Showing posts with label روزہ کی ممانعت والے ایام. Show all posts
Showing posts with label روزہ کی ممانعت والے ایام. Show all posts

Monday, August 13, 2018

٣٥٠-روزوں میں وصال کرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں روزے وصال کرنے کے بارہ میں سوال کرنا چاہتا ہوں ، میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزوں ميں وصال کیا کرتے تھے ، میری گزارش ہے کہ آپ روزے وصال کرنے کےبارہ میں بتائيں کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟

الحمد للہ
روزوں میں وصال یہ ہے کہ : دو یا یا زيادہ دن بغیر افطاری کیے روزہ رکھا جائے ، یعنی روزہ رات میں دوسرے روزے سے بغیر کچھ کھائے پیے ملایا جائے ۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں میں وصال کیا کرتے تھے ، اوراللہ تعالی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی طاقت عطا کرتے تھے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر شفقت ورحمت کرتے ہوئے انہیں اس سے منع فرمادیا کہ وہ روزوں میں وصال نہ کریں ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( وصال نہ کیا کرو ، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے تم میں سے میری طرح کون ہے ؟ مجھے تو رات میرا رب کھلا پلا دیتا ہے ، صحابہ کرام وصال کرنے سے نہ رکے ۔

راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن یا دو راتیں وصال کیا پھر چاندنظر آگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : اگر چاند نظر نہ آتا تو میں اورزيادہ وصال کرتا یعنی ان کے لیے بطور سزا ) ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 7299 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1103 )

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المغنی میں کہتے ہيں :

اکثر اہل علم کے قول میں وصال کرنا مکروہ ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 4 / 436 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المجموع میں رقمطراز ہیں :

وصال کا حکم یہ ہے کہ ہمارے ہاں بغیر کسی اختلاف کے وصال مکروہ ہے ، اورکیا یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی ؟

اس میں دو قول ہیں ہمارے اصحاب کے ہاں زيادہ صحیح یہ ہے جس پر امام شافعی رحمہ اللہ تعالی نے بھی تصریح بیان کی ہے کہ یہ کراہت تحریمی ہے ۔اھـ ۔

دیکھیں المجموع ( 6 / 357 ) ۔

اورشیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی شرح الممتع میں کہتے ہيں :

وصال کے حکم میں یہی ظاہر ہوتا ہےکہ یہ حرام ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں الشرح الممتع ( 6 / 443 ) ۔

واللہ اعلم

٣٤٩- ہر ایک دن کے بعد روزہ رکھنا ۔۔۔ روزے کی ممانعت والے ایام کونسے ہیں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے داود علیہ السلام والے روزے رکھنے شروع کیے ہیں ، اللہ تعالی ان شاء اللہ مدد فرمائے گا ، لیکن مجھے یہ بتائيں کہ میرے لیے کن ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں ؟

الحمد للہ
ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کی مدد فرمائے اورآپ سے قبول فرمائے ۔
داود علیہ السلام کے روزوں کی فضیلت احادیث میں وارد ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں مندرجہ ذيل حدیث روایت کی ہے :

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی کوسب سے زيادہ محبوب نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے اور سب سے زيادہ محبوب روزے بھی داود علیہ السلام کی ہیں ، داود علیہ السلام آدھی رات سوتے اوراس کا تیسرا حصہ قیام کرتے اورچھٹہ حصہ سوتے تھے ، اورایک دن روزہ رکھتے اورایک دن نہيں رکھتے تھے ) ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1079 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1159 )

جن ایام میں آپ کوروزے رکھنے جائز نہیں وہ ، عیدالفطر ، عیدالاضحی ، اورایام تشریق ، عیدالاضحی کے بعدوالے تین کوایام تشریق کہا جاتا ہے ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث میں ملتی ہے :

عبیدمولی بن ازھر کہتےہیں کہ میں عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا توانہوں نے فرمایا :

ان دونوں دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، ایک دن توروزوں کے بعدعیدالفطر کا دن ہے اوردوسرا جس دن تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1889 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1920 )

اورایک حدیث میں ہے کہ عائشہ اورابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ :

ہمیں ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی لیکن جسے قربانی نہ ملے وہ روزے رکھ سکتا ہے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1894 ) ۔

واللہ اعلم

٣٤٣-رمضان سے ایک یا دو دن پہلے [استقبالی] روزے رکھنا منع ہے۔


سوال: میں نے یہ سنا ہے کہ رمضان سے پہلے ہم روزہ نہیں رکھ سکتے، تو کیا یہ صحیح ہے؟

الحمد للہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث میں شعبان کے دوسرے نصف حصے میں روزے رکھنے کی ممانعت آئی ہے، پھر اس سے دو حالتوں کو استثناء حاصل ہے:

پہلی حالت: کوئی شخص پہلے سے ہی کچھ روزے رکھتا آ رہا ہو، اسکی مثال یہ ہے کہ: ایک آدمی سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی پابندی کرتا ہے، تو ایسا شخص شعبان کے دوسرے حصے میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔

دوسری حالت: کہ شعبان کی ابتداء سے روزے رکھنا شروع کرے، اور آخر تک رکھے، یہاں تک کہ رمضان شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں بھی جائز ہے، اسکی تفصیل کیلئے سوال نمبر: (342) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ان احادیث میں سے کچھ احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

بخاری (1914) اور مسلم (1082) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے روزے مت رکھو، ہاں وہ شخص رکھ سکتا ہے، جو پہلے سے روزے رکھتا آرہا ہو)

ابو داود (3237) ، ترمذی (738) اور ابن ماجہ (1651) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب آدھا شعبان گزر جائے تو روزے مت رکھو) اس حدیث کو البانی نے صحیح ترمذی (590) میں صحیح قرار دیا ہے۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے روزے مت رکھو، ہاں وہ شخص رکھ سکتا ہے، جو پہلے سے روزے رکھتا آرہا ہو)میں رمضان کیلئے ایک یا دو دن کے استقبالی روزے رکھنے کی ایسے شخص کو صراحتاً ممانعت کی گئی ہے کہ جس کی روزے رکھنے کی عادت نہ ہو، یا پھرشروع شعبان سے روزے نہ رکھ رہا ہو، اگر کوئی شخص ایسا کریگا تو وہ حرام کام کا مرتکب ہوگا"

ترمذی (686)،اور نسائی (2188) میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "جس شخص نے شک کے دن کا روزہ رکھا، یقینا اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی"

اس کے بارے میں مزید وضاحت کیلئے سوال نمبر: (341) کا مطالعہ کریں۔

حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ:

"عمار بن یاسر کے قول سے مشکوک دن میں روزہ رکھنے کی حرمت پر استدلال کیا گیا ہے، کیونکہ صحابی اپنی رائے سے ایسی بات کہہ ہی نہیں سکتا"

شک کا دن ایسا تیس شعبان کا دن بنتا ہے جس دن مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نہ دیکھا جا سکا ہو، اس دن کومشکوک دن اس لئے کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے یہ دن شعبان کا دن ہو، اور ہوسکتا ہے کہ یکم رمضان ہو۔

چنانچہ اس دن روزہ رکھنا حرام ہے، الا کہ کسی کی روٹین کے روزے اس دن آجائیں۔

نووی رحمہ اللہ "المجموع" (6/400) میں مشکوک دن کے روزے کے بارے میں کہتے ہیں:

"اور اگر کسی نے نفلی روزے اس وجہ سے رکھے کہ وہ مسلسل روزے رکھتا آرہا تھا، یا ایک دن چھوڑ کر روزے رکھ رہا تھا، یا کسی ایک خاص دن میں روزہ رکھا کرتا تھا، اور اتفاق سے وہ روزہ مشکوک دن میں آگیا تو بلا اختلاف ہمارے تمام [شافعی]اہل علم کے ہاں جائز ہوگا،۔۔۔ اسکی دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: (رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے روزے مت رکھو، ہاں وہ شخص رکھ سکتا ہے، جو پہلے سے روزے رکھتا آرہا ہو) اور اگر اس روزے کا کوئی سبب نہیں تھا تو اسکا یہ روزہ حرام ہوگا"اقتباس مع تصرف

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ حدیث (رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے مت رکھو)کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"علمائے کرام کی اس حدیث میں ممانعت کے متعلق مختلف آراء ہیں، کہ ممانعت تحریمی ہے یا کراہت کی؟ ، خصوصا مشکوک دن میں روزہ رکھنے کے بارےمیں ، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ممانعت تحریمی ہے "انتہی

شرح رياض الصالحين (3/394)

مندرجہ بالا وضاحت کی بنیاد پر شعبان کے دوسرے نصف میں روزوں کی دو قسمیں ہونگی:

پہلی قسم: سولہ تاریخ سے اٹھائیس تاریخ تک روزے رکھنا مکروہ ہیں، صرف ان لوگوں کو اجازت ہوگی جن کی روزہ رکھنے کی پہلے سے عادت ہو۔

دوسری قسم: مشکوک دن کا روزہ رکھنا، یا رمضان سے قبل ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنا تو یہ حرام ہے، صرف ان لوگوں کو اجازت ہوگی جن کی روزہ رکھنے کی پہلے سے عادت ہو۔

واللہ اعلم

٣٤٢-شعبان کے آخر میں روزے رکھنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

کیا نصف شعبان کےبعد روزے رکھنے جائز ہيں ، کیونکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟

الحمد للہ
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جب نصف شعبان ہوجائے تو روزہ نہ رکھو ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 3237 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر( 1651 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 738 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذی ( 590 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

لھذا یہ حدیث نصف شعبان یعنی سولہ شعبان سے روزہ رکھنے سے منع کرتی ہے ، لیکن اس کے علاوہ اوردوسری احادیث میں روزہ کا جواز بھی ملتا ہے ذیل میں ہم چند ایک احاديث ذکر کرتے ہيں :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، لیکن وہ شخص جوپہلے روزہ رکھتا رہا ہے اسے روزہ رکھ لینا چاہیے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1914 ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 1082 ) ۔

یہ حدیث نصف شعبان کےبعد روزہ رکھنے کے جواز پردلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جو عادتا روزہ رکھ رہا ہے مثلا کسی شخص کی عادت ہے کہ وہ پیر اورجمعرات کا روزہ رکھتا ہے یا پھر ایک دن روزہ رکھتا اوردوسرے دن نہيں رکھتا تو اس کے لیے جائز ہے ۔

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتےہيں کہ :

( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا پورا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے تھے ) یہ مسلم کے الفاظ ہیں دیکھيں صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1970 ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 1156 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا یہ کہنا کہ ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، اوراس میں سے چند ایک دن چھوڑ کر سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ) ، دوسرا جملہ پہلے کی شرح ہے ، اوراس کی وضاحت ہے کہ کلہ سے مراد غالبا ہے ا ھـ ۔

لھذا یہ حدیث نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے لیکن صرف اس شخص کےلیے جونصف سے پہلے بھی روزہ رکھ رہا تھا ۔

اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے شافعیوں کا کہنا ہے کہ :

نصف شعبان کے بعد صرف اس کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا پھر پہلے نصف میں جس نے روزے رکھيں ہوں ۔

اکثر اہل علم کے ہاں صحیح بھی یہی ہے کیونکہ حدیث میں نہی تحریم کے لیے ہے ۔

اوربعض – مثلا رویانی – کا کہنا ہے کہ یہاں پرنہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ کراہت کے لیے ہے ۔

دیکھیں : کتاب المجموع ( 6 / 399 - 400 ) فتح الباری ( 4 / 129 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین میں کہتے ہيں :

نصف شعبان کے بعد رمضان سےایک یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت میں باب لیکن جس شخص کی روزہ رکھنے کی عادت ہو یا وہ پہلے سےرکھ رہا ہو اورآخر شعبان کو بھی ساتھ ملانا چاہے یا وہ جمعرات اورپیر کا روزہ رکھتا ہواس کے لیے جائز ہے ۔ ا ھـ دیکھیں ریاض الصالحین صفحہ ( 412 ) ۔

اورجمہور علماء کرام نے نصف شعبان کےبعد روزہ سےنہی والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ، لھذا وہ اس بنا پر کہتے ہيں کہ نصف شعبان کے بعدروزے رکھنے مکروہ نہيں ۔

حافظ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

جمہور علماء کہتےہيں کہ : نصف شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا جائز ہیں ، اوراس کی نہی میں وارد شدہ حدیث کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام احمد اورابن معین کا کہنا ہے کہ یہ منکرے ہے ۔ ا ھـ فتح الباری ۔اس حدیث کو صعیف کہنے والوں میں امام بیھقی اور امام طحاوی شامل ہیں ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے المغنی میں کچھ اس طرح کہا ہے :

امام احمد نے اس حدیث کے بارہ میں کچھ یوں کہا ہے :

یہ حدیث محفوظ نہیں ، ہم نے اس کے بارہ میں عبدالرحمن بن مھدی سے پوچھا توانہوں نے اسے صحیح قرار دیا اورنہ ہی اسے میرے لیےبیان ہی کیا ، بلکہ اس سے بچتے تھے ۔

امام احمد کہتےہیں : علاء ثقہ ہے اس کی احادیث میں سوائے اس حدیث کے انکار نہيں ۔ ا ھـ

علاء کون ہے :

وہ علاء بن عبدالرحمن اس حدیث کو اپنے والد سے اوروہ ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہيں :

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے تھذیب السنن میں اس حدیث کو ضعیف قرار دینے والوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے ، جس کا ماحاصل یہ ہے کہ :

یہ حدیث صحیح اورمسلم کی شرط پر ہے ، اورعلاء کا اس حدیث میں تفرد اس حدیث میں قدح شمار نہيں ہوگا ، کیونکہ علاء ثقہ ہے ، اورامام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی صحیح میں اس کی بہت سی احادیث روایت کی ہيں جوکہ اس سند علاء عن ابیہ عن ابوھریرہ سے ہیں ، اوربہت سے ایسی سنتیں ہیں جوثقات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متفرد بیان کی ہیں اورامت نے اسے قبول کرتے ہوئے اس پرعمل بھی کیا ہے ۔

پھر وہ کہتے ہيں :

اور شعبان کےروزوں والی احادیث کے بارہ میں معارض ہونے کاخیال کرنا صحیح نہیں کیونکہ ان میں کوئي معارضہ نہيں ہے ، کیونکہ وہ احاديث پہلے نصف کے دوسرے نصف کے ساتھ اورنصف شعبان میں عادتا رکھے جانے والے روزوں پردلالت کرتی ہے ، اورعلاء والی حدیث اس پردلالت کرتی ہے کہ نصف شعبان کے بعد جوشخص عمدا روزے رکھے اس کی لیے ممانعت ہے ، ناکہ عادتا اورنہ ہی جوپہلے نصف میں روزے رکھتا ہوا دوسرے نصف کو بھی ساتھ ملانا چاہے ۔ اھـ

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے والی نہی کی حدیث کے بارہ میں سوال کیا گيا تو ان کا جواب تھا :

یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ہمارے بھائی علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ تعالی نے کہا ہے ، اوراس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے شروع کیے جائيں ، لیکن جوشخص مہینہ کے اکثرایام یا پھر تقریباسارا مہینہ ہی روزے رکھتا ہے تو وہ سنت پر عمل پیرا ہے ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع فتاوی الشيح ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 15 / 385 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ریاض الصالحین کی شرح میں کہتے ہیں :

اگر حدیث صحیح بھی ہو تو اس میں وارد نہی تحریم کے لیے نہيں بلکہ صرف کراہت کےلیے ہے ، جیسا کہ بعض اہل علم رحمہم اللہ نے بھی ایسا ہی اخذ کیا ہے ، لیکن جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو وہ روزہ رکھ سکتا ہے چاہے نصف شعبان کے بعد ہی کیوں نہ ہو ۔ ا ھـ

دیکھیں شرح ریاض الصالحین ( 3 / 394 )

جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ :

نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا یا تو کراہت یا پھر تحریم کی بنا پر منع کیا گيا ہے ، لیکن جوشخص عادتا رکھتا ہو یا پہلے نصف کو آخرشعبان کےساتھ ملائے اس کےجائز ہے ، واللہ تعالی اعلم ۔

اور اس نہی کی حکمت یہ ہے کہ مسلسل روزے رکھنے سے ہوسکتا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے میں کمزوری آجائے ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر شعبان کے شروع سے ہی روزے کھے تو اس میں اوربھی زيادہ کمزوری پیدا ہوگي !

تواس کا جواب ہے کہ :

جوشخص شعبان کے شروع سےہی روزے رکھتا ہے وہ روزے کا عادی بن جاتا ہے جس کی بنا پر اس کی مشقت میں کمی پیدا ہوجائے گی ۔

ملا علی قاری کا کہنا ہے :

یہاں پر نہی تنزیہ کے لیے ہے ،امت اسلامیہ پر مہربانی اوررحمت ہے کہ کہیں وہ کمزورہو کررمضان المبارک کے روزے رکھنے کا حق ادا نہ کرسکیں اوران میں سستی پیدا ہوجائے ، لیکن جوشخص پورے شعبان کےروزے رکھتا ہے وہ توروزوں کا عادی بن چکا ہے ، جس کی بنا پر اس سے یہ مشقت زائل ہوجائے گی ۔ اھـ

واللہ اعلم

٣٤١-يوم شك كا روزہ ركھنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

تيس شعبان كى رات ہم چاند ديكھنے نكلے، ليكن فضا ابر آلود تھى اور ہم چاند نہ ديكھ سكے، تو كيا ہم تيس شعبان كا روزہ ركھيں كيونكہ يہ شك والا دن ہے ؟

الحمد للہ:

اسے يوم شك كا نام ديا جاتا ہے ( كيونكہ اس ميں شك ہےكہ آيا يہ شعبان كا دن ہے يا يكم رمضان ) اور اس دن روزہ ركھنا حرام ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" چاند ديكھ كر روزہ ركھو اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ، اور اگر تم چاند چھپ جائے ( يعنى آسمان ابر آلود ہو جائے ) تو شعبان كے تيس دن پورے كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ).

اور عمار بن ياسر رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں كہ جس نے يوم شك كا روزہ ركھا اس نے ابوالقاسم صلى اللہ عليہ وسلم كى نافرمانى كى.

اسے ترمذى نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 553 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس حديث سے يوم شك ميں روزہ ركھنے كى حرمت پر استدلال كيا گيا ہے، كيونكہ صحابى ايسا اپنى رائے سے نہيں كہتا لہذا يہ مرفوع حديث ميں شامل ہو گا.

يوم شك كے متعلق مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" سنت نبويہ اس دن كے روزہ كى حرمت پر دلالت كرتى ہے"

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 117 ).

اور شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى يوم شك ميں روزہ ركھنے كے حكم ميں اختلاف ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:

" اور ان اقوال ميں سے صحيح قول يہ ہے كہ اس دن روزہ ركھنا حرام ہے ليكن اگر امام ( يعنى حكمران ) كے ہاں اس دن كا روزہ ركھنے كا وجوب ثابت ہو جائے اور وہ لوگوں كوروزہ ركھنے كا حكم جارى كردے تو اس كى مخالفت نہيں كى جائيگى، اور اس كى عدم مخالفت يہ ہے كہ انسان اپنا روزہ چھوڑنا ظاہر نہ كرے، بلكہ وہ چورى چھپے روزہ چھوڑے"

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 318 ).

واللہ اعلم

٣٣٨-كيا ذوالحجہ كےدس دن جس ميں عيد بھي ہے كےروزے ركھنا مستحب ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں نےآپ كي ويب سائٹ ميں يوم عرفہ كےروزہ كي فضيلت كےمتعلق پڑھا ہے، ليكن ميں نےعشرہ ذوالحجہ كےروزوں كي فضيلت بھي پڑھي ہے تو كيا يہ صحيح ہے؟
اگر يہ صحيح ہے توكيا يہ ممكن ہےكہ آپ مجھے يہ بتائيں كہ ہم نودن كےروزے ركھيں يا دس يوم كے كيونكہ دسواں روز تو عيد الاضحي كا دن ہے ؟

الحمد للہ :

ذوالحجہ كےنوايام كےروزے ركھنا مستحب ہيں اس كي دليل نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

عبداللہ بن عباس رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

( ان ايام يعني عشرہ ذوالحجہ كےعلاوہ كوئي اورايام ايسے نہيں جن ميں كيے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالي كوزيادہ محبوب ہوں، صحابہ كرام نےعرض كيا جھاد في سبيل اللہ بھي نہيں؟ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےفرمايا: نہ ہي جھاد في سبيل اللہ ہاں وہ شخص جواپنا مال اور جان لے كر نكلے اور اس ميں سے كچھ بھي واپس نہ لائے ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 969 )

ھنيدہ بن خالد اپني بيوي سے اور وہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم كي ازواج مطھرات سے انہوں نےكہا: ( رسول كريم نو ذوالحجہ اور يوم عاشوراء اور ہرماہ ميں تين پہلي سوموار اور دو جمعرات كےروزے ركھتےتھے) مسند احمد حديث نمبر ( 21829 ) سنن ابوداود حديث نمبر ( 2437 ) نصب الرايۃ ( 2 / 180 ) ميں اسے ضعيف كہا گيا ہے، اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےاسے صحيح قرار ديا ہے.

ليكن عيد كےدن كا روزہ ركھنا حرام ہے، اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

ابوسعيد خدري رضي اللہ تعالي عنہ مرفوعا بيان كرتےہيں: ( رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے عيدالفطر اور يوم النحر ( عيدالاضحي ) كا روزہ ركھن سے منع فرمايا ) صحيح بخاري حديث نمبر ( 1992 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 827 )

اور علماء كرام كا بھي اس پر اجماع ہے كہ دونوں عيدوں كا روزہ ركھناحرام ہے .

لھذا انا دس ايام ميں كيے گئے اعمال صالحہ دوسرے ايام كےاعمال سے افضل ہيں، ليكن ان ايام ميں صرف روزے نو دن كےركھےجائيں گے، اور دسواں دن جو كہ عيد قربان كا دن ہے اس دن روزہ ركھنا حرام ہے.

تواس بنا پر عشرہ ذوالحجہ كےروزے ركھنےكي فضيلت سے مراد يہ ہوا كہ نودن كےروزے ركھےجائيں گے، دس كا اطلاق اغلبيت كي بنا پر كيا گيا ہے.

ديكھيں: شرح مسلم للنووي حديث نمبر ( 1176 )

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...