Showing posts with label والدین سے حسن سلوک. Show all posts
Showing posts with label والدین سے حسن سلوک. Show all posts

Wednesday, August 15, 2018

٤٥٦-كھانے پينے اور نماز كے معاملہ ميں بيٹے كا والدہ سے جھگڑا كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميرا بھائى بہت موٹا ہے اور بہت زيادہ كھاتا ہے، جب بھى والدہ اسے كم كھانے كى نصيحت كرتى اور دھمكى ديتى ہے كہ اگر اس نے بات نہ مانى تو وہ اس سے ناراض ہو جائيگى، تو بھائى جواب ديتا ہے كہ:
كھانا حرام تو نہيں، اور والدہ كو كسى حلال كام سے منع كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں ؟
اور وہ نماز بھى مسجد ميں ادا نہيں كرتا، والدہ جب بھى اسے مسجد نہ جانے كا سبب پوچھتى ہے تو وہ جواب ديتا ہے: نماز باجماعت سنت مؤكدہ ہے جيسا كہ امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے.
اور وہ اذان كے بعد نماز كو بہت ليٹ كر كے ادا كرتا ہے، ہم جب بھى اسے كہتے ہيں كہ وقت پر نماز ادا كيوں نہيں كرتے تو جواب ديتا ہے كہ: ميں نماز كے مقرر كردہ وقت سے ليٹ تو نہيں كرتا، اس ليے كہ نماز كے اوقات معروف ہيں جو اذان اور اقامت كے ساتھ ملے ہوئے نہيں، ہم اس كا جواب كيا ديں ؟

الحمد للہ :

اول:

يقينا اللہ تعالى كا اپنے بندوں پر سب سے عظيم احسان يہ ہے كہ اس نے زمين ميں ہر چيز اس كے ليے مسخر كر ركھى ہے، اور اس پر نعمتيں نازل فرمائى اور ان كے ليے پاكيزہ اشياء كھانے پينے اور پہننے كے ليے مباح كى ہيں.

ليكن اللہ تعالى نے ان اشياء كے استعمال ميں اسراف كرنے يا پھر اس ميں ايسى رخصت تلاش كرنا جس ميں اسے ضرر اور اذيت ہو يا وہ اسے اس كے دين و دنيا ميں زيادہ نفع والى چيز كے آڑے آرہى ہو ميں مشغول ہونے والے كى مذمت بھى كى ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿كھاؤ پيئو اور اسراف و فضول خرچى مت كرو، كيونكہ اللہ تعالى فضول خرچى اور اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا ﴾الاعراف ( 31 ).

دوم:

ابن آدم كے ليے سب سے زيادہ ہلاكت اور تباہ كرنے والى اشياء ميں پيٹ كى شہوت ہے، اور پھر پيٹ شہوات كا منبع اور بيماريوں اور آفات كى جڑ ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" آدمى كے ليے سب سے برى چيز اس كا بھرا ہوا پيٹ ہے، ابن آدم كے ليے تو اس كى پيٹھ سيدھى ركھنے كے ليے چند لقمے ہى كافى ہيں، اگر وہ اس كے بغير نہيں رہ سكتا تو ايك تہائى كھانے كے ليے، اور ايك تہائى پينے اور ايك تہائى حصہ سانس لينے كے ليے ركھے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2380 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يعنى ابن آدم صرف اتنا كھائے جو اس كى پيٹھ كو سيدھا ركھے، اور اس سے زيادہ نہ كھائے، ليكن اگر وہ اس سے زيادہ كھانا ہى چاہتا ہے تو پھر اتنا پيٹ بھر كر كھا سكتا ہے كہ پيٹ كے تين حصے كرے ايك حصہ كھانے، اور ايك حصہ پينے اور تيسرا حصہ سانس لينے كے ليے ركھے، اس سے زيادہ مقدار ميں نہ كھائے.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

دور جاہليت ميں عقلمند اور دانشور كم كھانے كى تعريف كيا كرتے تھے:

حاتم طائى كا قول ہے:

اگر تو نے پيٹ اور شرمگاہ كو اس كى مطلوبہ اشياء دے ديں تو دونوں خون كى انتہائى مقدار حاصل كر لينگے.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 669 ).

اور اگر انسان اتنا زيادہ كھا لے كہ يہ اس كے ليے ضرر اور نقصان كا باعث بنے تو يہ حرام ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا زيادہ كھانا حرام ہے ؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

" جى ہاں مسلمان كے ليے اتنا زيادہ كھانا كہ اس سے ضرر اور نقصان ہو حرام ہے؛ كيونكہ يہ اسراف ميں شامل ہوتا ہے، اور اسراف حرام ہے.

اس كى دليل اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اے بنى آدم مسجد ميں حاضر كے وقت لباس پہن ليا كرو، اور كھاؤ پيؤ اور اسراف نہ كرو كيونكہ اللہ تعالى اسراف كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا﴾ الاعراف ( 31 ). انتہى

ديكھيں فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 329 ).

سير ہو كر اور پيٹ بھر كر كھانے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ترہيب وارد ہوئى ہے، يہ اس ليے كہ ايسا كرنا روز قيامت بھوك كا باعث ہو گا.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كى پاس ڈكار ليا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہم سے اپنا ڈكار روك كر ركھو، كيونكہ دنيا ميں اكثر سير رہنے والا شخص روز قيامت سب سے زيادہ مدت بھوكا رہے گا "

جامع ترمذى حديث نمبر ( 2015 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجشاء: سير ہونے كى صورت ميں انسان سے ہوا كے ساتھ خارج ہونے والى آواز كو كہا جاتا ہے.

ابن ابى الدنيا اور طبرانى نے كبير اور الاوسط ميں اور بيہقى نے ابو جحيفہ سے يہى روايت بيان كى ہے اور اس ميں انہوں نے يہ زيادہ كيا ہے كہ:

ابو جحيفہ نے موت تك پيٹ بھر كر نہيں كھايا، جب وہ دوپہر كا كھانا كھا ليتے تو رات كو نہ كھاتے، اور جب رات كو كھا ليتے تو دوپہر كا كھانا نہ كھاتے.

اور ابن ابى الدنيا كى ايك روايت ميں ہے:

ابو جحيفہ كہتے ہيں: ميں تيس برس سے اپنا پيٹ نہيں بھرا.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى.

زيادہ كھانا ترك كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ كھانا بتدريج اور آہستہ آہستہ كم كيا جائے، اس ليے كہ جو شخص زيادہ كھانے كا عادى ہو اور يكبارگى كھانے ميں كمى كرنے پر اس ميں كمزورى اور نقاہت آ جائيگى، اور اس كى مشقت بڑھ جائيگى، اس ليے اسے تھوڑا تھوڑا كھانا كم كرنا چاہيے، وہ اس طرح كہ عادتا كھانے ميں كچھ كمى كرتا رہے حتى كہ كھانے اعتدال حد ميں چلا جائے.

سوم:

اگر نماز باجماعت كى ادائيگى سنت مؤكدہ ہے، يا پھر اول وقت ميں نماز ادا كرنا افضل ہے تو اس كا معنى يہ ہوا كہ ہميں اس كو مضبوطى سے تھامنا چاہيے، اور اس كى مداومت اور حرص كريں، نہ كہ اس كى ادائيگى ميں سستى و كاہلى سے كام ليں، ہميں اللہ تعالى كا شكر بجا لانا اور اس كى تعريف كرنى چاہيے كہ اس نے ہمارے ليے عبادت اور خير كے طريقے، اور سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور ہميں اپنوں سے پہلى نسل اور سلف كے حال سے عبرت حاصل كرنى چاہيے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو وہ ان نماز پنجگانہ كى ادائيگى وہاں كرے جس جگہ اس كى اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ تعالى نے تمہارے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن ہدى مشروع كى ہيں، اور يہ نمازيں سنن ہدى ميں سے ہيں، اگر تم پيچھے رہ كر اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے والے شضص كى طرح گھروں ميں ہى نماز ادا كرنے لگو تو تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ترك كى تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح طہارت كر كے بہترين وضوء كرتا ہے پھر ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد كى طرف جاتا ہے تو اللہ تعالى ہر قدم كے بدلے اس كے ليے ايك نيكى لكھتا ہے، اور ايك درجہ بلند فرماتا ہے، اور اس كى ايك غلطى معاف كرتا ہے، ہم نے ديكھا ہے كہ اس نماز سے پيچھے صرف منافق ہى رہتا ہے جس كا نفاق معلوم ہو، ايك شخص كو دو آدميوں كے درميان پكڑ كر لايا جاتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا تھا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

يہ تو اس صورت ميں ہے جب ہم فرض كريں كہ نماز باجماعت ادا كرنا سنت مؤكدہ ہے، بہت سے سوالات كے جوابات ميں نماز باجماعت كے وجوب كا بيان ہو چكا ہے.

اس كى تفصيل آپ مندرجہ ذيل سوالات ميں ديكھ سكتے ہيں:

( 455 ) اور ( 448 ) اور ( 454 ) اور ( 450 ) اور ( 449 ).

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ ہميں اور آپ كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو اس كى محبت اور رضا كے باعث ہوں.

واللہ اعلم

Saturday, August 11, 2018

٢٤٦-غیر مسلم والدہ کیساتھ رہنے کا حکم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: غیر مسلم والدہ کیساتھ رہنے کا کیا حکم ہے؟ اور والدہ کیساتھ رہنے کیلئے بیوی کو بھی اسی گھر میں منتقل کرنا کیسا ہے؟

الحمد للہ:

بیٹا اپنی غیر مسلم والدہ کیساتھ رہے یا غیر مسلم ماں اپنے بیٹے کیساتھ رہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اگر بیٹا اپنی والدہ کیساتھ حسن سلوک سے پیش آئے تو یہ والدہ کے اسلام قبول کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے، ا س لیے ان کے سامنے اسلام اچھے انداز سے پیش کریں، اور کسی بھی ایسی حرکت سے باز رہیں جن سے ان کے اسلام قبول کرنے میں تاخیر ہو۔

چاہے والدین غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ایک مسلمان کو اپنے والدین کیساتھ ہر حالت میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ کسی بھی مسلمان کیلئے والدین کی نافرمانی یا ان کیساتھ بد سلوکی کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت کرے یا کفریہ امور میں ان کا ہمنوا بنے۔

1-             فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
ترجمہ: ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے ، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔[العنكبوت : 8]

2-             {وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}
ترجمہ: اور اگر   والدین تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، لیکن دنیا میں ان کیساتھ حسن سلوک کرو، میری طرف رجوع کرنے والوں کے راستے پر چلو، میری طرف ہی تم نے لوٹنا ہے ، تو میں تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دونگا۔ [لقمان : 15]

3-             اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : "میرے پاس میری والدہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تشریف لائیں ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں اور وہ مجھ سے کافی محبت کرتی ہیں، تو کیا میں صلہ رحمی کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں ، اپنی والدہ کیساتھ صلہ رحمی کرو)"
بخاری: ( 2477 )  مسلم :( 1003 )

4-             سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں کہ ان کی والدہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک سعد اسلام ترک نہ کر دے اس وقت تک اس سے بات نہیں کرے گی، اور نہ ہی کچھ کھائے پیے گی۔
چنانچہ سعد کی والدہ نے ان سے کہا: "تم کہتے ہو کہ تمہارا نبی والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے، تو میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اسلام چھوڑ دو" سعد کہتے ہیں کہ: میری والدہ تین دن تک بھوکی پیاسی رہیں اور آخر تاب نہ لا کر بیہوش ہوگئی، اس پر سعد کے ایک اور بھائی نے جس کا نام عمارہ تھا اٹھ کر پانی پلا دیا ، چنانچہ وہ ہوش میں آئی اور سعد کو بد دعائیں دینے لگی، تو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیات نازل کر دیں:

{وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي}
ترجمہ: ہم نے انسان کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ہے ، اور اگر والدین کی طرف سے تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کیا جائے ۔۔۔ [العنكبوت : 8]

اور اسی بارے میں یہ بھی ہے:
{ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا}
ترجمہ:  والدین کیساتھ دنیا میں حسن سلوک کرو۔[لقمان : 15] اس واقعہ کو مسلم (1748)نے روایت کیا ہے۔

5-             یہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا والدین کی طرف سے داڑھی منڈوانے کے متعلق حکم کے بارے میں فتوی ہے:
سوال: داڑھی منڈوانے کے بارے میں والدین کی اطاعت کے متعلق سوال ہے۔

شیخ نے جواب دیا:
"اس بارے میں والدین کی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ داڑھی رکھنا  اور اسے بڑھانا واجب ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (مونچھوں کو کاٹو اور داڑھی کو معاف کرتے ہوئے مشرکین کی مخالفت کرو)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (اطاعت نیکی کے کاموں کی ہوتی ہے) داڑھی کو بڑھانا  واجب ہے، فقہا کی اصطلاح کے مطابق سنت نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کے بارے میں حکم دینا اسے واجب قرار دیتا ہے، جب تک کوئی صارف موجود نہ ہو " انتہی
"مجموع فتاوى شیخ ابن باز " ( 8 / 377 – 378 )

مزید کیلئے سوال نمبر: (244) اور (245) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...