Monday, August 27, 2018

٨٥١-رمضان میں غسل جنابت کوطلوع فجرتک مؤخرکرنےسےروزہ باطل نہیں ہوتا۔


سوال-مجھےایک مرتبہ سحری سے قبل احتلام ہوگیااورمیں غسل نہ کرسکا۔۔کیونکہ میں غسل کرنےسےبہت زیادہ شرمارہاتھااس لئےکہ میرےوالدین کوعلم ہوجائےگا کہ مجھے احتلام ہواہےتواس لئےمیں نےغسل کرنےکےبغیرسحری کھائی ، اورافسوس ہےکہ اس دن میں نےفجرکی نمازبھی نہیں پڑھی ،لیکن بعدمیں میں نےغسل کرنےکےبعدفجرکی نمازپڑھ لی ۔
میں یہ جانناچاہتاہوں کہ آیامیرایہ روزہ مقبول ہے ، کیونکہ میراخیال ہے کہ میں نے ( احتلام سے )جنابت کی حالت میں سحری کھا کرغلطی کی ہےتوکیامیراروزہ مقبول ہے ؟

الحمدللہ

جس نےاپنی بیوی سےرات جماع کیااورصبح تک جنابت کی حالت میں ہی رہااس کا روزہ صحیح ہے ، اوراسی طرح وہ رات یادن کوسوتےہوئےجنابت لاحق ہوگئی اس کابھی روزہ صحیح ہے اوراس پرکوئی حرج نہیں کہ وہ طلوع فجرتک غسل کوموخرکردے ۔

روزہ تواس وقت ٹوٹتاہے جب دن میں طلوع فجرسےلیکرغروب شمس کےدوران جماع کیاجائے ۔

دیکھیں فتوی اللجنۃ الدائمۃ جلدنمبر۔(10) صفحہ نمبر۔(327)

لیکن آپ کانمازکوطلوع آفتاب تک تاخیر کرنا جائزنہيں ہے ، بلکہ واجب تویہ ہے کہ نماز کی ادائيگي اس کے وقت میں ہی کی جائے ، لھذا ایسے فعل سے توبہ وا ستغفارکرنا آپ کے ذمہ ہے ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہرقسم کی بھلائي کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم

No comments:

Post a Comment

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...