✍️ مجاہدالاسلام عظیم آبادی
موبائل اور انٹرنیٹ دور جدید کی دو ایسی ایجادات ہیں جنہوں نے ساری دنیا میں اطلاعات اور معلومات تک رسائی کا وہ انقلاب برپا کیا ہے جس کی کوئی مثال اور نظیر نہیں ملتی_ موجودہ دور میں انٹرنیٹ ضرورت انسانی بن چکا ہے_ تاہم جہاں موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کے بے پناہ فوائد ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے استعمال کو نقصان دہ بھی سمجھا جاتا ہے، بالخصوص طلبہ مدارس اسلامی میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور بے راہ روی کا سبب انٹرنیٹ کے بے جا استعمال کو بتایا جاتا ہے، انٹرنیٹ اور موبائل اس دور کے سب سے خطرناک ایجادات ہیں، اس کی مثال اس نشتر کی سی ہے جو اگر کسی ماہر سرجن کے ہاتھ میں ہو تو وہ شفایابی اور فلاح کی علامت ہے، لیکن اگر یہی نشتر کسی چور اور ڈاکو کے ہاتھ میں ہو تو اس سے فلاح کی امید نہیں بلکہ نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ کے باعث طلبہ مدارس اسلامیہ کے اوقات ثمینہ اور ان کی صلاحیتیں ضائع اور برباد ہو رہی ہیں_موبائل اور انٹرنیٹ کا مثبت اور تعمیری استعمال بلاشبہ مفید اور وقت کی ضرورت ہے، لیکن اس کے غلط اور منفی استعمال کو کسی بھی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا-
آج مدارس اسلامیہ کے طلبہ کے پاس مطالعہ کا وقت نہیں ہے، لیکن پوری رات انٹرنیٹ پر چیٹنگ (CHATTING)،فضول اور عشقیہ میسجز (MESSAGES)، فلمیں دیکھنے، دیر رات تک محبوبہ سے باتیں کرنے اور نہ جانے کن کن فضول کاموں میں انہیں کمال حاصل ہوتا ہے، کسی کہنے والے نے کہا تھا کہ "من طلب العلی سحر اللیالی" لیکن یہاں تو راتوں کو جاگا ہی اس لیے جاتا ہے تاکہ اس رات کو رنگین بنایا جا سکے، خدارا اگر میری باتوں پر یقین نہ ہوتو ایک مرتبہ مدارس اسلامیہ کا چکر لگائیے اور رات کی تاریکی میں لڑکے کیا کیا دیکھتے اور کرتے ہیں اگر آپ دیکھ لیں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیا یہی وہ علماء ہیں جو ہماری قوم کو راہ راست پر لانے والے ہیں.؟ کیا یہی وہ طلبہ ہیں جو مستقبل میں قوم کی امامت کرنے والے ہیں..؟ جمعرات اور جمعہ یہ ایسے دن ہیں جو طلبہ کیلیے چھٹی کے دن ہوتے ہیں پڑھائی بھی دو یا تین گھنٹی ہوتی ہے اس کے بعد انجمن اور پھر ہم آزاد.... اب ذرا ایک ہلکی سی نظر ڈالتے ہیں کہ آخر طلبہ ان دو دنوں میں کیا کرتے ہیں..؟ مطالعہ..؟ ارے نہیں جناب آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں بالکل نہیں، آپ کے خیال سے ان دو دنوں میں طلبہ مطالعہ کرتے ہوں گے، اپنی ضروریات پوری کرتے ہوں گے، لیکن ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں مطالعہ کا تو دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہوتا، جمعرات کے دن جیسے ہی عصر کی نماز ختم ہوتی ہے طلبہ اپنا رخ بازار کی طرف کرتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لیں بلکہ اس لیے تاکہ وہ کچھ فلمیں اور فحش و عریانیت سی بھری چیزیں اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کروا سکیں، جو کروا پائیں ان کی لاٹری نکل گئی اور جو نہیں کروا سکے وہ انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے ابھرتے ہوئے خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں جمعرات کی شب شاید کہ کوئی ایسا بچہ آپ کو ملے جو اپنے موبائل میں کچھ دیکھ نہ رہا ہو، میں تمام طلبہ کی بات نہیں کر رہا لیکن اکثریت یہی ہے، یہ اور اس طرح کے اور بھی وجوہات ہیں جن کے بنا پر طلبہ کے اندر سے مطالعہ کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے_
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ انٹرنیٹ کا استعمال نہ کریں، بلاشبہ انٹرنیٹ پر اچھی اچھی ویب سائٹس کا انبار لگا پڑا ہے مثلاً (WWW.KITABOSUNNAT.COM) اس ویب سائٹ پر ہر قسم کی دینی و اسلامی کتابیں موجود ہیں جن سے آسانی کے ساتھ مستفید ہوا جاسکتا ہے، اسی طرح "الموسوعة الحدیثیة" کے نام سے (PLAY STORE) پر ایک ایپلیکیشن موجود ہے، اس کی خوبی کا کیا کہنا اس ایپ نے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کیلیے بہت سہولتیں پیدا کر دی ہیں، اس ایپ میں تمام احادیث کو یکجا کر دیا گیا ہے، آپ صرف کسی حدیث کے پانچ یا چھ الفاظ لکھیں تو پوری حدیث آپ کے سامنے آ جائیگی، یہی نہیں بلکہ حدیث کا کیا حکم ہے، آیا وہ صحیح ہے، حسن ہے، یا ضعیف ہے ہر ایک حکم کو واضح کر دیتی ہے، نیز کن کن اصحاب نے بیان کیا ہے اور کتنے محدثین نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، تمام چیزیں پل بھر میں آپ کے سامنے آ جاتی ہیں-اسی طرح ایک اور ایپ (ISLAM360) کے نام سے موجود ہے، اس ایپ میں صحاح ستہ مع اردو و انگلش ترجمہ، اور قرآن مع اردو و انگلش ترجمہ، اور دیگر معلوماتی چیزیں موجود ہیں_ انٹرنیٹ پر اس قسم کے بے شمار ایپ موجود ہیں، لیکن ہمیں فحش و عریانیت بھری چیزوں سے فرصت ملے تب تو ہم ان کی طرف رخ کریں..._ ایک طرف جہاں انٹرنیٹ کا استعمال مفید ہے وہیں دوسری طرف نقصان دہ اور مُضر بھی ہے_ جہاں اس پر بے شمار کتاب و سنت کی ویب سائٹس موجود ہیں، وہیں دوسری طرف بہت ساری فحش و عریاں ویب سائٹس بھی موجود ہیں جن سے ایک بڑی تعداد ان کے نقصان کو پس پشت ڈال کر لطف اندوز ہوتی ہے، اور اپنے اوقات ثمینہ کو ضائع کرتی ہے- مدارس میں زیرِ تعلیم شاید ہی کوئی ایسا طلبہ ملے جس کا FACEBOOK اور WHATSAPP پر اکاؤنٹ نہ ہو، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان کا استعمال نہ کریں، ضرور استعمال کریں، لیکن ایک حد تک، ایسا نہ ہو کہ ہم ان چیزوں میں اس قدر محو اور مشغول ہو جائیں کہ اذان اور نماز کی کوئی فکر ہی نہ ہو، اور جس مقصد کو لیکر ہم دوردراز سے والدین، اعزہ و اقربا، دوست و احباب کو چھوڑ کر آئیں ہیں پس پشت ڈال دیں، نیز ہمیشہ میانہ روی اختیار کریں-
آج جب ہم مدارس کے طلبہ پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں تو شرم سے نگاہ جھک جاتی ہے، جن طلبہ کو ہم مستقبل کے معمار کہتے ہیں وہ اس آفت بدکاری کا اس طرح شکار ہو چکے ہیں، کوئی گیمز کا دیوانہ ہے تو کوئی فلمی گانوں کا متوالا، غرض ہر ایک کی اپنی اپنی مشغولیت ہے، جس سے وہ لطف اندوز ہو رہا ہے، انٹرنیٹ پر موجود فحش مضامین اور کہانیاں، گندی تصویریں اور نفسانی خواہشات کو بھڑکانے والی بیہودہ فلموں اور ڈراموں نے طلبہ مدارس کے اخلاق و کردار اور عادت و اطوار کو تباہ و برباد کر دیا ہے - اگر یہی صورت حال رہی تو پھر تباہی یقیناً ہماری منتظر ہے، کیونکہ ہاری ہوئی جنگ کو فتح کیا جا سکتا ہے، مگر تہذیب و ثقافت کی شکست خوردہ قوم کو راہ راست پر لانا پہاڑ کاٹنے کے مترادف ہے - ضرورت اس بات کی ہیکہ نیٹ کا استعمال اسی حد تک کیا جائے جتنی کہ اس کی ضرورت ہو، اور ردائے غفلت کو اپنے اوپر سے اتار دیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں- اللہ رب العالمین اس کی توفیق عطا فرمائے آمین -
No comments:
Post a Comment