Showing posts with label نکاح. Show all posts
Showing posts with label نکاح. Show all posts

Wednesday, August 15, 2018

٤٧٨-نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے عمرمیں فرق کے باوجود شادی میں حکمت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میرے ایک نصرانی دوست نے یہ سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نوبرس کی عمر میں شادی کرنے میں کیا حمکت تھی حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ برس کے ہونے والے تھے ، اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس عمرمیں ازدواجی تعلقات قائم کیے تھے یا نہیں ؟؟
حقیقت تویہ ہے کہ مجھے اس کے رد کا علم نہيں ۔

الحمد للہ
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ بنت زمعہ رضي اللہ تعالی عنہا سے شادی کرنے کے بعد عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے شادی کی ، اورصرف عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا ہی کنواری تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور جب ان سے ازداوجی تعلقات قائم کیے توعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی عمر نوبرس تھی ۔
اورعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے علاوہ ازواج مطہرات میں سے کسی اورکے لحاف میں وحی نازل نہيں ہوئی ، اورعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسب بیویوں سے زيادہ محبوب تھیں ، ان کی برات ساتوں آسمانوں سے نازل ہوئی ۔

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے سب سےزيادہ فقیہ اورعلم رکھنے والے تھیں ، بلکہ مطلقاامت اسلامیہ کی عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہ اورعلم رکھنے والی تھیں ، بڑے بڑے صحابہ کرام عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے رجوع کرتے اوران سے مسائل پوچھا کرتے تھے ۔

ان کی شادی کا قصہ یہ ہے کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا کی وفات سے بہت زيادہ غمزدہ ہوئے اس لیے کہ وہ ان کی تائيد اورمدد کیا کرتی تھیں ، اورہر معاملہ میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں ، اسی لیے اس سال کو جس میں وہ فوت ہوئي اسےعام الحزن ( یعنی غموں کا سال ) کہا جاتا ہے ۔

پھران کے بعدنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کرلی یہ بڑی عمر کی تھیں اورخوبصورت بھی نہيں تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صرف غمواری کے لیے شادی کی تھی کیونکہ اس کا خاوند فوت ہوچکا تھا ، اوریہ مشرک قوم کے درمیان رہائش پذیر تھیں ۔

اس کے چارسال بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس برس سے زيادہ تھی ، عائشہ رضي اللہ تعالی عہنا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شادی کرنے میں مندرجہ ذیل حکمتیں ہوسکتی ہیں :

اول :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے شادی کی خواب دیکھی تھی ، صحیح بخاری میں حدیث مروی ہے کہ عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی بیان کرتی ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں فرمایا :

( خواب میں مجھے تو دوبار دکھائي گئي تھی ، میں نے تجھے ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئي دیکھا ، کہا گیا کہ یہ تیری بیوی ہے جب میں کپڑا ہٹاتا ہوں تو دیکھا کہ تو ہے ، میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے توپھر اللہ اسے پورا کرے گا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3682 ) ۔

اورکیا یہ اپنے ظاہر پر نبوت کی خواب ہے یا اس کی کوئي تاویل ہوگي علماء کرام کے مابیں اس میں اختلاف ہے ، جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے ۔ دیکھیں فتح الباری ( 9 / 181 ) ۔

دوم :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے بچپن میں جوذھانت اورسمجھداری کی علامات اورنشانیاں دیکھیں تواس بنا پران سے شادی کرنا پسند فرمائی تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال اوراقوال کودوسروں کی بنسبت صحیح اوربہتر طریقے سے نقل کرسکے ۔

اورپھر حیقیقتا ہوا بھی ایسے ہی جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بڑے بڑے صحابہ کرام کے لیے مرجع بن گئي اورصحابہ کرام اپنے احکام اورہرمعاملہ کے بارہ میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے رجوع کیا کرتے اورپوچھا کرتے تھے ۔

سوم :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے والد ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، کہ انہوں نے دعوت حق کے راستے میں جواذیتیں برداشت کی اوران پر صبر وتحمل سے کام لیا ، لھذا علی الاطلاق انبیاء کےبعد وہ سب لوگوں سے زیادہ پختہ ایمان والے اورسچے یقین والے تھے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی شادیاں کی اگران میں نظر دوڑائي جائے توہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں کم عمر بھی ہے اوربوڑھی بھی اورسخت قسم کے جھگڑالودشمن کی بیٹی بھی اورجگری اوردلی دوست کی بیٹی بھی ۔

ان میں ایسی بھی ہے جویتیموں کی پرورش بھی کرنے والی ہے ، اوران میں ایسی بھی ہے جونماز اورروزے کثرت سے رکھنے میں دوسروں سے ممتازہوتی ہے ۔۔۔ وہ سب انسانی افراد کے لیے نمونہ اورآئڈیل تھیں ، ان کے ذریعہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوایک ایسی یکسو تشریع دی جس میں بشریت کے ہرمعاملے اورکام سے تعامل اوربرتاؤ کی کیفیت بیان کی گئي ہے ۔

دیکھیں : السیرۃ النبويۃ فی ضوء المصادرالاصلیۃ صفحہ ( 711 ) ۔

اوررہا مسئلہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی صغر سنی اوراس کے بارہ میں آپ کے اشکال کا توہم گزارش کرینگے گے کہ : آپ کوعلم ہونا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گرم علاقہ جزیرہ عربیہ میں رہتے تھے اوروہيں پرورش بھی پائي ، اورغالباگرم علاقوں میں سن بلوغ بھی جلد آجاتا ہے جس کی بنا پر شادی بھی جلد ہوجاتی ہے ، جزیرہ میں بھی عھد قریب تک یہی حالت تھی ، اورپھر عورتوں میں جسم کے نشونما کا بھی اختلاف پایا جاتا ہے جس میں وہ ایک دوسرے سے بہت زيادہ مختلف ہوتی ہیں ۔

اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے ، جب آپ غورکریں گے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے علاوہ کسی اورکنواری عورت سے شادی نہيں کی بلکہ ان کے علاوہ باقی سب بیویاں ایسی تھیں جن کی پہلے شادی ہوچکی تھی اب یا تو وہ مطلقہ تھیں یا بیوہ ، اس طرح وہ طعن جوکچھ لوگ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شادی کرنے کا مقصد صرف عورتوں کی شھوت اوران سے نفع اٹھانا تھا زائل ہوجاتا ہے ۔

کیونکہ جس شخص کا یہ مقصد ہو تووہ اپنی ساری بیویاں یا اکثر ایسی اختیار کرتا ہے جوانہتائي خوبصورت ہوں اوران میں رغبت کی ساری صفات پائي جائيں ، اوراسی طرح اورحسی اورزائل ہونے والے معیار بھی ۔

کفار اوران کے پیروکاروں کا اس طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم میں طعن کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ دین اورشریعت میں طعن کرنے سے بالکل عاجز آچکے ہیں اب انہيں کچھ نہيں ملا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں طعن کرنا شروع کردیا اورکوشش کرتے ہيں کہ خارجی امور میں طعن کیا جائے ، لیکن اللہ تعالی تواپنے نور اوردین کو مکمل کرکے رہے گا اگرچہ کافر برا مناتے رہیں ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

مزید تفصیل کے لیے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی کتاب زاد المعاد ( 1 / 106 ) کا مطالعہ کریں ۔

واللہ اعلم

Sunday, August 12, 2018

٢٦٠-دبر ميں وطئ كرنا سے نكاح پر اثر

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ميں يہ معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ اگر كوئى خاوند بيوى كى دبر استعمال كرے تو كيا اس كى شادى باطل ہو جاتى ہے اور كيا دوبارہ شادى كى جائيگى ؟

الحمد للہ:

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں تم اپنى كھيتيوں ميں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے ليے ( نيك اعمال ) آگے بھيجو اور اللہ تعالى سے ڈرتے رہا كرو اور جان ركھو كہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ايمان والوں كو خوشخبرى سنا ديجئے ﴾البقرۃ ( 223 ).

لفظ حرث يعنى كھيتى يہ فائدہ ديتا ہے يہ اباحت صرف فرج يعنى قبل ميں ہو گا خاص كر جبكہ وہ اولاد پيدا ہونے كى كھيتى ہے، يہاں مشابہت يہ دى گئى ہے كہ ماں كے رحم ميں نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پيدا ہوتى ہے، جس طرح زمين ميں بيج ڈالا جاتا ہے جس سے نباتات اگتى ہيں كيونكہ يہ دونوں ميں مادہ ہے.

اور قولہ: " انى شئتم " يعنى جس طرف سے بھى چاہو چاہے پچھلى جانب سے يا اگلى جانب سے اسے بٹھا كر يا لٹا كر ليكن جماع حرث يعنى كھيتى ميں ہو ( يعنى فرج جہاں سے بچہ پيدا ہوتا ہے ).

شاعر كا كہنا ہے:

رحم تو ہمارے ليے كھيتياں ہيں ہم پر تو صرف اس ميں بيج بونا ہے اور اللہ كے ذمہ اس كو اگانا.

ابن خزيمہ بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يقينا اللہ تعالى حق سے نہيں شرماتا، تم عورتوں كى دبر كو استعمال مت كرو "

مسند احمد ( 5 / 213 ) يہ حديث حسن ہے.

اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص اپنى بيوى كى دبر استعمال كرتا ہے اللہ تعالى اس كى طرف ديكھے گا بھى نہيں "

اسے ابن ابى شيبہ ( 3 / 529 ) اور ترمذى حديث نمبر ( 1165 ) ميں روايت كيا اور اسے حسن قرار ديا ہے.

ديكھيں: نيل المرام تاليف صديق حسن خان ( 1 / 151 - 154 ).

ليكن اگر كسى شخص نے ايسا كر ليا تو اس كى بيوى كو طلاق شمار نہيں ہو گى جيسا كہ اكثر لوگوں ميں مشہور ہے كيونكہ اس كى شريعت ميں كوئى دليل نہيں ملتى.

ليكن يہ ہے كہ علما كہتے ہيں اگر كسى شخص كى يہ عادت بن جائے تو بيوى كے ليے اس سے طلاق حاصل كر سكتى ہے كيونكہ يہ فسق ہے اور وہ اس فعل كى بنا پر بيوى كو اذيت سے دوچار كر رہا ہے.

اور اسى طرح شادى كى غرض اور مقصد بھى اس سے حاصل نہيں ہوتا، بيوى كو اس خبيث اور گندے كام كا ڈٹ كر مقابلہ كرنا چاہيے اور اپنے خاوند كو نصيحت كرے اور اللہ كا ڈر پيدا كرے اور اللہ كى حدود سے تجاوز كرنے والے كى سزا ياد دلائے، اگر تو خاوند اس فعل سے توبہ كر لے تو اس كے ساتھ باقى رہنے ميں كوئى مانع نہيں، اور اس سے تجديد نكاح كى ضرورت نہيں ہو گى.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

واللہ اعلم

Friday, August 10, 2018

٤٢-بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

شیخ محترم! غیر مناسب سوال کرنے پر آپ سے معذرت چاہوں گا، میرا سوال یہ ہے کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے کا کیا حکم ہے؟

الحمد للہ:

بھائی ہم آپکا عذر قبول کرتےہیں ، اور اس قسم کے معاملات میں شرعی حکم جاننے کیلئے کوشش کرنا نہ حرام ہے اور نہ ہی عیب والی بات ہے، بلکہ یہ آپکا حق ہے۔

آپکا سوال کہ عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے کا کیا حکم ہے، تو یہ کبیرہ گناہ ہے، چاہے حیض کے دنوں میں ہو یا عام دنوں میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کام کرنے والے پر لعنت کی ہے، اور فرمایا: "ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے" امام احمد 2/479 نے اسے روایت کیااور یہ حدیث صحيح الجامع 5865 میں بھی ہے۔

بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا: (جس نے حائضہ سے جماع کیا یا بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کیا یا کسی کاہن کے پاس آیا تو اس محمد پر نازل شدہ -قرآن- سے کفر کیا) ترمذی نے اسے 1(/243) روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحيح الجامع 5918 میں بھی موجود ہے۔

بہت سی فطرتِ سلیمہ کی مالک بیویاں اس بات کا انکار کرتی ہیں، لیکن کچھ شوہر اسے طلاق سے ڈرا دھمکا کر منوا لیتے ہیں، اور کچھ اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہیں، بیوی شرم وحیا کی وجہ سے اہل علم سے پوچھ نہیں پاتی اور وہ اُسے کہہ دیتا ہے کہ یہ حلال ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کو اپنی بیوی کے ساتھ ہر طرح سے جماع کی اجازت ہے، آگے سے پیچھے سے بشرطیکہ اولاد کی جگہ جماع کیا جائے، اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پچھلی شرمگاہ پاخانے کی جگہ ہے اولاد کی جگہ نہیں ہے۔

اس جرم کا کچھ لوگوں میں سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ شادی کے پاک بندھن میں جاہلی اور غیر فطری طریقوں کو داخل کر دیتے ہیں، یا اسکی وجہ ذہن میں گندی فلموں کے مناظر ہوتے ہیں، حالانکہ انہیں ان سب گناہوں سے توبہ کی ضرورت ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ کام سراسر حرام ہے، چاہے میاں بیوی دونوں یہ کام کرنے راضی بھی ہوں، اس لئے کہ ان دونوں کی رضا مندی حرام کام کو حلال نہیں بنا سکتی۔

علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اس فعل کی حرمت کے بارے میں کچھ حکمتیں اپنی کتاب زاد المعاد میں ذکر کی ہیں، آپ کہتےہیں:

"دُبر میں جماع کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں ہوا۔۔۔

- اور اگر اللہ تعالی نے فرج –آگے والی شرمگاہ- میں حیض کی حالت میں جماع صرف اس لئے حرام کیا ہے کہ عارضی طور پر اس گندگی ہوتی ہے، تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہمیشہ ہی گندگی کی جگہ ہے؟ بلکہ اس میں نقصان بھی ہے کہ اس فعل سے نئی نسل پیدا نہیں ہوگی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ خواتین کی دُبر سے آگے چلتے ہوئے بچوں کے ساتھ بھی غیر فطری کام شروع کردیں۔

- عورت کا بھی اپنے خاوند پر حق ہوتا ہے ، اور دبر میں جماع سے اسکی حق تلفی ہوتی ہے، جس سے عورت کی شہوت پوری نہیں ہوتی، اور اسکا مقصود بھی حاصل نہیں ہوتا۔

- دبر کو اللہ تعالی نےجماع کیلئے نہیں بنایا، اور نہ ہی اسے اس کام کیلئے تیار کیا ہے، فرج ہی جماع کیلئے پیدا کی گئی ہے،چنانچہ فرج چھوڑ کر دبر میں جماع کرنے والے اللہ کی حکمت اور شریعت دونوں سے باہر نکل جاتے ہیں۔

- اس کام سے مرد کو نقصان ہوتا ہے، اسی لئے طبیب حضرات بھی اس سے منع کرتے ہیں، کیونکہ فرج میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ہے، اسی سے مرد کو سکون ملتا ہے، جبکہ دبر میں مکمل پانی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اور نہ ہی مکمل طور پر پانی دبر میں نکل پاتا ہے، کیونکہ یہ ہے ہی فطرت کے خلاف۔

- مرد کا ایک اور اعتبار سے بھی نقصان ہوتا ہے، کہ اسے اس کام کیلئے عجیب غریب قسم کی حرکتیں کرنی پڑتی ہیں، کیونکہ یہ کام ہے ہی فطرت کے خلاف۔

- یہ جگہ گندگی اور پاخانے کی ہے ، اور انسان اس جگہ کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور گندگی اسکے جسم کو بھی لگ جاتی ہے۔

- عورت کیلئے بھی یہ نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ فطرتِ سلیم کے بالکل منافی ہے۔

- یہ کام کرنے والے اور کروانے والے کے مزاج میں ایسی تبدیلی آتی ہے جسکی اصلاح ممکن نہیں، اگر توبہ کرلے تو شاید اللہ اسکی اصلاح فرمادے۔

- یہ کام لعنت کا موجب ، اور اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے جس سے اللہ کی نعمتیں زائل اور بندہ عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے، اللہ تعالی ایسا کام کرنے والے سے اعراض فرما لے گا ، اور اسکی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔

ذرا سوچیں! اس کے بعد اسے کس خیر کی امید ہوسکتی ہے، اور کس طرح تکالیف سے بچ سکتا ہے، انسان کی زندگی کیسی ہوگی جبکہ اللہ کی لعنت اس پر برستی ہو، اور اللہ اسکی طرف رحمت کی نگاہ سے نہ دیکھے؟!

- اس کام سے حیاء کلی طور پر رخصت ہوجاتا ہے، حالانکہ دل کی زندگی حیاء سے ہی ہے، اگر دل سے حیاء ہی مٹ جائے تو گناہوں کو بھی انسان اچھا سمجھنے لگتا ہے، اور اچھی چیزوں کو بُرا جاننے لگتا ہے۔یہاں آکر برائی اس پر مکمل حاوی ہوجاتی ہے۔

- اس کام سے انسان اس فطرت سے نکل جاتا ہے جس پر اللہ نے اسے پیدا فرمایا، اور اس میں حیوانیت آجاتی ہے، بلکہ حیوانیت سے بڑھ کر اپنی فطرت کو اُلٹ کر بیٹھتا ہے، اور جب فطرت ہی الٹ جائے تو دل، اُس کے کام ، اور چال چلن سب اُلٹا ہوجاتا ہے، اسی لئے بری چیزیں اسے اچھی لگنے لگتی ہیں ۔۔۔

- اس سے انسان میں مذموم قسم کی جرأَت پیدا ہوجاتی ہے، جو کسی اور گناہ سے پیدا نہیں ہوتی۔

اللہ کی طرف سے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جسکی اتباع اور ہدایت میں کامیابی ہے، اور اس کی مخالفت میں ہلاکت اور تباہی و بربادی ہے"

مختصراً ماخوذ از کتاب: روضة المحبين 4/257 – 264

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے، اور اسکی حرام کردہ اشیاء کی حدود پر رک جانے کی توفیق دے، وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...