Showing posts with label استنجاء کرنا اور مٹی کے ڈھیلے کا استعمال. Show all posts
Showing posts with label استنجاء کرنا اور مٹی کے ڈھیلے کا استعمال. Show all posts

Thursday, August 23, 2018

٧٢٨-كيا ہر وضوء كرنے سے پہلے استنجاء كرنا لازم ہے


سوال-كيا جب بھى انسان وضوء كرنا چاہے تو اس كے ليے استنجاء كرنا لازم ہے ؟

الحمد للہ:

جب بھى كوئى شخص وضوء كرنا چاہے تو اس كے ليے استنجاء كرنا لازم نہيں، بلكہ اسے استنجاء اس وقت كرنا ہو گا جب اس سے پيشاب يا پاخانہ خارج ہوا ہو تو وہ استنجاء كر كے نماز كے ليے وضوء كرے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ الافتاء ( 5 / 102 ).

٧٢٧- لفظ " اللہ " كى سكرين والا موبائل بيت الخلاء ميں لے جانا


سوال-اگر كسى شخص كے پاس موبائل سكرين پر عربى ميں اللہ اكبر لكھا ہو تو كيا اس كے ليے بيت الخلاء ميں موبائل سيٹ لے جانا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

جمہور فقھاء كرام نے اللہ كے ذكر پر مشتمل كوئى بھى چيز بغير ضرورت بيت الخلاء ميں لے جانى مكروہ قرار دى ہے، مثلا اللہ كے نام پر مشتمل كرنسى اور روپے.

فقھاء كرام كى ايك جماعت نے بيان كيا ہے كہ جب وہ اسے چھپا كر ركھى تو پھر كوئى حرج نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر كسى كے پاس اللہ كے نام پر مشتمل كوئى چيز ہو تو بيت الخلاء جاتے وقت اسے باہر ركھنا مستحب ہے....

اور اگر اللہ كے ذكر پر مشتمل چيز كو محفوظ كرے، اور اسے گرنے سے بچا كر ركھے، يا پھر انگوٹھى كا نگينہ اندر كى جانب كر لے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اگر انگوٹھى ميں اللہ كا نام لكھا ہو وہ اسے اپنى ہتھيلى والى طرف گھما كر بيت الخلاء چلا جائے.

اور عكرمہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اسے اس طرح اپنى ہتھيلى كے اندر والى طرف كر كے ہاتھ بند كرلو، اسحاق رحمہ اللہ نے بھى ايسا ہى كہا ہے، اور ابن مسيب اور حسن، اور ابن سيرين رحمہم اللہ نے اس كى رخصت دى ہے.

امام احمد درھم لے كر بيت الخلاء جانے والے شخص كے متعلق كہتے ہيں:

" مجھے اميد ہے كہ اس ميں كوئى حرج نہيں " انتہى.

ماخوذ از: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 109 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اللہ تعالى كے نام پر مشتمل اوراق لے كر بيت الخلاء ميں جانے كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جب يہ اللہ كے نام پر مشتمل اوراق جيب ميں ہوں، اور ظاہر نہ ہوں، بلكہ مخفى اور چھپے ہوئے ہوں تو بيت الخلا ميں لے جانا جائز ہيں " انتہى

ديكھيں: فتاوى الطہارۃ صفحہ نمبر ( 109 ).

اس بنا پر " اللہ اكبر " كے الفاظ پر مشتمل سكرين والا موبائل جيب ميں ڈال كر لے جانے ميں كوئى حرج نہيں، وہ ظاہر نہ ہوتا ہو، بلكہ جيب ميں ہو.

واللہ اعلم .

٧٢٦-سمندى جھاگ سے استنجاء كرنے كا حكم


سوال-كيا سيپى يا سمندرى جھاگ كا شمار ان ہڈيوں ميں ہوتا ہے جس كے ساتھ استنجاء كرنا جائز نہيں ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كے سامنے ركھا تو انہوں نے جواب ديا:

نہيں، بلكہ ان كے ساتھ استنجاء كرنا جائز ہے، كيونكہ حديث ميں ہر اس ہڈي كا ذكر ہے جس پر اللہ كا نام ليا گيا ہو.

اور يہ ( يعنى سيپى اور سمندرى جھاگ ) ذبح نہيں ہوتى ( چنانچہ يہ اس طرح كى ذبح كردہ مباح اشياء ميں شامل نہيں ہو جن پر اللہ كا نام ليا گيا ہو اور اس كى ہڈى سے استنجاء كرنا حرام ہو، كيونكہ وہ تو مسلمان جنوں كا كھانا ہے، جيسا كہ حديث ميں بيان ہوا ہے ). انتہى

٧٢٥-الاستجمار كيا ہے ؟


سوال-استجمار كيا ہے، اور كيا ہوائى جہاز ميں پانى كے ہوتے ہوئے بھى ٹشو پيپر استعمال كے جاسكتے ہيں، اور طہارت كا كامل طريقہ كيا ہے ؟

الحمد للہ:

پيشاب يا پاخانہ كر كے قبل اور دبر كو پتھر يا اس كے قائم مقام كسى چيز سے صاف كرنے كو استجمار كہا جاتا ہے، ليكن اس ميں شرط يہ ہے كہ ڈھيلے اور پتھر تين سے كم نہ ہوں، اور ممنوعہ اشياء يعنى ليد اور ہڈى يا وہ حرمت والى چيز مثلا كھانا وغيرہ نہ ہو.

پانى ہو يا نہ ہو دونوں صورتوں ميں ڈھيلے وغيرہ استعمال كرنا جائز ہيں، اہل علم كا كہنا ہے:

افضل يہ ہے كہ پانى اور ڈھيلوں كا استعمال دونوں چيزيں استعمال كرنا افضل ہے، كيونكہ اس ميں صفائى زيادہ ہے.

ديكھيں: اعلام المسافرين ببعض آداب و احكام السفر و ما يخص الملاحين الجويين تاليف: فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين ( 10 ).

٧٢٤-استنجاء كرتے وقت كونسے اعضاء دھونے ضرورى ہيں ؟


سوال-گزارش ہے كہ آپ بالتحديد يہ بتائيں كہ استنجاء كرتے وقت مسلمان شخص كونسے اعضاء دھوئے گا، كيا عضو تناسل كا صرف ابتدائى حصہ ہى دھونا كافى ہے، يا كہ سارا عضو اور بالوں والى جگہ بھى دھونا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

جب پيشاب يا پاخانہ خارج ہو تو اس سے استنجا كرنا واجب ہے، عضو تناسل يا پاخانہ والى راہ سے خارج ہونے والى چيز كو پانى يا كسى پتھر يا كسى ايسى طاہر چيز سے زائل كرنا جس سے نجاست ختم كى جاسكتى ہو اسے استنجا كہتے ہيں: مثلا كنكرياں، پاكيزہ ٹيشو پيپر، اور ايسے طاہر كاغذ جن ميں اللہ كا ذكر اور نام نہ ہو، ليكن ہڈى اور ليد سے استنجا نہيں كيا جا سكتا.

ليكن اگر ہوا كے علاوہ كوئى اور چيز خارج نہ ہو تو استنجا كرنا ضرورى نہيں.

اگر پيشاب خارج ہو تو عضو تناسل كا اگلا حصہ دھونا كافى ہے، اگر پاخانہ نہ كيا ہو تو دبر دھونا مشروع نہيں.

اور دبر سے پاخانہ خارج ہونے كى صورت ميں دبر كا حلقہ اور جہاں گندگى لگى ہو دھونا ہو گى.

اس مسئلہ ميں مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ فتاوى شيخ ابن باز ( 10 / 36 ) اور ابن عثيمين كى الشرح الممتع ( 1 / 88 ) كا مطالعہ كريں.

يہ تو پيشاب اور پاخانہ كے متعلق تھا، ليكن منى اور مذى كے سلسلہ ميں آپ سوال نمبر ( 640 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ جب پيشاب يا پاخانہ نكلنے والى جگہ سے تجاوز كر جائے تو جہاں لگى وہ جگہ بھى دھونا ہو گى، اور وہاں سے نجاست دور كرنا ضرورى ہے.

ذيل ميں ہم قضائے حاجت كے چند آداب پيش كيے جاتے ہيں مسلمان كے ليے قضائے حاجت كرتے وقت ان آداب كا خيال ركھنا ضرورى ہے:

1 - بيت الخلاء ميں داخل ہوتے وقت بسم اللہ كہنا مسنون ہے، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جنوں كى آنكھوں اور بنى آدم كے مابين ستر يہ ہے كہ جب ان ميں سے كوئى بھى بيت الخلاء ميں داخل ہو تو وہ بسم اللہ كہے "

سنن ترمذى كتاب الجمعۃ حديث نمبر ( 551 )، علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 496 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك دوسرى حديث ميں يہ بھى ثابت ہے كہ:

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب بيت الخلا ميں داخل ہوتے تو يہ دعا پڑھتے:

" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ "

اے اللہ ميں ناپاك جنوں اور جننيوں سے تيرى پناہ ميں آتا ہوں.

صحيح بخارى كتاب الوضوء حديث نمبر ( 139 ).

2 - بيت الخلا ميں داخل ہوتے وقت اپنا باياں پاؤں اور باہر نكلتے وقت داياں پاؤں پہلے ركھے.

3 - اگر ليٹرين نہ ہو يعنى قضائے حاجت كھلى جگہ ميں كرنى پڑے تو اس حالت ميں دور جانا مستحب ہے.

4 - قضائے حاجت كے وقت نہ تو قبلہ رخ ہو اور نہ ہى قبلہ كى طرف پشت كرے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جب كوئى بيت الخلاء جائے تو وہ قبلہ رخ ہو كر نہ بيٹھے اور نہ ہى اس كى طرف پشت كر، ليكن مشرق كى طرف كرو يا پھر مغرب كى طرف "

صحيح بخارى كتاب الوضوء حديث نمبر ( 141 ).

ملاحظہ: مشرق اور مغرب كى طرف رخ ان علاقوں ميں ہو گا جہاں قبلہ كا رخ شمال يا جنوب كى طرف ہو .

5 - اسے پيشاب كرتے وقت اڑنے والى چھينٹوں سے بچنا ضرورى ہے كہ كہيں اس كے بدن يا لباس پر نہ پڑيں.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مدينہ يا مكہ كے كسى قبرستان كے قريب سے گزرے تو قبروں ميں دو انسانوں كوعذاب ديے جانے كى آواز سنى چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" ان دونوں كو عذاب ہو رہا ہے، اور عذاب بھى كسى بڑے گنا كى بنا پر نہيں، پھر فرمايا: كيوں نہيں ، ان ميں سے ايك شخص تو پيشاب كے چھينٹوں سے بچتا نہيں تھا، اور دوسرا شخص چغل خورى كرتا تھا.

پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك چھڑى منگوائى اور اسے دو ٹكڑے كر كے دونوں قبروں پر ايك ايك ركھ ديا، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے كہا گيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ نے ايسا كيوں كيا ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

اميد ہے جب تك يہ چھڑى خشك نہ ہو ان سے عذاب كى تخفيف كر دي جائيگى "

صحيح بخارى كتاب الوضوء حديث نمبر ( 209 ).

6 - پيشاب كرتے وقت عضوتناسل كو دائيں ہاتھ نہ لگائے.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور جب بيت الخلاء جائے تو اپنا عضو تناسل دائيں ہاتھ سے نہ پكڑے اور نہ ہى دائيں ہاتھ سے استنجا كرے "

صحيح بخارى كتاب الوضوء حديث نمبر ( 149 ).

7 - لوگوں كے راستے، يا سائے ميں قضائے حاجت كرنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" لعنت كا باعث بننے والى دو چيزوں سے اجتناب كرو.

صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم لعنت كا باعث بننے والى دو اشياء كونسى ہيں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو لوگوں كى راہ ميں يا سائے ميں قضائے حاجت كرتا ہے "

صحيح مسلم كتاب الطہارۃ حديث نمبر ( 397 ).

8 - قضائے حاجت كرتے وقت كلام كرنا صحيح نہيں.

9 - بيت الخلاء سے خارج ہوتے وقت غفرانك كہنا مستحب ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيت الخلاء سے باہر آتے تو غفرانك كہتے "

سنن ترمذى كتاب الطہارۃ حديث نمبر ( 7 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 7 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

واللہ اعلم

٧٢٣-ہوا خارج سے استنجاء كرنا


سوال-اسلاميات كے مدرس نے ہميں كہا ہے كہ ہوا خارج ہونے كى بنا پر وضوء كرنا مكروہ ہے، يعنى جب انسان كى ہوا خارج ہو جائے تو اس كے بعد اس كے ليے وضوء كرنا مكروہ ہے، كيا يہ بات صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

ہوا خارج ہونے سے استنجاء كرنا مكروہ ہے، كيونكہ ايسا كرنا غلو ميں شامل ہوتا ہے، ليكن جب انسان كى ہوا خارج ہو جائے تو بالاجماع اس كا وضوء ٹوٹ جاتا ہے.

شرمگاہ دھونے كو وضوء كا نام نہيں ديا جاتا، بلكہ اگر پانى سے دھويا جائے تو اسے استنجاء كہتے ہيں، اور اگر پتھر وغيرہ سے صفائى كى جائے تو اسے استجمار كا نام ديا جاتا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 101 )

٧٢٢-استنجا اور مٹى كے ڈھيلے استعمال كرنا


سوال-ميں سارا دن سكول ميں ہوتا ہوں بيت الخلاء بھى جاتا ہوں ـ استنجا كرنے كے ليے گھر نہيں جا سكتا، كيا ميں وضوء كر كے نماز ادا كرلوں، يا كہ نماز بعد ميں ادا كرو ؟

الحمد للہ:

جب انسان قضائے حاجت كرے تو اس كے ليے يا تو پانى كے ساتھ نجاست سے طہارت حاصل كرنى چاہيے، اور يہ افضل اور اكمل ہے، يا پھر وہ پانى كے بغير كوئى ايسى چيز استعمال كرے جس سے نجاست دور كى جا سكتى ہو، مثلا ٹشو پيپر، يا كپڑا، يا پتھر وغيرہ.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جب انسان قضائے حاجت كرتا ہے تو اس كى تين حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

پانى سے طہارت كرے، يہ جائز ہے، اس كى دليل يہ ہے:

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم قضائے حاجت كرتے تو ميں اور ميرے جيسا ايك لڑكا پانى كا برتن اور نيزہ لے كر جاتے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پانى كے ساتھ استنجاء كرتے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 149 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 271 ).

اور تعليل يہ ہے كہ: اس ليے كہ اصل ميں تو يہى كہ نجاست پانى سے زائل ہو، چنانچہ جس طرح آپ اپنے قدم سے نجاست زائل كرتے ہيں اسى طرح اپنى نكلنے والى نجاست بھى پانى سے زائل كريں.

دوم:

پتھر اور ڈھيلے كے ساتھ نجاست سے طہارت حاصل كى جائے، لہذا پتھروں سے استنجا كرنا كفائت كرے گا، اس كى دليل رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان اور عمل ہے.

سلمان فارسى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں تين پتھروں سے كم ميں استنجا كرنے سے منع فرمايا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 262 ).

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عمل كى دليل درج ذيل حديث ہے:

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پاخانہ كرنے گئے تو مجھے حكم تين پتھر لانے كا حكم ديا، چنانچہ انہوں نے دونوں پتھر لے ليے اور ليد پھينك دى اور فرمانے لگے: يہ پليد ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 155 ).

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے پتھر جمع كيے اور انہيں كپڑے ميں ڈال كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لا كر ركھ كے واپس چلا گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 154 ).

يہ احاديث پتھر استعمال كرنے كى دليل ہيں.

سوم:

پہلے پتھر اور بعد ميں پانى كے ساتھ طہارت كى جائے.

ميرے علم كے مطابق ايسا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو وارد نہيں، ليكن معنى كے اعتبار سے بلاشك و شبہ يہ طہارت ميں زيادہ كامل ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 103 - 105 ).

اس بنا پر آپ كے ليے استنجاء نہ كر سكنے كى بنا پر نماز ترك كرنے يا پھر وقت سے مؤخر كرنے ميں كوئى عذر نہيں، كيونكہ آپ ٹشو پيپر وغيرہ استعمال كر كے بھى نجاست سے طہارت حاصل كر سكتے ہيں، ہر انسان كى استطاعت ميں ہے كہ وہ اپنى جيب ميں كچھ ٹشو پيپر ركھے تا كہ بوقت ضرورت استعمال كيے جا سكيں.

پھر سوال ميں يہ واضح نہيں كہ قضاء حاجت كے بعد پانى كے ساتھ استنجاء كرنے ميں كيا مانع ہے، اور خاص كر جب آپ يہ كہہ رہے ہيں: كيا ميں وضوء كر كے نماز ادا كروں يا كہ نماز چھوڑ دوں ؟

اس كا معنى يہ ہوا كہ پانى موجود ہے، اور آپ كے ليے بيت الخلاء ميں پانى لے جا كر استنجاء كرنا ممكن ہے، ليكن اگر آپ ايسا نہ كريں تو آپ كے ليے ٹشو پيپر وغيرہ كے ساتھ استنجاء كرنا ممكن ہے، اس كے بعد آپ وضوء كر كے نماز ادا كر ليں، آپ كے ليے نماز ميں تاخير كرنى جائز نہيں كہ نماز كا وقت ہى نكل جائے.

واللہ اعلم

٧٢١-مسلسل پيشاب خارج ہونے كى بيمارى ميں مبتلا شخص كے ليے وقت نكلنے سے قبل استنجا كرنا لازم نہيں


سوال-مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص نے وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كيا، اور آئندہ وقت شروع ہونے سے قبل وضوء كى تجديد كرنا چاہے تو كيا وہ وضوء كى تجديد كرتے وقت دوبارہ استنجا كرے گا ؟

الحمد للہ:

وضوء قائم نہ ركھ سكنے والا شخص ـ مثلا جسے مسلسل پيشاب كى بيمارى ہو ـ جب وقت نكلنے سے قبل وضوء كى تجديد كرنا چاہے تو اس كے ليے تجديد كے وقت استنجا كرنا لازم نہيں، كيونكہ وہ وضوء كيے ہوئے شخص كے حكم ميں ہے.

اور جب جب وقت نكل جائے تو اسے اپنى شرمگاہ دھو كر وضوء كرنا لازم ہے، اور وہ اس وضوء كے ساتھ اس وقت كى فرضى نماز اور جتنے چاہے نفل ادا كر سكتا ہے.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ بنت ابى حبيش رضى اللہ تعالى عنہا كو فرمايا تھا:

" تو اپنے آپ سے خون دھو پھر نماز ادا كرو، پھر ہر نماز كے ليے وضوء كرو، حتى كہ وہ وقت آ جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 226 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 333 ).

اور اگر فرض كيا جائے كہ اس نے وضوء كيا اور وضوء كرنے كے بعد دوسرى نماز كا وقت شروع ہونے تك اس كى كوئى چيز خارخ نہ ہوئى تو اسے وضوء كرنا لازم نہيں، بلكہ اس كا پہلا وضوء قائم ہے.

چنانچہ فقھاء كرام كا يہ كہنا كہ وہ ہر نماز كے ليے وضوء كرے، كوئى چيز خارج ہونے كے ساتھ مقيد ہے.

البھوتى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

( اور استحاضہ والى عورت اور اس طرح كے دوسرے لوگ ) جنہيں مسلسل پيشاب يا مذى يا ہوا خارج ہونے كى بيمارى ہے، يا كوئى ايسا زخم ہے جو مندمل نہيں ہوتا، يا اسے نكسير يا خون آتا ہے... ( ہر نماز كے وقت ) داخل ہونے ( وضوء كرے ) اگر اس كى كوئى چيز خارج ہوئى ہو اور جب تك وقت ہے ( نفى اور فرضى نماز ادا كر لے ) اور اگر اس كا كچھ خارج نہيں ہوا تو اس كے ليے وضوء كرنا واجب نہيں . انتہى.

ديكھيں: الروض المربع صفحہ نمبر ( 57 ).

مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كے مزيد احكام معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 719 ) اور ( 720 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم

٧١٩-کیا استنجاء کیلئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہوگا؟


سوال-کیا استنجاء کیلئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہے؟ یا پانی لازمی استعمال کرنا پڑے گا؟

الحمد للہ:

قضائے حاجت کے بعد جسم سے نجاست کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے، چاہے پانی سے زائل کی جائے یا پتھر، کاغذ، اور ٹشو پیپر وغیرہ جیسی کسی اور چیز سے، اگرچہ پانی استعمال کرنا افضل ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:

"ہم برطانیہ میں رہتے ہوئے حمام میں استنجاء کیلئے ٹشو پیپر اور کاغذ استعمال کرتے ہیں، تو کیا ہمیں ٹشو پیپر استعمال کرنے کے بعد پانی بھی استعمال کرنا پڑے گا؟

تو انہوں نے جواب دیا:

الحمد لله وحده والصلاة والسلام على رسوله وآله وصحبه .. وبعد:

استنجاء کیلئے ٹشو پیپر یا کاغذ وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کے ذریعے دونوں شرمگاہوں کو اچھی طرح صاف کیا جاسکتا ہو، اور بہتر یہ ہے کہ طاق تعداد میں انہیں استعمال کیا جائے، اور کم از کم تین بار صاف کیا جائے، اور اسکے بعد پانی استعمال کرنا واجب نہیں سنت ہے۔

وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم "ا نتہی

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز .. شيخ عبد الرزاق عفيفی .. شيخ عبد الله بن غديان .. شيخ عبد الله بن قعود۔

"فتاوى اللجنة الدائمة" (5/125)

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا استنجاء کرتے ہوئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"جی ہاں! استنجاء کیلئےٹشو پیپر کا استعمال کافی ہے، اس میں کوئی حرج والی بات بھی نہیں، کیونکہ استنجاء کا مقصد نجاست کو زائل کرنا ہے، چاہے وہ ٹشو پیپر سے ہو یا کپڑوں کے چیتھڑوں سے، مٹی سے، یا پتھر سے، ہاں کسی ایسی چیز کو استنجاء کیلئے استعمال نہ کرے جنہیں استنجاء کیلئے استعمال کرنا منع قرار دیا گیا ہے، مثلا : ہڈی، اور لید، اسکی وجہ یہ ہے کہ ہڈیاں کسی ذبیحہ جانور کی ہوں تو یہ جنوں کا کھانا ہے، اور اگر کسی غیر ذبیحہ جانور کی ہڈیاں ہوں تو یہ پلید ہیں، جبکہ پلید چیز پاک نہیں کرسکتی، اور اسی طرح اگر لید [کسی غیر مأکول اللحم جانور کی ہونے کی وجہ سے] خود ہی پلید ہے تو پلید پاک نہیں کرسکتا ، اور اگر لید [مأکول اللحم جانور کی ہونے کی وجہ سے]پاک ہے، تو یہ جنوں کے جانوروں کا کھانا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ جو جن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی ایسی مہمان نوازی کی کہ قیامت تک مسلسل جاری رہے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (تمہارے لئے ہر وہ ہڈی حلال ہے جس پر اللہ کانام لیا گیا تھا، تمہارے لئے یہ ہڈیاں گوشت سے زیادہ وافر مقدار میں ہونگی) اور ہڈی کے بارے میں یہ جاننا کہ ذبیحہ جانور کی ہے یا کسی اور کی ، تو یہ غیبی علم ہے، اسکا مشاہدہ نہیں ہوسکتا، لیکن اسکے باوجود ہم پر یہ لازم ہوتا ہے کہ اس پر ایمان رکھیں، اسی طرح لید بھی جنوں کے جانوروں کی خوراک ہیں"انتہی

"مجموع فتاوى ابن عثيمين" (4/112)

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...