Showing posts with label شرک اور اسکی اقسام. Show all posts
Showing posts with label شرک اور اسکی اقسام. Show all posts

Monday, August 20, 2018

٦٢٦-مجسم كھلونوں كي فروخت كےبارہ ميں سوال اور كيا يہ روزے پر اثر انداز ہوگا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں كھلونوں كي دكان پر ملازمت كرتا ہوں اور ہم گڑيا اورانساني شكل ميں بنے ہوئے كھلونےفروخت كرتےہيں، اس كا حكم كيا ہے؟ اور كيا ميرے اس كام كي بنا پر روزے ركھنا جائز ہے ؟

الحمد للہ :

سوال نمبر ( 624) كےجواب ميں تصاوير اور مجسمے بنانے كي حرمت اور اسي طرح سوال نمبر ( 625 ) كےجواب ميں ان كي خريدوفروخت كا بھي بيان گزرچكا ہے اس ليے اس كا مطالعہ كريں .

ليكن اگر يہ تصاوير اور گڑياں بچوں كےليے كھلونے ہيں تو سنت سے اس كا جواز ملتا ہے، صحيحين ميں عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا سےحديث مروي ہےكہ:

وہ بيان كرتي ہيں: ميں نبي صلي اللہ عليہ وسلم كےپاس گڑيوں كےساتھ كھيلا كرتي تھي اور ميري سہيلياں ميرے ساتھ كھيلتي تھيں ..... الحديث صحيح بخاري حديث نمبر ( 6130 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2440 )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

اس حديث سے بچيوں كي تصاوير اور كھلونے بنانےكا جواز ملتا ہے تاكہ اس سے بچياں كھيل سكيں، اور تصاوير كي نہي كےعموم سے يہ خاص ہے، قاضي عياض كا يہي كہنا ہے اور جمہور سےنقل كياہے كہ انہوں نے بچيوں كے ليے كھلونےفروخت كرنے كي اجازت دي ہے تا كہ وہ بچپن سے ہي گھريلو ديكھ بھال اور اپني اولاد كي تربيت كرنے كي تدريب حاصل كرسكيں، اور ابن حبان رحمہ اللہ تعالي كھلونوں كےساتھ چھوٹي بچيوں كےكھيلنےكي اباحت كا باب باندھا ہے ..

اور جرير عن ھشام كي روايت ميں ہےكہ:

ميں گڑيوں كےساتھ كھيلا كرتي تھي اوروہ كھلونےتھے. اسے ابوعوانہ وغيرہ نےروايت كيا ہے.

اور ابوداود اور نسائي نےايك دوسرے طريق سے عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا سےروايت كي ہےكہ:

وہ بيان كرتي ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم غزوہ تبوك يا غزوہ خيبر سے واپس تشريف لائے " پھر وہ حديث ذكر كي جس ميں ہے كہ عائشہ رضي اللہ تعالي نےاپنےدروازے پر پردہ نصب كيا تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےوہ پردہ پھاڑ ديا، عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كہتي ہيں:

عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كےكھلونوں ميں سے ان گڑيوں كا پردہ ہٹ گيا تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: اےعائشہ يہ كيا؟ وہ كہنے لگي ميري گڑياں ہيں، عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا بيان كرتي ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے اس ميں ايك گھوڑا ديكھا جس كےدو پر بھي تھے تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كہنےلگے: يہ كيا ؟ ميں نےجواب ديا گھوڑا ہے تو رسول كريم صلي اللہ وسلم نےفرمايا: گھوڑے كےدو پر؟ ميں نے كہا كيا آپ نےنہيں سنا كہ سليمان عليہ السلام كا ايك گھوڑا تھا جس كےدو پر تھے؟ تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم مسكرانے لگے" اختصار كےساتھ حديث مكمل ہوئي .

جوروايت ابن حجر رحمہ اللہ تعالي نےذكر كي ہے وہ ابوداود كي حديث نمبر( 22813 ) ہے اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے غايۃ المرام ( 129 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

وہ جس ميں پوري اور مكمل شكل نہ ہو بلكہ صرف اس ميں بعض اعضاء اور سروغيرہ تو ہو ليكن پوري شكل واضح نہ ہوتي ہو اس جائز ہونےميں تو كوئي شك نہيں بلكہ يہ اسي گڑيوں كي طرح ہيں جو عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كےپاس تھيں جن سے وہ كھيلا كرتي تھيں.

ليكن اگر كھلونے ميں پوري شكل وشباہت پائي جائے گويا كہ كسي انسان كا ہي مشاہدہ كيا جارہا ہے اور خاص كر اگر اس ميں حركات وسكنات بھي ہوں يا آواز پائي جائے تواس كےجواز ميں ميرے نزديك كچھ كچھ نہ گڑ بڑ ضرور ہے اس ليے كہ يہ مكمل طور پر اللہ تعالي كي خلق سے مشابہ ہے، ظاہر تويہي ہے كہ عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كے كھلونے اس طرح كےنہيں تھے اس ليے ان سے بچنا بہتر اور اولي ہے ليكن ميں اسے قطعي طور پر حرام نہيں كہتا اس ليے كہ اس طرح كےامور ميں بچوں كےليے وہ كچھ رخصت ہے جس كي بڑي عمر كے لوگوں كےليے رخصت نہيں اس ليے كہ بچہ طبعي طور پر كھيل كود ميں مائل ہوتا ہے اور عبادات ميں سے كسي ايك كا بھي مكلف نہيں ہوتا حتي كہ ہم يہ كہيں:

كھيل كود ميں اس كا وقت ضائع ہوتا ہے ، اور جب انسان اس طرح كے معاملات ميں احتياط كرنا چاہے تو اسے كھلونے كا سر كاٹ دينا چاہيے يا پھر اسے آگ ميں گرم كر كے اس كا چہرہ مسخ كردے تاكہ شكل وشباہت ختم ہوجائے .

ديكھيں: مجموع فتاوي شيخ ابن عثيمين ( 2 / 277- 278 )

اورسائل كا يہ كہنا كہ: كيا ميرے ليے اس كام كےسبب بعد ميں روزے شروع كرنا جائز ہيں ؟

ہميں تومكمل پتہ نہيں چلا كہ اس سے سائل كي مراد كيا ہے، اگر تو وہ يہ مراد لے رہا ہے كہ يہ كام اس كےروزے كو باطل كردےگا تواس كے حق ميں يہ مشروع ہے كہ كسي دوسرے وقت ميں جب وہ يہ حرام ملازمت نہ كررہا ہو اس دوران ان روزں كي قضا ادا كرے، تواس كا بيان گزچكا ہے كہ ہر قسم كي نافرماني اور گناہ روزوں پر اثر انداز ہوتي ہيں تواس طرح اس سے اجروثواب ميں كمي ہوگي، اور بعض اوقات جب اس كي معصيت وگناہ زيادہ ہوں تو مكمل طور پر ہي اجروثواب سے محروم ہو سكتا ہے، ليكن اس كا روزہ باطل نہيں ہوگا اور نہ ہي اسے اس روزے كي قضاء كا حكم ديا جائےگا بلكہ اسے چاہيے كہ وہ ہر وقت مكمل طور پران معاصي اور گناہوں سے رك جائے اور خاص كر رمضان المبارك كے مہينہ ميں .

مزيد تفصيل كےليے سوال نمبر ( 623) اور ( 620) كےجواب كا مطالعہ كريں .

اوراگر وہ كسي اور معاملہ ميں سوال كرنا چاہے توہماري گزارش ہے كہ وہ اس كي اچھي طرح وضاحت كرے تاكہ ہم اس كا جواب صحيح طور پر دے سكيں .

واللہ اعلم

٦٢٢-فوت شدہ دادا جان كے گھر آكر لوگ وہاں كے پانى سے تبرك حاصل كرتے ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميرے ايك دوست كا دادا جن نكالنے ميں معروف تھا، ميرا اعتقاد ہے كہ وہ ان كے ساتھ شريعت اسلاميہ كے مطابق عمل نہيں كرتا تھا واللہ اعلم كيونكہ ميرے دوست نے جو كچھ مجھے بتايا ہے كہ اس كا دادا نماز ادا نہيں كرتا تھا، اور اب اس كے دادا كے فوت ہو جانے كے بعد اس كى رہائش گاہ پر آكر بركت حاصل كرتے ہيں، اور اس گھر كے ايك كونے ميں لگى ہوئى ٹونٹى سے پانى لے كر جاتے ہيں كہ يہ پانى بابركت ہے، اور اس ٹونٹى كے پاس كچھ مال بھى چھوڑ جاتے ہيں.
سوال يہ ہے كہ: ميرے دوست كو آپ كى كيا نصيحت ہے، كيا اسے يہ ٹونٹى ختم كر دينى چاہيے يا وہ كيا كرے، اور كيا اس ٹونٹى كے پاس پڑا ہوا مال اس كے ليے حرام ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

انبياء كے علاوہ كسى اور كے آثار سے تبرك حاصل كرنا جائز نہيں چاہے صالحين كا تبرك ہو يا طالحين كا، اللہ تعالى سے عافيت كے طلبگار ہيں، ليكن پھر لوگوں كا ايسے شخص سے تبرك حاصل كرنا جو بے نماز ہو شديد جھالت اور غظيم غفلت كى نشانى ہے، اور اس بات كى دليل ہے كہ لوگوں كو گمراہى سے نجات دلانے كے ليے صحيح عقيدہ كى تعليم دينے كى ضرورت ہے.

انبياء كے علاوہ كسى اور شخص كے آثار سے تبرك حاصل نہ كرنے كى دليل يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كسى بھى صحابى سے منقول نہيں كہ كسى نے ابو بكر صديق، يا عمر فاروق، يا كسى اور صحابى سے تبرك حاصل كيا ہو، اور اگر اس ميں كوئى بھلائى اور خير ہوتى تو وہ لوگ اس ميں سبقت لے جاتے.

شاطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كے بعد صحابہ كرام ميں سے كسى ايك كے سے بھى يہ چيز ثابت نہيں، حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت ميں اپنے بعد ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كے خليفہ بھى تھے سے افضل كسى اور كو نہيں چھوڑا، اور ان كے ساتھ اس طرح كى كوئى چيز نہيں كى گئى، اور نہ ہى عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ، جو كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كے بعد افضل شخص تھے، اور پھر اسى طرح ان كے بعد عثمان غنى رضى اللہ تعالى عنہ اور پھر ان كے بعد على رضى اللہ تعالى عنہ كى افضليت ہے، اور ان كے بعد باقى سب صحابہ كرام جن سے افضل امت ميں اور كوئى شخص نہيں.

پھر كسى صحيح اور معروف طريق سے يہ ثابت نہيں ہوتا كہ ان ميں سے كسى ايك نے بھى كسى بھى طريقہ سے ان سے تبرك حاصل كيا ہو، بلكہ انہوں نے تو افعال اور اقوال اور سيرت جس پر انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى كى اس پر ہى اقتصار كيا تو اس طرح يہ ان سب اشياء كو ترك كرنے پر ان كا اجماع ہوا " انتہى.

ماخوذ از: الاعتصام ( 1 / 482 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے آثار كے علاوہ كسى بھى شخص كے آثار سے تبرك حاصل نہيں كيا جا سكتا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں بھى ان كے آثار سے تبرك حاصل كيا جاسكتا ہے، اسى طرح اگر ان كے كوئى آثار باقى ہوں تو ان كى وفات كے بعد بھى ان سے تبرك حاصل كيا جا سكتا ہے، جيسا كہ ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس چاندى كا ايك برتن تھا جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے چند ايك بال مبارك تھے جس سے مريض كا علاج كيا جاتا تھا، جب كوئى مريض آتا تو ان بالوں پر پانى ڈال كر اسے حركت ديے كر مريض كو پانى ديتى تھيں.

ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے علاوہ كسى اور كى تھوك، يا پسينہ، يا كپڑے، يا كسى اور چيز سے تبرك حاصل كرنا جائز نہيں، بلكہ يہ حرام اور شرك كى ايك قسم ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع الفتاوى ( 2 / 107 ).

دوم:

آپ كے دوست پر دو چيزوں پر عمل كرنا ضرورى اور واجب ہے:

پہلى:

وہ لوگوں كو اس ممنوع تبرك سے بچنے كا كہے، اگر وہ اس كى استطاعت اور بہتر طريقہ اختيار كر سكتا ہو، وگرنہ وہ اس سلسلے ميں اہل علم سے معاونت لے سكتا ہے تا كہ وہ لوگوں كو حق كى راہنمائى كريں، اور انہيں صحيح چيز بتائے اور غلط اور فاسد قسم كے اعتقادات سے بچائے جو انہيں شرك و بدعت كى طرف لے جانے كا باعث ہوں.

دوسرى:

وہ يا تو اس ٹونٹى كو ختم كر كے يا پھر اس كا پانى بند كر كے اس سے چھٹكارا حاصل كرے، اور اس سلسلے ميں اس كے ليے عمر رضى اللہ تعالى عنہ قدوہ اور نمونہ ہيں جب انہيں علم ہوا كہ حديبيہ كے مقام پر موجود درخت كے قريب لوگ نماز ادا كرنے لگے ہيں تو انہوں نے اس درخت كو ہى كٹوا ديا.

شاطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور ابن وضاح كہتے ہيں كہ ميں نے اہل طرطوس كے مفتى عيسى بن يونس سے سنا وہ بيان كہہ رہے تھے كہ:

" عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اس درخت كو كاٹنے كا حكم جارى كيا جس كے نيچے بيٹھ كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيعت رضوان كى تھى؛ كيونكہ لوگ وہاں جاكر اس درخت كے نيچے نماز ادا كرنے لگے تو انہيں فتنہ كا خدشہ لاحق ہوا " انتہى.

ماخوذ از: الاعتصام بالكتاب والسنۃ ( 1 / 448 ).

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ابن سعد كے ہاں صحيح سند كے ساتھ نافع رحمہ اللہ سے روايت ہے كہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كو علم ہوا كہ كچھ لوگ جا كر درخت كے نيچے نماز ادا كرتے ہيں تو انہوں نے انہيں وعيد پلائى اور پھر اس درخت كو كاٹنے كا حكم جارى كر ديا " انتہى.

فتح البارى ( 7 / 513 ).

سوم:

جو مال وہ يہاں سے حاصل كر چكا ہے اس ميں تو كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ وہ ايسا مال ہے جو لوگوں نے اپنى رضامندى سے خرچ كيا ہے، اور اس كا كوئى مالك نہيں تو اسطرح اس كے ليے وہ مال لينا جائز ہوا، ليكن اس كے ليے يہ مال حاصل كرنے كے ليے اس برائى كا انكار نہ كرنا اور اسے برقرار ركھنا جائز نہيں، بلكہ جيسا كہ بيان ہو چكا ہے اسے وہى كرنا لازم ہے كہ وہ لوگوں كے سامنے اس برائى كى وضاحت اور بيان كرے اور اسے ختم كر دے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں اولياء اور صالحين كے ليے نذر مانى گئى اشياء سے استفادہ كرنے كے متعلق درج ہے:

.... اور اگر اولياء اور صالحين كے ليے نذر مانى ہوئى اشياء ذبح كردہ جانور كے علاوہ كچھ اور ہوں مثلا روٹى، كھجور، چنے، حلوہ اور مٹھائى وغيرہ جسے كھانے كى حلت ذبح پر موقوف نہيں ہوتى، اس ليے لوگوں ميں اس كى تقسيم نہيں كرنى چاہيے كيونكہ ايسا كرنے ميں اس بدعت كى ترويج اور نشر واشاعت، اور اس شرك ميں مشاركت اور اس كے اقرار ميں شامل ہوتى ہے.

ليكن يہ اس كے حكم ميں آتى ہے جس سے مالك نے اعراض كر كے اسے چھوڑ ديا ہے كہ جو چاہے اسے لے جائے، تو اس ليے جو بھى اسے جائے اس پر كوئى حرج نہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 227 ).

واللہ اعلم

٦٢١-مسلمان جن سے تعاون ليكر علاج كرنے كا دعوى كرنے والے طبيب سے علاج كروانے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اگر ميں ايسے شخص سے علاج كراؤں جس كے پاس مسلمان جن طبيب ہوں تو كيا ميرا روزہ ٹوٹ جائيگا ؟

الحمد للہ:

اول:

علاج وغيرہ ميں جن كى معاونت حاصل كرنا جائز نہيں، اور نہ ہى اس قسم كا دعوى كرنے والے شخص كے پاس جانا جائز ہے.

كسى مسلمان شخص كو كے لائق نہيں كہ وہ فى الواقع كسى كے علاج اور اس ميں اثر سے دھوكہ كھائے، ديكھيں يہ دجال آسمان كو كہےگا بارش برساء تو آسمان سے بارش برسنے لگےگى، اور زمين كو كہےگا: اپنے خزانے اگل دو تو زمين خزانے نكال باہر كريگى، تو كيا مسلمان اس كے دھوكہ ميں آكر اس كے اس دعوى كى تصديق كر دےگا ؟ !

ہو سكتا ہے يہ فتنہ و آزمائش اور اللہ كى جانب سے ان كے ليے بتدريج گرفت ميں لينے كا باعث ہو.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ ہم ان كو بتدريج وہاں سے ( گرفت ميں ) ليے جارہے ہيں جہاں سے انہيں خبر بھى نہيں ﴾الاعراف ( 182 ).

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا كہ:

اگر ضرورت پڑے تو مسلمان جنوں كا علاج معالجہ ميں تعاون لينے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" علاج معالجہ ميں جن سے تعاون نہيں لينا چاہيے، اور نہ ہى اس سے سوال كرنا چاہيے، بلكہ مريض مشہور و معروف ڈاكٹر حضرات سے دريافت كرے، ليكن كسى بھى جن كى طرف رجوع مت كرے؛ كيونكہ يہ جنوں كى عبادت اور ان كى تصديق كا وسيلہ ہے؛ اس ليے جنوں ميں كافر بھى ہيں، اور مسلمان جن بھى، اور بدعتى بھى، اور آپ كو ان كے حالات كا علم نہيں، اس ليے ان پر اعتماد نہيں كرنا چاہيے، اور نہ ہى ان سے كچھ دريافت كيا جائے چاہے وہ آپ كے سامنے كسى بھى شكل ميں آئيں.

بلكہ آپ اہل علم اور طب كا علم ركھنے والے انسانوں سے اس كے متعلق دريافت كريں.

اللہ سبحانہ و تعالى نے مشركوں كى مذمت كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ بات يہ ہے كہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب كيا كرتے تھے، جس سے جنات اپنى سركشى ميں اور بڑھ گئے ﴾الجن ( 6 ).

اور اس ليے بھى كہ يہ ان ميں اعتقاد اور شرك كا وسيلہ ہے، اور يہ وسيلہ ان جنوں سے استعانت اور نفع طلب كرنا ہے، اور يہ سب كچھ شرك ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1602 ) ربيع الاول 1418 ھـ صفحہ نمبر ( 34 ).

اور شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" جن سے استعانت نہيں كى جائيگى، نہ تو كسى مسلمان جن سے، اور نہ ہى اس سے جو مسلمان ہونے كا دعوى كرے؛ كيونكہ ہو سكتا ہے وہ مسلمان ہونے كے دعوى ميں جھوٹا ہو، اور صرف انسانوں كے ساتھ دخل اندازى كرنے كے ليے دعوى كر رہا ہو، اس ليے يہ دروازہ ابتدا سے ہى بند كر ديا جانا چاہيے.

جن سے معاونت و استعانت لينى جائز نہيں چاہے وہ اپنے مسلمان ہونے كا دعوى ہى كريں، كيونكہ اس طرح يہ دروازہ كھل جائيگا.

اور پھر غائب سے استعانت جائز نہيں ہے، چاہے وہ جن ہو يا كوئى اور، اور چاہے مسلمان ہو يا غير مسلم، صرف استعانت و مدد اس سے طلب كى جاسكتى ہے جو حاضر ہو اور پھر وہ مدد كرنے پر قادر بھى ہو.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے موسى عليہ السلام كے متعلق فرمايا ہے:

﴿ اور موسى ( عليہ السلام ) ايك ايسے وقت شہر ميں آئے جبكہ شہر كے لوگ غفلت ميں تھے، تو يہاں دو شخصوں كو لڑتے ہوئے پايا، يہ ايك تو اس كے رفيقوں ميں سے تھا، اور يہ دوسرا اس كے دشمنوں ميں سے، اس كى قوم والے نے اس كے خلاف جو اس كے دشمنوں ميں سے تھا اس سے فرياد كى، جس پر موسى ( عليہ السلام ) نے اسےمكا مارا جس سے وہ مر گيا موسى ( عليہ السلام ) كہنے لگے يہ تو شيطانى كام ہے، يقينا شيطان دشمن اور كھلے طور پر بہكانے والا ہے ﴾القصص ( 15 ).

يہ حاضر ہو اور مدد كرنے كى استطاعت و قدرت بھى ركھے تو عادى امور ميں ايسا كرنے ميں كوئى مانع نہيں " انتہى.

ديكھيں: السحر والشعوذۃ صفحہ ( 86 - 87 ).

دوم:

رہا روزہ تو ان شاء اللہ يہ صحيح ہے، اس سے فاسد نہيں ہوتا، ليكن يہ ہے كہ روزے كا اجروثواب كم ہوگا، اور معاصى كے ارتكاب سے تو بعض اوقات روزے كا اجروثواب بالكل ہى ختم ہو جاتا ہے.

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 620 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٦١٧-آنكھ يا كندھے كى شكل، يا آيۃ الكرسى كنندہ سونا پہننے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

بہت سے لوگ سونے كا ٹكڑا ايك دوسرے كو بطور ہديہ ديتے ہيں، اس پر آيۃ الكرسى، يا لفظ جلالہ ( اللہ )، يا پھر اللہ جل جلالہ كے الفاظ كنندہ ہوتے ہيں، اور ايك اور قسم بھى ہے جو كندھے يا آنكھ يا دل كى شكل ميں ہوتا ہے، يا پھر زرد موتى كى شكل ميں.
سوال يہ ہے كہ: ان ميں سے حرام كونسا ہے، اور كيوں حرام ہے ، اور اگر اس طرح كا سونا كسى مسلمان كو ہديہ ملے تو اسے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

پہنے جانے والے سونے پر آيۃ الكرسى يا لفظ جلالہ لكھنا مشروع نہيں، كيونكہ ايسا كرنے ميں اس كى توہين ہے، اور ايسا كرنے ميں يہود و نصارى كى مشابہت بھى ہو سكتى ہے، كيونكہ وہ صليب كو لٹكا كر اس كى تعظيم كرتے ہيں.

ليكن انگوٹھى ميں نام لكھنے كى رخصت آئى ہے، چاہے نام لفظ جلالہ پر مشتمل ہو، مثلا عبد اللہ، اور عبد الرحمن، اور اسى طرح انگوٹھى پر كوئى جملہ مفيدہ لكھنے ميں بھى كوئى حرج نہيں، چاہے اس ميں اللہ كے نام ميں سے كوئى نام بھى آتا ہو مثلا: الحمد للہ، اور توكلت على اللہ ..... اس كے متعلق صحابہ كرام سے بہت كچھ وارد ہے، اس كى تفصيل اور كچھ مثاليں سوال نمبر ( 242 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے، آپ ا سكا مطالعہ كر ليں.

اور مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ہمارے پاس دل كى اشكال ہيں جن پر لفظ جلالہ كنندہ ہے، جسے عرب اور غير عرب ہر جنس كے لوگ ليتے ہيں، اور ہم عرب كو يہ بات كہہ ديتے ہيں كہ اسے بيت الخلاء ميں لے جانا حرام ہے، آپ برائے مہربانى اس كى فروخت كے متعلق معلومات فراہم كريں.

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" جس زيور پر لفظ جلالہ كنندہ ہو اس كى فروخت جائز نہيں، ليكن اگر لفظ جلالہ اس سے مٹا ديا جائے تو پھر جائز ہے، پہلے بھى كميٹى كو اس طرح كا سوال ہو چكا ہے، جس كا جواب فتوى نمبر ( 2077 ) ميں ديا گيا ہے سوال درج ذيل ہے :

ہم جناب والا كو اپنى اس درخواست كے ساتھ سونے كا زيور بھى بھيج رہے ہيں جس پر لفظ جلالہ ( اللہ ) لكھا ہوا ہے، اور يہ زيور ہم مسلمانوں كى عورتيں بطور زيور زينت كے ليے استعمال كرتى ہيں، كچھ ايام قبل امر بالمعروف والنھى عن المنكر كميٹى كے بھائيوں نے ہميں بتايا كہ يہ زيور استعمال كرنا حرام ہے، كيونكہ اس پر لفظ جلالہ لكھا ہوا ہے.

ہم آپ كے علم ميں لانا چاہتے ہيں كہ يہ زيور مسلمان عورتوں كے علاوہ كوئى اور استعمال نہيں كرتا، اور وہ بھى زينت كے ليے استعمال كرتى ہيں، برخلاف يہودى اور عيسائى عورتوں كے، عيساى عورتيں صليب كنندہ زيور پہنتى ہيں، يا پھر بت والا زيور، اور يہودى عورتيں ڈيوڈ سٹار والا زيور پہنتى ہيں، آپ سے گزارش ہے كہ اس موضوع كے متعلق اپنى رائے بيان كريں.

كميٹى نے درج ذيل جواب ديا:

" يہ ديكھتے ہوئے كہ اس زيور پر لفظ جلالہ كنندہ ہے، اور مسلمان عورتيں اسے سينوں پر اس طرح لٹكاتى ہيں جس طرح عيسائى صليب والا اور يہودى عورتيں ڈيوڈ سٹار والا زيور لٹكاتى ہيں.

اور يہ ديكھتے ہوئے كہ جس ميں اللہ كا نام ہے اسے بعض اوقات تو تكليف دور كرنے يا نفع كے حصول كے ليے لٹكايا جائيگا، اور بعض اوقات كسى اور مقصد كے ليے، اور اسے لٹكانا توہين كا باعث بن سكتا ہے، مثلا يہ كہ سوتے وقت اس كے اوپر آ جائے، يا پھر وہ اسے لے كر كسى ايسى جگہ جائے جہاں كلام اللہ يا اللہ كے نام پر مشتمل چيز كو لے جانا مكروہ ہو؛ كميٹى كى رائے يہ ہے كہ لفظ جلالہ والا زيور استعمال كرنا جائز نہيں، تا كہ بطور سد ذريعہ يہود و نصارى سے مشابہت نہ ہو، كيوكہ مسلمانوں كو يہود و نصارى كى مشابہت سے منع كيا گيا ہے، اور اللہ تعالى كے نام كى توہيں نہ ہو، اور اس ليے بھى كہ عمومى طور پر تعويذ لٹكانے كى ممانعت بھى آئى ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 473 ).

دوم:

دل كى شكل والا سونا پہننے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر كندھے يا آنكھ كى شكل يا پھر نيلے منكے كى شكل ميں ہو تو اسے نہيں پہننا چاہيے، كيونكہ يہ اشياء اس اعتقاد كے ساتھ لوگ پہنتے ہيں كہ يہ نظر بد سے بچاتے ہيں، يا نصيب بر لاتے ہيں، حتى كہ اگر مسلمان شخص كا اس كے پہننے ميں يہ غلط اعتقاد نہ بھى ہو تو اسے پھر بھى نہيں پہننا چاہئے كيونكہ اس سے اس شخص كے ساتھ مشابہت ہوتى ہے جس نے غلط اعتقاد سے پہنا ہو.

اور پھر لوگوں كے ليے اس كے بارہ ميں سوء ظن كا بھى باعث بن سكتا ہے كہ وہ يہ گمان كرينگے كہ اس نے نظر بد سے بچنے كے ليے پہن ركھا ہے، اس ليے يہ پہننا جائز نہيں، اور يہ تعويذ پہننے كى ممانعت ميں شامل ہو گا.

امام احمد نے عقبہ بن عامر جھنى رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے تميمہ ( تعويذ ) لٹكايا اس نے شرك كيا "

مسند احمد حديث نمبر ( 17458 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور امام احمد نے عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ سے ہى بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں: وہ كہتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" جس نے تميمہ ( تعويذ ) لٹكايا تو اللہ ا سكا كام پورا نہ كرے، اور جس نے كوڑى لٹكائى اللہ اس كى بيمارى دور نہ كرے "

مسند احمد حديث نمبر ( 17440 ) شعيب ارناؤط نے مسند احمد كى تحقيق ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

تميمہ اسے كہتے ہيں جو نظر بد اور آفات سے بچنے كے ليے لٹكايا جائے.

خطابى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

التميمۃ: كہا جاتا ہے كہ منكے تھے جو آفات كو دور كرنے كے ليے لٹكاتے تھے "

اور بغوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

التمائم: تميۃ كى جمع ہے، اور يہ منكے دانے ہيں جو عرب اپنى اولاد كے گلے ميں اپنے گمان كے مطابق نظر بد سے بچنے كے ليے لٹكاتے تھے، تو شريعت نے اسے باطل قرار ديا "

ديكھيں: التعريفات الاعتقاديۃ صفحہ ( 121 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور ( الودعۃ ) الودع كى واحد ہے، اور يہ سمند سے نكالے جانے والے پتھر ( كوڑياں ) ہيں، جو نظر بد سے بچنے كے ليے لٹكاتے اور گمان كرتے تھے كہ انسان جب يہ كوڑى لٹكائے تو نظر بد نہيں لگتى، يا پھر جن نہيں چھوتا.

قولہ: " لا ودع اللہ لہ " يعنى اللہ تعالى اسے سكون و آرام نہ دے، اور الدعۃ كا ضد پريشانى اور تكليف ہے.

اور كہا جاتا ہے: اللہ تعالى اس كے ليے خير نہ چھوڑے؛ تو اس كے مقصد كے الٹ معاملہ كيا گيا ہے.

اور قولہ: ( اس نے شرك كيا ) اگر ا سكا اعتقاد يہ ہو كہ وہ چيز فى نفسہ اللہ كے حكم كے بغير تكليف دور كرتى ہے تو يہ شرك اكبر ہو گا، وگرنہ شرك اصغر. " انتہى.

ديكھيں: القول المفيد شرح كتاب التوحيد ( 1 / 189 ).

جس شخص كو اس طرح كے سونے كا ٹكڑا ہديہ ميں ملے تو وہ اسے پہنے نہيں، بلكہ فروخت كر دے، اور اسے چاہيے كہ وہ اسے فروخت كرنے سے قبل اس كے نشانات مٹا دے كہ ا سكا پہننا ممكن نہ ہو، بلكہ وہ ڈھال كر نيا بنايا جائے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...