Showing posts with label قرآن اور اسکے علوم. Show all posts
Showing posts with label قرآن اور اسکے علوم. Show all posts

Thursday, October 25, 2018

1021-اس حدیث کا معنی کہ قل ھواللہ احد قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے ۔

سوال-کیا ہمیں اس کی کوئ ضرورت نہیں کہ قرآن کریم کو مکمل پڑھااور سیکھا جاۓ یا یہ کہ رمضان کریم میں قرآن پڑھا جاۓ ۔۔ الخ ، جو بھی ضرورت ہو تو سورۃ اخلاص پڑھ لی جاۓ ۔ میرا خیال ہے کہ غلطی ہوئ ہے کہ سورۃ اخلاص قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے یہ تو بہت ہی حیران کن بات ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ سورۃ اخلاص کو تین مرتبہ پڑھنے سے مکمل قرآن کی برکت حاصل ہوتی ہے ، تو پھر اس وقت تو مکمل قرآن کو کوئ فائد نہ ہوا؟

الحمد للہ

اول :
یہ وہ کچھ احاديث ہیں جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سورۃ اخلاص کی فضیلت میں ثابت ہیں اور ان میں اس بات کا ذکر ہے کہ یہ سورت قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے ۔

ابو سعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ قل ھو اللہ احد کو بار بار پڑھ رہا ہے تو وہ صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پا‎س آۓ اور اس بات کا تذکرہ کیا ، گویا کہ انہوں نے اسے قلیل جانا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ( اس ذات کی قسم جس کے ھاتھ میں میر ی جان ہے بیشک یہ سورۃ قرآن کے تیسرے حصہ کے برابر ہے ) ۔ صحیح بخاری ( 6643 ) ۔

ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کیا تم میں سے کوئ ایک رات میں قرآن کا تیسرا حصہ پڑھنے سے عاجز ہے ؟ تو صحابہ کرام کہنے لگے قرآن کا تیسرا حصہ کس طرح پڑھا جاۓ ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قل ھواللہ احد قرآن کےتیسرے حصہ کے برابر ہے ) صحیح مسلم ( 811 ) ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جمع ہوجاؤ کیونکہ میں تم پر قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں گا تو جمع ہوا وہ ہوگیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاۓ اور قل ھو اللہ احد پڑھی اورپھر چلے گۓ ، تو ہم ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ آسمان سے کوئ خبر آئ ہے جس کی بنا پر آپ اندر چلے گۓ ہيں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاۓ اور کہنے لگے کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں تم پر قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں گا خبردار بیشک یہ قرآن کے تیسرے حصہ کےبرابر ہے ) صحیح مسلم ( 812 ) ۔

دوم :

اللہ تبارک وتعالی کا فضل بڑا وسیع ہے ، اوراللہ تعالی نے اس امت پر بڑا فضل وکرم کیاہے کہ اس کی عمر کم ہونے کے عوض چھوٹے چھوٹے کاموں پر بہت ہی زیادہ اجرو ثواب رکھا ہے ، اور اس بات پر تعجب ہے کہ کـچھ لوگ خیر اور بھلائ کے کام زیادہ کرنے کی حرص رکھیں وہ اس کے بدلہ میں سستی اور اطاعت میں کاہلی کا شکار ہوگۓ ہیں ، یا پھر وہ اس اجرو ثواب پر تعجب کرتے اور اسے بعید سمجھتے ہیں ۔

اور حدیث کے معنی کے متعلق یہ ہے کہ :

جزاء یعنی بدلہ اور اجزء (یعنی کسی دوسرے سے کافی ہوجاۓ ) میں فرق ہے اور یہی وہ چیز ہے جس میں سائل فرق نہیں کرسکا اور اشکال میں پڑھ گیا ہے ۔

جزاء اس اجر اور ثواب کو کہا جاتا ہے جو کہ اللہ تعالی اپنی اطاعت کے بدلہ ميں دیتا ہے ۔

اور اجزاء یہ ہے کہ وہ چیز جو کسی دوسری چیز کی جگہ لے اوراس سے کفایت کرجاۓ ۔

تو قل ھواللہ احد پڑھنے کی جزاء اور بدلہ ثلث قرآن پڑھنے کے برابر ہے یہ نہیں کہ یہ قرآن کا تیسرا حصہ پڑھنے سے کفایت کرے گا ۔

مثلا اگر کوئ یہ نذر مانے کہ وہ قرآن کا تیسرا حصہ پڑھے گا تو اس کے لۓ قل ھواللہ احد پڑھنا کافی نہیں کیونکہ یہ اجرو ثواب میں ثلث قرآن کے برابر ہے ، نہ کہ ثلث قرآن کے پڑھنے میں یہ کافی ہوگی ۔

اور اسی طرح یہ مثال تین مرتبہ پڑھنے میں بھی ہے ، تو جس سے اسے نماز میں تین بار پڑھ لیا تو یہ سورۃ فاتحہ سے کفایت نہیں کرے گی ، اس کے باوجود کہ اسے اجروثواب مکمل قرآن کریم کا ملے گا ، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ اسے سورۃ فاتحہ کی جگہ پر بھی کافی ہے ۔

اور اسی طرح شریعت میں بھی ہے کہ شارع نے حرم مکی میں ایک نماز پڑھنے والے کو ایک لاکھ نماز کا اجرو ثواب دیا ہے ، تو کیااس فضل ربانی سے یہ سمجھنا چاہۓ کہ دسیوں سال نماز کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اس نے ایک نماز حرم مکی میں پڑھ لی ہے جو کہ ایک لاکھ کے برابر ہے ؟ تو یہ سب اجر ثواب میں ہے لیکن کفایت ایک اور چیز ہے ۔

پھر دوسری بات یہ ہے کہ آج تک کسی اہل علم نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں قرآن کریم کی حاجت و ضرورت نہیں اوریہ کہ قل ھو اللہ احد اس سے کافی ہے ،اہل علم میں سے صحیح قول تو یہ ہے کہ اس سورۃ کو فضل عظیم حاصل ہے اس لۓ کہ قرآن کریم تین اقسام پر نازل ہوا ہے ، اس میں سے ثلث احکام ہیں اور ثلث وعد اور وعید کے لۓ اور ثلث اسماء و صفات کے لۓ ہے ۔

اور اس سورۃ میں اسماء وصفات جمع ہیں ۔ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ کا یہی قول ہے اور اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے حسن قرار دیا ہے ۔ مجموع الفتاوی ( 17 / 103 ) ۔

اور مسلمان باقی دونوں اوامریعنی احکام اور وعد اور وعید سے مستغنی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان کی اسے کتاب اللہ کو دیکھے اور اس میں غوروفکر کيۓ‎ بغیر ان دونوں کی معرفت ہو سکتی ہے ، اور نہ ہی اس آدمی کے لۓ جو کہ سورۃ قل ھو اللہ احد پر ہی رہے یہ ممکن ہے کہ وہ ان دونوں اوامر کو جان سکے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ :

اور صحیح یہ ہے کہ جس طرح اموال کی مختلف جنسیں ہیں یعنی کھانے اور پینے اور پہننے اور رہنے اور نقدی وغیرہ والی جنس تو اسی طر ح ثواب کی مختلف جنسیں ہیں ، تو جب آدمی کسی مالی جنس کا مالک بن جاۓ جو کہ مثلا ہزار دینار کے برابر ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آۓ گا کہ اب وہ ساری مالی جنسوں سے بھی کافی ہے ، بلکہ اگر اس کےپاس مال جو کہ کھانے کی شکل میں ہے ہو تو اسے لباس اوررہائش کی بھی ضرورت ہوگی ، اور اسی طرح اگر اس کے پاس نقدی جنس کے علاوہ کو‏ئ اور ہو تو وہ ا س کے علاوہ اور کا بھی محتاج ہوگا ، اور اگر اس کے پاس صرف نقدی ہو تووہ ان ساری انواع کا محتاج ہو گا جو کہ اس کے منافع اور انواع کا محتاج ہے ۔

اور سورۃ الفاتح میں بہت سے منافع ہيں مثلا اس میں حمد وثنا اور دعا ہے انسان جس کامحتاج ہے تو اس کے قائم مقام قل ھو اللہ احد نہیں ہو سکتی ، چاہے اس کا اجر ثواب کتنا ہی عظیم ہی ہے تو اس اجرعظيم سے اس کا پڑھنے والا سورۃ فاتحہ کے اجر کے ساتھ اس سے بھی مستفید ہوگا ، تو لھذا اگر کسی نےنمازمیں سورۃ فاتحہ کے بغیر صرف قل ھواللہ احد پڑھی تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی ، اور اگر یہ بھی مان لیا جاۓ کہ اس نے مکمل قرآن پڑھا لیکن فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نمازصحیح نہیں ہوگی ، اس لۓ کہ فاتحہ کے معانی میں ایسی حوائج اصلیہ ہیں جس کے بغیر بندوں کا کوئ چارہ ہی نہیں ۔

مجموع الفتاوی ( 17 / 131 )۔

ابن تیمہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :

قرآن کریم میں جو اوامرو نواہی اور قصص ہیں لوگ اس کے محتاج ہیں ، اگرچہ توحید اس سے بھی زیادہ بڑی اور عظیم چیز ہے ، تو جب انسان جن افعال سے اسے روکا گیااور جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اس کی معرفت کا محتاج ہے اوراسے چاہۓ کہ وہ قصص اور وعدووعید سے عبرت حاصل کرے ، تو یہ سب کسی اورچیز کی جگہ نہیں لے سکتے ، اس لۓ توحید ان کی جگہ اور قصص امر اور نہی کی جگہ نہیں لے سکتے ، اور نہ ہی امر اور نہی قصص کی جگہ لے سکتے ہیں ، بلکہ اللہ تعالی نے جو کچھ بھی نازل فرمایا ہے اس سے لوگ نفع مند ہو رہے اوراس کے محتاج ہیں ۔

تو اگر انسان قل ھو اللہ احد پڑھے تو اسے ثلث قرآن کا اجرو ثواب حاصل ہوتا ہے لیکن اس سے یہ ضروری نہیں کہ یہ اجروثواب اسی جنس سے ہو جو کہ باقی قرآن پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ امر و نہی اور قصص سے وہ ثواب حاصل کرنے کا محتاج ہو تو قل ھو اللہ احد اس کی جگہ اور یہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا ۔

پھر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :

تو وہ معارف جو کہ مکمل قرآن پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں وہ صرف یہ سورت پڑھنے سے حاصل نہیں ہوں گے ، توثواب کی اس نوعیت کے اعتبارسے مکمل قرآن پڑھنے والا قل ھواللہ احد کو تین مرتبہ پڑھنے والے سے افضل ہے ، اگرچہ قل ہو اللہ احدتین مرتبہ پڑھنے والے کو بھی اس قدر ہی ثواب حاصل ہوگا لیکن یہ ایک ہی جنس ہے جس میں کوئ انواع نہیں کہ بندہ جن کا محتاج ہو ، مثلا جس کے پاس تین ہزار دینار ہوں اور دوسرے کے پاس کھانا اور لباس اور رہائش اور تین ہزاردینار کے برابرنقدی ہو ،تواس کے پاس وہ کچھ ہے جو سب معاملات میں ان سے نفع مند ہو رہا ہے اور اور وہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کا محتاج ہے ، اگرچہ اس کے پاس بھی اس کر برابر مال ہے ۔

اور اسی طرح اگر اس کے پاس اچھی قسم کا کھانا ہو جو کہ تین ہزار دینار کے برابر ہے تو وہ لباس اور رہائش اور دفاع کے لۓ اسلحہ اور ادویات وغیرہ کا بھی محتاج ہے جو کہ صرف کھانے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔

مجموع الفتاوی ( 17 / 137 -139) ۔

واللہ تعالی اعلم  .

Tuesday, August 21, 2018

٦٤٦-قرآن مجید کی تعلیم پر معاوضہ لینا جائز ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

کیا قرآن مجید پڑھا کر معاوضہ لینا جائز ہے ؟

الحمد للہ
لجنۃ دائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) سے تعلیم قرآن کی اجرت کے جوازکے معلق سوال کیا گيا تو اس کاجواب تھا :

جی ہاں علماء کرام کے صحیح قول کے مطابق تعلیم قرآن کا معاوضہ لینا جائز ہے جس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی فرمان ہے :

( سب سے بہتر اورحق معاوضہ جو تم لیتے ہو وہ کتاب اللہ کا ہے ) صحیح بخاری ۔

اور ضرورت مند تو اس کا زيادہ مستحق ہے ۔

اور اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں برسا‎ۓ ۔  .
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( م / 4 ص / 91 )

Monday, August 13, 2018

٣٥١-روافض ( شیعۃ ) کے ہاں قرآنی تحریف

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے اپنے ایک شیعہ دوست سے یہ سنا ہے کہ ان کےہاں ایک ایسی سورت ہے جوہمارے مصحف میں نہیں پائ جاتی ، کیا اس کی یہ بات صحیح ہے ؟ اور اس سورت کو سورۃ الولایۃ کا نام دیا جاتا ہے ۔

الحمد للہ
سورۃ الولایۃ کے وجود کا بعض شیعۃ علماء اور انکے امام اقرار کرتے ہیں اورکچھ انکارلیکن انکارکرنے والوں کایہ انکار بطور تقیہ ہے ، اس سورت کے وجود کی صراحت کرنے والوں میں میرزا حسین محمد تقی نوری الطبرسی شامل ہے ( جو کہ 1320 ھ میں فوت ہوا ) ۔
اس نے ایک ایسی کتا ب تالیف کی ہے جس میں اس نے ذکر کیا ہے کہ قرآن کریم میں تحریف کی جا چکی ہے اور صحابہ کرام نے اس میں سے بعض اشیا ء چھپا لیں جن میں سورۃ الولاویۃ بھی شامل ہے ، رافضیوں نے اس کی موت کے بعد عزت واحترام کے ساتھ اسے نجف میں دفن کیا ۔

طبرسی کی یہ کتاب ایران میں ( 1298 ھ ) طبع ہوئ تو اس وقت اس کے متعلق ہنگامہ بپا ہوا اس لۓ کہ رافضی یہ چاہتے تھے کہ قرآن کریم کی صحت کے متعلق یہ شکوک وشبہات صرف ان کے خاص لوگوں اور ان کی معتبر کتب تک ہی محدود رہیں ، اور یہ سب کچھ ایک ہی کتاب میں جمع نہ کیا جاۓ ، طبرسی اپنی کتاب کے شروع میں کچھ اس طرح رقم طراز ہے :

یہ ایک شریف سفر اور لطف والی کتاب ہے جس کا نام " فصل الخطاب فی

اثبات تحریف کتاب رب الارباب " ( رب الارباب کی کتاب میں تحریف کے اثبات کا فیصلہ کرنے والا خطاب ) رکھا گيا ہے ۔

اس نے اس میں ان آیات اورسورتوں کا ذکر کیا ہے جس کے بارہ میں اس کا گمان ہے کہ صحابہ کرام نے انہیں حذف کردیا اور انہیں چھپا دیا تھا اور سورۃ الولایۃ بھی انہیں میں سے ایک ہے ، اور جس طرح کہ کتاب میں ہے ان کے ہاں یہ سورۃ کچھ اس طرح ہے :

یاایھا الذین آمنوا آمنوا بالنبی والولی الذین بعثناھما یھدیانکم الی صراط المستقیم نبی و ولی بعضھما من بعض وانا العلیم الخبیر ۔۔۔

( اے ایمان والو اس نبی اور ولی پر ایمان لاؤ‎ جنہیں ہم نے مبعوث کیا ہے وہ تمہیں صراط مستقیم کی راہنما‎ئ کرتے ہیں وہ نبی اور ولی ایک دوسرے میں سے ہیں اور میں جاننے والا اور خبردارہوں ) ۔

اور اسی طرح ان کے ہاں ایک اور بھی سورۃ ہے جسے وہ "النورین " کا نام دیتے ہیں وہ کچھ اس طرح ہے :

" یاایھا الذین آمنوا آمنوا بالنورین انزلناھما یتلوان علیکم آیاتی ویحذرانکم عذاب یوم عظیم بعضھما من بعض واناالسمیع العلیم ان الذین یوفون بعھداللہ ورسولہ فی آیات لھم جنات النعیم ، والذین کفروا من بعد ماآمنوا بنقضھم میثاقھم وماعاھدھم الرسول علیہ یقذفون فی الجحیم ، ظلموا انفسھم وعصوا وصیۃ الرسول اولئک یسقون من جحیم ۔۔ "

( اے ایمان والو ! ان دونوروں پر ایمان لاؤ جنہیں ہم نے نازل فرمایا ہے وہ تم پر میری آیات تلاوت کرتے اور تمہیں بڑے دن کے عذاب سے ڈارتے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے میں سے ہیں اورمیں سننے والا جاننے والا ہوں ، بیشک جو لوگ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی آیات میں کۓ گے عھد کو پورا کرتے ہیں ان کے لۓ نعمتوں والی جنتیں ہیں ، اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد اپنے عھدوپیمان کو توڑ کر اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان عھد لیا اسے توڑ کر کفر کا ارتکاب کرتے ہیں وہ جھنم میں ڈالے جائیں گے ، انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی نافرمانی کی یہی ہیں جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جاۓ گا ) ۔

اسی طرح کی اور بھی کئ غلط اشیاء ہیں جو کہ بمع مصحف فارسی کی تصویر کےآپ مندرجہ ذیل ایڈریس پر دیکھ سکتے ہیں :

( http://arabic.islamicwab.com/shia/nurain.htm )

استاد محد علی سعودی جنہیں وزارت عدل مصرمیں ایک اچھا خاصہ تجربہ رہا ہے نے اس ایرانی مصحف کا مستشرق "برائن " کے پاس مشاھدہ کیا تو اس کی ٹیلی گراف تصویر حاصل کی ، اور اس کی عربی سطور پرایرانی زبان فارسی میں ترجمہ کیا گيا ہے ۔

اور جیسا کہ طبرسی نے اپنی کتا ب " فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب " میں اس بات کو ثابت کیا ہے اسی طرح ان کی کتاب جو کہ محسن فانی کشمیری کی تالیف کردہ( فارسی زبان میں )" دبستان مذاھب" اور ایران میں کئ بارطبع ہو چکی ہے میں بھی اللہ تعالی پرجھوٹ کا یہ پلندہ موجود ہے اور اسے ایک مستشرق جس کا نام " نولڈکۃ " نے اپنی کتاب " تاریخ مصاحف " ( 2/12 ) میں اس سورۃ کو محسن فانی کشمیری سے نقل کیااور فرانسی ایشائ ہفت روزہ ( 1842 میلادی ) ص ( 431 – 439 ) نے بھی نشر کیا ہے ۔

اور اسی طرح مرزا حبیب اللہ ھاشمی الخوئ نے اپنی کتاب " منھاج البراعۃ فی شرح منھاج البلاغۃ " ( 2/ 217 ) میں اور محمد باقر المجلسی نے اپنی کتاب " تذکرۃ الائمۃ " ( ص 19 - 20 ) فارسی زبان میں بھی نقل کیا ہے جو کہ ایران میں منشورات مولانا کی شائع کردہ ہے ۔

دیکھیں محب الدین الخطیب کی کتاب " الخطوط العریضۃ للاسس التی قام علیھا دین الشیعۃ " ۔

ان کا یہ سارے کا سارا گمان اللہ تعالی کے مندرجہ ذیل قول کی تکذیب ہے :

اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ بیشک ہم نے ہی قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں } الحجر ( 9 )

اور اسی لۓ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی قرآن کریم میں تحریف وتبدیل کا گمان رکھے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمۃ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

اور اسی طرح جو بھی ان میں سے یہ گمان رکھے کہ قرآن کریم میں کوئ نقص یا پھر اس کی کوئ آیت چھپائ گئ ہے یا یہ گمان رکھے کہ اس کی کچھ باطن تاویلیں ہیں جو کہ مشروع اعمال کو ساقط کردیتی ہیں وغیرہ ، تو یہ سب قرامطی اور باطنی ہیں اور اسی طرح تناسخی بھی ہیں جن کے کفر میں کسی قسم کا کوئ بھی اختلاف نہیں ۔ الصارم المسلول ( 3 / 1108 -1110 ) ۔

اور ابن حزم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

یہ کہنا کہ دوتختیوں کے درمیان ( یعنی قرآن ) میں تغیر تبدل ہے ، صریح کفر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے ۔

الفصل فی الاھواء والملل والنحل ( 4 /139 ) ۔

واللہ تعالی اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...