Monday, January 21, 2019

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(علمائے عقیدہ کے نزدیک)

علمائے عقیدہ کے نزدیک

٭… امام ابنؒ ابی عاصم نے اپنی کتاب السُّنَّۃ میں سنت کی تعریف یہ کی:
اَلسُّنَّۃُ اسْمٌ جَامِعٌ لِمَعَانٍ کَثیرۃٍ فِی الأحْکامِ وَغیرِ ذَلکَ، وَمِمَّا اتَّفَقَ أَہلُ الْعِلمِ عَلَی أَنْ نَسَبُوہُ إِلٰی السُّنَّۃِ: الْقَولُ بِإِثْبَاتِ الْقَدْرِ، وَأَنَّ اْلِاسْتِطَاعۃَ مَعَ الْفِعْلِ لِلْفِعلِ، وَالإِیْمَانُ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ، حُلُوِّہِ وَمُرِّہِ، وَکُلُّ طَاعَۃٍ مِنْ مُطِیْعٍ فَبِتَوْفِیْقِ اللّٰہِ لَہُ، وَکُلُّ عَاصِیَۃٍ مِنْ عَاصٍ فَبِخُذْلَانِ اللّٰہِ السَّابِقِ مِنْہُ وَلَہُ، ۔۔۔۔۔
لفظ سنت ایک جامع اسم ہے جو احکام شریعت وغیرہ میں بے شمار معانی رکھتا ہے۔اہل علم جن معانی پر متفق ہوئے اور انہیں سنت کی طرف منسوب کیا ان میں سے: قضاء وقدر کے ثابت ہونے کاقول، اور یہ بھی کہ کسی فعل کے لئے ہمت واستطاعت فعل کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔تقدیر کے شر اور خیر اور اس کے میٹھے اور کڑوے ہونے پر ایمان، مطیع کی ہر اطاعت اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے ہوتی ہے اور نافرمان کی ہر معصیت اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طے شدہ رسوائی وذلت کے سبب ہوتی ہے۔ سعید وہی ہے جس کے لئے سعادت سبقت لے گئی اور شقی وہ ہے جس کے لئے شقاوت سبقت لے گئی۔اشیاء بھی اللہ تعالیٰ کی مشیئت و ارادے سے خارج نہیں ہیں۔ بندوں کے خیر وشر والے افعال انہی کے افعال ہیں اور ان کے خالق کی تخلیق ہیں۔ قرآن ۔۔اللہ تبارک وتعالیٰ کا کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کلام کیا ہے ،یہ مخلوق نہیں ہے۔ جو کہتا ہے: "قرآن ایساکلام ہے جو مخلوق ہے"۔ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہوگا جن کے خلاف حجت قائم ہوچکی۔ ایسا شخص اللہ عظیم وبرتر کا کافر ہے۔ایمان قول وعمل کو کہتے ہیں جو گھٹتا بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہونا ثابت ہے ۔۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔۔ اس کے ولی، آخرت میں اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں گے۔ ابوبکر صدیق آپ ﷺ کے بعد اصحاب رسول میں افضل ترین ہیں اور وہی خلیفۂ رسول ہیں ان کی خلافت، نبوت کی طرز پر ہے۔ جس دن ان کی بیعت ہوئی اس روز بھی وہ صحابۂ رسول میں افضل تھے اور وہی سب سے زیادہ حق دار تھے۔ پھر ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ان سب پر اپنی رحمت ہو۔

میرے نزدیک سنت کی طرف مزیدجو کچھ منسوب کیا جاسکتا ہے اس میں ایمانیات بھی ہیں۔جیسے: عذاب قبر، منکر نکیر، شفاعت، حوض اور میزان پر ایمان، اصحاب رسول ﷺ کی محبت، اور ان کے فضائل پر ایمان، ان پر سب وشتم یا طعن وتشنیع کا ترک کرنا اور ان سے اپنے تعلقات رکھنا بھی ایمان میں سے ہے۔اہل توحید میں جو فوت ہوا اس پر نماز پڑھنا اور دعائے مغفرت کرنا، گناہ گاروں کے لئے بخش کی امید رکھنا، وعید کو چھوڑ نے پر ایمان، اور بندگان خدا کو اللہ تعالیٰ کی مشیئت کی طرف لوٹانا، ان کا نار جہنم سے نکلنا، جنہیں اللہ اپنی رحمت سے نکالے گا، ہر ظالم امیر کے پیچھے نماز پڑھنا، اورنماز باجماعت پڑھنا، ہر حاکم کے ہمراہ جنگ لڑنا، امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر بھی۔ اور ایک دوسرے کی مدد کرنا وغیرہ۔۔۔

٭… علماء عقیدہ آپ ﷺکے قول وعمل اوروتقریر کو ہَدی کا نام بھی دیتے ہیں۔ جس کا مقابل بدعت اور محدثات ہیں۔جیسے کسی کا اعتقاد وعمل مخالف سنت ہو تو کہتے ہیں: فُلاَنٌ عَلَی بِدْعَۃٍ۔فلا ں بدعتی ہے۔یہی معنی حدیث میں ہے:

إِنَّ خَیْرَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَشَرَّ الأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہََا وَکُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٍ وَکُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِی النَّارِ۔ یا مَنْ أَحْدَثَ فِیْ أَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔ بے شک بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے اور ہر نئی عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جائے گی۔یا جو بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی عبادت گھڑتا ہے تو وہ مردود ہے۔

اسی معنی میں علماء نے کہا : طَلاَقُ السُّنَّۃِ کَذَا وَطَلاَقُ الْبِدْعَۃِ کَذَا،طلاق سنت یہ ہے اور طلاق بدعت یہ۔ یا فُلاَنٌ عَلَی سُنَّۃٍ یعنی قرآن کریم اور حدیث کے موافق اس کا عمل وقول اور عقیدہ ہے۔اور اگر عمل ان کے خلاف ہو تو پھر کہتے ہیں: فُلاَنٌ عَلَی بِدْعَۃٍ۔فلاں بدعتی ہے۔بہر حال لفظ سنت وبدعت ہمیشہ سے دو متضاد لفظ رہے ۔ سنت کے پابند صحابہ کرام رہے اور بدعت منحرف لوگوں کی غذا بنی رہی۔

٭… متأخر علماء نے سنت سے مراد عقیدہ لیا۔کیونکہ بدعات وخرافات ہی نے عقائد کومسخ کیا۔ اہل بدعت اپنے خیالات کو سنت کا لبادہ اوڑھا تے اور دلائل بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے ۔ جس میں ان کے زہد وعبادت، اس کے مختلف روپ ، اور پھر مناصب وسلاسل کی ایک طویل فہرست، نیز عقل وخرد کو حسن وقبح کے اختیار کا معیار بنانا یہ سب ایسی سعی لاحاصل ہیں کہ جن سے سوائے دین سے دوری کے کچھ نہیں ملا۔اس لئے سنت کے بیشتر مباحث میں عقیدہ ٔتوحید اور اصول دین بنیادی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ مختلف فرقوں کے اقوال میں صحیح وغلط کی تمیز کی جاسکے۔اگرچہ یہ ایمانیات صحابۂ رسول کے ہاں معروف تھے مگر مشہور نہیں تھے ۔ مثلاً سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول: مَنْ تَرَکَ السُّنَّۃَ کَفَرَ۔ جس نے سنت چھوڑی اس نے کفر کیا۔ان کی مراد اصول دین ہے کیونکہ یہ بات انہوں نے مسائل عقیدہ میں گفتگو کے دوران فرمائی تھی۔ورنہ صحابہ کرام کسی کو معمولی باتوں پر نہیں بلکہ بڑے اہم عقائد کو چھوڑنے اور نہ ماننے پرکافر قراردیتے تھے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے:
اَلْہَوَی عِنْدَ مَنْ خَالَفَ السُّنَّۃَ حَقٌّ، وَإِنْ ضُرِبَتْ فِیْہِ عُنُقَہُ۔ جو مخالف سنت ہے اس پر خواہش نفس کا غلبہ ہو اکرتا ہے خواہ اس کی گردن بھی اس راہ میں اڑا دی جائے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی ہے:
القَصْدُ فِی السُّنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الِاجْتِہَادِ فِی الْبِدْعَۃِ۔ سنت میں میانہ روی اختیار کرنا، بدعتی کوشش سے بہتر ہے۔
(سنن دارمی ۱/۷۲)

امام ابن شہاب زہریؒ فرماتے ہیں:
کَانَ مَنْ مَضَی مِنْ عُلَمَائِنَا یَقُولُ: اَلاِعْتِصَامُ بِالسُّنَّۃِ نَجَاۃٌ۔ سنت کو تھامنے میں ہی نجات ہے۔ہمارے اسلاف یہی کہا کرتے تھے۔(الزہد از ابن مبارک۱/۲۸۱)

فضیل ؒبن عیاض کہتے ہیں:
أَدْرَکْتُ خِیَارَ النَّاسِ کُلَّہُمْ أَصْحَابُ سُنَّۃٍ: یَنْہَوْنَ عَنْ أَصْحَابِ الْبِدَعِ۔ میں نے تمام لوگوں میں بہتر لوگ سنت والوں کو پایا جوبدعتیوں سے روکا کرتے تھے۔(الشرح والابانہ از ابن بطہ: ۱۳۵)
اس لئے علماء وعظ وارشاد بھی اپنی اصطلاح میں سنت اس اسوہ ٔرسول کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں بدعت ہو۔ سیدنا ابوالدرداء فرمایا کرتے: الِاقْتِصَادُ فِی السُّنَّۃِ خَیرٌ مِنِ اجْتِہادٍ فِی بِدْعَۃٍ۔ سنت نبوی میں میانہ روی اس کوشش سے بہتر ہے جو بدعت کے لئے صرف کی گئی ہو۔مثلاً عبادت سنت نبوی کے مطابق ہو تو معتدل اور بہتر ہے اور اگر سنت سے ہٹی ہوئی ہو تو اس میں کی گئی محنت بھی بیکار ہے کیونکہ وہ بدعت ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
إنَّ بَنِیْ إسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلَیاثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِیْ عَلَی ثَلاَثٍ وَّسَبْعِیْنَ مِلَّۃً، کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلاَّ وَاحِدَۃً، قَالَ: وَمَنْ ہِیَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَیْہِ الْیَوْمَ وَأصْحَابِیْ یقیناً بنو اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئی اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔ یہ سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ صحابی ٔ رسول نے عرض کی: اللہ کے رسول ! وہ بچنے والاکون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس مسلک پر میں آج ہوں اور میرے صحابہ۔

اس صحیح حدیث کی تفصیل بتاتے ہوئے علماء یہ لکھتے ہیں۔
أُصولُ الْبِدْعَۃِ أَرْبَعَۃٌ۔ وَسَائِرُ اثْنَتَیْنِ وَالسَّبْعِیْنَ فِرْقَۃً عَنْ ہٰؤلائِ تَفَرَّقُوْا، وَہُمْ : الْخَوَارِجُ، وَالرَّوَافِضُ، وَالْقَدَرِیَّۃُ وَالْمُرْجِئَۃُ۔ بدعت کے موسس یہ چار فرقے ہیں اور باقی بہتر انہی سے پھوٹے ہیں۔ یہ: خارجی، رافضی ، قدری اور مرجئہ ہیں۔
خوارج نے مسلمانوں کے فکری اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ابتداء کی اور مرتکب کبیرہ کو انہوں نے کافر قرار دیا۔
رفض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر باقی صحابہ کرام پر سب وشتم سے اپنا آغاز کیا۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو الہ کا درجہ دے کر بعد میں توحید اور اسلام پر طعن کا دروازہ کھول دیا۔
قدریہ نے اپنی شناخت نصوص دین میں سے کسی بھی نص کے صاف انکار سے کرائی۔ یعنی ایمان بالقدر اور اس کے خیر وشر پر اعتراضات کی تہہ چڑھائی اور پرے ہوگئے۔
مرجئہ نے جو باب کھولا اس میں عمل صالح کی توہین اور تعلیمات اسلامیہ کی تحقیر ہو اور شیطان ومسلمان کے ایمان کو برابر کردیا۔

بدعت :
لغت میں نئی ایجاد کو کہتے ہیں جیسے :{بَدَیْعُ السَّمٰواتِ وَ الْأرْضِ} اﷲ آسمانوں اور زمین کا نیا موجد ہے۔آپ ﷺ کا یہ ارشاد اس کی دلیل ہے:

مَنْ أَحْدَثَ فِیْ أَمْرِنَا ہَذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔ جس نے ہمارے اس امر(دین) میں کوئی نئی بات گھڑی جس کا تعلق اس دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔

چونکہ اس کا تعین رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور نے کیا ہوتا ہے اور کارِثواب سمجھ کر اس پر عمل کیا جاتاہے ۔ اس لئے شرعی اصطلاح میں یہ بدعت کہلاتی ہے ۔اس بدعت کو اختیار کرنے کے طریقے یہ تھے:

٭…جب صحابہ ٔرسول ﷺنے اپنی آوازیں ذکر الٰہی کرتے وقت بلند کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:

أَیُّہَا النَّاسُ! اِرْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ، فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمًّا وَلاَ غَائِباً، إنَّمَا تَدْعُونَ سَمِیْعاً ، إِنَّ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہُ أَقْرَبُ إِلٰی أَحَدِکُم مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِہِ۔(متفق علیہ)۔لوگو! اپنے اوپر مہربانی کرو(چلاّنے سے کیا فائدہ؟) تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے تم سننے والے کو پکارتے ہو۔ بلاشبہ تم جسے پکارتے ہو وہ تم سے تمہاری اپنی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔

٭…ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جب عرض کی گئی کہ ایک صاحب جب قرآن پڑھتے ہیں تو Faint یعنی ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں؟ کیا کیا جائے؟ فرمانے لگیں: صحابۂ رسول تو ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔دور ِصحابہ میں فرد واحد میں بھی یہ حرکات ِبدعت نظر آتی تھیں۔ مثلاً ایک صاحب نے دیہات میں گھر بنایا اور چاہا کہ میں وہاں Monk (پیر)بن کر بیٹھ جاؤں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس گھر کو تڑوادیا اور اسے وہاں رہنے سے منع کردیا۔

٭…کوفہ کی جامع مسجد میں حلقۂ ذکر کرنے والوں کوسیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد: 
میں تمہیں کیا کرتے دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولے: ابو عبد الرحمن ! ہم صرف گٹھلیوں پر تکبیر وتہلیل اور تسبیح گن رہے ہیں۔فرمایا: بہتر یہ ہے کہ تم اپنی برائیاں گنو۔ میں تمہارا ضامن بنتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔ امت محمدﷺ! بہت افسوس ہے تم کتنی جلدی راہ ہدایت سے بھٹک گئے ہو ابھی تو بکثرت صحابۂ رسول تمہارے درمیان موجود ہیں۔ ابھی تو آپ ﷺ کے کپڑے بھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ ﷺ کے برتن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم یا تو ایسی ملت پر ہو جو رسول اکرم ﷺ کی ملت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا پھر تم ضلالت وگمراہی کے دروازے کھولنے والے ہو۔وہ کہنے لگے: ابو عبد الرحمن! ہم تو صرف خیر ہی چاہتے ہیں۔فرمانے لگے: خیرکو کتنے چاہنے والے ہیں مگر وہ اسے نصیب نہیں ہوتی۔ یقینا رسول اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حدیث ارشاد فرمائی: کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جاسکے گا۔ بخدا مجھے نہیں علم، شاید ان کی اکثریت تمہی میں سے ہوسکتی ہے۔ یہ کہہ کر سیدنا ابن مسعود وہاں سے چلے گئے۔ عمرو بن سلمۃ کہتے ہیں: ہم نے ان حلقات کے اکثر لوگوں کو نہروان کی جنگ میں دیکھا وہ ہم پر خوارج کے ساتھ تیر برسا رہے تھے۔(باب کراہیۃ أخذ الرأی۔ سنن الدارمی)

٭…بدعت ، معصیت سے بدتر گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعت شیطان کو سب سے زیادہ پسندہے۔ کیونکہ ایک گناہ گار جانتا ہے کہ وہ گناہگار ہے اور معصیت کا ارتکاب کررہا ہے جبکہ بدعتی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مطیع وفرمانبردار ہے اور اطاعت کررہا ہے۔ اس لئے بدعت معصیت سے بری شے ہے۔گناہ گار تو توبہ بھی کرلیتا ہے لیکن بدعتی بہت کم ہی توبہ کرپاتا ہے کیونکہ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے برخلاف ایک گناہ گار کے ۔ 
امام سفیان ثوریؒ فرمایا کرتے:
البِدْعَۃُ أَحَبُّ إِلَی إِبْلِیْسَ مِنَ الْمَعْصِیَۃِ فَإِنَّ الْمَعْصِیَۃَ یُتَابُ مِنْہَا وَالْبِدْعَۃُ لاَ یُتَابُ مِنْہَا۔(مسند ابن الجعد: ۱۸۸۵، وفتاوی شیخ الإسلام: ۴۷۲؍۱۱) بدعت شیطان ابلیس کو معصیت سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ گناہ سے توبہ ہوسکتی ہے مگر بدعت سے نہیں۔
آپ ﷺ کا ارشاد بھی ہے:
إنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی احْتَجَزَ التَّوْبَۃَ عَنْ صَاحِبِ کُلِّ بِدْعَۃٍ۔ (الصحیحۃ: ۱۶۲۰) بے شک اللہ تعالیٰ نے توبہ کو ہر بدعتی سے چھپا رکھا ہے۔

٭…امام حسن بصری فرمایا کرتے:
لاَ تُجَالِسْ صَاحِبَ بِدْعَۃٍ، فَإِنَّہ یُمَرِّضُ قَلْبَکَ۔ (الاعتصام: ۱۷۲؍۱) بدعتیوں کے ساتھ مت بیٹھو کیونکہ یہ تمہارے دل کو مریض کردیں گے۔

اگر اللہ تعالیٰ اہل سنت کو ان بدعتیوں کی ضرر رسانی دور کرنے کے لئے کھڑا نہ کرے تو دین میں فساد برپا ہوجائے جو اہل حرب دشمنوں کے مسلمان ملک پر قابض ہونے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ موحد لوگ اگرباہوش ومتحرک ہوں تو اہل ایمان کے دلوں میں دین کی جو سچائی ہے بدعتی اسے فاسد نہیں کرسکتے ۔جبکہ اہل بدعت تو دلوں کو ابتداء ہی سے فاسد کردیتے ہیں۔
نوٹ: علمائے سلَف نے اس موضوع پر جو کتابیں لکھیں ان کا نام بھی السُّنَّۃ رکھا۔جن میں ان احادیث کو جمع کیا گیا جو اللہ تعالیٰ کی ذات، اسماء وصفات کو واضح کرتی اوراسے بااختیاربتاتی ہیں۔ایمان بالغیب ، قضاء وقدر میں ایمان کو پختہ کرتی ہیں۔صحابہ رسول کو وہ مقام دیتی ہیں جو اللہ ورسول نے انہیں دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ، امام ابوداؤدؒ، امام نسائیؒ، امام ابنؒ ماجہ وغیرہم نے اپنی کتب میں کتاب الإیمان، کتاب التوحید اور کتاب السنۃ کے نام سے باب بندی کی ہے۔ اور ابوبکر الأثرم، عبد اللہ بن احمد، ابوبکر الخلال، ابو القاسم طبرانی ، ابوالشیخ اصفہانی اور ابوعبداللہ بن ابی زمینین نے کتاب السنہ کے نام سے کتب لکھیں اور عقیدہ کے مسائل بیان کئے۔شرح السنۃ امام بربہاری کی ہے جس میں عقیدہ کی شرح کی ہے ہے۔ عقیدہ طحاویۃ اور عقیدہ واسطیہ جیسی کتب بھی عقائد کو واضح کرتی ہیں کہ اہل السنۃ کون ہیں؟ کون سا فرقہ ناجیۃ ہے جسے اہل السنۃ والجماعۃ کہا گیا ہے اور کون سا ضالہ۔ یہی علماء اہل السنۃ کہلائے۔

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(سنت، مختلف مدارسِ فکر کے یہاں)

سنت، مختلف مدارسِ فکر کے یہاں

سیدنا عمرؓ نے علم وفضل میں بزرگ صحابہ کرام کو مدینہ سے باہر آباد ہونے کی اجازت نہ دی ۔جس کی متعدد وجوہات تھیں:

…خلافتی امور چلانے میں وقت ضرورت ان سے مشورہ کرتے۔

…یہ معزز کہیں مستقل رہائش اختیار کرلیتے تو کئی آزمائشیں شروع ہوسکتی تھیں۔

…لوگوں کی نفسیات سے واقف تھے فرمایا کرتے: مجھے سب سے زیادہ ڈر یہ ہے کہ تم لوگ مختلف شہروں میں پھیل نہ جاؤ۔

… ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس بارے معمولی سستی ہوئی تو ممکن ہے مفتوحہ علاقوں میں کوئی فتنہ سر اٹھائے کیونکہ ایسے مقدس منظور نظر لوگوں کے گرد عقیدت مند جمع ہوکر کئی شبہات پھیلادیں گے اس طرح بہت سی قیادتیں اور جھنڈے معرض وجود میں آجائیں گے جو بالآخر انتشار اور شورو غوغا کا سبب بن جائیں گے۔

چنانچہ سیدنا عمر ؓ کی شہادت کے بعدیہی فتنے اٹھے اورشخصی خیالات کی بناء پر مختلف مکتبہ ہائے فکر وجود میں آئے۔ کچھ نے مرتکب کبیرہ کو کافر کہا۔ اور بعض نے صحابہ کرام کو اسلام سے نکال دیا۔ اور کچھ آیات قرآنیہ کا انکار کربیٹھے تو کسی نے شیطان اور مسلمان کے ایمان کو برابر قرار دیا۔سبھی نے نام تو سنت کا لیا مگر اس کا استعمال حسب منشأ غلط مقاصد کے لئے کیا۔ان حالات میں جو لوگ سنت رسول کے ساتھ جڑے رہے وہ اہل السنۃ کہلائے۔انہی کے ماہرین نے سنت کی صحیح تعریف کی تاکہ انحراف کی کوئی صورت اس میں نہ آنے پائے۔

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(مَضَتِ السُّنَّۃُ کا کیا مطلب ہے؟)

مَضَتِ السُّنَّۃُ کا کیا مطلب ہے؟

صحابہ کرام کا متفقہ اجتہادی عمل بھی سنت کہلاتا ہے۔یہی مَضَتِ السُّنَّۃُ ہے۔ مراد یہ ہے کہ زمانۂ صحابہ میں یہ طریقہ متفقہ رہا ہے۔مثلاً: انسؓ بن مالک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شرابی کو کھجورکی چھالوں اور جوتیوں سے کوڑے مارے ۔ سیدنا ابوبکرؓ نے چالیس کوڑے مار ے پھر سیدنا عمر ؓکے دور میں دیہاتوں اور بستیوں سے لوگ اور قریب آگئے۔ سیدنا عمر ؓنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا:
مَا تَرَوْنَ فِیْ جِلْدِ الْخَمْرِ؟ شرابی کے کوڑوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: أَرَی أَنْ تَجْعَلَہَا کَأَخَفِّ الْحُدُوْدِ قَالَ: فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ۔ عبد الرحمن بن عوف نے عرض کی کم تر حد مقرر کیجئے۔ انسؓ کہتے ہیں پھر انہوں نے اسی کوڑے شرابی کو لگائے۔(صحیح بخاری۶۷۷۹، ۶۳۹۷) 
مگر کسی صحابی کے انفرادی عمل کو سنت نہیں کہا گیا۔

بعد میں فقیہ ومجتہد کے قول وعمل یااس کااستنباط جب مسلکی روش بنا تو اسے بھی سنت کا نام دے دیا گیا۔ اس کے لئے یہ اصول بنا : عالم کا قول یا فتوی یا کسی حدیث کی تصحیح وتضعیف ہوگی اوراسے تعامل امت کا نام دے کر سنت قرار دیا اور دلیل یہ دی کہ لاتَجْتَمِعُ أُمَّتِیْ عَلَی ضَلاَلَۃٍ۔میری امت کبھی ضلالت پر اکٹھی نہ ہوگی۔ حالانکہ دیگر مسالک اسے تعامل امت کیا سنت نام بھی نہیں دیتے۔بلکہ ایسے استنباط وعمل کو صحیح حدیث سمجھ کر اسے ترک کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

Sunday, December 16, 2018

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(سنت،کتاب اللہ بھی ہے)

سنت ،کتاب اللہ بھی ہے

لفظ کتاب اللہ بھی اسی سنت کے معنی میں استعمال ہوا جس طرح سنت کا لفظ کتاب اللہ کے ساتھ مستعمل ہوا۔مثلاًایک شادی شدہ عورت اور غیر شادی شدہ نوجوان مزدور (عسیف) کا مقدمہ جب آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ جَلَّ ذِکْرُہُ۔واللہ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
فیصلہ رجم کی سزا کا تھا جومقدمہ کے فریقین نے قبول کیا۔مگر کیا یہ فیصلہ قرآن کریم میں ہے؟ نہیں! بلکہ احادیث میں ہے جو عین کتاب اللہ اور منشأ الٰہی کے مطابق ہے۔ ا س لئے اسے آپ ﷺ نے خود کتاب اللہ سے تعبیر کیا۔آپ ﷺ کے فیصلے سے قبل یہی سزادیگر صحابہ بھی اسے بتاتے رہے جو انہیں معلوم تھی۔ورنہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی کہ صرف حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ سے قرآن کریم ہی مراد لیا جائے کیونکہ اس سے سارے ذخیرہ ٔحدیث کا انکار ہوتا ہے اور کسی کو محروم کرنا بھی مراد ہے۔شیخ عبد الرحمن کیلانی ؒ لکھتے ہیں: صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ سے کتاب اللہ کا مفہوم جان چکے تھے کہ اس سے مراد شریعت کے وہ تمام عقائد واحکام ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمادئے ہیں۔

٭…اُم المؤمنین نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرنا چاہا۔ سیدہ بریرہ ؓ کے مالک نے حق تولیت اپنے پاس رکھنے کی شرط لگا دی۔آپ ﷺ کے علم میں جب یہ بات آئی تو خطبہ عام دیا اور فرمایا: مَا بَالُ النَّاسِ یَشْتَرِطُونَ شُرُوْطاً لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ۔۔لوگ کیوں ایسی شروط رکھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ مگرکیا یہ شرط اَلْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ تولیت اسی کی ہوگی جو آزاد کرے گا ۔قرآن کریم میں ہے؟کتاب اللہ سے مراد کیا یہی مجلد کتاب ہے یا اس سے مراد آپ ﷺ نے وہ شریعت لی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی تھی؟ صحابۂ رسول نے بھی یہی سمجھا۔اس لئے بریرہ رضی اللہ عنہا کا حق تولیت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہی آپ ﷺ نے دیا اس لئے کہ اسے خرید کرآزاد کرنے والی وہی تھیں۔ (صحیح بخاری ، کتاب الشروط)

٭… سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی صحابہ رسول اور نئی نسل کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: الرَّجْمُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ حَقٌّ مَنْ زَنٰی إِذَا أُحْصِنَ۔ جب شادی شدہ زنا کرے تو اس کے لئے رجم کی سزا کتاب اللہ سے واقعتاً ثابت ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی)۔ مگرکیا رجم کا حکم کتاب اللہ میں ہے؟ اس لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول حَسْبُنَاکِتَابُ اللّٰہِ پر تبسم بکھیرنے کی ضرورت نہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب باندھ کر یوں واضح کیا ہے۔ بَابُ الْمُکَاتَبِ وَمَا لاَیَحِلُّ مِنَ الشُّروطِ الَّتِی تُخَالِفُ کِتَابَ اللّٰہِ۔ مکاتب اور ایسی شروط جو کتاب اللہ کی رو سے ناجائز ہیں۔

٭…ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی بیماری نے شدت اختیار کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اِیْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لاَ تَضِلُّوْا بَعْدَہُ۔ میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ میں تمہیں کچھ تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوسکو۔ 
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے ۔ حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ یہ ہمارے لئے کافی ہے۔لوگ آپس میں بحث وتکرار کرنے لگے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ بحث ناگوار گذری ۔ فرمایا: قُوْمُوْا عَنِّیْ لاَ یَنْبَغِیْ عِنْدِی التَّنَازُعُ۔ یہاں سے اٹھ جاؤ میرے پاس ایسی بات مناسب نہیں۔سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
إنَّ الرَّزِیْئَۃَ کُلَّ الرَّزِیْئَۃِ مَا حَالَ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَبَیْنَ کِتَابِہِ۔نبی کریم ﷺ اور ان کی طرف سے تحریر کے درمیان حائل ہونا انتہائی افسوسناک بات تھی۔(صحیح بخاری: ۱۴۴)

سیدنا عمر ؓ نے کہا تھا: أَہَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ؟(صحیح مسلم) کیا نبی کریم ﷺ کوئی نامعقول بات کہہ سکتے ہیں؟ مراد یہ کہ ہرگز نہیں۔ اگر یہ بات غلط ہوتی تو آپ ﷺ سیدنا عمرؓ کی اصلاح فرما کے انہیں خاموش کرادیتے۔ اس لئے ان کی اس رائے کو آپ ﷺ نے برقرار رکھا ورنہ حتمی ارادہ ہوتا تو آپ ضرور وہ تحریر لکھوا دیتے۔

رسول اکرم ﷺ حال صحت وحالت مرض کسی صورت میں بھی شرعی احکام تبدیل نہ کرسکتے تھے۔اور نہ ہی اپنے فرائض منصبی میں کوئی کوتاہی کرسکتے تھے۔آپ ﷺ کے بیمار ہوجانے سے نہ تو آپ ﷺ کے مرتبے میں کوئی فرق پڑسکتا تھا اور نہ ہی شریعت میں کوئی نقص پیدا ہوسکتا تھا۔

وہ کتابت آپ کیا کروانا چاہتے تھے؟ اس بارے میں سبھی اندازے ہیں یا بدگمانیاں۔کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔اس لئے نہ لکھوانے کا فیصلہ بھی وحی کے مطابق ہوا اور لکھوانے کاپہلا حکم منسوخ ہوگیا۔

سوال یہ ہے کہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے یہ جملہ کیوں ارشاد فرمایا؟ کیا یہ ان کی فراست اور دقت نظر نہ تھی کہ کچھ لکھوانے کے بعد اگر امت اس پر عمل نہ کرسکی تو وہ لائق سزا ہو گی۔ نیز آپ ﷺ کا لکھا ہوا نص ہوجاتاجس میں اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔یہ تھا ان کا دین کے بارے میں کامل یقین کہ امت اب گمراہ نہیں ہوسکتی۔ اس لئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کا بوجھ گھٹانے کی کوشش کی ۔ یہی ان کی فقاہت تھی۔ اس لئے اس واقعے پر نہ کوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر خفا ہوا اور نہ ہی کسی نے خوشی کا اظہار کیا۔

٭…دیگر فقہاء کرام بھی کتاب اللہ کے مفہوم سے مراد سارا دین اور بالخصوص رسول اکرم ﷺ کا فرمایا ہوا حکم وفیصلہ ہی لیتے ہیں۔ صحابہ کرام بھی رسول اکرم ﷺ سے کتاب اللہ کا مفہوم جان چکے تھے کہ اس سے مراد شریعت کے وہ تمام عقائد واحکام ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمادئے ہیں۔بے شمارخطبات میں آپ ﷺ نے کتاب اللہ کے الفاظ ارشاد فرما ئے اوران کایہی مفہوم صحابہ کرام کو باور کرایا۔(فتنہ پرویزیت: ۱۴۱)

٭…اس لئے جو کام اللہ ورسول کے تھے صحابہ کرام نے انہیں اپنے ہاتھ نہیں لیا بلکہ ان کی حدود میں رہنے کی کوشش کی۔ اپنی رائے دینے میں بہت محتاط تھے۔ چہ جائیکہ وہ قرآن کریم سے سارے مطالب لے کراس کی اصطلاحات تک بدل دیں۔اس سوچ نے غالباً انہیں یہ جرات بھی دی کہ نص کے خلاف کسی کا کوئی فیصلہ یا حکم سنا تو برملا اس کی اصلاح چاہی یا کردی۔ خلیفہ راشدسیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دئے ہوئے آرڈینینس کو ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے یہ کہہ کر رد کردیا تھا: مَنْ أَبِی؟ آپ ﷺ کی اجازت اگر حج تمتع کے بارے میں ہے تو میرا باپ کون ہوتا ہے؟جو اسے منع کرے۔(مسند احمد)

منبر پر جب مجمع عام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حقِ مہر زیادہ دینے پر منع فرمایا تو خواتین کی مجلس میں بیٹھی ایک خاتون نے برملا کہا: عمر! اگر اللہ اس کی اجازت دیتا ہے تو آپ کون ہیں اسے روکنے والے؟ سنتے ہی فرمایا: أَصَابَتِ امْرَأَۃٌ وَأَخْطَأَ عُمَرُ۔ عورت نے درست بات کہی اور عمر سے غلطی ہوگئی۔رضی اللہ عنہ۔

جمہور فقہاء اس رائے، قیاس یا اجماع کو تسلیم ہی نہیں کرتے جو سنت کے مخالف ہو۔ اس لئے امام مالک رحمہ اللہ کا اصول عمل اہل مدینہ ہی صحیح حدیث پر ترجیح پائے گا علماء موالک نے اس کی بہت سی تعبیرات پیش کی ہیں یہی حال اس اجماع کو تسلیم نہ کرنے کا ہے جو فقہاء اربعہ کے نام سے ان کے بعد نام پا گیا۔ اس لئے من مانے مفہوم کو اخذ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی چہ جائے کہ اسے شریعت مانا جائے۔

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(سنت خلفاء راشدین)

سنت خلفاء راشدین

سنت ِخلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم : کو بھی آپ ﷺ نے سنت فرمایا ہے۔
فَاِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفاً کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ۔ (رواہ السنن واحمد)۔جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ لہٰذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کی سنت کو تھامے رکھنا۔

ملا علی القاری ؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: 
خلفائے راشدین نے اصل میں آپ ﷺ ہی کی سنت پر عمل کیا اور ان کی طرف سنت کی نسبت یا تو اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اس پر عمل کیا یا اس لئے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی سنت سے استنباط کر کے اس کو اختیار کیا۔( مرقاۃ ج ا،ص: ۳۰ )

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(حدیث میں لفظ سبت)

حدیث میں لفظ سنت

بطور قانون اور دین کا اصل مصدر استعمال ہوا ہے۔آپﷺنے ارشاد فرمایا:
تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَھُمَا: کِتَابُ اﷲِ وَ سُنَّتِیْ۔“میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان کے ہوتے ہوئے تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ا ﷲ کی کتاب اور میری سنت۔ 

النِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔ نکاح کرنا میری سنت ہے جو بھی اس سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
نکاح میں گواہ، حق ِ مہر اور ولی کی موجودگی ہوتی ہے نیز یہ علانیہ ہوتا ہے جبکہ زنا، متعہ یا حلالہ میں کوئی شے بھی ان میں سے نہیں ہوتی اس لئے یہ ممنوع اور حرام ہے ۔یہ بھی سنت سے ہی ثابت ہے۔ اسی طرح اپنی طرف سے کسی اچھے اور بھلے طریقے کو سنت قرار دینا بھی غلط ہے۔

صحیح بخاری (ح: ۸۹۸) میں ہے: 
آپ ﷺ نے عید الأضحی کے دن ترتیب میں نماز کو پہلے اور قربانی کو بعد میں رکھا ہے اور فرمایا: 
جس نے ہماری ترتیب پر عمل کیا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا۔ اس نے یقیناً ہماری سنت پر عمل کیا۔

(ح: ۱۵۵۰) میں ہے: 
حج کے موقع پر حجاج کو سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا:
إِنْ کّنْتَ تُرِیدُ السُّنَّۃَ۔۔۔۔ اگر سنت پر عمل کا ارادہ ہے تو خطبہ مختصر کرو اور وقوف میں جلدی کرو۔

(ح: ۱۴۶۱) میں ہے: 
سیدنا عثمانؓ نے حج تمتع سے منع فرمایا تو سیدنا علیؓ نے حج تمتع کا احرام باندھا اور فرمایا: 
میں کسی کے قول پر سنت رسول کو نہیں چھوڑ سکتا۔

(ح: ۳۷۶) میں ہے :
سیدنا حذیفہ ؓ نے جلدباز نمازی کو دیکھ کر فرمایا: 
تو ایسی نماز پڑھتے پڑھتے مر گیا تو تیری موت سنت رسول پر نہیں ہوگی۔

(ح: ۱۵۹۸) میں ہے :
ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو جو اونٹ ذبح کررہا تھا فرمایا: 
اسے کھڑا کرکے اس کا گھٹنا باندھو اور سنت کے مطابق اسے نحر کرو۔

(ح: ۲۳۸۳) میں ہے:
آپ ﷺ نے اپنا مشروب دائیں طرف سے شروع کیا جبکہ بائیں طرف ابوبکر تشریف فرماتھے۔ انسؓ یہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 
یہی سنت ہے ۔ یہی سنت ہے۔ یہی سنت ہے۔

یہ چند نمونے ہیں کہ سنت کا اطلاق ۔۔علماء اسلاف۔۔ کے ہاں عمومی طور پر ہر اس قول وعمل اور تقریررسول پر ہوا جو کفار کے مذہبی شعائر، عادات ، کلچر ، تہذیب یا جاہلی رسوم وعادات کے خلاف تھا۔ یہ شخصی مزاج نہیں اور نہ ہی قومی طرز معاشرت ہے کہ جس کاتعلق ایک خاص عہد کے تمدن سے ہو۔اس لئے صحیح عقائد، عبادات ومعاملات کے احکام، سیاسی، اجتماعی، اقتصادی ثقافتی، تربیتی، فکری، صلح وجنگ میں قومی اور بین الاقوامی قوانین وضابطے حدیث رسول مہیا کرتی ہے۔

حـــدیث رســـول ﷺ -حـــقیقت، اعـــتراضات اور تجـــزیہ(سنت قرآن میں)

سنت، قرآن میں

لفظ سنت مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
قرآن مجید میں یہ لفظ پسندیدہ و مختار راستہ کے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے مثلاً:
{سُنَّۃَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا۔۔} ( الإسراء:۷۷ ) یہی وہ راستہ ہے جس پر ہم نے آپ سے قبل اپنے رسولوں کو بھیجا۔

آیات قرآنیہ میں سنت کا مفہوم: 
مثلاً : کفار کے بارے میں کڑھنا اور متفکر رہنا یہ سنت رسول ہے۔
{لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ أَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ} (الشعراء: ۳) شاید آپ اپنے آپ کو گھلا دیں گے کہ یہ مومن کیوں نہیں ہورہے۔

ساتھی کو مستقبل کا فکر نہ کرنے اور رب پر بھروسہ کی تسلی دینا یہ بھی سنت ہے۔
{إذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔۔} جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے مت غم کر بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔

رب کریم کے احسانات اور انعامات کا ذکر کرنا بھی سنت رسول ہے۔
{فَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ} تو اپنے رب کے انعامات کو بیان وظاہر کیجئے۔

رسول کا رات کو قیام کرنا، نمازیوں میں آپ کا اٹھنا بیٹھنا اور تادم آخر اللہ کی عبادت پر جمے رہنا یہ بھی سنت رسول ہے۔
{الَّذِیْ یَرَاکَ حِیْنَ تَقُوْمُ، وَتَقَلُّبُکَ فِی السَّاجِدِیْنَ} وہ جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم قیام کرتے ہو اور سجدہ کرنے والوں کے ساتھ تم بھی ہوتے ہو۔

٢٣٥- کیا مرغ یا انڈے کی قربانی جائز ہے.؟

✍🏻مجاہدالاسلام عظیم آبادی سوال-مدعیان عمل بالحدیث کا ایک گروہ مرغ کی قربانی کو مشروع اورصحابہ کرام کا معمول بہ قرار دیتا ہے۔اور...