Showing posts with label امامت. Show all posts
Showing posts with label امامت. Show all posts

Wednesday, August 15, 2018

٤٥١- امام افطارى گھر كرنے كے ليے نماز مغرب مسجد ميں ادا نہيں كرتا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم ايسے علاقہ ميں ہيں جہاں امام مغرب كى نماز نہيں پڑھاتا، كيونكہ وہ افطارى كے ليے گھر چلا جاتا ہے، چنانچہ اس كا حكم كيا ہے، كہيں ہم گنہگار تو نہيں ہو رہے ؟
يا پھر ہم گھر ميں نماز كريں تو ہمارى جماعت شمار ہو گى ؟

الحمد للہ:

اول:

مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے نماز پنجگانہ باجماعت مسجد ميں ادا كرے، ليكن اگر سويا ہوا يا پھر مرض وغيرہ كى بنا پر معذور ہو.

آپ مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 448 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور خاص كر رمضان المبارك ميں عام مسلمانوں ميں مغرب كى نماز ميں كوتاہى بڑھ جاتى ہے، امام كو چاہيے كہ وہ نماز كے وقت نمازيوں سے پہلے حاضر ہو، يہ جماعت كے وجوب كے علاوہ اور سبب كى بنا پر ہے، وہ ہے كہ اسے اس امانت كى ادائيگى كرنى چاہيے جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے، يا پھر وہ ڈيوٹى جو اس كے ذمہ لگائى گئى ہے اسے پورا كرے.

اگر يہ امام مغرب كى نماز مسجد ميں ادا كرنے ميں كوتاہى برتتا ہے تو اس كا يہ معنى نہيں كہ آپ لوگ گنہگار ہو رہے ہيں، يا پھر آپ كے ليے مسجد چھوڑ كر گھروں ميں نماز ادا كرنا جائز ہو جاتا ہے، بلكہ آپ پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا واجب ہے، چاہے امام نہ بھى آئے.

كيونكہ ہر انسان كا حساب اس كے اعمال كے مطابق ہوگا، اگر وہ غلطى كرتا ہے تو آپ اچھا عمل كريں، اور برائى سے اجتناب كريں، تا كہ اسلام كے اس شعار كى حفاظت ہو جو دين اسلام كا ايك ركن ہے.

ابن مسعود رضى اللہ تعالى كہتے ہيں:

( جسے يہ بات اچھى لگتى ہے كہ وہ كل اللہ تعالى كو مسلمان ہو كر ملے تو اسے يہ نمازيں وہاں ادا كرنے كا التزام كرنا چاہيے جہاں اذان ہوتى ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تمہارى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے سنن الھدى مشروع كيں، اور يہ سنن الھدى ميں سے ہيں، اگر اپنے گھر ميں پيچھے رہنے والے شخص كى طرح تم بھى اپنے گھروں ميں نماز ادا كرو تو تم نے اپنے نبى كى سنت كو ترك كر ديا، اور اگر تم اپنے نبى كى سنت ترك كرو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص بھى اچھى طرح وضوء كر كے ان مساجد ميں سے كسى ايك مسجد جائے تو ہر قدم كے بدلے اللہ تعالى ايك نيكى لكھتا اور ايك درجہ بلند كرتا، اور اس كى بنا پر ايك برائى كو مٹاتا ہے، ہم نے ديكھا كہ منافق جس كا نفاق معلوم ہوتا وہى اس سے پيچھے رہتا، ايك شخص كو لايا جاتا اور وہ دو آدميوں كے درميان سہارا لے كر آتا اور اسے صف ميں كھڑا كر ديا جاتا )

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ميں نماز باجماعت كے ليے آنے والے كى قدرت ركھنے والے كو رخصت نہيں ديتا، الا يہ كہ كوئى عذر ہو.

ديكھيں: الام ( 1 / 277 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سنت نبويہ پر غور كرنے والا جب حقيقى غور كرے تو اسے يہ ظاہر ہو گا كہ مساجد ميں نماز باجماعت كى ادائيگى فرض عين ہے، مگر كسى عذر كى بنا پر جمعہ اور نماز باجماعت ترك كرنا جائز ہے، چنانچہ بغير كسى عذر كے مسجد ميں نہ جانا بغير كسى عذر كے اصل جماعت كو ترك كرنے جيسا ہى ہے، تو اس طرح سب احاديث اور آثار جمع ہو جاتے ہيں.

پھر ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

ہم يہ عقيدہ ركھتے ہيں كہ بغير كسى عذر كے كسى كے ليے بھى مسجد ميں نماز باجماعت سے پيچھے رہنا جائز نہيں.

ديكھيں: كتاب الصلاۃ ( 166 ).

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور راہنمائى بہترين اور كامل تھا؛ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تازہ كھجور كے ساتھ روزہ افطار كرتے، اور اگر تازہ كھجور نہ ملتى تو پھر كھجور كے ساتھ، اور اگر وہ بھى نہ ملتى تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم پانى سے روزہ افطار فرما ليتے، اور پھر نماز مغرب كے ليے كھڑے ہو جاتے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے قبل چند رطب ( تازہ اور آدھى كچى كھجوروں ) سے روزہ افطار كرتے، اور اگر رطب نہ ہوتيں تو پھر مكمل پكى ہوئى كھجور كے ساتھ، اور اگر پكى ہوئى كھجوريں بھى نہ ہوتيں تو پانى كے چند گھونٹ پى ليتے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 632 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ امام جو كچھ كر رہا ہے وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ كے خلاف ہے، چنانچہ آپ اسے نصيحت كريں ہو سكتا ہے وہ سيدھى راہ پر واپس پلٹ آئے.

واللہ اعلم

Tuesday, August 14, 2018

٣٩١-کیا خواتین جمع ہو کر کسی عورت کی اقتداء میں نماز عید ادا کر سکتی ہیں؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: کیا ایسا ممکن ہے کہ خواتین جمع ہو کر کسی عورت کی اقتدا میں نماز عید ادا کریں؟

الحمد للہ:

اول:

مسلمان عورت کیلیے بغیر خوشبو لگائے اور بناؤ سنگھار کیے مسلمانوں کے ساتھ عید کے دن عید گاہ  جانا شرعی عمل ہے۔

بخاری: (324) اور مسلم: (890) میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ: کنواری ، حائضہ اور نکاح کے قابل پردہ نشین لڑکیاں بھی عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ آئیں، چنانچہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں، اور خیر کے کام میں اور  دعا میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوں" اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم  ! اگر ہم میں سے کسی کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: (اپنی بہن کی چادر یا اوڑھنی لے لے)

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:
"کیا عید کی نماز عورت پر واجب ہے؟ اگر واجب ہے تو عید کی نماز گھر میں پڑھے گی یا عید گاہ میں؟"
تو انہوں  نے جواب دیا:
"عید کی نماز عورت پر واجب نہیں ہے، بلکہ سنت ہے، اور اس کی ادائیگی مسلمانوں کے ساتھ عید گاہ میں ہو گی؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے انہیں عید کی نماز مسلمانوں کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (8 /284)

مزید کیلیے سوال نمبر: (390) کا مطالعہ کریں۔

دوم:

اگر خواتین عید گاہ جانے کی استطاعت رکھتی ہوں تو شرعی طور پر خواتین جمع ہو کر گھر میں خود سے عید کی نماز باجماعت ادا نہیں کر سکتیں، اسی طرح خواتین کیلیے عید گاہ سے الگ کسی جگہ کو عید نماز کیلیے مخصوص کرنا کہ وہ اکیلے ہی عید نماز ادا کریں  شرعی طور پر درست نہیں ہے؛ کیونکہ یہ بدعت میں شمار ہو گا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا :
"کیا کسی عورت کیلیے عید کی نماز تنہا گھر میں پڑھنا جائز ہے؟"
تو انہوں  نے جواب دیا:
"خواتین کیلیے  عید کی نماز مردوں کے ساتھ عید گاہ میں پڑھنا شرعی عمل ہے؛ اس کی دلیل ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، چنانچہ سنت طریقہ یہ ہے کہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ عید گاہ جا کر نماز ادا کریں، جبکہ گھر میں عید نماز پڑھنے کے بارے میں مجھے کسی حدیث کا علم نہیں ہے۔" انتہی
ماخوذ از: "فتاوى نور على الدرب" (189 /8) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق۔

شیخ ابن عثیمین سے یہ بھی پوچھا گیا کہ:
"ایک عورت استفسار کرتی ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کیلیے عید کی نماز پڑھنے کا انتظام نہیں ہے، تو میں اپنے گھر میں خواتین کو جمع کر کے عید کی نماز پڑھاتی ہوں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ میرے گھر میں پردے  کا معقول انتظام ہے اور مردوں سے دور بھی ہے"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس کا حکم یہ ہے کہ بدعت ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ باجماعت ہوتی ہے، اور خواتین کو عید گاہ جانے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے خواتین مردوں کے ساتھ باجماعت عید کی نماز ادا کریں گی، تاہم عید نماز کیلیے مردوں سے پیچھے الگ سے با پردہ جگہ پر نماز ادا  کریں گی۔

جبکہ گھر میں عید نماز ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ سلم  یا صحابہ کرام کے زمانے میں ایسا کہیں نہیں پایا گیا کہ کسی گھر میں خواتین عید کی نماز ادا کریں" انتہی
"فتاوى نور على الدرب" (189 /8)

واللہ اعلم

٣٨٣-كيا نماز فجر ميں دعائے قنوت كرنے والے كے پيچھے نماز ادا كر ليں ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ہم جنوبى ايشاء كے ايك اسلامى ملك ميں بستے ہيں جہاں حكومت نمازوں ميں شافعى المسلك اماموں كى تقليد كرنے كا حكم ديتى ہے، كيا ہم ان مقلدين كے پيچھے نماز ادا كر ليں ؟
يہ علم ميں رہے كہ وہ فجر كى نماز ميں قنوت كرتے ہيں، ان كا اعتقاد ہے كہ يہ سنت ہے، اور اگر فجر ميں قنوت بھول جائيں تو سجدہ سہو كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

نماز فجر ميں قنوت پر مداومت اور ہميشگى كرنا سنت نہيں، اس كا بيان سوال نمبر ( 381 ) اور ( 382 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے، آپ سے گزارش ہے اس كى مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

نماز فجر ميں قنوت كرنے والے امام كے پيچھے آپ كا نماز ادا كرنا صحيح ہے، اور اگر نماز فجر ميں تسلسل سے قنوت نہ كرنے والا كوئى امام ملے تو اس كے پيچھے نمازادا كرنا اولى اور بہتر ہے، تا كہ سنت پر عمل ہو سكے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى علماء كرام كے مختلف فيہ اجتھادى مسائل مثلا نماز فجر اور وتر وغيرہ ميں دعائے قنوت كے متعلق كہتے ہيں:

" علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ اگر وہ دونوں ميں سے كوئى كام بھى كر لے تو اس كى عبادت صحيح ہے، اور اس پر كوئى گناہ نہيں، ليكن اس ميں تنازع ہے كہ افضل كيا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فعل كيا تھا ؟

فجر اور وتر ميں قنوت، اور بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنے، اور اعوذ باللہ كے وصف والا مسئلہ بھى اس ميں سے ہے.

چنانچہ اس پر اتفاق ہے كہ جس نے بلند آواز سے بسم اللہ پڑھى اس كى نماز صحيح ہے، اور جس نے پست آواز ميں پڑھى اس كى نماز بھى صحيح ہے، اور جس نے نماز فجر ميں قنوت كي اس كى نماز صحيح ہے، اور قنوت نہ كرنے والے كى نماز بھى صحيح ہے، اور اسى طرح وتر ميں بھى " اھـ

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" ہم نے جو كچھ بيان كيا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ قنوت مصائب اور مشكلات كے وقت كى جاتى ہے.....

اور جو اسے نماز كا جزء قرار ديتے ہوئے رہ جانے كى صورت ميں اس كى كمى سجدہ سہو كى صورت ميں پورى كرتے ہيں، ان كى بيناد يہ ہے كہ يہ سنت ہے اور مسلسل كرنا ہى سنت ہے، انہوں نے اسے پہلى تشھد وغيرہ كے مرتبہ پر ركھا ہے.

يہ واضح ہو چكا ہے كہ معاملہ ايسا نہيں، چنانچہ يہ سنت مؤكدہ نہيں اور نہ ہى اس كى بنا پر سجدہ سہو كيا جائيگا، ليكن جو شخص اس ميں تاويل كر كے اس كا اعتقاد ركھے، تو سب اجتھادى مسائل كى طرح اس ميں بھى اسے تاويل كا حق ہے.

اس ليے مقتدى كو چاہيے كہ وہ اجتھادى مسائل ميں اپنے امام كى اقتدا و پيروى كرے، اگر وہ قنوت كرتا ہے تو اس كے ساتھ قنوت كرے، اور اگر قنوت نہيں كرتا تو نہ كرے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

" امام اس ليے بنايا گيا ہے كہ اس كى اقتدا كى جائے "

اور يہ بھى فرمايا:

" اپنے اماموں كى مخالفت نہ كرو"

اور صحيح ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ثابت ہے:

" وہ تمہيں نماز پڑھائيں گے، اگر تو درست ہوئے تو تمہارے اور ان كے ليے ہے، اور اگر وہ غلطى كريں تو تمہارے ليے ( اجروثواب ہے ) اور ان كے ليے اس كا وبال " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى الكبرى ( 23 / 115 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ہمارے ہاں امام ہميشہ نماز فجر ميں قنوت كرتا ہے، كيا ہم اس كى اقتدا كريں، اور كيا ہم اس كى دعاء پر آمين كہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" جو شخص نماز فجر ميں قنوت كرنے والے امام كے پيچھے نماز ادا كرے اسے نماز فجر كى قنوت ميں اپنے امام كى اقتدا كرنى چاہيے، اور وہ اس كى دعائے خير ميں آمين كہے، امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے يہى بيان كيا ہے" اھـ

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 14 / 177 ).

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا نماز ميں سدل ( ہاتھ چھوڑ كر نماز ادا كرنا ) كرنے والےاور نماز فجر كى آخرى ركعت ميں ہميشہ قنوت كرنے والے شخص كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

نماز ميں داہنا ہاتھ بائيں پر ركھنا سنت ہے، اور ہاتھ چھوڑنا خلاف سنت اور اسى طرح نماز فجر كى آخرى ركعت ميں ہميشہ قنوت كرنا بھى خلاف سنت ہے، جيسا كہ بعض مالكى اور شافعى كرتے ہيں؛ كيونكہ ايسا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، بلكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو مصائب اور مشكلات پيش آجانے كى صورت ميں قنوت كيا كرتے تھے، اور نماز وتر ميں قنوت كيا كرتے تھے.

اور اگر امام نماز ہاتھ چھوڑ كر اور صبح كى نماز ميں ہميشہ قنوت كر كے نماز ادا كرتا ہو، جيسا كہ سوال ميں بيان ہوا ہے، اہل علم نے اسے سنت پر عمل كرنے كى نصيحت اور راہنمائى كى ہے اگر تو وہ بات مان لے تو الحمد للہ اور اگر وہ انكار كرے، اور اس كے علاوہ كسى اور پيچھے نماز باجماعت ادا كرنا آسان ہو تو سنت پر عمل كرنے كے ليے اس كے پيچھے نماز ادا كى جائےگى، اور اگر اس ميں آسانى نہ ہو تو نماز باجماعت كى حرص ركھتے ہوئے اس كے پيچھے نماز ادا كى جائيگى، بہر حال نماز صحيح ہے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 4 / 366 ).

واللہ اعلم

٣٨٠-کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لے جو تین رکعت وتر دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھتے ہیں اور قنوت رکوع سے پہلے کرتے ہیں؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال: جس اسلامی مرکز میں میں نماز ادا کرتا ہوں وہ حنفی مذہب پر ہیں، کہ وہ وتر تین رکعات میں ادا کرتے ہیں اور دوسری رکعت کے بعد تشہد بیٹھتے ہیں لیکن سلام نہیں پھیرتے، پھر تیسری رکعت کیلیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر سورہ فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت ملاتے ہیں، پھر وہ تکبیر کہہ کر رکوع نہیں کرتے بلکہ دل میں دعا پڑھتے ہیں پھر ایک اور تکبیر کہہ کر رکوع میں جاتے ہیں، تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟ اور اگر یہ طریقہ درست نہیں ہے تو ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

الحمد للہ:

اول:

امام اور مقتدی حضرات کی جانب سے تین وتروں کو دو تشہد اور ایک ہی سلام سے ادا کرنا ، نیز رکوع سے پہلے قنوت کرنا حنفی اور جمہور علمائے کرام کے مابین مشہور اختلافی مسائل میں سے ہے، چنانچہ وتروں کی نماز کو اس انداز سے ادا کرنا کراہت سے خالی نہیں ہے؛ کیونکہ تین وتروں کی ادائیگی کیلیے دو شرعی طریقے مشہور ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

1-             ایک ہی تشہد اور ایک ہی سلام کے ساتھ تینوں وتر اکٹھے ادا کیے جائیں۔

2-             دو رکعات ادا کر کے سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک وتر الگ سے ادا کیا جائے۔

ان دونوں طریقوں کے بارے میں آپ کو مکمل تفصیل  مع دلائل سوال نمبر: (377) کے جواب میں ملیں گی، اس کا مطالعہ کریں۔

تین رکعات  کو دو تشہد اور سلام کے ساتھ  وتر ادا کرنا شرعی طور پر منع ہے، اور اس کا کم از کم درجہ کراہت تو بنتا ہی ہے، جیسے کہ اس بارے میں علمائے کرام کے فتاوی جات کا تذکرہ پہلے سوال نمبر: (378) میں گزر چکا ہے ان کا مطالعہ بھی کریں۔

رکوع سے پہلے قنوت کرنے کے بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں ، نیز رکوع کے بعد قنوت کرنے والوں کے پاس بھی دلیل ہے، لہذا یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں سختی کی جائے ، نیز ہر دو موقف میں سے کسی ایک پر عمل پیرا شخص کی مخالفت کرنا بھی درست نہیں ہے، چہ جائیکہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔

وتروں میں قنوت کے بارے میں پہلے سوال نمبر: (379) میں تفصیل گزر چکی ہے، اس کا مطالعہ مفید ہوگا۔

دوم:

آپ کی ذکر کردہ صورت حال  کے باوجود ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ ان کا یہ عمل ایک امام اور مجتہد کی تقلید کی وجہ سے ہے، اور محض تقلید کی وجہ سے کسی کے پیچھے نماز ترک کرنے کی اجازت دینا ممکن نہیں ، اور نہ ہی ان سے علیحدگی اختیار کرنا مناسب ہے؛ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں اور آپ [اختلاف وغیرہ ]جو بھی کام کرینگے وہ اسلام ہی سمجھا جائے گا[اور یہ اسلام پر دھبہ ہوگا]۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر امام کوئی ایسا عمل ترک کر دے جسے مقتدی واجب سمجھتا ہو، مثال کے طور پر: امام [سورت کے شروع میں یا بلند آواز سے ]بسم اللہ نہ پڑھے لیکن مقتدی اسے واجب سمجھتا ہو، یا امام مردانہ عضو پر ہاتھ لگنے سے وضو کرنے کا قائل نہ ہو ، لیکن مقتدی اس سے وضو واجب ہونے کا قائل ہو،  یا امام مردار کے رنگے ہوئے چمڑے میں نماز پڑھے جبکہ مقتدی مردار کے چمڑے کی دباغت کے باوجود طہارت کا قائل نہ ہو، یا امام سنگھی لگوا کر وضو کرنے کا قائل نہ ہو جبکہ مقتدی اسے ضروری سمجھتا ہو، تو اس صورت حال میں قطعی اور صحیح بات یہ ہے کہ مقتدی کی نماز اس امام کے پیچھے درست ہے اگرچہ امام کا موقف غلط ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ([ظالم حکمران] تمھیں نمازیں پڑھائیں گے ، اگر وہ صحیح انداز میں نماز پڑھائیں تو تمہاری بھی ہو جائے گی اور ان کی بھی  ہو جائے گی، لیکن اگر وہ غلطی کریں تو تمہاری ہو جائے گی ان کی نہیں ہوگی)

اسی طرح اگر مقتدی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھے جو فجر یا وتر کی نماز میں دعائے قنوت کرے تو مقتدی کو بھی اس کے ساتھ ہی دعائے قنوت کرنی چاہیے چاہے رکوع سے قبل کرے یا بعد میں، اور اگر امام دعائے قنوت نہ کرے تو مقتدی بھی نہ کرے، اور اگر کسی چیز کے بارے میں امام اور مقتدی  کے درمیان مستحب ہونے پر اختلاف ہو تو اس چیز کو اتفاق و اتحاد کی خاطر چھوڑ دینا احسن ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ:
وتروں کے بارے میں علمائے کرام کے تین اقوال ہیں:

1-              وتر مغرب کی نماز کی طرح مسلسل تین رکعتوں کی صورت میں ہی ادا کیے جائیں گے، یہ اہل عراق میں سے کچھ کا موقف ہے۔

2-             وتر صرف ایک رکعت ہی ہوتی ہے اور یہ پہلے والی رکعات سے الگ ہوتی ہے، یہ اہل حجاز میں سے کچھ کا موقف ہے۔

3-             دونوں طرح ہی ٹھیک ہے، یہ شافعی امام احمد اور دیگر کا موقف ہے، اور یہی صحیح ہے، اگرچہ ان کے ہاں بھی وتروں کی ایک رکعت کو گزشتہ رکعات سے الگ پڑھنا ہی افضل اور بہتر ہے۔

چنانچہ اس صورت میں اگر امام وتر کی ایک رکعت الگ سے پڑھنے کا موقف رکھتا ہو، لیکن مقتدیوں کا موقف یہ ہو کہ امام انہیں مغرب کی نماز کی طرح ہی وتر پڑھائے اور امام ان کی اس چاہت کو تالیف قلبی کیلیے پورا کر دے تو یہ اچھا اقدام ہوگا، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: (اگر تمہاری قوم  عہدِ جاہلیت سے نئی نئی باہر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ  کی دوبارہ تعمیر کرتا اور اس کی تعمیر زمین کے برابر سے شروع کرتا، اور اس کے دو دروازے بنا دیتا ایک سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے باہر نکلتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افضل عمل صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ کہیں لوگ ان سے متنفر نہ ہوں" انتہی
" الفتاوى الكبرى " ( 2 / 476 )

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...