Showing posts with label احادیث کی شروحات. Show all posts
Showing posts with label احادیث کی شروحات. Show all posts

Thursday, October 25, 2018

1025- کیا حضرت آدم علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کا وسیلہ مانگا تھا؟

بعض علماء کرام کو یہ کہتے ہوئے سنا ہیکہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی اور وہ زمین پر بھیج دیے گئے تب انہوں نے بہت دعائیں کی لیکن ان کی کوئی دعا قبول نہیں ہوئی، لیکن جب نبی کریم ﷺ کا واسطہ انہوں نے دیا تو ان کی دعا قبول ہوگئی، کیا یہ بات درست ہے.؟

الحمدللہ

امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
حدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العدل، ثنا أبو الحسن محمد بن إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، ثنا أبو الحارث عبد الله بن مسلم الفهري، ثنا إسماعيل بن مسلمة، أنبأ عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لما اقترف آدم الخطيئة قال: يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي، فقال الله: يا آدم، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه؟ قال: يا رب، لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا لا إله إلا الله محمد رسول الله فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، فقال الله: صدقت يا آدم، إنه لأحب الخلق إلي ادعني بحقه فقد غفرت لك ولولا محمد ما خلقتك[المستدرك على الصحيحين للحاكم 2/ 672]

حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے جب وہ لغزش ہوگئی (جس کی وجہ سے جنت سے دُنیا میں بھیج دئیے گئے تو ہر وقت روتے تھے اور دعا و استغفار کرتے رہتے تھے) ایک مرتبہ آسمان کی طرف منہ کيا اور عرض کیایا اللہ محمد (ﷺ) کے وسیلہ سے تجھ سے مغرفت چاہتا ہوں وحی نازل ہوئی کہ محمدﷺ کون ہیں؟ (جن کے واسطے سے تم نے استغفارکی) عرض کیا کہ جب آپ نے مجھے پیدا کیا تھا تو میں نے عرش پر لکھا ہوا دیکھا تها لاَ اِله اِلاً اﷲ مُحَمًدُ رَسُولُ اﷲ تو میں سمجھ گیا تھا کہ محمدﷺ سے اونچی ہستی کوئی نہیں ہے جس کا نام آپ نے اپنے نام کے ساتھ رکھا، وحی نازل ہوئی کہ وہ خاتم النبیینﷺ ہیں تماری اولاد میں سے ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی پیدا نہ کیے جاتے

یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے تفصیل ملاحظہ ہو:

امام ذہبی رحمہ اللہ مستدرک کی تلخیص میں اس روایت کے بارے میں کہا:
بل موضوع
بلکہ یہ روایت موضوع اورمن گھڑت ہے[المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 2/ 672]

اس کی سند میں”عبد الله بن مسلم الفهري“ موجود ہے ۔
اوریہ کذاب اور بہت بڑا جھوٹاشخص ہے۔

امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان میں عبداللہ بن مسلم الفہری کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اس روایت کوجھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا:
عبد الله بن مسلم ، أبو الحارث الفهري.روى عن إسماعيل بن مسلمة ابن قعنب، عن عبد الرحمن بن يزيد بن سلم خبرا باطلا فيه: يا آدم لولا محمد ما خلقتك.رواه البيهقى في دلائل النبوة.
عبداللہ بن مسلم ،ابوالحارث الفہری،اس نے اسماعیل بن مسلمہ ابن قعنب ،عن عبدالرحمن بن یزید بن اسلم سے ایک جھوٹی روایت بیان کی ہے جس میں ہے کہ اے ادم اگر محمدنہ ہوتے تو میں تمہیں پیدانہ کرتا ،اسے بیہقی نے دلائل النبوہ میں روایت کیا ہے[ميزان الاعتدال للذهبي: 2/ 504]

حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے بھی یہ بات لسان المیزان میں نقل کی ہے اور کوئی تعاقب نہیں کیا ہے دیکھئے:[لسان الميزان لابن حجر: 3/ 359]

اس کی سند میں ایک اور راوی ”عبد الرحمن بن زيد بن أسلم“ ہے ۔
اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے چنانچہ:

ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا:
عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، وقد أجمعوا على ضعفه
عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔[إخبار أهل الرسوخ في الفقه والتحديث بمقدار المنسوخ من الحديث ص: 49]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے:
قلت: عبد الرحمن متفق على تضعيفه.
میں (ابن حجر) کہتاہوں کہ عبدالرحمن بن زید کے ضعیف ہونے پراتفاق واجماع ہے[إتحاف المهرة لابن حجر: 12/ 98]

بے چارے دیوبندی حضرات گلی گلی چلاتے ہیں کہ اہل حدیث اجماع نہیں مانتے اور یہاں جس راوی کے ضعیف ہونے پر اجماع ہےاس کی روایت سے بھی استدلال کرتے نہیں شرماتے ۔اور اس اجماع کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔

یہ راوی بالاجماع ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ جھوٹی اور من گھرٹ احادیث بھی روایت کرتا تھا چنانچہ:

امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
عبد الرحمن بن زيد بن أسلم روى عن أبيه أحاديث موضوعة لا يخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه
عبدالرحمن بن زید بن اسلم ،اس نے اپنے والد سےموضوع اور من گھڑت احادیث بیان کی ہیں اور اہل فن میں سے جو بھی ان احادیث پر غور کرے گا اس سے سامنے یہ واضح ہوجائے گا کہ ان احادیث کے گھڑنے کی ذمہ داری اسی پر ہے[المدخل إلى الصحيح ص: 154]

امام حاکم رحمہ اللہ کے قول سے معلوم ہوا کہ یہ ”عبدالرحمن بن زید بن اسلم “ بھی حدیث گھڑنے والا راوی ہے۔

لہٰذا اس حدیث کے موضوع اور من گھڑت ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے واضح طور پر اسے موضوع اور من گھڑت کہاہے جیساکہ اوپر حوالہ دیا گیا

واللہ اعلم

Wednesday, September 26, 2018

1018- عدت کے مسائل


س: عدت کا کیا حکم ہے اور بیوی کتنے دنوں تک عدت کرے گی.؟ اسکے مسائل واضح کریں
الحمدللہ
راوی:
مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ عدت کا بیان۔ ۔ حدیث 525
وعن أم حبيبة وزينب بنت جحش عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا "
(2/256)
3331 – [ 8 ] ( متفق عليه )
وعن أم عطية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " لا تحد امرأة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت نبذة من قسط أو أظفار " . متفق عليه . وزاد أبو داود : " ولا تختضب "

اور حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ہاں اپنے شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن تک کیا کرے ( بخاری ومسلم)
تشریح :
سوگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بناؤ سنگھار ترک کر دے اور خوشبو وسرمہ وغیرہ لگانے سے پرہیز کرے چنانچہ یہ سوگ کرنا کسی دوسری میت پر تو تین دن سے زیادہ جائز نہیں ہے ۔ لیکن اپنے شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن تک یعنی ایام عدت میں سوگ کرنا واجب ہے۔
اب رہی یہ بات کہ چار مہینہ دس دن یعنی عدت کی مدت کی ابتداء کب سے ہوگی تو جمہور علماء کے نزدیک اس مدت کی ابتداء خاوند کی موت کے بعد سے ہوگی لیکن حضرت علی اس کے قائل تھے کہ عدت کی ابتداء اس وقت سے ہو گی جس وقت کہ عورت کو خاوند کے انتقال کی خبر ہوئی ہے لہذا اگر کسی عورت کا خاوند کہیں باہر سفر وغیرہ میں مر گیا اور اس عورت کو اس کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر گئے تو جمہور علماء کے نزدیک عدت پوری ہوگئی جب کہ حضرت علی کے قول کے مطابق اس کی عدت پوری نہیں ہوگی بلکہ اس کو خبر ہونے کے وقت سے چار مہینے دس دن تک عدت میں بیٹھنا ہوگا۔
اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے ہاں اپنے شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور ان ایام یعنی زمانہ عدت میں عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے نہ سرمہ لگائے اور نہ خوشبو لگائے البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کرے تو قباحت نہیں ( بخاری ومسلم)
تشریح :
رنگین کپڑے سے مراد وہ کپڑا ہے جو کسم ، زعفران اور گیرو وغرہ کے تیز اور شوخ رنگ میں رنگا گیا ہو اور عام طور پر زینت و آرائش کے طور پر پہنا جاتا ہو اور کتاب کافی میں لکھا ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس رنگین کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ ہو تو وہ رنگین کپڑا بھی پہن سکتی ہے کیونکہ اس کی سترپوشی بہرحال زیادہ ضروری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ان رنگین کپڑوں کو زیب و زینت کے مقصد سے استعمال نہ کرے۔
عصب اس زمانہ میں ایک خاص قسم کی چادر کو کہتے تھے جو اس طور پر بنی ہوتی تھی کہ پہلے سوت کو جمع کر کے ایک جگہ باندھ لیتے تھے پھر اس کو کسم میں رنگتے تھے اور اس کے بعد اس کو بنتے تھے چنانچہ وہ سرخ رنگ کی ایک چادر ہو جاتی تھی جس میں سفید دھاریاں بھی ہوتی تھیں کیونکہ سوت کو باندھ کر رنگنے کی وجہ سے سوت کا وہ حصہ سفید رہ جاتا تھا جو بندھا ہوا ہوتا تھا ۔
اس سے بھی معلوم ہوا کہ عدت والی عورت کو رنگین کپڑا پہننے کی جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس کپڑے سے ہے جو بننے کے بعد رنگا گیا ہو تو اس کا پہننا بھی درست ہے۔
علامہ ابن ہمام حنفی یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء حنفیہ کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب کا پہننا بھی درست نہیں ہے حضرت امام شافعی کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب پہننا جائز ہے خواہ وہ موٹا ہو یا مہین ہو جب کہ حضرت امام مالک مہین عصب کو پہننے سے منع کرتے ہیں موٹے عصب کو منع نہیں کرتے۔
سرمہ لگانے کے سلسلہ میں ائمہ کے جو اختلافی اقوال ہیں وہ پیچھے حضرت ام سلمہ کی روایت کے ضمن میں بیان کئے جا چکے ہیں علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حنفی مسلک کے مطابق عدت والی عورت کو مجبوری کی حالت میں سرمہ لگانا جائز ہے ویسے جائز نہیں ہے۔
قسط اور اظفار یہ دونوں ایک قسم کی خوشبو ہیں قسط تو عود کو کہتے ہیں جس عام طور پر عورتیں یا بچے دھونی لیتے ہیں کرمانی نے کہا ہے کہ قسط عود ہندی کو کہتے ہیں جسے اگر یا کوٹ کہا جاتا ہے۔
اظفار ایک قسم کا عطر ہوتا تھا یہ دونوں خوشبوئیں اس زمانہ میں عام طور پر عرب کی عورتیں حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے شرمگاہ میں استعمال کرتی تھیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدت والی عورت کو خوشبو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن حائضہ کو حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے ان دونوں خوشبوؤں کے استعمال کی اجازت دے دی۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر گیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے چنانچہ اس پر تمام علماء کا اجماع واتفاق ہے البتہ سوگ کی تفصیل میں اختلافی اقوال ہیں۔
حضرت امام شافعی اور جمہور علماء تو یہ کہتے ہیں کہ خاوند کی وفات کے بعد ہر عدت والی عورت پر سوگ کرنا واجب ہے خواہ وہ مدخول بہا ہو یعنی جس کے ساتھ جماع ہو چکا ہو یا غیر مدخول بہا ہو ( یعنی جس کے ساتھ جماع نہ ہوا ہو) خواہ چھوٹی ہو یا بڑی خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ خواہ آزاد ہو یا لونڈی اور خواہ مسلمہ ہو یا کافرہ۔
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک سات قسم کی عورتوں پر سوگ واجب نہیں ہے جس کی تفصیل درمختار کے مطابق یہ ہے کہ
(١) کافرہ (٢) مجنونہ (٣) صغیرہ (٤) معتدہ عتق یعنی وہ ام ولد جو اپنے مولیٰ کی طرف سے آزاد کئے جانے یا اپنے مولیٰ کے مر جانے کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٥) وہ عورت جو نکاح فاسد کی عدت میں بیٹھی ہو (٦) وہ عورت جو وطی بالشبہ کی عدت میں بیٹھی ہو یعنی جس سے کسی غیر مرد نے غلط فہمی میں جماع کر لیا ہو اور اس کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٧) وہ عورت جو طلاق رجعی کی عدت میں بیٹھی ہو ۔
جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ خاوند کے علاوہ کسی کے مرنے پر عورت کو تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور تین دن تک بھی صرف مباح ہے واجب نہیں ہے چنانچہ اگر تین دنوں میں بھی خاوند سوگ کرنے سے منع کرے تو اس کو اس کا حق ہے کیونکہ بیوی کے بناؤ سنگار کا تعلق خاوند کے حق سے ہے اگر تین دنوں میں خاوند کی خواہش یہ ہو کہ وہ سوگ ترک کر کے بناؤ سنگار کرے اور بیوی خاوند کا کہنا نہ مانے تو اس بات پر بیوی کو مارنا خاوند کے لئے جائز ہے کیونکہ سوگ کرنے میں خاوند کا حق فوت ہو جاتا ہے۔
سوگ کے احکام و مسائل
جس عورت کو طلاق رجعی ملی ہو اس کی عدت تو فقط اتنی ہی ہے کہ وہ مقررہ مدت تک گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اس کے لئے بناؤ سنگھار وغیرہ درست ہے اور جس عورت کو جو مکلفہ مسلمہ یعنی بالغ و عاقل اور مسلمان ہو تین طلاقیں مل گئیں یا ایک طلاق بائن یا اور کسی طرح سے نکاح ٹوٹ گیا یاخاوند مر گیا تو ان سب صورتوں میں اس کے لئے یہ حکم ہے کہ جب تک عدت میں رہے تب تک نہ تو گھر سے باہر نکلے نہ اپنا دوسرا نکاح کرے اور نہ بناؤ سنگھار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں۔ اس سنگھار نہ کرنے اور میلے کچیلے رہنے کو سوگ کہتے ہیں۔
جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا کپڑے بسانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا سرمہ لگانا پان کھا کر منہ لال کرنا مسی مسلنا سر میں تیل ڈالنا کنگھی کرنا مہندی لگانا اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہار دار کپڑے پہننا یہ سب باتیں ممنوع ہیں۔ ہاں مجبوری کی حالت میں اگر ان میں سے کوئی چیز اختیار کی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں مثلا سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو بغیر خوشبو کا تیل ڈالنا درست ہے اسی طرح دوا کے لئے سرمہ لگانا بھی ضرورت کے وقت درست ہے۔
جس عورت کا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا بلکہ بے قاعدہ ہو گیا تھا اور وہ فسخ کرا دیا گیا یا خاوند مر یا تو ایسی عورت پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔ اسی طرح جو عورت عتق یعنی آزادی کی عدت میں ہو جیسے ام ولد کو اس کا مولیٰ آزاد کر دے اور وہ اس کیوجہ سے عدت میں بیٹھی ہو تو اس پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔
جو عورت عدت میں بیٹھی ہو اس کے پاس نکاح کا پیغام بھیجنا جائز نہیں ہے ہاں نکاح کا کنایۃ یعنی یہ کہنا کہ میں اس عورت سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتا ہوں یا اس سے نکاح کرنے کا میں ارادہ رکھتا ہوں جائز ہے، مگر یہ بھی اس صورت میں جائز ہے کہ جب کہ وہ عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو اگر طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔
جو عورت طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو اس کو تو کسی بھی وقت گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے ہاں جو عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو وہ دن میں نکل سکتی ہے اور کچھ رات تک نکل سکتی ہے مگر رات اپنے گھر سے علاوہ دوسری جگہ بسر نہ کرے لونڈی اپنے آقا کے کام سے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔
معتدہ (عدت والی عورت) کو اپنی عدت کے دن اسی مکان میں گزارنے چاہئیں جس میں وہ فسخ وطلاق یا خاوند کی موت کے وقت سکونت پذیر ہو ہاں اگر اس مکان سے زبردستی نکالا جائے اس مکان میں اپنے مال واسباب کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس مکان کے گر پڑنے کا خطرہ ہو اور یا اس مکان کا کرایہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ان صورتوں میں کسی دوسرے مکان میں عدت بیٹھنا جائز ہے۔
اسی طرح اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ میاں بیوی ایک ہی مکان میں رہیں اگرچہ وہ طلاق بائن کی عدت میں بیٹھی ہو بشرطیکہ دونوں کے درمیان پردہ حائل رہے ہاں اگر خاوند فاسق اور ناقابل اعتماد ہو یا مکان تنگ ہو تو عورت اس گھر سے منتقل ہو جائے اگرچہ خاوند کا منتقل ہونا اولی ہے اور اگر میاں بیوی کے ایک ہی مکان میں رہنے کی صورت میں وہ دونوں اپنے ساتھ کسی ایسی معتمد عورت کو رکھ لیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے پر قادر ہو تو بہت ہی اچھا ہے۔
اگر مرد عورت کو اپنے ساتھ سفر میں لے گیا اور پھر سفر کے دوران اس کو طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں یا مرد مر گیا اور عورت کا شہر یعنی اس کا وطن اس جگہ سے کہ جہاں طلاق یا وفات واقع ہوئی ہے سفر شرعی یعنی تین دن کے سفر سے کم مسافت پر واقع ہو تو وہ اپنے شہر واپس آ جائے اور اگر اس مقام سے جہاں طلاق یا وفات ہوئی ہے اس کا شہر سفر شرعی ( یعنی تین دن کی مسافت) کے بقدر یا اس سے زائد فاصلہ پر واقع ہے اور وہ منزل مقصود (جہاں کے لئے سفر اختیار کیا تھا) اس مسافت سے کم فاصلہ پر واقع ہے تو اپنے شہر واپس آنے کی بجائے منزل مقصود چلی جائے اور ان دونوں صورتوں میں خواہ اس کا ولی اس کے ساتھ ہو یا ساتھ نہ ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ عورت طلاق یا وفات کے وقت کسی شہر میں ہو تو وہاں سے عدت گزارے بغیر نہ نکلے تو کسی محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد یہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو تو پھر عدت سے پہلے بھی اس شہر سے نکل سکتی ہے۔

واللہ اعلم 

Wednesday, August 15, 2018

٤٢٨-حديث: " يہى نافرمان ہيں، يہى نافرمان ہيں " كى شرح

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں نے ايك حديث سنى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ نے سفر ميں روزہ ركھنے والوں كے متعلق فرمايا كہ يہى نافرمان ہيں، تو كيا اس كا معنى يہ ہے كہ مسافر كے ليے روزہ ركھنا حرام ہے ؟

الحمد للہ:

سوال نمبر ( 427 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ جب مسافر سفر ميں روزہ ركھنے سے مشقت محسوس كرے تو اس كے ليے روزہ نہ ركھنا افضل ہے، اور روزہ ركھنا مكروہ، اور اگر ضرر اور نقصان يا ہلاك ہونے كے خوف تك جا پہنچے تو روزہ ركھنا حرام ہو گا.

سائل نے جس حديث كى طرف اشارہ كيا ہے وہ بھى اسى پر محمول ہے كہ اگر سفر ميں شديد مشقت يا روزہ ضرر دے تو پھر روزہ نہ ركھا جائے، اور حديث كا سياق و سباق بھى اس پر دلالت كر رہا ہے.

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم عام الفتح ميں رمضان المبارك ميں مكہ كى جانب نكلے اور جب كراع الغيم ـ يہ مكہ اور مدينہ كے درميان ايك جگہ ہے ـ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا گيا: كہ كچھ لوگوں پر روزہ مشقت بن چكا ہے، اور وہ آپ كے فعل كا انتظار كر رہے ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ و سلم نے عصر كے بعد پانى كا پيالہ منگوايا اور اسے بلند كيا حتى كہ لوگ ديكھنے لگے اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نوش فرما ليا، تو اس كے بعد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا گيا كچھ لوگوں نے ابھى تك روزہ ركھا ہوا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" يہى نافرمان ہيں، يہى نافرمان ہيں"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1114 ).

تو سياق حديث سے يہ حاصل ہوتا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دو سبب كى بنا پر انہيں نافرمان كہا:

اول: انہوں نے مشقت كے باوجود روزہ ركھا.

دوسرا: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس ليے روزہ توڑا كہ لوگ ان كى اطاعت و پيروى كريں، تو گويا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں روزہ چھوڑنے كا حكم ديا ليكن انہوں نے ايسا نہ كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں نافرمانوں كا نام ديا.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

يہ اس پر محمول ہے جسے روزہ ضرر دے ... اوراس كى تائيد اس قول سے ہوتى ہے: " بعض لوگوں كے ليے روزہ مشقت كا باعث بنا ہوا ہے "

تو اس بنا پر اگر سفر ميں روزہ مشقت كا باعث نہ ہو تو روزہ دار نافرمان نہيں ہو گا. اھـ كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

اور ابن القيم رحمہ اللہ تعالى تھذيب السنن ميں كہتے ہيں:

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا " يہى نافرمان ہيں " يہ معين واقعہ ہے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاہا كہ وہ روزہ چھوڑ ديں تو ان ميں سے بعض سے مخالفت كى تو رسول رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ كلمات كہے .....

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عصر كے بعد روزہ اس ليے چھوڑا كہ لوگ ان كى اقتدا اور پيروى كريں، ليكن جب بعض نے ان كى اقتدا نہ كى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہى نافرمان ہيں " اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اس سے يہ مراد نہ تھى كہ مسافر كے ليے مطلقا روزہ ركھنا حرام ہے. اھـ

اور حافظ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سفر ميں روزہ ركھنے والوں كى طرف نافرمانى كى نسبت اس ليے كى كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے ان پر روزہ چھوڑنے كا عزم كيا تھا، تو انہوں نے اس كى مخالفت كى. اھـ كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

تو اس بنا پر يہ حديث خاص حالت ميں وارد ہوئى ہے، اور اسے سب مسافروں پر منطبق اور لاگو كرنا صحيح نہيں.

اس كى دليل يہ بھى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سفر ميں روزہ ركھا كرتے تھے، اور اگر سفر ميں روزہ ركھنا معصيت و نافرمانى ہوتى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايسا نہ كرتے.

واللہ اعلم

Sunday, August 12, 2018

٢٨٦-حدیث ( انا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب ) کا معنی کیا ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( انا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب ) ( ہم ایک امی امت ہیں جو کہ پڑھے لکھے نہیں ) کا معنی کیا ہے ؟
اورکیا مسلمان جوکچھ آج سیکھ رہے ہیں وہ اس کے منافی ہے ؟

الحمد للہ
حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں جس طرح کہ سوال میں ذکر ہوۓ ہیں بلکہ حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں :
( انا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب الشھر ھکذا وھکذا یعنی مرۃ تسعۃ وعشرین ومرۃ ثلاثین ) ہم امی قوم ہيں لکھتے پڑھتے نہیں مہینہ اس اس طرح ہوتا ہے ، یعنی کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1814 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1080 ) ۔

اوریہ حدیث قمری مہینہ کے شروع ہونے کے مسئلہ میں وارد ہوئ ہے جو کہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ مہینہ فلکی حسابات سے نہیں شروع ہوتا بلکہ ظاہری طور پرچاند دیکھنے پر منحصر ہے جب چاند نظر آجاۓ تومہینہ شروع ہوگا ، توحدیث وارد اس لیے ہوئ ہے کہ یہ بیان کیا جاسکے کہ قمری مہینہ کا اعتماد رؤیت ھلال پرہوگا نہ کہ حسابات فلکیہ پر ، اوریہ حدیث اس لیے نہیں کہ امت اسلامیہ جھالت اختیارکیے رکھے اورعادی حساب وکتاب اورعلوم نافعہ کاحصول نہ کرے ۔

آج کے مسلمان جوکچھ مختلف قسم کےدنیاوی فا‏ئدہ مند علوم حاصل کررہے ہیں یہ حديث اس کے منافی نہیں ، اوراسلام توایک علمی دین ہے اورعلم کی دعوت اورہرمسلمان پرعلم کے حصول کوواجب قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فرض کردہ احکامات اورعبادات ومعاملات کوسیکھے ۔

اوراسی طرح دنیاوی علوم مثلا طب ، انجیرینگ ، زراعتی وغیرہ علوم تومسلمانوں پرحسب ضرورت یہ علوم سیکھنے واجب ہیں ، اگرمسلمانوں کوضرورت ہے کہ وہ ایک سو‏ئ تیار کریں توان پرواجب ہے کہ ان میں ایسا شخص ہو جو کہ سو‏ئ تیار کرنے کا علم حاصل کرے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ تعالی نے اس حديث کی کافی ووافی شرح کی ہے جس میں انہوں نے بیان کی انتہاء کردی ہے ، ذیل میں ہم ان کے جواب میں سے چیدہ چیدہ اشیاء کا ذکرکرتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( ہم ایک امی قوم ہیں ) یہ طلب نہیں ، کیونکہ شریعت سے قبل وہ امی ہی تھے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہے جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ وہ اللہ ہی ہے جس نے امیوں میں سے ہی ان کی طرف رسول بھیج دیا } ۔

اوررب ذوالجلال کا فرمان کچھ اس طرح بھی ہے :

{ اوران لوگوں کو کہہ دو جنہیں کتاب دی گئ اورامیوں کوبھی کہ کیا تم اسلام لے آۓ ہو ؟ } ۔

توجب ان کے لیے امی کی صفت کا بعثت سے قبل ثبوت ملتا ہے انہیں اس کی ابتدا کا حکم نہیں تھا ، جی ہاں ہوسکتا ہے کہ ان کویہ بھی حکم دیا گيا ہوکہ وہ اس کے بعض احکام پر باقی رہیں ، ہم اس کا بیان کریں گے کہ انہیں مطلقا اس پررہنے کا حکم نہیں دیا گيا جس پروہ پہلے تھے ۔

۔۔۔۔

جس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کیا گيا اس میں بہت سے لکھنے پڑھنے والے لوگ بھی تھے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں پاۓ جاتے تھے ، اوران ميں حساب وکتاب کرنے والے لوگ بھی تھے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفرائض کے ساتھ جس میں حساب (ریاضی ) بھی ہے مبعوث کیا گيا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ جب ان کا صدقہ پرمقررکیا گیا عامل ابن لتبیۃ آیا تونبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے اس کے ساتھ حساب کیا ۔

اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئ ایک کاتب تھے جن میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، زید ، اورمعاویہ رضي اللہ تعالی عنہم شامل تھے جو کہ وحی کی کتابت کرتے اور اسی طرح معاھدے اورنبی صلی اللہ کی طرف سے مختلف بادشاہوں اورحکمرانوں اوران کے مقرر کردہ عاملوں اورگورنروں کوخط لکھتے تھے ۔

اوراللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے :

{ تاکہ تم سالوں کی تعداد اورحساب کوجان لو } اللہ تعالی نےان دوآیتوں میں یہ بتایا ہے کہ اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ تم حساب کوجان سکو ۔

اورامی اصل میں " الامۃ " جو کہ امیین کی جنس ہے کی طرف منسوب ہے ، اوریہ اسے کہا جاتا ہے جوجنس سے لکھنے یا پڑھنے کے خصوصی علم کےساتھ متمیز نہ ہو ، جیسا کہ عام لوگوں میں سے اس شخص کوعامی کہا جاتا ہے جودوسروں سے کسی خصوصی علم میں متمیز نہ ہو ۔

اوریہ بھی کہا گيا ہے کہ امی کی نسبت " الام " کی طرف ہے ، یعنی وہ معرفت ، علم وغیرہ میں سے اسی پرباقی ہے جس کا اسے اس کی ماں نےعادی بنایا تھا ۔

پھروہ چيز جس کے ساتھ انسان عمومی امیۃ سے نکل کرخصوصیت کی جاتا ہے کبھی تووہ فی نفسہ فضل وکمال ہے جس طرح کہ قرات قرآن اوراس کے معانی کوسمجھنے کے ساتھ متمیزہونا ، اورکبھی ایسی اشیاء جس سے فضل وکمال تک پہنچا جا سکتا ہے ، جیسا کہ قرآن مجید پڑھنا اوراس کے معانی کوسمجھنے کے ساتھ متمیزہونا ہے ۔

اوربعض اوقات وہ چيز ہوتی ہے جس سے فضل وکمال تک پہنچا جاسکتا ہے ، مثلا لکھنے اررخط وغیرہ پڑھنے کے ساتھ دوسروں سے متميز ہونا ، تو یہ کام اس شخص کی مدح کا با‏عث ہے جس نے اسے کمال کے لیے استعمال کیا اور اس شخص کے لیے مذمت کا باعث ہے جس نے اسے معطل کرکے رکھ دیا اوریا پھراسے شروبرائ کے لیے استعمال کیا ، اورجوشخص اسے چھوڑ‍ کراس بھی ا‌فضل اور نفع مندچیزحاصل کرلے وہ زیادا افضل اوراکمل ہوگي ، تواس کا چھوڑنا اس کے حق میں مقصد کوحاصل کرنے کے ساتھ اکمل وافضل ہوگا ۔

توجب یہ واضح ہوگیا کہ امیوں سے تمیز کی دوقسمیں ہیں ؛ تووہ امت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوۓ عرب تھے ، انہیں کے ذریعہ ساری امتوں کو دعوت ملی ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زبان میں مبعوث ہوۓ تووہ عام قسم کے امی تھے ان میں علم و کتاب غیرہ کی تميز نہیں تھی باوجود اس کے کہ ان کی فطرت علم کے لیے دوسری امتوں کے مقابلہ میں زیادہ تیارتھی ۔

اسی زمین کی طرح جوکاشت کے قابل ہو لیکن اسے کاشت کرنے والا کوئ نہیں ، تو ان کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کوئ کتاب نہیں تھی جسے وہ پڑھیں جس طرح کہ اہل کتاب کے پاس کتاب موجود تھی ، اورنہ ہی کوئ قیاسی اوراستنباط شدہ علوم ہی تھے جس طرح کہ صابئ وغیرہ کے پاس تھے ۔

اوران میں کتابت بہت ہی قلیل تھی ، اورعلم صرف اتنا تھا جتنا تھا جس سے انسان عمومی امیۃ سے نہیں نکلتا مثلا اللہ سبحانہ وتعالی کا علم ، اورمکارم اخلاق کی تعظیم اور علم انواء( ستاروں کا علم ) اورشعروں اور علم انساب وغیرہ تووہ ہراعتبار سے اسم امی ( ناخواندہ ) کے مستحق ٹھرے ، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے :

{ وہ اللہ ہی ہے جس نے امیوں ( ناخواندہ لوگوں ) میں ان میں سے ہی ایک رسول بھیجا } ۔

اورفرمان باری تعالی ہے :

{ اھل کتاب اورامی لوگوں کو کہہ دیجیے کہ کیا تم اسلام لے آۓ ہو ، اگرتو وہ مسلمان ہوگۓ ہیں توھدایت یافتہ ہیں اور اگر منہ پھیر لیں توآپ پر صرف تبلیغ کرنا ہے } ۔

تواللہ تعالی نے امی لوگوں کو اھل کتاب کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے ، تو کتابی امی کے علاوہ ہوا ۔

توجب ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کردیا گيا اوران پر کتاب اللہ میں جوکچھ بیان ہوااس کی اتباع اوراس پرغورفکراور تدبر اور اسے سمجھنا اوراس پر عمل کرنا واجب کردیا گیا اور قرآن مجید کو ہرچیز کی تفصیل بنایا گیا اوران کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہرچيز حتی کہ بیت الخلاء جانے کا طریقہ بھی بتایا تووہ اھل علم اورکتاب والے ٹھرے ، بلکہ علوم نافعہ میں سب مخلوق سے افضل اور زيادہ علم والے بن گۓ اور ان سے وہ مذموم اورناقص ناخواندگی زائل ہوگئ جو کہ عدم علم اوراللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کتاب کے نہ ہونے کی بنا پر تھی ۔

اورانہیں کتاب وحکمت کا علم اور کتاب کی وراثت مل گئ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

{ اللہ وہ ہے جس نے امیوں میں سے ہی ان کی طرف ایک رسول مبعوث کردیا جو ان پر اللہ تعالی کی آیات پڑھتا اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اگرچہ وہ اس سے قبل واضح قسم کی گمراہی میں تھے } ۔

تووہ ہراعتبارسے امی ( ناخواندہ ) تھے توجب انہیں کتاب وحکمت سکھا دی تو ان کےبارہ میں اللہ رب العزت نے فرمایا :

{ پھر ہم نے ان لوگوں کوکتاب کا وارث بنایا جن کوہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ، پھران میں سے بعض تواپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہیں ، اوران میں سے بعض اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلےجاتے ہیں } ۔

اورایک اورمقام پراللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ اوریہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے بڑی بابرکت کتاب ہے تواس کی اتباع کرو اورتقوی اختیارکرو تا کہ تم پررحم کیا جاۓ ، کہیں تم لوگ یہ نہ کہوکتاب توہم سے پہلے جودوفرقے تھے ان پر نازل ہوئ تھی اور ہم اس کے پڑھنے سے پڑھانے سے محض بے خبر تھے ، یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پرکوئ کتاب نازل ہوتی توہم ان سے بھی زيادہ راہ راست پرہوتے } ۔

اورابراھیم خلیل اللہ کی ان کے بارہ میں کی گئ دعا قبول ہو‏ئ جس میں انہوں نے یہ کہا تھا :

{ اے ہمارے رب ! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج دے جوان پر تیری آیات کی تلاوت کرے ، اور انہیں کتاب وحکمت سکھاۓ ، اورانہیں پاک کرے یقینا توغلبہ اورحکمت والا ہے } ۔

اوراللہ جل شانہ کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ بے شک مسلمانوں پراللہ تعالی کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں ایک رسول ان کی طرف بھیجاجو ان پر اللہ تعالی کی آیات تلاوت کرتااور انہیں پاک کرتا اورانہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے } ۔

تواس ناخواندگی میں سے کچھ توحرام اورکچھ مکروہ اورکچھ نقص اور ترک افضل ہے ، جوسورۃ فاتحہ یا قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھ سکے توفقھاء ایسے شخص کو نمازکے مسا‏ئل میں قاری کے مقابلےمیں امی ( ناخواندہ ) کہتے ہوۓ یہ کہتے ہیں کہ قاری کا امی کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ، اورنمازمیں امی (ناخواندہ ) امی کی اقتداء کرنا جائز ہے ، اوراس طرح کے مسائل میں ۔

توفقھاء یہاں پرامی سے مراد یہ لیتے ہیں جوفرضي اورواجب قرات بھی نہ کرسکے چاہے وہ لکھ سکتا ہویا نہ لکھ سکے اورحساب وکتاب کرنا جانتا ہویا نہ جانتا ہو ۔

توایسی امیۃ ( ناخواندگی ) بھی ہے جوواجب کے ترک میں ہے اوراگر انسان اس کی تعلیم پرقادرہونے کے باوجود نہ سیکھے تووہ سزا کا مستحق ہوگا

اورامیۃ ( ناخواندگی ) کی ایک قسم مذموم بھی ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے اھل کتاب کویہ وصف دیتے ہوۓ فرمایا :

{ ان میں سے بعض ایسے ان پڑھ بھی ہیں جوصرف کتاب کے ظاہری الفاظ کوہی جانتے ہیں اورصرف گمان اوراٹکل پرہی ہیں } ۔

تویہ اس شخص کی صفت ہے جو کلام اللہ کونہ توسمجھتااورنہ ہی اس پر عمل کرتا ہے بلکہ صرف اس کی تلاوت پر ہی گزارا کرتا ہے ، جیسا کہ حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :

قرآن مجید تواس لیے نازل ہوا ہے کہ اس پرعمل کیا جاۓ تولوگوں نے اس کی تلاوت کرنے کوہی عمل بنا لیا ۔

تویہاں پرامی وہ ہے جوہوسکتا ہے کہ قرآن مجید کے حروف وغیرہ کوتو پڑھ سکتا ہے لیکن انہیں سمجھتا ہی نہیں بلکہ ظاہری طورپروہ اپنےگمان میں علمی کلام بھی کرتا ہوگا ، تویہ بھی وہ امی ( ناخواندگی ) مذموم ہے جس طرح کہ اللہ تعالی نے اس کے واجبی علم کے نقص ہونے پراس کی مذمت فرمائ ہے چاہے وہ فرض عین ہو یا فرض کفايہ ۔

اوراس میں سے کچھ افضل واکمل بھی ہے ، جس طرح کہ ایک شخص قرآن کریم کچھ حصہ ہی پڑھتا اورجو اس کے متعلق ہے اسے ہی سمجھتا اورشریعت میں سےبھی اتنا ہی سمجھتا ہے جتنا کہ اس پرواجب ہو ، تواس کوبھی امی کہا جاۓ گا ، اوراس کےمقابلے میں جسے مکمل قرآن کا علم اورعمل کرنے کی توفیق دی گئ ہے وہ پہلےسے افضل اوراکمل ہے ۔

شخص کے لیے یہ امتیازی امورجوکہ فضائل وکمال ہیں کواس نے اپنے اندر نہیں پایا ، اس میں یہ نہ پائی جانے والے اموریا توعینی طورپرواجب تھے اوریا پھرفرض کفایہ یا مستحب تھے ۔

ان امورسے مطلقا اللہ تعالی ہی موصوف ہے بلاشبہ اللہ تعالی علیم وحکیم ہے اورسب قسم کے علم اورشروخیراور ارادہ کے اعتبارسے کلام نافع اللہ تعالی میں ہی جمع ہے اوراسی طرح اللہ تعالی نے انبیاء اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوکہ علماء اورحکماء کے سردارہیں کوبھی علم دیا ہے ۔

اوروہ امتیازی امورجوفضائل کے وسا‏ئل اوراسباب ہیں جن کے بغیرکسی اورکے ساتھ بھی گزارا ممکن ہے ، تویہ اس کاتب کی طرح جو کہ لکھتا پڑھتا ہے توجب وہ اس سے مفقود ہوتویہ اس میں نقص ہوگا اوراس کے بغیراس کی فضیلت مکمل نہیں ہوگي اوروہ اس میں اپنے کمال وفضل سے تعاون حاصل کرتا ہے جس طرح کہ کوئ لکھنا پڑھنا سیکھے اوراس سے قرآن مجید اورعلمی کتابیں پڑھے اورلوگوں کے لیے نافع اشیاء لکھے تویہ اس کے حق میں فضل وکمال ہے ، اگرچہ وہ اس سے وہ ایسی اشیاء کے حصول پربھی تعاون لے جوکہ اس کےلیے مضراور نقصان دہ ہوں ، یاپھر لوگوں کواس شخص کی طرح نقصان دے جو کہ اس پڑھائ سے گمراہ کرنے والی کتابیں پڑھے اورلوگوں کونقصان پہنچانےوالی اشیاء لکھے جس طرح کہ کوئ‏ بڑے بڑے افسروں اورججوں اورگواہوں کی جعلی خط وغیرہ تیارکرے ، تواس کے حق میں برا اورنقصان دہ ہوگا ۔

اوراسی لیے عمر نے عورتوں کواس سے منع کردیا تھا ، اوراگراس کے بغیر کسی اورطریقہ سے علم میں کمال حاصل ہوسکے اورتعلیم حاصل ہوسکے تواس کے لیے یہ افضل اوربہتر ہے ، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی حال تھا جن کےبارہ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

{ جولوگ ایسے نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کووہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں } ۔

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اموۃ ( ناخواندگی ) حافظے سے علم اورپڑھائ مفقود ہونے میں نہیں تھی بلکہ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں توامام الائمۃ ہیں ، بلکہ وہ اس اعتبارسے امی تھے کہ لکھ نہیں سکتے تھے اورلکھا ہوا پڑھ نہیں سکتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ان کے بارہ میں وضاحت کرتے ہوۓ فرمایا :

{ اس سے پہلے توآپ کوئ کتاب نہ پڑھتے تھے اورنہ ہی کسی کتاب کواپنے ھاتھ سے لکھتے تھے } ۔

۔۔۔۔۔

پھراس کے بعد شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی اسی حدیث ( ہم امی قوم ہیں لکھنا اورحساب وکتاب نہیں جانتے ) کی مراد بیان کرنے کی طرف آتے ہیں اوراس میں قرینہ بھی پایا جاتا ہے جوکہ مراد پردلالت کرتا ہے تووہ بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں :

توجب اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیاکہ مہینہ تیس دنوں کا اورمہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے تواس سے حدیث کی مراد بیان کی گئ کہ ہم ر‎ؤیت ھلال میں حساب وکتاب کے محتاج نہیں اس لیے کہ کبھی وہ تیس اور کبھی انتیس کا ہوتا ہے توان کےدرمیان فرق صرف رؤیت سے ہی ممکن ہے اوران دونوں میں حساب وکتاب سے فرق نہیں کیا جاسکتا ۔

تواس سے یہ ظاہرہوا کہ اس میں بیان کی گئ امیۃ ( ناخواندگی ) کئ ایک وجوہ سے صفت کمال ومدح ہے :

ایک تویہ کہ حساب وکتاب کی ضرورت ہی نہيں اس لیے کہ اس سے بھی زیادہ واضح ھلال ہے توحساب وکتاب کی ضرورت ہی باقی نہ رہی ۔

اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ حساب وکتاب سے اس میں غلطی ہوجاۓ گی ۔

۔۔ شیخ الاسلام کی کلام کے آخیر تک ۔ .

مجموع الفتاوی ( 25 / 164 - 175)کے

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...