڑھى سے بارش كے قطرے ٹپك رہے تھے"

اور يہ اس وقت ہو سكتا ہے جب بارش بہت زيادہ ہو اگر نماز جمعہ اور عصر جمع كرنى جائز ہوتى تو جمع كرتے، راوى كہتے ہيں:

" اور دوسرے جمعہ كے روز ايك شخص مسجد ميں داخل ہوا اوركہنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مال غرق ہو رہا ہے، اور گھر منہدم ہو رہے ہيں، اللہ تعالى سے بارش ركنے كى دعا فرمائيں "

اور اسطرح كى حالت يہ ضرورى ہے كہ راستوں ميں كيچڑ ہو جو جو عصر اور جمعہ جمع كرنے كو مباح كر دے، اور اگر كوئى قائل يہ كہے كہ: عصر كو جمعہ كے ساتھ جمع كرنے كى ممانعت كى دليل كہاں ہيں ؟

تو اس كا جواب ہے كہ:

يہ سوال كيا ہى نہيں جا سكتا؛ كيونكہ عبادات ميں اصل تو ممانعت ہے ليكن اگر كوئى دليل پائى جائے، لہذا جو شخص ظاہرى يا باطنى اعمال كے ساتھ عبادت كرنے سے منع كرے اس سے ممانعت كى دليل نہيں مانگى جائيگى بلكہ دليل تو اس سے طلب كى جائيگى جو اس كو عبادت سمجھ كر سرانجام دے رہا ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے ان لوگوں كو جو بلا شرع كے عبادت كرتے تھے ان كے متعلق يہ فرمايا ہے:

﴿كيا ان كے ليے كوئى ايسے شريك ہيں جنہوں نے ان كے ليے ايسا دين مشروع كر ديا جس كى اللہ تعالى نے اجازت ہى نہيں دى ﴾الشورى ( 21 ).

اور ايك مقام پر اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿آج ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين كو مكمل كر ديا ہے، اور تم پر اپنى نعمت كو پورا كر ديا ہے، اور تمہارے ليے اسلام كے دين ہونے پر راضى ہو گيا ہوں ﴾المآئدۃ ( 3 ).

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

تو اس بنا پر: اگر كوئى قائل يہ كہتا ہے كہ: عصر كو جمعہ كے ساتھ جمع نہ كرنے كى دليل كيا ہے ؟

ہم اسے يہ كہينگے:

اس كے جائز كى دليل كيا ہے ؟

كيونكہ اصل تو يہ واجب ہے كہ نماز عصر كو اس كے وقت ميں ادا كيا جائے، اور جمع كرنے كے سبب كى موجودگى ميں اس اصل كى خلاف كرتے ہوئے نمازيں جمع ہونگى، اور اس كے علاوہ باقى ميں اپنے اصل پر ہى رہے گى وہ يہ كہ اسے وقت سے پہلے ادا كرنا ممنوع ہے.

اور اگر كوئى قائل يہ كہے: اچھا يہ بتائيں كہ اگر وہ نمازجمعہ كى ادائيگى ميں نماز ظہر كى نيت كر لے تا كہ نماز عصر جمع كر سكے تو كيا حكم ہو گا ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

اگر تو شہر والوں كے امام يعنى شہر والوں نے جمعہ ميں نماز ظہر كى نيت كر لى تو اس كے باطل اورحرام ہونے ميں كوئى شك نہيں؛ كيونكہ ان پر جمعہ كى ادائيگى واجب ہے، اور اگر وہ اسے ترك كر كے نماز ظہر ادا كرتے ہں تو انہوں نے شرعى حكم كى مخالفت كى، تو اس طرح ان كا عمل باطل اور مردود ہو گا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

ليكن اگر نماز جمعہ ميں ظہر كى نيت كرنے والا شخص مسافر ہے تو اس نے جمعہ ادا كرنے والوں كے ساتھ اس ليے ظہر كى نيت سے جمعہ ادا كيا كہ وہ نماز عصر كو اس كے ساتھ جمع كر لے تو يہ بھى صحيح نہيں.

كيونكہ جب وہ جمعہ ميں حاضر ہو چكا ہے تو اس كے ليے نماز جمعہ ادا كرنا لازم ہے، اور جس پر نماز جمعہ لازم ہو اور وہ امام كے سلام ادا كرنے سے قبل ظہر كى نماز ادا كرے تو اس كى ظہر صحيح نہيں ہو گى، اور اگر بالفرض اسے صحيح بھى مان ليا جائے تو اس نے اپنے آپ كو بہت زيادہ اورعظيم اجر سے محروم ركھا ہے، جو كہ نماز جمعہ كا اجروثواب تھا.

يہ اور پھر " المنتھى " اور " الاقناع " كے مولفين جو كہ حنبلى علماء ميں سے ہيں نے بيان كيا ہے كہ:

نماز جمعہ كے ساتھ نماز عصر جمع كرنا صحيح نہيں، انہوں نے يہ نماز جمعہ كے بيان كے ابتداء ميں ہى اسے بيان كيا ہے.

ميں يہ بحث اتنى لمبى ضرورت كى بنا پر كى ہے، اللہ تعالى سے دعاء ہے كہ وہ ہميں صحيح راستہ پر چلائے، اور بندوں كو فائدہ اور نفع دے، يقينا اللہ تعالى بڑا سخى اور كرم والا ہے" اھـ

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 15 / 371 - 375 ).

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...