Showing posts with label حكم صلاة الجماعة. Show all posts
Showing posts with label حكم صلاة الجماعة. Show all posts

Wednesday, August 15, 2018

٤٥٣-بيمارى كى بنا پر نماز باجماعت ترك كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميرے ايك قريبى رشتہ دار كو بيمارى نے آگھيرا جس كى بنا پر وہ صاحب فراش ہو گيا ہے، كيا اس كے ليے گھر ميں ہى نماز ادا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے مريض كو عافيت اور اجرو ثواب سے نوازے.. بلاشك جسے كوئى بيمارى لاحق ہو اور وہ اس پر صبر و تحمل سے كام لے تو اللہ تعالى اس كى بنا پر اس كے درجات بلند كرتا اور غلطيوں كو معاف كرديتا ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مومن كو كوئى بھى تكليف پہنچے حتى كہ جو كانٹا اسے لگتا ہے اس كى بنا پر اللہ تعالى اس كے ليے ايك نيكى لكھتا يا اس كى وجہ سے گناہ مٹا ديتا ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2572 ).

دوم:

مريض مرض كى بنا پر نماز باجماعت اور جمعہ ترك كرنے ميں معذور ہے، اس سے مراد يہ ہے كہ: وہ بيمارى جس سے اسے مسجد ميں جا كر نماز ادا كرنے ميں مشقت ہوتى ہو، اس كے دلائل درج ذيل ہيں:

1 - فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو ﴾التغابن ( 16 ).

2 - اور ايك مقام پر اللہ تعالى كا ارشاد ہے:

﴿ اللہ تعالى كسى نفس كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا ﴾ البقرۃ ( 286 ).

3 - ايك مقام پر رب ذوالجلال كا فرمان ہے:

﴿ نہ تو نابينے پر كوئى حرج ہے، اور نہ ہى لنگڑے پر حرج ہے، اور نہ ہى مريض پر كوئى حرج ہے ﴾الفتح ( 17 ).

4 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو اپنى استطاعت كے مطابق اسے كيا كرو "

متفق عليہ.

5 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بيمار ہوئے تو آپ نماز باجماعت سے پيچھے رہے، باوجود اس كے آپ كا گھر مسجد كے بالكل ساتھ تھا.

6 - ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى يا پھر مريض اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

يہ سب دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں كہ مريض سے نماز باجماعت اور نماز جمعہ كا وجوب ساقط ہو جاتا ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 438 ).

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

" مسلمان مردوں پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا، اور مسلمانوں كے ساتھ مل كر كثرت پيدا كرنا واجب ہے، انہيں چاہيے كہ وہ مسجد جائيں، اور منافقوں سے مشابہت اختيار مت كريں.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

" ہم نے ديكھا كہ معلوم نفاق والا منافق ہى اس سے ـ يعنى نماز سے ـ پيچھے رہتا "

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز باجماعت سے پيچھے رہنے والوں كو گھروں سميت جلا كر راكھ كر دينے كا ارادہ كيا.

چنانچہ آپ اور ہر قادر مسلمان پر مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے، اسے بغير كسى شرعى عذر مثلا بيمارى اور خوف كے گھر ميں نماز ادا كرنے كا حق حاصل نہيں.

اللہ تعالى سب كو اپنى ہدايت نصيب فرمائے. انتھى

ماخوذ از مجموع فتاوى ابن باز جلد ( 12 ).

واللہ اعلم

٤٥٢-بچوں كے ساتھ نماز ادا كرنے كى غرض سے گھر ميں نماز ادا كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہمارے گھر كے قريب مسجد ہے جس ميں ہم روزانہ نماز پنجگانہ ادا كر سكتے ہيں، ليكن ہفتہ كے آخر ميں چھٹى كے دن اور جمعہ ادا كرنے ميں قريب ترين مسجد جاتا ہوں, ميرا ايك بيٹا ہے جس كى عمر سولہ برس ہے وہ اكثر نماز كى پابندى نہيں كرتا.
اور نماز بھى اس وقت ادا كرتا ہے جب اسے بار بار كہا جائے اور اور اس كا پيچھا كيا جائے، اور بعض اوقات تو تجاہل سے كام ليتا ہے، اسى طرح ہمارے ساتھ ميرى بيوى كا بھائى بھى رہتا ہے جو يونيورسٹى ميں زير تعليم ہے، جب ميں گھر ميں ہوتا ہوں تو گھر ميں ہى نماز پڑھانے كى كوشش كرتا ہوں تا كہ بيٹا اور اس ماموں بھى نماز ادا كر ليں، اور اسى طرح بيوى اور ميرى دونوں بيٹياں بھى وقت پر نماز ادا كريں.
ميرا سوال يہ ہے كہ:
اول:
گھر كے نزديك مسجد نہ ہونے كى صورت ميں گھر ميں ہى نماز ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟
دوم:
مسجد كى بجائے گھر ميں نماز باجماعت ادا كرنے كا حكم كيا ہے تا كہ يقين كيا جا سكے كہ گھر كے افراد نے بھى نماز ادا كر لى ہے ؟
سوم:
مجھے علم ہے كہ والدين كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اپنے بچوں كو دينى تعليم ديں، اور اللہ سبحانہ و تعالى كے احكام كى پابندى كا التزام كروائيں، ميں يہ پوچھنا چاہتا ہوں كہ آيا كوئى ايسى عمر ہے جس كے بعد والدين بچے كى ذمہ دارى سے سبكدوش ہو جاتے ہيں ؟
اللہ سبحانہ و تعالى ہميں اور سب كو سيدھى راہ كى توفيق عطا فرمائے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2010-12-26
الحمد للہ:

اول:

ہر مسلمان بالغ شخص جو آذان سنے اسے نماز باجماعت مسجد ميں جا كر ادا كرنا فرض ہے.

اذان سننے كا مقصد يہ ہے كہ انسان عام آواز سے اور بغير كسى لاؤڈ اسپيكر كے مؤذن كى بلند آواز كے ساتھ دى گئى اذان سنے، اور فضاء ميں بالكل سكون ہو شور وغيرہ نہ ہو جو سماعت پر اثرانداز ہو سكے.

يہ تو نماز پنچگانہ باجماعت ادا كرنے كے متعلق ہے، ليكن جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو شہر يا بستى ميں رہتا ہو جہاں جمعہ ادا كيا جاتا ہو، چاہے وہ اذان سنے يا نہ سنے، اور چاہے شہر كتنا بھى بڑا ہو.

اس بنا پر اگر آپ كے گھر سے مسجد اتنى دور ہے كہ آپ آذان نہيں سنتے تو آپ پر مسجد ميں جانا واجب نہيں اس صورت ميں آپ اپنے گھر والوں كے ساتھ مل كر جماعت كروا سكتے ہيں.

ليكن اگر آپ اذان سنتے ہيں تو پھر آپ كو مسجد ميں جا كر نماز باجماعت ادا كرنا ہوگى، اور افراد خانہ نماز ادا كرتے ہيں يا نہيں اسے ديكھنے كے ليے آپ كا مسجد ميں جا كر نماز باجماعت ادا نہ كرنا جائز نہيں ہوگا.

كيونكہ ايسا كرنے ميں كسى دوسرے كى بنا پر واجب و فرض ترك كيا جا رہا ہے، جس كى تحقيق كسى دوسرے طريقہ سے بھى ہو سكتى ہے كہ مسجد ميں نماز باجماعت ادا كر كے گھر آ كر انہيں نماز كى ادائيگى كا پوچھ ليا جائے.

سوم:

جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ مكلف اور ذمہ دار بن جاتا ہے اس سے شرعى احكامات كے بارہ ميں باز پرس كى جائيگى، ليكن اس سے والدين كا اپنے بچے كو وعظ و نصيحت كرنے كا واجب ساقط نہيں ہو جائيگا.

جب بچہ والدين كے ساتھ رہتا ہے تو بچے كو احسن طريقہ سے نيكى كا حكم ديا جائے اور اسے برائى سے منع كيا جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے افراد خانہ كو جہنم كى اس آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، جس پر ايسے شديد اور سخت فرشتے مقرر ہيں جو اللہ كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے، اور وہ وہى كچھ كرتے ہيں جو انہيں حكم ديا جاتا ہے }التحريم ( 6 ).

اور حديث ميں بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ سے ثابت ہے كہ والدين ذمہ دار ہيں:

عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سب سے تمہارى ذمہ دارى اور رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا تم اس كے جوابدہ ہو، حكمران اپنى رعايا كا ذمہ دار ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا وہ اس كا جوابدہ ہے، اور مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا، اور عورت اپنے خاوند كے گھر كى ذمہ دار ہے اس سے اس كى رعايا اور ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 853 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1829 ).

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى جس بندے كو بھى اپنى رعايا كا حكمران بناتا ہے اور وہ اس حالت ميں مرے كہ اس نے اپنى رعايا كے ساتھ دھوكہ كيا ہو تو اللہ تعالى اس پر جنت كو حرام كر ديتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6731 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 142 ).

اس ذمہ دارى اور مسؤليت ميں يہ بھى شامل ہے كہ:

والد اپنے گھر ميں كوئى برائى والى چيز داخل مت كرے اور اگر بچہ گھر ميں لے آئے تو وہ اسے گھر ميں ركھنے كى اجازت مت دے، مثلا اگر كوئى بچہ فحش اور بےحيائى والى چينل گھر ميں لگوانا چاہے تو والد پر واجب ہے كہ وہ ايسا نہ كرنے دے.

كيونكہ يہ كام اس كے گھر ميں ہو گا جس كا ذمہ دار والد ہے، اور اس نے كل قيامت كے دن اس كا جواب دينا ہے اور اگر بچہ اپنے والدين سے عليحدہ اپنے گھر ميں منتقل ہو جاتا ہے تو وہ جو چاہے كرتا پھرے اور اس حالت ميں والد اچھے طريقہ سے وعظ و نصيحت كرے.

اللہ تعالى سے ہم دعا گو ہيں كہ وہ آپ كو سيدھى راہ كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم

٤٥١- امام افطارى گھر كرنے كے ليے نماز مغرب مسجد ميں ادا نہيں كرتا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم ايسے علاقہ ميں ہيں جہاں امام مغرب كى نماز نہيں پڑھاتا، كيونكہ وہ افطارى كے ليے گھر چلا جاتا ہے، چنانچہ اس كا حكم كيا ہے، كہيں ہم گنہگار تو نہيں ہو رہے ؟
يا پھر ہم گھر ميں نماز كريں تو ہمارى جماعت شمار ہو گى ؟

الحمد للہ:

اول:

مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے نماز پنجگانہ باجماعت مسجد ميں ادا كرے، ليكن اگر سويا ہوا يا پھر مرض وغيرہ كى بنا پر معذور ہو.

آپ مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 448 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور خاص كر رمضان المبارك ميں عام مسلمانوں ميں مغرب كى نماز ميں كوتاہى بڑھ جاتى ہے، امام كو چاہيے كہ وہ نماز كے وقت نمازيوں سے پہلے حاضر ہو، يہ جماعت كے وجوب كے علاوہ اور سبب كى بنا پر ہے، وہ ہے كہ اسے اس امانت كى ادائيگى كرنى چاہيے جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے، يا پھر وہ ڈيوٹى جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے اسے پورا كرے.

اگر يہ امام مغرب كى نماز مسجد ميں ادا كرنے ميں كوتاہى برتتا ہے تو اس كا يہ معنى نہيں كہ آپ لوگ گنہگار ہو رہے ہيں، يا پھر آپ كے ليے مسجد چھوڑ كر گھروں ميں نماز ادا كرنا جائز ہو جاتا ہے، بلكہ آپ پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا واجب ہے، چاہے امام نہ بھى آئے.

كيونكہ ہر انسان كا حساب اس كے اعمال كے مطابق ہوگا، اگر وہ غلطى كرتا ہے تو آپ اچھا عمل كريں، اور برائى سے اجتناب كريں، تا كہ اسلام كے اس شعار كى حفاظت ہو جو دين اسلام كا ايك ركن ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى كہتے ہيں:

( جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو اسے يہ نمازيں وہاں ادا كرنے كا التزام كرنا چاہيے جہاں اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تمہارى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن الھدى مشروع كيں، اور يہ سنن الھدى ميں سے ہيں، اگر اپنے گھر ميں پيچھے رہنے والے شخص كى طرح تم بھى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرو تو تم نے اپنے نبى كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم اپنے نبى كى سنت ترك كرو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح وضوء كر كے ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد جائے تو ہر قدم كے بدلے اللہ تعالى ايك نيكى لكھتا اور ايك درجہ بلند كرتا، اور اس كى بنا پر ايك برائى كو مٹاتا ہے، ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ميں نماز باجماعت كے ليے آنے والے كى قدرت ركھنے والے كو رخصت نہيں ديتا، الا يہ كہ كوئى عذر ہو.

ديكھيں: الام ( 1 / 277 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سنت نبويہ پر غور كرنے والا جب حقيقى غور كرے تو اسے يہ ظاہر ہو گا كہ مساجد ميں نماز باجماعت كى ادائيگى فرض عين ہے، مگر كسى عذر كى بنا پر جمعہ اور نماز باجماعت ترك كرنا جائز ہے، چنانچہ بغير كسى عذر كے مسجد ميں نہ جانا بغير كسى عذر كے اصل جماعت كو ترك كرنے جيسا ہى ہے، تو اس طرح سب احاديث اور آثار جمع ہو جاتے ہيں.

پھر ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ہم يہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ بغير كسى عذر كے كسى كے ليے بھى مسجد ميں نماز باجماعت سے پيچھے رہنا جائز نہيں.

ديكھيں: كتاب الصلاۃ ( 166 ).

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور راہنمائى بہترين اور كامل تھا؛ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تازہ كھجور كے ساتھ روزہ افطار كرتے، اور اگر تازہ كھجور نہ ملتى تو پھر كھجور كے ساتھ، اور اگر وہ بھى نہ ملتى تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم پانى سے روزہ افطار فرما ليتے، اور پھر نماز مغرب كے ليے كھڑے ہو جاتے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے قبل چند رطب ( تازہ اور آدھى كچى كھجوروں ) سے روزہ افطار كرتے، اور اگر رطب نہ ہوتيں تو پھر مكمل پكى ہوئى كھجور كے ساتھ، اور اگر پكى ہوئى كھجوريں بھى نہ ہوتيں تو پانى كے چند گھونٹ پى ليتے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 632 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ امام جو كچھ كر رہا ہے وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كے خلاف ہے، چنانچہ آپ اسے نصيحت كريں ہو سكتا ہے وہ سيدھى راہ پر واپس پلٹ آئے.

واللہ اعلم

٤٥٠-مقيم اور مسافر دونوں پر نماز باجماعت واجب ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم كچھ لوگ اپنے گھروں اور اہل و عيال سے دور غير رہائشى جہاں پر كام كرتے ہيں، جہاں مساجد وغيرہ نہيں ہيں، ہم كام ميں اتنى ہى مدت صرف كرتے ہيں جتنى اپنے گھروں ميں، يعنى ہم اٹھائيس يوم كام كرتے، اور اٹھائيس يوم رخصت پر ہوتے ہيں، اور سارا سال يہى سلسلہ رہتا ہے، ملازمت كى ڈيوٹى كا دورانيہ بارہ گھنٹے ہے.
اس جگہ پر نماز باجماعت ادائيگى واجب ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

مسافر اور مقيم پر نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے.

سوال نمبر ( 448 ) اور ( 449 ) كے جوابات ميں اس كے وجوب كے دلائل بيان ہوئے ہيں، اس كا مطالعہ كريں.

چنانچہ آپ لوگوں پر نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے، ايك شخص اذان دے، اور پھر آپ لوگ نماز باجماعت ادا كريں.

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے مالك بن حويرث رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں اپنى قوم كے كچھ لوگوں كے ساتھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا، اور ہم نے آپ كے پاس بيس راتيں بسر كيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بڑے نرم دل اور مہربان تھے، جب انہوں نے ديكھا كہ ہم اپنے بيوى بچوں كے مشتاق ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" واپس چلے جاؤ، اور ان ميں جا كر رہو، اور انہيں تعليم دو، اور جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے اسى طرح نماز ادا كرنا، اور جب نماز كا وقت ہو جائے تو تم ميں سے ايك شخص اذان دے، اور تم ميں سب سے بڑا آدمى امامت كروائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 628 ).

ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" كسى بستى يا خانہ بدوش تين آدمى ہوں اور وہاں نماز نہ ادا كى جائے تو ان پر شيطان غلبہ پا چكا ہے، چنانچہ آپ جماعت كو لازم پكڑيں، كيونكہ عليحدہ اور اكيلى بكرى كو بھيڑيا كھا جاتا ہے"

سائب رحمہ اللہ تعالى ( حديث كے ايك راوى ) كہتے ہيں: يعنى نماز باجماعت كو لازم پكڑو.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 547 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

عون المعبود ميں ہے:

" الا قد استحوذ عليہم " يعنى وہ ان پر غالب آ چكا ہے.

" ياكل الذيب القاصيۃ " يعنى: ريوڑ سے دور رہ جانے والى اكيلى بكرى كو چرواہے سے دور ہونے كى بنا پر بھيڑيا كھا جاتا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا كانفرنس ميں شركت كے ليے جانے والے مسافروں كے گروپ پر مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنا لازم ہے يا نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب ديا:

" اصل يہ ہے كہ اگر آپ ايسى جگہ ہوں جہاں بغير لاؤڈ سپيكر مسجد كى اذان سنيں تو آپ پر لوگوں كے ساتھ مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنا لازم ہے، ليكن اگر آپ مسجد سے دور ہوں اور لاؤڈ سپيكر كے بغير اذان نہ سن سكيں تو آپ اپنى جگہ پر ہى باجماعت نماز ادا كر ليں.

اور اسى طرح اگر آپ كى اس مہم ميں خلل پيدا ہوتا ہو جس كے ليے آئے ہيں تو آپ اپنى جگہ ہى باجماعت نماز ادا كرليں " اھـ

ديكھيں: فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 15 / 381 ).

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...