Saturday, August 11, 2018

١٦٩-قربانی کرنے والا قربانی ذبح کرتے ہوئے کیا زبان سے نیت کرے گا؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی

قربانی ذبح کرنے والا شخص قربانی کے وقت یہ کہتا ہے کہ: "یہ فلاں کی طرف سے ہے" تو کیا یہ زبان سے نیت کرنے کے زمرے میں شمار ہو گا؟

الحمد للہ:

یہ زبان سے نیت کا تلفظ کرنے میں شامل نہیں ہوتا؛ کیونکہ  "قربانی کرنے والا شخص جب یہ کہتا ہے کہ : "یہ قربانی میری اور میرے اہل خانہ کی جانب سے ہے" تو ان الفاظ سے وہ  اپنے دل کی بات کو زبان سے بیان کرتا ہے، وہ یہ نہیں کہتا کہ: "یا اللہ! میں قربانی کرنے کی نیت کرتا ہوں" لیکن جو لوگ زبان سے قربانی کی نیت کرتے ہیں وہ اس طرح کے الفاظ کہتے ہیں، حقیقت میں یہ شخص اپنے دل میں موجود بات کا اظہار کرتا ہے، نیت تو اس وقت ہی ہو جاتی ہے جب وہ قربانی کو لاکر بٹھاتا ہے اور اسے لٹا کر ذبح کر دیتا ہے تو یہ اس کی نیت ہی تھی" انتہی.

مجموع فتاوى ابن عثیمین (22/20)

No comments:

Post a Comment

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...