Showing posts with label نماز. Show all posts
Showing posts with label نماز. Show all posts

Sunday, November 18, 2018

1030:کتنی مسافت پر نماز قصر کرنا جائز ہے؟

سوال
سوال: کیا میں اس وقت قصر نماز پڑھ سکتا ہوں جب مجھے پتا ہو کہ واپسی پر نماز کا وقت نکل جائے گا؟ اور کیا 80 کلومیٹر قصر کی مسافت آنے اور جانے دونوں جانب کی شمار ہو گی یا صرف جانے کی 80 کلومیٹر مسافت ہو گی؟

الحمد اللہ:

جس سفر کی بنا پر سفر کی رخصتوں پر عمل کرنا شرعی عمل ہے اس سے مراد ایسا سفر ہے جو عرف میں بھی سفر ہو اس کا اندازہ تقریباً 80 کلومیٹر ہے، چنانچہ جو شخص 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ سفر کرے تو اس کیلیے سفر کی رخصتوں پر عمل کرنا جائز ہے، جیسے کہ موزوں پر مسح کی مدت تین دن اور راتیں ، نمازیں جمع اور قصر کر کے ادا کرنا اسی طرح رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت۔

نیز یہ مسافر اگر اپنی منزل پر پہنچ  کر چار یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کر لے تو پھر وہ سفر کی رخصتوں پر عمل نہیں کرے گا اور اگر وہاں پر چار  دن یا اس سے کم دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو پھر سفر کی رخصتوں پر عمل کرے گا۔

اور ایسا مسافر جو کسی علاقے میں قیام پذیر ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ اس کا کام کب مکمل ہو جائے گا اور نہ ہی اس نے اپنے قیام کی مدت متعین کی ہوئی ہو تو وہ سفر کی رخصتوں پر عمل کر سکتا ہے چاہے سفر کی مدت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

سفر کی رخصتوں پر عمل کرنے کیلیے یک طرفہ سفر کی مسافت 80 کلومیٹر ہونا شرط ہے، اور جب آپ کی کسی علاقے میں قیام پذیر ہونے کی مدت چار دن یا اس سے زیادہ ہو تو پھر آپ نماز مکمل پڑھیں گے۔

جب کہ  ظہر اور عصر ، اسی طرح مغرب اور عشا کی نمازوں  کو جمع کر کے ادا کرنا مسافر کیلیے جائز ہے، اسی طرح مقیم کیلیے بھی جائز ہےاگر ہر نماز وقت پر ادا کرنا مشقت کا باعث ہو  مثلاً: بیماری یا کسی انتہائی ضروری کام کی وجہ سے کہ اسے مؤخر کرنے کی کوئی صورت نہ ہو ، جیسے کہ  طلبا کا امتحان جاری ہے یا ڈاکٹر آپریشن میں مصروف ہے یا اسی طرح کا کوئی اور ضروری کام  تو  دو نمازوں کا جمع کرنا جائز ہے۔

واللہ اعلم

Thursday, October 25, 2018

1023-نماز کے بعد کے اذکار

س-نماز کے بعد کے اذکار بیان کریں

الحمدللہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُوْلُ اللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَفِيْ رِوَايَةِ بْنِ نُمَيْرٍ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. (مسلم، رقم 1335)

حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بس اتنی ہى مقدار بيٹهتے جس میں آپ ''اے اللہ، تو سراسر سلامتى ہے اور سلامتى سب تيرى ہى طرف سے ہے، اے عزت و جلال كے مالك ، تيرى ذات بڑى ہى بابركت ہے'' كے الفاظ كہہ ليتے تهے۔

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلٰوتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: أَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ.(مسلم، رقم 1334)

حضرت ثوبان (رضى الله عنہ) سے روايت ہے كہ جب رسول الله صلى الله عليہ وسلم نماز سے سلام پهيرتے تو تين دفعہ استغفار كرتے اور يہ كہتے كہ اے اللہ، تو سراسر سلامتى ہے اور سلامتى سب تيرى ہى طرف سے ہے، اے عزت و جلال كے مالك ، تيرى ذات بڑى ہى بابركت ہے۔

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَّنْصَرِفَ مِنْ صَلٰوتِهِ اسْتَغْفَرَ اللهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قال: أَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. (ترمذى، رقم 300)

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم كے آزاد كرده غلام ثوبان (رضى الله عنہ) سے روايت ہے كہ جب رسول الله صلى الله عليہ وسلم نماز سے اٹهنے كا اراده كرتے تو تين دفعہ كلمۂ استغفار كہتے،پهر يہ كہتے كہ اے اللہ، تو سراسر سلامتى ہے اور سلامتى سب تيرى ہى طرف سے ہے، اے عزت و جلال كے مالك ، تيرى ذات بڑى ہى بابركت ہے۔

عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيْرَةُ إِلٰى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِيْ سُفْيَانَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ إِذَا سَلَّمَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ أَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. (بخارى، رقم 6330)

حضرت مغیرہ بن شعبہ( رضی اللہ عنہ) کے آزاد كرده غلام ورَّاد نے بیان کیا کہ مغیرہ بن شعبہ نے معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہما) کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرنماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ کہا کرتے تھے: 'لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، أَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ' (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کے لیے ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ،جو کچھ تو نے دیا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا، اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی بزرگى والے كو اس كى بزرگى(تیری بارگاہ میں)نفع نہیں دےسكتى)۔

عَنْ أَبِيْ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُوْلُ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ حِيْنَ يُسَلِّمُ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ وَقَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلٰوةٍ. (مسلم، رقم 1343)

ابوزبیر سے روایت ہے کہ ابن زبیر ( رضی اللہ عنہ) ہر نماز میں جب بھی سلام پھیر تے تو یہ کہتےكہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے سارى حمد ہےاور وہ ہر چیز پر قادر ہے،ہمت اور قدرت دينے والا الله كےسوا كوئى نہيں،اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں،ساری نعمتیں اسی کی عطا كرده ہیں،اسی کا فضل ہے،اچهى ثنا اسى كےليے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اطاعت كو اسى كےليے خالص كرتےہيں، اگرچہ يہ کافر ناپسند کریں۔راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: أَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. (نسائى، رقم 1339)

حضرت عائشہ رضى الله عنہا سے روايت ہے كہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم جب سلام پهيرتے تهے تو كہتے:اے اللہ ،تو سراسر سلامتى ہے اور سار ى كى سارى سلامتى تيرى ہى طرف سے ہے، اے عزت و جلال كے مالك، تيرى ذات بڑى بابركت ہے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُوْرِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِيْمِ الْمُقِيْمِ يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ وَيَصُومُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ وَلَهُمْ فَضْلٌ مِّنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّوْنَ بِهَا وَيَعْتَمِرُوْنَ وَيُجَاهِدُوْنَ وَيَتَصَدَّقُوْنَ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَمْرِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسَبِّحُوْنَ وَتَحْمَدُوْنَ وَتُكَبِّرُوْنَ خَلْفَ كُلِّ صَلٰوةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا فَقَالَ بَعْضُنَا: نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِيْنَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: تَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَاللهُ أَكْبَرُ حَتّٰى يَكُوْنَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ.(بخارى، رقم 843)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ نادار لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ امیر و رئیس لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت حاصل کر گئے،حالاں کہ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں، وہ بھی رکھتے ہیں، لیکن مال و دولت کی وجہ سے انھیں ہم پر فوقیت حاصل ہے۔چنانچہ اس کی وجہ سے وہ حج کرتے،عمرہ کرتے،جہاد کرتے اور صدقے دیتے ہیں،(اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں کو نہیں کر پاتے)اس پر آپ نے فرمایا: لو میں تمھیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں، انھیں تم پالو گے اور تمھارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوائے ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں، ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح (سُبْحَانَ الله)، تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) اورتکبیر (أَللهُ أَکْبَرُ) کہا کرو۔پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح تینتیس مرتبہ، تحمید تینتیس مرتبہ اور تکبیر چونتیس مرتبہ کہیں گے۔میں نے اس پر آپ سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ نے فرمایا کہ 'سُبْحَانَ الله' اور 'اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ'اور 'أَللهُ أَکْبَرُ' کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِيْنَ أَتَوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰي وَالنَّعِيْمِ الْمُقِيْمِ فَقَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوْا: يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ وَيَتَصَدَّقُوْنَ وَلاَ نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُوْنَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُوْنَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُوْنَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُوْنُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ قَالُوْا: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ: تُسَبِّحُوْنَ وَتُكَبِّرُوْنَ وَتَحْمَدُوْنَ دُبُرَ كُلِّ صَلٰوةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ مَرَّةً قَالَ أَبُوْ صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِيْنَ إِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوْا مِثْلَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذٰلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ. (مسلم، رقم 1347)

حضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ مہاجرین فقرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض كيا کہ مال دار لوگ تو اعلیٰ درجہ اور ہمیشہ کی نعمتوں میں چلے گئے، آپ نے پوچها: وہ کیسے؟ انھوں نے عرض کیا کہ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، جس طرح کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، جس طرح کہ ہم روزہ رکھتے ہیں اور مزيد يہ كہ وہ صدقہ نکالتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں دے سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد نہیں کر سکتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمھیں کوئی ایسی چیز نہ سکھاؤں کہ جس سے تم سبقت لے جانےوالوں كو پا لو اور اپنے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ اور کوئی تم سے افضل نہ ہو، سوائے اس کے کہ جو تمھارے جیسے کام کرے، انھوں نے عرض کیا کہ ہاں، اے اللہ کے رسول، فرمائیے!آپ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ 'سُبْحَانَ اللهِ' اور 'أَللهُ أَکْبَرُ' اور 'اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ' پڑھا کرو۔ راوی ابوصالح کہتے ہیں کہ مہاجرین فقرادوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض كيا کہ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی یہ سن لیا ہے اور وہ بھی اسی طرح کرنے لگے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.(مسلم، رقم 1352)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روايت كرتےہيں کہ آپ نے فرمايا: جس آدمی نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ 'سُبْحَانَ اللهِ' تینتیس مرتبہ 'اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ' اور تینتیس مرتبہ 'اَللَّهُ أَکْبَرُ' کہا، یہ ننانوے کلمات ہو گئے اور سو کا عدد پورا کرنے کےلیے 'لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ' کہا تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيْبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلٰوةٍ مَكْتُوْبَةٍ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ تَحْمِيْدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُوْنَ تَكْبِيرَةً.(مسلم، رقم 1349)

حضرت کعب بن عجرہ( رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روايت كرتے ہيں كہ آپ نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد کچھ دعائیں ایسی ہیں کہ جن کو پڑھنے والا یا اختيار کرنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا، تینتیس مرتبہ تسبيح 'سُبْحَانَ اللهِ' كے الفاظ سے، تینتیس مرتبہ تحميد 'اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ' کے الفاظ سے اور چونتیس مرتبہ تكبير 'اَللهُ أَکْبَرُ' كےالفاظ سے۔

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ ثَلاَثاً وَثَلاَثِيْنَ وَنَحْمَدَ ثَلاَثاً وَثَلاَثِيْنَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعاً وَثَلاَثِيْنَ فَأُتِىَ رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ مِنَ الأَنْصَارِ فَقِيْلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوْا فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ كَذٰا وَكَذٰا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِيْ مَنَامِهِ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوْهَا خَمْسًا وَعِشْرِيْنَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوْا فِيْهَا التَّهْلِيْلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَافْعَلُوا. (احمد، رقم 21090)

حضرت زيد بن ثابت سے روايت ہےكہ ہميں ہر نمازكے بعدتینتیس دفعہ تسبيح كرنے ،تینتیس دفعہ تحميد كرنے اورچونتیس دفعہ تكبير كرنے كا حكم ديا گيا ہے۔ پهر انصار كے ايك آدمى كو خواب ميں كہا گيا كہ تمهيں رسول الله صلى الله عليہ وسلم نےاس اس طريقے سے تسبيح كرنے كا حكم ديا ہےتو اس نے خواب ہى ميں كہا كہ ہاں ،تو اس كہنے والے نے كہا كہ تم يہ تينوں الفاظ توپچیس پچیس دفعہ كہو اور اس كے ساتھ ایک دفعہ 'لاَ اِلٰهَ اِلَّا الله' كہو۔پهر صبح كو جب ان صحابى نے نبى صلى الله عليہ وسلم سے اپنا يہ خواب بيان كيا تو آپ نے كہا كہ اسى طرح كر لو۔

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلٰوةٍ ثَلاَثاً وَثَلاَثِيْنَ تَسْبِيْحَةً وَنَحْمَدَ ثَلاَثاً وَثَلاَثِيْنَ تَحْمِيْدَةً وَنُكَبِّرَ أَرْبَعاً وَثَلاَثِيْنَ تَكْبِيرَةً قَالَ: فَرَاَٰى رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ فَقَالَ أُمِرْتُمْ بِثَلاَثٍ وَثَلاَثِيْنَ تَسْبِيْحَةً وَثَلاَثٍ وَثَلاَثِيْنَ تَحْمِيْدَةً وَأَرْبَعٍ وَثَلاَثِيْنَ تَكْبِيرَةً فَلَوْ جَعَلْتُمْ فِيْهَا التَّهْلِيْلَ فَجَعَلْتُمُوْهَا خَمْساً وَعِشْرِيْنَ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُمْ فَافْعَلُوْا. (احمد، رقم 21150)

حضرت زيد بن ثابت سے روايت ہےكہ ہميں ہر نمازكے بعدتینتیس دفعہ تسبيح كرنے ،تینتیس دفعہ تحميد كرنے اورچونتیس دفعہ تكبير كرنے كا حكم ديا گيا تها۔ پهر ايك آدمى سے يہ خواب ميں كہا گيا كہ تمهيں حكم ديا گيا ہے كہ تم تینتیس دفعہ تسبيح كرو، تینتیس دفعہ تحميد كرواورچونتیس دفعہ تكبير كرو،اگر تم اس ميں تہليل كو بهى شامل كر لو، تو تم يہ سب پچیس پچیس دفعہ كر ليا كرو۔ اس صحابى نے يہ سارى بات نبى صلى الله عليہ وسلم سے بيان كى، آپ نے پوچها :تم نے واقعى يہ خواب ديكها ہے تو ايسا ہى كرو۔

Tuesday, August 14, 2018

٣٨١-نماز ميں قنوت كرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں نماز ميں دعاء قنوت كے متعلق دريافت ( ركوع كے بعد ہاتھ اٹھا كر دعاء كرنا ) كرنا چاہتا ہوں كہ آيا يہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہے يا كہ يہ كسى حالت ميں جس پر وہ تھے كى بنا پر استثنائى عمل ہے، گزارش ہے كہ آپ ميرے سوال كا جواب ديں كيونكہ ہمارى مسجد كے امام صاحب نے كہا ہے كہ: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سوال كيا گيا كہ كونسى نماز افضل ہے ؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جواب ديا: جس ميں دعا قنوت لمبى كى جائے ؟

الحمد للہ :

فقھاء نے قنوت كى تعريف يہ كى ہے:

" نماز ميں قيام كے اندر مخصوص جگہ ميں دعاء كا نام ہے"

علماء كرام كے صحيح اقوال كے مطابق نماز وتر ميں ركوع كے بعد دعا قنوت مشروع ہے.

اور جب مسلمانوں پر مصائب كا شكار ہوں تو مسلمانوں كے ليے مشروع ہے كہ وہ نماز پنجگانہ ميں سے ہر فرضى نماز كى آخرى ركعت ميں ركوع كے بعد دعا قنوت كريں حتى كہ اللہ تعالى ان سے وہ مصيبت دور كر دے اور مسلمانوں سے نجات دے دے.

ديكھيں: كتاب تصحيح الدعاء تاليف الشيخ ابو بكر ابو زيد ( 460 ).

اور ہر قسم كے حالات ميں نماز فجر ميں دعاء قنوت كرنا يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز فجر كو دعاء قنوت كے ليے خاص كيا ہو، اور نہ ہى يہ ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز فجر ميں دعاء قنوت ہميشہ اور اس پر مداومت كى ہو.

بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو يہ ثابت ہے كہ مصائب كے وقت اس كے مناسب قنوت فرمائى، لہذا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صبح كى نماز ميں بھى قنوت كروائى اور دوسرى نمازوں ميں بھى جس ميں وہ رعل اور ذكوان قبيلے جنہوں نے نبى عليہ السلام كے بھيجے ہوئے قراء كرام صحابہ كو قتل كر ديا تھا، جنہيں دين كى تعليم كے مبلغ بنا كر بھيجا گيا تھا، اور يہ بھى ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم صبح اور دوسرى نمازوں ميں كمزور مسلمانوں كے ليے دعا كيا كرتے تھے كہ اللہ تعالى انہيں دشمن سے نجات دلائے، ليكن اس پر مداومت اور ہميشگى نہيں كى.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد خلفاء راشدين بھى اسى طريقہ پر عمل كرتے رہے، امام كے ليے بہتر يہى ہے كہ وہ مصائب كے وقت دعا قنوت كرنے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اقتدا اور پيروى كرنے پر ہى اكتفا كرے.

ابو مالك اشجعى بيان كرتے ہيں كہ ميں نے اپنے باپ سے كہا:

اے ابا جان آپ نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے نمازيں ادا كى اور ابو بكر اور عمر فاروق اور عثمان غنى اور على رضى اللہ تعالى عنہم كے پيچھے بھى نمازيں ادا كيں، تو كيا وہ نماز فجر ميں دعاء قنوت كيا كرتے تھے ؟

تو انہوں نے كہا: ميرے بيٹے يہ نئى ايجاد ہے.

اسے ابو داود كے علاوہ باقى پانچوں نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء الغليل ( 435 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور سب سے بہترين نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ہى طريقہ ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ الافتاء ( 7 / 47 ).

اور اگر آپ يہ كہيں كہ:

كيا نماز وتر كى دعاء قنوت كے ليے كوئى خاص اور محدود دعاء ہے، اور مصيبت اور مشكلات كے وقت كى دعاء خاص ہے؟

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

نماز وتر كى دعاء قنوت كے ليے كئى ايك دعائيں وارد ہيں، جن ميں سے كچھ يہ ہيں:

1 - وہ دعاء جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما كو سكھائى تھى وہ يہے:

" اللهم اهدني فيمن هديت ، وعافني فيمن عافيت ، وتولني فيمن توليت ، وبارك لني فيما أعطيت ، وقني شر ما قضيت ، فإنك تقضي ولا يقضى عليك ، إنه لا يذل من واليت ، ولا يعز من عاديت ، تباركت ربنا وتعاليت ، لا منجى منك إلا إليك "

اے اللہ مجھے ہدايت نصيب فرما، اور مجھے عافيت سے نواز، اور ميرا كارساز بن، اور جو كچھ تو نے مجھے ديا ہے اس ميں بركت فرما، اور جو تو نے فيصلہ كيا ہے اس كے شر سے مجھے محفوظ ركھ، كيونكہ تو ہى فيصلہ كرنے والا ہے، اور تيرے خلاف كوئى فيصلہ نہيں كر سكتا، جس كارساز تو بن جائے اسے كوئى ذليل نہيں كر سكتا، اور جس كے خلاف تو ہو جائے اسے كوئى عزت نہيں دے سكتا، اے ہمارے رب تو بابركت اور بلند ہے، تيرے علاوہ كہيں اور پناہ اور نجات نہيں ہے"

ابو داود حديث نمبر ( 1213 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1725 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواءل الغليل حديث نمبر ( 429 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

2 - على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وتر كے آخر ميں يہ دعا پڑھا كرتے تھے:

" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ "

اے ميں تيرى رضا كے ساتھ تيرى ناراضگى سے پناہ چاہتا ہوں، اور تيرى سزا سے تيرى عافيت كے ساتھ، اور تيرى پناہ ميں آتا ہوں، ميں تيرى حمد و ثناء شمار ہى نہيں كرسكتا، جس طرح تو نے اپنى ثناء بيان كى ہے"

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1727 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الارواء الغليل ( 430 ) اور صحيح ابو داود ( 1282 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ دعاء پڑھنے كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھے جيسا كہ بعض صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہ سے قنوت وتر كے آخر ميں ثابت ہے، ان صحابہ ميں ابى بن كعب، اور معاذ انصارى رضى اللہ تعالى عنہم شامل ہيں.

ديكھيں: تصحيح الدعاء للشيخ بكر ابو زيد ( 460 ).

قنوت نازلہ:

مصائب اور مشكلات كے وقت كى دعاء قنوت:

مشكلات اور مصائب كے وقت حالات كے مناسب دعاء كرے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد ہے كہ انہوں نے عرب كے ان قبائل پر لعنت كى جنہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ بد عہدى اور غدارى كرتے ہوئے انہيں شہيد كر ديا تھا، اور مكہ ميں رہنے والے كمزور اور ضعيف و ناتواں مسلمانوں كے ليے دعاء فرمائى كہ اللہ تعالى انہيں نجات دے، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے ثابت ہے كہ انہوں نے قنوت نازلہ ميں مندرجہ ذيل دعاء پڑھى:

" اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك ، ونتوكل عليك ونثني عليك الخير ولا نكفرك ، اللهم إياك نعبد ، ولك نصلي ونسجد ، وإليك نسعى ونحفد ، نرجو رحمتك ونخشى عذابك ، إن عذابك الجدَّ بالكفار مُلحق ، اللهم عذِّب الكفرة أهل الكتاب الذين يصدون عن سبيلك "

اے اللہ ہم تجھ سے ہى مدد مانگتے ہيں، اور تجھ پر ايمان لاتے ہيں، اور تجھ پر بھروسہ اور توكل كرتے ہيں، اور تيرى ثنائے خير بيان كرتے ہيں، اور تيرے ساتھ كفر نہيں كرتے، اے اللہ ہم تيرى ہى عبادت كرتے ہيں، اور تيرے ليے ہى نماز ادا كرتے اور تيرے سامنے ہى سجدہ كرتے ہيں، اور تيرى طرف ہى رجوع كرتے ہيں، ہم تيرى رحمت كى اميد ركھتے، اور تيرے عذاب سے ڈرتے ہيں، يقينا تيرا عذاب كفار كو پہنچنے والا ہے، اے اللہ اہل كتاب كے كافروں كو جو تيرى راہ سے روكتے ہيں انہيں عذاب سے دوچار كردے"

سنن بيہقى ( 2 / 210 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے الاراء الغليل ( 2 / 170 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: ( يہ روايت ) عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے نماز فجر ميں ثابت ہے، اور ظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ قنوت نازلہ ہے جيسا كہ ان كى دعاء ميں كفار كے ليے بد دعاء كى گئى ہے.

اور اگر آپ يہ كہيں كہ: كيا ان مذكورہ دعاؤں كے علاوہ كوئى اور دعاء كرنا بھى ممكن ہے؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

جى ہاں ايسا كرنا جائز ہے، امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع " ميں كہتے ہيں:

صحيح اور مشہور يہ ہے جس كو جمہور علماء نے قطعى طور پر بيان كيا ہے كہ يہى متعين نہيں ( يعنى انہى الفاظ كے ساتھ ہى دعاء قنوت متعين نہيں ) بلكہ ہر دعاء كے ساتھ ہو سكتى ہے. اھـ

ديكھيں: المجموع للنووى ( 3 / 497 ).

اور اس ليے كہ وارد شدہ الفاظ اور صيغہ بذاتى متعين نہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان الفاظ كے ساتھ دعا نہيں كى، تو اس ميں اور الفاظ زيادہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں ہے.

شيخ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس دعاء ميں كفار پر لعنت كے الفاظ زيادہ كرنے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود كے الفاظ زيادہ كرنے اور مسلمانوں كے ليے دعاء كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

ديكھيں: قيام رمضان للالبانى ( 31 ).

يہاں ايك اہم مسئلہ باقى ہے كہ:

كيا دعاء قنوت ركوع سے قبل ہو گى يا بعد ميں؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

" اكثر احاديث اور اكثر اہل علم كے ہاں يہ ہے كہ: دعاء قنوت ركوع كے بعد ہے، اور اگر ركوع سے قبل بھى كى لى جائے تو كوئى حرج نہيں، اسے يہ اختيار ہے كہ قرآت مكمل كرنے كے بعد ركوع كرے اور پھر ركوع سے اٹھنے كے بعد ربنا ولك الحمد كہنے كے بعد دعاء قنوت كر لے.... يا پھر اسے يہ اختيار ہے كہ وہ قرآت مكمل كرنے كے بعد دعاء قنوت كرے اور پھر ركوع كر لے، يہ سب سنت ميں وارد ہے" انتہى

ماخوذ از الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 64 ).

تنبيہ:

سائل يہ كہنا كہ: ( وہ نماز افضل ہے جس ميں دعاء قنوت لمبى ہو )

ہو سكتا ہے وہ اس حديث كى طرف اشارہ كرنا چا رہا ہو جو مسلم رحمہ اللہ تعالى نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كى ہے، كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" افضل نماز وہ ہے جس ميں قنوت لمبى ہو"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1257 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ميرے علم كے مطابق علماء كرام كے اتقاق كے مطابق يہاں قنوت سے مراد قيام كا لمبا ہونا ہے. اھـ

لہذا اس حديث سے ركوع كے بعد دعاء قنوت مراد نہيں، بلكہ اس سے قيام كا لمبا ہونا مراد ہے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...