Tuesday, August 28, 2018

٨٥٧-پاؤں کے قبلہ رخ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ

پاؤں کے قبلہ رخ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ
ماخوذ از​
مقالات راشدیہ ( جلد 1 ص 293 تا 296 )​
مؤلف : ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ​
( ہفت روزہ الاعتصام لاہور میں ایک مضمون مولانا عبد القیوم صاحب کا شائع ہوا جنہوں نے ایک دو احادیث سے ثابت کرنے کی سعی کی کہ قبلہ رخ پاؤں کرنا صحیح نہیں ہے تو شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس مضمون کا جواب لکھا تھا ۔ الأزہری )​
'' الاعتصام '' مورخہ 23 نومبر 1990 ء میں مولانا عبد اللہ صاحب قصوری کا مضمون بعنوان بالا نظر سے گزرا ۔​
افسوس ہوا کہ مولانا نے اس مضمون میں تحقیق سے کام نہیں لیا ۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر عنوان کو پڑھ کر یہ خیال ہوا کہ دیکھیں کیا کچھ اس میں ہوگا لیکن دلائل کو دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی ۔​
تفصیل ملاحظہ ہو :​
(اول )
1۔۔۔ سنن دارقطنی جلد 2 سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع روایت ذکر کی گئی ہے سنن دارقطنی اور سنن کبریٰ بیھقی میں جو روایت ملی وہ یہ ہے : 
”حدثنا إبراهيم بن محمد بن علي بن بطحا ثنا الحسين بن زيد بن الحكم الجبري ثنا حسن بن حسين العرني حدثنا حسين بن زيد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن حسين عن الحسين بن علي عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يصلي المريض قائما إن استطاع فإن لم يستطع صلى قاعدا فإن لم يستطع أن يسجد أومأ وجعل سجوده أخفض من ركوعه فإن لم يستطع أن يصلي قاعدا صلى على جنبه الأيمن مستقبل القبلة فإن لم يستطع أن يصلي على جنبه الأيمن صلى مستلقيا ورجلاه مما يلي القبلة “ (سنن دارقطنی کتاب الوتر، باب صلاة المريض ومن رعف في صلاته كيف يستخلف )
مگر اس روایت میں وجہ استدلال موصوف کی کیا تھی، یہ واضح نہیں ، اور قبلہ رخ ہونے کی نہیں اس سے قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ جبکہ سند کا مرحلہ اگلا ہے ۔

مولانا نے اس حدیث کا ترجمہ کردیا اور اور سند کے متعلق ایک حرف بھی تحریر نہیں فرمایا حالانکہ سند کی تحقیق اور اس کی صحت و حسن کے یقین کے بغیر کسی حدیث کو معرض استدلال میں پیش کرنا علماء کی شان سے بعید ہے ۔​
حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث بالکل ضعیف ہے ۔ مولانا صاحب سنن دارقطنی کی اس روایت کے متعلق صرف صاحب '' التعلیق المغنی '' کی عبارت کو دیکھنے کی زحمت گوارا فرماتے تو اس طرح اس حدیث کو بلا سند کی تحقیق کے تحریر فرما کر چلے نہ جاتے اگر خدانخواستہ انہوں نے مولانا عظیم آبادی کی تحقیق ملاحظہ فرمائی پھر بھی دانستہ اس علت سے تغافل برت کر چلے گئے تو​
فإن كنت لا تدري فتلك مصيبة ، و إن كنت تدري فالمصيبة أعظم​
معاملہ اور بھی سنگین بن جاتا ہے ۔​
گو مولانا کی ذات سےحسن ظن ( کیوجہ سے ) ہمیں اس شق کے ماننے میں تامل ہے ۔​
بہر حال صاحب '' التعلیق المغنی '' فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی تو حسین بن زید ہے جس کو امام علی بن المدینی نے ضعیف کہا ہے ۔ حافظ ابن حجر لسان المیزان میں ''حسن بن حسین عرنی '' کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ : ''حسین بن زید لین أیضا '' یعنی حسین بن زید بھی کمزور ہے ۔ دوسرا راوی اس کی سند میں '' حسن بن حسین العرنی '' ہے اس کا ترجمہ بھی حافظ ابن حجر کی کتاب لسان المیزان میں موجود ہے جس معلوم ہوتا ہے کہ وہ متروک ہے ۔​
حافظ صاحب نے چند ائمہ حدیث مثلا ابو حاتم ، ابن عدی ، ابن حبان وغیرہم سے ان کو غیر صدوق اور غیر ثقہ کہا اور اسی اللسان میں اس راوی کی چند منکر احادیث ذکر کی گئی ہیں اور ان میں اس حدیث کو بھی ذکر کیا ہے جو مولانا نے دلیل کے طور پر ذکر فرمائی ہے ۔​
حدیث کے اختتام پر حافظ صاحب فرماتے ہیں :​
و هو حديث منكر اور یہ حدیث منکر ہے ۔ اور پھر حسین بن زید کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ وقال ابن عدي : منكر الحديث عن الثقات و يقلب الأسانيد یعنی حسین بن زید ثقات راویوں سے منکر روایات لاتا ہے اور اسانید کو بدل دیتا ہے ۔​
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں ایک تیسرا راوی '' حسین بن الحکم الحیری '' ہے اور وہ بھی غیر معروف ہے ملاحظہ ہو '' لسان المیزان للحافظ ابن حجر ''​
بہر حال یہ روایت شدید الضعف ہے اس لیے کہ اس کی سند میں تین راوی ہیں : ایک ضعیف ہے دوسرا متروک ہے اور تیسرا غیر معروف ہے ۔​
اصول حدیث سے ممارست رکھنے والے جانتے ہیں کہ متروک راوی کی روایت کو نہ تو شواہد و متابعات تقویت پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی ایسے راوی کی روایت کسی دوسری تھوڑے سے ضعف کی حامل کو ہی تقویت دے سکتی ہے ۔ یعنی ایسے راوی کی روایت نہ تو جابر بن سکتی ہے نہ مجبور ۔ اس روایت میں تو متروک راوی کے علاوہ بھی دو راوی ضعیف ہیں لہذا اس کے ضعف میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو امام نووی نے بھی ضعیف قراردیا ہے جیساکہ مولانا عظیم آبادی نے '' التعلیق المغنی '' میں تحریر فرمایا ہے اور حافظ ابن حجر نے منکر قرار دیا ہے جیساکہ لسان المیزان کے حوالہ سے گزر چکا ہے ۔​
امام بیہقی نے بھی اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ '' السنن الکبری '' کے جلد 2 ص 307 میں اس حدیث کے اوپر اس طرح عنوان منعقد فرماتے ہیں :​
(( باب ما روي في كيفية الصلوة على الجنب أو الاستلقاء وفيه نظر ))​
خط کشیدہ الفاظ میں اس روایت کی تضعیف کی طرف اشارہ ہے ۔​
جب ائمہ حدیث نے اس حدیث کو ضعیف اور منکر قرار دیا ہے تو ایسی ناکارہ روایت کو لے کر دلیل کے طور پر پیش کرنا مولانا کو زیب نہیں دیتا ۔​
(دوم )
دوسرے نمبر پر مولانا نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک اثر سنن دارقطنی سے نقل فرمایا ہے یہ اثر سنن کبری للامام البیہقی وغیرہ میں بھی ہے ۔ لیکن اس کی سند میں یہی ایک راوی ابو بکر بن عبید اللہ بن عمر ہے جو اپنے والد عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے اور اس راوی ( ابو بکر بن عبید اللہ بن عمر ) کا ترجمہ ہمیں کہیں نہیں ملا ۔​
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم ، كتاب الثقات للعجلي ، كتاب الثقات لابن حبان ، تقريب التهذيب و تهذيب التهذيب لابن حجر وغيرها کو دیکھا لیکن یہ نام ہی نہیں ملتا ۔​
جب اس اثر کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے تو اس کو معرض استدلال میں کیسے پیش کیا جاسکتا ہے ۔​
(سوم )
تیسرے نمبر پر مولانا نے متن کے الفاظ درج کیے ہیں نہ یہ لکھا کہ مرفوع ہے یا موقوف ہے ۔​
مرفوع ہونے کی صورت میں اس کو روایت کرنے والا کونسا صحابی ہے اور موقوف ہونے کی حالت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس صحابی کا قول ہے ۔ یعنی ان باتوں کے متعلق کچھ بھی تحریر نہیں فرمایا گیا پھر نیچے تحریر فرماتے ہیں '' کتاب بالا ، باب صلوۃ المریض ص 33 '' ۔​
اوپر سنن دارقطنی کا ذکر ہے لیکن اس کے اس صفحہ یا اثر ابن عمر والے صفحہ پر تو اس قسم کی کوئی روایت نہیں لہذا اس کے متعلق ہم کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ آگے پھر ہدایہ ، کنز الدقائق ، غنیۃ الطالبین اور '' در مختار '' کی عبارات نقل کی ہیں ۔ لیکن کتب کوئی حجت نہیں ہیں حجت تو صرف کتاب اللہ اور سنت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اسی طرح بعض تابعین یا تبع تابعین کے آثار بھی کوئی حجت نہیں ہیں ۔​
خلاصہ کلام
مسئلہ زیر بحث پر مولانا نے کتاب وسنت سے کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں فرمائی جس سے تشفی و تسلی ہو ۔​
آخر میں گذارش ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ کتاب وسنت میں ایسی کوئی صریح دلیل نہیں جس سے پاؤں کا قبلہ رخ ہونا یا قبلہ رخ پاؤں کرکے سونا ناجائز قراردیاجائے ۔ ادھر جواز کے دلائل جو مولانا عبد اللہ صاحب قصوری نے پیش فرمائے ان کا حال بھی معلوم ہوچکا ۔​
لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ شریعت مطہرہ نے بیت اللہ العظیم کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا ہے ۔ سورہ حج کی وہ آیت جو مولانا نے نقل فرمائی ہے :​
ذلك و من يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب ( الحج : 32 )​
یہ بھی اس پر دال ہے اگرچہ مولانا نے جلالین و ابن کثیر کےحوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ یہاں شعائر اللہ سے مراد قربانی کے جانور ہیں لیکن جیسا کہ اصول فقہ میں یہ مسئلہ طے شدہ ہے کہ '' العبرة لعموم اللفظ لا بخصوص السبب '' ''اعتبار لفظ کے عموم کو ہوتا ہے نہ کہ سبب کے خصوص کو '' اور پھر سیاق و سباق سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بیت اللہ ، مسجد حرام ، مناسک حج ، قربانی کے جانور اور دوسری عبادات سب شعائر اللہ میں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے بہت سے مفسروں نے بھی اس جگہ '' شعائر اللہ '' کو عام ہی رکھا ہے ، بلا وجہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ۔ اگر ان حقائق کے باوجود مولانا کو اصرار ہےکہ یہاں شعائر اللہ سے مراد قربانی کے جانور ہی ہیں تو اس آیت کریمہ سے پیشتر یہ آیت کریمہ گزر چکی ہے کہ :​
ذلك و من يعظم حرمت الله فهو خير له عند ربه ... الآية ( الحج : 30 )​
یہ آیت کریمہ '' و ليطوفوا بالبيت العتيق '' کے بعد آئی ہے اور مضمون کے لحاظ سے اس جگہ حرمات اللہ میں بیت اللہ و مسجد حرام یقینا داخل ہیں ۔ لہذا حقیقت سے فرار مناسب نہیں ۔​

والله تعالى أعلم و علمه أتم و أحكم ، و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين ، وصلى الله على سيدنا محمد و آله و أصحابه و بارك وسلم .​

وأنا أحقر العباد​
محب الله شاه 1990/ 12 / 3​

No comments:

Post a Comment

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...