Showing posts with label نفلی روزے. Show all posts
Showing posts with label نفلی روزے. Show all posts

Sunday, September 9, 2018

1014-اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟


س-اس برس ہم عاشوراءکاروزہ کیسےرکھیں؟ ہمیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ مہینہ کب شروع ہوااورکیا ذوالحجہ انتیس کاتھایاتیس یوم کاتوہم عاشوارء کی کیسےتحدیدکریں اور روزہ رکھیں ؟

الحمد للہ :

اگرہمیں یہ نہ پتہ چلےکہ ذوالحجہ تام ( یعنی۔30۔دن ) کاتھایاکہ ناقص ( یعنی ۔29۔دن) کاتھااورنہ ہی ہمیں اس کےمتعلق کوئی بتائےکہ محرم کب شروع ہواتواصل کےمطابق چلیں گےیعنی مہینےکوتیس یوم کامکمل کرینگے۔ ذوالحجہ کےتیس یوم کا اعتبار کیاجائےگااوراسی بناپرہم عاشوراءکوشمارکرینگے ۔

اوراگرمسلمان یہ احتیاط چاہتا ہےکہ عاشوراءکا روزہ قطعی طورپرصحیح ہوتووہ دودن کا مسلسل روزہ رکھے ۔اسےچاہئےکہ وہ شمارکرے کہ ، اگرذوالحجہ انتیس یوم کاہو توعاشوراءکب ہوگااوراگرذوالحجہ تیس کاہوتو پھرعاشوراء کب ہوگاتوان دونوں دنوں میں وہ روزے رکھ لےتواس طرح وہ عاشوراءکویقینی اورقطعی طور پر پالےگا ۔

تواس حالت میں یاتواس نےنواوردس محرم کاروزہ رکھایاپھردس اورگیارہ کاتودونوں ہی ٹھیک ہیں اوراگروہ نومحرم کاروزہ رکھنےمیں بھی احتیاط چاہتاہے توہم اسےیہ کہیں گےکہ دودن وہ جن کاذکراوپرکیاگیاہےاورایک دن اس سے پہلےروزہ رکھ لےاس طرح اس نےنو، دس اورگیارہ محرم کاروزہ یاپھرآٹھ ، نواوردس کاروزہ رکھا ۔ان دونوں حالتوں میں تاکیدی طورپرنواوردس محرم کاروزہ رکھاجائےگا ۔

اوراگرکوئي یہ کہےکہ میں اپنےخاص مسائل ، کام کاج اورذاتی ( مصروفیات ) کی بناپرصرف ایک روزہ ہی رکھ سکتاہوں ،توکونسادن افضل جس میں روزہ رکھوں توہم اسے یہ کہیں گے :

ذوالحجہ کوتیس یوم مکمل کریں پھراس کےبعددس دن شمارکرکےروزہ رکھ لو۔

یہ مضمون میں نےاپنےشیخ اوراستادعلامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ تعالی سےجب اس کےمتعلق پوچھاگیاتوسنا ۔

اوراگرکسی ثقہ مسلمان کی طرف سےہمیں محرم کاچانددیکھ کرتعیین کرنےکی خبرملےتوہم اس پرعمل کریں گےاورمحرم میں روزہ رکھناعمومی طورپرسنت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( رمضان کےبعدسب سےافضل روزے اللہ تعالی کےمہینہ محرم کےروزے ہیں )

صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(1163)

واللہ اعلم

1013-اگرعاشوراء کے روزہ کی دن میں نیت کرلی جائے تو کیاعاشوراء کا اجرملے گا


س-مجھے عاشوراء کے روزہ کی فضیلت کا علم ہے کہ اس سے گذشتہ ایک برس کے گناہ معاف ہوتےہیں ، لیکن ہمارے ہاں میلادی تاریخ رائج ہے جس وجہ سے مجھے عاشوراء کا علم صرف اسی دن ہوتا ہے ، تواگر میں نے اس دن کچھ بھی نہ کھایا ہواورروزہ کی نیت کرلوں توکیا میرا روزہ صحیح ہوگا ، اورکیا مجھے عاشوراء کے روزے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی ؟

الحمدللہ

اللہ وحدہ لاشریک کا شکر ہے جس نے آپ کو نوافل کی ادائيگی اور اطاعت کرنے میں آسانی پیدا فرمائي اوراس کا حریص بنایا ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ ہمیں اورآپ کواس پر ثابت قدم رکھے ۔

آپ نے روزہ کی نیت کے بارہ میں سوال کیا ہے کہ آیا رات کوہی کرنی چاہیے یا دن کوبھی کی جاسکتی ہے ہم اس کے بارہ میں گزارش کریں گے کہ نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے نفلی روزے کی نیت دن کو بھی کی تھی ۔

اس لیے اگرکوئي شخص فجر کےبعد کچھ بھی نہیں کھاتا تواس کے لیے نفلی روزہ کی نیت کرنی جائز ہے جیسا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کے پاس تشریف لائے اورکہنے لگے کیا آپ کے پاس کچھ کھانے پینے کی چيز ہے ؟

توگھر والے کہنے لگے ہمارے پاس تو کچھ نہیں ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھرمیرا روزہ ہے ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1154 - 170 )

حدیث میں لفظ ( اذن ) ظرف زمان ہے جس کا معنی یہ ہے کہ میں اس وقت روزہ سے ہوں ، جواس بات کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ کی نیت دن کوبھی کی جاسکتی ہے ، لیکن فرضی روزہ کی نیت رات کوہی کرنی ہوگی کیونکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جوبھی فجر سے قبل روزے کی نیت نہیں کرتا اس کا روزہ ہی نہیں ) سنن ابوداود ( 2454 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 726 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6535 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے اوراس حدیث میں فرضی روزہ مراد ہے ۔

لھذا اس بنا پرآپ کا روزہ صحیح ہے ، اب رہا مسئلہ یہ کہ آیا اس روزے کا پورے دن کا اجروثواب حاصل ہوگا یا کہ نیت کے وقت سے ؟

اس کے بارہ میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

اس مسئلہ میں علماء کرام کے دو قول ہیں :

اول : اسے دن کے شروع سے ہی اجروثواب حاصل ہوگا کیونکہ شرعی روزہ تودن کے شروع سے ہوتا ہے ۔

دوم : اسے نیت کے وقت سے ثواب حاصل ہوگا ۔

اگر وہ زوال کے وقت نیت کرتا ہے تو اسے نصف دن کا اجر ملے گا ، اوریہی قول صحیح ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اورہرایک شخص کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے ) ۔

اوراس شخص نے نیت تو دن میں کی ہے لھذا اس کا اجر بھی نیت کے وقت سے حاصل ہوگا ۔

لھذا راجح قول کی بنا پر اگر روزے کا اطلاق یوم پرہوتا ہے مثلا پیر ، جمعرات ، ایام بیض یعنی تیرہ چودہ اورپندرہ تاريخ کے روزے اور ہرمہینہ کے تین روزے وغیرہ کی نیت وہ دن کے وقت کرے تواسے اس دن کا ثواب حاصل نہیں ہو گا ۔ دیکھیں شرح الممتع ( 6 / 373 ) ۔

اورجوشخص عاشوراء کے روزے کی نیت فجر کے بعد کرے تواسے وہ فضیلت حاصل نہيں ہوگي جواحادیث میں بیان کی گئي ہے کہ اس سے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ اس پریہ صادق نہیں آتا کہ اس نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا ہے بلکہ اس نے تودن کا کچھ حصہ روزہ رکھا ہے جوکہ اس کی نیت کے وقت سے شروع ہوا تھا ۔

لیکن یہ ہے کہ اسے وہ عمومی اجروثواب حاصل ہوگا جومحرم کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حاصل ہوتا ہے کیونکہ رمضان المبارک کے مہینہ کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہی ہيں جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث نمبر ( 1163 ) میں بیان کیا گيا ہے ۔

یوم عاشوراء اورایام بیض وغیرہ کے بارہ میں آپ اوراسی طرح دوسرے لوگوں کا بے علم ہونے کا سب سے بڑا سبب میلادی تاریخ کا رواج ہے ، جس کی بنا پر اس کاعلم اسی دن ہوتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ شائد اس طرح کے فضائل کا حاصل نہ ہونا آپ اوردوسروں کے لیے طریق مستقیم پر چلنے اورتاریخ ھجری پر عمل کرنے کا با‏عث بنے جواللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کی ہے اوراسے اپنے دین کےلیےاختیار فرمایا ہے ۔

اگرچہ وہ تاریخ ھجری کواپنے خاص اعمال اورآپس میں معاملات تک ہی محدود رکھیں تاکہ تاریخ ھجری کا احیاء ہوسکے اورشرعی مناسبات ومحافل یادہانی اوراہل کتاب کی مخالفت بھی ہوسکے کیونکہ اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ، اسی طرح ہماری اوران کی خصوصیات وشعائر میں تمیز بھی ہونی ضروری ہے اورخاص کر قمری تاریخ جوکہ پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی رائج رہی ہے ، جیسا کہ یھودی یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اوراس کا علم قمری تاریخ سے ہی علم ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کونجات دی تھی ، تواس طرح یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قمری تاریخ تھی ہی رائج تھی نہ کہ شمسی تاریخ جوآج معروف ہے ۔

دیکھیں شرح الممتع ( 6 / 471 ) ۔

ہوسکتا ہے کہ اس طرح کے اجروثواب کے ضائع ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی آپ اورآپ جیسے دوسروں کو خیروبھلائی کا حریص بنا دے ، وہ اس طرح کہ اس اجر وثواب کے ضائع ہونے کی وجہ سے دل میں جو احساسات پیدا ہوں گے وہ اس میں اعمال صالحہ کرنے کی جدوجھد پیدا کریں گے جس کی بنا پر کئي قسم کی اطاعت کرنے کی وجہ سے دل پر ایک اچھا اثر ہوگا ۔

اس کا اثر بعض اوقات کسی معین اطاعت سے بھی زيادہ ہوتا ہے جسے بعض لوگ کرتے ہیں اورپھر اس میں سستی وکاہلی کا شکار ہوتے اوربعض اوقات تو وہ اس کی وجہ سے غروروفخر کرنے لگتے اوراللہ تعالی پر احسان تک جتلانے سے بھی باز نہیں آتے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اپنے فضل وکرم سے اجروثواب عطا فرمائے اوراپنے ذکر و شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔

واللہ اعلم

1010-صرف اکیلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم


س-کیا میں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

الحمدللہ

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

یہی سوال لجنۃ الدائمۃ سے کیاگيا تواس کا جواب تھا :

یوم عاشوراء کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے ، لیکن افضل اوربہتر یہ ہے کہ اس سے دن قبل یا بعد میں بھی روزہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ سنت طریقہ ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1134 ) ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ : دس کے ساتھ نومحرم کا بھی ۔

اللہ تعالی کی توفیق بخشنے والا ہے ۔

دیکھیں : اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ الافتاء ( 11 / 401 ) ۔

واللہ اعلم

1009-نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت علم ہوا کہ یہودی بھی عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں؟


س-کیا ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کے متعلق آخری سال میں ہی علم ہوا تھا کہ وہ بھی عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں؟ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو میں نو محرم کا روزہ رکھوں گا) مسلم

الحمد للہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آمد کے پہلے سال میں  ہی عاشورا کا روزہ رکھا تھا اور آپ تسلسل کے ساتھ عاشورا کا روزہ رکھتے چلے آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخر میں یہودیوں کی مخالفت کا ارادہ فرمایا اس کیلیے آپ نے دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم فرمایا، عاشورا کے روزے سے متعلق وارد احادیث سے یہ بات واضح ہے۔

چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا اور فرمایا: (یہ کیسا روزہ ہے؟) تو انہوں نے کہا: "یہ نیک دن ہے اس دن میں اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دلائی تھی اور اس دن موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر تو موسی علیہ السلام کے ساتھ میرا تم سے زیادہ تعلق ہے) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ خود بھی رکھا اور دوسروں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی" بخاری: (2004)

اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ: "جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کا روزہ خود بھی رکھا اور دوسروں کو بھی عاشورا کا روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی تو صحابہ کرام نے کہا: "اللہ کے  رسول! اس دن کی تو یہودی اور عیسائی بھی تعظیم کرتے ہیں!" تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر آئندہ سال تو ہم نو محرم کا روزہ رکھیں گے) ابن عباس کہتے ہیں: "آئندہ سال آنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی" مسلم: (1134)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کے دن کا روزہ وفات سے  ایک سال پہلے خود بھی رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، جبکہ پہلی حدیث میں ہے کہ روزہ رکھنے اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم مدینہ تشریف آوری کے وقت  دیا گیا تھا" انتہی
"زاد المعاد" (2/67)

اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث کے بارے میں "زاد المعاد" (2/81) کے اندر مزید کہتے ہیں:
"یہ یقینی امر ہے کہ یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا ہے تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتدائی زندگی میں یہ پسند کرتے تھے کہ جن معاملات میں کوئی خاص حکم نہیں ہے ان میں اہل کتاب کی موافقت کی جائے" انتہی

اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"پھر جب وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس دن کی یہودی اور عیسائی بھی تعظیم کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 محرم کے دن کے ساتھ ایک اور دن کا روزہ رکھ کر ان کی مخالفت کا حکم دیا اور خود بھی اس پر عمل کرنے کا عزم فرمایا۔۔۔" انتہی
"اقتضاء الصراط المستقيم" (1/87)

واللہ اعلم.

1007-عاشورا کے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں ، کبیرہ گناہ کیلئے توبہ ضروری ہے


سوال: اگر میں شرابی ہوں ،پھر میں نیت کر لوں کہ 9 اور 10 محرم کے روزے رکھوں گا ،کیا مجھے ان روزوں کا ثواب ملے گا ،اور اگر ملے گا تو کیا میرے سابقہ اور آئندہ سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ؟

الحمد للہ:

اول:

اللہ تعالی دو سال کے گناہ عرفہ کے روزے سے معاف فرماتا ہے   صیام عاشورا سے  نہیں، عاشورا  کے روزوں سے ایک سال کے گنا ہ معاف ہوتے ہیں ۔

عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کے لئے سوال نمبر:(340)اور عاشورا کے روزوں کی فضیلت کے لئے سوال نمبر: (998) کے  جوابات دیکھیں۔

دوم:

شراب نوشی کبیرہ گناہ ہے ،اگر اس کی عادت ہو تو یہ مزید سنگین اور بڑا جرم ہے ؛ کیونکہ  شراب نوشی تمام خباثتوں کی جڑ اور برائیوں کا دروازہ  ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب سے تعلق رکھنے والے دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے ، چنانچہ ترمذی (1295)  میں جناب انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی :  اس کو تیار کرنے والے پر ، جس کے لئے تیار کی گئی،  پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی گئی، پلانے والے پر ، بیچنے والے پر،  اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور جس کے لئے خریدی گئی"
اسے البانی نے "صحیح ترمذی " میں صحیح کہا ہے ۔
لہذا اسے چھوڑنا اور اس کی عادت سے توبہ تائب ہونا اور اللہ کی طرف متوجہ ہونا واجب ہے ۔

نیز عرفہ اور عاشورا کے روزے سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے پکی توبہ ضروری ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ یوم عرفہ کے روزے سے دو سال اور عاشورا کے روزے سے ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں ، لیکن آپ کے یہ فرمانے سے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں یہ لازم نہیں آتا کہ کبیرہ گناہ بھی بلا توبہ معاف ہو جاتے ہیں ؛کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے کہ: (ایک جمعہ سے اگلے جمعہ اور ایک رمضان سے  اگلے  رمضان تک کے گناہ اس  جمعہ اور روزے سے معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے)
اور یہ بات معلوم ہے کہ نماز ،روزوں سے افضل ہے اور رمضان کے روزے ،عرفہ کے دن کے روزوں سے افضل ہیں ،اور یہ روزے اور نماز بھی اس وقت گناہوں کی معافی کا سبب بنتے ہیں جبکہ کبائر سے اجتناب کیا جائے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ شرط لگائی ہے ؛تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے  کہ ایک یا دو نفلی روزے ،زنا ،چوری ،شراب نوشی، جوا اور جادو وغیرہ جیسے کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جائیں ؟لہذا ایسا ممکن نہیں ہے" انتہی
"مختصر الفتاوی المصریہ" (1/254)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بعض کہتے ہیں عاشورا کا روزہ سال کے سارے گناہ مٹا دیتا ہے ،اور عرفہ کے روزے سے اجر میں اضافہ ہو جاتا ہے ،اس  غافل کو یہ علم نہیں کہ رمضان کے روزے ،اور نماز پنجگانہ، عرفہ اور عاشورا کے روزے سے افضل اور برتر ہیں ،اور یہ اپنے درمیان کے گناہ کی معافی کا اس وقت سبب بنتے ہیں جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے، چنانچہ ایک رمضان سے لیکر دوسرے رمضان تک اور ایک جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا یہ اس وقت تک سبب نہیں بن سکتے جب تک  کہ ان کے ساتھ کبائر سے اجتناب کے عمل کو شامل نہ کیا جائے ،چنانچہ دونوں امور[صوم و صلوۃ اور اجتناب کبائر]کا مجموعہ مل کر ہی صغیرہ گناہوں کی بخشش کا سبب بنے  کے قابل ہوتے ہیں۔
لہذا ایک دن کا نفلی روزہ کیسے بندے کے سارے کبیرہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ وہ اس کبیرہ پر مصر بھی ہے اور اس سے توبہ بھی نہیں کی ؟ایسا ناممکن ہے ۔
البتہ یہ ممکن ہے کہ عرفہ اور عاشورا کا روزہ عمومی طور پر سال کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو، اور یہ حدیث ان وعدے والی نصوص میں سے ہو جس کے لئے کچھ شرائط اور موانع ہیں ،اور سائل آدمی کا گناہ پر دوام اور اڑے رہنا گناہوں کی معافی کے لئے رکاوٹ ہوگا، چنانچہ اگر کبیرہ پر مصر نہیں ہے تو روزہ اور عدم اصرار مل کر ایک دوسرے کے تعاون سے صغیرہ و کبیرہ تمام گناہوں کو مٹا دیں ،جیسا کہ رمضان اور نماز پنجگانہ، کبائر سے  اجتناب کیساتھ مل کر اور ایک دوسرے کی معاونت  سے صغائر کو مٹا دیتے ہیں؛ کیونکہ  اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ}
ترجمہ: اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو  تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ مٹا دیں گے [النساء : 31]
اب یہ بات واضح رہے کہ کسی چیز کو گناہوں کی معافی کا سبب بنانا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ وہ کسی اور سبب سے مل کر گناہوں کی معافی کا سبب بنے ،اور گناہوں کی معافی کے دو اسباب سے ملنے والی معافی تنہا سبب کی بہ نسبت زیادہ قوی اور کامل ہو گی ، جس قدر  گناہوں کی معافی کے اسباب قوی ہوں گے گناہ اتنے ہی زیادہ گناہ معاف ہوں گے اور اچھی طرح گناہوں کی صفائی ہو گی" انتہی
"الجواب الکافی" صفحہ:(13)

اور امام ترمذی (1862) نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:( اللہ تعالی شراب پینے والے کی چالیس دن  کی   نماز قبول نہیں فرماتا، تاہم اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  ،اور اگر وہ دوبارہ شراب نوشی کرے تو اس کی چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ،پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  ،پھر اگر تیسری بار پیے تو چالیس دنوں تک نماز قبول نہیں ہوتی ، لیکن اگر توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ،اگر وہ چوتھی مرتبہ بھی شراب  پیے تو اللہ تعالی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا، اگر وہ  توبہ نہ کرے تو اللہ اسے نہر خبال( ہلاکت وبربادی کی نہر) سے پلائے گا)
اسے البانی نے "صحیح ترمذی" میں صحیح کہا ہے ۔

مبارکپوری رحمہ اللہ "تحفۃ الاحوذی" میں کہتے ہیں:
"اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ : صرف نماز کو اس لئے ذکر کیا ہے  کیونکہ یہ تمام بدنی عبادات میں سے افضل ترین ہے ،جب یہ قبول نہیں تو دیگر عبادات تو بالاولی قبول نہیں ہوں گی "
" تحفۃ الأحوذی "(5/ 488)  کچھ اختصار کیساتھ

عراقی اور مناوی رحمہما اللہ نے بھی یہی کہا ہے ۔

اس بارے میں مزید کیلئے سوال نمبر (1005) کے جواب کا مطالعہ کریں۔

اگر شراب نوشی کی عادت سے  فرض عبادات قبول نہیں تو عاشورا کا روزہ کیسے قبول ہو سکتا ہے؟ نیز سال کے گناہوں کا کفارہ کیسے بن سکتا ہے ؟

چنانچہ آپ پر ضروری ہے کہ جلدی سے پکی اور سچی توبہ کریں  ،اور شراب نوشی کی عادت سے باز آ جائیں ،اور اپنی  کوتاہی کا تدارک کر کے ،نیک اعمال کثرت سے کریں ،اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی توبہ قبول فرمائے گا اور آپ کی کوتاہی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے  کے سنگین گناہ سے درگزر فرمائے گا ۔

سوم:

یہاں  ہماری گفتگو عرفہ اور عاشورا کے روزے اور دیگر نفل نماز ،روزہ ،صدقہ اور قربانی وغیرہ پر مشتمل نیکی کے اعمال جو آپ کرنا چاہیں کریں، اس کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے؛ کیونکہ شراب نوشی، نیکی کے اعمال سے منع نہیں کرتی ۔

اور کبیرہ گناہ کے ارتکاب کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نیکی اور بھلائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بالکل دور ہی کر لیں ؛ کیونکہ  اس طرح آپ  معاملے کو مزید سنگین کر دیں گے ، اس لیے آپ توبہ کریں اور قبیح  عادت کو جلدی سے ترک کر دیں، بھلائی کے کام کثرت سے کریں ،اگرچہ آپ نفس کے سامنے مغلوب ہو بھی جائیں اور آپ  سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے ۔

اس لیے کہ عمل کا درست ہونا اور اس کا قبول ہونا الگ بات ہے اور سال یا دو سال کے گناہوں کی معافی کی خصوصی فضیلت الگ چیز ہے ۔

جعفر بن یونس کہتے ہیں : ہم شام  کے قافلے میں تھے ،راستے میں بدو ملے تو قافلے والوں کو انہوں نے پکڑ لیا ،اور قافلے کو امیر کے سامنے پیش کر دیا، انہیں ایک تھیلی قافلے والوں کے پاس سے ملی جس میں چینی اور بادام تھے ،لوگوں نے اس میں سے کھانا شروع کر دیا لیکن امیر نے اس میں سے کچھ نہ لیا !!  میں نے پوچھا:
آپ  کیوں نہیں کھاتے ؟
اس نے جواب دیا: میں روزے سے ہوں !
میں نے کہا: آپ رہزنی کرتے ہیں ،لوگوں کے مال چھینتے ہیں ،اور ناحق لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہو؟
اس نے جواب دیا: جناب! میں رب سے  صلح کے لئے راستہ باقی رکھتا ہوں!!
پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں نے اسے احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ،میں نے پوچھا :آپ وہی ہیں ؟
اس نے کہا: [ہاں میں وہی ہوں اور]یہ روزہ ہی تھا جس نے مجھے اس مقام تک پہنچا دیا !!

" تاریخ دمشق "(66/52)

مزید کیلئے سوال نمبر : (1006)کے جواب کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

1003-محرم میں کثرت سے نفلی روزے رکھنے کی فضیلت


َس-کیا محرم میں کثرت سے نفلی روزے رکھنا سنت ہے ، اور کیا اس مہینہ کو دوسرے مہینوں پر کوئي فضیلت حاصل ہے ؟

الحمدللہ

محرم کا مہینہ قمری مہینوں میں پہلا اورحرمت والے مہینوں میں سے ایک حرمت والا مہینہ ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یقینا اللہ تعالی کے ہاں کتاب اللہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا فرمایا ہے ، ان میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، یہی درست اورصحیح دین ہے ، تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو } التوبۃ ( 36 ) ۔

امام بخاری اورامام مسلم نے ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( آسمان وزمین کے پیدا ہونے سے ہی زمانہ اپنی حالت وہیئت پر گھوم رہا ہے سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں سے چار حرمت وادب والے ہیں ، تین تو مسلسل ہیں ذولقعدہ ، ذوالحجۃ ، اورمحرم ، اورمضرکا رجب جوجمادی الثانی اورشعبان کے مابین ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3167 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1679 ) ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے یہ بھی ثابت ہے کہ رمضان المبارک کے بعد محرم کےمہینہ میں روزے افضل ہیں ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے محرم کے مہینہ کے رروزے ہیں ، اورفرضی نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1163 ) ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( اللہ تعالی کا مہینہ ) مہینہ کی اضافت اللہ تعالی کی طرف تعظیما ہے ، ملا علی قاری کہتے ہيں : اس سے پورا محرم کا مہینہ مراد ہے ۔

لیکن احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے روزے نہيں رکھے ، لھذا اس حدیث کو محرم کے مہنیہ میں زیادہ روزے رکھنے کی ترغیب پر محمول کیا جائے گا نہ کہ پورے مہینہ کے روزے رکھنے پر ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...