Showing posts with label جماعت کے ساتھ نماز. Show all posts
Showing posts with label جماعت کے ساتھ نماز. Show all posts

Wednesday, August 15, 2018

٤٥٥-مسجد ميں نماز باجماعت كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنے كا حكم كيا ہے، اور اس كى دليل كيا ہے ؟

الحمد للہ :

نماز باجماعت كے دلائل:

پہلى دليل:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور جب آپ ان ميں ہوں اور ان كے ليے نماز كھڑى كرو تو آپ كے ساتھ ايك گروہ نماز ادا كرے، اور چاہيے كہ وہ اپنا اسلحہ ساتھ ركھيں، اور جب وہ سجدہ كر ليں تو وہ ہٹ كر تمہارے پيچھے آ جائيں، اور پھر وہ گروہ آئے جس نے نماز ادا نہيں كى تو وہ آپ كے ساتھ نماز ادا كرے ﴾النساء ( 102 ).

وجہ استدلال:

پہلى وجہ:

اللہ سبحانہ وتعالى نے انہيں نماز باجماعت ادا كرنے كا حكم ديا، اور پھر دوسرے گروہ كو يہى حكم ديتے ہوئے فرمايا:

﴿ اور پھر وہ گروہ آئے جس نے نماز ادا نہيں كى تو وہ آپ كے ساتھ نماز ادا كرے ﴾

اس ميں نماز باجماعت فرض عين ہونے كى دليل ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے پہلے گروہ كى نماز باجماعت كى ادائيگى سے دوسرے گروہ كى نماز باجماعت ادا كرنا ساقط نہيں كى.

اور اگر نماز باجماعت سنت ہوتى تو اس كے ساقط ہونے والے عذروں ميں خوف كا عذر سب سے زيادہ اولى تھا، اور اگر يہ فرض كفايہ ہوتى تو پہلے گروہ كى ادائيگى سے دوسرے گروہ سے ساقط ہو جاتى.

لہذا اس آيت ميں نماز باجماعت فرض عين ہونے كى دليل پائى جاتى ہے.

اس كى تين وجوہات ہيں:

ـ اللہ سبحانہ وتعالى نے پہلے اس كا حكم ديا.

ـ پھر يہى حكم دوبارہ ديا.

ـ خوف اور جنگ كى حالت ميں بھى اسے ترك كرنے كى رخصت نہيں دى.

چوتھى دليل:

1 - صحيحين ميں ـ اور يہ الفاظ بخارى كے ہيں ـ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، ميں نے ارادہ كيا كہ ايندھن جمع كرنے كا حكم دوں اور وہ جمع ہو جائے تو پھر ميں نماز كے ليے اذان كا حكم دوں اور پھر كسى شخص كو لوگوں كى امامت كرانے كا حكم دوں اور پھر ميں ان مردوں كے پيچھے جاؤں اور انہيں گھروں سميت جلا ڈالوں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، اگر كسى كو معلوم ہو جائے كہ اسے موٹى سے گوشت والى ہڈى حاصل ہو گى، يا پھر اسے اچھے سے دو پائے كے كھر حاصل ہونگے تو وہ عشاء كى نماز ميں حاضر ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7224 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 651 ).

2 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" منافقين كے ليے سب سے بھارى عشاء اور فجر كى نماز ہے، اگر انہيں علم ہو كہ اس ميں كيا ( اجروثواب ) ہے تو وہ اس كے ليے ضرور آئيں چاہے گھسٹ كر آئيں، اور ميں نے ارادہ كيا ہے كہ نماز كى اقامت كا حكم دوں پھر ايك شخص كو نماز پڑھانے كا حكم دوں، اور پھر اپنے ساتھ كچھ آدمى ليكر جاؤں جن كے ساتھ لكڑيوں كا ايندھن ہو اور جو لوگ نماز كے ليے نہيں آئے انہيں گھروں سميت جلا كر راكھ كر دوں " متفق عليہ.

3 - امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ ہى سے روايت كى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اگر گھروں ميں عورتيں اور اولاد نہ ہوتى تو ميں عشاء كى نماز كھڑى كرتا، اور اپنے نوجوانوں كو حكم ديتا كہ جو گھروں ميں ہيں انہيں جلا كر راكھ كر دو "

4 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے ارادہ كو عملى جامہ اس ليے نہيں پہنايا كہ اس ميں وہ مانع موجو تھا جس كى انہوں نے خبر بھى دى، وہ يہ كہ گھروں ميں وہ افراد بھى ہيں يعنى عورتيں اور بچے جن پر نماز باجماعت فرض نہيں، اور اگر وہ ان گھروں كو جلا كر راكھ كر ديتے تو سزا ايسے افراد كو بھى مل جاتى جن پر نماز باجماعت واجب نہ تھى.

پانچويں دليل:

اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

" ايك نابينا شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے مسجد تك لانے كے ليے كوئى شخص نہيں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے كى رخصت دے دى، اور جب وہ جانے كے ليے پلٹا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے بلايا اور فرمانے لگے:

كيا تم نماز كے ليے اذان سنتے ہو ؟ تو اس نے جواب ديا: جى ہاں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر آيا كرو "

يہ نابينا صحابى ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالى عنہ تھے.

اور مسند احمد اور سنن ابو داود ميں عمرو بن ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں ميں نے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں نابينا ہوں، ميرا گھر دور ہے، اور مجھے لانے والا ميرى موافقت نہيں كرتا، كيا آپ مجھے گھر ميں نماز ادا كرنے كى رخصت ديتے ہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كيا تم اذان سنتے ہو؟ تو اس نے جواب ديا: جى ہاں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں تيرے ليے رخصت نہيں پاتا "

مطلق امر وجوب كے ليے ہے، تو پھر جب شارع اس كى صراحت كرتے ہوئے يہ كہہ ديں كہ نابينا اور دور گھر والا شخص جسے لانے والا بھى اس كے موافق نہ ہو كو بھى رخصت نہيں ہے، تو كيا حكم ہو گا.

اگر بندے كو اكيلے يا نماز باجماعت ادا كرنے كا اختيار ہوتا تو پھر اس طرح كا نابينا شخص اختيار كا زيادہ حقدار تھا.

چھٹى دليل:

ابو داود، ابو حاتم، اور ابن حبان نے صحيح ابن حبان ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے اذان سنى اور اس قبول كرنے ميں كسى عذر نہ روكا، ان سے عرض كيا گيا عذر كيا ہے ؟ تو انہوں نے جواب ديا: خوف يا بيمارى ، تو اس كى ادا كردہ نماز قبول نہيں ہو گى "

ساتويں دليل:

ابن مسعود رضى اللہ تعالى كہتے ہيں:

( جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو اسے يہ نمازيں وہاں ادا كرنے كا التزام كرنا چاہيے جہاں اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تمہارى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن الھدى مشروع كيں، اور يہ سنن الھدى ميں سے ہيں، اگر اپنے گھر ميں پيچھے رہنے والے شخص كى طرح تم بھى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرو تو تم نے اپنے نبى كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم اپنے نبى كى سنت ترك كرو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح وضوء كر كے ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد جائے تو ہر قدم كے بدلے اللہ تعالى ايك نيكى لكھتا اور ايك درجہ بلند كرتا، اور اس كى بنا پر ايك برائى كو مٹاتا ہے، ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

اور ايك روايت كے الفاظ ہيں:

اور انہوں نے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہميں سنن الھدى سكھائيں اور سنن ہدى ميں سے يہ ہے كہ جس مسجد ميں اذان ہو وہاں نماز باجماعت ادا كى جائے "

وجہ دلالت:

انہوں نے نماز باجماعت سے پيچھے رہنا ان مفافقين كى علامت بتائى جن كا نفاق معلوم ہو.

اللہ تعالى سے دعاء ہے كہ وہ اپنے ذكر و شكر اور اپنى حسن عبادت ميں ہمارى مدد و تعاون فرمائے.

واللہ اعلم

٤٥٠-مقيم اور مسافر دونوں پر نماز باجماعت واجب ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم كچھ لوگ اپنے گھروں اور اہل و عيال سے دور غير رہائشى جہاں پر كام كرتے ہيں، جہاں مساجد وغيرہ نہيں ہيں، ہم كام ميں اتنى ہى مدت صرف كرتے ہيں جتنى اپنے گھروں ميں، يعنى ہم اٹھائيس يوم كام كرتے، اور اٹھائيس يوم رخصت پر ہوتے ہيں، اور سارا سال يہى سلسلہ رہتا ہے، ملازمت كى ڈيوٹى كا دورانيہ بارہ گھنٹے ہے.
اس جگہ پر نماز باجماعت ادائيگى واجب ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

مسافر اور مقيم پر نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے.

سوال نمبر ( 448 ) اور ( 449 ) كے جوابات ميں اس كے وجوب كے دلائل بيان ہوئے ہيں، اس كا مطالعہ كريں.

چنانچہ آپ لوگوں پر نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے، ايك شخص اذان دے، اور پھر آپ لوگ نماز باجماعت ادا كريں.

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے مالك بن حويرث رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں اپنى قوم كے كچھ لوگوں كے ساتھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا، اور ہم نے آپ كے پاس بيس راتيں بسر كيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بڑے نرم دل اور مہربان تھے، جب انہوں نے ديكھا كہ ہم اپنے بيوى بچوں كے مشتاق ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" واپس چلے جاؤ، اور ان ميں جا كر رہو، اور انہيں تعليم دو، اور جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے اسى طرح نماز ادا كرنا، اور جب نماز كا وقت ہو جائے تو تم ميں سے ايك شخص اذان دے، اور تم ميں سب سے بڑا آدمى امامت كروائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 628 ).

ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" كسى بستى يا خانہ بدوش تين آدمى ہوں اور وہاں نماز نہ ادا كى جائے تو ان پر شيطان غلبہ پا چكا ہے، چنانچہ آپ جماعت كو لازم پكڑيں، كيونكہ عليحدہ اور اكيلى بكرى كو بھيڑيا كھا جاتا ہے"

سائب رحمہ اللہ تعالى ( حديث كے ايك راوى ) كہتے ہيں: يعنى نماز باجماعت كو لازم پكڑو.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 547 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

عون المعبود ميں ہے:

" الا قد استحوذ عليہم " يعنى وہ ان پر غالب آ چكا ہے.

" ياكل الذيب القاصيۃ " يعنى: ريوڑ سے دور رہ جانے والى اكيلى بكرى كو چرواہے سے دور ہونے كى بنا پر بھيڑيا كھا جاتا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا كانفرنس ميں شركت كے ليے جانے والے مسافروں كے گروپ پر مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنا لازم ہے يا نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى نے جواب ديا:

" اصل يہ ہے كہ اگر آپ ايسى جگہ ہوں جہاں بغير لاؤڈ سپيكر مسجد كى اذان سنيں تو آپ پر لوگوں كے ساتھ مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنا لازم ہے، ليكن اگر آپ مسجد سے دور ہوں اور لاؤڈ سپيكر كے بغير اذان نہ سن سكيں تو آپ اپنى جگہ پر ہى باجماعت نماز ادا كر ليں.

اور اسى طرح اگر آپ كى اس مہم ميں خلل پيدا ہوتا ہو جس كے ليے آئے ہيں تو آپ اپنى جگہ ہى باجماعت نماز ادا كرليں " اھـ

ديكھيں: فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 15 / 381 ).

واللہ اعلم

٤٤٩-مردوں كے ليے نماز باجماعت كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كيا مسجد قريب ہوتے ہوئے بھى گھر ميں نماز ادا كرنى جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ نماز صرف دو ہيں ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق صحتمند مردوں پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنى واجب ہے، اس كے بہت سے دلائل ہيں، جن ميں سے چند ايك يہ ہيں:

1 - فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اور جب آپ ان ميں ہوں اور انہيں نماز پڑھائيں تو ان ميں سے ايك جماعت آپ كے ساتھ نماز ادا كرے اور وہ اپنا اسلحہ ساتھ ركھيں، جب وہ سجدہ كر چكيں تو ہٹ كر پيچھے چلے جائيں، اور جس جماعت نے نماز ادا نہيں كى وہ آكر آپ كے ساتھ نماز ادا كرے ﴾النساء ( 102 ).

اس آيت سے استدلال كئى ايك وجوہ كى بنا پر ہے:

پہلى وجہ:

اللہ سبحانہ وتعالى نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو انہيں باجماعت نماز پڑھانے كا حكم ديا، پھر اللہ تعالى نے دوسرے گروہ كے بارہ ميں بھى دوبارہ يہى حكم ديتے ہوئے فرمايا:

﴿اور چاہيے كہ دوسرا گروہ جس نے نماز ادا نہيں كى آئے اور آپ كے ساتھ نماز ادا كرے﴾.

اس ميں دليل ہے كہ جب اللہ تعالى نے پہلے گروہ كے اس فعل كى ادائيگى كى بنا پر دوسرے گروہ سے اسے ساقط نہيں كيا تو يہ فرض عين ہونے كى دليل ہے.

اور اگر نماز باجماعت ادا كرنا سنت ہوتى تو سب عذروں ميں سے خوف كى عذر كى بنا پر يہ بالاولى ساقط ہوتى، اور اگر فرض كفايہ ہوتى تو پھر پہلے گروہ كى ادائيگى كى بنا پر ساقط ہو جاتى، لہذا اس آيت ميں نماز باجماعت فرض ہونے كى دليل پائى جاتى ہے، جو كہ تين وجوہات كى بنا پر ہے:

پہلى: پہلے اللہ تعالى نے اس كا حكم ديا، اور پھر دوبارہ حكم ديا، اور خالت خوف ميں بھى اسے ترك كرنے كى رخصت نہيں دى.

ابن قيم رحمہ اللہ كى كلام ختم ہوئى، ماخوذ از: كتاب الصلاۃ.

2 - دوسرى وجہ:

صحيحين ميں ـ اور يہ الفاظ بخارى كے ہيں ـ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، ميں نے ارادہ كيا كہ ايندھن جمع كرنے كا حكم دوں اور وہ جمع ہو جائے تو پھر ميں نماز كے ليے اذان كا حكم دوں اور پھر كسى شخص كو لوگوں كى امامت كرانے كا حكم دوں اور پھر ميں ان مردوں كے پيچھے جاؤں اور انہيں گھروں سميت جلا ڈالوں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، اگر كسى كو معلوم ہو جائے كہ اسے موٹى سے گوشت والى ہڈى حاصل ہو گى، يا پھر اسے اچھے سے دو پائے كے كھر حاصل ہونگے تو وہ عشاء كى نماز ميں حاضر ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7224 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 651 ).

العرق: باقى مانندہ گوشت لگى ہوئى ہڈى، يا پھر گوشت.

المرماۃ: بكرى كے پائے ميں دونوں كھروں كے درميان گوشت، اور ظلف گھوڑے كى طرح بكرى اور گائے كے كھر كو كہتے ہيں.

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نماز سے پيچھے رہ جانے والوں كو گھروں سميت جلانے كا اہتمام واضح بيان ہے كہ نماز باجماعت فرض ہے؛ وگرنہ مندوب اور جو چيز فرض نہيں اس سے پيچھے رہنے كى بنا پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا جلانا جائز نہ ہوتا ).

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 134 ).

مزيد دلائل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 448 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

جب يہ ثابت ہو گيا كہ نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنى واجب ہے اور مسجد ميں جماعت كے ساتھ نماز ادا كرنے كى استطاعت ركھنے والے مرد كے ليے گھر ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں، چاہے وہ اپنے گھر ميں نماز باجماعت ادا ہى كيوں نہ كرے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

نماز باجماعت ترك كرنا برائى اور منكر ہے، ايسا كرنا جائز نہيں، اور يہ منافقين كى صفات ميں سے ہے.

مسلمان پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا واجب ہے، جيسا كہ ابن ام مكتوم ـ جو كہ نابينا صحابى ہيں ـ كى حديث سے ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے انہوں نے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے مسجد تك لانے والا كوئى نہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے انہوں نے گھر ميں ہى نماز پڑھنے كى رخصت مانگى، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں رخصت دے دى، جب وہ جانے لگے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بلايا اور فرمانے لگے:

كيا تم نماز كى اذان سنتے ہو؟

تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تو پھر آيا كرو"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 635 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ بھى ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" جس نے اذان سنى اور نہ آيا تو اس كى بغير عذر كے نماز ہى نہيں "

اسے ابن ماجہ اور دار قطنى اور ابن حبان اور حاكم نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے كہا گيا كہ عذر كيا ہے ؟ تو انہوں نے فرمايا:

( خوف يا پھر مرض )

اور صحيح مسلم ميں ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ہم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عہد مبارك ديكھا، نماز باجماعت سے صرف منافق يا پھر مريض ہى پيچھے رہا كرتا تھا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

مقصد يہ ہے كہ: مومن پر مسجد ميں نماز ادا كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے مسجد قريب ہوتے ہوئے سستى و كاہلى اور گھر ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں " انتہى

اور يہ كہ مسجد ميں صرف دو شخص ہى كا نماز ادا كرنا اس بات كى تاكيد كرتا ہے كہ جماعت كے ساتھ حاضر ہوا جائے، تا كہ گناہ اور كمى و كوتاہى سے بچا جائے، اور ان دونوں اشخاص كو مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنے پر ابھارا جائے تا كہ كہيں ان ميں بھى سستى و كاہلى منتقل نہ ہو جائے.

اور دو يا دو سے زيادہ شخص جماعت كہلاتے ہيں.

ابن ھبيرہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( علماء كا اجماع ہے كہ نماز باجماعت كے ليے كم ازكم تعداد نماز جمعہ كے علاوہ جس سے فرضى نماز جماعت ہوتى ہے وہ دو افراد ہيں، ايك امام اور ايك مقتدى جو كہ امام كے دائیں جانب كھڑا ہو گا ).

ديكھيں: الافصاح ( 1 / 155 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( دو يا دو سے زيادہ افراد سے جماعت ہو جاتى ہے، اس ميں اختلاف كا ہميں كوئى علم نہيں ). انتھى

واللہ اعلم

٤٤٨-نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنے كے وجوب پر دلائل

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں ايك نيا مسلمان ہوں اور يہ معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ كيا مسلمان شخص كے ليے فرضى نماز مسجد ميں ادا كرنا افضل ہے، اور اس كى دليل كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

ہم اللہ سبحانہ وتعالى كا شكر اور اس كى تعريف كرتے ہيں جس نے آپ كو اسلام ميں داخل ہونے كا شرف بخشا، يہ ايسى عظيم نعمت ہے جس كا جتنا بھى شكر كيا جائے وہ بھى كم ہے.

دوم:

مسلمان كو يہ جاننا ضرورى ہے كہ نماز اسلام كا سب سے عظيم عملى ركن ہے، اور مسلمان و كافر كے مابين يہى حد فاصل ہے، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں آيا ہے:

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" آدمى اور شرك و كفر كے مابين حد نماز كا ترك كرنا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 82 ).

سوم:

نماز باجماعت كے حكم ميں فقھاء كرام كے كئى ايك اقوال ہيں:

ان ميں سب سے زيادہ صحيح قول يہ ہے كہ: نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے، اور شرعى دلائل بھى اسى پر دلالت كرتے ہيں.

عطاء بن ابى رباح، حسن بصرى، اوزاعى، ابو ثور رحمہم كا قول يہى ہے اور امام احمد كا ظاہرمذہب يہى ہے، امام شافعى رحمہ اللہ تعالى نے " المختصر المزنى " ميں بيان كرتے ہوئے كہا ہے:

" ميں بغير كسى عذر كے نماز باجماعت ترك كرنے كى رخصت نہيں ديتا "

شيخ ابن باز اور شيخ ابن عثيمين رحمہما اللہ نے بھى اسے اختيار كيا ہے.

اس كے وجوب پر درج ذيل دلائل دلالت كرتے ہيں:

1 - فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ جب آپ ان ميں ہوں اور ان كے ليے نماز كھڑى كو تو چاہيے كہ ان كى ايك جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھيار ليے كھڑى ہو، پھر جب يہ سجدہ كر چكيں تو يہ ہٹ كر تمہارے پيچھے آ جائيں اور وہ دوسرى جماعت جس نے نماز نہيں پڑھى وہ آجائے اور آپ كے ساتھ نماز ادا كرے ﴾النساء ( 102 ).

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

خوف كى حالت ميں جماعت كرانے كے متعلق اللہ تعالى كا يہ حكم اس كى دليل ہے كہ حالت امن تو زيادہ واجب ہے.

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 135 ).

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس آيت سے استدلال كئى ايك وجوہ كى بنا پر ہے:

پہلى وجہ:

اللہ سبحانہ وتعالى نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو انہيں باجماعت نماز پڑھانے كا حكم ديا، پھر اللہ تعالى نے دوسرے گروہ كے بارہ ميں بھى دوبارہ يہى حكم ديتے ہوئے فرمايا:

﴿اور چاہيے كہ دوسرا گروہ جس نے نماز ادا نہيں كى آئے اور آپ كے ساتھ نماز ادا كرے﴾.

اس ميں دليل ہے كہ جب اللہ تعالى نے پہلے گروہ كے اس فعل كى ادائيگى كى بنا پر دوسرے گروہ سے اسے ساقط نہيں كيا تو يہ فرض عين ہونے كى دليل ہے.

اور اگر نماز باجماعت ادا كرنا سنت ہوتى تو سب عذروں ميں سے خوف كى عذر كى بنا پر يہ بالاولى ساقط ہوتى، اور اگر فرض كفايہ ہوتى تو پھر پہلے گروہ كى ادائيگى كى بنا پر ساقط ہو جاتى، لہذا اس آيت ميں نماز باجماعت فرض ہونے كى دليل پائى جاتى ہے، جو كہ تين وجوہات كى بنا پر ہے:

پہلى: پہلے اللہ تعالى نے اس كا حكم ديا، اور پھر دوبارہ حكم ديا، اور خالت خوف ميں بھى اسے ترك كرنے كى رخصت نہيں دى.

ديكھيں كتاب: الصلاۃ و حكم تاركھا ( 137 - 138 ).

2 - فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور نماز قائم كرو، اور زكاۃ ادا كرتے رہو، اور ركوع كرنے والوں كے ساتھ ركوع كرو ﴾البقرۃ ( 43 ).

اس آيت سے وجہ استدلال يہ ہے كہ: اللہ سبحانہ وتعالى نے ركوع كرنے كا حكم ديا اور يہ نماز ہے، جسے ركوع سے تعبير اس ليے كيا كيونكہ نماز كے اركان ميں سے ہے، اور نماز كو اس كے اركان اور واجبات سے تعبير كيا جا سكتا ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اسے سجود، اور قرآن اورتسبيح كا نام ديا ہے تو پھر ارشاد ربانى ﴿ركوع كرنے والوں كے ساتھ﴾ كا كوئى اور فائدہ ہونا چاہيے اور يہ نمازيوں كى جماعت كے ساتھ كے علاوہ كچھ نہيں ہو سكتا، اور معيت اس كا فائدہ ديتى ہے.

جب يہ ثابت ہو گيا تو امر صفت يا حال كے ساتھ مقيد ہے، جب تك اس صفت يا حالت كے مطابق نہيں كيا جاتا اس پر عمل نہيں ہو گا؛ اگر يہ كہا جائے كہ يہ اس فرمان بارى تعالى سے ختم ہو جاتا ہے:

﴿ اے مريم تو اپنے رب كى اطاعت كر اور سجدہ كراور ركوع كرنے والوں كے ساتھ ركوع كر ﴾آل عمران ( 43 ).

عورت پر نماز باجماعت ادا كرنا واجب نہيں، كہا گيا ہے كہ: يہ آيت ہر عورت كے ليے نہيں بلكہ مريم كو يہ خاص حكم ديا گيا، بخلاف اس فرمان ہے:

﴿اور نماز قائم كرو، اور زكاۃ ادا كرو، اور ركوع كرنے والوں كے ساتھ ركوع كرو﴾.

مريم كو وہ خاصيت حاصل تھى جو دوسرى عورتوں كو نہيں؛ كيونكہ ان كى والدہ نے نذر مانى تھى كہ وہ اللہ تعالى اور اس كى عبادت كے ليے آزاد ہے اور مسجد ميں ہى رہے گى، وہاں سے نہيں نكلے گى، لہذا حكم ديا گيا كہ وہ اپنے اہل كے ساتھ نماز ادا كرے، اور جب اللہ تعالى نے سب عورتوں پر اسے چن ليا اور پاك كيا تو اسے اپنى طاعت كا حكم ديا جو باقى عورتوں كے علاوہ صرف اس كے ساتھ ہى خاص تھا.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اور جب فرشتوں نے كہا اے مريم يقينا اللہ تعالى نے تجھے چن اور پاك كيا اور جہان كى عورتوں پر چن ليا، اے مريم اپنے رب كى اطاعت كر اور سجد كر، اور ركوع كرنے والوں كے ساتھ ركوع كر ﴾آل عمران ( 42 - 43 ).

اگر يہ كہا جائے كہ: ركوع كرنے والوں كےساتھ ركوع كريں يہ ان كى ركوع كى حالت ميں ان كے ساتھ ركوع كرنے كے وجوب پر دلالت نہيں كرتا بلكہ جس طرح انہوں نے كيا اسى طرح كا عمل كرنے پر دلالت كرتا، جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اے ايمان والو اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو اور سچائى اختيار كرنے والوں كے ساتھ ہو جاؤ ﴾التوبۃ ( 119 ).

چنانچہ معيت فعل ميں مشاركت كا تقاضا كرتى ہے، اس سے اس ميں مقارنہ لازم نہيں آتا.

اس كا جواب يہ ہے كہ: حقيقت ميں مابعد كى ماقبل كے ساتھ مصاحبت ہو تو معيت ہوتى ہے، اور يہ مصاحبت مشاركت سے زائد امر كا فائدہ ديتى ہے، اور خاص كر نماز ميں.

اور اگر يہ كہا جائے كہ: جماعت كے ساتھ نماز ادا كرو، يا ميں نے جماعت كے ساتھ نماز ادا كى، تو اس سے ان كا جماعت ميں اكٹھے ہونے كے علاوہ كچھ اور ثابت نہيں ہوتا.

ديكھيں: الصلاۃ و حكم تاركھا ( 139 - 141 ).

3 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، ميں نے ارادہ كيا كہ ايندھن جمع كرنے كا حكم دوں اور وہ جمع ہو جائے تو پھر ميں نماز كے ليے اذان كا حكم دوں اور پھر كسى شخص كو لوگوں كى امامت كرانے كا حكم دوں اور پھر ميں ان مردوں كے پيچھے جاؤں اور انہيں گھروں سميت جلا ڈالوں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، اگر كسى كو معلوم ہو جائے كہ اسے موٹى سے گوشت والى ہڈى حاصل ہو گى، يا پھر اسے اچھے سے دو پائے كے كھر حاصل ہونگے تو وہ عشاء كى نماز ميں حاضر ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 618) صحيح مسلم حديث نمبر ( 651 ).

العرق: ہڈى.

المرماۃ: بكرى كے پائے ميں دونوں كھروں كے درميان گوشت.

الظلف: كھر.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" منافقين كے ليے سب سے بھارى عشاء اور فجر كى نماز ہے، اگر انہيں علم ہو كہ اس ميں كيا ( اجروثواب ) ہے تو وہ اس كے ليے ضرور آئيں چاہے گھسٹ كر آئيں، اور ميں نے ارادہ كيا ہے كہ نماز كى اقامت كا حكم دوں پھر ايك شخص كو نماز پڑھانے كا حكم دوں، اور پھر اپنے ساتھ كچھ آدمى ليكر جاؤں جن كے ساتھ لكڑيوں كا ايندھن ہو اور جو لوگ نماز كے ليے نہيں آئے انہيں گھروں سميت جلا كر راكھ كر دوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 626 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 651 ).

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نماز سے پيچھے رہنے والے لوگوں كے گھروں كو جلانے كا اہتمام كرنا نماز باجماعت واجب ہونے كا سب سے بڑا بيان ہے، كيونكہ يہ جائز نہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كسى مندوب اور اس چيز سے پيچھے رہنے والے كو جلا كر راكھ كريں جو فرض نہيں.

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 134 ).

صنعانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

يہ حديث نماز باجماعت فرض ہونے كى دليل ہے نہ كہ فرض كفايہ كى كيونكہ فرض كفايہ كى صورت ميں جب كچھ لوگ ادا كرليں تو دوسرے سزا كے مستحق نہيں ٹھرتے، اور كسى واجب اور فرض فعل كو ترك كرنے يا پھر حرام فعل كو سرانجام دينے والے كو ہى سزا ہوتى ہے.

ديكھيں: سبل السلام ( 2 / 18 - 19 ).

4 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

" ايك نابينا ( يہ ابن ام مكتوم رضى اللہ تعالى عنہ تھے ) شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے مسجد تك لانے كے ليے كوئى شخص نہيں، انہوں نے گھر ميں نماز ادا كرنے كى رخصت طلب كى، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے اپنے گھر ميں نماز ادا كرنے كى رخصت دے دى، اور جب وہ جانے كے ليے پلٹا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے بلايا اور فرمانے لگے:

كيا تم نماز كے ليے اذان سنتے ہو ؟ تو اس نے جواب ديا: جى ہاں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: پھر آيا كرو "

اور ابو داود حديث نمبر ( 552 ) اور ابن ماجہ حديث نمبر ( 782 ) كے الفاظ يہ ہيں:

" تيرے ليے رخصت نہيں "

امام نووى رحمہ اللہ تعالى نے اس حديث كى سند كے بارہ ميں صحيح يا حسن كہا ہے.

ديكھيں: المجموع ( 4 / 164 ).

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جب نابينا شخص كو رخصت نہيں، تو پھر آنكھوں والے شخص كو بالاولى رخصت نہيں ہو گى.

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 134 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نابينا شخص جسے مسجد ميں لانے كے ليے كوئى دوسرا شخص نہ تھا رخصت نہيں دى تو پھر اس كے علاوہ كسى دوسرے كے ليے بالاولى رخصت نہيں.

ديكھيں: المغنى قدامہ ( 2 / 3 ).

5 - ابن مسعود رضى اللہ تعالى كہتے ہيں:

( جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو اسے يہ نمازيں وہاں ادا كرنے كا التزام كرنا چاہيے جہاں اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تمہارى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن الھدى مشروع كيں، اور يہ سنن الھدى ميں سے ہيں، اگر اپنے گھر ميں پيچھے رہنے والے شخص كى طرح تم بھى اپنے گھروں ميں نماز كرو تو تم نے اپنے نبى كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم اپنے نبى كى سنت ترك كرو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح وضوء كر كے ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد جائے تو ہر قدم كے بدلے اللہ تعالى ايك نيكى لكھتا اور ايك درجہ بلند كرتا، اور اس كى بنا پر ايك برائى كو مٹاتا ہے، ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

اور ايك روايت كے الفاظ ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں سنن الھدى كى تعليم دى اور جس مسجد ميں اذان ہوتى ہے وہاں نماز ادا كرنا سنن ھدى ميں شامل ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

وجہ دلالت يہ ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز باجماعت سے پيچھے رہنے كو ان مفافقين كى علامت قرار ديا جن كا نفاق معلوم ہو؛ اور كسى مستحب فعل كا ترك اور كسى مكروہ فعل كو سرانجام دينا نفاق كى علامت نہيں.

اور جو شخص سنت ميں علامات نفاق تلاش كرے تو اسے يہ علامات كسى فريضہ كے ترك كرنے، يا پھر كسى حرام فعل كے ارتكاب ميں مليں گى، اور اس معنى كى تاكيد اس طرح فرمائى:

" جسے يہ اچھا لگتا ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو وہ ان نمازوں كى ادائيگى وہاں كرے جہاں اذان ہوتى ہے "

اور اسے ترك كر كے گھر ميں نماز ادا كرنے والے كو پچھے رہنے والا اور سنت كے تارك كا نام ديا، يہ سنت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا وہ طريقہ ہے جس پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم عمل پيرا تھے، اور ان كى وہ شريعت ہے جو انہوں نے اپنى امت كے ليے مشروع كى.

اس سے وہ سنت مراد نہيں كہ جو چاہے اس پر عمل كرلے، اور جو چاہے اسے ترك كردے؛ اور اگر وہ اسے ترك كردے توگمراہ نہيں ہوگا، اور نہ ہى يہ نفاق ى علامات ميں شامل ہوں، جيسا كہ چاشت كى نماز، اور قيام الليل، اور سوموار اور جمعرات كا روزہ ترك كرنا.

ديكھيں: الصلاۃ و حكم تاركھا صفحہ ( 146 - 147 ).

6 - اجماع صحابہ:

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

صحابہ كرام كا اجماع ہم اس كى نصوص بيان كرتے ہيں:

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كا قول گزر چكا ہے كہ: ہم ديكھتے تھے كہ اس سے پيچھے رہنے والا صرف معلوم نفاق والا منافق ہى ہوتا.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

جس نے اذان سنى اور بغير كسى عذر كے اسے قبول نہ كيا يعنى نماز كے ليے نہ آيا تو اس كى نماز ہى نہيں.

ابو موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

جس نے اذان سنى اور بغير عذر كے اسے قبول نہ كيا يعنى نماز كے ليے نہ آيا تو اس كى نماز ہى نہيں.

على رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

مسجد كے پڑوسى كى مسجد كے علاوہ كہيں نماز ہى نہيں ہوتى، ان سے كہا گيا: مسجد كا پڑوسى كون ہے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: جس نے اذن سنى.

حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

جس نے اذان سنى اور بغير كسى عذر كے نماز كے ليے نہ آيا تو اس كى نماز سر سے اوپر نہيں جاتى.

على رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے:

مسجد كے پڑوسيوں ميں سے جس نے بھى اذان سنى اور وہ صحيح و تندرست ہو تو بغير كسى عذر كے اس كى نماز نہيں.

الصلاۃ و حكم تاركھا ( 153 ).

دلائل تو بہت ہيں ليكن ہم انہيں پر اكتفا كرتے ہيں، مزيد تفصيل كے ليے آپ حافظ ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كى كتاب: " الصلاۃ و حكم تاركھا " كا مطالعہ كر سكتے ہيں، اس ميں بہت تفصيل اور فوائد ہيں.

اور اس كے علاوہ شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كا " وجوب اداء الصلاۃ فى جماعۃ " كے موضوع پر رسالہ بھى مفيد ہے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...