Showing posts with label روزے کو توڑنے والی اشیاء. Show all posts
Showing posts with label روزے کو توڑنے والی اشیاء. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

٩٠١-رمضان ميں حائضہ بيوى سے جماع كرنے والے كا كفارہ


س-اگر كوئى شخص عام ايام ميں حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كر لے يا پھر رمضان المبارك ميں حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كرے تو اس كا كفارہ كيا ہے اور اس سے توبہ كيسے ہو گى ؟
ہم سے ايسا ہو چكا ہے، اور ہميں اس كى حرمت كا علم بھى تھا، اب ہمارى نيت توبہ كرنے كى ہے، بتائيں كہ ہم اللہ سے توبہ كس طرح كر سكتے ہيں، برائے مہربانى كوئى ايسا عمل بتائيں جسے كرنے پر اللہ تعالى مجھے معاف كر دے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اول:

علماء كرام كا اجماع ہے كہ حائضہ عورت كے ساتھ جماع كرنا حرام ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

}اور آپ سے حيض كے متعلق دريافت كرتے ہيں، آپ كہہ ديں كہ حيض گندگى ہے، چنانچہ تم حيض كى حالت ميں بيوى سے عليحدہ رہو، اور اس كے قريب مت جاؤ حتى كہ وہ پاك صاف ہو جائيں {البقرۃ ( 222 ).

اور حديث ميں ہے كہ:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو كوئى بھى حائضہ عورت سے جماع كرے، يا اپنى بيوى سے پاخانہ والى جگہ كو استعمال كرے، يا كسى نجومى اور كاہن كے پاس جائے تو اس نے محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر نازل كردہ كا كفر كيا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 135 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ترمذى ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور جو كوئى بھى اس فعل كا مرتكب ہو اسے توبہ كرنا ہو گى اور اس كا كفارہ ادا كرنا ہو گا، كفارہ يہ ہے كہ: ايك يا آدھا دينار فقراء و مساكين پر صدقہ كرے؛ كيونكہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہى حكم ديا ہے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيوى سے حيض كى حالت ميں جماع كرنے والے شخص كے متعلق فرمايا:

" وہ شخص ايك يا آدھا دينار صدقہ كرے "

مسند احمد حديث نمبر ( 2032 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 264 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 135 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 289 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 640 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور دينار سوا چار گرام سونے كا ہوتا ہے، اس ليے آپ اتنے سونے كى قيمت صدقہ كريں، يا اس سے آدھى قيمت، اور اس كے ساتھ پختہ عزم بھى كريں كہ آئندہ كبھى ايسا كام نہيں كرينگے.

دوم:

اگر تو رمضان المبارك ميں جماع سے آپ يہ مقصد لے رہے ہيں كہ: رمضان المبارك كى راتوں ميں حائضہ عورت سے جماع كرنا، تو اس كے ليے وہى واجب ہے جو اوپر بيان ہوا ہے اور توبہ و استغفار بھى كريں.

اور اگر آپ كا مقصد دن كے وقت روزے كى حالت ميں جماع كرنا ہو تو يہاں دو عظيم گناہ جمع ہوئے ہيں، اور وہ رمضان كا روزہ توڑنا اور حيض كى حالت ميں جماع كرنا.

حيض كى حالت ميں جماع كرنے كا حكم تو آپ كو معلوم ہو چكا ہے.

اور رہا مسئلہ جماع كر كے روزہ توڑنا تو اس كے نتيجہ ميں پانچ اشياء مرتب ہوتى ہيں:

اول:

گناہ

دوم:

روزہ ٹوٹنا.

سوم:

باقى سارا دن روزہ توڑنے والى اشياء سے اجتناب كرنا.

چہارم:

قضاء ميں روزہ ركھنا واجب ہوگا.

پنجم:

توبہ كے ساتھ ساتھ كفارہ كى ادائيگى واجب ہوتى ہے.

چنانچہ آپ پر اس دن كے روزے كى قضاء ميں روزہ ركھنا اور اس كے ساتھ اس كا كفارہ بھى ادا كرنا واجب ہوتا ہے، اور اس كا كفارہ يہ ہے:

ايك غلام آزاد كرنا، اگر يہ نہ ملے تو دو ماہ كے مسلسل روزے ركھنا، اور اگر كوئى شخص اس كى بھى استطاعت نہيں ركھتا تو پھر وہ ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلائے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( ٩٠٠ ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اللہ تعالى سب كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو اللہ كو پسند ہيں اور جن سے وہ راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم

٩٠٠-ایک شخص نے بیوی سے رمضان میں روزے کی حالت میں بغیرانزال کیے جماع کرلیا


س-ایک شخص نے رمضان کےاندر روزے کی حالت میں بیوی سے بغیر انزال کیے جماع کرلیا تواس کا حکم کیا ہے ، اوراگربیوی اس سے جاہل تھی تواس پر کیا ہوگا ؟

الحمد للہ :

رمضان میں روزے کی حالت سے بیوی کے ساتھ جماع کرنے پر کفارہ مغلظہ ہوگا جو کہ ایک غلام آزاد کرنا اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہے اوراگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، اوراس کے ساتھ روزے کی قضاء بھی ہوگی ۔

اوراگر عورت رضامندی سے یہ کام کرے تواس پر بھی یہی کفارہ ہوگا اورقضاء بھی کرنے پڑے گی ، لیکن اگر وہ دونوں مسافرہوں تو ان پرکوئي گناہ نہیں اور نہ ہی کفارہ ہے اوراس دن کھانے پینے سے رکنا بھی نہیں ہوگا بلکہ صرف اس دن کی قضاء ہوگی کیونکہ ان پر روزہ رکھنا لازم نہيں تھا ۔

اوراسی طرح جوکوئي کسی ضرورت کی بنا پر روزہ افطار کرلے مثلا کسی معصوم بچے کو ہلاک ہونے سے بچائے ، تواگر اس دن جس میں اس نے کسی ضرورت کی بنا پر روزہ افطار کیا تھا میں جماع کرلیا تواس پر کچھ بھی نہيں کیونکہ اس نے واجبی روزے کی حرمت پامال نہيں کی ۔

جس شخص پرروزہ لازم ہو اوروہ اپنے ملک میں مقیم ہو توجماع کرلینے کی بنا پر اس پر پانچ اشیاء مرتب ہوتی ہیں :

1 - گناہ ومعصیت ۔

2 - روزہ فاسد ہوجاتا ہے ۔

3 - دن کا بقیہ حصہ کچھ نہ کھانا پینا ۔

4 - قضاء میں روزہ رکھنا واجب ہے ۔

5 - کفارہ واجب ہوجاتا ہے ۔

کفارہ واجب ہونے کی دلیل ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں پائي جاتی ہے جس میں اس شخص کا بیان ہے جس نے اپنی بیوی سے رمضان میں دن کے وقت بیوی سے روزے کی حالت میں جماع کرلیا تھا ، تو یہ شخص کفارہ ادا کرنے میں روزے رکھنے اورکھانا کھلانے کی طاقت نہيں رکھتا تھا جس کی بنا پراس سے کفارہ ساقط ہوا ۔

کیونکہ اللہ تعالی کسی کو بھی اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہيں کرتا ، اورعاجز ہونے کی صورت میں وہ واجب نہيں ہوتی ، جماع میں انزال ہونے یا نہ ہونے میں کوئي فرق نہيں جب جماع ہوگیا توحرمت پامال کردی گئي ، لیکن اگر جماع کے بغیر ہی انزال ہوجائے تو اس میں کفارہ نہيں ہے بلکہ اس میں گناہ اورقضاء اوراس دن کھانے پینے سے گريز کرنا واجب ہے ۔ .

دیکھیں : الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 1 / 348 ) ۔

٨٩٣-حيض سے طہارت ميں شك ہونے كے باوجود روزہ ركھ ليا


س-ايك عورت كو حيض سے پاك ہونے ميں شك تھا اس نے روزہ ركھ ليا اور جب صبح ہوئى تو وہ يقينى طور پر پاك تھى كيا اس كا يہ روزہ صحيح ہو گا يا نہيں كيونكہ روزہ ركھتے وقت تو اسے پاك ہونے ميں شك تھا ؟

الحمد للہ:

اس كا روزہ صحيح نہيں، بلكہ اسے اس دن كى قضاء ميں روزہ ركھنا ہو گا، اس ليے كہ اصل ميں حيض باقى ہے، اور اس كا حيض سے پاك ہونے ميں شك كے باوجود روزہ ركھنا اور عبادت ميں داخل ہونا صحيح نہيں كيونكہ يہ اس كے صحيح ہونے ميں مانع ہے " انتہى

فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ..

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين رحمہ اللہ فتاوى الصيام ( 107 - 108 )

٨٦٩- آدمی کااپنی بیوی سےروزے کی حالت میں معانقہ کرنا


سوال-میں نےکچھ مدت پہلےشادی کی ہےمیں ایک ایسےمعاملےکی وضاحت چاہتاہوں جس نےمجھےمشکل میں ڈال دیاہےوہ یہ کہ رمضان کےاس مبارک مہینہ میں جب میںروزہ کی حالت میں اپنے بیڈ پرآتاہوں تودوسرے بیڈ پربعض اوقات میری بیوی لیٹی ہوتی ہے، میں کبھی کبھی اس سےمعانقہ کرلیتاہوں توکیااس سےمیراروزہ تونہیں ٹوٹ جاتا ؟
کیاآپ ان امورپرروشنی ڈال سکتے ہیں جومیرے لئےکرنےجائزہیں اورجن کا کرنا میرے لئےحرام ہے ؟

الحمدللہ

مسلمان پریہ واجب ہےکہ وہ اپنےآپ کوان اشیاءسےمحفوظ رکھےجن سےاسکاروزہ ٹوٹ جاتاہے۔کھانے،پینےاورجماع وغیرہ کی شہوت کوترک کرکےاجروثواب کی نیت کرے ۔

جیسا کہ روزےدارکی فضیلت میں حدیث ہے :

( وہ کھاناپینااوراپنی شہوت میرے لئےترک کرتاہے )

صحیح بخاری الصوم حدیث نمبر۔(1761)

لیکن اگروہ اپنےنفس پرکنٹرول کرسکتاہےکہ وہ اس کام کی طرف نہیں جائےگاجوکہ اس کےروزے کےٹوٹنےکاباعث بنےمثلامنی کاخروج اورجماع وغیرہ یاپھراس کےروزےمیں نقص کاسبب ہوجیسے کہ مذی کاخروج ہوتاہے تواس حالت میں اسےاپنی بیوی سےخوش طبعی کرناجائز ہے۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسےخوش طبعی کیا کرتےتھےاورآپ کواپنی شہوت وخواہش پرمکمل کنٹرول حاصل تھا۔

شیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی کا کہناہےکہ :

کہ آدمی کاروزے کی حالت میں اپنی بیوی سےجماع کےبغیرمباشرت اوراس سےخوش طبعی کرنااوراس کابوسہ لینایہ سب کچھ جائز ہےاوراس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزےکی حالت میں بوسہ اورمباشرت کیا کرتےتھے ۔

لیکن اگرکوئی شخص اس سےڈرےکہ وہ اپنی شہوت کےتیزہونےکی بنا پرایسا کام کربیٹھےگاجواللہ تعالی نےاس پرحرام کیاہےتواس کےلئےایسا کرنامکروہ ہے،اگراس کی منی خارج ہوگئی تواس پرباقی سارادن رکناہےاورقضاء بھی اس کےذمہ ہےاورجمہورعلماءکےہاں اس پرکفارہ نہیں ہے ۔

اورعلماءکےاقوال میں صحیح قول یہ ہےکہ مذی سےروزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ اصل میں اس ( روزے ) کاسلامت ہوناہےباطل ہونانہیں اوراس لئےبھی کہ اس سےبچنامشقت ہے۔

اوراللہ تعالی ہی توفیق بخشنےوالاہے ۔

فتوی الشیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی جلدنمبر۔(4)صفحہ نمبر۔(202)

واللہ اعلم

Monday, August 27, 2018

٨١٣-حرمت کا علم نہ ہونے کی بنا پر رمضان میں روزے کی حالت میں انزال کے بغیر جماع کر لینے کے بعد غسل بھی نہیں کیا


سوال-میں نے نو برس قبل شادی کی تو پہلے سال کے دوران رمضان میں اپنی بیوی سے خوش مزاجی کر لیتا اور اسی میں جماع بھی ہوتا تھا کیونکہ میں اس کی حرمت سے جاہل تھا میرا یہ اعتقاد تھا کہ بغیر انزال کے جماع سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔
شبہات سے بچتے ہوئےمیں نے پہلے سال کے بعد ایسا کام نہیں کیا ۔
جب سے میں نے شادی کی ہے اس وقت سے لے کر پہلے برس میں مجھ سے جو کچھ ہوا تو وہ ہوا لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ رمضان کی راتوں اور سال کے باقی ایام میں دن اور رات کو انزال کے بغیر جماع کرنے کے بعد غسل نہیں کرتا رہا اس لۓ کہ میرا اعتقاد تھا یہ انزال کے بغیر غسل واجب نہیں ہوتا ۔
آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں کہ جو کچھ ہوا ہے جو جہالت کی بنا پر ہے اور یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ مجھے اور بیوی کو کیا کرنا چاہۓ ؟

الحمد للہ :

اس سوال میں دو مسئلے ہیں :

پہلا : روزے دار کا جماع کرنا ۔

دوسرا : جماع کے بعد غسل نہ کرنے کے احکام ۔

اول : روزے دار کا اپنی بیوی سے رمضان میں دن کو جماع کرنا اس کی دو حالتیں ہیں :

پہلی حالت : یہ اعتقاد رکھنا کہ رمضان میں روزہ کی حالت میں بغیر انزال کے جماع حرام نہیں تو اس حکم سے جاہل ہوتے ہوئےجماع کر لینا۔

دوسری حالت : اسے یہ علم ہو کہ جماع تو حرام ہے لیکن اس کی سزا کا علم نہیں ۔

پہلی حالت کے متعلق شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ:

راجح قول یہ ہے کہ جس نے ایسا فعل کیا جو کہ روزہ توڑنے والا ہو یا حرام کے منع کردہ کاموں میں کوئی کام کیا یا پھر نماز میں کوئی ایسا کام کیا جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور وہ اس سے جاہل ہو تو اس پر کوئی چیز نہیں ۔

کیونکہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

(اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر لیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا )

تو اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا : میں نے کر دیا ۔

لھذا یہ شخص جس نے اپنی بیوی سے رمضان میں دن کو روزہ کی حالت میں جماع کر لیا اگر یہ اس حکم سے جاہل تھا بلکہ اس کا گمان یہ تھا کہ وہ جماع جس میں انزال ہو بس وہ حرام ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں ۔

اور دوسری حالت میں : اگر اسے یہ علم تھا کہ جماع حرام ہے لیکن اسے یہ علم نہیں تھا کہ اس میں کفارہ ہے تو اس کے ذمہ کفارہ لازم ہے ۔

کیونکہ حکم سے جاہل ہونا اور سزا اور عقاب سے جاہل ہونے میں فرق ہے تو سزا سے جہالت میں کوئی کام نہیں دیتی اور نہ ہی یہ عذر بن سکتا ہے اور حکم سے جہالت انسان کا عذر بن سکتا ہے ۔

اور اسی لۓ علماء کا کہنا ہے کہ : اگر انسان نے اس خیال سے کوئی نشہ آور چیز کھا لی کہ اس سے نشہ نہیں ہوتا اور یہ گمان کیا کہ یہ حرام نہیں تو اس پر کوئی چیز نہیں اور اگر اسے یہ علم ہو کہ یہ نشہ کرے گی جو کہ حرام ہے لیکن اسے یہ علم نہیں کہ اس پر اسے سزا سے دو چار ہونا پڑے گا تو اسے سزا ضرور ملے گی یہ ساقط نہیں ہوگی ۔

تو اس بناء پر ہم سائل کو یہ کہتے ہیں کہ جب کہ آپ کو اس کا علم نہیں تھا کہ بغیر انزال کے جماع حرام ہے تو آپ کے ذمہ کچھ نہیں اور اسی طرح آپ کو بیوی پر بھی اگر اسے بھی آپ کی طرح علم نہیں تھا ۔

دوم : اس فعل کا روزے اور نماز پر اثر :

روزے پر تو جنابت کا کوئی اثر نہیں جب کہ جنبی آدمی کا روزہ صحیح ہے لیکن غسل جنابت ترک کرنے سے نماز کے لۓ مشکل در پیش ہے ۔

جنابت کے ہوتے نماز درست نہیں اور اکثر علماء اس شخص کو یہ کہتے ہیں کہ اس پر واجب ہے کہ وہ سب نمازوں کی قضاء ادا کر ے جن میں اس نے غسل نہیں کیا مگر یہ تو نہیں کہ یہ شخص غسل ہی نہ کرے کیونکہ وہ کچھ مدت کے بعد جماع کرے گا انزال کے بعد غسل بھی کرے گا ۔

یہ ہے کہ جو مقدار اس پر مخفی رہے جس میں خلل واقع ہوا ہے جس میں اس نے غسل کیا ہے تو اس لۓ ہم اسے یہ کہتے ہیں کہ احتیاطا قضاء دے دو اور اگر آپ کو اس کا کچھ بھی علم نہیں تھا اور نہ ہی آپ کے دل میں یہ آیا کہ بغیر انزال کے جماع غسل واجب کرتا ہے تو ہمیں امید ہے کہ آپ کے ذمہ کچھ بھی نہیں یعنی قضاء وغیرہ نہیں لیکن آپ اس زیادتی سے توبہ واستغفار کریں جو آپ نے کسی عالم سے سوال نہ کرنے میں کی ہے ۔

ماہانہ ملاقات الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ۔

اور سوال نمبر (685) کا بھی مراجعہ کریں ۔

واللہ تعالی اعلم

Tuesday, August 21, 2018

٦٣٥-سمجھا کہ روزہ ٹوٹ گیا ہے، لیکن رمضان کی وجہ سے کھانے پینے سے پرہیز کیا، پھر بعد میں علم ہوا کہ روزہ ٹوٹا ہی نہیں تھا، تو کیا اب اس دن کی قضا دینی پڑے گی؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

اگر کوئی روزے دار یہ سمجھے کہ اس کا روزہ کسی ممنوع کام میں ملوث ہونے کی بنا پر ٹوٹ گیا ہے، تاہم رمضان کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے اور سمجھتا یہی ہے کہ اس کا روزہ نہیں ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹا ہی نہیں تھا، تو کیا اسے اس دن کے روزے کی قضا دینی ہو گی؟

الحمد للہ:

اگر کوئی روزے دار یہ سمجھے کہ اس کا روزہ کسی ممنوع کام میں ملوث ہونے کی بنا پر ٹوٹ گیا ہے، تاہم رمضان کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے  لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹا ہی نہیں تھا، تو ایسی صورت میں اس پر قضا نہیں ہے، اس کا یہ سمجھنا کہ اس کا روزہ ٹوٹ چکا ہے اس سے کوئی منفی اثر نہیں پڑتا؛ کیونکہ  اس نے ایسا  کوئی کام ہی نہیں کیا جو روزے کے منافی ہو اور نہ ہی اس نے روزہ توڑنے کی نیت کی تھی، نیت کے معاملے میں واجب یہ ہے کہ اس نیت کے اثرات ساتھ ساتھ رہیں، اور اس شخص نے نیت کے اثرات کو باقی رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے بقیہ پورا دن روزے کے منافی امور سے بچتے ہوئے گزارا ہے۔

اور پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ جس شخص کی روزے سے متعلق نیت متردد ہو  کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے یا نہیں، تو اس میں صحیح موقف یہ ہے کہ اس کا روزہ ٹھیک ہے، محض تردد کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، شرط یہ ہے کہ وہ روزے کی ابتدا صحیح وقت سے اور پختہ نیت سے کر چکا ہو  نیز روزے کے دوران کوئی ایسا کام نہ کرے جو روزے کے منافی ہو؛ کیونکہ اصل حکم یہ ہے کہ روزے دار کا روزہ باقی  ہے، لیکن روزہ ٹوٹنے کے تردد سے روزے پر کوئی اثر  پیدا نہیں ہوتا، اثر اسی وقت ہو گا جب یقینی طور پر روزہ توڑنے کی نیت کر لے۔

شیخ ابن عثیمین  اور شیخ ابن جبرین رحمہما اللہ نے یہی فتوی دیا ہے۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (634) کا جواب ملاحظہ کریں۔

چنانچہ اگر روزہ ٹوٹنے یا پورا ہونے والے کا یہ حکم ہے ، تو اس شخص کا روزہ تو بالاولی صحیح ہونا چاہیے جس نے روزہ توڑنے کی سرے سے نیت ہی نہیں کی، نہ ہی کوئی ایسا کام کیا ہے جو روزہ توڑنے کا باعث بن سکے، یہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس شخص نے ماہ رمضان کے تقدس کے پیش نظر اپنا روزہ مکمل کر لیا ہے۔

تو خلاصہ یہ ہے کہ :

یہ روزہ بالکل صحیح ہے، نیت کردہ فرض روزہ اس کا مکمل ہو گیا ہے، اب اس پر کچھ نہیں ہے۔

واللہ اعلم

٦٣٤-روزہ رکھنے کے بعد چھوڑنے کیلئے متردد ہے، یا روزہ نہ رکھنے کی تمنا کرتا ہے تو کیا اسکا روزہ فاسد ہوجائے گا؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال:میں نے رمضان میں روزہ رکھا، اور دن کے وقت میری حالت خوب پتلی ہوگئی، پھر مجھے تردد ہونے لگا کہ روزہ چھوڑ دوں یا مکمل کروں؟ لیکن پھر بھی میں نے روزہ مکمل کر لیا، تو سوال یہ ہے کہ کیا روزے کے بارے میں تردد کرنے سے کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟

الحمد للہ:

جو شخص روزے کی حالت میں روزہ چھوڑنے کی نیت کرلے تو اسکا روزہ ختم ہوجاتا ہے، بشرطیکہ روزہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ ہو، متردد نہ ہو، چنانچہ ایسی صورت حال میں روزہ چھوڑنے کی وجہ سے اس دن کی قضا دینی ہوگی، اس سوال کا جواب سوال نمبر: (633) میں گزر چکا ہے۔

جبکہ روزہ چھوڑنے کے بارے میں متردد شخص کے حکم میں اختلاف ہے، کہ آیا اسکا بھی روزہ ختم ہوگیا یا نہیں؟

چانچہ مرداوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"[حنبلی] مذہب میں ہے کہ: اگر [کوئی شخص ]روزہ ترک کرنے میں متردد ہو، یا صرف نیت ہی کرلے کہ وہ فلاں وقت روزہ توڑ دے گا، یا یہ کہے کہ: اگر مجھے کھانے کی کوئی چیز ملی تو کھا لونگا ورنہ اپنا روزہ مکمل کرونگا، تو اس کے بارے میں ایسے ہی اختلاف ہے جیسے نماز کے مسئلہ میں ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ روزہ باطل ہوجائے گا، کیونکہ اس نے پختہ نیت و عزم نہیں کیا، جیسے کہ اثرم کہتے ہیں کہ : اس وقت تک واجب ادا نہیں ہوگا جب تک پورے دن کا روزہ رکھنے کی نیت نہ ہو۔

میں [مرداوی]کہتا ہوں: یہ ہی درست ہے۔

[اس بارے میں ]یہ بھی کہا گیا ہے کہ: روزہ باطل نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے روزہ توڑنے کی پختہ نیت نہیں کی، اور نیت معلق ہو تو قابل اعتبار نہیں ہوتی، جبکہ [صاحب کتاب] "الفروع"اور زرکشی نے ان دونوں کو مطلق بیان کیا ہے"انتہی

"الإنصاف" (3/297)

جبکہ حنفی اور شافعی فقہائے کرام روزے کی نیت میں تردد کی وجہ سے روزہ باطل قرار دینے کے قائل نہیں ہیں، دیکھیں: " بدائع الصنائع " از : کاسانی(2/92)

نووی کہتے ہیں کہ:

"اگر روزہ دار روزہ رکھنے یا چھوڑنے کے بارے میں متردد نیت رکھتا ہو، تو [شافعی] مذہب کے مطابق روزہ باطل نہیں ہوگا، اکثر علمائے کرام نے اسی کو قطعی [فیصلہ] قرار دیا ہے"انتہی

"المجموع شرح المهذب" (6/297)

یہی رائے [حق کے ]قریب ترین ہے؛ کیونکہ اصل یہ ہے کہ وہ روزے دار ہے، جبکہ روزہ ترک کرنے کیلئے تردد روزے کی نیت کے اسوقت تک منافی نہیں ہےجب تک روزہ توڑنے کا پختہ عزم اور ارادہ نہ کر لے، اسی قول کے مطابق شیخ ابن عثیمین اور شیخ ابن جبرین رحمہما اللہ تعالی نے فتوی دیا ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اگر روزہ توڑنے کا پختہ ارادہ نہ ہو لیکن متردد ہو، تو اس بارے میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں:

کچھ کہتے ہیں کہ: ایسے شخص کا روزہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ روزہ جاری رکھنے کیلئے تردد کرنا، پختہ عزم کے منافی ہے۔

جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ: روزہ باقی رہے گا؛ کیونکہ نیت توڑنے کا پختہ عزم نہ ہونے تک نیت قائم رہنا اصل ہے، میرے نزدیک قوی دلائل کی بنا پر یہی موقف راجح ہے۔ واللہ اعلم"انتہی

"مجموع الفتاوى"(19/188)

شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"اگر انسان نے روزہ رکھا ہوا ہو، بعد میں روزہ توڑنے کے بارے میں تردد [دل میں] پایا جائے، تو کیا اسکا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

تو انہوں نے جواب دیا: کچھ علمائے کرام نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر کسی نے روزہ توڑنے کا عزم کر لیا تو بغیر کھائے پئے بھی اسکا روزہ ٹوٹ جائے گا، چنانچہ اگر کسی انسان نے سفر میں روزہ توڑنے کا عزم کر لیا ، لیکن پانی یا کھانا نہ ملنے کی وجہ سے اس نے اپنا روزہ مکمل کیا تو ہم اسے کہیں گے: روزہ توڑنے کے عزم کی بنا پر اسکا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔

جبکہ تردد کی شکل میں اصل یہی ہے کہ روزہ باقی رہےگا، یہاں روزہ توڑنے کا عزم نہیں ہے، بلکہ تردد ہے، کہ کیا میں روزہ مکمل کروں یا توڑ دوں؟ چنانچہ اصل یہ ہے کہ نیت باقی رہے گی، اس لئے -ان شاء اللہ -دل میں تردد کا وجود مؤثر نہیں ہوگا، اور نہ ہی ایسی صورت حال میں قضا لازم آئے گی"انتہی

"عمدة الأحكام"(38/27)

مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ جو شخص روزہ رکھنے کی نیت کیلئے تردد کا شکار ہوگیا تو اسکا روزہ صحیح ہوگا؛ کیونکہ اصل یہ ہے کہ روزہ باقی رہے۔

واللہ اعلم

٦٣٣-روزہ توڑنے كى نيت كرنے كے بعد نيت تبديل كرنے كا حكم

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

ايك شخص رمضان ميں روزے كى حالت ميں سفر ميں تھا تو اس نے روزہ كھولنے كى نيت كى، ليكن روزہ كھولنے كے ليے كوئى چيز نہ ملنے كى وجہ سے نيت تبديل كر لى، اور اپنا روزہ مغرب تك مكمل كر ليا، تو كيا اس كا روزہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

جس نے روزہ كى حالت ميں روزہ كھولنے كى نيت كر لى تو اس كا روزہ باطل ہو جاتا ہے، صرف يہ ہے كہ اس نے پختہ نيت كى ہو اور اس ميں كسى قسم كا تردد نہ ہو، اور پھر جب اسے روزہ كھولنے كے ليے كوئى چيز نہ ملے تو اس نے نيت ميں تبديلى پيدا كر لى، تو اس كا روزہ ختم ہو چكا ہے، اور اس كے ذمہ اس دن كى قضاء ميں روزہ ركھنا لازم ہے، حنابلہ اور مالكيہ كا مسلك يہى ہے.

ليكن احناف اور شافعيہ اس كے خلاف ہيں.

ديكھيں: بدائع الصنائع ( 2 / 92 ) حاشيۃ الدسوقى ( 1 / 528 ) المجموع ( 6 / 313 ) كشاف القناع ( 2 / 316 ).

اس قول كى بنا پر كہ ا سكا روزہ باطل ہو جاتا ہے، اور راجح بھى يہى ہے، اس نے روزہ كھولنے كى پختہ نيت كى تھى اور اسميں كوئى تردد نہيں تھا، پھر جب اسے روزہ كھولنے كے ليے كچھ نہ ملا تو اس نے اپنى نيت تبديل كر لى، تو اس كا روزہ ٹوٹ گيا ہے، اور اسے اس دن كى قضاء ميں روزہ ركھنا ہو گا.

ليكن اگر وہ روزہ كھولنےميں متردد تھا، يا اس نے اسے كسى چيز پر معلق كيا: مثلا كہ اگر اسے كھانا پينا مل گيا تو وہ روزہ كھول دےگا، پھر اسے كھانے پينے كےليے كچھ نہ ملا تو اس كا روزہ صحيح ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص رمضان ميں سفر پر ہے اور روزہ سے ہے، اس نے روزہ كھولنے كى نيت كر لى ليكن اسے روزہ كھولنے كےليےكوئى چيز نہ ملى، تو اس نے نيت تبديل كر لى، اور روزہ پورا كر ليا، تو كيا ا سكا روزہ صحيح ہے؟

شيخ رحمہ اللہ نے جواب ديا:

" ا سكا روزہ صحيح نہيں، اور اس كے ذمہ اس دن كى قضاء ميں روزہ ركھنا لازم ہے؛ كيونكہ جب اس نے روزہ كھولنے كى نيت كى تھى تو اس كا روزہ كھل گيا تھا.

ليكن اگر وہ يہ كہتا كہ: اگر مجھے پانى مل گيا تو ميں پى لونگا وگرنہ ميں روزہ كى حالت ميں ہى رہونگا، اور اسے پانى نہ ملا تو اس كا روزہ صحيح ہے؛ كيونكہ اس نے اپنى نيت نہيں توڑى، ليكن اس نے روزہ كھولنے كو كسى كھانے پينے والى چيز كى موجودگى پر معلق كيا تھا، اور وہ چيز ملى ہى نہيں، تو وہ اپنى پہلى نيت پر ہى باقى ہے.

تو سائل يہ كہتا ہے:

ہم اس قول كا رد كيسے كرينگے: كہ كسى بھى عالم دين نے يہ نہيں كہا كہ نيت روزہ توڑنے والى اشياء ميں داخل ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

جو شخص يہ كہتا ہے ہم اسے يہ كہتے ہيں: وہ تو اہل علم كى كتاب كا علم ہى نہيں ركھتا ـ اہل علم كى فقھى اور مختصر كتابوں كا اسے علم ہى نہيں ہے ـ زاد المستقنع ميں ہے: اور جس نے روزہ كھولنے كى نيت كى تو اس كا روزہ كھل گيا.

ميرے بھائيو ميں آپ كو كہتا ہوں كہ آپ ايسے علماء سے بچ كر رہيں جو علم ميں رسوخ نہيں ركھتے،اور علمى طور پر معروف نہيں، ميں آپ كو ان سے بچنے كا كہتا ہوں كہ جب وہ يہ كہيں كہ مجھے تو اس قول كےكسى قائل كا علم نہيں، يا يہ قول كسى نے نہيں كہا، تو آپ ان سے بچ كر رہيں كيونكہ ہو سكتا ہے وہ سچے ہوں؛ اس ليے كہ نہ تو وہ اہل علم كى كتب كو جانتے ہيں، اور نہ ہى انہوں نےان كتب كا مطالعہ كيا ہے، اور نہ ہى اس كے متعلق كچھ جانتے ہيں.

پھر ہم اگر فرض كريں كہ يہ اہل علم كى كتب ميں نہيں ملتا، تو كيا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان نہيں ہے:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے " ؟

كيوں نہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو يہ فرمايا ہے، اور جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم يہ فرما رہے ہيں:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے "

اور اس شخص نے روزہ كھولنے كى نيت كر لى ہے تو كيا ا سكا روزہ كھل جائيگا ؟

جى ہاں ا سكا روزہ كھل گيا ہے " انتہى.

ماخوذ از: لقاء الباب المفتوح ( 20 / 29 ).

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...