Showing posts with label ذبائح اھل الکتاب. Show all posts
Showing posts with label ذبائح اھل الکتاب. Show all posts

Saturday, August 18, 2018

٥٦٢- كيا جانور ذبح كرنے سے قبل اسے بےہوش كرنے كى حرمت قرآن مجيد ميں موجود ہے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

بہت سارے ممالك ميں جانور ذبح كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ جانور كے سر ميں ضرب لگائى جاتى ہے يا پھر اسے بجلى كا كرنٹ لگائے جانے كے بعد اسے ذبح كرتے ہيں، تو كيا اس طريقہ سے ذبح كرنا حلال ہے، يہ علم ميں رہے كہ بعض لوگ كہتے ہيں جانوروں كو بےہوش كرنے كىحرمت كى قرآن مجيد ميں كوئى نص نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر تو جانور كے سر ميں ضرب لگا كر يا پھر اسے كرنٹ لگايا جائے تو ذبح كرنے سے قبل ہى وہ جانور مر جائے تو يہ موقوذۃ يعنى ضرب سے مرنے والے جانور ميں شمار ہوتا ہے، چاہے بعد ميں اس كى گردن كاٹ بھى دى جائے يا اسے نحر بھى كيا جائے ( نحر يہ ہے كہ اس كے حلق كے نيچے چھرى مارى جائے ) تو اسے كھايا نہيں جا سكتا، اللہ سبحانہ و تعالى نے اسے درج ذيل فرمان ميں حرام كيا ہے:

{ تم پر حرام كيا گيا ہے مردار اور خون اور خنزير كا گوشت اور جس پر اللہ كے سوا دوسرے كا نام پكارا گيا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جو كسى ضرب سے مر گيا ہو، اور اونچى جگہ سے گر كر مرا ہو اور جو كسى كے سينگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے درندوں نے پھاڑ كھايا ہو، ليكن اسے تم ذبح كر ڈالو تو حرام نہيں }المآئدۃ ( 3 ).

علماء اسلام كا اجماع اور اتفاق ہے كہ اس طرح كا ذبح حرام ہے، اور اگر مذكورہ طريقہ سے بےہوش كرنے كے بعد اس ميں جان ہو اور اسے ذبح يا نحر كر ليا جائے تو اسے كھانا جائز ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اس آيت ميں فرمايا ہے:

{ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جو كسى ضرب سے مر گيا ہو، اور اونچى جگہ سے گر كر مرا ہو اور جو كسى كے سينگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے درندوں نے پھاڑ كھايا ہو }

تو اس كے بعد فرمايا:

{ مگر جسے تم ذبح كر لو }.

اللہ سبحانہ و تعالى نے ان حرام كردہ سے اسے استثنى كيا ہے جسے زندہ حالت ميں پا ليا جائے اور اسے زندہ حالت ميں ہى ذبح كر ليا گيا ہو، تو اسے ذبح كرنے كى تاثير كى بنا پر كھايا جائيگا، ليكن اس كے بخلاف جو بےہوش كرنے كى بنا پر ذبح يا نحر كرنے سے قبل ہى مر جائے، كيونكہ اس كے حلال ہونے ميں ذبح كى كوئى تاثير نہيں.

اس سے يہ علم ہوا كہ قرآن مجيد نے ان جانوروں كو حرام كيا ہے جو بےہوش كرنے كى بنا پر ذبح كرنے سے قبل ہى مر جائيں، كيونكہ بےہوش كردہ جانور ضرب سے مرنے والا جانور ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى نے سورۃ المآئدۃ كى آيت ميں اس كو حرام قرار ديا ہے، ليكن اگر اسے زندہ پا ليا جائے اور زندہ ہونے كى صورت ميں ہى اسے ذبح يا نحر كر ليا جائے تو وہ حلال ہے.

دوم:

حيوان كو ضرب يا كرنٹ وغيرہ لگا كر بےہوش كرنا حرام ہے، كيونكہ اس ميں جانور كو اذيت اور عذاب ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جانور كو اذيت اورعذاب دينے سے منع فرمايا ہے، بلكہ جانور كے ساتھ رحم اور نرمى و شفقت كرنے كا حكم ديا ہے.

بلكہ خاص كر ذبح كرنے كے متعلق تو خاص كر اہتمام كرنے كا حكم ديا، امام مسلم رحمہ اللہ نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس ميں روح ہو اسے نشانہ بازى كا ہدف مت بناؤ "

اور امام مسلم رحمہ نے ہى جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كسى بھى جانور كو باندھ اور نشانہ بنا كر قتل كرنے سے منع فرمايا "

اور امام مسلم رحمہ اللہ نے ہى شداد بن اوس رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے ہر چيز پراحسان كرنا فرض كيا ہے، تو جب تم قتل كرو تو اس ميں بہترى اختيار كرو، اور جب ذبح كرو تو بہتر طريقہ سے كرو، اور تمہيں اپنى چھرى تيز كر لينى چاہيے اور اپنے ذبح كردہ جانور كو راحت پہنچائے "

اور اگر بے ہوش كيے بغير جانور ذبح كرنا ميسر نہ ہو تو پھر اس ميں شرط يہ ہے كہ بےہوش ہونے كے بعد مرے نہيں بلكہ اس ميں زندگى ہونى چاہيے اور زندہ ہونے كى صورت ميں اسے ذبح يا نحر كيا جائے تو ضرورت كى بنا پر بےہوش كرنا جائز ہے اھـ.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 456 - 457 ).

Friday, August 17, 2018

٥٥٧-كيا حلال ذبح كا دعوى كرنے والے غير مسلم قصائى سے گوشت خريد ليا جائے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اگر كوئى غير مسلم قصائى دعوى كرے كہ وہ گوشت اور مرغى حلال فروخت كرتا ہے تو كيا اس سے خريدارى كرنا جائز ہے؟
اور اگر ہمارے دوست و احباب اس سے گوشت خريدتے ہيں تو كيا ہمارے ليے يہ گوشت كھانا جائز ہے؟
يہ علم ميں رہے كہ ہمارے علاقے ميں مسلمان بھائيوں كى نگرانى ميں دو دوكانيں ہيں جو حلال گوشت فروخت كرتى ہيں ؟

الحمد للہ :

اول:

بہتر اور افضل تو يہى ہے كہ آپ اپنى ضرورت كا گوشت مسلمانوں سے خريديں؛ اس ميں زيادہ احتياط اور شك سے بچنے كا احتمال ہے، اور پھر اس ميں مسلمانوں كے ساتھ معاملات ميں معاونت بھى ہے جس كى انہيں يورپ جيسے ممالك ميں رہتے ہوئے ضرورت بھى ہے، پھر اس ميں بھى كوئى شك و شبہ نہيں كہ مسلمان شخص كو تجارتى نفع دينا كسى دوسرے كى بنسبت زيادہ بہتر اور افضل ہے.

اور مسلمان شخص كو اتنا ہى كافى ہے كہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائيوں كے ساتھ ايمانى رابطہ كى تجديد كو محسوس كرے اور اس كا شعور اجاگر ہو، اور يہ شعور اس وقت اجاگر ہوتا ہے جب كفار كى ملكيت دوكانوں سے دور رہا جائے اور انہيں ترك كيا جائے، اور ہو سكتا ہے يہ زيادہ قريب بھى ہو، اور ريٹ بھى دوسروں سے كم ملے، اس ليے اسے اپنى دينى بھائيوں سے خريدارى كرنى چاہيے.

آپ اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 555 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

اگر وہ غير مسلم قصائى اہل كتاب كے علاوہ كسى اور دين سے تعلق ركھنے والوں ميں سے ہے تو اس كا ذبيحہ حلال نہيں، ليكن اگر وہ اہل كتاب سے تعلق ركھتا ہے ؛ يعنى يہود يا عيسائى ہے تو اس كا ذبيحہ حلال ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اہل علم اہل كتاب كے ذبيحہ كے حلال ہونے پر متفق اور جمع ہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جنہيں كتاب دى گئى ہے ان كا كھانا تمہارے ليے حلال ہے ﴾ المآئدۃ ( 5 ).

يعنى ان كے ذبح كردہ جانور، امام بخارى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں: طعامہم سے مراد ان كے ذبح كردہ جانور ہيں ).

ديكھيں: المغنى لابن قدامہ المقدسى ( 13 / 293 ).

پھر ہميں تو ان سے پوچھنے كى ضرورت ہى نہيں كہ انہوں نے كس طريقہ سے ذبح كيا ہے؛ كيونكہ اصل ميں تو ان كا ذبح صحيح ہے، كيونكہ وہ اس كے اہل ہيں. مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 556 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

صحيح بخارى ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے حديث مروى ہے وہ بيان كرتى ہيں كہ:

" كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور كہنے لگے:

كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں، ہميں علم نہيں كہ انہوں نے اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہے كہ نہيں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم بسم اللہ پڑھو اور كھالو"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5507 ).

ميں كہتا ہوں ( يہ كلام شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كى ہے ): وہ ابھى نئے نئے مسلمان تھے؛ يعنى ( وہ ) ابھى وہ اسلام ميں جديد تھے، انہيں علم نہيں تھا كہ آيا انہوں نے اللہ كا نام ليا ہے كہ نہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم بسم اللہ پڑھ كر كھالو"

چاہے ہميں علم نہ ہو كہ اس ( ذبح كرنے والے ) نے اللہ كا نام ليا ہے يا نہيں؛ اسى طرح اس كا كھانا مباح ہے، اگرچہ ہميں يہ علم نہ ہو كہ اسے صحيح طريقہ كے ساتھ ذبح كيا گيا يا غير صحيح طريقہ پر؛ كيونكہ صادر ہونے والا فعل جب اس كے اہل سے صادر ہو تو اصلا وہ صحيح اور نافذ ہوتا ہے، ليكن اگر كوئى دليل مل جائے تو پھر نہيں.

لہذا اگر ہمارے پاس كسى مسلمان يا يہودى يا نصرانى كا ذبح كيا ہوا گوشت آ جائے تو ہم اس كے متعلق سوال نہيں كرينگے، اور يہ نہيں كہيں گہ يہ كس طرح ذبح كيا گيا؟ اور نہ ہى يہ كہ آيا اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہے يا نہيں ؟

جب تك اس كے حرام ہونے پر كوئى دليل قائم نہ ہو جائے وہ حلال ہے؛ اور يہ اللہ تعالى كى طرف سے آسانى اور رحمت ہے.

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 1 / 77 ) اختصار كے ساتھ.

تو اس سے يہ پتہ چلا كہ آپ كا اس دوكان سے خريدارى كرنا، اور اس سے خريدارى كرنے والے شخص كے ہاں سے كھانے ميں كوئى حرج نہيں، اور جب تك آپ كو يہ يقين نہ ہو جائے كہ اسے غير شرعى طريقہ پر ذبح كيا گيا ہے، آپ كو اس كى ضرورت نہيں كہ اس كے ذبح كا طريقہ معلوم كريں، مثلا بجلى كا جھٹكا لگا كر ذبح كرنا، يا كوئى اور غير شرعى طريقہ.

جيسا كہ بيان كيا جا چكا ہے كہ اولى اور بہتر يہى ہے كہ مسلمان كى دوكان سے خريدا جائے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم

٥٥٤-غير ملك ميں رہنے والے كو شرعى ذبح كردہ گوشت نہ ملنے كى صورت غير شرعى ذبح كردہ كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں غير ملك ميں تقريبا ڈيڑھ برس سے زير تعليم ہوں، يہاں حلال ذبح كردہ گوشت نہيں ملتا، تو كيا مجھے وہ گوشت كھا لينا چاہيے يا نہيں، يہ علم ميں رہے كہ ذبح كرنا ممنوع ہے ؟

اول:

جو تعليم آپ غير ملك ميں حاصل كر رہے ہيں اگر تو وہ مسلمانوں كے ملك ميں موجود ہے تو آپ كے ليے كفريہ ممالك ميں اس تعليم كى غرض سے جانا جائز نہيں اور بغير ضرورت يا علاج يا تجارت يا دعوت دين يا ايسى تعليم جو مسلمان ممالك ميں متوفر نہيں اور اس تعليم كے بغير چارہ بھى نہيں اس كى غرض سے وہاں رہنا جائز نہيں.

ليكن يہاں ايك انتباہ كيا جاتا ہے كہ تعليم كے معاملات شرعى ہوں يعنى اس ميں مرد و عورت كا اختلاط نہ ہو، ليكن شائد ان يورپى ممالك ميں جو عورت سے شرم و حياء كو اتار پھينكنا چاہتے ہيں، اور اخلاق كو تباہ اور ہولناك امراض پھيلانے كى كوشش ميں رہتے يہ نادر بلكہ بالكل معدوم ہو.

مزيد آپ سوال نمبر ( 551 ) اور ( 552 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

اگر آپ وہاں چلے بھى جائيں تو آپ كے ليے ايسا گوشت كھانا جائز نہيں جو شريعت اسلاميہ كے مطابق ذبح نہ كيا گيا ہو، اور شرعى طريقہ سے ذبح كردہ گوشت كى عدم موجودگى اور نہ ملنا آپ كو معذور نہيں بناتا كہ آپ غير شرعى كھا ليں، كيونكہ آپ كے ليے سمندرى گوشت مچھلى وغيرہ كھانا ممكن ہے، اور اسى طرح آپ گوشت كى بجائے سبزيات اور داليں وغيرہ كھا سكتے ہيں اور آپ كے ليے يہ بھى ممكن ہے كہ آپ اسلامى مراكز تلاش كريں جہاں مسلمانوں كے ليے حلال گوشت متوفر ہو.

مزيد آپ سوال نمبر ( 553 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...