Showing posts with label وضوء. Show all posts
Showing posts with label وضوء. Show all posts

Sunday, August 26, 2018

٧٩٥-وضوء كے بعد بات چيت كرنا


سوال-كيا نماز كا وضوء كرنے كے بعد كوئى كلام نہيں كى جا سكتى ؟

الحمد للہ:

نماز كا وضوء كرنے كے بعد اپنے اہل و عيال اور دوست و احباب كے ساتھ مباح اور جائز كلام كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اور وضوء كى بنا پر كوئى معين كلام كرنا حرام نہيں ہو جاتى، بلكہ وضوء سے قبل جو چيز حرام تھى وہ وضوء كے بعد بھى حرام ہے، مثلا جھوٹ، غيبت اور چغلى، اور سب و شتم وغيرہ كرنا.

ليكن جب وضوء گناہوں كا كفارہ بنتا ہے، اور وضوء كے ساتھ گناہ جھڑتے ہيں تو پھر وضوء كے بعد انسان كو حرام كام ترك كر دينے چاہيں، تا كہ وہ اپنے پروردگار كے سامنے پاك صاف ہو كر كھڑا ہو.

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب مسلمان يا مومن بندہ وضوء كرتا ہوا اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس كے چہرے سے پانى كے ساتھ يا پانى كے آخرى قطرے كے ساتھ وہ سب گناہ نكل جاتے جن كى طرف اس نے اپنى آنكھوں كے ساتھ ديكھا تھا، اور جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانى يا پانى كے آخرى قطرہ كے ساتھ اس كے وہ سارے گناہ نكل جاتے ہيں جو اس كے ہاتھ نے پكڑے تھے، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس كے چلنے سے ہونے والے سارے گناہ پانى يا پانى كے آخرى قطرے سے نكل جاتے ہيں، حتى كہ وہ گناہوں سے باكل پاك صاف ہو جاتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 244 ).

اور امام مسلم نے ہى عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى اچھى طرح وضوء كيا اس كے جسم سے سارے گناہ نكل جاتے ہيں، حتى كہ اس كے ناخنوں كے نيچے سے بھى "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 245 ).

واللہ اعلم

٧٩٤- نماز كے ممنوعہ اوقات وضوء كو شامل نہيں


سوال-بہت سى احاديث كى رو سے نماز كے ليے تيارى بھى نماز كے مرتبہ ميں آتا ہے، كيا اس كا معنى يہ ہے كہ طلوع يا غروب آفتاب ( صبح بارہ بجے اور شام بارہ بجے ) كے دوران وضوء كرنا جائز نہيں ؟ يا كہ جائز ہے ؟
اور جب انسان فرضى نماز لمبى كر كے ادا كر رہا ہو كہ طلوع يا غروب آفتاب كا وقت ہو جائے تو كيا وہ نماز توڑ دے يا كہ اسے مكمل كرے ؟
اگر نماز تراويح لمبى ہو جائيں اور رات بارہ بجے سے پہلے ختم نہ ہوں تو كيا ہميں رات بارہ بجے كے بعد دوبارہ وضوء كرنا ہوگا، يا كہ اثر انداز نہيں ہو گا كہ ايك ہى نماز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

صحيح مسلم ميں عقبہ بن عامر جھنى رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں تين اوقات ميں نماز ادا كرنے اور ميت كو قبر ميں دفنانے سے منع فرماتے تھے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتى كہ اونچا ہو جائے، اور جب زوال كا وقت ہو حتى كہ سورج مائل ہو جائے، اور جب سورج غروب ہونے كے ليے جھك جائے "

صحيح مسلم صلاۃ المسافريں و قصرھا حديث نمبر ( 1373 ).

چنانچہ اس حديث ميں نماز ادا كرنے اور ميت كو دفنانے كى ممانعت ہے اور وضوء كے ليے مطلقا نماز كا حكم شمار نہيں ہو گا، كيونكہ نماز اسے كہتے ہيں جو معلوم اقوال، اور معلوم افعال جس كى ابتدا تكبير تحريمہ سے، اور انتہاء سلام سے ہو.

اور حديث ميں ممانعت بھى اسى چيز كى ہے، نہ كہ وضوء كى، اور ممانعت ميں وضوء كو نماز پر قياس كرنا يہ قياس مع الفارق ہے، ايسا قياس صحيح نہيں، چنانچہ اگر كوئى شخص دوران وضوء كلام كر لے تو اس كا وضوء باطل نہيں ہوگا، ليكن كلام نماز كو باطل كر ديتى ہے، اس كے علاوہ بھى وضوء اور نماز ميں كئى ايك فرق موجود ہيں.

مقصد يہ ہے كہ ان اوقات ميں وضوء كى ممانعت كے ليے نماز پر قياس كرنا صحيح نہيں، بلكہ انسان كے ليے تو طہارت كى حالت ميں رہنا مستحب ہے.

دوم:

اگر فرضى نماز ادا كر رہا ہو اور طلوع يا غروب شمس كا وقت قريب ہو تو وہ نماز نہ توڑے؛ كيونكہ وقت ميں نماز كى ايك ركعت بھى پا لينا بروقت نماز ادا كرنا ہے، مثلا اگر وہ نماز فجر ادا كر رہا ہو اور ركعت لمبى ادا كرے اور پھر دوسرى ركعت شروع كى تو وہ بھى لمبى كر دى اور سورج طلوع ہو جائے تو اس وقت كہا جائيگا كہ اس كے فعل ميں كوئى حرج نہيں، اس نے نماز وقت ميں ادا كى ہے.

اور اگر اس كى ايك ركعت بھى مكمل نہيں ہوئى اور سورج طلوع ہو گيا تو اس نے نماز وقت ميں ادا نہيں كي وہ نماز لمبى كرنے ميں گنہگار ہے، اسى طرح عصر اور دوسرى نمازوں ميں بھى يہى كہا جائيگا.

سوم:

اگر انسان باوضوء ہے، اور اس كا وضوء نہيں ٹوٹا تو اس كے ليے دوبارہ وضوء كرنا ضرورى نہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك ہى وضوء سے كئى ايك نمازيں ادا كرنا ثابت ہيں، جيسا كہ فتح مكہ كے روز ايك ہى وضوء سے پانچوں نمازيں ادا كى تھيں.

سليمان بن بريدۃ اپنے باپ بريدہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فتح مكہ كے روز ايك ہى وضوء كے ساتھ نمازيں ادا كيں، اور اپنے موزوں پر مسح كيا، تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: آپ نے آج وہ كام كيا جو آپ پہلے نہيں كيا كرتے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اے عمر ميں يہ كام عمدا كيا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 277 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث ميں كئى چيزيں بيان ہوئى ہيں: موزوں پر مسح كرنا جائز ہے اور ايك ہى وضوء كے ساتھ جب تك وضوء نہ ٹوٹے فرضى اور نفلى نمازيں ادا كرنا جائز ہيں، اور معتبر اجماع كے مطابق جائز ہے.

ابو جعفر طحاوى اور ابو الحسن بن بطال رحمہما اللہ نے صحيح بخارى كى شرح ميں علماء كرام كے ايك گروہ سے يہ قول نقل كيا ہے:

اگرچہ باوضوء بھى ہو تو پھر بھى ہر ايك نماز كے ليے وضوء كرنا ضرورى ہے، اس كى دليل يہ ديتے ہيں:

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو ليا كرو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھويا كرو، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو پھر طہارت كرو اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں يا تم ميں سے كوئى ايك پاخانہ كرے يا پھر بيوى سے جماع كرے اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرلو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں مكمل كرنى چاہتا ہے، تا كہ تم شكر كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

ميرے خيال ميں يہ مذہب ايك سے بھى صحيح ثابت نہيں، ہو سكتا ہے اس سے ہر نماز كے وقت تجديد وضوء مراد ليتے ہوں.

جمہور اہل علم كى دليل صحيح احاديث ہيں، جن ميں يہ حديث بھى شامل ہے.

اور صحيح بخارى ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر نماز كے وقت وضوء كرتے، اور ہم ميں سے اس كا وضوء اس وقت تك كافى ہوتا جب تك ٹوٹتا نہ "

اور صحيح بخارى ميں ہى سويد بن نعمان رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث بھى ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز عصر ادا كى اور ستو كھائے پھر بغير وضوء كيے ہى نماز مغرب ادا كى "

اس معنى كى احاديث بہت ہيں، مثلا ميدان عرفات اور مزدلفہ ميں دو نمازيں جمع كرنا، اور باقى سارے سفروں ميں نمازيں جمع كر كےادا كرنا، اور جنگ خندق كے موقع پر فوت شدہ نمازيں جمع كرنا، اس كے علاوہ كئى ايك مواقع پر.

مندرجہ بالا آيت سے مراد ـ واللہ اعلم ـ يہ ہے كہ جب تم بے وضوء ہو جاؤ اور نماز ادا كرنے كے ليے كھڑے ہو تو وضوء كرو، ، اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فعل كے ساتھ منسوخ ہے، ليكن يہ قول ضعيف ہے, واللہ اعلم.

اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ كہنا:

" آپ نے آج ايسا كام كيا ہے جو آپ نہيں كرتے تھے ؟ "

اس ميں اس بات كى تصريح ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم افضل پر عمل كرتے ہوئے ہر نماز كے ليے تازہ وضوء كرنے پر ہميشگى كيا كرتے تھے اور فتح مكہ كے روز ايك ہى وضوء سے نمازيں جواز بيان كرنے كے ليے ادا فرمائيں، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اے عمر ميں نے ايسا عمدا اور جان بوجھ كر كيا ہے "

ديكھيں: شرح مسلم ( 3 / 177 - 178 ).

واللہ اعلم

٧٩٣-كيا جلدى بيمارى ( الرجى ) ميں مبتلا شخص تيمم كر سكتا ہے ؟


سوال-ميں جلدى بيمارى ( الرجى ) كا شكار ہوں، اس كا علاج نہيں ہو سكا حتى كہ ميں صرف دن ميں پانچ بار وضوء كرتا ہوں، ميں نے ہر قسم كى كوشش كى ہے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، اگر وضوء كرنے ميں مجھے الرجى ہو اور حالت برى ہو جائے تو مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا ﴾البقرۃ ( 286 ).

اور حديث ميں ہے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ... چنانچہ جب ميں تمہيں كسى چيز سے منع كروں تو اس سے اجتناب كرو اور جب تمہيں كوئى كام كرنے كا حكم دوں تو اپنى استطاعت كے مطابق اس پر عمل كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6858 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1337 ).

وضوء كے سلسلے ميں اللہ تعالى كے واضح حكم كے باوجود كہ وضوء كرنا فرض ہے، ليكن اس سے بيمار شخص كو پانى كے ساتھ وضوء كرنے سے مستثنى كرتے ہوئے اس كے ليے تيمم مقرر كيا ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو تم نشہ ميں مست ہو تو نماز كے قريب بھى نہ جاؤ، جب تك كہ اپنى بات كو سمجھنے نہ لگو، اور جنابت كى حالت ميں جب تك كہ غسل نہ كر لو، ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے، اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں، يا تم ميں سے كوئى قضائے حاجت سے آيا ہو، يا تم نے عورتوں سے مباشرت كى ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاك مٹى سے تيمم كرو، اور اس سے اپنے منہ اور اپنے ہاتھوں پر مسح كرو، بلا شبہ اللہ تعالى معاف كرنے والا اور بخشنے والا ہے ﴾النساء ( 43 ).

شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قولہ: يا اس كے استعمال كرنے يا تلاش كرنے ميں بدن كو ضرر كا خدشہ ہو "

اگر پانى كے استعمال سے بدن كو ضرر اور نقصان ہو تو وہ مريض ہے، چنانچہ وہ اللہ تعالى كے درج ذيل فرمان كے عموم ميں داخل ہوگا:

﴿ اور اگر تم مريض ہو يا مسافر ﴾ المائدۃ ( 6 ).

جس طرح كہ اگر كسى كا وضوء والا عضوء زخمى ہو، يا اس كے سارے بدن پر پھنسياں اور زخم ہوں اور غسل كرنے سے ضرر كا خدشہ ہو تو وہ تيمم كرےگا.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 378 ) طبع ابن الجوزى.

اور اگر پانى لگانے سے اس كى جلد متاثر نہيں ہوتى تو پھر اسے وضوء كرنا ہوگا، اس ميں ملنے يا پھر دھونے ميں مبالغہ كرنے كى شرط نہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اور اگر اس كے ناك ميں غدود ہوں تو وہ ناك ميں پانى چڑھانے ميں مبالغہ سے كام نہ لے، كيونكہ ہو سكتا ہے مبالغہ كرنے سے ان ميں پانى ٹھر جائے اور پھر تعفن پيدا ہو كر گندى بدبو آنے لگے، جس سے اسے مرض لاحق ہو يا پھر اس سے ضرر ہو.

تو اس طرح كے شخص كو كہا جائيگا كہ آپ اپنى ناك كے سوراخوں ميں داخل كريں صرف يہى كافى ہے "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 210 ).

اور شيخ كا يہ بھى كہنا ہے:

اور جب انسان كے ناك ميں پھٹاؤ يا تھيلياں ہواور اگر وہ ناك ميں پانى چڑھانے ميں مبالغہ كرے تو اس پھٹاؤ اور تھيلى ميں پانى ٹھر جائے اور اسے تكليف دے، يا پھر پانى خراب ہو كر پيپ وغيرہ بن جائے، تو اس حالت ميں ہم اسے كہينگے: اپنے آپ سے ضرر اور نقصان كو ختم كرنے كے ليے مبالغہ مت كرو"

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 172 ).

چنانچہ اگر وضوء كرنے ميں آپ كو تكليف ہے، يا پھر بيمارى سے شفايابى ميں تاخير كا باعث بنتا ہے تو آپ تيمم كر ليا كريں، اس ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم

٧٩٢-كيا ميك اپ كے اثر كى موجودگى ميں وضوء صحيح ہے ؟


سوال-كيا چہرے پر ميك اپ كى آثار كى موجودگى ميں وضوء جائز ہے ؟

الحمد للہ:

وضوء صحيح ہونے ميں شرط ہے كہ جلد تك پانى نہ پہنچنے ميں مانع ہر چيز كو اتارا جائے، مثلا موم، آٹا، اور چمٹا ہوا مادہ وغيرہ، تا كہ وضوء كے اعضاء صحيح طرح دھوئے جا سكيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو ليا كرو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھويا كرو، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو پھر طہارت كرو اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں يا تم ميں سے كوئى ايك پاخانہ كرے يا پھر بيوى سے جماع كرے اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرلو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں مكمل كرنى چاہتا ہے، تا كہ تم شكر كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

الانصاف ميں ہے كہ:

وضوء صحيح ہونے كى شروط ميں يہ بھى شامل ہے كہ: عضوء تك پانى پہنچنے ميں مانع اشياء كو دور كيا جائے.

ديكھيں: الانصاف ( 1 / 144 ).

اور المجموع ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر كسى عضو پر موم يا آٹا، يا مہندى وغيرہ لگى ہو اور عضو كے كسى حصہ پر پانى پہنچنے ميں مانع ہو تو اس كا وضو صحيح نہيں، چاہے يہ زيادہ ہو يا كم.

اور اگر ہاتھ وغيرہ پر مہندى كا اثر اور رنگ باقى ہو، ليكن مہندى كا ليپ نہيں، يا تيل كا اثر باقى ہو كہ پانى عضو كى جلد تك پہنچ جائے اور اس پر پانى بہہ جائے ليكن ٹھرے نہيں تو اس كى طہارت صحيح ہے " انتہى.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 492 ).

اس سے يہ معلوم ہوا كہ جب وضوء سے قبل ميك اپ اتار ليا جائے، يا صرف اس كا رنگ باقى رہے تو وضوء صحيح ہے.

اس بنا پر اگر ميك اپ جلد تك پانى پہنچنے ميں مانع ہو تو وضوء صحيح نہيں ہوگا، ليكن اگر صرف رنگ ہے، يا پھر ہلكا سا ميك اپ ہو كہ جلد تك پانى پہنچتا ہو تو بھى وضوء صحيح ہوگا.

واللہ اعلم

٧٩١-ہوائى جہاز ميں پانى نہ ملنے كى صورت ميں وضوء كيسے كيا جائے ؟


سوال-جب ہوائى جہاز ميں پانى نہ ملے، يا پانى مجمد ہو جائے، يا ہوائى جہاز ميں ضرر يا پانى ليك ہونے كے خدشہ سے پانى استعمال كرنے نہ ديا جائے، يا پانى كافى نہ ہو، تو مٹى كى عدم موجودگى ميں ہوائى جہاز كا مسافر وضوء كيسے كرے گا ؟

الحمد للہ:

آپ كے مذكورہ بيان كے مطابق وضوء كرنا مشكل يا متعذر ہے، اور اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى نے تم پر دين ميں كوئى تنگى نہيں كى ﴾الحج ( 78 ).

چنانچہ ہوائى جہاز كے قالين پر اگر تو غبار تو مسافر اس پر تيمم كر لے اور اگر وہاں غبار نہ ہو تو وہ نماز ضرور ادا كرے چاہے طہارت كرنے سےعاجز ہونے كى بنا پر غير وضوء ہى نماز ادا كرنا پڑے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ تم ميں جتنى استطاعت ہے اس كے مطابق تقوى اختيار كرو ﴾التغابن ( 16 ).

ليكن اگر يہ ممكن ہے كہ ہوائى جہاز دوسرى نماز كے آخرى وقت سے قبل ہوائى اڈے پر اترےگا تو اسے نماز ميں تاخر كرنى چاہيے اور ہوائے اڈے پر جہاز اترنے كے بعد وہ دونوں نمازيں جمع كر كے ادا كرے، ليكن اگر ايسا ممكن نہ ہو، مثلا اگر جمع كى جانے والى نمازوں ميں دوسرى نماز كا وقت ہو يا پھر وہ نماز جمع نہ ہو سكتى ہو مثلا عصر كى نماز مغرب كے ساتھ، اور عشاء كى نماز فجر كے ساتھ، اور فجر كى ظہر كے ساتھ تو اس صورت ميں وہ حسب حال نماز ادا كر لے.

ديكھيں: اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر و ما يخص الملاحين الجويين تاليف الشيخ محمد بن صالح العثيمين صفحہ ( 11 ).

٧٩٠-كيا مسلسل ہوا خارج ہونے كے مرض ميں مبتلا شخص كو نوافل ادا كرنے كے ليے اور وضوء كرنا ہو گا ؟


سوال-ميں گيس ٹربل كا شكار ہوں، سوال يہ ہے كہ: اگر فرضى نماز ادا كرنے كے بعد ميرا وضوء ٹوٹ جائے تو كيا نفلى نماز مثلا قيام الليل وغيرہ كى ادائيگى كے ليے مجھے نيا وضوء كرنا ہوگا؟
اور اس حالت ميں مجھے وضوء كرتے وقت كا نيت كرنا ہو گى ؟

الحمد للہ:

مسلسل پيشاب يا ہوا خارج ہونے كى بيمارى ميں مبتلاء شخص كے متعلق علماء كا اختلاف ہے كہ آيا وہ ہر فرضى نماز كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا لازم ہے اور پھر اس سے جتنى نفلى نماز چاہے ادا كر لے، يا اس كے ليے صرف ايك ہى وضوء كافى ہے، اگر اس كا وضوء اس بيمارى كے علاوہ كسى اور چيز سے نہيں ٹوٹتا تو سارى نمازيں اسى وضوء كے ساتھ ادا كر سكتا ہے ؟

امام ابو حنيفہ اور امام شافعى، اور امام احمد رحمہم اللہ كے ہاں ہر نماز كے ليے وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا ضرورى ہے.

ليكن امام مالك رحمہ اللہ كے ہاں مسلسل پيشاب خارج ہونے كى بيمارى ميں مبتلا شخص كے ليے ايك ہى وضوء كرنا جائز ہے، اور جب تك اس كا وضوء پيشاب كى بيمارى كے علاوہ كسى اور چيز سے وضوء نہيں ٹوٹتا وہ سارى نمازيں اس وضوء كے ساتھ ادا كر سكتا ہے.

پہلا قول زيادہ محتاط ہے، اور اكثر علماء كا عمل اسى پر ہے.

اور اگر مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كسى اور وجہ سے وضوء ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ وضوء كرنا ہوگا، اس كے ليے بغير وضوء كيے نفلى يا فرضى نماز ادا كرنا جائز نہيں.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ميں سے جب كسى كا وضوء ٹوٹ جائے تواللہ تعالى اس كى نماز اس وقت تك قبول نہيں كرتا جب تك وہ وضوء نہ كر لے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6954 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 225 ).

علماء كرام كا اجماع ہے كہ نماز صحيح ہونے كے ليے حدث سے طہارت حاصل كرنا شرط ہے، طہارت كيے بغير نماز نہيں ہوتى.

مزيد تفصيل كے ليے آپ المجموع للنووى ( 3 / 139 ) اور مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 22 / 99 ) بھى ديكھيں.

رہا اس حالت ميں نيت كيا كى جائے ؟

آپ نماز ادا كرنے كے ليے طہارت كى نيت كريں.

ليكں يہ تنبيہ كرنا ضرورى ہے كہ نيت كا زبان سے كوئى تعلق نہيں، اور زبان كے ساتھ نيت كرنى مشروع نہيں ہے، بلكہ نيت كا تعلق تو دل كے ارادہ سے ہے.

واللہ اعلم

٧٨٩-اونٹ كا دودھ پينے سے وضوء واجب نہيں


ميں نے سوال نمبر ( 788 ) كا مطالعہ كيا ہے جس ميں بيان كيا گيا ہے كہ اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ آيا اونٹ كا دودھ پينے سے بھى وضوء كرنا واجب ہے ؟

الحمد للہ:

عام اہل علم كہتے ہيں كہ اونٹ كا دودھ پينے سے وضوء كرنا واجب نہيں امام احمد رحمہ اللہ سے بھى يہى مشہور ہے، اس كے كئى ايك دلائل ہيں:

1 - اصل ميں وضوء نہيں ٹوٹا، كيونكہ اونٹ كا دودھ پينے سے وضوء ٹوٹنے كوئى دليل نہيں ملتى.

2 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مدينہ ميں آ كر بيمارى كا شكار ہونے والے كچھ افراد كو اونٹ كا پيشاب اور دودھ پينے كا حكم ديا.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 233 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1671 ).

اگر اونٹ كا دودھ پينے سے وضوء ٹوٹ جاتا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے بيان فرما ديتے.

ديكھيں: المغنى ( 1 / 245 ) الانصاف ( 2 / 58 ) الشرح الممتع ( 1 / 209 ).

مسند احمد اور سنن ابن ماجہ كى اسيد بن حضير رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كردہ روايت جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان بيان كيا گيا ہے:

" تم بكريوں كا دودھ پى كر وضوء نہ كرو، اور اونٹ كا دودھ پى كر وضوء كرو "

مسند احمد حديث نمبر ( 18617 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 496 ).

اور اسى طرح ابن ماجہ كى يہ حديث عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" اونٹ كے گوشت سے وضوء كرو، اور بكريوں كے گوشت سے وضوء نہ كرو، اور اونٹ كے دودھ سے وضوء كرو، اور بكريوں كے دودھ سے وضوء نہ كرو"

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 496 ).

يہ دونوں حديثيں ضعيف ہيں، ان سے استدلال كرنا صحيح نہيں، علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ضعيف ابن ماجہ ميں دونوں حديثوں كو ضعيف قرار ديا ہے.

اور اگر يہ حديث صحيح بھى ہو تو پہلى اور ان احاديث كو جمع كرنے كے ليے اونٹ كےدودھ پينے سے وضوء كرنا استحباب پر محمول كيا جائيگا.

واللہ اعلم

٧٨٨-اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔


سوال: کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

صحیح یہی  ہے کہ اونٹ کا گوشت چاہے وہ چھوٹے یا بڑے اونٹ کا ہو یا   اونٹنی کا گوشت ہو ، کچا ہو یا پکا ہوا  ہو اسے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس کے متعدد دلائل ہیں:

1-  جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث :

وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا:" کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کریں ؟ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: (جی ہاں)۔  سائل نے کہا: "کیا ہم بکری کا گوشت کھانے پر وضو کریں ؟" تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو کر لو" صحیح مسلم ( 360 )

2-  براء رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث: وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم اس سے وضو کرو) پھر بکری کے گوشت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وضو نہ کیا جائے)سنن ابو داود :( 184 ) سنن ترمذی : (81 ) امام احمد اور اسحاق بن راہویہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

جو علمائے کرام  اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کو واجب نہیں کہتے انہوں نے اس کے کئی ایک جوابات پیش کیے ہیں:

أ‌-      یہ حکم منسوخ ہے، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "رسول صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہیں کرتے تھے" سنن ابو داود :( 192 ) سنن نسائی :( 185 )

لیکن حقیقت میں یہ جواب صحیح مسلم کی سابقہ خاص نص کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

پھر یہ بھی ہے کہ اس میں منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نہیں؛ کیونکہ انہوں نے تو یہ دریافت کیا کہ آیا ہم بکری کا گوشت کھانے پر وضو کریں تو آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا (اگر چاہو تو کر لو)۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ احادیث جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کے زمانے کی ہیں۔

حالانکہ نسخ کیلیے یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسی دلیل ہو جو یہ ثابت کرے کہ ناسخ بعد میں ہو اور ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے تاریخ کا تعین ہو سکے۔

نیز نسخ والی حدیث عام ہے، اور یہ خاص جو کہ حدیث کے عموم کو خاص کرتی ہے۔

اس پر مستزاد یہ بھی کہ ان کا بکری کے گوشت کے متعلق سوال کرنا اس بات کو بیان کرتا ہے کہ علت آگ پر پکنا نہیں؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بکری اور اونٹ کے گوشت کیلیے یکساں حکم ہوتا۔

ب‌-           انہوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے:
( وضو خارج ہونے والی چیز سے ہوتا ہے نہ کہ داخل ہونے والی چیز سے )

اس کا جواب یہ ہے کہ:

اس حدیث کو امام بیہقی ( 1 / 116 ) نے روایت کر کے ضعیف قرار دیا ہے، اور دار قطنی صفحہ (55 ) میں بھی  تین علتوں کی بنا پر یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی مزید تحقیق آپ سلسلہ ضعیفہ میں حدیث نمبر ( 959 )  کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔

اور بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو یہ عام ہے اور وضو واجب کرنے والی حدیث خاص۔

ت‌-           اور بعض اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ([اونٹ کا]گوشت کھانے پر وضو کرو)اس میں وضو سے مراد یہ ہے کہ ہاتھ اور منہ دھوئے جائیں؛ کیونکہ اونٹ کے گوشت میں ناپسندیدہ قسم کی بو اور بہت زیادہ چکناہٹ پائی جاتی ہے، لیکن بکری کے گوشت میں  بو اور چکناہٹ نہیں ہوتی!

اس کا جواب یہ ہے کہ:

یہ بعید ہے، کیونکہ اس سے ظاہر یہی ہے کہ شرعی وضو کیا جائے نہ کہ لغوی، اور شرعی الفاظ کو شرعی معانی پر ہی محمول کرنا واجب ہوتا ہے۔

ث‌-           بعض نے ایک ایسے قصہ سے استدلال کیا ہے جس کی کوئی اصل ہی نہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو کسی شخص کی ہوا خارج ہوئی تو اس شخص نے لوگوں کے درمیان سے نکلنے میں شرم کی اور اس نے اونٹ کا گوشت کھایا تھا، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پردہ رکھتے ہوئے فرمایا! : جس نے اونٹ کا گوشت کھایا وہ وضو کرے، تو اونٹ کا گوشت کھانے والے لوگوں نے اٹھ کر وضو کیا ! "

اس کا جواب یہ ہے کہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میرے علم کے مطابق کتب حدیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے، اور نہ ہی کسی فقہ اور تفسیر کی کتاب میں موجود ہے۔
دیکھیں: سلسلہ ضعیفہ( 3 / 268 )

اس مسئلے میں راجح یہ ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنا منسوخ ہے۔

اور اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا واجب ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راھویہ، یحیی بن یحیی، ابو بکر ابن منذر اور ابن خزیمہ رحمہم اللہ کا موقف یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور حافظ ابوبکر بیہقی نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے، نیز یہی موقف تمام محدثین سے بلا استثنا بیان کیا جاتا ہے، اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔

ان کی دلیل امام مسلم کی روایت کردہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ: اس کے متعلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جابر اور براء رضی اللہ عنہما کی دو حدیثیں صحیح ثابت ہیں، جو کہ اس مذہب میں سب سے قوی دلیل ہے، اگرچہ جمہور کا موقف اس کے خلاف ہے۔

جمہور علمائے کرام نے اس حدیث کا جواب جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دیا  کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم  آخر میں آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہیں کرتے تھے"، لیکن یہ حدیث عام ہے اور اونٹ کے گوشت سے وضو کرنے والی حدیث خاص ہے، اور خاص عام پر مقدم  ہوتی ہے۔
دیکھیں: شرح مسلم  از نووی ( 4 / 49 )

اور معاصر علمائے  کرام میں سے شیخ ابن باز ،شیخ ابن عثیمین اور البانی رحمہم اللہ  کا بھی یہی موقف ہے ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...