Showing posts with label تارک نماز. Show all posts
Showing posts with label تارک نماز. Show all posts

Friday, August 17, 2018

٥٤٠-ذبيحہ حلال ہونے كے ليے بسم اللہ كى شرط

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

قربانى پر بسم اللہ نہ پڑھنے كا حكم كيا ہے، خاص كر جب ذبح كرنے والا شخص نماز ادا نہ كرتا ہو ؟

الحمد للہ:

تارك نماز كى ذبيحہ حلال نہيں، چاہے وہ ذبح كرتے وقت بسم اللہ پڑھے يا نہ پڑھے، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 539 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

رہا مسئلہ ذبيحہ پر بسم اللہ پڑھنے كا تو فقھاء كے اس ميں تين اقوال پائے جاتے ہيں:

پہلا قول:

امام شافعى كے ہاں يہ صرف مستحب ہے.

دوسرا قول:

احناف مالكيہ اور حنابلہ كے ہاں يہ ذبيحہ حلال ہونے كے ليے شرط ہے، ليكن اگر بسم اللہ نہ پڑھے تو وہ مباح ہے.

تيسرا قول:

ظاہرى حضرات كے ہاں اور امام مالك اور امام احمد سے ايك روايت ميں يہ شرط ہے، اور كسى بھى حالت ميں ساقط نہيں ہو سكتى، نہ تو بھول كر اور نہ ہى عمدا اور نہ ہى جہالت ميں. سلف رحمہ اللہ كى ايك جماعت كا بھى يہى قول ہے، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ نے يہى اختيار كيا ہے، اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور صحيح بھى يہى ہے "

ان كا كہنا ہے: انہوں نے درج ذيل فرمان بارى تعالى كے عموم سے استدلال كيا ہے:

{ اور تم اس سے مت كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہ ليا گيا ہو }الانعام ( 121 ).

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كا خون بہے، اور اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہو تو وہ كھا لو "

تو كھانا حلال ہونے كے ليے بسم اللہ كى شرط لگائى، اور يہ معلوم ہے كہ جب شرط مفقود ہو جائے تو مشروط بھى مفقود ہوتا ہے، چنانچہ سارى شروط كى طرح جب بسم اللہ مفقود ہوئى تو اس كا حلال ہونا بھى مفقود ہو گا.

اس ليے جب كوئى نماز ادا كر لے اور وضوء كرنا بھول جائے تو اس پر نماز لوٹانى واجب ہے، اور اسى طرح اگر اس نے جہالت ميں بےوضوء ہو كر نماز ادا كر لى يعنى اس كا گمان تھا كہ ہوا خارج ہونے سے وضوء نہيں ٹوٹتا، يا يہ كہ اونٹ كا گوشت كھانے سے وضوء نہيں ٹوٹتا تو اسے دوبارہ نماز ادا كرنا ہو گى، كيونكہ مشروط شرط كے بغير صحيح نہيں ہوتا، اور اسى طرح اگر اس نےذبح كيا ليكن بھول كر يا جہالت كى بنا پر خون نہ بہايا تو وہ ذبيحہ حلال نہيں ہو گا، تو بسم اللہ ترك كرنا بھى اسى طرح ہے؛ كيونكہ حديث ايك ہے " انتہى.

ماخوذ از: الشرح الممتع ( 6 / 358 ).

مزيد آپ درج ذيل كتابوں كا مطالعہ بھىكريں.

العنايۃ شرح الھدايۃ ( 9 / 489 ) الفواكہ الدوانى ( 1 / 382 ) المجموع ( 8 / 387 ) المغنى ( 9 / 309 ).

اس بنا پر قربانى وغيرہ وہى شخص ذبح كر سكتا ہے جو نماز ادا كرتا ہو، اور اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ ذبح كرتے وقت اللہ كا نام لے اور بسم اللہ پڑھے.

اور تكبير كہنا مستحب ہے وہ اس طرح كہے: بسم اللہ واللہ اكبر.

بخارى اور مسلم ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دو سياہ اور سفيد جس ميں سفيدى زيادہ تھى مينڈھے ذبح كيے تو ميں نے ديكھا كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا قدم اس كى گردن كى سائڈ پر ركھا اور بسم اللہ پڑھى اور تكبير كہہ كر اپنے ہاتھ سے انہيں ذبح كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5558 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1966 ).

واللہ اعلم

٥٣٩-كيا بے نماز كا ذبح كيا ہوا گوشت كھا ليا جائے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں يہ پوچھنا چاہتا ہوں كہ اگر ميرا بھائى نماز نہ پڑھے تو شريعت ميں اسے كافر شمار كيا جائےگا، تو كيا ہم اس كى ذبح كيا گوشت كھائيں يہ نا كھائيں ؟

الحمد للہ :

آپ پر واجب اور ضرورى ہے كہ اپنے بھائى كو پابندى سے نماز ادا كرنے كى نصيحت كريں، اور نماز ترك كرنے والے كے متعلق اللہ تعالى كا حكم اس كے علم ميں لائيں، اور اپنے ليے اسے ذبح كرنے سے روك ديں، اور اس كا سبب بھى اسے بتائيں كہ ہم نے جس وجہ سے آپ كو ذبح كرنے سے روكا ہے وہ نماز نہ پڑھنا ہے، لھذا اس كى ذبيحہ حلال نہيں.

ہو سكتا ہے جب بے نماز كا حكم اس كے علم ميں آئے تو وہ اپنے دين كى طرف واپس پلٹ آئے، اور نماز كى ادائيگى شروع كردے، اور اس كے دين و دنيا اور اور زندگى و آخرت كے ليے يہى بہتر ہے.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كيا جان بوجھ كر نماز ترك كرنے والے كا ذبح كيا ہوا گوشت كھانا حلال ہے؟ يہ علم ميں رہے كہ جب اسے يہ بتايا جاتا ہے تو وہ دليل ديتا ہے كہ وہ تو كلمہ پڑھتا ہے، اگر كوئى نماز ادا كرنے والا قصائى نہ ملے تو پھر كيا كيا جائے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

صحيح تو يہى ہے كہ جو نماز نہيں پڑھتا اس كى ذبح كيا ہوا گوشت بھى نہيں كھايا جائےگا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى اور كفر و شرك كے مابين ( حد فاصل ) نماز ترك كرنا ہے"

اسے امام احمد اور سنن اربعہ نے صحيح سند كے ساتھ بريدہ بن حصيب اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے.

اور ايك دوسرى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اسلام كى چوٹى اور اس كا ستون نماز ہے"

اسے امام احمد نے اور ترمذى نے صحيح سند كے ساتھ معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے.

لھذا جس چيز كا ستون ہى گرجائے وہ قائم اور باقى نہيں رہتى، اور جب ستون گر جائے تو اس پركھڑى عمارت بھى گرجاتى ہے.

اور اس سے يہ معلوم ہوا كہ جو شخص نماز نہيں پڑھتا اس كا دين ہى نہيں، اور اس كا ذبيحہ بھى نہيں كھايا جائےگا، اور جب آپ كسى ايسے علاقے اور شہر ميں ہوں جہاں كوئى قصائى مسلمان نہ ہوتو آپ خود ذبح كريں، اور اپنا ہاتھ وہاں استعمال كريں جو آپ كو نفع دے، يا پھر كوئى مسلمان قصائى تلاش كريں، چاہے وہ آپ كو اپنے گھر ميں ہى جانور ذبح كردے، اور الحمد للہ يہ ميسر بھى ہے، لھذا آپ اس معاملہ ميں كوئى سستى اور كاہلى سے كام نہ ليں.

اور آپ كو چاہيے كہ اس شخص كو نصيحت كريں كہ وہ اللہ تعالى سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالى كاتقوى اختيار كرے، اور نماز ادا كرنا شروع كردے، اور اس كا يہ كہنا كہ:

كلمہ ہى كافى ہے: يہ غلط ہے اس كى يہ بات صحيح نہيں، كيونكہ كلمہ اور اس گواہى كے كچھ حقوق اور شرائط ہيں اور ان حقوق كے ادا كيے بغير كوئى چارہ نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مجھے اس وقت تك لڑنے كا حكم ديا ديا گيا ہے جب تك لوگ اس بات كى گواہى نہ دے ديں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور معبود نہيں اور ميں اللہ تعالى كا رسول ہوں، اور نماز قائم كرنے لگيں، اور زكاۃ ادا كريں، جب وہ يہ كام كر ليں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ كر ليے، مگر اس كے حق كے ساتھ، اور ان كا حساب اللہ تعالى كے ذمہ"

صحيح بخارى اور صحيح مسلم

تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كلمہ كے ساتھ نماز، زكاۃ كى ادائيگى ضرورى قرار دى ہے، اور ايك حديث ميں يہ الفاظ ہيں:

" مجھے لوگوں سے اس وقت تك لڑنے كا حكم ديا گيا ہے جب تك وہ اس بات كى گواہى نہ دے ديں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور معبود نہيں، جب وہ گواہى دے ديں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ كر ليے ليكن اس كے حق كے ساتھ، اور ان كا حساب اللہ كے ذمہ "

اور نماز اور زكاۃ اس كے حق ميں شامل ہے.

لھذا ايك مومن شخص پرواجب اور ضرورى ہے كہ وہ اللہ تعالى كى تقوى اخيتار كرے اور اللہ تعالى سے ڈرے، اور دين اسلام كى طرف منسوب شخص كو اللہ تعالى سے ڈرنا چاہيے اور پانچوں نمازيں باقاعدگى سے ادا كرنى چاہيے، نمازيں اسلام كا ستون اور شھادتين كے بعد اسلام كے اركان ميں سے ايك عظيم ركن ہے، جس شخص نے بھى اس ركن و ضائع كر ديا اس نے اپنا دين ہى ضائع كر ديا، اور جس نے نماز ترك كردى وہ اپنے دين سے ہى خارج ہو گيا اللہ تعالى ہميں اس سے سلامت ركھے.

حق اور صحيح تو يہى ہے، اور بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ:

اس سے وہ كفر اكبر كا مرتكب نہيں ہوتا، ليكن كفر اصغر كا مرتكب ہو گا، اور ايك بہت عظيم معصيت و نافرمان كا مرتكب ٹھرے گا، جو زنا اور چورى، اور شراب نوشى سے بھى بڑى نافرمانى ہے، بے نماز كفر اكبر كا مرتكب نہيں ہو گا ليكن اگر وہ نماز كے وجوب كا انكار كرتا ہے تو وہ كافر اور كفر اكبر كا مرتكب ٹھرےگا، اہل علم ميں سے اكثر كا يہى كہنا ہے.

ليكن صحيح اور درست وہى ہے جس پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان دلالت كر رہا ہے كہ اس طرح كا شخص كفر اكبر كا مرتكب ٹھرے گا، جيسا كہ اس كے متعلق كئى ايك احاديث بيان ہو چكى ہيں؛ كيونكہ اس نے دين اسلام كے ستون نماز كو ضائع كيا ہے.

لھذا اس مسئلہ ميں سستى اور كاہلى سے كام نہيں لينا چاہيے، تابعى جليل عبد اللہ بن شقيق عقيلى رحمہ ا للہ تعالى كا كہنا ہے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام نماز كے علاوہ كسى اور چيز كے ترك كرنے كو كفر شمار نہيں كرتے تھے.

تو اس طرح انہوں نے صحابہ كرام كا اجماع ذكر كيا ہے كہ ان كے نزديك تارك نماز كافر ہے، اللہ تعالى ہميں اس سے سلامت ركھے.

لھذا اس سے بچنا ضرورى اور واجب ہے، اور اس عظيم القدر فرض كى حفاظت اور خيال كرنا واجب ہے، اور نماز ترك كرنے والے كے بارہ ميں كسى بھى قسم كى سستى اور كاہل نہيں كرنى چاہيے، لھذا نہ تو اس كا ذبح كردہ گوشت كھايا جائے، اور نہ ہى اسے وليمہ كى دعوت دى جائے، اور نہ ہى اس كى دعوت قبول كى جائے، بلكہ اس سے بائيكاٹ كيا جائے حتى كہ وہ اللہ تعالى كے ہاں توبہ كرے اور نماز پڑھنا شروع كردے، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كو ہدايت نصيب فرمائے. انتھى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 10 / 274 - 276 ).

آپ مزيد تفصيل جاننے كے ليے سوال نمبر ( 538 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

Wednesday, August 15, 2018

٤٥٤-اذان سنائى ديتى ہے ليكن نماز ادا كرنے نہيں جاتا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جو شخص اذان بلكہ اقامت بھى سنے اور نماز كے نہ جائے اس كے متعلق كيا حكم ہے ؟
اور صرف نماز جمعہ ادا كرنے والے شخص كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

جو شخص اذان سن كر نماز كے مسجد نہيں جاتا اس كى كوئى نماز نہيں ليكن اگر وہ معذور ہو، مقصد يہ ہے كہ اس كى نماز ناقص ہے، اور وہ نماز باجماعت سے پيچھے رہنے كى بنا پر گنہگار ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" اس سے تو منافق شخص ہى پيچھے رہتا ہے، جس كا نفاق معلوم ہو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

اور مؤذن كا جواب نہ دينا ضعف ايمان اور نقص دين كى نشانى اور اجر ميں كمى اور اللہ تعالى كے گھر مساجد كو ترك كرنے كى علامت ہے.

اور جو شخص صرف نماز جمعہ ہى ادا كرتا ہے اس كے بارہ ميں بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ:

صرف نماز جمعہ ادا كرنے والا شخص كافر ہے، كيونكہ وہ كليتا تارك نماز كے حكم ميں آتا ہے، اس ليے كہ وہ ہفتہ ميں پينتيس نمازوں ميں سے صرف ايك نماز ادا كر رہا ہے، تو وہ بالكل نماز ترك كرنے والے جيسا ہى ہوا.

اس كے قائل شيخ ابن باز، شيخ ابن عثيمين رحمہما اللہ ہيں.

اور كچھ علماء كرام اسے كافر نہيں كہتے ليكن وہ عظيم جرم كا مرتكب ٹھراتے ہيں، جو زنا، سود، چورى، اور شراب نوشى سے بھى زيادہ سخت ہے.

واللہ اعلم

Sunday, August 12, 2018

٢٧١-تارك نماز كے احكام

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

صحيح احاديث ميں صراحت كے ساتھ موجود ہے كہ تارك نماز كافر ہے اور اگر ہم حديث كے ظاہر كو ليں جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرنے والے كو وراثت كے سارے حقوق سے محروم كيا جائيگا، اور ان كے ليے قبرستان بھى عليحدہ بنايا جائيگا، اور ان كے ليے رحمت اور سلامتى كى دعاء بھى نہيں كى جائيگى، كيونكہ كافر كے ليے امن و سلامتى نہيں.
ہم يہ مت بھوليں كہ اگر ہم مومن اور غير مومنوں ميں سے نمازى مردوں كا سروے كريں تو چھ فيصد ( 6% ) سے زيادہ نہيں ہو گا، اور خاص كر عورتيں تو اس سے بھى كم.
چنانچہ شريعت اسلاميہ كى اس سلسلہ ميں كيا رائے ہے، اور تارك نماز كو سلام كرنے اور سلام كا جواب دينے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرنے والا مسلمان اگر نماز كى فرضيت كا انكار نہ كرے تو اس كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.

بعض علماء اسے كافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار ديتے ہيں، اور وہ مرتد شمار ہو گا، اس سے تين يوم تك توبہ كرنے كا كہا جائيگا، اگر تو تين دنوں ميں اس نے توبہ كر لى تو بہتر وگرنہ مرتد ہونے كى بنا پر اسے قتل كر ديا جائيگا، نہ تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور نہ ہى اسے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن كيا جائيگا، اور نہ زندہ اور مردہ حالت ميں اس پر سلام كيا جائيگا، اور اس كى بخشش اور اس پر رحمت كى دعا بھى نہيں كى جائيگى نہ وہ خود وارث بن سكتا ہے، اور نہ ہى اس كے مال كا وارث بنا جائيگا، بلكہ اس كا مال مسلمانوں كے بيت المال ميں ركھا جائيگا، چاہے بے نمازوں كى كثرت ہو يا قلت، حكم ايك ہى ہے ان كى قلت اور كثرت سے حكم ميں كوئى تبديلى نہيں ہو گى.

زيادہ صحيح اور راجح قول يہى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہمارے اور ان كے درميان عہد نماز ہے، چنانچہ جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "

اسے امام احمد نے مسند احمد ميں اور اہل سنن نے صحيح سند كے ساتھ بيان كيا ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:

" آدمى اور كفر و شرك كے درميان نماز كا ترك كرنا ہے "

اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں اس موضوع كى دوسرى احاديث كے ساتھ روايت كيا ہے.

اور جمہور علماء كرام كا كہنا ہے كہ اگر وہ نماز كى فرضيت كا انكار كرے تو وہ كافر ہے اور دين اسلام سے مرتد ہے، اس كا حكم وہى ہے جو پہلے قول ميں تفصيل كے ساتھ بيان ہوا ہے.

ليكن اگر وہ اس كى فرضيت كا انكار نہيں كرتا بلكہ وہ سستى اور كاہلى كى بنا پر نماز ترك كرتا ہے تو وہ كبيرہ گناہ كا مرتكب ٹھرے گا، ليكن دائرہ اسلام سے خارج نہيں ہو گا، اسے توبہ كرنے كے ليے تين دن كى مہلت دى جائيگى، اگر تو وہ توبہ كر لے الحمد للہ وگرنہ اسے بطور حد قبل كيا جائيگا كفر كى بنا پر نہيں.

تو اس بنا پر اسے غسل بھى ديا جائيگا، اور كفن بھى اور اس كى نماز جنازہ بھى پڑھائى جائيگى، اور اس كے ليے بخشش اور مغفرت و رحمت كى دعاء بھى كى جائيگى، اور مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن بھى كيا جائيگا، اور وہ وراث بھى بنے گا اور اس كى وراثت بھى تقسيم ہو گى، اجمالى طور پر اس پر زندگى اور موت دونوں صورتوں ميں گنہگار مسلمان كا حكم جارى كيا جائيگا.

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 49 ).

Saturday, August 11, 2018

٢١٣-بے نمازی کی قربانی کا حکم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: بے نمازی کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

الحمد للہ:

پہلے سوال نمبر: (211) اور (212) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ نماز نہ پڑھنا دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا کفر ہے۔

چنانچہ اس بنا پر : بے نمازی کا کوئی بھی عمل اسکے کیلئے فائدہ مند نہیں ہے، اور نہ ہی اسکے اعمال قبول کئے جاتے ہیں۔

شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ کہتے ہیں:

"نماز کے بغیر روزے کا بالکل بھی فائدہ نہیں ہوگا، اور نماز کے بغیر روزہ درست ہی نہیں ہے، چاہے انسان نیکی کے جو بھی اعمال کرلے تو اسے بے نمازی ہونے کی وجہ سے کچھ بھی فائدہ نہیں دینگے؛ کیونکہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ کافر ہے، اور کافر کا عمل قبول نہیں ہوتا، لہذا نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں "انتہی

"المنتقى من فتاوى الفوزان" (39 /16)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"جو شخص روزہ رکھتا ہے، لیکن نماز نہیں پڑھتا اس سے روزہ قبول نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ وہ کافر اور مرتد ہے، اسکی زکاۃ، صدقات کوئی بھی نیکی قبول نہیں کی جائے گی؛ فرمان باری تعالی ہے:

{وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ}انکے صدقات کی قبولیت کے سامنے صرف یہی بات آڑے آئی کہ انہوں نے اللہ ، اور رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، اور وہ نمازوں کیلئے صرف سستی کرتے ہوئے آتے ہیں، اور صدقہ دیتے ہیں تو انکے دل تنگی محسوس کرتے ہیں۔[التوبۃ: 54]

چنانچہ اگر کافر سے دوسروں پر خرچ کی شکل میں کیا گیا احسان قبول نہیں ہو سکتا، تو عبادت جو کہ محض ذاتی فعل ہے بالاولی قبول نہیں ہوگی، اس بنا پر جو شخص روزے رکھتا ہے، اور نماز نہیں پڑھتا تو وہ –نعوذ باللہ -کافر ہے، اسکے روزے اور دیگر تمام کی تمام عبادت باطل ہیں، قبول نہیں کی جائیں گی"انتہی

"فتاوى نور على الدرب" از: ابن عثيمين (124 /32)

چنانچہ اگر تارک نماز قربانی کرنا چاہتا ہے تو اس پر ضروری ہے کہ پہلے نمازیں ترک کرنے سے توبہ کرے، اور اگر وہ اپنی روش پر ڈٹا رہتا ہے تو اسے اپنی قربانی پر ثواب نہیں ملےگا ، اور نہ ہی قبول ہوگی، اور اگر اس نے خود اپنے ہاتھ سے قربانی ذبح کی تو وہ مردار ہوگی، جسے کھانا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ مرتد کا ذبیحہ مردار اور حرام ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"جو شخص نماز نہیں پڑھتا اسکے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہیں کھایا جائے گا، اسکی کیا وجہ ہے؟ اس لئے کہ یہ حرام ہے، اور اگر یہودی یا عیسائی ذبح کردے تو وہ ہمارے لئے حلال ہے، تو اس طرح سے –نعوذ باللہ- بے نمازی کا ذبیحہ یہودی اور عیسائی کے ذبیحہ سے بھی زیادہ خبیث ہے"انتہی

"مجموع فتاوى ورسائل ابن عثيمين" (12 /45)

وا للہ اعلم

٢١٢-سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑ دی

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: اگر میں سستی کی بنا پر نماز نہ پڑھوں تو مجھے کافر سمجھا جائے گا یا نافرمان مسلمان؟

الحمد اللہ:

امام احمد سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں، یہی موقف راجح ہے، کتاب و سنت کے دلائل  اور سلف صالحین کا فہم اور صحیح نظر و فکر بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں۔
تفصیلات کیلیے دیکھیں: "الشرح الممتع على زاد المستنقع"( 2/26)

کتاب و سنت کی نصوص پر غور و فکر کرنے والا اس نتیجے تک پہنچے گا کہ قرآن و سنت دونوں ہی نماز چھوڑنے والے شخص کے کفر اکبر پر دلالت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شخص ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، چنانچہ قرآنی دلائل میں سے چند یہ ہیں:
{فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ}
ترجمہ: اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی  بھائی ہیں [التوبہ: 11]

یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے ہمارے اور مشرکین کے درمیان دینی بھائی چارہ کے قیام کو تین شروط کے ساتھ جائز قرار دیا  ہےکہ وہ : شرکیہ امور سے توبہ کر لیں، نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں، چنانچہ اگر مشرکین شرک سے توبہ تو کر لیں لیکن نماز اور زکاۃ کا اہتمام نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر وہ نماز تو قائم کریں لیکن زکاۃ ادا نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں، اور یہ بات واضح ہے کہ دینی اخوت اسی وقت ختم ہوتی ہے جب انسان دین سے کلی طور پر باہر نکل جائے، محض فسق اور کبیرہ گناہوں سے دینی اخوت ختم نہیں ہوتی۔

اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے:
{فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59) إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا}
ترجمہ:  پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں  نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام  سے دوچار ہوں گے۔ [60] البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی، ایمان لایا  اور اچھے عمل کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ [مريم: 59، 60]

یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اللہ تعالی نے نمازیں ضائع کرنے والوں اور شہوت پرستی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو کہا: " إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ"[ البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی،اور  ایمان لایا] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ نمازیں ضائع کر رہے تھے اور شہوت پرستی میں مگن تھے،  وہ اس وقت مومن نہیں تھے۔

اسی طرح تارکِ نماز کے کافر ہونے پر احادیث مبارکہ  میں بھی دلائل موجود ہیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (آدمی اور شرک  و کفر کے درمیان   فرق نماز چھوڑنا ہے) امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے کتاب الایمان میں سیدنا جابر بن عبد اللہ  کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔

اسی طرح بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ : (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا) اسے احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

اس حدیث میں کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا کفر ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مومنوں اور کافروں کے درمیان حد فاصل مقرر فرمایا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملت کفر اور ملت اسلامیہ دونوں الگ الگ ہیں، لہذا اگر کوئی شخص معاہدے یعنی نماز کی پابندی نہیں کرتا تو وہ کافروں میں سے ہے۔

اسی طرح عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں اور تم ان کیلیے دعائیں کرتے ہو، اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض کرو اور وہ تم سے بغض کریں، تم ان پر لعنت کرو  اور وہ تم پر لعنت کریں) کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم تلوار سے اسے نیچے نہ اتار دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، جب تک وہ تمہارے اندر نماز پڑھتے رہیں)

تو اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور ان پر مسلح کاروائی  اسی وقت ہوگی جب وہ نماز نہ پڑھیں، لہذا حکمرانوں  کے خلاف بغاوت اور ان کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت ہو گا جب وہ صریح طور پر کفریہ کام کریں اور ہمارے پاس ان کے کفر کو ثابت کرنے کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے دلیل بھی ہو؛ کیونکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعوت دی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے ہوئے جو امور ذکر کئے تھے وہ یہ تھے: ہم ہر وقت اطاعت کریں گے اور بات سنیں گے چاہے وہ ہماری مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو، چاہے ہم تنگی میں ہوں  یا خوشحالی میں اور چاہے ہمیں نظر انداز کر کے ہم پر دوسروں کی ترجیح دی جا رہی ہو، نیز ہم حکمرانوں سے حکومت نہیں چھینیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الا کہ تم واضح ترین کفر دیکھو کہ تمہارے پاس اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو" متفق علیہ

اس حدیث کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور مسلح کاروائی  کو نمازیں نہ پڑھنے کے ساتھ نتھی اور منسلک فرمایا، اور حکمرانوں کی جانب سے نماز نہ پڑھنے کا عمل ان کے واضح کفر کی علامت ہے جس کے متعلق ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو۔

اگر کوئی شخص کہے کہ: کیا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کہ جن نصوص میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم ہے انہیں صرف ایسے شخص پر لاگو کیا جائے جو نماز کی فرضیت کا ہی منکر ہے اور اسی لیے وہ نماز نہیں پڑھتا؟

تو ہم کہیں گے: ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں دو قباحتیں ہیں:

1-             اس طرح سے جس وصف کو صاحبِ شریعت نے معتبر سمجھا اور اسی کے ساتھ حکم بھی لاگو فرمایا ہم اس وصف کو کالعدم قرار دے دیں گے؛ کیونکہ صاحبِ شریعت نے کفر کا حکم نماز چھوڑنے پر لگایا ہے نماز کا انکار کرنے پر نہیں، اسی طرح صاحبِ شریعت نے نماز قائم کرنے پر دینی اخوت کھڑی کی ہے محض نماز کے فرض ہونے کا اقرار کرنے پر نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ : [فَإِنْ تَابُوا وَأَقرُّوْا بِوُجُوْبِ الصَّلَاةَ](یعنی: اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز فرض ہونے کا اقرار کر لیں) اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ : (آدمی اور شرک  و کفر کے درمیان  فرق نماز کی فرضیت کے انکار کا ہے) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ: (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز کے واجب ہونے کا اقرار ہے، جس نے نماز کے واجب ہونے کا انکار کیا اس نے کفر کیا) اگر یہ اللہ تعالی  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہوتی تو اس سے عدولی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے منافی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا ہے:
{وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے۔[النحل: 89]

اور اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
{وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ}
ترجمہ: اور ہم نے آپ کی جانب ذکر نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو واضح کر کے بتلائیں جو کچھ ان کی جانب نازل کیا گیا ہے۔[النحل: 44]

2-             دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسے وصف کو شرعی حکم کا محور سمجھنا پڑے گا جسے صاحبِ شریعت نے محور نہیں بنایا؛ کیونکہ پانچوں نمازوں کی فرضیت کا انکار کرنے سے وہ شخص کافر ہو جاتا ہے جس کا عذر بالجہل قابل قبول نہیں چاہے وہ نمازیں پڑھتا ہو یا نہ پڑھے اس سے فرق نہیں پڑتا، فرض کریں کہ اگر کوئی شخص پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور تمام معتبر شرائط، ارکان، واجبات اور مستحبات کی ادائیگی یقینی بناتا ہے ، لیکن وہ نماز کی فرضیت کا بغیر کسی عذر کے منکر ہے تو وہ بھی کافر ہے! حالانکہ اس نے نماز ادا کی ہے چھوڑی نہیں ہے۔

تو اس سے واضح ہوا کہ ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کرنا  صحیح نہیں ہے، لہذا صحیح موقف یہ ہے کہ نماز چھوڑنے والا شخص کافر ہے ، دائرہ اسلام سے خارج ہے جیسے کہ یہی بات امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ  کی کتاب "سنن" میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی: (اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ، جان بوجھ کر نماز مت چھوڑو، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا)

اسی طرح اگر ہم نے ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کر دیا تو نماز کو خاص کرنے کا فائدہ ہی باقی نہیں رہے گا؛ کیونکہ پھر یہ حکم نماز کے ساتھ خاص نہیں ہے یہ تو زکاۃ، روزے اور حج سب کے ساتھ ہے چنانچہ اگر کوئی بھی شخص ان میں سے کسی ایک عمل کو اس کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے چھوڑ دے تو وہ کافر ہو جائے گا، الا کہ لاعلمی کی صورت میں اس کا کوئی عذر  ہو۔

تو جس طرح تارکِ نماز کو کافر قرار دینا کتاب و سنت کے دلائل کا تقاضا ہے،  اسی طرح عقلی دلیل بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے کافر مانا جائے، لہذا [عقلی طور پر ] یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص نماز بھی نہ پڑھے اور مومن بھی ہو! حالانکہ نماز دین کا ستون ہے! اسی نماز کیلیے ہی اتنی ترغیب ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز کا وقت داخل ہونے پر فوری طور پر پڑھنی ہو گی! اور نماز ترک کرنے پر اتنی زیادہ وعید ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز چھوڑنے اور ضائع کرنے سے بچنا ضروری ہے! تو ایسی صورت میں نماز چھوڑنے پر ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ:  کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ : یہاں پر تارک نماز پر لاگو ہونے والا کفر ، کفران والا ہو یعنی جس کو نا شکری کہتے ہیں،اور  اس کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر مراد نہ ہو جسے کفر اکبر کہتے ہیں؟ بلکہ کفر کی ذیلی اقسام مراد ہوں، تو پھر ان نصوص کا معنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث جیسا ہو گا (لوگوں میں دو چیزیں کفر کا باعث ہیں: نسب نامے میں قدغن لگانا، اور میت پر نوحہ کرنا)  اور اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ: (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے) دیگر احادیث میں بھی اسی طرح گناہوں پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے۔

تو اس کے جوا ب میں ہم کہیں گے کہ: یہ احتمال اور مثالیں  کئی اعتبار سے صحیح نہیں ہیں:

1-             نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان، مومن اور کفار کے درمیان امتیازی حد قرار دیا ہے جس کی وجہ سے دونوں میں فرق عیاں ہوتا ہے ، اب کفر اور ایمان دو الگ الگ چیزیں ہیں ان میں سے کوئی ایک دوسرے میں داخل نہیں ہو سکتا۔

2-             نماز ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اور رکن کو ترک کرنے والے کو کفر سے موصوف کرنے کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر ہو ؛ کیونکہ نماز ترک کرنے سے اسلام کا ایک رکن منہدم ہو جاتا ہے، لہذا  نماز ترک کرنے کا معاملہ کسی ایسے عمل جیسا نہیں ہے جس میں کسی کفریہ کام کرنے والے پر کفر کا صرف جزوی وصف لاگو کیا جائے۔

3-             ایسی دیگر نصوص بھی ہیں جن میں نماز چھوڑنے والے پر  یہ حکم لگایا گیا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس لیے ان نصوص میں موجود کفر کو اسی معنی میں لیا جائے گا جس کے مطابق دیگر روایات کے الفاظ ہیں، تا کہ تمام احادیث کا معنی اور مفہوم یکساں ہو جائے۔

4-             احادیث مبارکہ میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے ایک مختلف تعبیر استعمال کی گئی ہے، چنانچہ نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے فرمایا: " بين الرجل وبين الشرك والكفر " تو یہاں پر لفظ "کفر" کو "ال "کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد حقیقی  کفر ہے، جبکہ نماز کے علاوہ دیگر امور میں کفر کا حکم لاگو کرنے کیلیے لفظ "کفر" کو "ال "کے بغیر ذکر کیا ہے، یا پھر "کَفَرَ" فعل ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ : وہ کفریہ عمل  کر رہا ہے، یا  یہ کام کفریہ عمل ہے، اس سے  کفر مطلق مراد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب "اقتضاء الصراط المستقیم" کے صفحہ 70 -طبعہ السنہ المحمدیہ -میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث " اثنتان في الناس هما بهما كفر" کی تشریح میں کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اثنتان في الناس هما بهما كفر"[دو چیزیں جن کے ذریعے لوگ کفر یہ عمل کا شکار ہوتے ہیں] کا مطلب یہ ہے کہ: یہ دو خصلتیں کفریہ کام ہیں اور لوگ انہیں کرتے ہیں، یہ دونوں خصلتیں کفریہ کاموں میں شامل ہیں اور لوگوں میں مروج ہیں، اور یہ بات واضح رہے کہ کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کرے تو وہ مطلق طور پر کافر نہیں ہو جاتا کہ اسے حقیقی کافر سمجھا جائے، بالکل اسی طرح کوئی بھی شخص اگر ایمانی کاموں میں سے کوئی کام کرے  تو وہ مومن نہیں بن جاتا جب تک وہ حقیقی طور پر ایمان نہ لے آئے۔
نیز فرامین نبویہ میں موجود لفظ "کفر" جب الف لام کے ساتھ معرفہ بن کر آئے  اور بغیر الف لام کے نکرہ ہو تو دونوں میں کسی پر کفر کا حکم لاگو کرنے میں فرق ہوتا ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " ليس بين العبد وبين الكفر أو الشرك إلا ترك الصلاة" (ترجمہ: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے)[اس حدیث میں کفر کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے]" انتہی

جب ان دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ بغیر عذر کے نماز ترک کرنے والا شخص کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو پھر صحیح رائے وہی ہے جو کہ امام احمد کا موقف ہے اور اسی موقف کے مطابق امام شافعی کی بھی ایک رائے ہے، جیسے کہ امام ابن کثیر نے اللہ تعالی کے فرمان: {فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ}
ترجمہ:  پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں  نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے [مريم: 59] کی تفسیر کے تحت ذکر کیا ہے۔

اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ نے  اپنی کتاب : الصلاۃ میں ذکر کیا ہے کہ :
" شافعی مذہب کے دو موقفوں میں سے ایک موقف یہی ہے، اور امام طحاوی نے امام شافعی سے خود ان کا یہی موقف بیان کیا ہے"

یہی موقف جمہور صحابہ کرام کا ہے بلکہ متعدد اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن شقیق   کہتے ہیں :
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نماز کے علاوہ کسی بھی عمل کو کفر نہیں سمجھتے تھے" اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے۔

اسی طرح مشہور امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، یہی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک اہل علم کی رہی ہے کہ اگر نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے کوئی چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہے"

ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:
"سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی موقف مروی ہے، ابن حزم نے مزید کہا کہ ہمیں اس مسئلے میں صحابہ کرام کے مابین کوئی مخالف نظر نہیں آیا" ان کی یہ بات امام منذری نے الترغیب و الترہیب  میں نقل کی ہے، اور امام منذری مزید صحابہ کرام کے نام آگے لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
"عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، جابر بن عبد اللہ اور ابو درداء رضی اللہ عنہم سے بھی یہی منقول ہے"

پھر انہوں نے کہا ہے کہ:
"صحابہ کرام کے علاوہ  امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن مبارک، نخعی، حکم بن عتیبہ، ایوب سختیانی ، ابو داود طیالسی، ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب و دیگر ائمہ کا بھی یہی موقف ہے" انتہی

واللہ اعلم .

ماخوذ از: رسالہ : نماز چھوڑنے والے کا حکم، از شیخ محمد بن صالح عثیمین

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...