Showing posts with label فوت شدہ نماز کی قضاء. Show all posts
Showing posts with label فوت شدہ نماز کی قضاء. Show all posts

Wednesday, August 22, 2018

٦٨٥-تين برس تك غسل جنابت كيے بغير ہى نماز ادا كرتا رہا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب ميں بالغ ہوا اور مجھے احتلام ہونے لگا تو مجھے غسل فرض ہونے كا علم نہيں تھا، چنانچہ ميں تين برس تك اسى حالت ميں رہا، اور تين برس كے بعد مجھے غسل فرض ہونے كا علم ہوا، ميرا سوال يہ ہے كہ:
اس مدت كے درميان بغير غسل كيے ادا كردہ نمازوں كا مجھے كيا كرنا ہو گا، كيا ميرے ذمہ ان كى قضاء ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

جب بھى آپ اپنے لباس پر منى لگى ہوئى پائيں تو آپ كے ليے غسل كرنا واجب ہو گا، چاہے آپ كو احتلام ياد نہ بھى ہو، اس ليے جب مسلمان نيند سے بيدار ہو اور اپنے لباس يا جسم يا ران وغيرہ پر نمى كے آثار پائے تو اس پر غسل كرنا واجب ہے، چاہے اسے ياد نہ بھى ہو كہ اسے نيند ميں احتلام ہوا ہے اس كے ليے غسل كرنا ضرورى ہے، كيونكہ منى كے نكلنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے چاہے اسے نيند ميں احتلام ياد ہو يا نہ.

ليكن اگر اسے نيند ميں احتلام ہونا ياد ہو اور اس سے كوئى چيز خارج نہ ہوئى ہو، مثلا اگر آپ يہ كہيں كہ مجھے نيند ميں احتلام ہوا تھا وہ اس طرح كہ كسى عورت كے ساتھ نيند ميں جماع كيا، ليكن بيدار ہونے كے بعد آپ كو منى كے كوئى آثار نہ ملے نہ تو لباس ميں اور نہ ہى بدن پر اور نہ ہى سونے والى جگہ پر تو كيا پھر بھى غسل واجب ہو گا ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ جب منى كے آثار نہيں ہيں تو اس صورت ميں غسل واجب نہيں ہو گا، اگرچہ آپ نے خواب ديكھا ہو، كيونكہ غسل تو منى خارج ہونے كى صورت ميں واجب ہوتا ہے.

ليكن آپ كا يہ كہنا كہ آپ تين برس تك غسل جنابت كيے بغير ہى نمازيں ادا كرتے رہے ہيں، اس سلسلہ ميں آپ اور آپ جيسے افراد پر واجب ہے كہ اس كے متعلق آپ كسى سے پوچھ ليتے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا ارشاد ہے:

﴿اگر تمہيں علم نہيں تو اہل علم سے دريافت كر ليا كرو﴾النحل ( 43 )

اللہ تعالى كے ہاں آپ معذور نہيں اور نہ ہى آپ كے پاس كوئى عذر ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے آپ كو صحت و عافيت سے نواز ركھا ہے، اور آپ كو صحت بھى دى ہے، اور آپ كو حكم ديا ہے كہ آپ اہل علم سے سوال كريں اس ليے آپ كے ليے بغير علم كے جہالت ميں ہى اللہ تعالى كى عبادت كرنى جائز نہيں، كيونكہ جہالت و گمراہى ميں رہ كر عبادت كرنا تو عيسائيوں كا طريقہ ہے.

كيا آپ نے سورۃ الفاتحہ كا مطالعہ نہيں كيا، اور كيا آپ روزانہ نماز ميں يہ آيت نہيں پڑھتے:

﴿ اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليھم غير المغضوب عليھم و لا الضالين ﴾الفاتحۃ ( 6 - 7 ).

اے اللہ ہميں صراط مستقيم دكھا، ان لوگوں كى راہ جن پر تو نے انعام كيا نہ كہ ان لوگوں كى راہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا، اور نہ ہى گمراہ لوگوں كى راہ دكھانا.

چنانچہ يہاں مغضوب عليھم يعنى جن پر اللہ تعالى كا غضب ہوا اس سے مراد يہودى ہيں جن كے پاس علم تو تھا ليكن وہ اس پر عمل نہيں كرتے تھے، اور الضالين يعنى گمراہوں سے مراد عيسائي ہيں، جو جہالت اور گمراہى كے ساتھ اللہ تعالى كى عبادت كرتے تھے.

چنانچہ مسلمان شخص بھى جب ايسى طرح جہالت اور گمراہى ميں رہ كر عبادت كرے گا تو وہ گمراہوں ميں سے ہے.

بعض علماء كرام كا كہنا ہے: ہمارے علماء ميں سے جو بھى فاسد اور خراب ہو جائے اس ميں يہوديوں كى مشابہت ہے، اور ہمارى عابد لوگوں ميں سے جو كوئى بھى گمراہ و فاسد اور خراب ہو جائے اس ميں عيسائيوں كى مشابھت پائى جاتى ہے.

آپ كو اللہ تعالى كا تقوى اور ڈر اختيار كرتے ہوئے كثرت سے نوافل ادا كرنے چاہيں، بلكہ بعض علماء كرام تو آپ پر ان تين برس كى نمازوں كى قضاء لازم قرار ديتے ہيں، ليكن جب يہ سب كچھ جہالت كى بنا پر ہوا اور ان نمازوں كى تعداد بھى زيادہ ہے تو مجھے اميد ہے كہ ان شاء اللہ آپ پر كوئى حرج نہيں ليكن آپ اس كمى كو دور كرنے كے ليے كثرت سے نوافل كى ادائيگى كريں اور اس كے ساتھ ساتھ اگر قضاء كرنى ممكن ہو تو ہرحال ميں يہ متعين ہے، اور اگر آپ چاہيں تو توبہ كے ساتھ ساتھ كثرت سے نوافل ادا كريں، جيسا كہ اہل علم نے اس اختلافى مسئلہ ميں جمع اور تطبيق كرتے ہوئے كہا ہے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 64 ).

Saturday, August 11, 2018

١٥٢-غسل جنابت فرض ہونے كا علم نہيں تھا كيا اسے پہلى نمازوں كى قضاء كرنا ہو گى ؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

مجھے نماز كى ادائيگى كے ليے غسل جنابت كى فرضيت كا علم نہيں تھا، كيا ميں نمازوں دوبارہ ادا كروں ؟

الحمد للہ:

ہر مسلمان مرد و عورت پر شرعى احكام كى تعليم حاصل كرنا فرض ہے، اور خاص كر ان عبادات و احكام كى تعليم ضرورى ہے جن كا اللہ تعالى نے انہيں مكلف بنايا ہے، اور وہ انہيں ادا كرنے كى استطاعت ركھتا ہے.

چنانچہ جس شخص كے پاس مال و دولت ہے اس كے ليے زكاۃ كے احكام جاننا واجب ہيں، اور جو شخص تجارت كرتا ہے اس كے ليے خريد و فروخت كے احكام كى تعليم حاصل كرنا ضرورى ہے، اور سب كو صحيح اعتقاد اور جس چيز كا اسے مكلف كيا گيا ہے اس كى ادائيگى كے احكام سيكھنے لازم ہے.

اور اسى طرح طہارت و پاكيزگى اور نماز كے احكام تو ہر شخص كو جاننے چاہيں، اور پھر آج كے دور ميں تو اللہ تعالى نے طلب علم بہت آسان كر ديا ہے كسى شخص كے ليے علم حاصل نہ كرنے كى كوئى دليل اور حجت اور عذر باقى نہيں رہتا، صرف سستى اور كاہلى اور كوتاہى كى بنا پر علم حاصل نہيں كيا جاتا.

اور خاص كر اس معين مسئلہ: غسل جنابت كے فرض ہونے كا علم نہيں تھا، اور آپ اسى حالت ميں نمازيں ادا كرتے رہے:

اس ميں اہل علم كا كہنا ہے كہ: يہ عذر شمار ہو گا، چنانچہ آپ پر اس كى قضاء نہيں، ليكن آپ كو غسل كرنا ہو گا، اور جس نماز كے وقت ميں آپ كو غسل جنابت كے حكم كا علم ہوا وہ نماز دوبارہ ادا كرنا ہو گى، اس ميں انہوں نے درج ذيل دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم مسجد ميں تشريف لائے تو ايك اور شخص بھى مسجد ميں آيا اور آكر سلام كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سلام كا جواب ديا اور فرمانے لگے:

جاؤ جا كر نماز پڑھو كيونكہ تو نے نماز ادا نہيں كى.

چنانچہ وہ شخص گيا اور جا كر اسى طرح نماز ادا كى جس طرح پہلے ادا كى تھى پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آكر سلام كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سلام كا جواب ديا اور فرمانے لگے:

جاؤ جا كر نماز ادا كرو تم نے نماز ادا نہيں كى، ايسا تين بار ہوا تو وہ كہنے لگا: اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق ديكر مبعوث كيا ہے اس سے بہتر تو ميں نہيں جانتا، چنانچہ آپ مجھے تعليم ديں.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو تكبير كہو اور پھر قرآن ميں سے جو آسانى كے ساتھ پڑھ سكو پڑھو اور پھر ركوع كرو حتى كہ ركوع ميں تم اطمنان كر لو، پھر ركوع سے سر اٹھاؤ حتى كہ اچھى طرح سيدھے كھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ كرو حتى كہ سجدہ ميں تمہيں اطمنان ہو جائے، اور پھر سجدے سے اٹھو حتى كہ اطمنان كے ساتھ بيٹھ جاؤ ، اپنى سارى نماز ميں ايسا ہى كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 724 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 367 ).

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے پہلى سب نمازوں كى قضاء كا حكم نہيں ديا، بلكہ صرف اس وقت كى حاضر نماز قضاء كرنے كا حكم ديا.

2 - عبد الرحمن بن ابزى رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ ايك شخص عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس آ كر كہنے لگا:

ميں جنبى ہو گيا اور مجھے پانى نہيں ملا تو عمار بن ياسر عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو كہنے لگے:

كيا آپ كو ياد نہيں ميں اور آپ ايك سفر ميں تھے، آپ نے تو نماز ادا نہيں كى، ليكن ميں نے مٹى ميں الٹ پلٹ ہونے كے بعد نماز ادا كر لى، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے بيان كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تجھے صرف اس طرح ہى كافى تھا، اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى دونوں ہتھيليوں كو زمين پر مارا اور ان ميں پھونك مارى اور پھر دونوں ہاتھوں كو چہرے اور ہتھيليوں پر پھير ليا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 331 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 368 ).

چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے پانى نہ ملنے كى صورت ميں تيمم كے وجوب كا علم نہ ہونے كى بنا پر نماز ادا نہ كى، اور عمار رضى اللہ تعالى نے تيمم كا صحيح طريقہ معلوم نہ ہونے كى بنا پر تيمم كے طريقہ كى مخالفت كى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دونوں كو نماز قضاء كرنے كا حكم نہيں ديا.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

.... اور اس بنا پر اگر نص نہ پہنچنے كى بنا پر كوئى شخص طہارت ترك كر دے، مثلا اونٹ كا گوشت كھايا اور وضوء نہ كيا، اور پھر اسے نص كا علم ہو جائے اور اسے يہ واضح ہو جائے كہ وضوء كرنا واجب ہے، يا كوئى شخص اونٹوں كے باڑہ ميں نماز ادا كر لے اور پھر اسے اس كے بارہ ميں نص كا علم ہو: تو كيا اسے پچھلى نماز لوٹانا ہو گى ؟

اس ميں دو قول ہيں، اور يہ دونوں امام احمد كى روايتيں ہيں.

اور اس كى نظير يہ كہ: كوئى شخص اپنے عضو تناسل كو چھوئے اور نماز ادا كر لے، پھر اسے عضو تناسل چھونے سے وضوء واجب ہونے كا علم ہو.

ان سب مسائل ميں صحيح يہ ہے كہ: نماز كا اعادہ نہيں ہو گا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے خطا اور بھول معاف كردى ہے، اور اس ليے بھى كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ ہم اس وقت تك عذاب نہيں ديتے جب تك رسول مبعوث نہ كر ديں ﴾.

اس ليے جسے كسى معين چيز ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حكم نہ پہنچے تو اس پر اس كے وجوب كا حكم ثابت نہيں ہوگا، اور اسى ليے جب عمر اور عمار رضى اللہ تعالى عنہما كو جنابت كى حالت پيش آئى تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے نماز ہى ادا نہ كى اور عمار رضى اللہ تعالى عنہ نے مٹى ميں لوٹ پوٹ ہو كر نماز ادا كر لى، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان دونوں كو نماز لوٹانے كا حكم نہيں ديا.

اور اسى طرح جب ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ كئى كئى روز جنابت كى حالت ميں نماز ادا نہيں كرتے تھے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں نماز لوٹانے كا حكم نہيں ديا.

اور جب ايك صحابى نے سياہ رسى ميں سے سفيد رسى واضح ہونے تك سحرى كھائى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں روزہ كى قضاء كرنے كا حكم نہيں ديا.

اور اسى طرح بيت المقدس كى طرف چہرہ كر كے نماز ادا كرنے كا حكم منسوخ ہونے كا علم نہ ہونے والے صحابہ كرام كو اپنى نمازيں لوٹانے كا حكم نہيں ديا.

اس ميں مستحاضہ عورت بھى شامل ہے كہ جب اس نے اس اعتقاد پر كئى روز تك نماز ادا نہ كى كہ استحاضہ بھى حيض ہے اور اس پر نماز فرض نہيں، چنانچہ اس كى قضاء ميں دو قول ہيں:

پہلا قول يہ ہے كہ وہ نماز نہيں لوٹائے گى ـ جيسا ك امام مالك وغيرہ سے منقول ہے ـ ؛ كيونكہ ايك استحاضہ والى عورت نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو كہا تھا:

" مجھے بہت زيادہ اور سخت اور عجيب حيض آتا ہے جس نے مجھے نماز اور روزہ سے روك ركھا ہے "

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے مستقبل ميں اس پر جو كچھ واجب ہوتا ہے اس كا حكم ديا، اور اسے پچھلى نمازوں وغيرہ كى قضاء كا حكم نہيں ديا تھا.

اور ميرے نزديك يہ بھى ثابت ہوا اور نقل كيا گيا ہے كہ: ديہات اور خانہ بدوش مرد و عورت ميں ايسے بھى ہيں جو بالغ ہو چكے ہيں اور انہيں نماز فرض ہونے كا بھى علم نہيں.

بلكہ جب عورت كو كہا جاتا ہے كہ نماز پڑھا كرو، تو وہ جواب ديتى ہے ميں بڑى اور بوڑھى ہو كر نماز ادا كر ليا كرونگى! اس كا يہ گمان ہوتا ہے كہ نماز تو بڑھاپے ميں فرض ہوتى ہے.

اور صوفيوں اور پيروں كے مريدوں ميں بھى بہت سے گروہ اور افراد ہيں جنہيں يہ بھى علم نہيں كہ ان پر نماز فرض ہے، چنانچہ اس قسم كے لوگوں پر صحيح يہى ہے كہ پچھلى نمازوں كى قضاء نہيں، چاہے يہ كہا جائے: وہ كافر تھے يا جہالت كى بنا پر معذور تھے .... "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 21 / 101 - 102 ).

اور يہاں يہ كہنا بھى ممكن ہے كہ:

اگر سائل ايسى جگہ ہے جہاں تعليم كے اسباب متوفر ہيں اور اس نے كوتاہى كرتے ہوئے تعليم حاصل نہيں تو اسے جنابت كى حالت ميں بغير غسل كيے ہوئے ادا كردہ نمازيں لوٹانا ہونگى، اگر وہ اتنى زيادہ نہ ہوں، ليكن اگر بہت زيادہ ہيں تو پھر حرج اور مشقت كى بنا پر ساقط ہو جائينگى.

كيونكہ اللہ تعالى كا ارشاد ہے:

﴿ اور اللہ تعالى نے تم پر دين ميں كوئى تنگى اور حرج نہيں ركھا ﴾الحج ( 78 ).

واللہ اعلم

١٥١-تين برس تك غسل جنابت كيے بغير ہى نماز ادا كرتا رہا

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

جب ميں بالغ ہوا اور مجھے احتلام ہونے لگا تو مجھے غسل فرض ہونے كا علم نہيں تھا، چنانچہ ميں تين برس تك اسى حالت ميں رہا، اور تين برس كے بعد مجھے غسل فرض ہونے كا علم ہوا، ميرا سوال يہ ہے كہ:
اس مدت كے درميان بغير غسل كيے ادا كردہ نمازوں كا مجھے كيا كرنا ہو گا، كيا ميرے ذمہ ان كى قضاء ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

جب بھى آپ اپنے لباس پر منى لگى ہوئى پائيں تو آپ كے ليے غسل كرنا واجب ہو گا، چاہے آپ كو احتلام ياد نہ بھى ہو، اس ليے جب مسلمان نيند سے بيدار ہو اور اپنے لباس يا جسم يا ران وغيرہ پر نمى كے آثار پائے تو اس پر غسل كرنا واجب ہے، چاہے اسے ياد نہ بھى ہو كہ اسے نيند ميں احتلام ہوا ہے اس كے ليے غسل كرنا ضرورى ہے، كيونكہ منى كے نكلنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے چاہے اسے نيند ميں احتلام ياد ہو يا نہ.

ليكن اگر اسے نيند ميں احتلام ہونا ياد ہو اور اس سے كوئى چيز خارج نہ ہوئى ہو، مثلا اگر آپ يہ كہيں كہ مجھے نيند ميں احتلام ہوا تھا وہ اس طرح كہ كسى عورت كے ساتھ نيند ميں جماع كيا، ليكن بيدار ہونے كے بعد آپ كو منى كے كوئى آثار نہ ملے نہ تو لباس ميں اور نہ ہى بدن پر اور نہ ہى سونے والى جگہ پر تو كيا پھر بھى غسل واجب ہو گا ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ جب منى كے آثار نہيں ہيں تو اس صورت ميں غسل واجب نہيں ہو گا، اگرچہ آپ نے خواب ديكھا ہو، كيونكہ غسل تو منى خارج ہونے كى صورت ميں واجب ہوتا ہے.

ليكن آپ كا يہ كہنا كہ آپ تين برس تك غسل جنابت كيے بغير ہى نمازيں ادا كرتے رہے ہيں، اس سلسلہ ميں آپ اور آپ جيسے افراد پر واجب ہے كہ اس كے متعلق آپ كسى سے پوچھ ليتے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا ارشاد ہے:

﴿اگر تمہيں علم نہيں تو اہل علم سے دريافت كر ليا كرو﴾النحل ( 43 )

اللہ تعالى كے ہاں آپ معذور نہيں اور نہ ہى آپ كے پاس كوئى عذر ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے آپ كو صحت و عافيت سے نواز ركھا ہے، اور آپ كو صحت بھى دى ہے، اور آپ كو حكم ديا ہے كہ آپ اہل علم سے سوال كريں اس ليے آپ كے ليے بغير علم كے جہالت ميں ہى اللہ تعالى كى عبادت كرنى جائز نہيں، كيونكہ جہالت و گمراہى ميں رہ كر عبادت كرنا تو عيسائيوں كا طريقہ ہے.

كيا آپ نے سورۃ الفاتحہ كا مطالعہ نہيں كيا، اور كيا آپ روزانہ نماز ميں يہ آيت نہيں پڑھتے:

﴿ اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليھم غير المغضوب عليھم و لا الضالين ﴾الفاتحۃ ( 6 - 7 ).

اے اللہ ہميں صراط مستقيم دكھا، ان لوگوں كى راہ جن پر تو نے انعام كيا نہ كہ ان لوگوں كى راہ جن پر تيرا غضب نازل ہوا، اور نہ ہى گمراہ لوگوں كى راہ دكھانا.

چنانچہ يہاں مغضوب عليھم يعنى جن پر اللہ تعالى كا غضب ہوا اس سے مراد يہودى ہيں جن كے پاس علم تو تھا ليكن وہ اس پر عمل نہيں كرتے تھے، اور الضالين يعنى گمراہوں سے مراد عيسائي ہيں، جو جہالت اور گمراہى كے ساتھ اللہ تعالى كى عبادت كرتے تھے.

چنانچہ مسلمان شخص بھى جب ايسى طرح جہالت اور گمراہى ميں رہ كر عبادت كرے گا تو وہ گمراہوں ميں سے ہے.

بعض علماء كرام كا كہنا ہے: ہمارے علماء ميں سے جو بھى فاسد اور خراب ہو جائے اس ميں يہوديوں كى مشابہت ہے، اور ہمارى عابد لوگوں ميں سے جو كوئى بھى گمراہ و فاسد اور خراب ہو جائے اس ميں عيسائيوں كى مشابھت پائى جاتى ہے.

آپ كو اللہ تعالى كا تقوى اور ڈر اختيار كرتے ہوئے كثرت سے نوافل ادا كرنے چاہيں، بلكہ بعض علماء كرام تو آپ پر ان تين برس كى نمازوں كى قضاء لازم قرار ديتے ہيں، ليكن جب يہ سب كچھ جہالت كى بنا پر ہوا اور ان نمازوں كى تعداد بھى زيادہ ہے تو مجھے اميد ہے كہ ان شاء اللہ آپ پر كوئى حرج نہيں ليكن آپ اس كمى كو دور كرنے كے ليے كثرت سے نوافل كى ادائيگى كريں اور اس كے ساتھ ساتھ اگر قضاء كرنى ممكن ہو تو ہرحال ميں يہ متعين ہے، اور اگر آپ چاہيں تو توبہ كے ساتھ ساتھ كثرت سے نوافل ادا كريں، جيسا كہ اہل علم نے اس اختلافى مسئلہ ميں جمع اور تطبيق كرتے ہوئے كہا ہے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 64 ).

١٥٠-قضاء ميں نمازوں كى ترتيب كى كيفيت

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

قضاء كى جانے والى نمازوں كى ترتيب كى كيفيت كيا ہو گى ؟

الحمد للہ:

جمہور اہل علم كے مسلك كے مطابق نمازوں كى قضاء ميں ترتيب واجب ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى "المغنى " ميں لكھتے ہيں:

( اور بالجملہ يہ كہ قضاء ميں ترتيب واجب ہے.

امام احمد نے كئى ايك جگہ يہى بيان كيا ہے... اور نخعى، زھرى، ربيعہ، يحي انصارى، امام مالك، ليث، اور امام ابو حنيفہ اور اسحاق رحمہم اللہ جميعا سے اسى طرح منقول ہے.

اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں: واجب نہيں؛ كيونكہ فرض فوت شدہ ہے چنانچہ اس ميں ترتيب واجب نہيں، جس طرح روزے ہيں... جب يہ ثابت ہو گيا تو تو اس ميں ترتيب واجب ہے، چاہے كتى بھى زيادہ ہوں، امام احمد نے يہى بيان كيا ہے.

اور امام مالك اور ابو حنيفہ رحمہما اللہ كہتے ہيں:

ايك دن اور رات كى نمازوں سے زيادہ ميں ترتيب واجب نہيں؛ كيونكہ اس سے زيادہ ميں ترتيب كا معتبر ہونا اس كے ليے مشقت ہے، اور يہ تكرار ميں داخل ہونے كا باعث ہے، چنانچہ روزوں كى قضاء ميں عدم ترتيب كى طرح ساقط ہو جائيگى ) اھـ.

ديكھيں: المغنى لابن قدامہ المقدسى ( 1 / 352 ).

چنانچہ اس سے حاصل يہ ہوا كہ احناف، مالكيہ، حنابلہ ميں سے جمہور اہل علم كے ہاں ترتيب واجب ہے، ليكن اتنا ہے كہ مالكى اور احناف كے ہاں ايك دن اور رات سے زيادہ ہونے كى صورت ميں ترتيب واجب نہيں.

ترتيب كى صورت يہ ہو گى كہ جس طرح معروف نماز ادا كى جاتى ہے اسى طرح قضاء بھى ادا كى جائيگى، چنانچہ مثلا جس كى ظہر، عصر كى نماز رہ گئى تو وہ پہلے ظہر اور پھر عصر كى نماز ادا كرے گا.

ليكن بھولنے اور جہالت كى بنا پر ترتيب ساقط ہو جائيگى، اور اسى طرح موجودہ نماز كا وقت نكل جانے اور جماعت رہ جانے كا خدشہ ہو تو پہلے حاضر نماز ادا ہو گى اور پھر فوت شدہ، راجح يہى ہے.

اس ليے جس كى دو نمازيں رہ گئى ہو مثلا ظہر اور عصر اور اس نے بھول كر پہلے عصر كى نماز ادا كر لى يا ترتيب كے وجوب سے جاہل ہونے كى بنا پرتو اس كى نماز صحيح ہو گى.

اور اگر يہ خدشہ ہو كہ قضاء والى نماز ادا كرنے سے موجودہ عصر كى نماز كا اختيارى وقت نكل جائيگا تو وہ عصر كى نماز پہلے ادا كرے، اور پھر اپنى فوت شدہ كى قضاء كرے.

اور اسى طرح اگر وہ مسجد ميں داخل ہو تو كيا وہ جماعت كے ساتھ موجودہ اور حاضر نماز ادا كرے يا كہ فوت شدہ نماز كى قضاء كرے ؟

امام احمد ايك روايت ميں كہتے ہيں اور شيخ الاسلام ابن تيميہ نے بھى اسے اختيار كيا ہے كہ جماعت رہ جانے كے خوف سے ترتيب ساقط ہو جاتى ہے.

ليكن اس حالت ميں انسان كو فوت شدہ نماز كى ادائيگى كى نيت سے جماعت كے ساتھ مل جانا چاہيے، جيسا كہ اگر كسى كى ظہر كى نماز رہتى ہو اور وہ مسجد ميں آئے تو عصر كى جماعت ہو رہى ہو تو وہ جماعت كے ساتھ ظہر كى نماز كى نيت سے نماز ادا كر سكتا ہے، اور امام كى نيت سے مقتدى كى نيت مختلف ہونا كوئى ضرر اور نقصان نہيں دے گا، پھر بعد ميں وہ عصر كى نماز ادا كر لے .

ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 138 - 144 ).

واللہ اعلم

١٤٩-نماز کے دوران ہی حیض آگیا تو کیا فرائض کیساتھ سنن مؤکدہ کی بھی قضا دینا ہوگی؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

میں نے ظہر کی نماز ادا کی جس میں پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ اور بعد والی دو سنتیں بھی ادا کی اور پھرسلام پھیر دیا، لیکن جب میں تیسری یا چوتھی رکعت ادا کرنے کیلئے کھڑی ہوئی تو مجھے اپنے کپڑوں پر حیض کا خون نظر آیا، اور مجھے یاد آیا کہ نماز کےدوران مجھےکسی چیز کے نکلنے کا احساس ہوا تھا لیکن اب یہ نہیں یاد کہ یہ احساس کس وقت ہوا تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا مجھے ظہر کے فرائض کے ساتھ سنتیں بھی ادا کرنا ہونگی؟ یا صرف فرائض ہی کافی ہیں،اسی طرح اگر میں نے ظہر کے فرائض کی کسی دن قضائی دی اور بعد میں مجھے پتا چلا کہ سنتوں کی قضائی بھی ضروری ہے، تو کیا میں سنتوں کی الگ سے کسی بھی وقت قضائی دے سکتی ہوں؟

الحمد للہ:

اول:

ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد اور مکمل نماز ادا کرنے پہلے حیض آنے کی صورت میں ظہر کی نماز کی قضائی آپ پر واجب ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اگر عورت کو حیض آجائے تو طہر کے بعد اس نماز کی قضائی دے گی"انتہی

ماخوذ از: " مجموع فتاوى ابن عثيمين " (12/218)

اس بات کا بیان سوال نمبر (146) اور(147) کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

دوم:

ظہر کی یا دیگر سنن مؤکدہ کے بارے میں یہ ہے کہ انکی قضائی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، وہ بھی اس کیلئے جس کی سنتیں کسی عذر کی بنا پر رہ گئی ہوں، اور عذر زائل ہوجائے،ویسے اس مسئلہ میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں، چنانچہ جو شخص قضا دے دے تو اچھا ہے، اور جو قضا نہ دے اس پر کوئی گناہ یا حرج والی بات نہیں ہے، اس بارے میں سوال نمبر (148 )میں پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔

لیکن کس حد تک سنن مؤکدہ کی قضائی دی جاسکتی ہے؟

اس بارے میں " الموسوعة الفقهية الكويتية " (34/ 38) میں درج ذیل مختلف اقوال ذکر کئے گئے ہیں:

1- سنتوں کی بالکل بھی قضائی نہیں دی جاسکتی۔

2- دن کی نمازوں کی سنتوں کی قضائی سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے دی جاسکتی ہے، جبکہ رات کی نمازوں کی سنتوں کی قضائی طلوعِ فجر سے پہلے پہلے دی جاسکتی ہے، اور فجر کی سنتوں کی قضائی جب تک دن باقی ہو اسوقت تک دی جاسکتی ہے۔

3- ہر نماز کی سنتیں آئندہ نماز کی ادائیگی سے قبل قضا پڑھی جاسکتی ہیں، چنانچہ فجر کی سنتیں ظہر پڑھنے سے پہلے پہلے قضا پڑھی جاسکتی ہیں۔

4- اگلی نماز کے وقت کا اعتبار ہوگا، اگلی نماز پڑھنےکا نہیں ۔

جبکہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"صحیح بات یہی ہے کہ کسی بھی وقت سنتوں کی قضائی کی جاسکتی ہے" انتہی

ماخوذ از: " المجموع " (4/ 42)

خلاصہ یہ ہوا کہ اگر ابھی تک آپ نے ظہر کی نماز کی قضا نہیں دی تو حیض سے فارغ ہونے کے بعد دے دیں، اگر آپ فرائض کے ساتھ سنن مؤکدہ بھی قضا پڑھ لیتے ہیں تو یہ جائز بھی ہے اور اچھا بھی ہے۔

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...