Showing posts with label احکام مولود اورعقیقہ. Show all posts
Showing posts with label احکام مولود اورعقیقہ. Show all posts

Sunday, August 19, 2018

٦٠٥-ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جسکے قبلے والی سمت میں قبر ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جسکے قبلے کی سمت میں قبر ہے، مسجد اور قبر کے درمیان دیوار بھی ہے، لیکن اس دیوار میں کچھ سوراخ ہیں جن سے قبر نظر آتی ہے، تو کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہےیہاں کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ نماز جائز ہے، اور کچھ کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے، ہم آپ سے اس اہم موضوع پر تفصیلی جواب چاہتے ہیں۔

الحمد للہ:

قبر کے ساتھ بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، خصوصی طور پر اگر قبر قبلہ کی طرف ہو اور دیوار میں سوراخ بھی ہوں جن سے قبر نظر بھی آئے تو [ممانعت مزید سخت ہو جاتی ہے] چاہے ان کے دلوں میں قبر کی تعظیم نہ بھی آئے تب بھی نماز منع ہے، کیونکہ قبرستان میں نماز پڑھنے سے ممانعت موجود ہے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو قبر کے پاس نماز پڑھتے دیکھا تو اسے منع کردیا، [اور تنبیہ کیلئے اسے کہا] قبر، قبر۔ اسے بیہقی (2/435)نے روایت کیا ہے، اور امام بخاری نے اسے اپنی صحیح بخاری (1/523) [مع الفتح] میں معلق روایت کیا ، اور امام عبد الرزاق ( 1/404) نے موصول بیان کیا، اثر نمبر: "1581"

چنانچہ اس بنا پر مسجد کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے، یا قبر اور مسجد کےدرمیان بالکل بند دیوار بنا دی جائے۔

واللہ اعلم .

ماخوذ از کتاب: " اللؤلؤ المكين من فتاوى ابن جبرين " صفحہ: 24

Saturday, August 11, 2018

٢٢٧-كيا قربانى كرے يا اپنا عقيقہ كيونكہ والد نے عقيقہ نہيں كيا تھا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

انتاليس برس كى عورت قربانى كرنا چاہتى ہے، اسے كہا گيا كہ پہلے اپنا عقيقہ كرو كيونكہ والد نے اس كا عقيقہ نہيں كيا اور اس كے خاوند نے بھى اپنى اولاد كا عقيقہ نہيں كيا، اس كى ايك بيٹى اور ايك بيٹا ہے، كيا وہ اپنا اور اپنى اولاد كا عقيقہ كرے يا كہ والد ان كا عقيقہ كريگا، يہ علم ميں رہے كہ بيٹا سولہ اور بيٹى پندرہ برس كى ہو چكى ہے، اور كيا عقيقہ واجب ہے، يا بچہ بالغ ہو جائے تو ساقط ہو جاتا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

راجح قول كے مطابق عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، اس كا بيان سوال نمبر (224) كے جواب ميں ہو چكا ہے، اور اس سے مخاطب والد ہے، اس ليے نہ تو ماں اور نہ ہى بچوں سے اس كا مطالبہ ہوگا.

اور بچہ بالغ ہو جانے كى صورت ميں عقيقہ ساقط نہيں ہو گا، اگر والد استطاعت ركھتا ہو تو جن بچوں كا عقيقہ نہيں كيا ان كا عقيقہ كرنا مستحب ہے.

اور اگر والد نے بچے كا عقيقہ نہيں كيا تو بچے يا كسى اور كے ليے اپنا عقيقہ كرنا مشروع ہے ؟

جواب:

فقھاء كرام كے ہاں اس ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ مشروع اور مستحب ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر اس كا عقيقہ بالكل كيا ہى نہ گيا ہو اور بچہ بالغ ہو جائے اور كمائى كرنے لگے، تو اس پر عقيقہ نہيں، امام احمد رحمہ اللہ سے اس مسئلہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو انہوں نے فرمايا: يہ والد كے ذمہ ہے، يعنى وہ اپنا عقيقہ خود نہ كرے؛ كيونكہ اس كے علاوہ دوسرے كے حق ميں سنت ہے.

اور عطاء اور حسن كا قول ہے: وہ اپنا عقيقہ خود كر لے؛ كيونكہ اس كى جانب سے مشروع ہے، اور اس ليے بھى كہ وہ عقيقہ كے بدلے رہن اور گروى ركھا ہوا ہے، اس ليے اس كے ليے اپنے آپ كو آزاد كرانا مشروع ہوا.

اور ہمارا قول يہ ہے كہ: يہ والد كے حق ميں مشروع ہے، اس ليے كوئى اور عقيقہ نہ كرے، مثلا اجنبى اور صدقہ فطر يعنى فطرانہ كى طرح " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 9 / 364 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الفصل التاسع عشر:

جس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو كيا بلوغت كے بعد وہ اپنا عقيقہ خود كريگا ؟

خلال رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جس كا بچپن ميں عقيقہ نہ ہوا تو بڑا ہو كر اپنا عقيقہ خود كرنے كا استحباب:

پھر انہوں نے اسماعيل بن سعيد الشالنجى كے مسائل ميں سے ذكر كيا وہ كہتے ہيں ميں نے احمد سے ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا جس كے والد نے اسے بتايا كہ اس كا عقيقہ نہيں كيا گيا تو كيا وہ اپنا عقيقہ خود كر لے ؟

ان كا جواب تھا: يہ والد كے ذمہ ہے.

اور الميمونى كے مسائل ميں سے ہے: وہ كہتے ہيں:

ميں نے ابو عبد اللہ سے كہا: اگر اس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو كيا بڑى عمر ميں اس كا عقيقہ كيا جا سكتا ہے ؟

تو انہوں نے كچھ بيان كيا كہ بڑے كى جانب سے ضعف بيان كيا جاتا ہے، اور ميں نے ديكھا كہ وہ اسے بہتر قرار ديتے تھے كہ اگر بچپن ميں اس كا عقيقہ نہ ہوا ہو تو بڑى عمر ميں عقيقہ كيا جائے.

اور ان كا كہنا ہے: اگر كوئى انسان ايسا كرے تو ميں اسے ناپسند نہيں كرتا.

وہ كہتے ہيں: مجھے عبد الملك نے ايك دوسرى جگہ بتايا كہ انہوں نے ابو عبد اللہ سے كہا: تو كيا بڑى عمر ميں اس كا عقيقہ كيا جائے گا؟

تو ان كا جواب تھا: مجھے پتہ نہيں، اور ميں نے بڑے كے متعلق كچھ نہيں سنا، پھر مجھے كہنے لگے: اور جو ايسا كرے تو يہ بہتر ہے، اور كچھ لوگ اسے واجب قرار ديتے ہيں " انتہى.

ديكھيں: تحفۃ المودود فى احكام المولود فصل التاسع عشر.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ يہ كلام نقل كرنے كے بعد كہتے ہيں:

پہلا قول اظہر ہے، وہ يہ كہ اپنا عقيقہ خود كرنا مستحب ہے؛ كيونكہ سنت مؤكدہ ہے، اور اس كے والد نے اس كا عقيقہ نہيں كيا تو جب بھى وہ استطاعت ركھے اپنا عقيقہ كرنا مشروع ہے؛ كيونكہ عمومى احاديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كے ساتھ گروى اور رہن ہے، اس كى جانب سے ساتويں روز عقيقہ كيا جائے اور سر مونڈا جائے اور نام ركھا جائے "

اسے امام احمد اور اصحاب سنن نے سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ سے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

اور ام كرز كعبيہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچے كى جانب سے دو بكرے اور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كرنے كا حكم ديا "

اسے پانچوں نے روايت كيا ہے، اور ترمذى رحمہ اللہ نے اسى طرح عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے.

اس حديث ميں والد كو خطاب نہيں كيا گيا تو يہ ماں اور بيٹے اور اقربا وغيرہ سب كو عام ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 26 / 266 ).

اس بنا پر سوال كرنے والى بہن كو اس كے متعلق كہا جاتا ہے كہ:

آپ اپنا عقيقہ خود كر سكتى ہيں، يا اگر آپ كى اولاد كا ان كے والد نے عقيقہ نہيں كيا تو ان كا عقيقہ بھى آپ كر سكتى ہيں.

دوم:

قربانى سنت مؤكدہ ہے، يہ مرد اور عورت سب كے ليے مشروع ہے، اور آدمى اور اس كے گھر والوں سے ايك قربانى كفائت كر جاتى ہے، اور اسىطرح عورت اور اس كے گھر والوں كى طرف سے بھى.

تو اس عورت كو قربانى كرنے كا حق حاصل ہے، چاہے اس كا خاوند قربانى كرے يا نہ كرے.

اور اگر وہ عورت قربانى كرے تو يہ اس كے عقيقہ سے كفائت كر جائيگى.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الفصل الثامن عشر: عقيقہ اور قربانى جمع كرنے كا حكم:

خلال رحمہ اللہ كہتے ہيں: عقيقہ قربانى سے كفائت كر جاتا ہے كا مروى قول كے متعلق باب:

ہميں عبد الملك الميمونى نے بتايا كہ انہوں نے ابو عبد اللہ ( يعنى امام احمد ) كو كہا: كيا عقيقہ كى جگہ بچے كى جانب سے قربانى كرنى جائز ہے ؟

تو ان كا جواب تھا:

مجھے معلوم نہيں، پھر كہنے لگے: كئى ايك اس كا كہتے ہيں.

ميں نے دريافت كيا: كيا تابعين ميں سے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں.

اور مجھے عبد الملك نے ايك اور جگہ بتايا: ابو عبد اللہ نے ذكر كيا كہ بعض كا قول ہے: اگر وہ قربانى كرے تو يہ عقيقہ سے كفائت كر جائيگا.

اور ہميں عصمۃ بن عصام نے بيان كيا انہوں نے بتايا كہ ہميں حنبل نے حديث بيان كى كہ ابو عبد اللہ نے كہا:

مجھے اميد ہے كہ جس كا عقيقہ نہ ہوا ہو اس كى قربانى عقيقہ سے كفائت كر جائيگى.

اور مجھے عصمۃ بن عصام نے ايك اور جگہ بتايا وہ كہتے ہيں مجھے حنبل نے بيان كيا كہ ابو عبد اللہ نے كہا:

اگر اس كى جانب سے قربانى كى جائى تو عقيقہ سے قربانى كفائت كر جائيگى.

وہ كہتے ہيں: ميں نے ابو عبد اللہ كو قربانى خريد كر اپنى اور اپنے اہل و عيال كى جانب سے ذبح كرتے ہوئے ديكھا، اور ان كا بيٹا عبد اللہ چھوٹا تھا، اسے ذبح كيا، ميرے خيال ميں يہ انہوں نے يہ عقيقہ اور قربانى دونوں كا ارادہ كيا، اور ان كا گوشت تقسيم بھى كيا اور خود بھى كھايا "

انتہى.

ماخوذ از: تحفۃ الودود.

مزيد آپ سوال نمبر ( 225 ) اور ( 226 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٢٢٦-كيا عقيقہ ترك يا اس ميں تاخير كرنا گناہ ہے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اللہ تعالى نے مجھے بيٹى عطا فرماي ہے اور اب اس كى عمر تين ماہ ہے، ليكن ميں نے ابھى تك اس كا عقيقہ نہيں كيا اور نہ ہى اس كے عوض ميں كچھ صدقہ كيا ہے، تو كيا ميں گنہگار ہوں، اور اس كا حل كيا ہے ؟

الحمد للہ:

عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، اور ترك كرنے والے گناہ نہيں، كيونكہ سنن ابو داود ميں عمرو بن شعيب عن ابيہ عن جدہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كا بچہ پيدا ہو اور وہ اس كى جانب سے جانور ذبح كرنا پسند كرے تو ذبح كرے، بچے كى جانب سے دو كفائت كرنے والے بكرے، اور بچى كى جانب سے ايك بكرا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2842 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ابو داود ميں حسن قرار ديا ہے.

چنانچہ اس حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے معاملہ كو چاہت اور محبت پر معلق كيا ہے، اور يہ اس كے مستحب ہونے كى دليل ہے نہ كہ واجب ہونے كى "

ديكھيں: تحفۃ المودود صفحہ ( 157 ).

مسلمان شخص كو اس ميں كوتاہى نہيں كرنى چاہيے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كے بدلے رہن اور گروى ركھا ہوا ہے، اس كى جانب سے ساتويں روز ذبح كيا جائے، اور اس كا سر مونڈا جائے اور اس كا نام ركھا جائے "

سنن نسائى حديث نمبر ( 4220 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2838 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1522 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3165 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

آپ كو اب بچى كا عقيقہ كر لينا چاہيے، اور وہ يہ كہ عقيقہ كى نيت سے ايك بكرا ذبح كر ديں.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، لڑكے كى جانب سے دو اور لڑكى كى جانب سے ايك بكرى جس طرح كى قربانى ميں ذبح ہوتى ہے اسى طرح عقيقہ كى بھى ذبح كى جائيگى، اور عقيقہ پيدائش كے ساتويں روز كيا جائيگا، اور اگر ساتويں روز سے تاخير كرے تو بعد ميں كسى بھى وقت عقيقہ كرنا جائز ہے، اور اس تاخير سے وہ گنہگار نہيں ہوگا، ليكن افضل اور بہتر يہى ہے كہ حتى الامكان جلد كيا جائے اور تاخير نہ ہو " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 934 ).

تنبيہ:

آپ كا يہ كہنا كہ:

" ميں نے اس كے عوض ميں كوئى صدقہ نہيں كيا "

يہ معلوم ہونا ضرورى ہے كہ مال صدقہ كرنا عقيقہ كے قائم مقام نہيں بن سكتا، كيونكہ عقيقہ كا مقصد ذبح كر كے اللہ كا قرب حاصل كرنا ہے.

آپ مزيد تقصيل معلوم كرنے كے ليے سوال نمبر ( 225 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم

٢٢٥-كيا عقيقہ افضل ہے يا اس كى قيمت صدقہ كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اللہ تعالى نے مجھے بيٹا عطا كيا ہے، تو كيا عقيقہ كرنا افضل ہے يا اس كى قيمت صدقہ كرنا ؟

الحمد للہ:

جانور كى قيمت صدقہ كرنے سے عقيقہ كرنا افضل ہے، بلكہ مال صدقہ كرنا تو عقيقہ كا قائم مقام نہيں بنتا، اور نہ ہى كفائت كرتا ہے، كيونكہ عقيقہ كا مقصد جانور ذبح كر كے اللہ كا قرب حاصل كرنا ہے.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قيمت صدقہ كرنے سے اپنى جگہ ميں ذبح كرنا افضل ہے، چاہے قيمت سے ز يادہ رقم صدقہ بھى كى جائے، مثلا حج كى قربانى اور عيد الاضحى كى قربانى، كيونكہ يہاں ذبح كرنا اور خون بہانا مقصود ہے، اور يہ عبادت نماز كے ساتھ ملى ہوئى ہے، جيسا كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ تو تم اپنے رب كے ليے نماز ادا كرو، اور قربانى كرو }الكوثر ( 2 ).

اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ كہہ ديجئے يقينا ميرى نماز اور ميرى قربانى اور ميرا زندہ رہنا اور ميرى ميرى موت اللہ رب العالمين كے ليے ہے }الانعام ( 162 ).

چنانچہ ہر دين ميں نماز اور قربانى تھى اس كے علاوہ كوئى اور چيز ان كے قائم مقام نہيں ہو سكتى، اس ليے اگر حج قران اور حج تمتع كى قربانى كى بجائے اس كى كئى گنا زيادہ قيمت صدقہ كر دى جائے تو يہ اس كے قائم مقام نہيں ہو سكتى، اور اسى طرح عام قربانى بھى.

واللہ تعالى اعلم. اھـ

ديكھيں: تحفۃ المودود باحكام المولود ( 164 ).

اور مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

عقيقہ كے بدلے رقم ادا كرنے كا حكم كيا ہے ؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

" بچے كى جانب سے دو بكرے اور بچى كى جانب سے ايك بكرى عقيقہ ميں ذبح كى جائيگى، اور اس كى جگہ پيسے وغيرہ كى ادائيگى كفائت نہيں كريگى " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 449 ).

مستقل فتاوى كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

كيا ميں عقيقہ كا جانور ذبح كرنے كى بجائے گوشت خريد لوں تو كفائت كر جائيگا ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" بچى كى جانب سے ايك اور بچے كى جانب سے دو بكرے عقيقہ ميں ذبح كرنے كے علاوہ كچھ كفائت نہيں كريگا " اھـ .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 440 ).

٢٢٤-عقيقہ كا حكم، اور كيا فقير سے عقيقہ ساقط ہے ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اللہ تعالى نے مجھے بيٹا عطا كيا ہے، ميں نے سنا كہ عقيقہ كے ليے ميرے خاوند كو دو بكرياں ذبح كرنا ہونگى، اور اگر بہت زيادہ مقروض ہونے كى بنا پر ايسا نہ كر سكتا ہو تو كيا عقيقہ ساقط ہو جائيگا ؟

الحمد للہ:

اول:

عقيقہ كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، اس ميں تين قول ہيں:

پہلا قول:

كچھ علماء كرام تو عقيقہ كو واجب قرار ديتے ہيں.

دوسرا قول:

كچھ علماء كرام كہتے ہيں عقيقہ مستحب ہے.

تيسرا قول:

كچھ علماء كرام اسے سنت مؤكدہ كہتے ہيں.

اور سنت مؤكدہ والا قول راجح معلوم ہوتا ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

" عقيقہ سنت مؤكدہ ہے، لڑكے كى جانب سے دو اور لڑكى كى جانب سے ايك بكرى جس طرح كى قربانى ميں ذبح ہوتى ہے اسى طرح عقيقہ كى بھى ذبح كى جائيگى، اور عقيقہ پيدائش كے ساتويں روز كيا جائيگا، اور اگر ساتويں روز سے تاخير كرے تو بعد ميں كسى بھى وقت عقيقہ كرنا جائز ہے، اور اس تاخير سے وہ گنہگار نہيں ہوگا، ليكن افضل اور بہتر يہى ہے كہ حتى الامكان جلد كيا جائے اور تاخير نہ ہو.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 439 ).

ليكن علماء كا اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ فقير اور تنگ دست پر واجب نہيں چہ جائيكہ مقروض شخص پر، اور عقيقہ سے بڑى چيز مقدم نہيں كى جائيگى مثلا قرض كى ادائيگى پر حج.

اس ليے مالى حالت كى بنا پر آپ كے ذمہ عقيقہ لازم نہيں ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر ميرے كئى بيٹے ہوں اور مالى استطاعت نہ ہونے كى بنا پر ميں نے كسى ايك كا بھى عقيقہ نہ كيا ہو تو ميرى اولاد كے عقيقہ كا اسلام ميں كيا حكم ہے، كيونكہ ميں ملازمت كرتا ہوں اور ميرى تنخواہ محدود ہے جو صرف ماہانہ خرچ كے ليے ہى ہوتى ہے ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا آپ نے بيان كيا ہے كہ آپ تنگ دست ہيں، اور آپ كى آمدنى صرف اپنے اور آپ كے اہل و عيال كے ليے ہى كافى ہوتا ہے، تو آپ كے ليے بطور قرب عقيقہ نہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا }البقرۃ ( 286 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:

{ اور اللہ تعالى نے دين ميں تمہارے ليے كوئى تنگى نہيں ركھى }الحج ( 78 ).

اور فرمان بارى تعالى ہے:

{ اپنى استطاعت كے مطابق اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو } التغابن ( 16 ).

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو اس پر اپنى استطاعت كے مطابق عمل كرو، اور جب تمہيں كسى چيز سے منع كروں تو اس سے اجتناب كيا كرو "

اور جب كسى وقت بھى آپ كے ليے عقيقہ كرنے ميں آسانى ہو اور مالى حالت بہتر ہو جائے تو آپ كے ليے عقيقہ كرنا مشروع ہو گا "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 436 - 437 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال بھى دريافت كيا گيا:

ايك شخص كو اللہ تعالى نے كئى بيٹے عطا كيے ليكن اس نے كسى كا بھى عقيقہ نہيں كيا، كيونكہ وہ فقر و تنگ دستى كى حالت ميں تھا، اور كچھ برس بعد اللہ تعالى نے اپنے فضل و كرم سے اسے غنى اور مالدار كر ديا تو كيا اس كے ذمہ عقيقہ ہو گا ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" جو كچھ بيان كيا گيا ہے اگر واقعتا ايسا ہى ہے تو اس كے مشروع ہے كہ وہ ہر بيٹے كے بدلے دو بكرياں ذبح كرے "

ديكھيں:فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 441 - 442 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

ايك شخص كے كئى بيٹے اور بيٹياں ہيں اور اس نے كسى ايك كا بھى عقيقہ نہيں كيا، يا تو وہ جاہل تھا يا پھر اس نے سستى و كاہلى سے كام ليا، اس ميں سے بعض تو بڑى عمر كے ہو چكے ہيں، اب اس كے ذمہ كيا لازم آتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اگر تو وہ جاہل تھا يا اس نے ليت و لعل سے كام ليتے ہوئے كہا كہ كل كر لونگا حتى كہ وقت جاتا رہا تو اب ان كا عقيقہ كر دے تو بہتر ہے، اور اگر عقيقہ كى مشروعيت كے وقت وہ تنگ دست تھا تو اس پر كچھ لازم نہيں "

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 2 / 17 – 18 ).

اسى طرح اس كى نيابت ميں گھر والوں پر واجب نہيں ہوتا، اگرچہ ان كے ليے ايسا كرنا جائز تو ہے ليكن واجب نہيں، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے نواسوں حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما كى جانب سے عقيقہ كيا تھا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2841 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 4219 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 2466 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

دوم:

اور اگر آپ كے ليے حج اور عقيقہ ميں تعارض آ جائے تو قطعى طور پر عقيقہ سے حج كو مقدم كيا جائيگا، اور اگر آپ اپنى اولاد كا عقيقہ كرنا چاہيں، اگرچہ وہ بڑى عمر كے ہى ہوں تو عقيقہ كرنا جائز ہے، اور آپ كے ليے اس دعوت كے ليے مدعو افراد كو عقيقہ كا كہنا لازم نہيں.

اور نہ ہى لوگوں كے ليے جائز ہے كہ وہ آپ كے اس فعل پر آپ سے مذاق كريں، كيونكہ آپ كا عمل صحيح ہے، اور عقيقہ كا گوشت پكا كر لوگوں كو كھانے كى دعوت دينا شرط نہيں، بلكہ آپ كچا گوشت بھى تقسيم كر سكتے ہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كا كہنا ہے:

" ولادت كے ساتويں روز اللہ كى جانب سے اولاد ملنے كا شكر ادا كرنے كے ليے ذبح كرنا سنت ہے، چاہے لڑكا ہو يا لڑكى؛ اس كى دليل كئى ايك احاديث سے ملتى ہے، اور جو شخص اپنى اولاد كا عقيقہ كرے تو اس كے ليے لوگوں كو گھر ميں كھانے كى دعوت دينا جائز ہے، اور اسے يہ بھى حق ہے كہ وہ كچا يا پكا كر گوشت فقراء و مساكين اور عزيز و اقارت اور دوست و احباب ميں تقسيم كر دے"

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 442 ).

واللہ اعلم

١٨٧-عقيقہ ميں شراكت كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال-كيا جڑواں بچوں ( بچہ اور بچى ) كے عقيقہ ميں تين بكروں كى بجائے ايك بچھڑا يا گائے ذبح كرنى جائز ہے، اگر جواب مثبت ہو تو اس كى مواصفات كيا ہونگى ؟

الحمد للہ:

سنت تو يہ ہے كہ بچے كى جانب سے دو اور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كيا جائے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كا بچہ پيدا ہو اور وہ اس كى جانب سے جانور ذبح كرنا پسند كرے تو ذبح كر لے، بچے كى جانب سے دو اور بچى كى جانب سے ايك پورا بكرا ذبح كيا جائے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2843 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور جمہور علماء كرام كے ہاں بكرا اونٹ اور گائے كفائت كر جاتا ہے، ليكن ان ميں يہ اختلاف ہے كہ آيا يہ قربانى كا حكم حاصل كريگا يا نہيں تا كہ گائے اور اونٹ ميں شراكت صحيح ہو سكے ؟

قريب ترين بات يہ ہے كہ اس ميں اشتراك صحيح نہيں مالكيہ، اور حنابلہ كا يہى مسلك ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 30 / 279 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عقيقہ ميں شراكت كفائت نہيں كرتى، چنانچہ دو بچوں كى جانب سے نہ تو اونٹ كفائت كرتا ہے، اور نہ ہى گائے، اور بالاولى تين اور چار بچوں كى جانب سے كفائت نہيں كريگا، اس كى وجہ يہ ہے كہ:

اول:

اس ميں شريك ہونا ثابت نہيں، اور عبادات توقيف پر مبنى ہوتى ہيں.

دوم:

يہ فديہ ہے، اور فديہ كے حصے نہيں ہوتے؛ چنانچہ يہ جان كى طرف سے فديہ ہے، تو جب جان كى جانب سے فديہ ہوا تو پھر ضرورى ہے كہ وہ بھى جان ہى ہو، اور پہلى علت بلا شك زيادہ صحيح ہے، كيونكہ اگر اس ميں شركت ثابت ہوتى تو دوسرى تعليل باطل تھى، تو اس كا ثبوت نہ ملنا ہى حكم بر مبنى ہے " انتہى.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...