Wednesday, August 29, 2018

٩٦٠-بال اتارنے كے ليے بال صفا پاؤڈر استعمال كرنا


س-بال صفا پاؤڈر ( النورۃ ) كيا ہے، اور كيا رسول كريم صلى اللہ عليہ يہ استعمال كيا كرتے تھے، اور سنت نبويہ ميں اس كے كيا دلائل پائے جاتے ہيں؟

الحمد للہ:

اول:

النورۃ ( بال صفا پاؤڈر ) كيلسيم اور ہڑتال كا مركب ہے جو بال صاف كرنے كے ليے استعمال كيا جاتا تھا، يہ پاؤڈر بالوں والى جگہ پر ليپ كر كے كچھ دير تك رہنے ديا جاتا اور پھر دھونے سے بال صاف ہوجاتے ہيں.

ديكھيں: القاموس الفقھى ( 1 / 363 ) اور زاد المعاد ( 4 / 364 ).

دوم:

بعض احاديث ميں آيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كا اس كا استعمال كرتے تھے، ليكن اس كے متعلق جتنى بھى احاديث آتى ہيں وہ سب ضعيف ہيں، اور كوئى بھى حديث صحيح نہيں.

ابن ماجہ رحمہ اللہ نے ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم النورہ ( بال صفا پاؤڈر ) كا ليپ كرتے تھے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3751 ) البوصيرى رحمہ اللہ نے مصباح الزجاجۃ ميں، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف سنن ابن ماجہ ميں اور شعيب ارناؤوط نے تحقيق زاد المعاد ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور ابن عساكر نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہر ماہ نورہ ( بال صفا پاؤڈر ) استعمال كرتے، اور ہر پندرہ يوم ميں اپنے ناخن تراشتے تھے "

علامہ البانى رحمہ اللہ نے الجامع الصغير حديث نمبر ( 4536 ) ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

حاصل يہ ہوا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا اس پاؤڈر كے استعمال كرنے ميں كوئى بھى حديث صحيح نہيں ملتى، ليكن اس كے استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں، يا بال اتارنے كے ليے اس كے علاوہ كوئى اور چيز استمعال كرنے ميں بھى كوئى حرج نہيں ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ اس كے استعمال ميں كوئى ضرر اور نقصان نہ پہنچے، ليكن زيرناف بال مونڈنے بہتر اور افضل ہيں، كيونكہ سنت سے اسى كا ثبوت ملتا ہے، اور جمہور فقھاء كرام بال مونڈنے كى افضليت كے قائل ہيں.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 14 / 83 ).

واللہ اعلم

٩٥٩-بال بالكل ختم كرنے ليے كسى وسيلہ كا استعمال


س-جسم كے بال صاف كرنے ميں كئى ايسے طريقہ پائے جاتے ہيں جن كے استعمال سے دوبارہ بال آتے ہى نہيں، اس ليے ان طريقوں كے استعمال كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

جسم كے جن بالوں كو صاف كرنے كا حكم ہے ( مثلا بغلوں اور زيرناف بال ) يا وہ بال جن كو صاف كرنا مباح ہے ( مثلا ہاتھوں اور پنڈليوں كے بال ) كسى بھى طريقہ سے صاف كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ اگر وہ طريقہ مضر اور نقصان دہ نہ ہو، چاہے اس طريقہ كے استعمال سے دوبارہ بال نہ ہى آئيں.

واللہ اعلم

٩٥٨-زيرناف بالوں كى تحديد


س-ہم مسلمانوں كے ليے زيرناف بال مونڈنا واجب ہيں، كيا مرد كے ليے گھٹنے سے ليكر ناف تك سارے بال مونڈنا ضرورى ہيں ( يعنى پيٹ كے نچلے حصہ اور رانوں پر موجود سارے بال ) ؟

الحمد للہ:

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ " فتح البارى " ميں كہتے ہيں:

امام نووى كا كہنا ہے كہ: ( العانۃ ) زيرناف بالوں سے مراد وہ بال ہيں جو عضو تناسل پر اور اس كے ارد گرد بال ہيں، اور اسى طرح عورت كى شرمگاہ كے ارد گرد بال زيرناف بال كہلاتے ہيں.

اور ابو العباس بن سريج سے منقول ہے كہ: دبر كے سوراخ كے ارد گر پائے جانے والے بال.

تو اس مجموعى كلام سے يہ حاصل ہوا كہ قبل اور دبر اور ان كے ارد گرد پائے جانے والے سارے بال مونڈنا مستحب ہيں، وہ كہتے ہيں كہ: مونڈنے كا ذكر اس ليے كيا ہے كہ يہ غالب طور پر ہوتا ہے، وگرنہ پاؤڈر كے ساتھ يا اكھاڑ كر يا كسى اور طريقہ سے بھى اتارنے جائز ہيں.

اور ابو شامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

العانۃ: وہ بال ہيں جو الركب ( راء اور كاف پر زبر كے ساتھ ) يعنى پيٹ كے نچلے حصہ اور شرمگاہ كے اوپر ہوں، اور ايك قول يہ بھى ہے كہ ہر ران كى ركب ہوتى ہے، اور يہ بھى قول ہے كہ شرمگاہ كے اوپر والے، اور يہ بھى كہا گيا ہے گہ مرد يا عورت كى بنفسہ شرگاہ پر اگے ہوئے بال.

وہ كہتے ہيں: قبل اور دبر سے بال ختم كرنے مستحب ہيں، بلكہ دبر سے زائل كرنا اولى ہيں كہ كہيں ان ميں پاخانہ وغيرہ نہ اٹك جائے، كہ پانى سے استنجاء كيے بغير وہ گندگى ختم ہى نہ ہو، اور پتھر اور ڈھيلے استمال كرنے سے وہ گندگى ختم نہيں ہوگى.

اور ان كا كہنا ہے كہ: مونڈنے كى جگہ پاؤڈر بھى استعمال كيا جا سكتا ہے، اور اسى طرح اكھاڑنے اور كاٹ كر بھى صاف كرنے صحيح ہيں.

امام احمد رحمہ اللہ سے زيرناف بال قينچى كے ساتھ كاٹنے كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

مجھے اميد ہے كہ يہ كفائت كرےگا، تو ان سے عرض كيا گيا: تو پھر اكھاڑنا كيسا ہے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: آيا كيا كوئى اس كى طاقت ركھتا ہے ؟

اور ابن دقيق العيد كہتے ہيں كہ: اہل لغت كا كہنا ہے:

العانۃ: وہ بال ہيں جو شرمگاہ پر اگے ہوں، اور ايك قول يہ بھى ہے كہ: وہ بال اگنے والى جگہ ہے.

وہ كہتے ہيں: اور حديث سے مراد بھى يہى ہے، اور ابو بكر بن عربى كہتے ہيں: اتارے جانے بالوں ميں زيرناف بال اتارے جانے كا زيادہ حق ركھتے ہيں، كيونكہ ان ميں گندگى اور ميل كچيل پھنس جاتى ہے.

اور ابن دقيق العيد كہتے ہيں: دبر كے ارد گرد بال صاف كرنے كو مستحب كرنے والے لگتا ہے كہ انہوں نے بطور قياس ايسا كہا ہے. اھـ

واللہ اعلم

٩٥٧-عورتوں كے ختنے كرنا واجب اور ضرورى نہيں


س-ايك عورت لڑكيوں كے ختنہ كے متعلق دريافت كر رہى ہے كيونكہ اس نے حديث پڑھى ہے جس ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كے ختنہ كرنے كا طريقہ بيان كيا ہے....
تو كيا عورت كا ختنہ كرنا واجب ہے يا سنت، اور اگر واجب ہے تو اس كى كيفيت كيا ہے، اور كونسا حصہ كاٹنا ہوگا ؟

الحمد للہ:

ابن قدامہ رحمہ اللہ اپنى كتاب " المغنى " ميں رقمطراز ہيں:

" ختنہ مردوں كے ليے تو واجب ہے، ليكن عورتوں كے حق ميں ختنہ كرنا باعث تكريم ہے، اور ان كے ليے ختنہ واجب نہيں، اكثر اہل علم كا قول يہى ہے، امام احمد كہتے ہيں كہ: مرد اشد ہے ... اور عورت نرم.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 70 ).

لڑكى كا ختنہ اس طرح ہوگا كہ پيشاب نكلنے والى جگہ پر مرغ كى كلغى جيسى چيز كو كاٹا جائے، سنت يہ ہے كہ سارى كلغى نہ كاٹى جائے بلكہ اس كا كچھ حصہ كاٹيں.

الموسوعۃ الفقھيۃ ( 19 / 28 ).

حكمت يہ ہے كہ اس ميں مصلحت كو مد نظر ركھا جائے، اگر تو وہ حصہ بڑا ہو تو پھر اس كا كاٹا جائے، وگرنہ نہ كاٹيں، شائد اس كا بڑا اور چھوٹا ہونا عورت كى خلقت ميں اختلاف كى بنا پر ہے، اور اس ميں كمى و زيادتى گرم اور سرد علاقے اور ملك كى وجہ سے ہوتى ہے.

عورتوں كے ختنہ كے متعلق مرفوع حديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد ہے:

" مردوں كے ليے ختنہ سنت ہے، اور عورتوں كے ليے تكريم "

ليكن اس حديث كے صحيح ہونے ميں اختلاف پايا جاتا ہے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ علامہ البانى رحمہ اللہ كى كتاب السلسلۃ الاحاديث الضعيفۃ حديث نمبر ( 1935 ) ديكھيں.

اور ختنہ كى كيفيت ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں بيان ہوئى ہے كہ:

" مدينہ ميں ايك عورت ختنے كيا كرتى تھى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" تم ختنہ كرنے ميں مبالغہ كرتے ہوئے اسے بالكل ہى نہ كاٹ ديا كرو، كيونكہ يہ عورت كے ليے زيادہ فائدہ مند اور لذت كا باعث ہے، اور خاوند كے ليے زيادہ محبوب ہے "

سنن ابو داود كتاب الادب، اس حديث كو ابو داود نے ضعيف كہا ہے.

مندرجہ بالا سطور ميں اہل علم كى بيان كردہ كلام ہى كافى ہے.

واللہ اعلم

٩٥٦-كيا ہر حيض كے بعد زيرناف بال مونڈنا ضرورى ہے ؟


س-كيا عورت كو ہر حيض كے بعد اپنے زيرناف بال مونڈنے ضرورى ہيں ؟

الحمد للہ:

زيرناف بال اكھيڑنا، يا پاؤڈر اور كريم لگا كر، يا مونڈ كر زائل كرنا فطرتى سنتوں ميں شامل ہوتا ہے، اور دين اسلام نے اس كى رغبت دلاتے ہوئے اس پر ابھارا ہے، ليكن اس كى تحديد نہيں كہ يہ ہر حيض كے بعد كيا جائے.

امام احمد، اور امام بخارى، اور امام مسلم اور سنن اربعہ نے روايت كى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" پانچ چيزيں فطرت ميں داخل ہيں: زيرناف بال مونڈنا، ختنہ كرنا، مونچھيں كاٹنا، بغلوں كے بال اكھيڑنا، اور ناخن تراشنا "

اور انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہمارے ليے مونچھيں كاٹنے، اور ناخن تراشنے، اور بغلوں كے بال اكھيڑنے، اور زيرناف بال مونڈنے ميں وقت مقرر كيا كہ ہم انہيں چاليس راتوں سے زيادہ نہ چھوڑيں "

صحيح مسلم، سنن ابن ماجہ.

اور مسند احمد، ترمذى، اور نسائى اور ابو داود كى روايت ميں ہے:

ہمارے ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وقت مقرر كيا كہ: ..... "

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 127 ).

٩٥٥-بغلوں كے بال استرے وغيرہ سے صاف كرنا


س-كيا بغلوں كے بال استرے يا بليڈ سے صاف كرنے صحيح ہيں ؟

الحمد للہ:

جائز ہيں؛ كيونكہ بغلوں كے بال صاف كرنا مقصود ہيں، چاہے وہ اكھاڑ كر كيے جائيں، يا پھر مونڈ كر يا كوئى اور طريقہ استعمال كر كے، ليكن اگر آسانى ہو تو اكھاڑنا بہتر ہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" پانچ اشياء فطرتى ہيں: ختنہ كرنا، اور مونچھيں كاٹنا، اور ناخن تراشنا، اور بغلوں كے بال اكھاڑنا، اور زيرناف بال مونڈنا "

صحيح بخارى اور صحيح مسلم.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 171 ).

٩٥٤-بناوٹى پلكيں اور ناخن لگانا


س-كيا بناوٹى پلكيں اور ناخن لگانے جائز ہيں يا نہيں ؟

الحمد للہ:

بناوٹى بال لگانے جائز نہيں كيونكہ وصل شعر ( يعنى بال ملانے ) ميں شامل ہوتا ہے، اور وحشى جانوروں كى طرح لمبے لمبے ناخن لگانے كا طريقہ بھى ہمارے ہاں كفار كى جانب سے آيا ہے، حالانكہ شريعت مطہرہ نے تو ناخن كاٹنے اور لمبے ناخن نہ ركھنے كا حكم ديا ہے، تو پھر ہم اپنى شريعت مطہرہ كى مخالفت كيوں كريں ؟.

اللہ تعلى سے ہمارى دعا ہے كہ ہميں ہدايت نصيب فرمائے.

واللہ اعلم

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...