Showing posts with label دعا کرنا. Show all posts
Showing posts with label دعا کرنا. Show all posts

Friday, August 17, 2018

٥٢٦-جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں تفصیلی گفتگو، اور دعا کیلئے آخری سجدہ کو لمبا کرنے کا حکم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں ہر جمعہ کو غروبِ آفتاب سے قبل -جس کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے- مسجد میں جان بوجھ کر داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرتا ہوں؛ پھر دوسری رکعت کے آخری سجدہ کو غروب آفتاب تک لمبا کرتا ہوں، اور اس دوران سجدے کی حالت میں دعا ہی کرتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے، اور قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں، اور بسا اوقات اگر کسی سببی نماز کا وقت نہ ہو ، یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے، ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے آکر میرے ذہن میں اس عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے، اور اس عمل کے بارے میں "بدعت" ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ تو کیا میرا یہ عمل بدعت ہے؟ حالانکہ میری نیت یہی ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی تلاش کی جائے، اور میں سجدے کی حالت میں اللہ سے دعا مانگوں، تو اس طرح قبولیت کیلئے دو امکانات ہونگے، اس عمل کیلئے میری نیت یہ ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی تلاش کروں۔

الحمد للہ:

اول:

علمائے کرام نے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کو متعین کرنے کیلئے متعدد اور مختلف آراء دی ہیں، ان تمام آراء میں دلائل کے اعتبار سے ٹھوس دو اقوال ہیں:

1- یہ گھڑی جمعہ کی آذان سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے۔

2- عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک ہے۔

ان دونوں اقوال کے بارے میں احادیث میں دلائل موجود ہیں، اور متعدد اہل علم بھی ان کے قائل ہیں۔

*الف- پہلے قول کی دلیل : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں کہتے ہوئے سنا: (یہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے) مسلم: (853)

اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"سلف صالحین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا قول راجح ہے، چنانچہ بیہقی نے ابو الفضل احمد بن سلمہ نیشاپوری کے واسطے سے ذکر کیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ کے بارے میں صحیح ترین اور بہترین ہے" اسی موقف کے امام بیہقی، ابن العربی، اور علمائے کرام کی جماعت قائل ہے۔

اور امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث اختلاف حل کرنے کیلئےواضح ترین نص ہے، چنانچہ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔

اور امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: یہی موقف صحیح ہے، بلکہ درست بھی یہی ہے، امام نووی نے اپنی کتاب: "الروضہ" میں ٹھوس لفظوں میں اسی کو درست قرار دیا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو مرفوع اور صریح قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ روایت صحیح مسلم کی ہے" انتہی

" فتح الباری " ( 2 / 421 )

*ب- دوسرے موقف کی دلیل جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ کا دن بارہ پہر[گھڑیوں ]پر مشتمل ہے، ان میں سے ایک لمحہ ایسا ہے جس میں کوئی مسلمان اللہ تعالی سے کچھ بھی مانگے تو اللہ تعالی اُسے وہی عطا فرما دیتا ہے، تم اسے جمعہ کے دن عصر کے بعد آخری لمحہ میں تلاش کرو)

اس روایت کو ابو داود: (1048) اور نسائی : (1389) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے "صحیح ابو داود" میں اسے صحیح قرار دیا ہے، اسی طرح نووی نے "المجموع" (4 / 471) میں صحیح کہا ہے۔

جبکہ اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، جن میں سب سے پہلے دو صحابی ابو ہریرہ، اور عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"دیگر علمائے کرام عبد اللہ بن سلام کے قول کو راجح قرار دیتے ہیں، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ : "اکثر احادیث اسی موقف کی تائید کرتی ہیں"

ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس مسئلہ میں مضبوط ترین یہی موقف ہے"

اور اسی طرح سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے صحیح سند کیساتھ نقل کیا ہے کہ : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایک جگہ جمع ہوئے، اور جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی، تو مجلس ختم ہونے سے پہلے سب اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ یہ جمعہ کے دن کے آخری وقت میں ہے"

متعدد ائمہ کرام بھی اسی موقف کو راجح قرار دیتے ہیں، مثلا: امام احمد، اسحاق، اور مالکی فقہائے کرام میں سے طرطوشی، اور علائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انکے استاد ابن زملکانی –جو اپنے وقت میں فقہ شافعی کے بڑے تھے- بھی اسی کے قائل تھے، اور وہ امام شافعی سے صراحت کیساتھ نقل بھی کرتے تھے" انتہی

"فتح الباری" (2/421)

ان دونوں گھڑیوں میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اکثر احادیث اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبولیت کی گھڑی عصر کی نماز کے بعد ہے، اور زوال کے بعد بھی قبولیت کی گھڑی کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے" اس قول کو امام ترمذی نے اُن سے نقل کیا ہے۔

" سنن ترمذی" ( 2 / 360 )

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"میرے نزدیک یہ ہے کہ: نماز کا وقت ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے، چنانچہ یہ دونوں [عصر کے بعد، اور جمعہ کی نماز کا وقت] قبولیت کے اوقات ہیں، اگر چہ عصر کے بعد کے وقت کو اس اعتبار سے خصوصیت حاصل ہے کہ یہ گھڑی آگے پیچھے نہیں ہوگی، جبکہ نماز کی گھڑی نماز کیساتھ منسلک ہے، تو نماز کے آگے پیچھے ادا کرنے سے اس گھڑی کا وقت بھی تبدیل ہوگا؛ کیونکہ مسلمانوں کے ایک جگہ جمع ہوکر ، اور اکٹھے خشوع و خضوع کیساتھ اللہ کی جانب رجوع کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کی بھی ایک تاثیر ہے، چنانچہ مسلمانوں کا یک جا جمع ہونا بھی ایک ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے"

چنانچہ اس تفصیل کیساتھ تمام احادیث کا مطلب ایک ہوسکتا ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان دونوں اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دلائی ہے" انتہی

"زاد المعاد" (1/394)

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"مسلم کی کچھ روایات میں یہ ہے کہ یہ گھڑی: (جب جمعہ کے دن امام منبر پر بیٹھ جائے اس وقت سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے )، ابو موسی رضی اللہ عنہ کی روایت میں مرفوعاً ایسے ہی منقول ہے، جس کے بارے میں کچھ نے یہ کہا ہے کہ یہ ابو بردہ بن ابو موسی کی اپنی بات ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت نہیں ہے، جبکہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ثابت ہے۔

اسی طرح جابر بن عبد اللہ ، اور عبد اللہ بن سلام کی حدیث میں ہے کہ یہ گھڑی نماز عصر کے بعد سے لیکر غروبِ آفتاب تک ہے، جبکہ کچھ احادیث میں ہے کہ یہ گھڑی جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، یہ تمام روایات صحیح ہیں اور کوئی بھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہے، چنانچہ جس گھڑی کے بارے میں زیادہ امید اور توقع کی جاسکتی ہے وہ: منبر پر امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک، اور عصر کے بعد سے لیکر غروبِ آفتاب تک ہے، ان اوقات کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے، جمعہ کے دن کے باقی اوقات میں بھی قبولیت کی گھڑی کی امید لگائی جاسکتی ہے، لیکن زیادہ امید -جیسے کہ پہلے بھی بیان ہوا کہ – امام کے منبر پر بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک، اور نمازِ عصر سے لیکر غروبِ آفتاب تک ، کے بارے میں کی جاسکتی ہے۔

یومِ جمعہ کے بقیہ اوقات میں قبولیت کی گھڑی کے بارے میں امید کی دلیل وہ احادیث ہیں جن میں عمومی طور پر [یعنی تعین نہیں کیا گیا] جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ جمعہ کے پورے دن میں کثرت کیساتھ اس امیدسے دعا کرنی چاہئے کہ یہ مبارک گھڑی ہمیں نصیب ہوجائے، لیکن مذکورہ تین اوقات کو خصوصی اہمیت دی جائے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کیساتھ فرمایا ہے کہ یہ قبولیت کی گھڑی ہے۔ انتہی

" فتاوى شيخ ابن باز " ( 12 / 401 ، 402 )

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

جمعہ کے دن سب زیادہ جس وقت کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے وہ [جمعہ کی]نماز کا وقت ہے، اسکی متعدد وجوہات ہیں:

1- اس گھڑی کا ذکر صحیح مسلم میں ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہوا ہے۔

2- اس وقت میں مسلمان ایک ہی عبادت کیلئے ایک ہی شخص یعنی امام کی قیادت میں جمع ہوتے ہیں، اور مسلمانوں کا اس طرح جمع ہونا [شرفِ]قبولیت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

اسی لئے یومِ عرفہ کو جس وقت مسلمان ایک ہی میدان میں جمع ہوں، تو اللہ تعالی آسمان دنیا تک نازل ہوکر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے، اور مسلمانوں کی دعائیں بھی قبول فرماتا ہے۔

اس لئے بھائی جان! جمعہ کے وقت میں دعا کا اہتمام کرو، [سوال یہ ہے کہ] یہ گھڑی کب شروع ہوتی ہے، اور ختم ہوتی ہے؟ [جواب یہ ہے کہ] یہ گھڑی امام کے داخل ہونے سے شروع ہوتی ہے، اور نماز کے مکمل ہونے تک جاری رہتی ہے۔

[آئیں اور] ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اس دوران کس وقت دعائیں مانگیں: امام نے مسجد میں داخل ہوکر سلام کہا، اسکے بعد آذان ہوئی، آذان میں دعا نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مؤذن کا جواب دیا جاتا ہے، آذان کے بعد دعا ہے، *آذان اور خطبہ کے مابین دعا ہے، آپ آذان کے بعد کہو گے: (اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّداً الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامَاً مَحمُوداً الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ) *پھر اسکے بعد جب تک خطیب خطبہ شروع نہیں کرتاآپ کو کھلی چھٹی ہے، اللہ سے جو چاہو سو مانگو، *اسی طرح دو خطبوں کے درمیان اللہ سے دنیا و آخرت کی بھلائی کے متعلق جو چاہو سو مانگو، * ایسے ہی نماز کے دوران سجدہ میں دعا مانگو جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اپنے رب کے قریب ترین بندہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہو) اس لئے آپ سجدے کی حالت میں اللہ کے قریب ترین ہوتے ہو۔۔۔

٭ کیا نماز میں اسکے علاوہ بھی کوئی دعا کیلئے مقام ہے ؟ [جی ہاں!] تشہد کے بعد جیسے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ([تشہد کے بعد] جو چاہے دعا مانگے)اور حدیث میں ذکر " ما شاء " کے الفاظ جن کا مطلب ہے "جو چاہے" علمائے اصول کے ہاں عموم کا فائدہ دیتے ہیں۔

چنانچہ اس طرح ہمیں نمازِ جمعہ کے وقت قبولیت کی گھڑی کے ضمن میں متعدد مقامات مل سکتے ہیں، بھائی! اس موقع کو غنیمت جانیں، اور نماز جمعہ میں کثرت سے دعا ئیں کریں، شاید آپکو قبولیت کی گھڑی نصیب ہوجائے۔

یہاں اسی دن میں قبولیت دعا کا ایک اور موقع بھی ہے، اور وہ ہے: عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک، لیکن اس موقف کے بارے میں علمائے کرام میں ایک اشکال پیدا ہوگیا، انکا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (وہ شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہو) لیکن عصر کے بعد کوئی نماز ہوتی ہی نہیں ہے، تو اسکے بارے میں علمائے کرام نے جواب دیا کہ یہاں پر نماز کی انتظار کرنے والا شخص بھی نمازی ہی کہلائے گا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ : (جب تک کوئی کسی نماز کاانتظار کرے وہ نماز کی حالت ہی میں رہتا ہے)انتہی

"دروس وفتاوى حرم المدنی سن 1416 ہجری"

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: (وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي) یعنی: (وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہو) اور عصر کی نماز کے بعد کسی نماز کا وقت نہیں ہوتا تو آپ کے اس فرمان کے بارے میں دو احتمال ہوسکتے ہیں:

ا- کہ نماز کا انتظار کرنا بھی شرعی طور پر نماز ہی کہلاتا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے التماس کی کہ مجھے بتلاؤ یہ کونسی گھڑی ہے؟

تو عبد اللہ بن سلام نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔

پھر میں نے [اعتراض کرتے ہوئے] کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہوسکتی ہے؟! حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: (کوئی بھی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے اسے پا لے) اور یہ وقت نماز پڑھنے کا وقت نہیں ہے[کیونکہ اس وقت نفل نماز پڑھنا منع ہے]؟!

تو عبد اللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: (جو شخص کسی جگہ بیٹھ کر نماز کا انتظار کرے تو وہ اس وقت تک نماز میں ہے جب تک نماز ادا نہ کر لے)

ابو ہریرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

تو عبد اللہ نے کہا: یہاں [نماز سے ] یہی مراد ہے۔

اسے ترمذی: (491) ، أبو داود: (1046) ، اور نسائی: (1430) نے روایت کیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے "صحيح ابو داود" میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

ب- یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں "صلاۃ" کا لغوی معنی "دعا" مراد ہو۔

چنانچہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اس سے معلوم ہوا کہ نماز سے مراد یہاں پر دعا ہے، اور قیام سے مراد دعا میں تسلسل اور ہمیشگی مراد ہے، حقیقتِ قیام یہاں مراد نہیں ہے"

"عمدة القاری شرح البخاری" (6/242)

چنانچہ یہاں حدیث کے الفاظ(وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي) کا معنی ہوگا: وہ شخص اپنے لئے دعا لازم کر لیتا ہے۔ [یعنی بڑے اہتمام کیساتھ دعا مانگتا ہے]

چنانچہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد قبولیتِ دعا کی گھڑی تلاش کرنا چاہتا ہے اسکی متعدد صورتیں ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1- نمازِ عصر پڑھنے کے بعد مسجد سے باہر مت نکلے، اور دعا کرتا رہے، اور عصر کے وقت کے آخری لمحات میں زیادہ اہتمام سے دعا کرے، یہ سب سے اعلی ترین صورت ہے۔

اسی لئے سعید بن جبیر عصر کی نماز پڑھنے کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔

2- کہ مغرب سے کافی دیر قبل مسجد میں چلا جائے، اور تحیۃ المسجد ادا کرے، اور وقتِ عصر کے آخری لمحات تک دعا کرتا رہے، یہ درمیانے درجے کی صورت ہے۔

3- کہ انسان گھر میں یا کہیں بھی بیٹھ کروقتِ عصر کے آخری لمحات میں دعا کرے، اور یہ نچلے درجے کی صورت ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"جو شخص جمعہ کے دن اللہ سے دعا کیلئے آخری گھڑی تلاش کرنا چاہتا ہو تو کیا اس کیلئے لازم ہے کہ وہ اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے عصر کی نماز پڑھی تھی؟یا گھر میں ، یا کسی اور مسجد میں بھی دعا کرسکتا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"اس کے بارے میں وارد شدہ احادیث مطلق ہیں[یعنی ان میں اس قسم کی کوئی قید نہیں ہے]، اور جس شخص نے قبولیت کی گھڑی میں دعا مانگی تو امید ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں اس کی دعا قبول ہو گی، لیکن جو شخص مسجد میں مغرب کی نماز کیلئے انتظار بھی کرے تو یہ زیادہ مناسب ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہو) اسے بخاری نے روایت کیا ہے، چونکہ نماز کی انتظار کرنے والا بھی نمازی کے حکم میں ہوتا ہے، اس لئے [دعا کرنے والے شخص کا] نماز کی جگہ پر موجود ہونے سے قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، کیونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نمازی کے حکم میں ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص مریض ہوتو اپنے گھر میں رہ کر قبولیت کی گھڑی تلاش کرے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور خواتین بھی گھر میں اپنی نماز والی جگہ بیٹھ کر مغرب کی نماز کا انتطار کریں، اسی طرح مریض بھی اپنی جائے نماز میں مغرب کا انتظار کرے، اور جمعہ کے دن عصر کے بعد اللہ سے دعا مانگے تو اسکے لئے بھی قبولیتِ دعا کی امید کی جاسکتی ہے، [قبولیت کی گھڑی تلاش کرنے کا]شرعی طریقہ کار یہی ہےکہ جب دعا کا ارادہ بنائے تو جس مسجد میں اس نے [مغرب کی]نماز پڑھنی ہے اس مسجد میں وقت سے پہلے جا کر بیٹھ جائے اور نماز کا انتظار کرتے ہوئے دعا کرے"انتہی

" فتاوى الشيخ ابن باز " ( 30 / 270 , 271 )

چنانچہ مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں - محترم سائل- آپ جو کرتے ہیں دو طرح سے غلط ہے:

*ا- آپ نے حدیث سے یہ سمجھا کہ وہاں نماز سے مراد رکوع و سجود والی نماز مراد ہے، حالانکہ حدیث میں نماز سے مراد نماز کا انتظار ہے، یا اس وقت میں مسلسل دعا کرنا مراد ہے، جیسے کہ پہلے گزر چکا ہے۔

*ب- تحیۃ المسجد کی دوسری رکعت کے آخری سجدے کو لمبا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مخالف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار نماز میں یہ تھا کہ نماز کے سارے ارکان ایک دوسرے کے تقریبا برابر ہوتے تھے، اور سوال نمبر: (525) کے جواب میں پہلے گزر چکا ہے کہ نماز میں آخری سجدے کو دعا کی وجہ سے لمبا کرنا نبوی راہنمائی سے متصادم ہے۔

واللہ اعلم

Monday, August 13, 2018

٣٤٤-ایمان میں کمزوری کے اسباب اور علاج

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اگر کوئی شخص پہلے متقی پرہیز گار تھا، لیکن بعد میں اس کا ایمان اتنا کمزور ہو گیا کہ قرآن مجید کی تلاوت بھی نہیں کر سکتا تو اس کیلیے بہترین حل کیا ہو سکتا ہے؟

الحمد للہ:

ایمان میں کمزوری پیدا ہونے کے چند اسباب  ہیں ، لہذا علاج سے پہلے ان اسباب کو پہچاننا از بس ضروری ہے؛ کیونکہ ان اسباب کے متعلق جانکاری  بھی ایمان میں کمزوری کے علاج میں شامل ہے۔

ان اسباب میں سے کچھ یہ ہیں:

اللہ تعالی کے ساتھ تعلق کمزور ہو جائے، انسان اطاعت اور عبادت میں سستی کا شکار ہو جائے، نیکی کیلیے کمزور ہمت افراد کی صحبت اختیار کرے، دنیا میں مگن ہو کر آخرت بھول جائے، یہ حقیقت ذہن سے اوجھل ہو جائے کہ یہ دنیا فانی ہے، اسی طرح اللہ تعالی سے ملاقات کی تیاری  میں کمزوری آ جائے تو ان سے ایمان میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔

اطاعت اور بندگی کی راہ میں پیدا ہونے والے فتور اور کاہلی کا علاج  متعدد طریقوں سے ممکن ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1- اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط بنائے، اس کیلیے تدبر اور غور و فکر کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے، اللہ تعالی کی عظمت  قرآن مجید کی عظمت سے کشید کرے، اللہ تعالی کے عظیم اسما و صفات اور افعال کے متعلق غور و فکر کرے۔

2- کثرت کے ساتھ نوافل کی پابندی کرے، چاہے نوافل کی تعداد معمولی ہی کیوں نہ ہو؛ مسلمان عام طور پر سستی اور کاہلی کا  اس وقت شکار ہو جاتا ہے جب ابتدا میں بہت زیادہ  عبادت کرے اور بعد میں اس پر قائم نہ رہ سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ کار نہیں تھا، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسا کرنے کی نصیحت فرمائی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل "دائمی ہوتا تھا"، یعنی آپ کوئی بھی نیکی کرتے تو اس پر مداومت اور ہمیشگی فرماتے تھے، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی موجود ہے کہ: (اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین اعمال میں سے وہ ہیں جو دائمی کئے جائیں چاہے معمولی کیوں نہ ہوں) لہذا اگر کوئی مسلمان یہ چاہتا ہے کہ  وہ سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہو تو ایمان میں کمزوری نہ آئے تو وہ عمل معمولی ہی کرے لیکن ہمیشہ کرتا رہے؛ کیونکہ تسلسل کے ساتھ تھوڑا عمل غیر تسلسل کے زیادہ عمل سے بہتر ہے۔

3- نیکی کے معاملے میں چاک و چو بند  افراد کو دوست بنائیں؛ کیونکہ نیکی پر فریفتہ ہونے والے افراد کی وجہ سے آپ میں بھی جذبہ پیدا ہو گا، جبکہ سستی  اور کاہلی  کے شکار افراد کو ایسے لوگوں کی صحبت اچھی نہیں لگتی، اس لیے آپ ایسے دوستوں کو تلاش کریں جن کے اہداف بلند ہیں وہ حصولِ علم، قرآن و حدیث یاد کرنے اور دعوت الی اللہ کیلیے ہمہ تن مصروف رہتے ہیں؛ ایسے دوست آپ کو نیکی کی رغبت دیں گے اور آپ کو خیر کی بات بتلائیں گے۔

4- آپ مشہور مسلم  ہستیوں کے حالات زندگی پڑھیں تا کہ راہِ الہی  کے اعلی راہ رو آپ کے سامنے  ہوں اور آپ ان کے نقش قدم پر چلیں، اس کیلیے عربی کتب میں سے آپ "علو الهمة " از شیخ محمد بن اسماعیل المقدم اور اسی طرح  " صلاح الأمة في علو الهمة " از شیخ سید عفانی کا مطالعہ کریں۔

5- ہم آپ کو دعا کی خصوصی تاکید کرتے ہیں، خصوصاً رات کے آخری حصے  میں  اللہ تعالی سے دعا کریں؛ کیونکہ اس سے مانگنے والا کبھی ناکام یا نامراد نہیں ہوتا، جو بھی اللہ تعالی سے صراط مستقیم  پر ثابت قدمی مانگے ، اطاعت اور بندگی پر مدد و اعانت طلب کرتے تو  اللہ تعالی اس کی ضرور مدد فرماتا ہے۔

ہم بھی اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ آپ کو اپنی رضا کے کام کرنے کی توفیق سے نوازے، آپ کو بہترین اخلاق، اعمال، اور زبانی عبادات کی توفیق دے۔

واللہ اعلم

٣٢٦-جس ملک کا مطلع مکہ سے مختلف ہو وہاں کا رہائشی عرفہ کے دن دعا کیسے مانگے؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مجھے عید الاضحی کے متعلق ایک رائے کے بارے میں بہت تعجب ہے، میں نے آپ کے نو ذو الحجہ کے دن غیر حجاج کیلیے روزے رکھنے کے متعلق ایک فتوی میں پڑھا تھا جو کہ عید الاضحی کے بارے میں یہاں کی مقامی رائے سے الگ تھا کہ یہاں پر عید الاضحی سعودی عرب کی نو ذو الحجہ کے دن ہو سکتی ہے، یا مثال کے طور پر اگر سعودی عرب میں نو ذو الحجہ ہو تو ایسا ممکن ہے کہ برطانیہ میں 10 ذو الحجہ یعنی عید کا دن ہو ، مجھے درج ذیل کے بارے میں یقین نہیں ہے:
میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ آپ کو عرفہ (نو ذو الحجہ )کے دن ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے حجاج کرتے ہیں یعنی آپ بھی اسی وقت میں کھڑے ہو کر دعا کریں ، تو یہ کام اس صورت میں تو آسان ہو سکتا ہے جب تمام کے تمام مسلمان ایک ہی دن عید منائیں۔ مگر یہ کام پہلے بیان کردہ مقامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ہمیشہ نو ذو الحجہ کا دن سعودی عرب سے مختلف ہوتا ہے، یعنی کہ آپ سعودی عرب سے ہٹ کر کسی اور دن میں دعا کریں گے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ سعودی عرب میں حجاج کرام کے ساتھ بیک وقت دعا میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔
چلیں ہم یوں کہہ لیتے ہیں کہ سعودی عرب میں نو ذو الحجہ کے دن عرفات کا دن ہوتا ہے لیکن برطانیہ میں آپ مقامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے آٹھ کو دعا کر لیں کہ یہاں کی آٹھ تاریخ کو سعودی عرب میں حجاج عرفات میں ہوتے ہیں اس طرح آپ کو حجاج کے ساتھ دعا کرنے کا موقع مل جائے گا، یا آپ دعا کیلیے نو ذو الحجہ کا انتظار کریں گے؟ بہ ہر حال ہمیں بیک وقت دعا کرنے کا موقع نہیں ملے گا؛ کیونکہ برطانیہ کی نو تاریخ سعودی عرب میں 10 تاریخ کے دن آتی ہے۔
مجھے امید ہے کہ میرا سوال آپ سمجھ گئے ہیں، اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

الحمد للہ:

اول:

یوم عرفہ اور عرفہ کے دن کا روزہ ذو الحجہ کی نو تاریخ کو ہوتا ہے، جس کی تعیین ہر علاقے میں ذو الحجہ کے چاند کی رؤیت کے اعتبار سے ہوتی ہے، چنانچہ ایسا ممکن ہے کہ  اہل مکہ کا دن مثال کے طور پر جمعرات  ہو اور دیگر علاقوں میں بدھ کا دن ہو، یا کہیں ہفتہ ہو۔ نیز ایسی پابندی  نہیں ہے کہ اگر کسی علاقے کا چاند کا مطلع اہل مکہ سے مختلف ہو تو وہ اہل مکہ کے مطابق عمل کریں، اہل علم کی آرا میں سے یہی موقف راجح ہے کہ اگر چاند کا مطلع الگ الگ ہو تو ہر علاقے میں ان کی رؤیت کا اعتبار ہوگا۔

لہذا اگر مسلمان برطانیہ میں رؤیت ہلال کا اہتمام کرتے ہیں تو وہاں پر تمام مسلمانوں کو ان کی رؤیت کا پابند ہونا چاہیے، اور اگر رؤیت ہلال کا اہتمام نہیں ہے تو پھر اپنے قریب ترین ملک  کی رؤیت کو معیار بنائیں۔

نیز آپ اس مسئلے کی مزید وضاحت کیلیے سوال نمبر: (324) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

دوم:

عرفہ کے دن دعا کی بہت ہی عظیم فضیلت ہے؛ اس بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، (اس دن ) میں نے اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام نے سب سے بہترین دعا یہ کی ہے:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی شاہی ہے، اسی کیلیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔) ترمذی: (3585) اس حدیث کو البانی نے صحیح الترغیب (1536) میں حسن قرار دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فضیلت صرف ان لوگوں کیلیے ہے جو میدان عرفات میں ہوں؟ یا باقی جگہوں کیلیے بھی ہے؟

اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اور اس کی تفصیلات پہلے سوال نمبر: (325) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

چنانچہ اگر یہ کہیں کہ یہ فضیلت بقیہ تمام علاقوں اور خطوں کیلیے بھی ہے تو اس بارے میں یہی بات کہی جائے گی جو ابھی چند سطور پہلے کہی گئی ہے۔

انسان اپنے علاقے میں چاند کی رؤیت کے اعتبار سے نو ذو الحجہ کو دعا کرے گا، چاہے حجاج ان سے ایک دن پہلے یا بعد میں وقوف عرفہ کریں۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...