Showing posts with label سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم. Show all posts
Showing posts with label سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم. Show all posts

Thursday, October 25, 2018

1024-درود شریف کے فضائل، مواقع اور احکامات

س- علماء کرام اپنی تقاریر میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کا نام لیا جائے تب ہمیں ﷺ کہنا چاہیے، اور کسی حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں اللہ کے نبی نے فرمایا کے دنیا کا سب سے بخیل شخص وہ ہے جس نے میرا نام سنا اور مجھ پر درود نہیں بھیجا، کیا اس طرح کی کوئی حدیث وارد ہے.؟ اور یہ بھی بتائیں کہ اگر ایک تقریر میں دس مرتبہ ﷺ کہا جائے تو کیا دس مرتبہ درود بھیجنا لازم ہے یا ایک دو مرتبہ کافی ہے.؟

الحمدللہ

اول
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لیے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لیے فنا ہے نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالٰیٰ نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ اس لیے قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ،القرآن، الاحزاب، 33 : 56
ترجمہ: بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی (مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں،
اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو.

اسی طرح درود و سلام کے فضائل اور دینی و دنیوی مقاصد کے حصول میں اس کی برکات مستند احادیث سے ثابت ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا آیا اور عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰیٰ اس کے بدلے اس امتی پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے دس درجے بلند کرتا ہے اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے۔[ (نسائی، السنن الکبریٰ، 6 : 21، رقم : 9892)]“
ایک اور مقام پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں:

”میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم میں آپ پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں۔ میں کس قدر درود شریف پڑھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا چاہو اگر زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا ’’نصف‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا چاہو البتہ زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا دو تہائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جتنا زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا۔ میں سارے کا سارا وظیفہ آپ کے لیے کیوں نہ کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تیرے غموں کی کفایت ہوگی اور گناہ بخش دیئے جائیں گے۔[ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الزهد، باب ماجاء فی صفة أوانی الحوض، 4 : 245، رقم : 2457]“

1- ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا)
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ [ مسلم : ۴۰۸]
2- ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلند کردیے جاتے ہیں ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً ، صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ عَشْرَصَلَوَاتٍ ، وَحَطَّ عَنْہُ عَشْرَ خَطِیْئَاتٍ ، وَرَفَعَ عَشْرَ دَرَجَاتٍ) [ صحیح الجامع : ۶۳۵۹ ]
’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘
3- درود شریف کثرت سے پڑھا جائے تو پریشانیوں سے نجات ملتی ہے ۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :
’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئْتَ جتنا چاہو۔ میں نے کہا : چوتھا حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئْتَ ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئْتَ ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَ جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئْتَ ، فَإِنْ زِدْتَّ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکَجتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :إِذًا تُکْفٰی ہَمَّکَ ، وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ تب تمھیں تمھاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔ایک روایت ہے میں ہے :إِذَنْ یَکْفِیْکَ اﷲُ ہَمَّ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِتب تمھیں اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘ [ ترمذی : ۲۴۵۷ ، وصححہ الالبانی ]
روزِ قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب وہی ہو گا جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا تھا ۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلاَۃً)
’’ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا۔‘‘
[رواہ الترمذی وابن حبان وابو یعلی وغیرہم]

وہ مواقع جہاں درود شریف ضرور پڑھنا چاہیے​

ویسے تو درود شریف کسی وقت یا موقع کی قید کے بغیر کثرت کے ساتھ پڑھنا چاہیے، تاہم بعض مواقع ایسے ہیں جہاں اس کے پڑھنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ تو مشہور ہیں ۔ مثلاً ہر نماز کے آخری تشہد میں، قنوتِ وتر کے آخر میں، نماز جنازہ کی دوسری تکبیر کے بعد اور خطبہ جمعہ وغیرہ میں۔ ان کے علاوہ مزید کچھ مواقع یہ ہیں :

1 دعا سے پہلے
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اس نے جلد بازی کی ہے ۔ پھر آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِتَحْمِیْدِ اﷲِ وَالثَّنَائِ عَلَیْہِ ، ثُمَّ یُصَلِّیْ عَلَی النَّبِیِّ ، ثُمَّ لْیَدْعُ بِمَا شَائَ تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ لے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف وثنا بیان کرے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے ، اس کے بعد جو چاہے اللہ سے مانگے۔‘‘
[ ابو داؤد : ۱۴۸۱ ، ترمذی : ۳۴۷۷ ۔ وصححہ الالبانی ]
اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
إِنَّ الدُّعَائَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ ﷺ [ ترمذی : ۴۸۶۔ وحسنہ الالبانی ]
’’بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے اور کوئی دعا اوپر نہیں جاتی یہاں تک کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔‘‘

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے تو ذکرکرنے اور سننے والے دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
(رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ)
’’اس آدمی کی ناک خاک میں ملے جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔‘ [ترمذی : ۳۵۴۵۔ وصححہ الالبانی ]
نیز ارشاد فرمایا :
(اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ)
’’ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
[ ترمذی : ۳۵۴۶۔ وصححہ الابانی ]

2-اذان کے بعد
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
(إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلاَۃً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ بِہٖ عَشْرًا)
’’جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جیسے وہ کہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو ، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجتا ہے ( یا دس مرتبہ اس کی تعریف کرتا ہے)۔‘‘ [مسلم: ۳۸۴]

3- مسجد میں داخل ہوتے اور اس سے نکلتے ہوئے
مسجد میں داخل ہوتے اور اس سے نکلتے ہوئے پہلے درود شریف اور پھر مسنون دعا پڑھنی چاہیے۔‘[ السنن الکبری للنسائی وابن حبان ]

4-جمعہ کے روز
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی بعض خصوصیات ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :
(۔۔۔فَأَکْثِرُوْا عَلَیَّ مِنَ الصَّلاَۃِ فِیْہِ ، فَإِنَّ صَلاَتَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ قَالَ : قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اﷲﷺِ ! وَکَیْفَ تُعْرَضُ صَلاَتُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ أَرِمْتَ ؟ قَالَ : یَقُوْلُوْنَ : بَلَیْتَ ، فَقَالَ : إِنَّ اﷲَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْأرْضِ أَجْسَادَ الْأنْبِیَائِ)
’’ لہذا تم اس دن مجھ پر زیادہ درود بھیجا کرو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ ( قبر میںآپ کا جسدِ اطہر ) تو بوسیدہ ہو جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیا کے جسموں کو کھائے۔‘‘ [ ابو داؤد :۱۰۴۷ ۔ وصححہ الالبانی ]

5- صبح وشام
حضرت ابودردائ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(مََنْ صَلّٰی عَلَیَّ حِیْنَ یُصْبِحُ عَشْرًا ، وَحِیْنَ یُمْسِیْ عَشْرًا ، أَدْرَکَتْہُ شَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ صحیح الجامع : ۶۳۵۷ ]
’’جو آدمی صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے ، اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘

دوم
احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا چاہیے، جہاں تک یہ سوال رہا کہ اگر ایک تقریر میں دس مرتبہ درود بھیجا جائے تو کیا دس مرتبہ جواب دینا ضروری ہے، جی ہاں بالکل، اگر سو مرتبہ بھی درود بھیجا جائے تو سو مرتبہ ہی جواب دیا جائیگا-

سوم
درود و سلام ایک ایسا محبوب و مقبول عمل ہے جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں، شفا حاصل ہوتی ہے اور دل و جان کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ صلوٰۃ و سلام کسی صورت میں اور کسی مرحلہ پر بھی قابلِ رد نہیں بلکہ یہ ایسا عمل ہے جو اللہ تعالٰیٰ کی بارگاہ میں ضرور مقبول ہوتا ہے اگر نیک پڑھیں تو درجے بلند ہوتے ہیں اور اگر فاسق و فاجر پڑھے تو نہ صرف یہ کہ اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ اس کا پڑھا ہوا درود و سلام بھی قبول ہوتا ہے۔

واللہ اعلم

Wednesday, August 15, 2018

٥١١-نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات خلقیہ اورخواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے کچھ دن قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بدنی صفات کا مطالعہ کیا اوراپنے ذھن میں ایک شکل بنائ پھر خواب میں اس ذھنی شکل کے مشابہ ایک شخص دیکھا لیکن مجھے اب پوری وضاحت سے علم نہیں کہ اس نے کیا کہا سواۓ اس کے ڈر ہے کہ ہوسکتا ہے اس نے یہ کہا ہو: میں جن مسلمان بھائیوں سے محبت کرتا ہوں وہ مجھے خواب میں دیکھیں گے ، اس خواب سے پہلے میں نے ان کے گھر میں ایک گناہ کا ارتکاب کیا تھا ، تواب مجھے ڈرہے کہ انہیں خواب کے ذریعے میرے اس جرم کا علم ہوجاۓ گا ۔
توسوال یہ ہے کہ مجھے یہ علم کیسے ہوگا میں نےاس خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہی دیکھا ہے ، مجھے اس معاملے نے بہت پریشان کر رکھا ہے ؟
اس کے بعد میں نے ابھی کچھ دن قبل ایک اورخواب دیکھا میر ےخیال میں میں نے دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہی دیکھا ہے کہ وہ رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کر رہے ہیں ، اوران کے ساتھ زید اورحمزہ رضي اللہ تعالی عنہما بھی موجود تھے ۔
حالانکہ مجھے اس کا علم ہے کہ حمزہ رضي اللہ تعالی عنہ حقیقت میں وہاں نہیں تھے کیونکہ وہ جنگ احد میں شھید ہوچکے تھے ، توکیا واقعی میں نے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے ؟ اس کی تحقیق کس طرح ہوسکتی ہے ؟ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔

الحمد للہ
ہمارے مسلم بھائ ہم ذيل میں وہ احادیث صحیحہ پیش کرتے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف پر مشتمل ہیں ، تواگر آپ نے ان اوصاف کے حامل شخص کوہی اپنی خواب میں دیکھا ہے توآپ نے واقعی حقیقتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
( جس نے مجھے خواب میں دیکھا توحقیقتا وہ مجھے ہی دیکھتا ہے اس لیے کہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کرسکتا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5729 )۔

ربیعہ بن ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ سے سنا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہوۓ کہہ رہے تھے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قدکے تھے نہ تو قد لمبااور نہ ہی چھوٹا تھا ان کا رنگ بالکل سفید نہیں اورنہ ہی گندمی بلکہ سفید سرخی مائل تھا ، ان کے بال نہ تو سخت گھنگریالے اورنہ ہی بالکل سیدھے لٹکے ہوۓ تھے ان پرچالیس برس کی عمر میں وحی کا نزول ہوا اورمکہ مکرمہ میں دس سال قیام فرمایااوران پروحی کا نزول ہوتا رہا اورمدینہ میں بھی دس برس ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا سے رخصت ہوۓ توان کے سراور داڑھی میں بیس بال بھی ایسے نہیں تھے جو سفید ہوں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3283 ) ۔

براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چوڑا تھا وہ عظیم جمہ کے مالک تھے ( جمہ سرکے وہ بال ہيں جوکندھوں تک پہنچیں ) جوکانوں کے نچلے حصہ تک تھے ان پر سرخ رنگ کا جبہ تھا( اورپرلینے والی چادر) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت کوئ شخص نہیں دیکھا ۔ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب صفۃ شعر النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث نمبر ( 2338 ) ۔

علی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ توطویل اورنہ ہی چھوٹے قد کے تھے ( بلکہ درمیانہ قد کے مالک تھے ) ہاتھوں اورقدموں کی انگلیاں غلیظ تھیں ، ضخیم سراورہڈیوں کے مالک تھے سینہ پرناف تک بالوں کی ایک لمبی اورباریک سی لائن تھی ، جب چلتے توآگے کی جانب جھک کر چلتے گویا کہ آپ چڑھائ سے نیچے اتر رہے ہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ توان سے قبل اورنہ ان کے بعد دیکھا ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 3570 ) امام ترمذي نے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے ۔

جابربن سمرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضلیع الفم اور اشکل العین ، منھوس العقب تھے ، شعبہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں میں نے مالک رحمہ اللہ تعالی کو کہا ضلیع الفم کیا ہے ؟ ان کا جواب تھا : وسیع منہ کامالک ہونا ۔

میں نے کہا : اشکل العینین کیا ہے ؟ ان کا جواب تھا : لمبی آنکھوں والا ہونا ۔( لیکن اس کا صحیح معنی یہ ہے کہ آنکھوں کی سفیدی میں سرخی )

میں نے کہا منھوس العقب کیا ہے ؟ ان کا جواب تھا : ایڑیوں پرگوشت کا کم ہونا ۔ صحیح مسلم کتاب الفضائل حدیث نمبر ( 2339 ) ۔

اب رہا مسئلہ معصیت اورگناہ والا توآپ جس گناہ کے اپنے بھائيوں کے گھر میں مرتکب ہوۓ ہیں اس سے توبہ کریں ، اوراگر آپ نے ان کے حقوق میں سے کچھ غصب کیا ہے تو وہ حق انہیں واپس کريں ، اوراللہ تعالی گناہوں کوبخشنے والا رحم کرنے والا غفور رحیم ہے ۔

واللہ اعلم

٥١٠-نبی صلی اللہ علیہ وسلم اوراسلامی معاشرہ کی تعمیر

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

632 میلادی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مستقرمدینہ میں کیسے اورکس حد تک معاشرہ کی اصلاح کرنےاوراس کی تعمیرمیں کامیاب ہوۓ ؟

الحمد للہ
اس میں کوئ شک نہيں کہ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسل نے جس معاشرہ کی بنیاد رکھی وہ امن واستقرارمیں ایک مثالی معاشرہ تھا ، جس کا ظہوراس دن سے ہوا جس دن مدینہ کی سرزمین نے عرب وعجم کے سردار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدم بوسی کی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سرزمین پرایک اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی ۔
اوراس معاشرہ میں امن واستقرار کے کئ ایک عوامل واسباب ہیں جن میں سے چند ایک ذکرکیا جاتا ہے :

اول :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی سرزمین پرقدم رکھتے ہی سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی جو کہ مصائب کے وقت مرجع بننے میں ممد معاون ثابت ہوئ ، اوراسی طرح مسلمانوں کے جمع ہونے اورایک دوسرے سوال اورایک دوسرے کے حالات سے متعارف ہونے کی جگہ بنی جس سے مریض کی عیادت اورمیت کے جنازہ میں جانا اورمسکین کے تعاون اورغیرشادی شدہ کی شادی وغیرہ میں ممد ثابت ہوئ ۔

اس کے بارہ میں یہ چند ایک احادیث ہیں :

انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لاۓ تومسجد بنانے کا حکم صادرفرماتے ہوۓ کہنے لگے اے بنو نجار کیا تم مجھے اپنی اس حویلی قیمت بتاتے ہو تووہ کہنےلگے نہیں اللہ کی قسم ہم تو اس کی قیمت اللہ تعالی سے ہی طلب کرتے ہیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2622 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 524 ) ۔

براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا فرمان { ولاتیمموا الخبیث منہ تنفقون } یہ آیت ہمارے انصارے کے بارہ میں نازل ہوئ ہم کھجوروں کے مالک تھے ، توہر شخص اپنی کھجوروں میں سے کمی اورزیادتی کے حساب سے لے کرآتا کوئ توایک اورکوئ دو خوشے ( کھجوروں والی ٹہنی ) لاکر مسجد میں لٹکا دیتا ۔

اوراصحاب صفہ ( ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ مھاجرین میں سے فقراء ) کے لیے کھانا نہیں ہوتا تھا توان میں سے جب کسی ایک کوبھوک لگتی تووہ آکر اس خوشے کومارتا تواس سے کچی اورپکی کھجوریں گرتیں اوروہ کھا لیتا ۔

تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بھلائ اور خیر میں رغبت نہیں رکھتے تھے وہ ایسے خوشے لاتے جن میں خراب اورردی کھجوریں ہوتی اورخوشہ بھی ٹوٹ چکا ہوتا وہ لا کر لٹکا دیتے تواللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرما دی :

{ اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ کمائ میں سے اورزمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئ چيزوں میں خرچ کرو ، اوران میں سے بری چيزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرو جسے تم خود تولینے والے نہیں ہو ، ہاں اگر آنکھیں بند کرلو تو، اور جان لو کہ اللہ تعالی بے پرواہ اورخوبیوں والا ہے } البقرۃ ( 267 ) ۔

براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ : اگر تم میں سے کسی ایک کواس طرح کا ھدیہ دیا جاۓ جس طرح کی اشیاء وہ دے رہا ہے تواسے قبول نہیں کرے مگر ہوسکتا ہے کہ وہ اسے آنکھیں بند کرکے اوریا پھر حیاء کرتے ہوۓ لے لے ۔

وہ کہتے ہیں کہ تو اس کے بعد ہم میں سے ہرایک وہ چيز لاتا جو اس کے پاس سب سے اچھی ہوتی ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2987 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 1822 ) اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح ترمذی ( 2389 ) میں صحیح قرار دیا ہے ۔

القنو اسے کہتے ہیں جس میں رطب اورتازہ کھجوریں ہوں ۔

الشیص وہ کھجوریں ہیں جن کی پیوند کاری نہ کی گئ ہو ۔

الحشف خراب اورخشک شدہ کھجوروں کوکہا جاتا ہے ۔

دوم :

انصارو مھاجرین کے درمیان اسلامی مؤاخات کا قیام :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصارومھاجرین کےدرمیان اسلامی بھائ چارہ اورمؤاخات قائم کی تویہ فعل معاشرہ کے افراد میں ایسی قوت وطاقت پیدا کرتا ہے جوکسی اورچیز سے پیدا نہیں ہوتی اورنہ ہی ایسی قوت سننےمیں ہی آئ ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی وعجمی اور آزاد وغلام اور قریشی اورغیر قریشی اوردوسرے قبائل میں اخوت وبھائ چارہ قائم کیا توسارا معاشرہ فرد واحد اورجسد واحد کی شکل اختیارکرگيا ۔

تواس کے بعد اس میں کسی قسم کاکوئ تعجب اوراستغراب نہیں رہتا کہ ایک انصاری اپنے مھاجربھائ کوکہے کہ آپ میرے مال کوتقسیم کر کےآدھا لے لیں اوریہ انصاری اپنے مھاجر بھائ کویہ پیشکش کرتا ہے کہ میں اپنی ایک بیوی کوطلاق دیتا ہوں تم اس سے نکاح کرلو ۔

اور اسی طرح انصاری اس قوت علاقہ کی بنیاد پر مھاجر کا وراث بنایا جاتا تھا حتی کہ قرآن مجید نے آیت مواريث کے ساتھ اسے منسوخ کردیا اورانصار کو اس کی رغبت دلائ کہ وہ ان کے لیے کچھ نہ کچھ وصیت کریں ، تواس طرح کے معاشرہ کی کہیں مثال نہیں ملتی اوراس کی مثال بیان کی جاتی ہے ۔

اس سلسلہ میں بعض احادث ذکر کی جاتی ہیں :

1 - عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب مدینہ آۓ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اورسعد بن ربیع کے درمیان مؤاخات قائم کردی اوراسے میرا بھائ بنا دیا ، توسعد رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں انصارمیں سے سب سے زيادہ مال ودولت والاہوں تومیں آپ کے لیے اپنا نصف مال تقسیم کرتا ہوں ۔

اوردیکھو جوبھی میری بیوی آپ کواچھی لگتی ہے میں اسے طلاق دیتا ہوں جب وہ تیرے لیے حلال ہوجاۓ تواس سے نکاح کرلینا ۔

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کی کوئ ضرورت نہیں ، کیا یہاں کسی بازارمیں تجارت ہوتی ہے ؟ سعد رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ سوق قینقاع میں ۔

راوی کہتا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسرے دن بازار کا رخ کیا اورکچھ پنیراورگھی لاۓ ، راوی کہتا ہے کہ پھراس کے دوسرے دن بھی بازار گۓ اور کچھ ہی دن نہیں گذرے تھے کہ عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ آۓ اوران پرزردی کے نشانات تھے تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کیا تو نے شادی کرلی ؟

ان کا جواب تھا جی ہاں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس سے ؟ عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ نے جواب دیاکہ ایک انصاری عورت سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اسے مہرکتنا دیا ؟

عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا ایک گٹھلی کے برابر سونا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اچھا پھر ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری ہو ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1943 ) ۔

2 – ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مھاجرین مدینہ میں آ‎ۓ تواس اخوت کی بنا پرجونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کرائ تھی مھاجرانصاری کا وارث بنتا تھا اوراس میں خونی رشتے کا کوئ تعلق نہیں تھا ، اورجب اللہ تعالی نے { ولکل جعلنا موالی } نازل فرمادی تواسے منسوخ کردیا گیا پھر کہا { والذین عقدت ایمانکم } مگر مدد اورتعاون اورنصیحت ، تووراثت ختم ہوگئ اورصرف اسے کے لیے وصیت کی جاۓ گی ۔ صحیح بخاری حديث نمبر ( 2170 ) ۔

سوم :

دوھجری میں زکاۃ فرض ہوئ تو اغنیاء اورفقراء کے درمیان مواسات قائم ہوئ جس سے مدنی معاشرہ میں قرابت کی نسیج میں اضافہ ہوا ، اوراخوت فی اللہ کے عنصرپہلے سے بھی مزید قوی ہوگۓ ، بلکہ معاملہ اس سے آگے بڑھ کرنفلی صدقہ وخیرات تک جا پہنچا ۔

انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ انصار میں کھجوروں کے اعتبارسے سب سے زیادہ مالدار تھے اوران کواس میں سے سب سے زيادہ محبوب بئرحاء تھا جو کہ کہ مسجد کے آگے واقع تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے اور پاکیزہ پانی نوش فرماتے ۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئ :

{ جب تک تم اپنی پسندیدہ چيزسے اللہ تعالی کے راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگزبھلائ نہیں پاسکتے } آل عمران ( 92 )

ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکرکہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ : { جب تک تم اپنی پسندیدہ چيزسے اللہ تعالی کے راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگزبھلائ نہیں پاسکتے } تومیرا سب سے محبوب اورپسندیدہ مال بئر حاء ہے ، یہ اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ ہے میں اللہ تعالی سے اس کے اجر ثواب کی امید رکھتا ہوں ، توآّپ اسے جہاں چاہتے ہیں خرچ کردیں ۔

انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رہنے دو یہ مال دوبہت زیادہ منافع بخش ہے بہت منافع بخش ہے جوکچھ تم کہہ رہے ہومیں نے سن لیا ہے ، میری راۓ یہ ہے کہ تم ایسا کرو اسے اپنے اقرباء میں تقسیم کردو توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں ایسا ہی کرتا ہوں ، توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے اسے اپنے اقرباء اورچچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1392 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 998 ) ۔

تواس طرح مدینہ نبویہ شریف میں مسلمانوں کے درمیان محبت والفت کی علامات ظاہرہوئيں اور مھاجرین نے اپنے انصاری بھائيوں کے حق کوپہچانا اسی کے متعلق چند ایک احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے :

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لاۓ تومھاجرین آکر کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے قوم انصار کودیکھا ہے کہ انہوں نے بہت ہی زیادہ خرچ کیا ہے اورجس قوم کے پاس ہم آکر ٹھرے ہیں ان سے بہتر اوراچھا احسان کرنے والے بہت ہی کم ہیں ۔

ہمیں ہرچيزسے کفایت کی اورہمیں اپنے مال ودولت اورپھلوں میں شریک کیا حتی کہ ہمیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں مکمل اجروثواب یہ ہی نہ لے جائيں ، تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے نہیں ، جب تک تم ان اللہ تعالی سے ان کے لیے دعا کرتے اوران کی تعریف کرتے رہو ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2487 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذی ( 2020 ) اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اوراسی طرح اللہ تعالی نے مدنی معاشرہ میں ایک دوسرے کے درمیان محبت والفت ڈال کران کے دلوں کو یک جان دوقالب بنا دیا ، تواس قوم کا ماٹو ہی اللہ تعالی کے لیے محبت بن گيا جسے اللہ تعالی نے ان پرواجب قراردیااور اسے کمال ایمان کی علامت قراردے دیا ۔

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تم میں سےاس وقت تک کوئ بھی مومن بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائ کے لیے بھی وہی چيز پسند کرے جواپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 13 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 45 ) ۔

نعمان بن بشیر رضي اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ي :

آپ مومنوں کو ایک دوسرے پررحم اورمحبت والفت اورنرمی کرتے ہوۓ دیکھے گے کووہ اس ایک جسم کی مانند ہیں کہ جس کا ایک عضو تکلیف محسوس کرے تومکمل جسم بخاراورتکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5665 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2586 ) ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...