Showing posts with label عقیدہ. Show all posts
Showing posts with label عقیدہ. Show all posts

Monday, October 29, 2018

1027:نبی ﷺ نور تھے یا بشر.؟


سوال: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے یا بشر؟ اور کیا یہ درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، چاہے آپ روشنی ہی میں کیوں نہ ہوں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیدِ اولاد آدم ہیں، آپ آدم علیہ السلام کی نسل میں سے بشر ہیں، اور ماں باپ سے پیدا ہوئے، آپ کھاتے پیتے بھی تھے، اور آپ نے شادیاں بھی کیں، آپ بھوکے بھی رہے، اور بیمار بھی ہوئے، آپکو بھی خوشی و غمی کا احساس ہوتا تھا، اور آپکے بشر ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ آپکو بھی اللہ تعالی نے اسی طرح وفات دی جیسے وہ دیگر لوگوں کو موت دی، لیکن جس چیز سے آپ کو امتیاز حاصل ہے وہ نبوت، رسالت، اور وحی ہے۔

جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

( قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ )

ترجمہ:آپ کہہ دیں: میں یقینا تمہارے جیسا ہی بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہےکہ بیشک تمہارا الہ ایک ہی ہے۔ الكهف/110

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری حالت بالکل ایسے ہی تھی جیسے دیگر انبیاء اور رسولوں کی تھی۔

ایک مقام پر اللہ تعالی نے [انبیاء کی بشریت کے متعلق ] فرمایا:

( وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ )

ترجمہ:اور ہم نے ان[انبیاء] کو ایسی جان نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ ہی انہیں ہمیشہ رہنے والا بنایا۔ الأنبياء/8

جبکہ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت پر تعجب کرنے والوں کی تردید بھی کی اور فرمایا:

( وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأَسْوَاقِ )

ترجمہ:[ان کفار نے رسول کی تردید کیلئے کہاکہ ] یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے، اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ الفرقان/7

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور بشریت کے بارے میں جو قرآن نے کہہ دیا ہے اس سے تجاوز کرنا درست نہیں ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نور کہنا، یا آپکے بارے میں عدم سایہ کا دعوی کرنا ، یا یہ کہنا کہ آپکو نور سے پیدا کیا گیا ، یہ سب کچھ اس غلو میں شامل ہے جس کے بارے میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: (مجھے ایسے بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرو جیسے عیسی بن مریم کو نصاری نے بڑھایا، بلکہ [میرے بارے میں]کہو: اللہ کا بندہ اور اسکا رسول) بخاری (6830)

اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ صرف فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں، آدم علیہ السلام کی نسل میں سے کوئی بھی نور سے پیدا نہیں ہوا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا، اور ابلیس کو دہکتی ہو آگ سے، اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تمہیں بتلادی گئی ہے) مسلم (2996)

شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (458)میں کہا:

"اس حدیث میں لوگوں کی زبان زد عام ایک حدیث کا رد ہے، وہ ہے: (اے جابر! سب سے پہلے جس چیز کو اللہ تعالی نے پیدا کیا وہ تیرے نبی کا نور ہے)!اور اسکے علاوہ ان تمام احادیث کا بھی رد ہے جس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور سے پیدا ہوئے، کیونکہ اس حدیث میں واضح صراحت موجود ہے کہ جنہیں نور سے پیدا کیا گیا ہے وہ صرف فرشتے ہیں، آدم اور آدم کی نسل اس میں شامل نہیں ہیں، اس لئے خبردار رہو، غافل نہ بنو" انتہی۔

دائمی فتوی کمیٹی سے مندرجہ ذیل سوال پوچھا گیا:

"ہمارے ہاں پاکستان میں بریلوی فرقہ کے علماء کا نظریہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، اور اس سے آپکے بشر نہ ہونی کی دلیل ملتی ہے، تو کیا یہ بات درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا؟

تو انہوں نے جواب دیا:

یہ باطل قول ہے، جو کہ قرآن وسنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے، جن میں صراحت کے ساتھ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے، اور بشر ہونے کے ناطے آپ لوگوں سے کسی بھی انداز میں مختلف نہیں تھے، اور آپکا سایہ بھی تھا جیسے ہر انسان کا ہوتا ہے، اور اللہ تعالی نے آپ کو رسالت دے کر جو کرم نوازی فرمائی اسکی بنا پر آپ کی والدین ذریعے پیدائش اور بشریت سے باہر نہیں ہوجاتے، اسی لئے تو اللہ تعالی نے فرمایا: ( قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحَى إِلَيَّ ) کہہ دیں : کہ میں تو تمہارے جیسا ہی بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر رسولوں کا قول قرآن مجید میں ذکر کیا: ( قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلاْ بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) انہیں رسولوں نے کہابھی: ہم تو تمہارے جیسے ہی بشر ہیں۔

جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کی جانے والی روایت کہ آپکو اللہ کے نور سے پیدا کیا گیا، یہ حدیث موضوع ہے"

اقتباس از: "فتاوى اللجنة الدائمة" (1/464)

Friday, August 17, 2018

٥٤٧-عمل صالح کی شرطیں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اللہ تعالی بندے کاعمل کب قبول فرماتا ہے ؟
اورعمل میں کونسی شروط ہوں کہ وہ صالح اوراللہ تعالی کےہاں مقبول ہوتاہے ؟

الحمدللہ

حمدوثنا کےبعد :

کوئی بھی عمل اس وقت تک عبادت نہیں بنتاجب تک کہ اس میں دوچیزیں نہ پائی جائیں ۔

اوروہ دوچیزیں یہ ہےکہ کمال محبت اورکمال تذلل ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ اوروہ لوگ جومومن ہیں وہ اللہ تعالی کی محبت میں بہت سخت ہوتےہیں }البقرۃ /(165)

اوراللہ تبارک وتعالی نےارشادفرمایاہے :

{ یقیناجولوگ اپنےرب کی ہیبت سےڈرتےہیں }المومنون /(57)

اوراللہ تعالی نےاپنےاس فرمان میں اسےجمع کردیاہے :

{ بیشک یہ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتےتھےاورہمارےسامنےعاجزی کرنےوالےتھے }الانبیاء /(90)

توجب اس چیزکاعلم ہوگیاتویہ بھی علم ہوناچاہئےکہ عبادت صرف موحدمسلمان کی ہی قبول ہوتی ہے ۔

جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے :

{ اورانہوں نےجوعمل کئےتھےہم ہےان کی طرف انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا } الفرقان /(23)

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہابیان کرتی ہیں کہ میں نےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوکہا کہ دورجاہلیت میں ابن جدعان صلہ رحمی کیاکرتااورمسکینوں کوکھاناکھلاتاتھا توکیااسےیہ کام آئےگا ؟ تورسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اسےیہ کوئی نفع نہیں دےگا کیونکہ اس نےایک دن بھی یہ نہیں کہاکہ اےمیرے رب قیامت کےدن میری غلطیاں معاف کردے ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(214)

یعنی وہ بعث ونشوراورقیامت پرایمان نہیں رکھتاتھااورنہ ہی وہ اس لئےعمل کرتارہا کہ وہ اللہ تعالی کےسامنے پیش ہوگا ۔

پھریہ کہ مسلمان کی عبادت اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں بنیادی طورپردوشرطیں نہ ہوں ۔

اول : اللہ تعالی کےلئےاخلاص نیت :

وہ اس طرح کہ بندےکےسارےاقوال وافعال اوراعمال ظاہری اورباطنی سب کےسب اللہ تعالی کی رضااورخوشنودی کےلئےہوں کسی اورکےلئےنہیں ۔

دوم : کہ وہ کام اورعبادت اس طریقےاورشریعت کےمطابق ہوجس کااللہ تعالی نےحکم دیاہے ۔

اوروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےمتابعت اورپیروی واتباع سےہوگاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجوکہاہےوہ کیاجائےاورجس سےروکاہےاس سےرک جائےاوران کی مخالفت نہ کی جائےاورنہ ہی کوئی ایسی نئی عبادت یاطریقہ ایجادکرلیاجائےجوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت نہ ہو ۔

اوران دونوں شرطوں کی دلیل اللہ تعالی کایہ فرمان ہے:

{ توجسے بھی اپنےرب سےملنےکی امیدہےاسےچاہئےکہ وہ نیک اعمال کرےاوراپنےرب کی عبادت میں کسی کوبھی شریک نہ کرے } ا کہف ۔/(110)

ابن کثیررحمہ اللہ تعالی کاقول ہے:

{ توجسے بھی اپنےرب سےملنےکی امیدہے } یعنی اس کےثواب اوراچھی جزااوربدلے کی { اسےچاہئےکہ وہ نیک اعمال کرے } یعنی جوکہ اللہ تعالی کی شریعت کےموافق ہوں { اوراپنےرب کی عبادت میں کسی کوبھی شریک نہ کرے } اوروہ اس سےصرف اللہ تعالی وحدہ لاشریک کاچہرہ اور رضاچاہتاہو۔

توقبول عمل کےیہ دوضروری ارکان ہیں کہ وہ اللہ تعالی کےلئےخالص اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کےمطابق ہوناچاہئے ۔ا ھـ

انسان جتنازیادہ اپنےرب اوراس کےاسماءاورصفات کاعلم رکھتاہوگااتناہی اس میں اخلاص زیادہ ہوگااورجتنازیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی سنت کاعلم رکھتاہوگا اس میں اتنی ہی اتباع اورفرماں برداری زیادہ ہوگی ۔

دنیاوآخرت میں کامیابی وکامرانی کاحصول بھی اخلاص اورمتابعت وفرماں برداری سےہی ہےہم اللہ تعالی سےدعاگوہیں کہ وہ ہمیں دنیاوآخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔آمین ۔

واللہ اعلم

Monday, August 13, 2018

٣٠٥-تاویل غیر مکفرہ کے لئے قواعد و ضوابط، اور اس بارے میں کچھ فوائد

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

آپکی ویب سائٹ پر بڑی ہی تفصیل کے ساتھ متعدد فتاوی جات میں جہالت کی بنا پر عذر اور حجت قائم کرنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے، لیکن مجھے آپکی ویب سائٹ پر متأول کے بارے میں کوئی واضح قاعدہ یا ضابطہ نظر نہیں آیا، میں نے اس بارے میں علمائے کرام کی تحریریں پڑھی ہیں، لیکن پڑھنے کے بعد تطبیق کرتے ہوئےمجھے تناقضات کا سامنا کرنا پڑا، مثال کے طور پر بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر تاویل کی لغت کی جانب سے گنجائش نکلتی ہو تو ہم اس وجہ سے متأول کو معذور سمجھیں گے، اور اگر لغت کی جانب سے کوئی گنجائش نہ ملتی ہو تو ہم اسے معذور نہیں سمجھیں گے بلکہ اسکی تکفیر کرینگے، چنانچہ اس قاعدہ کو اگر "استوی"کا معنی "استولی"کہنے والے اشاعرہ پر منطبق کریں تو کہا جاتا ہے کہ لغت میں اسکی گنجائش نہیں ہے، پھر اسکے باوجود علو الہی کے منکرین پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا، حالانکہ شیخ الاسلام نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ علوِ الہی کا منکر کافر ہے۔
آپ ہمیں علماء کی جانب سے جہمیہ اور قدریہ وغیرہ فرقوں کی تکفیر کے بارے میں وضاحت کردیں ۔
اور کیا کسی عالم سے اشاعرہ کی تکفیر ثابت ہے؟

الحمد للہ:

یہ سوال بہت ہی شاندار ہے، اسکے متعلق درج ذیل نقاط میں گفتگو کی جائے گی:

1- دین میں جہالت یا تاویل کی بنا پر پیدا ہونے والے عذر میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ متأول کا عذر جاہل سے زیادہ قابلِ قبول ہونا چاہئے، اس لئے کہ وہ اپنے عقیدے سے بہرہ ور ہے، اور اسے سچا سمجھتے ہوئے اس پر دلائل بھی دیتا ہے، اوراسکا دفاع بھی کرتا ہے، اسی طرح عملی یا علمی مسائل میں بھی جہالت یا تاویل کے عذر بننے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی چاہت کرنے والے متأول پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بلکہ اسے فاسق بھی نہیں کہنا چاہئے، بشرطیکہ اس سے اجتہاد میں غلطی ہوئی ہو، یہ بات علماء کے ہاں عملی مسائل میں معروف ہے، جبکہ عقائد کے مسائل میں بہت سے علماء نے خطاکاروں کو بھی کافر کہہ دیا ہے، حالانکہ یہ بات صحابہ کرام میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں، نہ ہی تابعین کرام سے اور نہ ہی ائمہ کرام میں سے کسی سے ثابت ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات اصل میں اہل بدعت کی ہے" انتہی، "منہاج السنۃ" (5/239)

2- اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان پر حدود جاری نہیں ہونگی، -جیسے کہ قدامہ بن مظعون کو شراب پینے کے بارے میں تاویل کرنے پر حد لگائی گئی- اور نہ ہی یہ مطلب ہے کہ اس کی مذمت نہ کی جائے یا تعزیری سزا نہ دی جائے، بلکہ انکے اس غلط نظریے کو گمراہی اور کفر کہا جائے گا، -جیسے کہ اسکی تفصیل آئندہ آئیگی-اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے جنگ بھی کرنی پڑے، کیونکہ اصل ہدف لوگوں کو انکے گمراہ کن عقیدہ سے محفوظ کرنا ، اور دین کی حفاظت ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اگر کوئی مسلمان اجتہادی تاویل یا تقلید کی بنا پر واجب ترک کردے، یا پھر کسی حرام کام کا ارتکاب کرے اس شخص کا معاملہ میرے نزدیک بالکل واضح ہے، اسکی حالت تاویل کرنے والے کافر سے بہتر ہے، اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں تاویل کرنے والے باغی سے لڑانی نہ کروں، یا تاویل کرتے ہوئے شراب پینے پر کوڑے نہ لگاؤں، وغیرہ وغیرہ، اسکی وجہ یہ ہے کہ تاویل کرنے سے دنیاوی سزا مطقا ختم نہیں ہوسکتی، کیونکہ دنیا میں سزا دینے کا مقصد شر کو روکنا ہوتا ہے" انتہی "مجموع الفتاوی" (22/14)

ایسے ہی شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے کہا: "اگر کسی نے ضرر رساں عقیدہ یا نظریہ پیش کیا تو اِس کے ضرر کو روکا جائے گا چاہے اس کے لئے سزا دینی پڑے، چاہے وہ فاسق مسلمان ہو یا عاصی، یا پھر خطاء کار عادل مجتہد ، اس سے بڑھ کر چاہے صالح اور عالم ہی کیوں نہ ہو، اور چاہے وہ کام انسانی وسعت میں ہو یا نہ ہو۔۔۔ اسی طرح اس شخص کو بھی سزا دی جائے گی جو لوگوں کو دین کیلئے نقصان دہ بدعت کی جانب دعوت دیتا ہے؛ اگرچہ اسے اجتہاد یا تقلید کی بنا پر معذور سمجھا جائے گا " انتہی، "مجموع الفتاوی" (10/375)

3- شریعت میں ہر تاویل جائز نہیں ہے؛ اس لئے شہادتین، وحدانیتِ الہی، رسالتِ نبوی، مرنے کے بعد جی اٹھنے، جنت، اور جہنم کے بارے میں کوئی بھی تاویل قبول نہیں ہوگی، بلکہ اس کو ابتدائی طور پر تاویل کہنا بھی درست نہیں ہے، اور حقیقت میں یہ باطنیت اور زندقہ ہے، جسکا مطلب دین کا یکسر انکار ہے۔

ابو حامد الغزالی -رحمہ اللہ-کہتے ہیں: "یہاں ایک اور قاعدہ کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور وہ ہےکہ : فریق ثانی کبھی متواتر نص کی مخالفت کو بھی تاویل سمجھ لیتا ہے، اور پھر ایسی کمزور سی تاویل پیش کرتا ہے جسکا لغت سے کوئی تعلق ہی نہیں، نہ دور کا نہ قریب کا، چنانچہ یہ کفر ہے اور ایسا شخص جھوٹا ہے، چاہے اپنے آپکو وہ مؤول سمجھتا رہے، اسکی مثال باطنیہ کی کلام میں ملتی ہے، انکا کہنا ہے کہ: اللہ تعالی واحد ہے یعنی وہ وحدانیت لوگوں کو عطا کرتا ہے اور اس وحدانیت کا خالق بھی ہے، ایسے ہی اللہ تعالی عالم ہے یعنی وہ دوسروں کو علم دیتا بھی ہے اور اسکا خالق بھی ہے، اللہ تعالی موجود ہے یعنی کہ وہ دوسری اشیاء کو وجود بخشتا ہے، اس لئے ان کے ہاں تینوں صفات کا معنی یہ لینا کہ وہ بذاتہ خود واحد ہے، موجود ہے اور عالم بھی ہے غلط ہے،اور یہ ہی واضح کفر ہے؛ اس لئے کہ وحدانیت کا ایجادِ وحدانیت معنی کرنا کوئی تاویل نہیں اور نہ ہی عربی لغت میں اسکی گنجائش ہے۔۔۔ اس دعوے کی بہت سی دلیلیں ہیں جو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہیں، جنہیں تاویل کا نام دیا گیا ہے" انتہی، "فیصل التفرقۃ"صفحہ (66-67)

ابن وزیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ایسے شخص کے کفر میں بھی کوئی خلاف نہیں جو دین میں مسلًمہ اشیاء کا انکار کرے، پھر اس انکار کو تاویل کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کرے، جیسے کہ مُلحد لوگوں نے اسمائے حسنی ، قرآنی آیات، شرعی احکام، اخروی معاملات، جنت ، جہنم کے بارے میں تاویل کرتے ہوئے کیا" انتہی، "إیثار الحق علی الخلق" (صفحہ: 377)

4- جائز تاویل وہ ہوتی ہے جس سے دین پر کسی قسم کی قدغن نہ آئے، اور عربی زبان بھی اسکی اجازت دیتی ہو، اور مؤول کا مقصد حق بات تک پہنچنا ہو، علمی قواعد و ضوابط کا اہتمام کیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں انکو تاویل کے معاملے میں معذور سمجھا جائے گا، اور انکے لئے وہی عذر ہونگے جنہیں اہل علم نے علمی مسائل کے اختلافات بیان کرتے ہوئے انکے اسباب کے ضمن میں بیان کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہی حال کفریہ اقوال کا ہے، کہ کبھی انسان کو حق کی پہچان کروانے والی نصوص نہیں ملتی، یا ملتی تو ہیں لیکن پایا ثبوت تک نہیں پہنچتی، یا ثابت تو ہوجاتی ہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتی، یا کبھی اسکے سامنے ایک شبہ آجاتا ہے جسکی بنا پر اللہ تعالی اسکا عذر قبول فرمائیں گے، چنانچہ جو کوئی مؤمن حق کی تلاش میں سرگرداں ہواور پھر بھی اس سے غلطی ہوجائے تو اللہ تعالی اسکی غلطی کو معاف فرمائے گاچاہے وہ کوئی بھی ہو، غلطی چاہے نظری مسائل میں ہو یا عملی، یہ صحابہ کرام اور تمام ائمہ اسلام کا موقف ہے" "مجموع الفتاوی" (23/346)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "علماء کے نزدیک ہر متأول کو اسوقت تک معذور سمجھا جاتا ہے جب تک عربی زبان میں اس تاویل کی گنجائش ہو، اور اسکی توجیہ بھی بنتی ہو" انتہی، "فتح الباری" (12/304)

5- ایک صحیح حدیث بھی موجود ہے جو مسائلِ اعتقاد میں تاویل کرنے والوں کی تکفیر سے روکتی ہے، بشرطیکہ انکی تاویل سے دین میں کسی قسم کا نقصان نہ ہو، اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، ("یہودی اکہتر (71) فرقوں میں تقسیم ہوئے، ستر (70) جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، عیسائی بہتّر (72) فرقوں میں بٹ جائیں گے اکہتر (71) جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جسکے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتّر (73) فرقوں میں تقسیم ہوگی ایک جنت میں جائے گا اور باقی بہتّر(72) جہنم میں جائیں گے "، کہا گیا: یا رسول اللہ ! وہ کون ہونگے؟ آپ نے فرمایا: "وہ بہت بڑی جماعت ہوگی")ابن ماجہ، (3992) اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا۔

ابو سلیمان الخطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ " میری امت تہتّر (73) فرقوں میں تقسیم ہوگی "اسکا مطلب ہے کہ تمام کے تمام فرقے اسلام سے خارج نہیں ہونگے؛ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو اپنی امت میں شمار کیا ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ متأول اسلام سے خارج نہیں ہوتا چاہے تاویل کرتے ہوئے غلطی کر جائے " انتہی، "معالم السنن" از خطابی، (4/295) ایسے ہی دیکھیں، "السنن الکبری"از بیہقی، (10/208)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"ایسے ہی تمام کے تمام بہتّر فرقےہیں، ان میں سے کچھ منافق ہیں، جو کہ باطنی طور پر کافر ہوتے ہیں، اور کچھ منافق نہیں ہیں، بلکہ باطنی طور پر اللہ اور اسکے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ان میں سے بعض باطنی طور پر کافر نہیں ہیں، چاہے تاویل کرتے ہوئےکتنی ہی گھناؤنی غلطی کر بیٹھے۔۔۔ اور جو شخص ان بہتّر فرقوں کے بارے میں کفر کا حکم لگائے تو یقینا اس نے قرآن، حدیث اور اجماع ِصحابہ کرام کی مخالفت کی، بلکہ ائمہ اربعہ اور دیگر ائمہ کے اجماع کی بھی مخالفت کی؛ اس لئے ان میں سے کسی نے بھی ان تمام بہتّر فرقوں کی تکفیر نہیں کی، ہاں کچھ فرقے آپس میں ایک دوسرے کو بعض نظریات کی بنا پر کافر قرار دیتے ہیں" انتہی، "مجموع الفتاوی" (3/218)

6- علماء میں سے جس کسی نے بھی اہل بدعت - غیر مکفرہ -پر کفر کا حکم لگایا ، ان کی مراد ایسا کفر ہے جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جو کچھ امام شافعی دغیرہ سے اہل بدعت کی تکفیر کے بارے میں منقول ہےان کا مقصود "کفر دون کفر "والا کفر ہے" انتہی، "السنن الکبری " ازبیہقی (10/207)

امام بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "امام شافعی رحمہ اللہ نے مطلق طور پر اہل بدعت کی گواہی اور انکے پیچھے نماز کی ادائیگی کو کراہت کے ساتھ جائز قرار دیا ہے، اس بنا پر اگر کہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے ان اہل بدعت کے بارے میں کفر کا حکم لگایا ہے تو اس کا مطلب "کفر دون کفر" والا کفر ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

( ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون ) المائدة/ 44

ترجمہ: اور جو کوئی بھی اللہ تعالی کے احکامات سے ہٹ کر فیصلہ کرے یہی لوگ کافر ہیں "شرح السنۃ" (1/228)

بسا اوقات ائمہ کرام کا لفظِ "کفر "بول کر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"بسا اوقات ائمہ کرام سے کسی کی تکفیر نقل کی جاتی ہے حالانکہ ان کا مقصود صرف تنبیہ ہوتا ہے، اس لئے کفریہ قول کی بنا پر ہر قائل جہالت یا تاویل کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا، اس لئے کہ کسی کے بارے میں کفر ثابت ہونا ایسے ہی ہے کہ جیسے اس کے لئے آخرت میں وعید ثابت کی جائے، جبکہ اسکے بارے میں شرائط و ضوابط ہیں" انتہی، "منہاج السنۃ النبویۃ" (5/240)َ

7- اہل بدعت کے کفر کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال میں اختلاف کفریہ کام اور کفریہ کام کے مرتکب میں فرق کی وجہ سے ہے، چنانچہ وہ کفریہ عقیدہ پر کفر کا حکم لگاتے ہیں، لیکن فردِ معین پر کفر کا حکم اس وقت لگاتے ہیں جب اسکی شرائط مکمل ہوں اور کوئی چیز مانع بھی نہ ہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

" ائمہ کا موقف کفریہ کام اور اسکے مرتکب کے بارے میں تفصیل پر مبنی ہے، اسی بنا پر بغیر سوچے سمجھے ان سے تکفیر کے بارے میں اختلاف نقل کیا گیا ہے، چنانچہ ایک گروہ نے امام احمد سے اہل بدعت کی مطلق تکفیر کے بارے میں دو روایتیں بیان کی ہیں، جنکی وجہ سے مرجئہ اور فضیلتِ علی کے قائل شیعہ حضرات کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے اختلاف کیا ، اور بسا اوقات انہوں نے ان کی تکفیر کی اور ابدی جہنمی ہونے کو راجح قرار دیا، حقیقت میں یہ موقف امام احمد کا ہے اور نہ ہی علمائے اسلام میں سے کسی کا، بلکہ ایمان بلا عمل کے قائلین مرجئہ کی تکفیر کے بارے میں انکا موقف ایک ہی ہے کہ انکی تکفیر نہ کی جائے، اور ایسے ہی عثمان رضی اللہ عنہ پر علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دینے والے کی بھی تکفیر نہ کی جائے، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ خوارج اور قدریہ کی تکفیر سے ممانعت کے بارے میں انہوں نے صراحت کی ہے، امام احمد ان جہمی افراد کی تکفیر کرتے تھے جو اسماء و صفاتِ الہیہ کے منکر ہیں، جسکی وجہ یہ تھی کہ ان کا موقف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول واضح نصوص کے مخالف تھا، دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے موقف کی حقیقت خالق سبحانہ وتعالی کو معطل کرنا تھا، امام احمد رحمہ اللہ انکے بارے میں چھان بین کرتے رہے اور آخر کار انکی حقیقت کو سمجھ لیا کہ انکا مذہب تعطیل پر مبنی ہے، اسی لئے جہمیہ کی تکفیر سلف اور ائمہ کرام کی جانب سے مشہور و معروف ہے، لیکن وہ سب تعیین کے ساتھ افراد پر حکم نہیں لگاتے تھے، کیونکہ مذہب کو مان لینے والے سے بڑا مجرم وہ ہے جو اس مذہب کی جانب دعوت دینے والا ، اسی طرح اس مذہب کی ترویج کرنے والے سے بڑا مجرم وہ ہے جو اپنے مخالفین کو سزائیں دیتا ہو، اور سزا دینے والے سے بڑا مجرم وہ ہے جو اپنے علاوہ دوسروں کی تکفیر کرتا ہو، ان تمام باتوں کے باوجود ایسے حکمران جو جہمیہ کے موقف پر تھے کہ قرآن مخلوق ہے، اور اللہ تعالی کا آخرت میں دیدار نہ ہوگا، وغیرہ، اس سے بڑھ کر یہ تھا کہ یہ حکمران جہمی عقیدہ کی لوگوں کو دعوت بھی دیتے اور مخالفین کو سزائیں بھی، جو انکی بات نہ مانتا اسے کافر جانتے، اور مخالفین کو قید کرنے کے بعد اس وقت تک رہا نہ کرتے جب تک وہ انکے موقف کا قائل نہ ہوجاتا کہ قرآن مخلوق ہےوغیرہ وغیرہ ، وہ اپنے مخالفین میں سے کسی کو گورنر مقرر نہ کرتے، اور بیت المال سے اسی کا تعاون کرتے جو جہمی عقائد کا قائل ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود امام احمد رحمہ اللہ انکے بارے میں رحمت کی دعا کرتے، ان کیلئے اللہ سے مغفرت مانگتےتھے صرف اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کر رہے ہیں اور آپ پر نازل شدہ وحی کا انکار کر رہے ہیں، انہوں نے یہ سب کچھ غلط تاویل کرنے والوں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے کیا "

اسی طرح شافعی رحمہ اللہ نے اکیلئے حفص کو کہا تھا "توں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا"جب اس نے قرآن کے مخلوق ہونے کا دعوی کیا، امام شافعی نے اسکے موقف کی حقیقت بیان کردی کہ یہ کفر ہے، لیکن صرف اسی قول کی بنا پر انہوں نے حفص کے مرتد ہونے کا فتوی نہیں لگایا، اس لئے کہ اسے ابھی ان دلائل کا نہیں پتہ جن کے ساتھ وہ کفر کر رہا ہے، اگر امام شافعی اسے مرتد سمجھتے تو اس کے قتل کا بند وبست کرتے، اسی طرح امام شافعی نے اپنی کتب میں وضاحت کی ہے کہ اہل بدعت کی گواہی قبول کی جائے گی اور انکے پیچھے نماز بھی ادا کی جاسکتی ہے" انتہی، "مجموع الفتاوی" (23/348-349)

8- اب آتے ہیں اشاعرہ کی جانب : اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انکے عقائد میں کچھ شبہات ہیں جو سلفی عقائد کے مخالف ہیں، اُن میں بھی اہل علم موجود ہیں جنکی تقلید کی جاتی ہے، اور ان سے مسائل دریافت کئے جاتے ہیں، یہ سب کے سب ایک ہی ڈِگر پر نہیں ہیں، بلکہ ان میں بھی مختلف درسگاہیں اور منہج میں اختلاف پایا جاتا ہے، اشاعرہ میں سے پہلی تین صدیوں کے افراد حق کے زیادہ قریب ہیں، سابقہ ذکر شدہ تفصیل کو اگر ہم اشاعرہ پر بھی لاگو کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ جس نے بھی اشاعرہ کی تکفیر کے متعلق گفتگو کی اس کا مقصد اشاعرہ سے صادر ہونے والے کفریہ کام ہیں، اس لئے کسی فردِ معین پر کفر کا حکم لگانا مقصود نہیں ہے، یا پھر اس نے مطلقاً کفر کی بات کی ہےجسکا مقصد "کفر دون کفر" تھا ، اس لئے اشاعرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں، اور نہ ہی انکے پیروکار کافر ہیں؛ بلکہ انہیں مسائلِ اعتقاد میں تاویل کی وجہ سے معذور سمجھا جائے گا۔

شیخ عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "میں اشاعرہ کی تکفیر کرنے والے کسی اہل علم کو نہیں جانتا " "ثمرات التدوین" از ڈاکٹر احمد بن عبد الرحمن القاضی (مسئلہ نمبر: 9)

9- ہم آپ کے لئے شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ کی جامع مانع گفتگو سے بدعتی فرقوں پر شرعی حکم لگانے کیلئے خلاصہ پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہا:

اہل بدعت میں سے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی کا جزوی یا کلی انکار بغیر کسی تاویل کے کیا تو وہ کافر ہے؛ اس لئے اس نے ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کا انکار کیا اور اللہ اور اسکے رسول کی تکذیب کی۔

أ‌- جہمی ، قدری، خارجی، اور رافضی وغیرہ کوئی بھی بدعتی اپنے موقف کی کتاب و سنت سے مخالفت جاننے کے باوجوداس پر ڈٹ جاتا ہےاور اسکی تائید بھی کرتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے، راہِ ہدایت واضح ہونے کے باوجود اللہ اور اسکے رسول کا مخالف ہے۔

ب‌- اہل بدعت میں سے جو کوئی بھی ظاہری اور باطنی طور پر اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہو، کتاب و سنت کے مطابق اللہ اور رسول کی تعظیم بھی کرتا ہو، لیکن کچھ مسائل میں غلطی سے حق کی مخالفت کر بیٹھتا ہے، کسی کفریہ اور انکاری سوچ کے بغیر اس سے یہ غلطی سرزد ہوتی ہے، ایسا شخص کافر نہیں ہے، ہاں ایسا شخص فاسق اور بدعتی ہوگا، یا گمراہ بدعتی ہوگا، یا پھر تلاشِ حق کیلئے ناکام کوشش کی وجہ سے قابلِ معافی ہوگا۔

اسی لئے خوارج ، معتزلہ، قدریہ وغیرہ اہل بدعت کی مختلف اقسام ہیں:

• ان میں سے بعض بلا شک وشبہ کافر ہیں جیسے غالی جہمی جنہوں نے اسماء و صفات کا انکار کردیا، اور انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ انکی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کے مخالف ہے، لیکن اسکے باوجود انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی ۔

• اور کچھ ایسے بھی ہیں جو گمراہ، بدعتی، فاسق ہیں مثلا: تاویل کرنے والے خارجی اور معتزلی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب نہیں کرتے، لیکن اپنی بدعت کی وجہ سے گمراہ ہوگئے، اور اپنے تئیں سمجھتے رہے کہ ہم حق پر ہیں، اسی لئے صحابہ کرام خوارج کی بدعت پر حکم لگانے کیلئے متفق تھے، جیسے کہ انکے بارے میں احادیث صحیحہ میں ذکر بھی آیا ہے، اسی طرح صحابہ کرام انکے اسلام سے خارج نہ ہونے پر بھی متفق تھے اگرچہ خوارج نے خونریزی بھی کی اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب کیلئے شفاعت کے انکاری بھی ہوئےاسکے علاوہ بھی کافی اصولوں کی انہوں نے مخالفت کی ، خوارج کی تاویل نے صحابہ کرام کوتکفیر سے روک دیا۔

• کچھ اہل بدعت ایسے بھی ہیں جو سابقہ دونوں اقسام سے کہیں دور ہیں، جیسے بہت سے قدری، کلابی، اور اشعری لوگ، چنانچہ یہ لوگ کتاب وسنت کی مخالفت کرنے والے اپنے مشہور اصولوں میں بدعتی شمار ہونگے، پھر حق سے دوری کی بنیاد پر ہر ایک کے درجات مختلف ہونگے، اور اسی بنیاد پر کفر ، فسق، اور بدعت کا حکم لگے گا، اور حکم لگاتے ہوئے تلاشِ حق کیلئے انکی کوشش کو بھی مد نظر رکھا جائے گا، یہاں اسکی تفصیل بہت لمبی ہو جائے گی" انتہی، "توضیح الکافیۃ الشافیۃ" (156-158)

امید ہے مذکورہ بالا گفتگو سے مسئلہ آپ کیلئے واضح ہوگیا ہوگا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی آپکو علم نافع عنائت فرمائے اور عمل صالح کی توفیق دے۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...