Showing posts with label تزکیہ. Show all posts
Showing posts with label تزکیہ. Show all posts

Sunday, August 19, 2018

٥٧٨-كيا كسى بھى گوشت پر بسم اللہ پڑھنا كافى ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب ميں گوشت خريدوں اور مجھے علم بھى ہو كہ يہ شريعت اسلاميہ كے مطابق ذبح نہيں كيا گيا تو كيا اسے بسم اللہ پڑھ كر كھا لوں؟
ميں نے بخارى شريف ميں ايك حديث پڑھى ہے كہ: كچھ لوگوں كو يقينى علم نہيں تھا كہ ان كے پاس جو گوشت ہے وہ حلال ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بتايا كہ وہ بسم اللہ پڑھ كر كھا ليں.
كيا حديث كا صحيح مفہوم يہى ہے ؟

الحمد للہ :

جب يہ معلوم نہ ہو كہ كس طريقہ پر ذبح كيا گيا ہے، اور ظن غالب يہ ہو كہ اسے شريعت اسلاميہ كے طريقہ پر ہى ذبح كيا گيا ہوگا، وہ اس طرح كہ وہ گوشت ايسے ملك كا ہو جہاں اكثريت مسلمانوں كى ہے، يا پھر اہل كتاب ہيں، تو ايسى حالت ميں اسے كھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا كافى ہے.

ليكن جب يہ علم ہو كہ اسے غير اسلامى طريقہ پر ذبح كيا گيا ہے تو اس كا كھانا جائز نہيں، كيونكہ وہ مردار كے حكم ميں ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

(  اور تم اسے نہ كھاؤ جس پر اللہ تعالى كا نام نہ ليا گيا ہو.. ) .

٥٧٧-مسلمانوں كے ليے شريعت اسلاميہ كے مطابق ذبح كو ممكن بنانا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہمارے فارم ميں ميرے پاس بكرياں ہيں، كچھ مسلمانوں نے مجھ سے مطالبہ كيا ہے كہ يہ بكرياں انہيں فروخت كر دوں، ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا مجھ پر ضرورى ہے كہ ميرے پاس فارم ميں مخصوص جگہ ہونى چاہيے جہاں وہ انہيں ذبخ كر سكيں؟ ( اس طرح كہ ميرے پاس انہيں چيك كرنے والا ہو، اور آسانى مہيا كى جائے )
ميں بكرياں فروخت كرنا چاہتا ہوں، ليكن ميں اپنے اور سركارى ادارے كے درميان مشكلات پيدا نہيں كرنا چاہتا ؟

الحمد للہ :

اگر آپ مسلمانوں كے ليے شريعت اسلاميہ كے مطابق جانور ذبح كرنا ممكن بنا سكتے ہيں تو يہ بہت بھلائى اور خير عظيم ہے، اور اگر ايسا نہيں كر سكتے تو پھر آپ انہيں وہ بكرياں زندہ فروخت كرديں، اور وہ خود ہى ذبخ كرليں گے.

ليكن ميں آپ كو اس پر ابھارتا ہوں كہ آپ كے ليے جتنا بھى ممكن ہو سكے مسلمانوں كے ليے جانور ذبح كرنے ميں معاونت كريں، كيونكہ ہو سكتا ہے انہيں آپ كے فارم كے علاوہ كوئى اور مناسب جگہ نہ مل سكے.

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو ہر قسم كى بھلائى اور خير كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم

٥٧٦-ذبح كرنے كے بعد جانور ميں خون رہنے دينا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

يورپى ممالك ميں بعض فيكٹرياں جان بوجھ كر ذبح كيے گئے جانور سے مكمل خون صاف نہيں كرتيں تا كہ اس كے وزن ميں كمى نہ ہو اور ان كے نفع كا حجم زيادہ ہو، ايسے گوشت كو كھانے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ تعالى كے سامنے ركھا تو ان كا جواب تھا:

ذبج كردہ جانور ميں خون چھوڑنا اور اسے مكمل نہ نكالنا حرام ہے جائز نہيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ تم پر مردار اور خون حرام كر ديا گيا ہے﴾ .

Saturday, August 18, 2018

٥٧٥-مذبح خانہ ميں كچھ ملازمين بے نماز ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مذبح خانہ ميں كچھ لوگ ملازم ہيں جن ميں نمازى بھى اور بے نماز بھى ہيں، اور وہاں موجود ملازمين ميں سے اكثر دين اسلامى كو برا كہتے ہيں، تو كيا ان كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانا جائز ہے ؟

الحمد للہ :

دين اسلام كو برا كہنے والوں كو اس مذبخ خانہ ميں رہنے دينا جائز نہيں اگرچہ وہ نماز بھى ادا كرتے ہوں، كيونكہ دين اسلام كو برا كہنا كفر اور دين اسلام سے خارج كر ديتا ہے، اور جو شخص انكارا نماز نہيں پڑھتا، يا نماز ترك كرنے پر مصر ہے، يا پھر وہ اپنے گھروں ميں بھى نماز ادا نہيں كرتا تو اسے بھى وہاں نہيں رہنے دينا چاہيے، اور ان كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانا جائز نہيں، چاہے وہ اپنے آپ كو مسلمان ہى كيوں نہ كہتے ہوں، اور اس پر بسم اللہ بھى پڑھتے ہوں.

اگر تو وہ ملك اسلامى ہے، اور وہاں اسلامى قوانين نافذ ہيں تو آپ كو اس مسئلہ ميں خاموشى اختيار نہيں كرنى چاہيے، اور اگر آپ انہيں وہاں سے نكلوا نہيں سكتے تو پھر مسلمانوں كو ان كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانے سے بچنے كا كہيں .

ديكھيں: اللؤلؤ المكين من فتاوى فضيلۃ الشيخ ابن جبرين ( 55 ).

٥٧٤- وطنى مرغى كے ذبح كا طريقہ معلوم نہ ہونے والے كے ليے كھانے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا ہوٹلوں ميں موجود مرغى اور گوشت كھانا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ مجھے معلوم ميں نہيں ہے كہ اسے شريعت اسلاميہ كے مطابق ذبح كيا گيا ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

صحيح بخارى ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس كچھ لوگ آ كر كہنے لگے:

كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں ہميں نہيں معلوم كہ آيا انہوں نے اس پر اللہ كا نام ليا ہے يا نہيں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم بسم اللہ پڑھو اور كھالو"

ميں كہتا ہوں: وہ لوگ ابھى كفر كے قريبى عہد سے تعلق ركھتے اور اسلام ميں نئے نئے داخل ہوئے تھے، انہيں معلوم نہيں تھا كہ وہ نام ليں يا نہ، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم خود بسم اللہ پڑھو اور پھر اسے كھا لو.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كھانا مباح قرار ديا اگرچہ ہميں علم نہ ہو كہ اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہے يا نہيں، اور اسى طرح اگر ہميں يہ علم نہيں كہ آيا اسے صحيح طريقہ پر ذبح كيا گيا ہے يا نہيں تو پھر بھى كھانا مباح ہے، كيونكہ جب كوئى فعل كسى اہليت والے شخص سے صادر ہو تو وہ فعل اصلا صحيح اور نافذ ہوتا ہے ليكن اگر كوئى دليل ہو تو پھر نہيں.

اگر ہمارے پاس كسى مسلمان، يا يہودى يا نصرانى كا ذبح كيا ہوا گوشت آئے تو ہم اس كے متعلق يہ نہيں دريافت كرينگے كہ يہ كيسے ذبح ہوا ہے، اور نہ ہى يہ پوچھيں گے كہ كيا اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہے يا نہيں؟

جب تك اس كے حرام ہونے پر كوئى دليل قائم نہيں ملتى وہ گوشت حلال ہے، اور يہ اللہ تعالى كى جانب سے آسانى ہے، وگرنہ ہمارے ليے تو بہت مشكل ہوتى كہ جب بھى كوئى ذبح كرنے والا ہميں گوشت پيش كرتا، ہم اس سے سوال كرتے: اسے ذبح كرنے والا كون ہے؟ كيا وہ نمازى ہے يا نہيں؟ كيا اللہ كا نام ليا گيا ہے يا نہيں ؟ كيا خون بہا ہے يا نہيں ؟ الخ

ليكن اللہ تعالى كى طرف سے آسانى ہے كہ اہليت والے شخص سے صادر شدہ فعل اصلا صحيح اور نافذ ہوتا ہے، الا كہ كوئى دليل مل جائے .

ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح للشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 1 / 77 ).

٥٧٣-كيا اہل كتاب كا ذبح كيا ہوا گوشت مسلمان كے بسم اللہ پڑھنے سے كھانا جائز ہو جاتا ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

يہود و نصارى كے ذبح كيے ہوئے گوشت كا حكم كيا ہے؟
اور اگر ميرے يہودى يا نصرانى دوست نے مجھے گوشت ہديہ ديا ہو تو كيا كھانے سے قبل ميرے ليے بسم اللہ پڑھنا كافى ہے؟
يہود و نصارى كے ذبح كيے ہوئے گوشت كے ساتھ ہمارے معاشرہ ميں مسلمانوں كا طرز عمل مجھے پسند نہيں، وہ ( يعنى مسلمان ) يہ گمان كرتے ہيں كہ اہل كتاب كا ذبح كيا ہوا گوشت صرف كھانے كے وقت بسم اللہ پڑھنے سے حلال ہو جاتا ہے، اور جب ہميں كوئى يہودى يا عيسائى گوشت ہديہ دے تو ہميں بسم پڑھ كر كھا لينا چاہيے كيونكہ بسم اللہ سے حلال ہو جاتا ہے، اس سلسلے ميں آپ كيا راہنمائى كرتے ہيں ؟

الحمد للہ :

علماء كرام كا اجماع ہے كہ جب اہل كتاب يہود اور عيسائى اپنے ذبيحہ پر بسم اللہ پڑھيں تو وہ مباح ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم اس ميں سے نہ كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہيں ليا گيا﴾.

اور اگر كتابى نے اللہ تعالى كے نام كے علاوہ كوئى اور نام ليا مثلا: عزير كے نام سے، يا مسيح كے نام سے، تو اسے كھانا حلال نہيں ہوگا كيونكہ وہ اللہ تعالى كے مندرجہ ذيل فرمان كے عموم ميں شامل ہوتا ہے:

﴿ اور جو غير اللہ كے ليے ذبح كيا گيا ہو ﴾.

اور يہ بھى شرط ہے كہ: ذبح شرعى طريقہ پر ہو، اور اگر يہ معلوم ہو جائے كہ اسے غير اسلامى طريقہ پر ذبح كيا گيا ہے مثلا: گلا گھونٹ كر، يا بجلى كے جھٹكے وغيرہ كے ذريعہ تو يہ حرام ہوگا.

اور بعض لوگ جو يہ دليل ديتے ہيں كہ كھاتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھنا ہى كافى ہے، تو يہ ان لوگوں كے متعلق وارد ہے جو نئے نئے مسلمان ہوں، صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كرتے ہوئے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہمارے پاس ايسے لوگ گوشت لاتے ہيں جو ابھى كفر كو چھوڑ كر نئے نئے مسلمان ہوئے ہيں، ہميں علم نہيں كہ انہوں نے اس پر اللہ تعالى كا نام ليا ہے يا نہيں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس پر اللہ كا نام لے كر كھا لو"

اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں راويت كيا ہے.

لھذا مسلمان كا معاملہ صحيح اور سيدھا ہوتا ہے جب تك اس كے خلاف معلوم نہ ہو جائے.

واللہ اعلم

٥٧٢-مرغى ذبح كرنے كے فورا بعد حركت كرتى ہوئى مرغى كھولتے ہوئے پانى ميں ڈالنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مرغى ذبح كرنے كے فورا بعد جبكہ ابھى مرغى ميں حركت ہو كو كھولتے ہوئے پانى ميں ڈالنا تاكہ اس كے پروں كى صفائى آسانى سے ہو جائے، اگر ہم ايسا يقينى طور پر ديكھ ليں تو كيا اس مرغى كو كھانا جائز ہے ؟

الحمد للہ :

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے ركھا تو ان كا جواب تھا:

جب وہ ذبح كى جا چكى ہے تو پھر كوئى حرج نہيں.

سوال: ؟

ليكن اس ميں تو ابھى جان ہے اور وہ حركت كر رہى اور پھڑك رہى ہے؟

جواب:

اگر تو ذبح كے بعد ہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں ( اور اس كا كھانا حلال ہے ) ليكن يہ جائز نہيں وہ اسے اس تكليف اور عذاب سے دوچار كريں

٥٧١-مذبح خانہ ميں كئى اديان كے لوگ جانور ذبح كرتے ہيں

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہميں يہ تو علم ہے كہ اہل كتاب كا ذبح كيا ہوا گوشت جائز ہے، اور اس ميں كوئى بحث كرنا ممكن نہيں كيونكہ يہ قرآن مجيد ميں مذكور ہے، اور ہمارے علم ميں ہے كہ كچھ حالات ايسے ہيں جن ميں علماء كرام كے مابين اختلاف ہے.
ميرا سوال بھى معين حالت كے بارہ ميں ہى ہے:
ہم كينڈا كے ايك شہر ميں رہائش پذير ہيں جہاں دنيا كے ہر كونے سے مہاجر جمع ہيں، جب آپ مذبخ خانہ جائيں تو آپ كو وہاں متعدد اديان كے لوگ كام كرتے ہوئے مليں گے، وہاں آپ كو يہودى بھى ملےگا، اور مسلمان بھى، اور عيسائى بھى اور بدھ مت اور ملحد اور سكھ بھى... الخ
ان لوگوں ميں ذبح كرنے كا ذمہ دار بھى ہے جس كے متعلق عادتا معلوم نہيں كہ ذبح كرنے والا كون ہے ( وہ كسى بھى دين سے تعلق ركھنے والا ہو سكتا ہے ) تو كيا ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ ہم اس طرح كے ملك ميں بستے ہيں تو ہمارے ليے يہ معلومات حاصل كرنا اہم نہيں، ہمارے ليے بازار ميں پايا جانے والا گوشت كھانا ممكن ہے؟
ميں يہ سوال اس اعتبار سے كر رہا ہوں كہ وہاں كچھ مسلمان بھى شريعت اسلاميہ كے مطابق ذبح كرتے ہيں، اور يہ گوشت بازار ميں فروخت ہوتا ہے، بہت سے لوگوں كے ليے يہ مشكل اور فتنہ بن چكا ہے اور وہ بہت سے حالات ميں علماء كو تفصيل بتائے بغير سوالات كرتے ہيں، اگر آپ اس سلسلے ميں ہميں كچھ تفصيلات فراہم كريں گے تو يہ آپ كا بہت بڑا تعاون ہے.

الحمد للہ :

اس بارہ ميں مسلمان شخص كو كوشش كرنى چاہيے، اور اسے اپنے كھانے اور پينے، اورلباس ميں حلال اشياء كے حصول كى جدوجھد كرنى چاہيے... اور يہ مخفى نہيں كہ يہود و نصارى كے علاوہ دوسرے بت پرستوں مثلا ملاحدہ اور سكھوں وغيرہ كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانا حلال نہيں.

اور ہم مسلمانوں كے ليے ممكن ہے كہ كوئى ايك مسلمان ذبح كرے اور كوئى دوسرا مسلمان اس كى كھال اتار كر گوشت بنا كر گوشت استعمال كرے.

الشيخ العبد اللطيف

خلاصہ يہ ہوا كہ جب مسلمان يا كتابى شخص ذبح كرے تو وہ گوشت كھا ليں، اور جب ان كے علاوہ كوئى اور ذبح كرے تو نہ كھائيں، اور جب مذبح خانہ ميں مختلف اديان سے تعلق ركھنے والے لوگ ذبح كرتے ہوں جن ميں مسلمان اور نصرانى بھى، اور بدھ مت، اور ہندو بھى، اور اسلام سے مرتد ہونے والا شخص بھى شامل ہوں، اور يہ معلوم نہ ہو كہ يہ گوشت كس نے ذبح كيا ہے تو وہ گوشت نہ كھائيں.

واللہ اعلم

٥٧٠- ايك كفريہ دين كو چھوڑ كر كسى دوسرے كفريہ دين ميں جانے والے شخص كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اگر كوئى نصرانى شخص كيمونسٹ ملحد يا بدھ مت مذھب اختيار كر لے تو كيا اس كا ذبح كيا ہوا جانور كھانا جائز ہے، اور اگر يہودى نصرانى بن جائے تو كيا ہم اس كا ذبيحہ كھا سكتے ہيں ؟

الحمد للہ :

فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ اہل كتاب ميں سے جو كوئى شخص بھى اہل كتاب كا دين ترك كر كے كوئى اور دين اختيار كرتا ہے تو اس كا ذبيحہ نہيں كھايا جائےگا، ليكن اگر وہ اپنا دين ترك كر كے اہل كتاب كا دين اختيار كر لے مثلا يہودى عيسائيت اختيار كر لے يا پھر عيسائى يہوديت اختيار كر لے تو جمہور علماء كرام جن ميں احناف، مالكى اورايك قول كے مطابق شافعى اور بالجملہ حنابلہ شامل ہيں كے مطابق اس كا ذبيحہ حلال ہے .

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 39 / 97 ).

٥٦٩-غير شرعى طريقہ سے ذبح كردہ گوشت حرام ہونے كى علت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا غير شرعى طريقہ سے ذبح كردہ مثلا پسٹل سے مار كر يا جھٹكا وغيرہ طريقہ كے ذريعہ ذبح كردہ جانور كے حرام ہونے كا واضح سبب پايا جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ آپ كہہ ديجئے كہ جو احكام بذريعہ وحى ميرے پاس آئے ہيں ان ميں تو ميں كوئى حرام نہيں پاتا كسى كھانے والے كے ليے جو اس كو كھائے، مگر يہ كہ وہ مردار ہو يا كہ بہتا ہوا خون ہو يا خنزير كا گوشت ہو، كيونكہ وہ بالكل ناپاك ہے يا جو شرك كا ذريعہ ہو كہ غير اللہ كے ليے نامزد كر ديا گيا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطيكہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ ہى حد سے تجاوز كرنے والا تو واقعى آپ كا رب غفور الرحيم ہے }الانعام ( 145 ).

خون ايسى چيز ہے جو شرعى طريقہ سے ذبح كيے بغير گوشت كھانے كو حرام كرتا ہے، ہمارى سليم شريعت مطہرہ نے آخرى حد تك جتنا بھى ممكن ہو سكے اس خون سے ذبح كردہ جانور كو خون سے خالى كرنے كا قصد كيا ہے، اور يہ صرف اس ليے ہے كہ خون كھانے كے نتيجہ ميں ضرر اور نقصان ہوتا ہے.

اور يہ كوئى معقول يا مقبول بات نہ تھى كہ حتمى طور پر اسلام يہ شروط لاگو كرے تا كہ ذبح كردہ جانور كو خون سے شرعى ذبح كے ذريعہ خالى كيا جائے، اور پھر پلٹ كر جانور سے باہر اس بہنے والے خون كو پينا يا كھانا مباح كر دے، اس بنا پر يہ حتمى امر تھا كہ اسلام انسان كے ليے خون بطور غذا حرام كر دے.

بلكہ خون كى حرمت جانور ذبح كرنے اور اسے خون سے خالى كرنے كى ظاہر حكمت اور شرعى مقصد شمار ہوتا ہے، كيونكہ يہ كھانے والى اشياء ميں سب سے خبيث چيز ہے جس كے بارہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم حكم لائے ہيں:

{ اور وہ ان كے ليے پاكيزہ اشياء حلال كرتا ہے، اور ان پر خبيث اشياء حرام كرتا ہے }الاعراف ( 157 ).

امام طبرى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں لكھتے ہيں:

" يا دم مسفوح يعنى بہنے والا خون " اس كا معنى يہ ہے كہ يا بہنے والا سائل خون، اور اللہ تعالى نے اپنے بندوں كو اس كى حرمت معلوم كرانے ميں جو شرط ركھى ہے وہ يہ كہ وہ خون بہنے والا ہو، دوسرا نہيں، يہ اس كى واضح دليل ہے كہ جو خون مسفوح يعنى بہنے والا نہ ہو وہ حلال ہے اور نجس نہيں.

عكرمہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: اگر يہ آيت نہ ہوتى تو مسلمان رگوں ميں بھى پيچھا كرتے جو يہوديوں نے نہيں كيا، اور ماوردى بيان كرتے ہيں: غير مسفوح يعنى بہنے والے خون كے علاوہ دوسرا خون اگر تو وہ رگوں ميں اور جما ہوا ہو مثلا جگر اور تلى تو يہ حلال ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہمارے ليے دو مردار اور دو خون حلال كيے گئے ہيں.... " الحديث.

بہنے والے خون كى حرمت ميں راز آج اہل طب اور ميڈيكل، اور ليبارٹرى ٹيسٹ كرنے اور دقيق علم كائنات ركھنے والوں كے ہاں معروف ہے كہ خون جراثيم كى نشو و نما كے ليے سب سے بہتر چيز ہے، اس ليے اگر كوئى شخص خون پيتا ہے تو اس نے وہ كھيت نوش كر ليا جس ميں جراثيم نشوونما پائينگے اور كثرت سے پيدا ہونگے اور ہلاك كرنے والا زہر نكالينگے، اور يہ معلوم ہے كہ جب معدہ كے امراض پيدا ہوتے ہيں تو اس كے نتيجہ ميں جراثيم كے حملے كتنے اثرا انداز ہوتے ہيں.

اور اگر يہ كہا جائے كہ خون كو آگ پر پكا كر كھانا بلاشك اس بكٹيريا اور ميكروباٹ كو قتل اور ختم كرنے كا باعث ہے، اور اسے بالكل ختم كرنے كے ساتھ نفع مند غذائيت كو باقى ركھتا ہے ؟

تو اس كا جواب يہ ہے:

اس زہر ميں ايسے بھى ہيں جو كھولنے اور پكانے سے بالكل تبديل نہيں ہوتے اور اسے جسم كے ليے فائدہ مند نہيں بناتے، اور كچھ زہر تو ايسے بھى ہيں جو بالكل تبديل ہى نہيں ہوتے، بلكہ پكانے كے بعد بھى وہ ہلاك كرنے كى صلاحيت باقى ركھتے ہيں، بلكہ يہ ممكن ہے كہ وہ حرارت كے اثر سے اس سے بھى زيادہ ہولناكى اختيار كر جائيں.

اور ممكن ہے خون نوش كرنے والا جس فائدہ كى توقع كر رہا ہے كہ يہ مادہ غذائيت تقويت ديتا ہے، تو يہ اس كى خام خيالى ہے اور يہ فائدہ منعدم ہے، جب خون كى تكوين اور طبيعت كو ديكھيں تو يہ معلوم ہوتا ہے كہ اس كو ہضم كرنا بہت مشكل ہے، وہ اس طرح كہ اگر اس كى قليل سى مقدار بھى معدہ ميں چلى جائے تو انسان فورا قئى كرنا شروع كر ديتا ہے، يا پھر يہ پاخانہ كے راستے بغير ہضم ہوئے سياہ مادے كى صورت ميں خارج ہو جاتا ہے.

اور اس كے ہضم ہونے ميں مشكل اور اسے سياہ پاخانہ كے رنگ ميں تبديل ہونے كا سبب سرخ مادہ ( ہيموجلوبين ) ہے جو اساسى طور پر لوہے كے عنصر سے بنتا ہے پايا جاتا ہے، اور ہضم كے عمل كے دوران اور اس پر وقت گزرنے كى وجہ سے اس ميں تعفن پيدا ہو جاتا ہے جس سے بھى جسم كو ضرر اور نقصان ہوتا ہے.

اور اگر يہ كہا جائے كہ پكانے سے بھى خون تحليل ہو كر آسانى سے ہضم ہو جاتا ہے، اور غذائيت كا فائدہ ديتا ہے تو اس كا جواب يہ ہے:

خون پكانے اور ابالنے سے اس ميں پائے جانے والا تمام مواد جم جاتا ہے، اور اس كى بنا پر وہ اور بھى سخت اور مشكل ہو جاتا ہے، اور پہلے سے زيادہ نقصاندہ اور كم فائدہ بن جاتا ہے.

سينكڑوں بار علمى سرچ كرنے اور خون كے ليبارٹرى ٹيسٹ اور اس كے دقيق پوشيدہ راز معلوم كرنے بہت وسعت پيدا ہونے سے يہ بغير كسى اختلاف كے يہ واضح ہوا ہے كہ اس پر ميڈيكل كے سارے افراد متفق ہيں كہ خون پينے يا اسے پكانے يا استعمال كرنے كى بنا پر صحت كو نقصان ہوتا ہے، اور خون پينا سم قاتل كى حيثيت ركھتا ہے جو درج ذيل علمى حقائق سے سامنے آئے ہيں:

اول:

خون اپنى آخرى تركيب ميں جو اساسى عنصر سے بنتا ہے اور وہ عنصر پانى جو نوے فيصد ( 90 % ) كے تناسب سے سائل مادے كى شكل ميں پايا جاتا ہے جس ميں خون كے ذرات ( جو پلازم كے نام سے معروف ہيں ) اور باقى خون كے خليہ اور دوسرے عناصر پر مشتمل ہوتا ہے.

اور اس بنا پر كہ جو شخص خون اور دوسرے عناصر پينا چاہے، اور اس وجہ سے كہ جو خون پينا چاہے، يا اسے پكا كركھانا چاہے تو وہ ايك عالى يا عام قسم كى غذائى قيمت كى بنا پر ايسا كرتا ہے، تو يہ علمى حقيقت اس كا ثبوت پيش كرتى ہے كہ اسے دم مسفوح كى بہت زيادہ مقدار نوش كرنى چاہيے تا كہ وہ خونى پروٹين كى قليل سى مقدار كے ساتھ فولاد كى بھى تھوڑى سى مقدار حاصل كرسكے، اس طرح كہ اس سے پيدا ہونے والے خطرات كا مقابلہ كرنے كا مستحق نہيں.

يعنى مختصر طور پر يہ كہ: جو تصور كيا جاتا ہے خون اس كے برعكس ہے، اس ميں غذائى اعتبار سے بہت ہى كم عنصر پايا جاتا ہے، اس بنا پر خون كو شرعا حرام كرنا خون كے رئيسى عناصر ميں سے ايك عنصر غذائيت سے مسلمانوں كو محروم كرنے كا باعث نہيں بنتا.

دوم:

اس سے بڑى مصيبت يہ ہے كہ خونى پروٹين كى يہ مقدار بھى شديد قسم كے زہر كے ساتھ مخلوط ہو كر آتى ہے جو انتہائى درجہ كى نقصاندہ ہے، جس كو استعمال كرنے سے جان كو خطرہ ميں ڈالنے كےمترادف ہے.

اور ان زہريلے عناصر ميں سب سے پہلا عنصر وہ قاتل گيس ہے جس سے خون بھرا ہوتا ہے، اور وہ گيس دوسرى كاربن ڈائى اكسائڈ ہے، جو جسم كى سارى رگوں ميں خون كے ساتھ دوڑتى ہے.

اور جب خون پينے والا وہ خون حيوان سے ليتا ہے تو وہ اس خون كو پيئے يا پھر پكا كر كھائيگا جس ميں كاربن ڈائى اكسائڈ گيس جو قاتل اور دم گھٹنے والى گيس ہے، اور وہ جانور جو گلا دبا كر مرا ہو اس كے خون ميں يہ گيس تو اور بھى زيادہ جمع ہوتى ہے اور اس كے قاتل اثرات كى بنا پر موت واقع ہوتى ہے.

آپ كے ليے يہ مخفى نہيں رہنا چاہيے كہ بار بار تكرار كے ساتھ خون پينے والا عادى شخص اس گيس كو اپنے اندر جمع كر رہا ہے، جو گيس كى مقدار كے حساب سے اس كے ليے نقصاندہ ہے، اور جس قدر پينے والے كے جسم كے اندر تاثير كى قابليت ہو گى اسى طرح اسے ضرر بھى زيادہ ہو گا.

عزيز قارئين كرام:

يہاں ہم نے جو ذكر كيا ہے وہ تو صرف پينے يا اسے پكا كر كھانے والے پر خون كے عناصر كے اثرات كے خطرات ہيں، جيسا كہ ہم نے بيان كيا ہے كہ كچھ ايسے خطرات اور نقصانات بھى ہيں جو انتہائى خطرناك ہيں جن كا ڈائريكٹ اثر ان عوامل پر ہوتا ہے جو اللہ تعالى نے خون ميں پيدا كيے ہيں اور حيوانات كے جسم ميں وظائف كى ادائيگى ميں ممد و معاون بنتے ہيں، اور ان كى ادائيگى اسى صورت ميں ہو سكتى ہے جب وہ سائل اور جارى ہو.

خون پينے كے خطرناك انجام ميں سے اگر ہم صرف ايك پر كفائت كريں تو صحت و علم كى قدر كرنے والى امت كے ليے اس خون كى شرعى حرمت كے ليے يہى ايك انجام كافى ہے، چاہے وہ امت كافر ہى ہو:

{ اللہ تعالى جسے چاہتا ہے حكمت عطا كرتا ہے، اور جسے وہ حكمت عطا كرے تو اسے بہت سارى خير كثير عطا كر دى گئى، اور صرف عقل والے ہى نصيحت پكڑتے ہيں }البقرۃ ( 269 ).

تو پاك ہے وہ ذات جس نے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو وہ كچھ سكھايا جسے وہ نہيں جانتے تھے، اور اللہ تعالى نے اس كو بطور امتنان بيان كرتے ہوئے فرمايا:

{ اور اللہ تعالى نے آپ پر كتاب اور حكمت نازل فرمائى، اور آپ كو وہ كچھ سكھايا جو تم نہيں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ تعالى كا بہت بڑا عظيم فضل تھا }النساء ( 113 ).

اور پاك ہے وہ ذات جس نے دنيا كو يہ صحيح اور مستقيم دين اسلام عطا كيا جس نے كوئى چھوٹى اور كوئى بڑى چيز نہيں چھوڑى بلكہ اسے لوگوں كے ليے پورے صحيح منہج اور صراط مستقيم كے ساتھ بيان كر ديا، اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

يقينا تمہارے پاس اللہ تعالى كى جانب سے نور اور واضح كتاب آ چكى، اللہ تعالى جس كے ذريعہ سے انہيں جو اللہ كى خوشنودى چاہتے ہوں سلامتى كى راہيں بتلاتا ہے، اور انہيں اپنى توفيق سے اندھيروں سے نكال كر نور كى طرف لاتا ہے، اور راہ راست كى طرف ان كى راہنمائى كرتا ہے المآئدۃ ( 15 - 16 ).

اعداد: استاذ ڈاكٹر توفيق علوان
ديكھيں: ملجۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1811 ) صفحہ ( 64 )

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...