Friday, August 17, 2018

٥٣٧-اگر شوہر بیوی کو چھوڑ کر کسی اور لڑکی کے ساتھ فرار ہو جائے تو بیوی کیا کرے. ؟کیا اُس کے لیے دعا وغیرہ کروانا جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

سوال-کسی نے ایک سوال کیا ہے کہ اگر کسی کا شوہر اپنی اصل بیوی جو اس کی عقد میں ہو اس کو چھوڑ کر کسی غیر کو لے کر فرار ہو گیا ہو اور گھر سے رشتہ ناطہ بالکل ختم کر دیا ہو نہ اپنی بیوی کے پاس فون کرتا ہو اور نہ ہی اس سے ربط ضبط رکھتا ہو تو وہ بیوی کیا کرے حالانکہ اس کے پاس دو بچے بھی ہیں اب اگر وہ طلاق لے تو اس سے شادی کرنے والا کوئی نہیں۔ کرے بھی تو کیا کرے.؟

تو ایسی صورت میں اس کی بیوی چاہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے دعا وغیرہ کروائے اور وہ بھی *مہنی*  تو کیا شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی گنجائش ہے دور حاضر کے ماحول کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے جواب دیجئے ممنون ہوں گا

الحمدللہ

اول
اگر شوہر نے بیوی سے رشتہ ناطہ طور لیا ہے تو ایسی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ وہ عدالت کا رخ کرے، کیونکہ یہ نکاح ہے کوئی کھیل نہیں کہ جسے جب چاہا تب توڑ دیا، بیوی شوہر کی ذمہ داری ہے اور اسے اس بات کو سمجھنا چاہیے اگر نہیں سمجھتا ہے تو بیوی کو خلع یا طلاق لے لینی چاہیے-

دوم
اس مسئلہ میں مالکی مسلک پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ عورت عدالت میں دعویٰ کرے، اوّلاً شہادت سے ثابت کرے کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے ہے، پھر شہادت سے یہ ثابت کرے کہ وہ اتنے عرصے سے مفقود الخبر ہے، اور اس نے اس عورت کے نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ عدالت اس کی شہادتوں کی سماعت کے بعد اسے چار سال انتظار کرنے کا حکم دے اور اپنے ذرائع سے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کرے اور چار سال کے عرصے میں اگر شوہر نہ آئے تو عدالت اس کے فسخِ نکاح کا فیصلہ کرے۔ اس فیصلے کے بعد عورت عدّت گزارے، عدّت کے بعد وہ دُوسری جگہ اگر نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ اور اگر عدالت محسوس کرے کہ مزید چار سال کے انتظار کی ضرورت نہیں تو عورت کی شہادتوں کے بعد وہ فوری طور پر فسخِ نکاح کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ تاہم عدالت کے سامنے شہادتیں پیش کرنا اور عدالت کے فیصلے کے بعد عدّت گزارنا شرطِ لازم ہے، اس کے بغیر دُوسری جگہ عقد نہیں ہوسکتا۔

سوم
جہاں تک آپ نے یہ بات عرض کی کہ طلاق کے بعد دو بچوں والی عورت سے نکاح کون کریگا.؟ تو ایسا نہیں ہے، آج بھی ایسے نیک لوگ موجود ہیں جو طلاق شدہ کو اپنی بیوی بنانے میں کتراتے نہیں -

چہارم
جہاں تک بات رہی دعا وغیرہ کروانے کی تو شریعت میں اسکی کوئی حقیقت نہیں، بیوی بذات خود دعا کر سکتی ہے، اور شوہر کو اپنے طرف مائل کرنے کیلیے بیوی کو اپنے شوہر کے لئے میک اپ کرنا اور اچھے لباس پہننے چاہیے۔ شریعت میں بیوی کو بننے سنورنے کا حکم تو اپنے شوہر کے لئے ہی ہے۔ اگر وہ اپنے شوہر کے لیے ایسا نہیں کرے گی تو پھر کس لئے بنے سنورے گی؟ قرآن مجید نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے لئے میک اپ کرے گی اور اس کے علاوہ بیوی اپنے محرم رشتے داروں کے لئے بھی بن سنور سکتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

سورة النور آيت نمبر 31

"اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ"

تو درج بالا آیت کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیوی کو اپنے شوہر کے لئے ہر وقت بن سنور کر رہنا چاہئے، اور خاص طور پراپنے بناؤ سنگھار کا اظہار اس وقت کرنا چاہیے جب شوہر کسی جگہ سے واپس آئے۔ مثلاً بیرون ملک سے، اپنے آفس سے، جب بھی شوہر گھر سے باہر ہو اور جب واپس آئے تو عورت کو بہت ہی پیار بھرے، مشفقانہ اور والہانہ انداز میں استقبال کرنا چاہیے، اچھا لباس پہن کر، بناؤ سنگھار، میک اپ کر کے، خوشبو لگا کر اچھی طرح بن سنور کر اپنے شوہر کا استقبال کرے تاکہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو۔

جب بیوی ایسا کرے گی تو شوہر اس سے ہمیشہ خوش رہے گا اور کسی دوسری عورت کی طرف مائل نہیں ہو گا، اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو پھر دونوں کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، فتنہ فساد ہوتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں عورت جب باہر جانے لگتی ہے تو خوب بناؤ سنگھار کرتی ہے، میک اپ کرتی ہے، اور گھر کے اندر شوہر کے سامنے صحیح لباس بھی نہیں پہنتی ہیں جو کہ حرام ہے، شریعت نے عورت کو اپنے خاوند کے لئے میک اپ کی اجازت دی ہے، دوسروں کے لئے نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے معاشرے کی خواتین اس کے برعکس چل رہی ہیں جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

واللہ اعلم

No comments:

Post a Comment

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...