Showing posts with label غسل. Show all posts
Showing posts with label غسل. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

٩٠٣-عورت نے غسل كر كے نماز ادا كر لى ليكن بال نہ دھوئے


س-بعض اوقات ميں غسل جنابت يا حيض سے غسل كرتى ہوں تو سر كے بال نہيں دھوتى، كيونكہ بالوں كى ميڈياں كى ہوتى ہيں، چنانچہ اس كا حكم كيا ہے، اس كے متعلق معلومات فراہم كريں اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

الحمد للہ:

يہ بہت بڑى غلطى ہے، ايسا كرنا جائز نہيں، اس بنا پر نماز كى ادائيگى صحيح نہيں، بلكہ آپ كے ليے سارے بدن كو دھونا ضرورى ہے، اور اس ميں بال بھى شامل ہيں، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں ہے:

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميں نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے بالوں كى ميڈياں بہت سخت ہيں، كيا ميں غسل جنابت ميں انہيں كھولا كروں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

نہيں، بلكہ تيرے ليے يہى كافى ہے كہ تم اپنے سر پر تين چلو پانى ڈال ليا كرو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 330 ).

اس ليے اگر آپ كے بالوں كى ميڈياں بنى ہوئى ہيں تو آپ انہيں دھو ليں اور بغير كھولے ہى انہيں جڑوں تك تر كريں ايسا كرنا ضرورى ہے، آپ كى نماز صحيح نہيں كيونكہ آپ نے غسل جنابت نہيں كيا، اس ليے كہ غسل جنابت ميں سارے بدن پر پانى بہانے كى شرط ہے، جس ميں بال ميں شامل ہيں اور اسى طرح حيض يا نفاس سے طہارت كے ليے غسل كرنے ميں بھى ايسا ہى كرنا ہوگا.

اس ليے آپ ان نمازوں كى قضاء ادا كريں جو آپ نے اس حالت ميں ادا كى ہيں كہ غسل جنابت يا حيض كے غسل ميں بال نہيں دھوئے.

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 53 ).

واللہ اعلم

Monday, August 27, 2018

٨٥٢-روزے کی حالت میں احتلام ہوگيا لیکن منی کے آثار نہيں دیکھے


سوال-مجھے روزے کی حالت میں احتلام ہوگیا ، لیکن جب نیند سے بیدارہوا تو مجھے کوئي چيز نظرنہ آئي اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے بغیر انزال کے ہی خواب دیکھا توکیا مجھے غسل کرنا ہوگا یا بغیر غسل کے ہی روزہ مکمل کروں یا پھر روزہ افطار کرلوں ؟

الحمد للہ

اول :
جسے نیند میں احتلام ہو اوربیدار ہونے کےبعد اپنے کپڑوں میں منی کے آثار نہ دیکھے تواس پر غسل لازم نہيں ۔

ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ تعالی نے المغنی میں کہا ہے :

جب کوئي خواب دیکھے کہ اسے احتلام ہوا ہے ، لیکن منی کے آثار نہ ہوں تو اس پر غسل نہيں ، ابن منذر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں : اہل علم جن سے میں نے تعلیم حاصل کی ہے کا اس پر اجماع ہے ۔۔۔۔

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :

اگر عورت کو احتلام ہوجائے توکیا اسے بھی غسل کرنا ہوگا ؟

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جی ہاں جب وہ پانی دیکھے ) متفق علیہ ۔

یہ حدیث اس پر استدلال کرتی ہے کہ جب تک کپڑوں پر پانی کے آثار نہ دیکھیں جائيں غسل نہيں کرے گی ۔ ا ھـ

دوم :

احتلام سے روزہ باطل نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ روزہ دار کے اختیار میں نہيں بلکہ بغیر اختیار کے ایسے ہوا ہے ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " المجموع " میں کہتے ہيں :

جب کسی کو احتلام ہوجائے تو اجماع کے مطابق اس کا روزہ نہيں ٹوٹتا ، اس لیے کہ وہ مغلوب ہے ، جس طرح کوئي مکھی اڑ کر بغیراختیار کے اس کے پیٹ میں چلی جائے اس مسئلۃ میں اس دلیل پر اعتماد ہے ،اوراس کی دلیل میں پیش کی جانے والی مندرجہ ذيل حدیث ضعیف ہے صحیح نہيں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جس نے قیيء کی اس کا روزہ نہيں ٹوٹتا ، اورجسے احتلام ہوا اس کا بھی روزہ نہيں ٹوٹتا ، اورجو پچھنے اورسنگی لگوائے اس کا بھی روزہ نہيں ٹوٹتا ) یہ حدیث ضعیف ہے اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی ۔ اھـ

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المغنی میں کہتے ہيں :

اگر کسی کو احتلام ہوجائے تواس کا روزہ نہيں ٹوٹتا ، اس لیے کہ ایسا اس کے اختیار کے بغیر ہوا ہے ، یہ اس کے مشابہ ہی ہے کہ اگر کوئي شخص سویا ہوا ہو تو اس کے حلق میں کوئي چيز داخل ہوجائے ۔ ا ھـ

دیکھیں : المغنی ( 4 / 363 ) ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے پوچھاگیا کہ :

ایک شخص رمضان میں دن کے وقت سویا تواسے احتلام ہوگيا اورمنی خارج ہوگئي توکیا اسےاس دن کے روزے کی قضاءکرنا ہوگي ؟

شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

اس پر قضاء نہیں اس لیے کہ احتلام اس کے اختیار میں نہيں ، لیکن اگر منی کے آثار ہوں تو اسے غسل کرنا ہوگا ۔ ا ھـ

دیکھیں مجموع الفتاوی ( 15 / 2765 ) ۔

شیخ ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے پوچھاگیا کہ : رمضان میں دن کے وقت احتلام ہونے والے شخص کا حکم کیا ہے ؟

شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

اس کا روزہ صحیح ہے اس لیے کہ احتلام روزہ کو باطل نہيں کرتا ، اوراس لیے بھی کہ ایسا اس کے اختیار کے بغیر ہوا ہے ، اورحالت نیند میں وہ مرفوع القلم تھا ۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی الصیام صفحہ نمبر ( 284 ) ۔

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :

اگرکس کو روزے کی حالت میں یا پھر حج اورعمرہ میں احتلام ہوجائے تو اس پر کوئي گناہ نہيں اورنہ ہی کوئي کفارہ ہے اورنہ ہی وہ اس کے روزے پر اثرانداز ہوگا ، اس کا حج اور عمرہ صحیح ہے ،لیکن اگر منی خارج ہوئي ہو تو اسے غسل جنابت کرنا ہوگا ۔ ا ھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 274 ) ۔

واللہ اعلم

٨٥١-رمضان میں غسل جنابت کوطلوع فجرتک مؤخرکرنےسےروزہ باطل نہیں ہوتا۔


سوال-مجھےایک مرتبہ سحری سے قبل احتلام ہوگیااورمیں غسل نہ کرسکا۔۔کیونکہ میں غسل کرنےسےبہت زیادہ شرمارہاتھااس لئےکہ میرےوالدین کوعلم ہوجائےگا کہ مجھے احتلام ہواہےتواس لئےمیں نےغسل کرنےکےبغیرسحری کھائی ، اورافسوس ہےکہ اس دن میں نےفجرکی نمازبھی نہیں پڑھی ،لیکن بعدمیں میں نےغسل کرنےکےبعدفجرکی نمازپڑھ لی ۔
میں یہ جانناچاہتاہوں کہ آیامیرایہ روزہ مقبول ہے ، کیونکہ میراخیال ہے کہ میں نے ( احتلام سے )جنابت کی حالت میں سحری کھا کرغلطی کی ہےتوکیامیراروزہ مقبول ہے ؟

الحمدللہ

جس نےاپنی بیوی سےرات جماع کیااورصبح تک جنابت کی حالت میں ہی رہااس کا روزہ صحیح ہے ، اوراسی طرح وہ رات یادن کوسوتےہوئےجنابت لاحق ہوگئی اس کابھی روزہ صحیح ہے اوراس پرکوئی حرج نہیں کہ وہ طلوع فجرتک غسل کوموخرکردے ۔

روزہ تواس وقت ٹوٹتاہے جب دن میں طلوع فجرسےلیکرغروب شمس کےدوران جماع کیاجائے ۔

دیکھیں فتوی اللجنۃ الدائمۃ جلدنمبر۔(10) صفحہ نمبر۔(327)

لیکن آپ کانمازکوطلوع آفتاب تک تاخیر کرنا جائزنہيں ہے ، بلکہ واجب تویہ ہے کہ نماز کی ادائيگي اس کے وقت میں ہی کی جائے ، لھذا ایسے فعل سے توبہ وا ستغفارکرنا آپ کے ذمہ ہے ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہرقسم کی بھلائي کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم

٨٥٠-جنابت كى حالت ميں انفرادى اور لوگوں كو امامت كرواتے ہوئے نماز ادا كرنے پر كيا لازم آتا ہے ؟


سوال-ميں نے جنابت كى حالت ميں ہى نماز ادا كر لى، ابتدا ميں مجھے علم نہ تھا اور بعد ميں علم ہوا، ليكن ايك بے پرواہ مسلمان ہونے كى بنا پر ميں نے كئى ايك نمازيں جنابت كى حالت ميں ہى ادا كيں.
اور ايك بار ميں نے گھر ميں نماز كى امامت بھى كروائى ليكن شرماتے ہوئے جنابت كى حالت ميں ہونے كا نہ كہہ سكا، ميں توبہ كرنا چاہتا ہوں، كيا ميں نمازيں دوبارہ ادا كروں، يا كہ نوافل ادا كروں ؟
اس كا سبب سستى ہے ميں توبہ كرنا چاہتا ہوں مجھے كيا كرنا ہو گا ؟

الحمد للہ:

اول:

آپ نے اس كا حكم معلوم نہ ہونے كى بنا پر جو نمازيں ادا كى ہيں اس ميں آپ پر كوئى گناہ نہيں، اور نہ ہى جنبى حالت ميں ادا كردہ نمازوں كى قضاء ہے، اگر كوئى شخص علم كے حصول اور سوال كرنے ميں كوتاہى نہ كرے تو شريعت جاہل كو معذور قرار ديتى ہے، چاہے اس نے واجبات ترك كيے ہوں يا پھر حرام كا ارتكاب كيا ہو.

ليكن اگر علم كے حصول اور سوال كرنے ميں اس نے كوتاہى كى ہو تو وہ اس تقصير كى بنا پر گنہگار ہو گا.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

" حدث اصغر يا اكبر كى حالت ميں بغير طہارت اجماعا نماز صحيح نہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہو تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو لو... ﴾ المآئدۃ ( 6 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" بغير طہارت كے نماز قبول نہيں ہوتى "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 224 ).

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 259 ).

دوم:

اگر آپ كو جنبى كى نماز كا شرعى حكم معلوم ہے كہ جنبى شخص كے ليے غسل كرنے سے قبل نماز ادا كرنى جائز حلال نہيں، تو آپ اس فعل پر گنہگار ہيں، اور آپ كے ذمہ توبہ و استغفار اور اس پر ندامت اور آئندہ ايسا نہ كرنے كا عزم كرنا واجب ہے، اور اسى طرح اس حالت ميں ادا كردہ نمازوں كى قضاء بھى واجب ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميں ايك عورت ہوں ميرى سترہ برس قبل شادى ہوئى تھى، شادى كى ابتدا ميں تو ميں غسل جنابت كے بعض بلكہ مكمل احكامات سے جاہل تھى، كيونكہ مجھے جنابت كا باعث بننے والے امور كا علم نہ تھا، اور اسى طرح ميرا خاوند بھى جاہل تھا.

اور ہمارى يہ جہالت اس پر منحصر تھى كہ جنابت صرف خاوند پر ہوتى ہے، ميرى شادى رمضان سے تقريبا ايك ماہ قبل ہوئى اور اسى برس ماہ رمضان كے آخر ميں مجھے حكم كا علم ہوا، اس مدت كے دوران ادا كردہ نمازوں كے متعلق مجھے كيا كرنا ہو گا.

يہ علم ميں ركھيں كہ ميں صفائى كى نيت سے غسل كرتى تھى نا كہ جنابت ختم كرنے كى نيت سے، اور پھر يہ غسل ہميشہ نہيں كرتى تھى، يعنى ہر جماع كے بعد نہيں كرتى تھى، يہ علم ميں رہے كہ ميں ہر نماز كے ليے وضوء كى محافظت ضرورى كرتى رہى ہوں.

يہ سب كچھ جہالت كى بنا پر ہوا ہے جيسا كہ ميں اشارہ بھى كر چكى ہوں، اور اسى طرح رمضان المبارك كے روزوں كے متعلق مجھ پر كيا لازم آتا ہے؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" غسل جنابت كيے بغير جو نمازيں ادا كى گئى ہيں ان كى قضاء آپ پر واجب ہے، كيونكہ آپ نے كوتاہى كى اور دين كى سمجھ اور اس ميں تفقہ اختيار نہيں كيا، اور قضاء كے ساتھ ساتھ آپ كو اللہ تعالى سے اس فعل پر توبہ بھى كرنا ہو گى.

اور رہا مسئلہ رمضان المبارك كے روزوں كا اگر تو رمضان كے دوران دن كو جماع نہيں كيا تو يہ روزے صحيح ہيں.

ديكھيں: فتاوى الجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 269 ).

سوم:

آپ كے پيچھے ادا كرنے والے مقتدى نماز نہيں لوٹائيں گے، كيونكہ ان كى نماز صحيح ہے، اور امام جس نے جنابت كى حالت ميں نماز ادا كى اس كى نماز باطل ہونے سے مقتديوں كى نماز باطل نہيں، جبكہ مقتديوں كو اس كا علم ہى نہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

پچھلے كچھ ايام ميں جب ميں نے مغرب كى نماز كے ليے وضوء كرنا چاہا تو ميں نے اپنى سلوار پر منى كے اثرات ديكھے، تو ميں نے غسل كر كے مغرب كى نماز ادا كر لى، ليكن مجھے علم نہيں كہ احتلام كب ہوا ہے، كيا نماز فجر سے قبل ہوا يا كہ قيلولہ كے دوران؟

ميں اس مسئلہ ميں دريافت كرنا چاہتا ہوں، ميرا خيال ہے كہ ميں نے تين فرضى نمازيں، فجر، ظہر، اور عصر جنابت كى حالت ميں ادا كيں اور مجھے اس كا علم بھى نہ تھا، اور پھر حالت ايسى بنى كہ ميں نے ان نمازوں ميں لوگوں كى امامت كروائى جن كى تعداد تقريبا تين سو كے قريب تھى.

لہذا كيا ميں ان نمازوں كى قضاء كروں ؟

اور ميرى اقتدا ميں ادا كرنے والے مقتديوں كى نماز كا حكم كيا ہے ؟

اور كيا مجھ پر اس جرم كى كوئى سزا لاگو ہوتى ہے ؟

ہميں معلومات فراہم كريں اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" غسل جنابت كرنے كے بعد آپ كے ليے ظہر اور عصر كى نماز دوبارہ ادا كرنا واجب ہے، اور اس ميں جلدى كرنى ضرورى ہے، ليكن جن لوگوں نے آپ كى اقتدا ميں نمازيں ادا كي ہيں وہ نماز نہيں لوٹائيں گے، كيونكہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كو جنابت كى حالت ميں بھول كر نماز فجر پڑھا دى، اور خود نماز فجر لوٹائى ليكن اپنے پيچھے نماز ادا كرنے والوں كو نماز لوٹانے كا حكم نہيں ديا.

اور اس ليے بھى كہ وہ آپ كى جنابت كا علم نہ ركھنے كى بنا پر معذور ہيں، ليكن آپ نماز فجر نہيں لوٹائيں گے؛ كيونكہ ہو سكتا منى دوپہر كو سونے ميں نكلى ہو، اصل ميں يہ ہے كہ جنابت كا يقين ہونے ميں نماز دوبارہ ادا كرنى واجب ہوتى ہے "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 266 ).

واللہ اعلم

٨٤٩-جماع كيا ہے ؟


سوال-جماع كرنے كے بعد غسل كرنا واجب ہے، ليكن جماع سے كيا مراد ہے، آيا بوس و كنار كرنا جماع شمار ہوگا ؟

الحمد للہ:

ہر بوس و كنار جماع شمار نہيں ہوتا، بلكہ جماع يہ ہے كہ مرد كى شرمگاہ ( عضو تناسل كا اگلا حصہ ) عورت كى شرمگاہ ميں داخل ہو جائے، اگر ايسا ہو جائے تو جماع ہو جائيگا، چاہے پورا عضو تناسل داخل نہ بھى ہو، يا عضو كا كچھ حصہ داخل كيا ہو تو اس سے جماع ہو گا، اس كى دليل احاديث ميں موجود ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب مرد عورت كى چاروں شاخوں كے مابين بيٹھے اور پھر اس كى كوشش كرے تو غسل واجب ہو گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 291 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 525 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح البارى ميں كہتے ہيں:

حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا كہ:

" پھر اس كى كوشش كرے "

يہ عورت كى شرمگاہ ميں عضو داخل كرنے سے كنايہ ہے.

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان كچھ اس طرح ہے:

" جب مرد عورت كى چاروں شاخوں كے درميان بيٹھ گيا اور ختنہ ختنے كے ساتھ مل گيا تو غسل واجب ہو گيا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 349 ).

مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" اور ختنہ ختنے سے چھو جائے تو غسل واجب ہو گيا "

علماء كرام كہتے ہيں: اس كا معنى يہ ہے كہ آپ نے اپنا عضو تناسل عورت كى شرمگاہ ميں داخل كر ليا، اس سے مراد حقيقى چھونا اور مس كرنا نہيں، وہ اس طرح كہ عورت كا ختنہ شرمگاہ كى اوپر والى طرف ہوتا ہے، اور جماع ميں عضو تناسل اسے مس نہيں كرتا.

اور علماء كرام كا اجماع ہے كہ اگر مرد نے اپنا عضو عورت كے ختنہ پر ركھا اور اندر داخل نہ كيا تو غسل واجب نہيں ہوگا، نہ مرد پر اور نہ ہى عورت پر، چنانچہ يہ اس پر دلالت كرتا ہے جو ہم بيان كر چكے ہيں، اور چھونے سے مراد برابرى ہے، اور اسى طرح ايك روايت ميں يہ درج ذيل الفاظ بيان ہوئے ہيں:

" جب دونوں ختنے مل جائيں "

يعنى دونوں برابر ہو جائيں " انتہى.

اور " المجموع " ميں كہتے ہيں:

" غسل كا وجوب اور جماع كے متعلق سب احكام ميں شرط يہ ہے كہ مرد كا عضو عورت كى شرمگاہ ميں پورا داخل ہو جائے، اور احكام ميں يہ شرط نہيں كہ كہ عضو كے اگلے حصہ ميں كے ساتھ تعلق نہيں " انتہى.

ديكھيں: المجموع ( 2 / 150 ).

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ " فتح البارى " ميں كہتے ہيں:

" چھونے اور ملنے سے مراد برابر ہونا ہے، اس كى دليل ترمذى كى روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" جب تجاوز كر جائے "

يہاں حقيقى مس اور چھونا مراد نہيں، كيونكہ عضو تناسل كے داخل ہونے كے وقت اس كا تصور بھى نہيں ہو سكتا " انتہى.

اور شوكانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ايك حديث ميں " المحاذاۃ " يعنى برابر كے الفاظ وارد ہيں، اور ايك ميں " الملاقاۃ " اور ايك ميں " الملامسۃ " اور ايك ميں الالصاق " كے الفاظ ہيں، اور ملاقات سے برابر ہونا مراد ہے" انتہى.

اور قاضى ابو بكر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب غضو تناسل كا اگلا حصہ عورت كى شرمگاہ ميں چلا جائے تو ملاقات ہو گئى " انتہى.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" يہ تو معلوم ہى ہے كہ ختنہ عضو تناسل كے اگلے حصہ ميں ہوتا ہے، چنانچہ اگر ايسا ہى ہے تو پھر عورت كے ختنہ والى جگہ سے اس وقت تك نہيں چھو سكتا جب تك عضو تناسل كا اگلا حصہ اندر داخل نہ ہو، اس ليے ہم نے جماع ميں غسل واجب ہونے كے ليے شرط يہ لگائى ہے كہ: عضو تناسل كا اگلا حصہ يعنى سر شرمگاہ ميں غائب ہو جائے.

اور عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہم كى حديث ميں يہ الفاظ ہيں:

" جب دونوں ختنے مل جائيں، اور عضو تناسل كا سر چھپ جائے تو غسل واجب ہو گيا " انتہى.

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 611 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح ابن ماجہ ميں صحيح قرار ديا ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 323 ).

اس بنا پر ختنہ كا ختنے سے ملنا" اور " دونوں ختنوں كا آپس ميں ملنا " سے مراد مرد كے ختنہ كى جگہ كا عورت كے ختنہ كى جگہ كے برابر ہونا ہے، اور يہ اس وقت ہوگا جب عضو تناسل كا مكمل سر عورت كى شرمگاہ ميں چھپ جائے، اور جب عورت كى شرمگاہ ميں عضو تناسل كا سر غائب ہو جائے تو جماع ہے، اس سے غسل واجب ہو جائيگا، چاہے انزال ہو يا نہ ہو.

واللہ اعلم

٨٤٨-اگر ڈاكٹر چيك اپ كے ليے مادہ منويہ لے تو كيا مريض پر غسل وجب ہو جاتا ہے ؟


سوال-ڈاكٹر نے چيك اپ كے ليے انگلى كے ساتھ ميرا مادہ منويہ نكالا، كيا اس حالت ميں مجھے جنابت ہوئى اور كيا مجھ پر غسل كرنا واجب ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

ہاتھ وغيرہ كے ساتھ منى خارج كرنا حرام كام ہے، ليكن اگر علاج اور چيك اپ كے ليے ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں، جيسا كہ سوال نمبر ( 847 ) ميں بيان ہو چكا ہے، اس كے علاوہ مشت زنى كى حرمت كے دلائل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 50 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

دوم:

اگر برسٹ دبا كر يا كسى اور طريقہ سے منى خارج كى جائے تو اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

منى لذت كے ساتھ نكلے، اكثر طور پر ايسا ہى ہوتا ہے، تو اس وقت علماء كرام كے اتفاق كے مطابق غسل واجب ہے.

دوسرى حالت:

لذت كے بغير منى خارج ہو، يہ عام طور پر بيمارى كى بنا پر ہوتا ہے، اور بغير نكالے نكلتى ہے، اس ميں فقھاء كا اختلاف ہے، جمہور علماء احناف مالكى اور حنابلہ اس حالت ميں غسل واجب نہيں كرتے، اور صحيح بھى يہى ہے.

يہ تو بيدارى كى حالت ميں ہے، ليكن نيند كى حالت ميں اگر منى خارج ہو تو مطلقا غسل واجب ہوگا، چاہے لذت كے ساتھ خارج ہو يا بغير لذت كے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" پانى پانى سے ہے "

اس حديث كا ظاہر يہى ہے كہ منى خارج ہونى كى حالت ميں غسل واجب ہے، عموم حديث كى بنا پر چاہے بغير شہوت اور كسى بھى سبب سے خارج ہو.

اور جمہور اہل علم غسل واجب ہونے كے ليے لذت اور دفق كى شرط لگاتے ہيں.

اور بعض علماء كرام كہتے ہيں كہ: لذت كے ساتھ، ليكن دفق حذف كر دى ہے، اور ان كا كہنا ہے كہ: جب بھى منى لذت كے ساتھ خارج ہو گى تو وہ دفق يعنى اچھل كر ہى خارج ہو گى.

اور دفق كا ذكر كرنا بہتر ہے، كيونكہ يہ درج ذيل فرمان بارى تعالى كے موافق ہے:

﴿ انسان كو چاہيے كہ وہ ديكھے اسے كس چيز سے پيدا كيا گيا ہے، اسے اچھلتے ہوئے پانى سے پيدا كيا گيا ہے ﴾الطارق ( 5 - 6 ).

چنانچہ اگر بيدار شخص كى منى لذت كے بغير خارج ہو تو غسل واجب نہيں ہو گا، صحيح يہى ہے.

ليكن اگر يہ كہا جائے كہ: حديث: " پانى پانى سے ہے " كا جواب كيا ہے ؟

تو ہم يہ كہينگے: يہ اس معروف پر محمول ہو گى جو لذت كے ساتھ خارج ہوتى ہے، اور اس كے بعد بدن ميں فتور اور ڈھيلا پن پيدا كرتى ہے، ليكن اس كے بغير خارج ہونے والى نہ تو جسم ميں فتور پيدا كرتى ہے اور نہ ڈھيلا كرتى ہے" انتہى.

ماخوذ از: الشرح الممتع.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 835 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم

٨٤٧-میڈیکل ٹیسٹ کیلئے ہاتھ سے مشت زنی کرنا جائز ہے۔


سوال-میں جانتا ہوں کہ مشت زنی اسلام میں حرام ہے، لیکن اگر کسی شخص نے بانجھ پن یا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعلق ٹیسٹ کروانے ہوں تو لیبارٹری میں مرد کا مادہ منویہ طلب کیا جاتا ہے، اور لیبارٹری میں صرف مشت زنی سے ہی مادہ منویہ فراہم کیا جا سکتا ہے، تو کیا یہ جائز ہے؟

الحمد للہ:

ہاں یہ جائز ہے، شیخ عبد اللہ بن حمید رحمہ اللہ سے اس بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
"ضرورت کی بنا پر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، علمائے کرام کہتے ہیں کہ: جو شخص بغیر کسی ضرورت کے مشت زنی کرے تو اسے تعزیری سزا دی جائے گی، تاہم  کسی ضرورت کی بنا پر مثلاً:  میڈیکل ٹیسٹ یا اولاد نہ ہونے کی بیماری کی تشخیص کیلئے  منی خارج کرنا جائز ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بیماری خاوند میں ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی میں ہو، اس قسم کے حالات میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں ہے" انتہی
ماخوذ از: فتاوى الشیخ عبد الله بن حمید (صفحہ: 271)

واللہ اعلم

٨٤٦-کیا خاوند اوربیوی کپڑے اتار کر سو سکتے ہیں اوراس کا طہارت پر کیا اثر ہوگا


سوال-کیا اسلام میں ننگا سونا جائز ہے ؟
اگر جواب اثبات میں ہو توکیا سونے میں بیوی سے معانقہ کرنا غسل واجب کرے گا یا کہ نماز کے لیے وضوء ہی کافی ہے ؟

الحمدللہ

سوال کی پہلی شق کا جواب یہ ہے کہ خاوند اوربیوی کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

{ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں اورلونڈیوں کے ، یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں } المؤمنون ( 5 - 6 )

امام ابن حزم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اللہ تعالی نے اس میں بیوی اورلونڈی کے علاوہ ہر چيز سے شرمگاہ کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے ، بیوی اورلونڈی سے حفاظت نہ کرنے میں اس پر کوئي ملامت نہیں ، یہ آیت عموم پردلالت کرتی ہے جس میں اس کا دیکھنا ، چھونا ، اورملانا شامل ہے ۔ ا ھـ دیکھیں المحلی لابن حزم ( 9 / 165 ) ۔

اورسنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اس کی دلیل ملتی ہے :

عا‏‏‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

میں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے جوکہ ہمارے درمیان ہوتا وہ مجھ سے جلدی کرتے حتی کہ میں انہیں کہتی کہ میرے لیے بھی چھوڑیں میرے لیے بھی چھوڑیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 258 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 321 ) مندرجہ بالا الفاظ مسلم کے ہیں ۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

داوودی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ مرد اپنی بیوی اوربیوی اپنے خاوند کی شرمگاہ دیکھ سکتے ہیں ، اس کی تائید مندرجہ ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے :

ابن حبان رحمہ اللہ تعالی نے سلیمان بن موسی سے بیان کیا ہے کہ ان سےایسے شخص کے بارہ میں پوچھا گيا جواپنی بیوی کی شرمگاہ دیکھتا ہے ، توانہوں نے جواب میں کہا :

میں نے عطاء رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیا توان کا کہنا تھا :

میں نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے سوال کیا توانہوں نے اسی حدیث کوذکر کیا ۔

حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : سنت نبویہ میں ایک اورحدیث بھی ملتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

اپنی بیوی اورلونڈی کےعلاوہ اپنے ستر کی ہرایک سے حفاظت کرو ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 4017 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2769 ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن کہا ہے ۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1920 ) ، اورامام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اسے تعلیقا روایت کیا ہے ( 1 / 508 ) ۔

اس حدیث پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ( اپنی بیوی کے علاوہ )کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اس پر دلالت کرتی ہےکہ اس کے لیے اسے دیکھنا جائز ہے ، اوراس کا قیاس یہ ہے کہ مرد کے لیے بھی دیکھنا جائز ہوا ۔ اھـ

ابن حزم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

مرد کےلیے اپنی بیوی کی شرمگاہ دیکھنا حلال ہے - بیوی اورلونڈی جن سے جماع کرنا حلال ہے – اوراسی طرح وہ دونوں بھی مرد کی شرمگاہ دیکھ سکتیں ہیں ، اصلااس میں کوئي کراہت نہیں ، اس کی دلیل وہ مشہور احادیث ہيں جوام المؤمنین عائشہ ، ام سلمہ ، اورمیمونہ رضي اللہ تعالی عنھن سے مروی ہیں :

وہ بیان کرتی ہیں کہ : وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل جنابت کیا کرتی تھیں ۔

ام المؤمنین میمونہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چادر کے بغیر تھے ، کیونکہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اورپھر اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا اوراسے اپنے بائيں ہاتھ سے دھویا ۔

تواس کے بعد کسی کی بھی را‏ئے کی طرف التفات کرنا باطل ہے ، تعجب والی بات تو یہ ہے کہ بعض متکلف اورجاہل قسم کے لوگ !! توفرج میں وطئي کرنا تومباح کہتے ہیں اور اس کی طرف دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ ا ھـ دیکھیں المحلی لابن حزم ( 9 / 165 ) ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جماع کی نسبت سے دیکھنے کی حرمت وسائل کی حرمت میں سے ہے ، جب اللہ تعالی نے خاوند کے لیے بیوی سے مجامعت مباح کی ہے تو کیا اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھنے سے روکا جائے یہ عقل مندی ہے ؟ یہ نہیں ہوسکتا ۔ اھـ دیکھیں السلسۃ الضعیفۃ ( 1 / 353 ) ۔

دوم :

اس حالت میں طہارت وپاکیزکی کا حکم :

اس بارے میں ہم یہ کہيں گے کہ سوتے وقت معانقہ کرکے سونا ( یعنی ایک دوسرے سے لگ کر ) اگر تو اس سے انزال نہیں ہوا اورنہ ہی جماع کیا گيا ہے تواس سے غسل واجب نہیں ہوتا ، بلکہ جب مذی نکلی ہوتو مرد کواپنی شرمگاہ دھو کر وضوء کرنا چاہیے ، اورعورت بھی اپنی شرمگاہ دھو کر وضوء کرے یعنی دونوں ہی استنجاء کرنے کے بعد وضوء کریں نہ کہ غسل ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...