Showing posts with label منگنی اورنکاح کا پیغام. Show all posts
Showing posts with label منگنی اورنکاح کا پیغام. Show all posts

Saturday, August 11, 2018

١٣٦-منگيتر ميں عيوب كا انكشاف ہونے پر منگنى فسخ كے ليے استخارہ كيا ليكن اس ميں آسانى نہ ہو سكى

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

كچھ عرصہ قبل ميرى منگنى ہوئى ہے، ميں نے اپنے منگيتر ميں كچھ ايسے عيب پائے ہيں جن كو برداشت نہيں كيا جا سكتا، ميں محسوس كرتى ہوں كہ وہ ميرے ليے مناسب نہيں اس پر مستزاد يہ كہ وہ اللہ كى اطاعت ميں ميرا معاون بھى نہيں بنتا باوجود اس كے كہ ميں نے منگنى فسخ كے ليے استخارہ بھى كيا ليكن فسخ مشكل ہوتا جا رہا ہے برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
اگر ميں منگنى توڑتى ہوں تو كيا گنہگار ٹھرونگى كہ اللہ نے ميرے ليے اسے اختيار كيا ليكن ميں اسے اختيار نہيں كر رہى، يا كہ ميں اپنى عقل كو چھوڑ دوں اور اللہ كى اطاعت كروں ؟

الحمد للہ:

اگر آپ كے سامنے اپنے منگيتر كے ايسے عيوب واضح ہوتے ہيں جن كى آپ متحمل نہيں ہو سكتى اور انہيں برداشت كرنا مشكل ہے تو پھر آپ كے ليے منگنى توڑنے ميں كوئى حرج نہيں بلكہ منگنى توڑنا شادى كرنے سے بہتر ہوگا، كيونكہ احتمال ہے كہ شادى كے بعد اختلافات پيدا ہوں اور پھر معاملہ طلاق تك جا پہنچے.

جب آپ نے منگنى توڑنے كا ارادہ اور عزم كر ليا تو پھر آپ اللہ سے استخارہ كريں، اور پھر اپنے ولى كو بتا ديں تا كہ منگيتر سے معذرت كر لى جائے، تو اس طرح آپ كى منگنى ختم ہو جائيگى.

استخارہ عقل زائل اور ختم كرنے كے ليے نہيں، يا پھر انسان كو احاطہ ميں ليے ہوئے مادى امور ميں نظر دوڑانے كےليے نہيں ہے، بلكہ يہ استخارہ تو اسے مكمل كرنے كے ليے ہے، كيونكہ بعض اوقات انسان كسى معاملہ اور كام ميں متردد ہوتا ہے جس ميں خير و شر اور مصلحت فساد دونوں پائے جاتے ہيں، يا پھر اس كے انجام سے انسان جاہل ہوتا ہے، اس ليے وہ اللہ سبحانہ و تعالى سے خير و بھلائى كا طالب ہو كر استخارہ كرتا ہے كيونكہ خير كا علم تو اللہ سبحانہ و تعالى كے پاس ہى ہے.

آپ كو لگتا ہے كہ منگيتر ميں كوئى عيب نہيں، ليكن اللہ تعالى كو علم ہے كہ وہ آپ كے ليے مناسب نہيں، بلكہ منگيتر ميں عيوب ہيں اور آپ اس سے جاہل ہيں، يا پھر آپ اس كے مناسب نہيں.

اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ منگيتر ميں عيب ہوں حالانكہ اللہ كو علم ہے كہ وہ آپ كے ليے مناسب ہے، اور اس ميں موجود عيب ختم ہو جائيں گے، يا پھر يہ حقيقت ميں وہ عيب نہيں يا پھر يہ اس كى بيوى كو مناسب نہيں، اس كے علاوہ كئى ايك غيبى امور ہو سكتے ہيں جن كا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالى كے علاوہ كسى كو نہيں.

يہ تو سب كو معلوم ہے كہ اللہ كى توفيق كے بغير بندہ كامياب ہى نہيں ہو سكتا، اور اگر اللہ تعالى نے اسے اس كے نفس كے سپرد كر ديا ہوتا تو وہ ضائع ہو جاتا اور نقصان اٹھا كر پريشان رہتا.

جب آپ كسى چيز كے متعلق استخارہ كريں تو پھر اس كام كو كر گزريں، اگر وہ چيز آپ كے ليے بہتر ہوگى تو اللہ سبحانہ و تعالى اس ميں آپ كے ليے آسانى پيدا كرديگا، اور اگر آپ كے ليے بہتر نہيں بلكہ برى ہے تو اللہ سبحانہ و تعالى اسے آپ سے دور كر ديگا، يا آپ كو اس سے دور كر ديگا.

آپ كے مسئلہ ميں اس كى تطبيق اس طرح ہو سكتى ہے كہ:

جب آپ كو اپنے منگيتر ميں كچھ عيوب نظر آئے تو آپ نے اس سے منگنى ختم كرنے كے ليے اللہ تعالى سے استخارہ كيا تو آپ اس كو كريں اور اس كے متعلق اپنے گھر والوں اور ولى سے بات كريں يا پھر اس سے جو آپ كے منگيتر كو منگنى ختم كرنے كا پيغام دے، اگر تو معاملہ ختم ہو جائے اور آسانى پيدا ہو تو ان شاء اللہ اس ميں بہترى اور خير ہے.

ليكن اگر منگنى ختم ہونے ميں مشكل پيش آئے اور ختم نہ ہو تو پھر اب ميں آپ كے ليے خير نہيں ہے، كيونكہ ہو سكتا ہے اللہ كے علم ميں آپ كى اس سے شادى كرنا بہتر اور اچھا ہو يا پھر كچھ عرصہ تك منگنى رہنا آپ كے ليے بہتر ہو.

وقفہ وقفہ سے استخارہ كرنے ميں كوئى مانع نہيں، ليكن يہاں ہم كچھ امور پر متنبہ كرنا چاہتے ہيں:

اول:

كسى حرام يا مكروہ يا واجب كام ميں استخارہ نہيں ہوتا ہاں يہ ہو سكتا ہے كہ كسى واجب كو سرانجام دينے كے وقت ميں آدمى متردد ہو تو پھر ہو سكتا ہے، اس بنا پر اگر ظن غالب ہو كہ منگيتر تارك نماز ہے، يا پھر مثلا وہ فحاشى كے كام سرانجام ديتا ہے، تو اس رشتہ سے انكار كرنا واجب ہے، اس صورت ميں استخارہ كرنا مشروع نہيں ہوگا.

دوم:

آسانى اور مشكل ہونے كا مسئلہ اس طرح ہے كہ: ہو سكتا ہے كچھ شك اور وسوسہ سا پيدا ہو جائے، ہو سكتا ہے لڑكى كا ولى منگيتر كو منگنى ختم كرنے كى خبر دينے كے ليے رابطہ كرے ليكن اسے منگيتر نہ ملے تو يہ كہا جائے كہ اس ميں مشكل پيدا ہو گئى ہے، ايسا نہيں بلكہ دوبارہ پھر رابطہ اور ٹيلى فون كرنا چاہيے، يا پھر كسى شخص كو پيغام دے كر بھيج ديا جائے.

سوم:

اگر انسان نے استخارہ كے مقتضى كے خلاف كيا تو وہ گنہگار نہيں ہوگا، ليكن ہو سكتا ہے اس سے بہت سارى خير و بھلائى چھن جائے اور دور ہو جائے، اور پھر وہ اسے ترك كرنے پر نادم ہوتا پھرے، يا پھر اللہ نے جو كام اس كے ليے آسان نہيں كيا اس كے اقدام پر اسے كوئى نقصان اور ضرر پہنچے.

كمال ايمان اور توكل يہى ہے كہ بندہ معاملے كو اللہ كے سپرد كر دے، اور اللہ نے جو اختيار كيا ہے اس پر راضى ہو، اور استخارہ كرنے كے بعد كام كر گزرے، اور وسوسہ ميں مت پڑے.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے ليے جہاں بھى خير و بھلائى ہو اس ميں آسانى پيدا فرمائے.

واللہ اعلم

Friday, August 10, 2018

٤٦-منگیتر کودیکھنے کی حد ، اسے چھونے اوراس سے خلوت کرنے کا حکم اورکیا اس میں اس کی اجازت شرط ہے

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی جس میں شادی کرنے کی نیت سے لڑکی دیکھنی جائز ہے ، میرا سوال ہے کہ :
منگیتر کودیکھنے کی حد کیا ہے ، کیا مرد کے لیے اس کے بال یا مکمل سر دیکھنا جائز ہے ؟

الحمدللہ

شریعت اسلامیہ نے اجنبی عورت کو دیکھنے سے منع کیا ہے تا کہ نفس کی طہارت و پاکيزگی اورعفت وعصمت اورعزتیں قائم رہیں ، لیکن کچھ حالات میں ضرورت اورحاجت عظیمہ کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے اجنبی عورت کو دیکھنے کی اجازت دی ہے ۔

جس میں منگنی کرنے والے مرد کا اپنی منگیتر کودیکھنا بھی شامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی مرد اورعورت دونوں کی زندگی کا ایک خطرناک اوراہم فیصلہ شادی کی صورت میں ہونا ہے ، منگیتر کودیکھنے کی نصوص اوردلائل ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں :

1 - جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جب تم میں سے کوئي ایک کسی عورت سے منگنی کرے تو اگراس سے نکاح میں رغبت دلانے والی چيز دیکھ سکے تو اسے ایسا کرنا چاہیے ) جابر رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک لڑکی سے منگنی کی اورمیں اسےدیکھنے کے لیے چھپ جایا کرتا تھا حتی کہ میں نے اس کا وہ کچھ دیکھا جس نے مجھے نکاح کی دعوت دی تومیں نے اس سے شادی کرلی ۔

اورایک روایت میں ہے کہ :

جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں میں نے بنوسلمہ کی ایک لڑکی سے منگنی کی اورمیں اسے دیکھنے کے لیے کھجور کے تنوں میں چھپ جایا کرتا تھا حتی کہ میں نے اس سےنکاح کی رغبت دیکھی تو اس سے شادی کرلی ۔ صحیح سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1832 ) اور ( 1834 ) ۔

2 - ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا توایک شخص نبی صلی اللہ علیہ کے پاس اورکہنے لگا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرمانے لگے :

کیا تم اسے دیکھا ہے ؟ وہ کہنے لگا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اسے جاکر دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1424 ) سنن دار قطنی ( 3 / 253 ) ( 34 ) ۔

3 - مغیرہ بن شعبہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے منگنی کی تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ میں نے نفی میں جواب دیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

جاؤ اسے جاکر دیکھوکیونکہ ایسا کرنا تم دونوں کے مابین زيادہ استقرار کا با‏عث بنے گا ۔

اورایک روایت میں ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں ، انہوں نے ایسا ہی کیا ، راوی کہتے ہیں کہ اس سے شادی کرلی اوراس عورت کی موافقت کا بھی ذکر کیا ہے ۔ سنن دارقطنی ( 3 / 252 ) ( 31 - 32 ) سنن ابن ماجہ ( 1 / 574 ) ۔

4 - سہل بن سعد ساعدی رضي اللہ تعالی بیان کرتےہیں کہ :

ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئي اورکہنے لگی اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپنے آپ کوآپ کے لیے ھبہ کرتی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اوراپنی نظریں اوپرکرنے کے بعد نيچے کرلیں جب عورت نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئي فیصلہ نہیں فرمایا تووہ بیٹھ گئي ۔

صحابہ کرام میں سے ایک صحابی کھڑا ہوا اورکہنے لگا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگرآپ کواس عورت کی ضرورت نہیں تومیرے ساتھ اس کی شادی کردیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تیرے پاس کچھ ہے ؟ اس صحابی نے جواب دیا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ تعالی کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنے گھروالوں کے پاس دیکھو ہوسکتا ہے کچھ مل جائے ، وہ صحابی گيا اورواپس آ کہنے لگا اللہ کی قسم مجھے کچھ بھی نہیں ملا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے وہ گیا اورواپس آکر کہنے لگا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم لوہے کی انگوٹھی بھی نہيں ملی ، لیکن میرے پاس یہ چادر ہے اس میں سے نصف اسے دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

اس کا تم کیا کرو گے اگر اسے تم باندھ لو تواس پر کچھ بھی نہيں ہوگا ، وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بات سن کر بیٹھ گيا اورجب زيادہ دیر بیٹھا رہا تواٹھ کر چل دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تواسے واپس بلانے کاحکم دیا جب وہ واپس آیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

تجھے کتنا قرآن آتا ہے ؟ اس نے جواب دیا فلاں فلاں سورۃ آتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے زبانی پڑھ سکتے ہو ؟ وہ کہنے لگا جی ہاں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : جاؤ میں نے جو تمہیں قرآن کریم حفظ ہے اس کے بدلہ میں اس کا مالک بنا دیا ۔

صحیح بخاری ( 7 / 19 ) صحیح مسلم ( 4 / 143 ) سنن نسائي بشرح السیوطی ( 6 / 113 ) سنن البیھقی ( 7 / 84 ) ۔

منگیتر کودیکھنے کی حدمیں علماء کرام کے اقوال :

امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جب مرد کسی عورت سے شادی کرنا چاہے اس کے لیے عورت کو بغیر اوڑھنی کے دیکھنا جائز نہيں ، ہاں اس کا سر ڈھانپے ہونے کی شکل میں صرف چہرہ اورہاتھ اس کی اجازت اوراجازت کے بغیر بھی دیکھ سکتا ہے ( یعنی چھپ کر ) ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اوراپنی زیب و زینت کو کسی کےسامنے ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے } ۔

کہتے ہیں کہ اس سے مراد چہرہ اورہاتھ ہيں ۔ الحاوی الکبیر ( 9 / 34 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جب لڑکی سے نکاح میں رغبت ہو تو اسے دیکھنا مستحب ہے تا کہ بعد میں ندامت نہ اٹھانی پڑے ۔

اورایک وجہ یہ بھی ہےکہ دیکھنا مستحب نہیں بلکہ مباح ہے ، اور احادیث کی روشنی میں پہلی بات ہی صحیح ہے ، دیکھنے میں تکرار اس کی اجازت اوربغیر اجازت دونوں طریقوں سے جائز ہے ، اگر دیکھنا ممکن نہ ہوسکے تو کسی عورت کو اسے دیکھنے بھیجے جو اسے اچھی طرح دیکھ کر اس کی صفات مرد کے سامنے رکھے ۔

اورعورت بھی جب شادی کرنا چاہے تو وہ بھی مرد کودیکھ سکتی ہے اس لیے کہ جس طرح مرد کی پسند ہے اسی طرح عورت کی بھی پسند ہے ۔

عورت کا چہرہ اورہتھیلیاں دونوں طرف سے دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ کوئي اورچیز نہیں دیکھی جاسکتی ۔

روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین ( 7 / 19 - 20 )

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے دونوں پاؤں ، ہتھیلیاں ، اورچہرہ دیکھنے کی اجازت ہے ۔ دیکھیں بدایۃ المجتھد ونھایۃ المقتصد ( 3 / 10 ) ۔

ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

چہرہ ، ہتھیلیاں ، اورقدم دیکھنے مباح ہيں اس سے تجاوز کرنا صحیح نہیں ۔ ا ھـ ابن رشد نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے ۔ دیکھیں حاشیہ ابن عابدین ( 5 / 325 ) ۔

امام مالک رحمہ اللہ تعالی کی روایات :

- : صرف چہرہ اورہتھیلیاں دیکھ سکتا ہے ۔

- : صرف چہرہ ، اورہتھیلیاں اورہاتھ دیکھ سکتا ہے ۔

امام احمد رحمہ اللہ تعالی کی روایات :

پہلی روایت : ہاتھ اورچہرہ دیکھ سکتا ہے ۔

دوسری روایت : عام طور پر جو ظاہر ہو وہ دیکھ سکتا ہے مثلا گردن ، پنڈلیاں ، وغیرہ ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے المغنی ( 7 / 454 ) اورامام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ تعالی نے تھذيب السنن ( 3 / 25 - 26 ) اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح الباری ( 11 / 78 ) میں نقل کیا ہے ۔

کتب حنابلہ میں معتمد روایات دوسری ہے ۔

اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہور علماء کرام کے ہاں منگیتر کا چہرہ ، اورہتھیلیاں دیکھنی مباح ہیں اس لیے کہ چہرہ خوبصورتی اورجمال پر یا پھر بدصورتی پر دلالت کرت ہے اورہتھیلیاں عورت کے بدن کے نحیف یا موٹا زرخیز ہونے پر دلالت کرتی ہيں ۔

ابوالفرج المقدسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اہل علم کے مابین چہرہ دیکھنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ چہرہ محاسن کو جمع کرنے والا اوردیکھنے کی جگہ ہے ۔

منگیتر سے خلوت اوراسے چھونے کا حکم :

زیلعی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے : مرد کے لیے اپنی منگیتر کے چہرہ اورہتھیلیوں کو چھونا جائز نہیں – اگرچہ شہوت کا خدشہ نہ بھی ہو – ایک تو اس کی حرمت ہے اورپھر اس کی ضرورت بھی نہیں ۔ ا ھـ

اور درر البحار میں ہے کہ " قاضي ، گواہ ، اورمنگیتر کے لیے عورت کو چھونا جائز نہیں ، چاہے ان سب کو شہوت کا خدشہ نہ بھی ہو کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں ۔ ا ھـ دیکھیں کتاب : رد المختار علی الدر المختار ( 5 / 237 )

اورابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

منگیتر سے خلوت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرام ہے ، اورشریعت میں دیکھنے کے علاوہ کچھ وارد نہيں اس لیے یہ اپنی تحریم پر باقی رہے گی ، اوراس لیے بھی کہ خلوت کی بنا پر ممنوعہ کام کے وقوع سے مامون نہيں بلکہ اس میں وقوع کا خدشہ ہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یہ ہے :

( کوئي بھی مرد کسی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ ان دونوں میں تیسرا شیطان ہوگا ) ۔

اوراسی طرح منگیتر کی طرف لذت اورشہوت اورشک کی نظر سے بھی نہ دیکھے ، امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے ایک روایت میں کہا ہے :

اسے کا چہرہ دیکھے لیکن اس میں بھی لذت کی نظر نہیں ہونی چاہیے ۔

مرد کےلیے بار بار نظر اٹھا کر دیکھنا جائز ہے تا کہ اس کے محاسن میں غور کرسکے کیونکہ اس کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔ ا ھـ

تو اس طرح منگیتر کو دیکھنے کے متعلق :

منگنی کرنے والے مرد کے لیے اپنی منگیتر کو دیکھنا جائز ہے چاہے وہ اسے اس کی اجازت اورعلم کے بغیر ہی دیکھ لے ، احادیث صحیحہ اسی پر دلالت کرتی ہیں ۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی فتح الباری میں کہتے ہیں :

جمہور علماء کرام کا کہنا ہے کہ : منگیتر کودیکھنا چاہے تو اس کی اجازت کے بغیر دیکھنا جائز ہے ا ھـ دیکھیں فتح الباری ( 9 / 157 ) ۔

شیخ علامہ اورمحدث عصر محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ تعالی السلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تائید کرتے ہوئے کہتےہیں :

اوراسی طرح اس کی دلالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( اوراگر وہ علم نہ بھی رکھتی ہو ) میں بھی ملتی ہے ، اوراس کی تائيد صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم کے عمل سے بھی ہوتی ہے جنہوں نے سنت پر عمل کیا ان میں محمد بن مسلمۃ ، جابر بن عبداللہ رضي اللہ تعالی شامل ہیں اس لیے کہ یہ دونوں ہی اپنی منگیترکو دیکھنے کے لیے چھپ جاتے تھے تا کہ اس سے نکاح کی دعوت دینے والی چيز دیکھ سکیں ۔ دیکھیں السلسلۃ الصحیحۃ ( 1 / 156 ) ۔

فائدہ :

ایک دوسری جگہ پر رحمہ اللہ تعالی کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے شادی کرنا چاہی تو ایک عورت کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا اوراسے کہنے لگے : اس کے اگلےدانت سونگنا اوراس کی ایڑیوں کے اوپر والے حصہ کودیکھنا ۔

اس حدیث امام حاکم نے روایت کیا صحیح کہنے کے بعد کہا ہے کہ یہ مسلم کی شرط پر ہے اورامام ذھبی نے بھی اس کی موافقت کی ہے مستدرکم الحاکم ( 2 / 166 ) سنن البیھقی ( 7 / 87 ) اورمجمع الزاوئد ( 4 / 507 ) میں کہا ہے کہ اسے احمد اوربزار نے روایا کیا ہے اوراحمد کے رجال ثقات ہیں ۔ دیھکیں السلسلۃ الصحیحۃ ( 1 / 157 ) ۔

مغنی المحتاج میں ہے کہ :

اس حدیث سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بھیجي گئي عورت کے لیے جائز ہے کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہےاس سے زائد بھی بیان کرلے ، تواس طرح وہ اس کے بھیجنے فائدہ حاصل کرسکتا ہے جواسے دیکھنے سے بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ دیکھیں المغنی المحتاج ( 3 / 128 ) ۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...