Showing posts with label مذاہب اور فرق. Show all posts
Showing posts with label مذاہب اور فرق. Show all posts

Sunday, September 9, 2018

1016-حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر رافضی شیعوں سے تعزیت


سوال: ہمارے کچھ سنی بھائی حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر شیعہ حضرات سے تعزیت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

الحمد للہ:

اول:

اہل سنت و الجماعت کا حسین رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے  غیروں کی بہ نسبت زیادہ تعلق ہے، کیونکہ اہل سنت و الجماعت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کا احترام کرتے ہیں اور اس کیلیے وہی طریقہ اپناتے ہیں جو اللہ تعالی نے بتلایا ہے اس میں کسی قسم کا غلو یا جفا داخل نہیں کرتے، اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، رافضی شیعوں کے پاس ایسی کوئی  چیز  نہیں ہے جس کی وجہ سے حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا اہل سنت سے زیادہ تعلق بنے، یا ان کے ساتھ ان کا تعلق واضح ہو کہ ان سے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ پر ان سے تعزیت کی جائے، بلکہ رافضی شیعہ  اس مسئلے میں غلو، بدعات اور اتنی گمراہی میں ڈوبے ہوئے کہ ان سے اظہار لا تعلقی کرنا واجب ہے، انہیں ان کی حرکتوں سے روکنا چاہیے۔

رافضی شیعوں کے نظریات و عقائد کے بارے میں تفصیل سے جاننے کیلیے آپ سوال نمبر: (1015) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

دس محرم کو رافضی شیعوں کی جانب سے  سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں منعقد کی جانے والے ماتمی جلوس، مجالس عزاء، مصنوعی رونے دھونے  کی تقاریب اور نوحہ گری وغیرہ سب کچھ بدعات ہیں صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کرام رحمہم اللہ جمیعاً میں سے کسی نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا۔

کسی بھی نبی یا شہید کی شہادت  پر سالانہ برسی منانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار نہیں تھا، حالانکہ سید الشہدا ء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی شہید ہوئے۔

سلف صالحین میں سے کوئی بھی کسی کی وفات پر سالانہ برسی یا تقریب منعقد نہیں کرتا تھا، کسی نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی امتی کی کبھی برسی  نہیں منائی۔

چنانچہ اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو  وہ بدعت کا ارتکاب کر رہا ہے، وہ سلف صالحین اور سنت نبوی سے متصادم عمل میں مبتلا ہے۔

اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (1015) کا جواب ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

رافضی شیعہ گمراہی میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چکے ہیں انہوں نے دس محرم کے دن کیلیے بے بنیاد اور بے دلیل انتہائی گھٹیا بدعات  ایجاد کی ہیں جن میں وہ سینہ کوبی، ماتم ، نوحہ گری، زنجیر زنی، تلوار زنی، سر زخمی کرنا ، خون نکالنا اور دیگر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (315) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

مذکورہ بالا تفصیلات کی بنا پر:

شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ  پر کسی بھی مسلمان کو شیعہ رافضیوں کیلیے تعزیتی پیغام نہیں بھیجنا چاہیے؛ کیونکہ یہ عمل بدعت اور سنت سے متصادم ہے، نیز ایسا کرنے سے رافضیوں کے باطل نظریات کا اقرار بھی ہے، اسی طرح انہیں یہ بھی کہنا درست نہیں ہے کہ اللہ تعالی تمہیں اجر دے؛ کیونکہ وہ بدعت پر عمل کرنے کی وجہ سے اجر نہیں بلکہ عذاب کے مستحق ہیں۔

واللہ اعلم

1015-عاشوراء كے موقع پر كى جانے والى بدعات اور گمراہياں


س-ميں دبى ميں رہائش پذير ہوں اور ہمارے گرد و پيش بہت سارے شيعہ رہتے ہيں وہ ہميشہ دعوى كرتے ہيں كہ نو اور دس محرم كو ہم جو كچھ كرتے ہيں وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ محبت كى دليل ہے، اور ايسے عمل كرنے ميں كوئى حرج نہيں يہ بالكل ايسے ہى ہے جيسے يعقوب عليہ السلام نے كہا تھا:
{ہائے يوسف! ان كى آنكھيں رنج و غم كى وجہ سے سفيد ہو چكى تھيں، اور وہ غم كو دبائے ہوئے تھے، بيٹوں نے كہا واللہ ! آپ ہميشہ يوسف كى ياد ہى ميں لگے رہيں گے يہاں تك كہ گھل جائيں يا ختم ہى ہو جائيں، انہوں نے كہا ميں تو اپنى پريشانيوں اور رنج كى فرياد اللہ ہى سے كر رہا ہوں، مجھے كى طرف سے وہ باتيں معلوم ہيں جو تم نہيں جانتے }.
برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ سينہ كوبى اور ماتم كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

عاشوراء ميں شيعہ حضرات جو ماتم و سينہ كوبى كرتے ہيں، اور اپنے آپ كو زنجيروں اور چھرياں وغيرہ مارتے ہيں، اور تلواروں كے ساتھ اپنے سر زخمى كرتے اور خون نكالتے ہيں دين اسلام ميں اس كى كوئى اصل نہيں ملتى، بلكہ يہ اسلامى تعليمات كے منافى ہے.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے ايسى كوئى چيز مشروع نہيں فرمائى اور نہ ہى اس ماتم كے قريب بھى كچھ مشروع كيا ہے كہ اگر كوئى عظيم مقام و رتبہ والا شخص فوت ہو جائى يا كوئى دوسرى شہيد ہو تو اس كے ماتم ميں ايسى خرافات كى جائيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں كئى ايك كبار صحابہ كرام كى شہادت ہوئى اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم ان كى موت پر غمزدہ بھى ہوئے مثلا حمزہ بن عبد المطلب اور زيد بن حارثہ اور جعفر بن ابى طالب اور عبد اللہ بن رواحہ ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كوئى عمل نہيں كيا جو شيعہ حضرات كرتے ہيں، اور اگر يہ كام خير و بھلائى ہوتى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں ہم سے سبقت لے جاتے.

اور پھر يعقوب عليہ السلام نے سينہ كوبى نہيں كى، اور نہ ہى اپنے چہرے كو زخمى كيا، اور نہ خون بہايا، اور نہ ہى اس دن كو جس ميں يوسف عليہ السلام گم ہوئے تھے تہوار بنايا اور نہ ہى اس روز كو ماتم كے ليے مختص كيا، بلكہ وہ تو اپنے پيارے اور عزيز بيٹے كو ياد كرتے اور اس كى دورى سے پريشان و غمزدہ ہوتے تھے، اور يہ ايسى چيز ہے جس كا كوئى بھى انكار نہيں كر سكتا اور كوئى بھى روك نہيں سكتا، بلكہ ممانعت و برائى تو اس ميں ہے جو جاہليت كے امور بطور وراثت لے كر اپنائے جائيں جن سے اسلام نے منع كر ديا ہو.

بخارى و مسلم ميں عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى رخسار پيٹے اور گريبان چاك كيا اور جاہليت كى آوازيں لگائيں وہ ہم ميں سے نہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1294 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 103 ).

چنانچہ يوم عاشوراء كے دن شيعہ حضرات جو غلط كام كرتے ہيں اس كى دين اسلام ميں كوئى دليل نہيں ملتى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ ميں سے كسى ايك كو بھى اس كى تعليم نہيں دى، اور نہ ہى كسى صحابى يا كسى دوسرے كى موت پر ايسے اعمال كيے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت پر صحابہ كرام نے بھى ايسا نہيں حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كى مصيبت تو حسين رضى اللہ تعالى كى موت سے بھى زيادہ ہے.

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہر مسلمان كو چاہيے كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے پر غمزدہ ہونا چاہيے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ مسلمانوں كے سردار اور علماء صحابہ كرام ميں سے تھے اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے نواسے اور آپ كى اس بيٹى كى اولاد ميں سے جو سب بيٹيوں سے افضل تھى، اور پھر حسين رضى اللہ تعالى عنہ عابد و زاہد اور سخى و شجاعت و بہادرى كا وصف ركھتے تھے.

ليكن شيعہ حضرات جو كچھ كرتے ہيں اور جزع و فزع اور غم كا اظہار جس ميں اكثر طور پر تصنع و بناوٹ اور رياء ہوتى ہے ان كا يہ عمل اچھا نہيں، حالانكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ تو حسين سے افضل تھے انہيں شہيد كيا گيا ليكن وہ اس كے قتل ہونے پر ماتم نہيں كرتے جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے والے دن ماتم كرتے ہيں.

كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ كو چاليس ہجرى سترہ رمضان المبارك جمعہ كے روز اس وقت قتل كيا گيا جب وہ نماز فجر كى ادائيگى كے ليے جا رہے تھے، اور اسى طرح اہل سنت كے ہاں عثمان رضى اللہ تعالى عنہ على رضى اللہ تعالى عنہ سے افضل ہيں انہيں محاصرہ كر كے ان كے گھر ميں چھتيس ہجرى ماہ ذوالحجہ كے ايام تشريق ميں شہيد كيا گيا، اور انہيں رگ رگ كاٹ كر ذبح كيا گيا، ليكن لوگوں نے ان كے قتل كے دن كو ماتم نہيں بنايا.

اور اسى طرح عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ عثمان اور على رضى اللہ تعالى عنہما سے افضل ہيں انہيں نماز فجر پڑھاتے ہوئے محراب ميں قرآن مجيد كى تلاوت كرتے ہوئے شہيد كيا گيا ليكن لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم كا دن نہيں بنايا.

اور اسى طرح ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ ان سے افضل تھے اور لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم والا دن نہيں بنايا، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو دنيا و آخرت ميں اولاد آدم كے سردار ہيں آپ كو بھى اسى طرح قبض كيا گيا اور فوت كيا گيا جس طرح پہلے انبياء كو فوت كيا گيا، ليكن كسى ايك نے بھى ان كى موت كو ماتم نہيں بنايا، اور وہ ان رافضى جاہلوں كى طرح كريں جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے كے دن خرافات كرتے ہيں...

اس طرح كى مصيبتوں كے وقت سب سے بہتر وہى عمل ہے جو حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے انہوں نے اپنے نانا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى مسلمان كو بھى كوئى مصيبت پہنچى ہو اور وہ مصيبت ياد آئے چاہے وہ پرانى ہى ہو چكى ہو تو وہ نئے سرے سے دوبارہ انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھے تو اللہ تعالى اسے اس مصيبت كے پہنچنے والے دن جتنا ہى اجر و ثواب عطا كرتا ہے "

اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے " انتہى

ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 221 ).

اور ايك مقام پر لكھتے ہيں:

" چوتھى صدى ہجرى كے آس پاس بنو بويہ كے دور حكومت ميں رافضى شيعہ حضرات اسراف كا شكار ہوئے اور بغداد وغيرہ ميں يوم عاشوراء كے موقع پر ڈھول پيٹے جاتے اور راستوں اور بازاروں ميں ريت وغيرہ پھيلا دى جاتى اور دكانوں پر ٹاٹ لٹكا ديے جاتے، اور لوگ غم و حزن كا اظہار كرتے اور روتے، اور ان ميں سے اكثر لوگ اس رات پانى نہيں پيتے تھے تا كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى موافقت ہو؛ كيونكہ وہ پياسے قتل ہوئے تھے.

پھر عورتيں چہرے ننگے كر كے نكلتيں اور اپنے رخسار پيٹتيں اور سينہ كوبى كرتيں ہوئى بازاروں سے ننگے پاؤں گزرتيں اور اسكے علاوہ بھى كئى ايك قبيح قسم كى بدعات اور شنيع خواہشات اور اپنى جانب سے ايجاد كردہ تباہ كن اعمال كرتے، اور اس سے وہ حكومت بنو اميہ كو برا قرار ديتے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ ان كے دور حكومت ميں قتل ہوئے تھے.

ليكن اہل شام كے نواصب نے شيعہ و رافضيوں كے برعكس كام كيا، وہ يوم عاشوراء ميں دانے پكا كر تقسيم كرتے اور غسل كر كے خوشبو لگا كر بہترين قسم كا لباس زيب تن كرتے اور اس دن كو تہوار اور عيد بنا ليتے اور مختلف قسم كے كھانے تيار كر كے خوشى و سرور كا اظہار كرتے، ان كا مقصد رافضيوں كى مخالفت اور ان سے عناد ظاہر كرنا تھا " انتہى

ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 220 ).

جس طرح اس دن ماتم كرنا بدعت ہے اسى طرح اس دن خوشى و سرور ظاہر كرنا اور جشن منانا بھى بدعت ہے، اسى ليے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سبب ميں شيطان نے لوگوں ميں دو قسم كى بدعات ايجاد كروائيں ايك تو يوم عاشوراء كے دن ماتم كرنا اور غم و حزن كا اظہار اور سينہ كوبى كرنا اور مرثيے پڑھنا... اور دوسرى بدعت خوشى و سرور كا اظہار كرنا...

ان لوگوں نے غم و حزن اور ماتم ايجاد كيا اور دوسروں نے اس كے مقابلہ ميں خوشى و سرور كى ايجاد كى اور اس طرح وہ يوم عاشوراء كو سرمہ ڈالنااور غسل كرنا اور اہل و عيال كو زيادہ كھلانا پلانا اور عادت سے ہٹ كر انواع و اقسام كے كھانا تياركرنا جيسى بدعت ايجاد كر لى، اور ہر بدعت گمراہى ہے آئمہ اربعہ وغيرہ دوسرے مسلمان علماء نے نہ تو اسے اور نہ ہى اس كو مستحب قرار ديا ہے " انتہى

ماخوذ از: منھاج السنۃ ( 4 / 554 ) مختصرا

يہاں اس پر متنبہ رہنا چاہيے كہ ان غلط قسم كے اعمال كى پشت پناہى دشمنان اسلام كرتے ہيں تا كہ وہ اپنے گندے مقاصد تك پہنچ سكيں اور اسلام اور مسلمانوں كى صورت كو مسخ كركے دنيا ميں پيش كريں، اسى سلسلہ ميں موسى الموسوى اپنى كتاب " الشيعۃ و التصحيح " ميں لكھتے ہيں:

" ليكن اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سوگ ميں دس محرم كے دن سينہ كوبى كرنا اور سروں پر تلواريں مار كر سر زخمى كرنا اور زنجير زنى كرنا ہندوستان سے انگريز دور حكومت كے وقت ايران اور عراق ميں داخل ہوا، اور انگريزوں نے شيعہ كى جہالت اور امام حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے محبت كو موقع غنيمت جانتے ہوئے انہيں سروں پر بيرنگ مارنے كى تعليم دى، حتى كہ ابھى قريب تك طہران اور بغداد ميں برطانوى سفارت خانے ان حسينى قافلوں كى مالى مدد كيا كرتے تھے جو اس دن سڑكوں پر نكالنے جاتے، اس كے پيچھے غرض صرف سياسى اور انگريزى استعمار و غلبہ تھا تا كہ وہ اس كو بڑھا كر اس كى آبيارى كريں، اور اس سے بھى بڑھ كر يہ كہ وہ اپنے معاشرے اور آزاد ميڈيا كے سامنے ايك معقول بہانا مہيا كرنا چاہتے تھے جو برطانيہ كا ہندوستان اور دوسرے اسلامى ملكوں ميں قبضہ كى مخالفت كرتے تھے.

اور وہ يہ ظاہر كرنا چاہتے تھے كہ ان ممالك ميں بسنے والے وحشى ہيں جو تربيت كے محتاج ہيں كہ انہيں جہالت اور وحشيوں كى وادى سے نكال كر ترقى يافتہ معاشرہ بنايا جائے، اس طرح يورپى اور انگريزي روزناموں اور ميگزينوں ميں تصاوير شائع كى جاتيں كہ ہزاروں افراد كے قافلے عاشوراء كے موقع پر زنجير زنى سے ماتم كر كے بازاروں ميں گھوم رہے ہيں اور سروں پر تلوار اور بيرنگ سے خون نكالا گيا ہے.

اس طرح يہ استعمارى تھنك ٹينك ان ممالك ميں قبضہ اور استعمار كو ايك انسانى واجب بنا كر پيش كرتے، اور كہتے كہ ان ممالك كى يہ ثقافت ہے اس ليے اسے ترقى كى ضرورت ہے اور كہا جاتا ہے كہ انگريز قبضہ كے وقت عراق كے وزير اعظم " ياسين ہاشمى " نے جب لندن كا دورہ كيا اور انگريزوں سے وائسرائے كے نظام كو ختم كرنے كا كہا تو انگريز كہنا لگا: ہم عراق ميں عراقى لوگوں كى مدد كے ليے ہيں تا كہ وہ سعادت حاصل كريں اور بربريت سے نكلنے كى نعمت حاصل كر سكيں تو اس بات سے " ياسين ہاشمى " غصہ ميں آيا اور ناراض ہو كر مذاكرات كے كمرہ سے نكل آيا، ليكن انگريز نے بڑى چالاكى دكھاتے ہوئے اس سے معذرت كى اور بڑے احترام سے اسے عراق كے متعلق ايك فلم ديكھنے كى درخواست كى جس ميں حسينى قافلے نجف و كربلاء اور كاظميہ كى سڑكوں پر سينہ كوبى اور زنجير زنى كرتے ہوئے دكھايا گيا تھا، گويا كہ انگريز اسے يہ كہنا چاہتے تھے: كيا يہ قوم اتنى ہى گرى ہوئى ہے جس ميں ذرا بھى ترقى كى رمق نہيں جو اپنے ساتھ يہ سلوك كر رہى ہے ؟! " انتہى

واللہ اعلم

Saturday, August 18, 2018

٥٦٥-روافض شيعۃ كے ذبح كردہ جانور كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم شيعہ معاشرہ ميں رہتے ہيں، اور آپ كو شيعہ كے عقائد كا تو بخوبى علم ہے كہ اسلام كا دعوى ہونے كے باوجود ان كا عقيدہ كتاب و سنت كے مخالف ہے، تو كيا ہمارے ليے ان كا ذبح كردہ جانور جس پر وہ بسم اللہ پڑھ كر ـ ماركيٹ ميں فروخت كرنے كے ليے ـ يا پھر فوت شدگان يا درباروں اور نذر و نياز كے ليے ذبح كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

ذبح كردہ جانور كے حلال ہونےكى شروط ميں يہ شامل ہے كہ ذبح كرنے والا شخص مسلمان ہو يا اہل كتاب سے تعلق ركھتا ہو، اس ليے نہ تو مشرك كا ذبح كردہ حلال ہے اور نہ ہى مجوسى اور مرتد كا ذبح كردہ.

شيعہ كے كئى عقائد اور اعمال ايسے ہيں جو انہيں دائرہ اسلام سے خارج كر ديتے ہيں، مثلا قرآن مجيد كى تحريف كا عقيدہ، اور يہ عقيدہ كہ ان كے آئمہ علم غيب ركھتے ہيں، اور وہ غلطى و خطا سے معصوم ہيں.

اور وہ مردوں سے استغاثہ اور مدد بھى مانگتے ہيں، اور اللہ تعالى كے علاوہ انہيں پكارتے اور قبروں كو سجدہ كرتے ہيں، اور انبياء و رسل كے بعد سب سے افضل ترين افراد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كو كافر قرار ديتے ہيں، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 351 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے.

چنانچہ جس كسى نے بھى ان عقائد كو اپنايا، يا ان كفريات ميں سے كوئى عمل كيا تو وہ اسلام سے خارج ہے اور اس كا ذبح كردہ جانور حلال نہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

جعفرى شيعہ كا ذبح كردہ گوشت كھانے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے وہ على اور حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ اور اپنے سب بڑوں كو مصيبت اور تنگى اور آسانى ميں پكارتے ہيں ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اگر تو معاملہ ايسا ہى ہے جيسا سائل نے بيان كيا ہے كہ وہ جعفرى لوگ على اور حسن و حسين اور اپنے سب بڑوں اور اماموں كو پكارتے ہيں تو وہ مشرك ہيں اور اسلام سے مرتد ہيں، اللہ اس سے محفوظ ركھے، اور ان كا ذبح كردہ گوشت كھانا جائز نہيں، كيونكہ يہ مردار ہے چاہے وہ اس پر بسم اللہ بھى پڑھ ليں " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 264 ).

اور كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

ميں شمالى حدود ميں رہنے والے قبيلہ سے تعلق ركھتا ہوں ہم اور عراقى قبائل كا آپس ميں اختلاط ہے، اور ان كا مذہب شيعہ بت پرستى ہے اور وہ قبوں كى عبادت كرتے اور اس كا نام حسن و حسين اور على ركھتے ہيں.

اور جب ان ميں سے كوئى اٹھتا ہے تو يا على، يا حسين كا نعرہ لگاتا ہے، ہمارے كچھ قبائل كا ان سے نكاح اور ہر حال ميں اختلاط ہے، ميں نے انہيں نصيحت كى اور سمجھايا ہے ليكن وہ نہيں سنتے، ميں نے سنا ہے كہ ان كا ذبح كردہ نہيں كھانا چاہيے، ليكن يہ لوگ ان كا ذبح كردہ گوشت كھاتے ہيں، ہم آپ سے گزارش كرتے ہيں كہ اس سلسلہ ميں واجب اور ضرورى كى وضاحت كريں ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر تو واقع بالكل اسى طرح ہے جو آپ بيان كر رہے ہيں كہ وہ على اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ كو پكارتے ہيں: تو وہ مشرك ہيں اور شرك اكبر كا ارتكاب كر رہے ہيں جو انہيں ملت اسلاميہ سے خارج كر ديتا ہے، اس بنا پر ہمارے ليے اپنى عورتوں كو ان كے نكاح ميں دينا جائز نہيں، اور نہ ہى ہمارے ليے ان كى عورتوں سے نكاح كرنا جائز ہے، اور نہ ہى ہمارے ليے ان كا ذبح كردہ گوشت كھانا جائز ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم شرك كرنے والى عورتوں سے اس وقت تك نكاح مت كرو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، اور مومن لونڈى بھى شرك كرنے والى آزاد عورت سے بہتر ہے، گو تمہيں مشركہ ہى پسند اور اچھى لگتى ہو، اور نہ ہى شرك كرنے والے مردوں كے نكاح ميں اپنى عورتيں دو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، ايمان والا غلام آزاد مشرك سے بہتر ہے گو مشرك تمہيں اچھا لگے، يہ لوگ جہنم كى طرف بلاتے ہيں، اور اللہ تعالى جنت كى طرف اور اپنى بخشش كى طرف اپنے حكم سے بلاتا ہے، وہ اپنى آيات لوگوں كے ليے بيان فرما رہا ہے تا كہ وہ نصيحت حاصل كريں }البقرۃ ( 221 ). انتہى.

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيقى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 264 ).

شيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ سے رافضہ كا ذبح كردہ گوشت كھانے كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" رافضى كا ذبح كردہ گوشت حلال نہيں، اور نہ ہى اس كا ذبح كردہ گوشت كھانا حلال ہے، كيونكہ غالب طور پر رافضى مشرك ہيں، اس ليے كہ وہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كو مصيبت و آسانى ميں ہر وقت پكارتے رہتے ہيں، حتى كہ عرفات اور طواف اور سعى كے دوران بھى اور ان كى اولاد اور اپنے اماموں كو بھى پكارتے ہيں جيسا كہ ہم نے كئى بار سنا ہے، اور يہ شرك اكبر اور اسلام سے ارتداد ہے، اس پر وہ قتل كے مستحق ہيں.

اسى طرح وہ على رضى اللہ تعالى عنہ كے اوصاف بيان كرنے ميں بھى غلو كرتے ہيں اور انہيں ايسے اوصاف ديتے ہيں جو صرف اللہ سبحانہ و تعالى كے علاوہ كسى اور كے لائق نہيں، جيسا كہ ہم نے عرفات ميں سنا ہے، تو اس كى بنا پر وہ مرتد ہيں، كيونكہ انہوں نے على رضى اللہ تعالى عنہ كو رب اور خالق اور كون ميں تصرف كرنے والا اور علم غيب كا علم ركھنے اور نفع و نقصان دينے والا قرار دے ركھا ہے.

اسى طرح وہ قرآن مجيد ميں بھى طعن كرتے ہيں اور گمان كرتے ہيں كہ صحابہ كرام نے اس ميں تحريف كرتے ہوئے اہل بيت اور ان كے دشمنوں كے متعلقہ بہت سارى آيات حذف كر دى ہيں، نہ تو وہ صحابہ كرام كى اقتداء كرتے ہيں، اور نہ ہى انہيں دليل سمجھتے ہيں، اسى طرح وہ اكابر صحابہ كرام مثلا خلفاء ثلاثہ اور بقيہ عشرہ مبشرہ صحابہ كرام اور امہات المومنين اور مشہور صحابہ كرام مثلا انس اور جابر اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ ميں طعن كرتے ہيں.

نہ تو وہ ان كى احاديث قبول كرتے ہيں، اور نہ ہى صحيحين كى احاديث پر عمل كرتے ہيں، كيونكہ صحابہ كرام ان كے گمان ميں كفار ہيں، وہ صرف اہل بيت كے متعلقہ احاديث ہى تسليم كرتے ہيں، اور مكذوب اور موضوع احاديث كى طرف رجوع كرتے ہيں، يا پھر اس كى طرف جس ميں ان كے قول كى كوئى دليل نہيں ملتى، ليكن اس كے باوجود وہ نفاق كرتے ہوئے اپنى زبانوں سے وہ كچھ كہتے ہيں جو ان كے دلوں ميں نہيں، اور اپنے اندر وہ كچھ چھپا كر ركھتے ہيں جو ظاہر نہيں كرتے، اور وہ يہ كہتے ہيں:

" جو تقيہ نہيں كرتا اس كا كوئى دين ہى نہيں "

اس ليے اخوت اور شريعت وغيرہ سے محبت كا دعوى قابل قبول نہيں نفاق ان كا عقيدہ ہے، اللہ تعالى ہميں ان كے شر سے محفوظ ركھے " انتہى.

واللہ اعلم

Wednesday, August 15, 2018

٤٣٨-دیوبندیوں کا عقیدہ وحدت الوجود

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: میں دیوبندی حنفی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں، اور دیوبندیوں کے مذہبی رہنماؤں کا عقیدہ وحدت الوجود کاہے ؛ لہذا میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ یہ عقیدہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یا کفر ہے؟

الحمد للہ:

اول:

دیوبندیوں کے متعلق تفصیلی گفتگو، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان کے عقائد سے بالکل بری ہیں ،ایسے مصادر و مراجع کے ساتھ بیان کی گئی ہے جو دیوبندیوں  کے عقائد، نظریات اور اہداف کی وضاحت کرتے ہیں، ہماری ویب سائٹ پر گزر چکی ہے ، اس گفتگو کو پڑھنے کے لیے ملاحظہ کریں فتوی نمبر: (435) اور(437)

دوم:

جو شخص دیوبندی مذہب، اس کے مراحل اور ان کے ائمہ کے عقائد پر گفتگو کرنے والے لٹریچر کا مطالعہ کرے گا اس کیلئے یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ان کے مشہور قائدین عقیدہ بیان کرتے ہوئے تناقض اور تصادم کا شکار ہیں، یا کم از کم یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے بعض عقائد میں تناقض پایا جاتا ہے، جس کا سبب یہ ہے کہ اس فرقہ نے عقائد کو ان آلائشوں سے پاک وصاف کرنے کا کوئی اہتمام نہ کیا جن سے عقیدہ گدلا ہو جاتا ہے، اور نہ ہی تحقیق و سوچ و بچار کے طریقہ  کار میں نکھار کے لئے کوئی جد و جہد کی، ہاں ایک چیز ان میں مشترک ہے وہ یہ کہ ان کے عقیدہ میں  فاسد نظریات اور باطل اعتقادات کی بھر مار ہے جو کہ سراسر قرآن و حدیث اور اجماعِ علما کے مخالف ہیں ۔

ان باطل عقائد میں سے ایک نظریہ "وحدت الوجود" بھی ہے یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ ہر موجود چیز بذات خود اللہ ہے، اس عقیدہ کے حاملین کو "اتحادیہ" بھی کہا جاتا ہے، یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ اس طرح ملا ہوا ہے کہ تمام  موجودات متعدد وجود کی بجائے ایک ہی وجود بن گیا ہے !!

ان لوگوں کے ہاں اس عقیدے کا حامل ہی موحد ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسے لوگ توحید سے کوسوں دور ہیں۔

اس عقیدہ کی تعریف اور اس کے باطل ہونے کی مکمل وضاحت فتوی نمبر : (433)اور (434) میں گزر چکی ہے ۔

اس عقیدے  کا اقرار دیوبندیوں کے اکابر ائمہ اس قدر وضاحت سے کر چکے ہیں کہ جس سے کوئی بھی منصف مزاج محقق انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کی کوئی حیلہ جوئی کر سکتا ہے، ہم یہاں چند واضح اور صریح اقوال نقل کرتے ہیں ،ایسے اقوال ذکر نہیں کرینگے جن کی تاویل کی جاسکتی ہے  تاکہ گفتگو طوالت اختیار نہ کر جائے:

دیوبندیوں کے شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (متوفی 1317ھ)کا کہنا ہے کہ :
"وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنا ہی حق اور سچ ہے"  انتہی

شیخ امداد اللہ کی تصنیف "شمائم امدادیہ "(ص/32)

بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ:
"عابد اور معبود کے درمیان فرق کرنا ہی صریح شرک ہے "  صفحہ: (37) 

اور تلبیس  ابلیس کے زیر اثر ان غلط نظریات کیلئے بے مہار وسعت سے کام لیا اور اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس خطرناک بات کا اضافہ کرتے ہوئے لکھا :
"بندہ اپنے وجود سے پہلے مخفی طور پر رب تھا اور رب ہی ظاہر میں بندہ ہے"[العیاذباللہ]
دیکھیں: "شمائم امدادیۃ "صفحہ: (38)

فضل حق خیر آبادی کا لکھنا ہے کہ:
"اگر رسولوں کو وحدت الوجود کی طرف دعوت کا مکلف ٹھہرایا جاتا تو رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا، چنانچہ ان کو حکم ہوا کہ وہ لوگوں کی عقل و سمجھ کو ملحوظ رکھتے ہوئے دعوت دیں "
دیکھیں: کتاب "الروض المجود" از: فضل حق خیر آبادی صفحہ: (44)

محمد انور شاہ کشمیری (متوفی1352ھ)جن کو امام العصر کا لقب دیا گیا ہے، ایک حدیث کی شرح میں انکا لکھنا ہے کہ:
"حدیث میں وحدت الوجود کی طرف اشارہ ملتا ہے، ہمارے مشائخ شاہ عبد العزیز کے زمانے تک اس مسئلہ کے بڑے گرویدہ تھے، لیکن میں اس مسئلہ میں متشدد نہیں ہوں "
دیکھیں: "فیض الباری شرح صحیح البخاری"(4/428)

صوفی اقبال محمد زکریا کاندہلوی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"اس نے ہمیں وحدت الوجود کا راز معلوم کروایا، وہ ایسے کہ انہوں نے ہی ہمیں بتایا کہ عشق، معشوق اور عاشق سب ایک ہی ہیں "انتہی
ماخوذ از کتاب: "محبت" صفحہ: (70)

"تعلیم الاسلام" کے مصنف کا کہنا ہے کہ:
"یہاں پر تصوف کا ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے اور وہ ہے " وحدت الوجود" جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر موجود چیز اللہ ہے، اور اس کے علاوہ کسی وجود کا ہونا صرف وہم اور خیال ہے ۔۔۔ چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ مشائخ کا یہ کہنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی وجود نہیں، بالکل درست ہے۔
دیکھیں: کتاب "تعلیم الاسلام" صفحہ:( 552)

یہ تمام اقتباس  ہم نے شیخ ابو اسامہ سید طالب الرحمن (مدیر: المعھد العالی راولپنڈی، پاکستان)کی کتاب "الدیوبندیہ"(ص/29-42) مطبوعہ دار صمیعی (1998ء)سے نقل کی ہیں۔

چونکہ وہ تمام مراجع جن سے عبارات نقل کی گئی ہیں عربی میں نہیں ہیں ،مزید یہ کہ دیوبندی علماء کی عربی تصنیفات بہت کم ہیں، اس لئے ہم براہ راست ان کتابوں سے رجوع نہیں کر سکے ، اور اسی لئے اس کتاب[الدیوبندیہ]پر اعتماد کیا گیا ہے کیونکہ یہ کتاب اس بارے میں اہم مأخذ ہے۔

سوم:

عقیدہ "وحدت الوجود" کے باطل ہونے پر علما کا اتفاق ہے ، ان کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ عقیدہ کفریہ اور شرکیہ ہے، چونکہ یہ عقیدہ ایسے نظریات پر مشتمل ہے جو حقیقی عقیدہ توحید جو کہ دین اسلام کا نچوڑ اور خلاصہ ہے اسے ختم کر دیتا ہے، اس لئے علما اس عقیدہ کو ختم کرنے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں ­۔

اس نظریے کہ باطل ہونے کے دلائل قرآن و حدیث اور عقلِ سلیم  سے بے شمار تعداد میں ملتے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں :

اللہ عزوجل فرماتا ہے:
{ وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءاً إِنَّ الإِنسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ}
ترجمہ :اور ان لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزو بنا ڈالا، بلاشبہ انسان صریح کفر کا مرتکب ہے ۔ [الزخرف:15]

ایک جگہ فرمایا:
{ وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ. سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ }
ترجمہ: نیز ان لوگوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا ڈالی، حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ[مجرم کی حیثیت سے]پیش کئے جائیں گے ، اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں ۔[الصافات:159]

دیکھیں: کیسے اللہ تعالی نے ان لوگوں پر کفر کا حکم لگایا ہے جنہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا حصہ قرار دیا، اور بعض مخلوق کی اللہ تعالی کیساتھ رشتہ داری بیان کی ،تو اس شخص کا کیا حکم ہوگا جو خالق اور مخلوق کا ایک ہی وجود مانے!؟

ایک مسلمان سے کیسے ممکن ہے کہ وہ وحدت الوجود کا عقیدہ رکھے حالانکہ اس کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، وہ کیسے قدیم اور ازلی خالق کو اور نو پید مخلوق کو ایک کہہ سکتا ہے!! حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئاً}
ترجمہ: پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا حالانکہ تم معدوم تھے [مریم :9]

اور اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے:
{ أَوَلا يَذْكُرُ الإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا }
ترجمہ: کیا انسان کو یہ یاد نہیں ہے کہ پہلے بھی ہم نے اسے پیدا کیا حالانکہ وہ معدوم تھا [مریم:67]

قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا قرآن مجید کے نظم اور خطاب میں موجود مسلمہ واضح حقائق جان لے گا کہ مخلوق  اور خالق ایک چیز نہیں ہو سکتے؛ جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ}
ترجمہ: اللہ کے سوا جن چیزوں کو وہ پوجتے ہیں وہ چیزیں آسمانوں اور زمیں سے رزق مہیا کرنے کا بالکل اختیار نہیں رکھتیں [النحل : 73]

چنانچہ جواس حقیقت کی مخالفت کرتا ہے، تو وہ قرآن اور دین کی حتمی اور فیصلہ کن نصوص کی مخالفت کرتا ہے ۔

مزید بر آں جو قباحتیں  وحدت الوجود کے دعوے سے لازم آتی ہیں ،اس باطل عقیدے کی تردید کے لئے کافی ہیں ، جواس عقیدے پر ایمان لے آتا ہے تو اس کی حالت اسے بد کاری کے حلال اور ایمان و کفر کے درمیان برابری قرار دینے پر مجبور کر دے گی، کیونکہ ان کے وہم و گمان کے مطابق دعوی یہ ہے کہ عقائد کا انحصار ایک وجود کے ساتھ ایمان لانے پر ہے ، اس عقیدے سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ عز و جل کی گھٹیا ترین مخلوقات، چوپاؤں ، پلید اشیا وغیرہ کی طرف کی جائے ، اللہ تعالی ان کے شاخسانوں سے بہت بلند و بالا ہے ۔

ہم یہاں انہی دیوبندیوں ہی کی کتابوں سے بعض ایسی باطل چیزوں کا ذکر کریں گے جو اس عقیدے کی وجہ سے لازم آتی ہے [یعنی ایسی چیزیں جواس عقیدہ  کو ماننے سے ماننا پڑیں  گی] اگر ہم دیگر مسالک کی قدیم و جدید کتب سے یہ لوازم ذکر کرنا شروع کر دیں تو بات بہت طول اختیار کر جائے گی۔

امتِ دیوبند کے حکیم اشرف علی تھانوی (1362ھ) امداد اللہ مکی -جو دیوبندیوں کے مرشدِ اول ہیں- سے بیان کرتے ہیں:
"کہ ایک موحد [ان کے مطابق ایسا شخص جو وحدت الوجود کا قائل ہو]سے یہ کہا گیا کہ:
" اگر مٹھائی اور پا خانہ ایک ہی چیز ہیں تو دونوں کھا کر دکھاؤ" !تو اچانک اس موحد نے ایک خنزیر کا روپ دھارا اور پا خانہ کھا گیا[!!]، پھر آدمی کی صورت اختیار کر کے مٹھائی کھا گیا "

پھر  لا دینیت  اور صنم پرستی پر مشتمل سطور بالا کو نقل کر کے اس کی شرح میں اشرف علی جنہیں [ان کے ہاں ]حکیم الامت !! کا لقب دیا جاتا ہے ان کا لکھنا ہے:
"یہ اعتراض کرنے والا بھی کوئی بے وقوف ہی تھا؛ اسی  لئے موحد کو ایسا مجبوراً کرنا ، ورنہ جواب تو واضح تھا، وہ یہ کہ مٹھائی اور پاخانہ حقیقت میں ہی چیز ہیں اگر چہ ان کا حکم اور اثرات مختلف ہیں "
دیکھیں: اشرف علی تھانوی کی کتاب "امدادالمشتاق" صفحہ: ( 101)
یہ عبارت ہم نے شمس الدین افغانی کی کتاب "جھودعلماءالحنفیۃ فی ابطال عقائدالقبوریۃ" (2/790۔791)سے نقل کی ہے

رشید احمد گنگوہی نے لکھا ہے:
"سہارنپور شہر کی بہت سی زانیہ عورتیں پیر ضامن علی جلال آبادی –جو کہ دیوبندیوں کے اکابرین میں سے ہیں- ان کی مرید تھیں ، ایک دن آپ ان میں سے کسی ایک کے ہاں قیام فرما تھے، کہ سبھی وہاں جمع وہاں ہوگئیں لیکن ان میں سے ایک غائب تھی، شیخ نے اس کے غائب ہونے کا سبب دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ: حضور ہم نے تو اسے آپ کی زیارت کیلئے لانے کیلئے بڑے جتن کئے، لیکن اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا: "میں گناہوں میں لت پت ہوں، کالے منہ کو لیکر کیسے پیر صاحب کے سامنے آسکتی ہوں"؟ ۔پیر صاحب نے اصرار کیا کہ اسے ضرور حاضر کیا جائے، جب وہ اسے لیکر آئیں اور وہ  پیر صاحب کے سامنے کھڑی ہوئی ۔۔۔ تو پیر صاحب نے کہا:  شرماتی کیوں ہو ؟کرنے والا اور کرانے والا خود وہی تو ہے [!!] جوں ہی اس فاحشہ نے پیر صاحب کی یہ بات سنی تو غصے سے لال پیلی ہو کر بولی: " لا حول و لا قوۃ الا باللہ ،میں اگرچہ نافرمان اور سیاہ کار ہوں لیکن میں اس جیسے پیر سے مکمل طور پر بری ہوں اور فورا! وہاں سے اٹھی اور چلی گئی اور پیر صاحب ندامت اور شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھے رہے"
مکمل قصہ ملاحظہ فرمائیں عاشق الہی میرٹھی کی کتاب "تذکرۃ الرشید" (2/242)

ہم نے اسے شیخ ابو اسامہ کی کتاب "الدیوبندیہ "صفحہ: ( 40)سے نقل کیا ہے ۔

ہم اللہ سے سلامتی و عافیت کا سوال کرتے ہیں ،اور ہدایت سے بھٹکے لوگوں کی ہدایت کی امید کرتے ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ کہنا کہ ہر چیز کا وجود اللہ تعالی کا وجود ہی ہے، یہ لادینیت کی انتہا ہے، مشاہدات، عقل اور شریعت سے اس عقیدے کی خرابی واضح ہے، اس قسم کی لا دینیت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کو ثابت کیا جائے اور اس کی مخلوقات سے مشابہت کی نفی کی جائے، یہی اللہ پر ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کا دین اور طریقہ کار ہے "
"درء تعارض العقل و النقل "(1/283)

اور مزید کہتے ہیں:
" اتحادِ مطلق کا نظریہ  وحدت الوجود کے قائلین کا ہے، انکا یہ دعوی ہے کہ مخلوق کا وجود اللہ ہی کا وجود ہے، یہ حقیقت میں [مخلوق کو ] بنانے والے[اللہ تعالی ]کی نفی اور اس کا انکار ہے، بلکہ یہ عقیدہ تمام شرکیات کا مجموعہ ہے "
"مجموع الفتاوی "(10/59)

مزید کہتے ہیں:
"ایک عقیدہ "وحدت الوجود "جس کے مطابق : خالق اور مخلوق کا وجود ایک ہی ہے ، ابن عربی ،ابن سبعین ،تلمسانی اور ابن فارض وغیرہ اسی کے قائل ہیں، اس قول کا شرعی اور عقلی لحاظ سے باطل ہونا یقینی طور پر ثابت ہے"
"مجموع الفتاوی"(18/222)

اس عقیدے کے لوازم بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے کہا:
"اس-ابن عربی - کے مذہب کی حقیقت یہ ہے کہ تمام کائنات کا وجود-بشمول کتے، خنزیر، گندگی، پیشاب  و پاخانہ ،کفار اور شیاطین - عین حق تعالی کاہی وجود ہے، اور کائنات کی تمام اشیا زمانہ قدیم سے ہی موجود ہیں، اللہ تعالی نے ان کو نئے سرے سے پیدا نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالی کا وجود ان تمام چیزوں  [یعنی تمام صاحب الوجود موجودات]میں ظاہر ہوا، اللہ کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ ان ذوات کے علاوہ کسی اور چیز میں اپنے وجود کو ظاہر کرے، یہ تمام چیزیں احکامات کی شکل میں اس کی غذا ہیں اور وہ [حق تعالی]وجود کے ذریعے ان مخلوقات کی غذا ہے، اللہ ان کی اور یہ اللہ کی عبادت کرتی ہیں ،اور یہ کہ خالق کی ذات بعینہ مخلوق کی ذات ہے، اور حق تعالی کی ذات جو ہر نقص و عیب اور مشابہت  سے پاک ہے وہ بعینہ ایسی مخلوق کی ذات ہے جو دوسروں سے مشابہت رکھتی ہے ،اور یہ کہ خاوند ہی بیوی ہے ،گالی دینے والا خود اپنی ذات کو ہی گالی دے رہا ہے ،اور یہ کہ بتوں کے پجاری در اصل اللہ ہی کی عبادت کر رہے ہیں، اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت ممکن ہی نہیں ہے ۔

اور یہ کہ اللہ تعالی کے فرمان:
{وَقَضَی رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوْا إِلَّا إِيَّاهُ}
ترجمہ: تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو[الاسراء: 23]

اس میں "قَضَی" کا معنی ہے: "حکم دیا اور فیصلہ کیا"  اور اللہ کا فیصلہ لامحالہ واقع ہو کر ہی رہتا ہے، چنانچہ  ہر معبود میں [دراصل ]غیر اللہ کی عبادت نہیں ہے[بلکہ جس کی بھی عبادت ہو وہ دراصل اللہ ہی کی عبادت ہے ]اور یہ کہ صنم پرستوں کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے عبودیت کے دائرہ عمل میں سے کچھ کی عبادت کی ہے، اگر وہ ہر چیز کی عبادت کرتے تو کامل ترین عارفین [اللہ کی صحیح معرفت رکھنے والے لوگ]میں سے ہوتے، اور یہ کہ عارف کامل جانتا ہے کہ اس نے کس کی عبادت کی ہے اور [حق تعالی ] کس صورت میں ظاہر ہوا ہے تاکہ اس کی پرستش  کی جائے، اور یہ کہ نوح علیہ السلام نے مذمت والے انداز میں اپنی قوم کی تعریف کی ہے، اور یہ کہ مخلوقات کی ذات بعینہ خالق کی ذات ہے، اور جناب ہارون علیہ السلام نے بچھڑے کی پوجا کرنے پر قوم کی مذمت کی تو موسی علیہ السلام کی طرف سے اظہار ناراضی کی وجہ صرف یہ تھی کہ ہارون علیہ السلام نے قوم پر تنگی اور سختی کی اور یہ بھی نہ جان سکے کہ انہوں نے تو صرف اللہ کی ہی عبادت کی ہے !!

اور یہ کہ جادوگروں نے فرعون کے اس قول :{أَنَا رَبُّکُمْ الْأَعْلَی} (کہ میں ہی تم سب کا معبود اکبر ہوں )[النازعات :24]اور {مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرِیْ}(میں اپنے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں جانتا) [القصص:38]کی سچائی کو جان لیا تھا ۔

اسی طرح کی اور بہت سی باتیں ماننا لازم آئیں گی، جن کا اعتقاد کوئی بھی شخص نہیں رکھتا خواہ وہ مسلمان ہو یا یہودی یا عیسائی ہو، یا صابی اور مشرک، یہ تو صرف معطلہ کا مذہب ہے جو مخلوق کو بنانے والے اللہ تعالی کے وجود کے ہی منکر ہیں ،وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمام جہانوں کا پالنہار ہے اور تمام مخلوقات کو بنانے والا ہے ۔فرعون اور قرامطہ باطنیہ فرقہ جو رب العالمین کے انکاری ہیں ،ان کے نظریات کی حقیقت  اور مطلب یہی ہے " انتہی

"جامع المسائل "ساتوں ایڈیشن(1/247-248)

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...